Explained with ayahs 24–30
مہمان اور میزبان ؟
یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86) 4۔ النسآء :86)…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 21
اب یہاں سے رکوع دوم کے اختتام تک انبیاء (علیہم السلام) اور بعض گزشتہ قوموں کے انجام کی طرف پے در پے مختصر اشارات کیے گئے ہیں جن سے دو باتیں ذہن نشین کرانی مقصود ہیں۔
ایک یہ کہ انسانی تاریخ میں خدا کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکوکاروں کے لیے انعام اور ظالموں کے لیے سزا کی مثالیں مسلسل پائی جاتی ہیں۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں بھی انسان کے ساتھ اس کے خالق کا معاملہ صرف قوانین طبیعی (Physical Law) پر مبنی نہیں ہے بلکہ اخلاقی قانون (Moral Law) اس کے ساتھ کار فرما ہے۔ اور جب سلطنت کائنات کا مزاج یہ ہے کہ جس مخلوق کو جسم طبیعی میں رہ کر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ کیا ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے (معزز یا تو اس لئے کہا کہ وہ ملائکہ تھے جن کی شان میں ہے (آیت) بل عباد مکرمون۔ اور یا اس لئے کہا کہ ابراہیم ؑ نے اپنی عادت کے موافق ان کا اکرام کیا تھا اور مہمان کہنا بنا بر ظاہری حالت کے ہے کہ بشکل انسان آئے تھے اور یہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جبکہ وہ (مہمان) ان کے پاس آئے پھر ان کو سلام کیا، ابراہیم ؑ نے بھی (جواب میں) کہا سلام (اور کہنے لگے کہ) انجان لوگ (معلوم ہوتے) ہیں (ظاہر تو یہی ہے کہ دل میں سوچا قرینہ اس کا یہ ہے کہ آگے جواب فرشتوں کا مذکور نہیں اور احتمال بعید یہ بھی ہے کہ بطور پوچھنے کے انہی سے کہہ دیا ہو کہ آپ…
Read the full tafseer →07 آگے آیات 24۔ 46 کا مضمون
آگے قرآن نے انہی دعاوی کے حق میں، جو اوپر مذکور ہوئے، تاریخ کی شہادت پیش کی ہے اور قرآن کا یہ عام اصول ہے کہ وہ عقلی وانفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی شواہد بھی پیش کرتا ہے تاکہ مخاطب کے سامنے بات اچھی طرح برہن بھی ہوجائے اور اگر دلوں کے اندر اثر پذیری کی کچھ رمق ہو تو ان سے لوگ عبرت بھی حاصل کریں۔ ان واقعات پر غور کیجئے گا تو معلوم ہوگا کہ ان میں تین پہلو ملحوظ ہیں۔
ایک یہ کہ جن قوموں کی ہلاکت بیان ہوئی ہے ان کی تباہی میں ابروہوا کے تصرفات کو خاص دخل رہا ہے۔ اس پہلو سے یہ واقعات گویا ان قسموں کی تصدیق ہیں جواوپردکھائی گئی ہیں۔
دوسرا یہ کہ ان میں جزا کے دونوں…
Read the full tafseer →24۔ 1 ھَلْ استفہام کے لئے ہے جس میں نبی ﷺ کو تنبیہ ہے کہ اس قصے کا تجھے علم نہیں، بلکہ ہم تجھے وحی کے ذریعے سے مطلع کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
11: یہ مہمان درحقیقت فرشتے تھے جو ایک طرف تو حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کی خوشخبری دینے آئے تھے، اور دوسری طرف حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 69 تا 83 اور سورة حجر : 51 تا 77 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
اس دوسرے حصے میں بھی نبیوں کی تاریخ سے آیات الٰہیہ کا ذکر ہے جس طرح پہلے حصے میں آیات تکوینی اور آیات ونفس کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی اللہ کے سچے وعدے تھے اور انہوں نے حقیقت کا روپ اختیار کیا جس طرح پہلے حصے میں اللہ کے سچے وعدے کا ذکر تھا۔
بات کا آغاز حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں ایک سوال سے ہوتا ہے۔
ھل اتک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین (51 : 42) ” اے نبی کیا ابراہیم .... کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟ “ اس سوال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذہنوں کو اس حکایت کے لئے تیار اور متوجہ کرنا ہے اور مہمانوں کے لئے ” مکرمین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یا تو وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور…
Read the full tafseer →9 یعنی فرشتے تھے جن کو ابراہیم (علیہ السلام) اول انسان سمجھے ان کی بڑی عزت کی اور اللہ کے ہاں تو فرشتے معزز و مکرم ہیں ہی۔ کما قال (بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :26)
Read the full tafseer →آیت 24{ ہَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰہِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَ۔ } ”کیا آپ ﷺ کے پاس ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبرپہنچی ہے !“
یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب فرشتے انسانی شکلوں میں مہمان بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تھے۔
Read the full tafseer →18 سیدنا ابراہیم کے ہاں فرشتوں کا سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دینے کا ذکر پہلے سورة ہود کی آیت 69 تا 76، سورة حجر آیت 51 تا 60 اور سورة عنکبوت کی آیت نمبر 31، 32 میں گزر چکا ہے وہ حواشی بھی دیکھ لیے جائیں۔
19 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی آمد :۔ یہ معزز مہمان فرشتے تھے اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین فرشتے تھے۔ سیدنا جبرائیل، سیدنا میکائیل اور سیدنا اسرافیل جو انسانی شکلوں میں آئے تھے۔
Read the full tafseer →13۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ مع حواشی متعلقہ کے پیشتر بھی گزر چکا ہے۔ (آیت) ” المکرمین “۔ فرشتے عنداللہ تو مکرم ومعزز ہیں ہی، بحیثیت مہمان کے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظر میں بھی معزز تھے۔ اے مکرمین عند اللہ اوعند اللہ او عند ابراہیم (بیضاوی) اے عند اللہ عزوجل کما قال الحسن اوعند ابراھیم کمافی بعض الاثار (روح) وانما وصفھم بالمکرمین اما لکونھم عبادا مکرمین واما لاکرام ابراہیم (علیہ السلام) ایاھم (کبیر) (آیت) ’ حدیث ضیف ابرہیم “۔ امام احمد بن حنبل (رح) اور بعض فقہاء نے آیت سے مہمانداری کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ وقد ذھب الامام احمدوطائفۃ من العلماء الی وجوب الضیافۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ترجمہ : اے محمد ﷺ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا واقعہ آپ تک پہنچا ؟ اور وہ بارہ یا دس یا تین فرشتے تھے، ان میں جبرائیل (علیہ السلام) بھی تھے جبکہ وہ (مہمان) ان کے پاس آئے (اذ) حدیث ضیف کا ظرف ہے، تو انہوں نے سلام کیا یعنی لفظ سلاما کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواب میں) لفظ سلام کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جی میں کہا یہ تو انجانے لوگ ہیں (قوم منکرون) مبتداء مقدر کی خبر ہے اور وہ ھولاء ہے پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک (بھنا ہوا) فربہ بچھڑا لائے اور سورة ہود میں ہے جاء بعجل حنیذ یعنی بھنا ہوا بچھڑا لائے، اور اسے ان کے سامنے رکھا اور کہا تم…
Read the full tafseer →ھل اتاک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین . کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ کو پہنچی ہے۔
ھَلْ اَ تٰکَ : استفہام تقریری ہے یعنی ابراہیم کے معزز مہمانوں کے واقعہ کی اطلاع آپ کے پاس پہنچ چکی ہے۔ اس جملہ سے عظمت واقعہ کی طرف اشارہ بھی ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ وحی کے ذریعہ سے اس واقعہ کی اطلاع پہلے دی جا چکی ہے۔
حَدِیْثُ ضَیْفِ : ضیف اصل میں مصدر ہے اس لیے اس کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔
بغوی نے لکھا ہے ان مہمانوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطاء نے فرمایا : تین فرشتے تھے جبرئیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل۔
محمد بن کعب نے کہا : جبرئیل اور ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →اے محمد کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کی جن کی بھنے ہوئے بچھڑے سے مہمان نوازی کی گئی تھی آپ تک حکایت پہنچی ہے۔
Read the full tafseer →(1) ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم …: یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے چند انبیاء کی مدد کا اور انہیں جھٹلانے والی اقوام پر آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا۔ ابراہیم اور لوط ؑ کے واقعات اور ان کے تفسیری فوائد سورة ہود (69 تا 83) ، حجر (51 تا 77) اور سورة عنکبوت (16 تا 35) میں تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ اس مقام سے تعلق رکھنے والی چند باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
(2) کیا تیرے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ہے ؟ سوال سے مقصود اس واقعہ کی عظمت و شان اور اہمیت کا احساس دلاتا ہے اور یہ بھی کہ آپ کو اس بات کی خبر نہ تھی، یہ وہ ہیں جو وحی کے ذریعے سے آپ کو اس سے آگ اہ کر رہے ہیں۔
(3) ”المکرمین“ (معزز) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر کی وضاحت کرے کہ وہ آیات کو جھٹلانے والے کو ہلاک کردے گا جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ھل اتک یہ الم یا تک کے معنی میں ہے یعنی کیا تیرے پاس یہ خبر نہیں آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ھل۔ قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ ھل اتی علی الانسان حین من الذھر ( الانسان :1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں گفتگوسورئہ ہود اور سورة حجر میں گزر چکی ہے۔
المکر میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکر مون،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
12:۔ ابن ابی الدنیا وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ھل اتک حدیث ضعیف ابرھیم '' (کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے) سے مراد ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے بذات خود اپنے معزز مہمانوں کی خدمت کی۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بچھڑے کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی۔
Read the full tafseer →هَلْ اَتٰىكَ [ کیا پہنچی آپ کے پاس ] حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَ [ ابراہیم کے عزت دیئے ہوئے مہمانوں کی بات ]
ترکیب : ” ض ی‘ ‘ کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ ضیف کا لفظ مذکر ، مؤنث ، واحد جمع سب کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع ضیوف بھی آتی ہے ۔ یہاں ضیف جمع کے مفہوم میں آیا ہے، اسی لیے اس کی صفت المکرمین جمع میں آئی ہے آگے افعال دخلوا اور قالوا جمع کے صیغے میں آئے ہیں ۔ قالوا کے آگے سلما کی نصب بتارہی ہے کہ یہ قالوا کا مفعول ہے یعنی بات (Tenselndirect) میں جب کہ آگے ، قال کے بعد سلم حالت رفع میں ہے ۔ یہ بات (Direct Tense) میں ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:58، ترکیب )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
8:۔ ” ھل اتاک۔ تا۔ العذاب الالیم “ یہ تخویف دنیوی کے پان نمونوں میں سے پہلا نمونہ ہے اصل نمونہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت ہے اور اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ آپ تک نہیں پہنچا ؟ یہ معزز مہمان فرشتے تھے جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے۔ ” اذ دخلوا۔ الایۃ “ جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل کہا یہ اجنبی ہیں معلوم نہیں کون ہیں۔ خیال آیا پہلے ان کے کھانے پینے کا انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰہِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَ 24 ۘ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : أتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…
Read the full tafseer →ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَ ۔ (الذریٰت : 24)
(کیا آئی ہے آپ کے پاس حضرت ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ )
گزشتہ دعاوی کے حق میں تاریخ سے استدلال
اب یہاں سے رکوع کے اختتام تک ان دعاوی کے حق میں جو اوپر مذکور ہوئے ہیں تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے مشاہداتی، عقلی اور انفسی دلائل دیئے گئے۔ اب تاریخی دلائل سے ان کی تائید کی جارہی ہے کیونکہ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ تاریخی دلائل سے جلدی متأثر ہوتا ہے۔ نیز ان واقعات کے ذکر سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافات برابر کام کرتا رہا۔ نیکوکاروں کو انعام ملتا رہا اور کفار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…
Read the full tafseer →آیت قدرت :
آیت 24 : ہَلْ اَتٰکَ (کیا آپ تک پہنچی ہے) بات کی عظمت شان کو ظاہر کرنے اور اس بات پر متنبہ کرنے کے لئے کہ یہ علم رسول اللہ ﷺ سے نہیں۔ بلاشبہ اس کو وحی سے جانا اور آیت کا ماقبل سے ربط اس طرح ہے کہ پہلے نے فرمایا۔ وفی الارض آیات۔ اور اس قصہ کے آخر میں فرمایا۔ وترکنا فیہا آیۃً ۔ تو گویا یہ بھی من جملہ آیات قدرت سے ہے۔ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰہِیْمَ (بات ابراہیم کے معزز مہمانوں کی) الضیف ایک اور جماعت کے لئے بولا جاتا ہے جیسا الصوم ٗ الزور۔ کیونکہ یہ اصل میں مصدر ہے۔ جس کو مضاف کیا گیا۔ یہ بارہ فرشتے تھے۔
ایک اور قول :
نو فرشتے تھے دسویں جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔ ان کو آیت ضیف قرار دیا۔…
Read the full tafseer →23 ۔” فورب السماء والارض انہ لحق “ یعنی جو میں نے رزق کا معاملہ ذکر کیا وہ حق ہے۔ ” مثل “ حمزہ، کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے ” مثل “ لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے الحق سے بدل ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کمثل ” ماانکم تنطقون “ پس تم کہو لا الہ الا اللہ اور کہا گیا ہے کہ جس کی ان کو خبر دی گئی تھی اس کی تحقیق کو آدمی کے نطق کی تحقیق کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسا کہ تو کہے گا ” انہ لحق “ جیسا کہ تو یہاں ہے اور ” انہ لحق “ جیسا کہ تو کلام کرتا ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنے صدق اور اپنے وجود میں اس شخص کی طرح ہے جس کو تو اچھی طرح پہچانتا ہے اور بعض حکماء نے کہا ہے کہ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[ 20] خلاصہء بحث کا ذکر وبیان :
سو اوپر کے جملہ دلائل اور طویل بحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قطعی طور پر حق ہے جس طرح کہ تم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہو۔ پس جس طرح تمہیں اپنی باتوں کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوتا، اسی طرح تمہیں قرآن حکیم کے بیان کردہ ان حقائق میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ نیز جس طرح انسان کا نطق اور اس کی قوت گویائی اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے، کبھی اس سے الگ نہیں ہوتی، اسی طرح اس کا رزق مقسوم بھی بہرحال اسے پہنچ کر رہے گا، کبھی اس سے جدا نہ ہو، جس طرح کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ تمہارا رزق ایسے ہی تمہارا پیچھا کرتا ہے جس طرح تمہاری موت، پس جس طرح کوئی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
آیات 24 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…
Read the full tafseer →ف 10 یہ بتلانے کے لئے کہ جن پچھلی قوموں نے انبیاء کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا ؟ یہاں سیحضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء کے واقعات جکا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا قصہ حضرت لوط کے قصہ کی تمہید ہو۔ کیونکہ حضرت لوط بھی تو حضرت ابراہیم کی قوم ہی میں سے تھے۔ (رازی)
11 عزت دار مہمانوں سے مراد فرشتے ہیں جو حضرت لوط کی قوم کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں حضرت ابراہیم کے ہاں مردوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ ان کا قصہ سورة ہود (رکوع) سورة حجردرکوع 4 اور سورة عنکبوت رکوع 14 میں پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(51:24) ھل اتک۔ ھل استفہامیہ اتی ماضی واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر، کیا تیرے پاس آئی۔ کیا تیرے پاس پہنچی۔
حدیث ضیف ابراہیم۔ حدیث بات، خبر، قصہ، مضاف ضیف ابراہیم مضاف مضاف الیہ مل کر، مضاف الیہ حدیث کا۔ (حضرت) ابراہیم کے مہمانوں کی خبر۔ ضیف اصل میں مصدر ہے لہٰذا واحد جمو دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ گیارہ اور کم سے کم تین بتائی گئی ہے۔
المکرمین : اسم مفعول جمع مذکر۔ کرم (باب کرم) مصدر۔ بمعنی باعزت ہونا۔ شریف ہونا۔ المکرمین۔ معززین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔
(ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(24) اے پیغمبر کیا ابراہیم کے معزز اور بزرگ مہمانوں کی بات بھی آپ تک پہنچی ہے۔ یہ فرشتے تھے جیسا کہ سورة حجر میں گزر چکا ہے زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد مع جبرائیل (علیہ السلام) کے دس بتائی جاتی ہے ہوسکتا ہے کہ کم وبیش ہو مکرم فرما رہے تھے اس سے بڑھ کر اور کیا مکرم ہوسکتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور اس کی عزت کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ (...it [ the Day of Recompense ] is a reality, as sure as that you speak....51:23). It means that all of the matters relating to Judgment, Resurrection and Recompense that they have been promised shall certainly occur. Therefore, it is the truth, there being no doubt about it, so they should not doubt its coming, just as they do not doubt that they can speak. There are five physical sensations of perception: sight, hearing, tasting, feeling and smelling. Here 'speaking' has been singled out probably because the faculty of speech is the only one…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
21 Now, from here to the end of verse 46, brief allusions have been made, one after the other, to the end of Allah's Prophets and some of the nations of the past, which arc meant to impress two things:
First, that in human history God's law of retribution has been working constantly, in which precedents are found of the rewards for the righteous and of punishments for the wicked people continuo sly. This is a clear evidence of the fact that even in the life of this world the Creator's relationship with man is not merely based on the physical law but the moral law also is working side by aide…
Read the full tafseer →