Explained with ayahs 16–23
حسن کارکردگی کے انعامات
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الذّٰرِیٰت 20
آسمان سے مراد یہاں عالم بالا ہے۔ رزق سے مراد وہ سب کچھ جو دنیا میں انسان کو جینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور مَا تُوْعَدُوْنَ سے مراد قیامت، حشر و نشر، محاسبہ و باز پرس، جزا و سزا، اور جنت و دوزخ ہیں جن کے رونما رہنے کا وعدہ تمام کتب آسمانی میں اور اس قرآن میں کیا جاتا رہا ہے۔ ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ تم میں سے کس کو کیا کچھ دنیا میں دیا جائے، اور وہیں سے یہ فیصلہ بھی ہونا ہے کہ تمہیں باز پرس اور جزائے اعمال کے لیے کب بلایا جائے۔
Read the full tafseer →اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ، یعنی جس طرح تمہیں اپنے اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کا آنا بھی ایسا ہی واضح ہے اور کھلا ہوا ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، انسان کے محسوسات جو دیکھنے، سننے، چکھنے، چھونے اور سونگھنے سے متعلق ہیں، ان سب میں سے اس جگہ نطق یعنی بولنے کو خاص طور سے انتخاب شاید اس لئے کیا کہ مذکورہ سب محسوسات میں کبھی کبھی کسی مرض وغیرہ کے سبب سے التباس ہوجاتا ہے، دیکھنے سننے میں فرق ہوجانا معروف ہے، بیماری میں ذائقہ بعض اوقات خراب ہو کر میٹھے کو کڑوا بتلانے لگتا ہے، مگر نطق و گویائی ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی دھوکہ اور تلبیس کا…
Read the full tafseer →فورب السمآء والارض انہ لحق مثل مآ انکم تنطقون (23)
خلاصہ بحث
اب یہ ان تمام نشانیوں کو سمیٹ دیا اور آسمان و زمین دونوں کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس روز جزاء وسزا کی تم کو یاددہانی کی جارہی ہے اور پیغمبر کی تکذیب کے جس نتیجہ سے تم کو ڈرایا جارہا ہے وہ شدنی ہے۔ اس میں خدا کو ذرا بھی مشکل نہیں پیش آئے گی۔ جس طرح تمہارے لئے زبان سے کوئی لفظ بول دینا نہایت آسان ہے اسی طرح خدا کے لئے یہ سب کچھ کردینا نہایت آسان ہے۔ اس کے سارے کام اس کے کلمہ کن سے ہوجاتے ہیں۔
انہ، میں ضمیرکا مرجع وہی مقسم علیہ ہے جو اوپر گزر چکا ہے، یعنی، انما توعدون لصادق، وان الدین لواقع۔ اس کا ذکر اوپر ہوچکا تھا اس وجہ سے اس…
Read the full tafseer →23۔ 1 انہ میں ضمیر کا مرجع (یہ) وہ امور و آیات ہیں جو مذکور ہوئیں۔
Read the full tafseer →10: یعنی جس طرح یہ بات یقینی ہے کہ تم بول رہے ہو، اسی طرح آخرت کی جو بات کہی جا رہی ہے، وہ بھی اتنی ہی یقینی ہے، کیونکہ اس کائنات کے خالق نے بتلائی ہے۔
Read the full tafseer →فو رب ........ تنطقون (51 : 32) ” پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی ، یہ بات حق ہے ، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو۔ “
یہ بات کہ وہ بیٹھے ہوئے مصروف گفتگو ہیں ، ایک حقیقت ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے نہ اس میں کوئی کلام ہے۔ اسی طرح یہ کلام ایک یقینی کلام ہے اور اللہ سب سے زیادہ سچائی والا ہے۔
اصمعی نے ایک عجیب بات نقل کی ہے اور علامہ زمحشری نے کشاف میں اسے نقل کیا ہے۔ روایت کی صحت کے بارے میں تحفظ رکھتے ہوئے ہم اسے یہاں اس لئے نقل کرتے ہیں کہ بات بڑی عجب ہے۔ کہتے ہیں ” میں بصرہ کی جامع مسجد سے واپس آرہا تھا کہ ایک دیہاتی اپنے سواری کے اونٹ پر نمودار ہوا۔ اس نے کہا ” تمہارا…
Read the full tafseer →8 یعنی جیسے اپنے بولنے میں شبہ نہیں، ویسا ہی اس کلام میں شبہ نہیں۔ یقینا روزی پہنچ کر رہے گی، قیامت قائم ہوگی، آخرت آکر رہے گی، اور خدا کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔ آگے (وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ) 51 ۔ الذاریات :19) کی مناسبت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کا قصہ سناتے ہیں جو تمہید ہے لوط (علیہ السلام) کے قصہ کی۔ دونوں قصوں سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ دنیا میں محسنین کے ساتھ کیا ہے اور مکذبین کے ساتھ اس نے کیسا برتاؤ کیا۔
Read the full tafseer →آیت 23{ فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ۔ } ”تو آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم ‘ یقینایہ حق ہے ‘ بالکل ایسے جیسے اِس وقت تم بات چیت کر رہے ہو۔“
یعنی بعث بعد الموت شدنی ہے ‘ برحق ہے ‘ قیامت آکر رہے گی۔
Read the full tafseer →17 یعنی جس طرح تمہیں اپنے بولنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا ویسے ہی اس کلام میں بھی کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ آخرت آکے رہے گی۔ تمہارے اعمال کا ضرور محاسبہ کیا جائے گا۔ پھر تمہیں قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی۔
Read the full tafseer →12۔ یعنی جس طرح تم اپنی بات چیت میں کبھی شک وشبہ نہیں کرتے، وقوع قیامت کو بھی یقینی اور قطعی سمجھو، (آیت) ” انہ “۔ یعنی یہی وقوع قیامت وجزاء وسزا۔ اے ان ماوعدتم بہ من امر القیامۃ، البعث والجزاء کائن لامحالۃ وھو حق لامریۃ فیہ (ابن کثیر) یا یہ کہ اوپر جو کچھ مذکور ہوچکا ہے۔ سب کی طرف یہ ضمیر اشارہ کررہی ہے اور تابعی ابن جریج سے یہی منقول ہے۔ عن ابن جریج ان جمیع ماذکرناہ من اول السورۃ الی ھنا الحق (روح)
Read the full tafseer →انہ لحق مثل ما انکم تنطقون یعنی جس طرح تم کو اپنے بولنے اور کلام کرنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کا برپا ہونا بھی ایسا ہی واضح کھلا ہوا اور یقینی ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →فورب السما والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون . پس قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی بلاشبہ یہ بات (جو ذکر کی گئی یعنی قیامت ‘ عذاب وثواب ‘ رزق ‘ وعدہ وعید وغیرہ) ایسے ہی حق ہے جیسے تمہارا بولنا۔
بغوی نے لکھا ہے یہ بات حق ہے جیسے تم بولتے ہو اور لا اِلٰہ الاّ اللہ کہتے ہو گویا نطق سے مراد بغوی کے نزدیک منطوق (بولا ہوا کلام) مراد ہے۔ اس صورت میں اگر مخاطب صرف اہل ایمان کو قرار دیا جائے تو اہل ایمان عام طور پر اکثر لا اِلٰہ الاّ اللہ پڑھا ہی کرتے ہیں اور اگر خطاب کو عام مانا جائے تو جس طرح آدمی کا بات کرنا اور بولنا بدیہی ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ حق اور ناقابل شک ہے جیسے عام طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) سو قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی کہ تم سے جو رزق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ حق ہے اور ایسا یقینی جیسا کہ تم کلمہ طیبہ پڑھتے ہو۔
Read the full tafseer →فو رب السمآء والارض انہ لحق…: کسی بات کا یقین دلانے کے لئے اس کی تشبیہ ایسی چیز کے ساتھ دی جاتی ہے جو مخاطب کے نزدیک یقینی ہو، مثلاً کہا جاتا ہے :”کما انک ھھنا“ کہ یہ بات ایسے ہی یقین ہے جیسے تم یہاں موجود ہو، یا ”کما انک تسمع و تری“ جیسے یہ یقینی ہے کہ تم سن رہے ہو اور دیکھ رہے ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا یقین دلانے کے لئے جو اس سے پہلے گزری ہیں آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ایسے ہی حق اور یقینی ہے جیسے تمہیں یقین ہے کہ تم بولتے ہو۔ اس سے پہلے مذکور چیزوں میں سب سے قریب یہ ہے کہ تمہارا رزق اور وہ تمام چیزیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان ہی میں ہیں۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
۔ وفی الارض ایت للموقین، جب دونوں فر یقوں کے معاملہ کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان فرمایا کہ زمین میں ایسی علامات ہیں جو بعث اور نشور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو پھر وہاں نباتات اگ آتی ہے، ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں رزق کو مقدر کیا جو حیوانات کے لئے سہارا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے وہ مختلف علاقوں میں جاتے ہیں جن میں ہلاکت کے آثار کر دیکھتے ہیں جو جھٹلانے والی قوموں پر ہلاکت واقع ہوتی تھی۔ موقنین ہی حقیقت میں رب العالمین کی وحدانیت اور اپنے نبی کی نبوت کی صداقت کو پہچاننے والے اور ثابت کرنے والے…
Read the full tafseer →10:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت ) '' فورب السمآء والارض '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان قوموں کو قتل کرے کہ جن کے لئے ان کے رب نے قسم کھائی پھر انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
11:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فورب السمآء والارض '' (اور قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی بلاشبہ وہ حق ہے۔ ) اس چیز کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا۔
Read the full tafseer →فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ [ تو زمین و آسمان کے رب کی قسم ہے ] اِنَّهٗ لَحَقٌّ [ کہ یہ (دین ) لازما حق ہے ] مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ [ اس کے مانند جیسے کہ تم لوگ ] تَنْطِقُوْنَ [ بولتے ہو ]
Read the full tafseer →﴿اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ (رح) 0023﴾ پھر فرمایا کہ آسمان اور زمین کے رب کی قسم یہ اسی طرح حق ہے جیسے تم باتیں کرتے ہو، تمہیں اپنی باتیں کرتے وقت اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا کہ ہم بول رہے ہیں باتیں کر رہے ہیں اور یہ بات بہت واضح ہے، انہ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ رزق کی طرف یا نبی کریم ﷺ کی طرف یا قرآن کی طرف یا دین (جزاء) کی طرف راجع ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ابتداء سورت سے لے کر یہاں تک جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے سب حق ہے لیکن ثواب اور عقاب کی طرف راجع ہونا زیادہ اوفق اور اظہر ہے۔ ان دونوں کا تعلق چونکہ یوم جزا سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
7:۔ ” وفی الارض۔ تا۔ تنطقون “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ زمین میں اور خود تمہاری جانوں میں بھی یقین لانے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں تم غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ نے زمین کو کیسی قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وفی السماء رزقکم الخ “ یعنی آسمان سے باران رحمت نازل فرماتا ہے جس سے مختلف انواع و اقسام کا رزق پیدا ہوتا ہے۔ ” وما توعدون “ یعنی اولے بھی آسمان ہی سے گرتے ہیں۔ ” فورب السماء۔ الایۃ “ زمین و آسمان کے رب کی قسم حشر و نشر اسی طرح حق ہے جس طرح تم بولتے اور منہ سے الفاظ نکالتے ہو اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ربط آیات
پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔
انسان کے مالی حقوق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی…
Read the full tafseer →فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ 23 ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] . وعلی هذا قوله تعالی: وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] أي : آلهة، وتزعمون أنهم الباري مسبّب الأسباب، والمتولّي لمصالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…
Read the full tafseer →فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّـہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَـآ اَنَّـکُمْ تَنْطِقُوْنَ ۔ (الذریٰت : 23)
(پس آسمان و زمین کے مالک کی قسم یہ بات ایسے ہی حق ہے جیسے تم بول دیتے ہو۔ )
خلاصہ بحث
آخر میں نشانیوں کی بحث کو ختم کرتے ہوئے آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ تمہیں جس قیامت سے آگاہ کیا جارہا ہے اور تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں جس عذاب سے ڈرایا جارہا ہے اس کا وقوع یقینی ہے۔ اس کے لیے پروردگار کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اور اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تمہارے لیے منہ سے کوئی لفظ بول دینا نہایت آسان ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے بھی یہ سب کچھ کردینا بہت سہل ہے۔ اسے اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کی آیت 19 میں یہ صفت بیان ہے کہ وہ اپنے مال سے محتاج لوگوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اب مال کی حقیقت بتلائی ہے کہ مال پر کسی کا حقیقی اور دائمی اختیار نہیں، اس کا کنٹرول آسمان میں ہے جسے دینے کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔
” اللہ “ نے زمین و آسمان کی قسم اٹھا کر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق کا کنٹرول آسمان میں رکھا ہے اور رزق دینے کا اس کا سچا وعدہ ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور بات سچ پر مبنی ہے یہ اس طرح سچ ہے جس طرح تم بولتے ہو۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد انسان کی وہ تمام ضروریات…
Read the full tafseer →آیت 23 : فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ (تو قسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ وہ برحق ہے) نحو : ضمیر رزق کی طرف عائد ہے یا ماتوعدون کی طرف مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ (جیسا کہ تم باتیں کر رہے ہو) قراءت : مثلُ کو رفع کے ساتھ کوفی قراء ‘ حمزہ ‘ کسائی نے سوائے حفص کے پڑھا۔ اور حق کی صفت بنایا۔ ای حقا مثل نطقکم۔ تمہارے بولنے کی طرح حق ہے۔ دیگر قراء نے مثل پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ انہ لحق حقا مثل نطقکم اور غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے بھی فتحہ درست ہے اور ما زائدہ ہے۔
قولِ اصمعی (رح) :
کہ میں جامع بصرہ سے آرہا تھا۔ کہ ایک اعرابی بیٹھا سامنے آیا۔ کہنے لگا تم کون…
Read the full tafseer →22 ۔” وفی السماء رزقکم “ ابن عباس ؓ ، مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی بارش جو رزق کا سبب ہے ” وماتوعدون “ عطا (رح) فرماتے ہیں ثواب و عتاب کا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں خیر وشر کا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جو تم جنت اور جہنم کا وعد ہ کیے گئے ہو۔ پھر اپنے نفس کی قسم کھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : (و فی الارض ایت للموقنین) ” اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں۔ “ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے مثلاً پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات، جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح خود بندے کی ذات میں بیشمار عبرتیں، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بےنیاز ہے، اس نے مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[ 20] خلاصہء بحث کا ذکر وبیان :
سو اوپر کے جملہ دلائل اور طویل بحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قطعی طور پر حق ہے جس طرح کہ تم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہو۔ پس جس طرح تمہیں اپنی باتوں کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوتا، اسی طرح تمہیں قرآن حکیم کے بیان کردہ ان حقائق میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ نیز جس طرح انسان کا نطق اور اس کی قوت گویائی اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے، کبھی اس سے الگ نہیں ہوتی، اسی طرح اس کا رزق مقسوم بھی بہرحال اسے پہنچ کر رہے گا، کبھی اس سے جدا نہ ہو، جس طرح کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ تمہارا رزق ایسے ہی تمہارا پیچھا کرتا ہے جس طرح تمہاری موت، پس جس طرح کوئی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جیسے بات کرتے وقت تمہیں اپنے گویا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(51:23) فو رب السماء والارض ۔عطف اور ترتیب کے لئے ہے وائو قسمیہ رب السماء مضاف مضاف الیہ وائو عاطفہ، الارض معطوف جس کا عطف السماء پر ہے۔ پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی۔
انہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کے مرجع کی بابت مختلف اقوال ہیں۔
یہ جو کچھ اوپر بیان ہوا۔ یعنی قیامت ، عذاب و ثواب، رزق وعدہ وعید ، وغیرہ ہوسکتا ہے۔ یا اس کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے یا محمد رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید۔ یا دین۔ یا جو کچھ ابتداء سورت سے یہاں تک مذکور ہوا۔
لحق : لام تاکید کا۔ حق سچ ( ای ما ذکرناہ من اول السورۃ الی ھنا الحق۔ جو کچھ ہم نے ابتدا سورة سے یہاں تک بیان کیا ہے سچ ہے۔
مثل : طرح۔ ما موصولہ۔ انکم تنطقون ۔ جملہ ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(23) آسمان و زمین کے پروردگار کی قسم یہ بات بالکل ایسی ہی برحق ہے جیسے تم بولتے اور باتیں کررہے ہو - حضرت حق تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھاکر یقین دلایا کہ اس کلام میں شبہ نہیں جیسے اپنے بولنے میں شبہ نہیں ۔ تم اپنے بولنے میں شبہ نہیں کرتے ایسے اس بات کو بھی حق سمجھو اور اس کے حق ہونے میں شبہ نہ کرو کہ رزق پہنچ کر رہے گا اور قیامت آکر رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوکر رہیں گے چونکہ رزق کی بحث تھی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی توفیق کا بیان تھا اس لئے آگے حضرت اسراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ (...it [ the Day of Recompense ] is a reality, as sure as that you speak....51:23). It means that all of the matters relating to Judgment, Resurrection and Recompense that they have been promised shall certainly occur. Therefore, it is the truth, there being no doubt about it, so they should not doubt its coming, just as they do not doubt that they can speak. There are five physical sensations of perception: sight, hearing, tasting, feeling and smelling. Here 'speaking' has been singled out probably because the faculty of speech is the only one…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
21 Now, from here to the end of verse 46, brief allusions have been made, one after the other, to the end of Allah's Prophets and some of the nations of the past, which arc meant to impress two things:
First, that in human history God's law of retribution has been working constantly, in which precedents are found of the rewards for the righteous and of punishments for the wicked people continuo sly. This is a clear evidence of the fact that even in the life of this world the Creator's relationship with man is not merely based on the physical law but the moral law also is working side by aide…
Read the full tafseer →