Adh-Dhaariyat 51:22

Adh-Dhaariyat · from ayah 22

51:22

وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ۟وَفِى السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And in the heaven is your provision and whatever you are promised.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:22

آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آسمان میں تمہارا رِزق (بھی) ہے اور وہ (سب کچھ بھی) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ کچھ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آسمان (یعنی عالم بالا) ہی میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ سب کچھ بھی جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And in heaven is your provision and also what you are being promised.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And in the heavens, there is your sustenance and all that you have been promised.

— Muhammad Taqi Usmani

And in the heavens, there is your sustenance and all that you have been promised.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in the heaven is your provision, and that which you are promised.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in the heaven is your providence and that which ye are promised;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And in the heaven is your provision and whatever you are promised.

— Saheeh International

In the heavens there is your sustenance and that which you were promised (Paradise).

— Muhammad Sarwar

And in the heaven is your sustenance and what you are threatened with.

— Muhammad Habib Shakir

And in the heaven is Your provision and that which ye are promised.

— Abdul Majid Daryabadi

And in heaven is your Sustenance, as (also) that which ye are promised.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–23

حسن کارکردگی کے انعامات پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة الذّٰرِیٰت 20 آسمان سے مراد یہاں عالم بالا ہے۔ رزق سے مراد وہ سب کچھ جو دنیا میں انسان کو جینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور مَا تُوْعَدُوْنَ سے مراد قیامت، حشر و نشر، محاسبہ و باز پرس، جزا و سزا، اور جنت و دوزخ ہیں جن کے رونما رہنے کا وعدہ تمام کتب آسمانی میں اور اس قرآن میں کیا جاتا رہا ہے۔ ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ تم میں سے کس کو کیا کچھ دنیا میں دیا جائے، اور وہیں سے یہ فیصلہ بھی ہونا ہے کہ تمہیں باز پرس اور جزائے اعمال کے لیے کب بلایا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ، (یعنی آسمان میں ہے تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) اس کے بےغبار و بےتکلف تفسیر وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں اختیار کی گئی، یعنی آسمان میں ہونے سے مراد آسمان میں لوح محفوظ کے اندر لکھا ہونا مراد ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہر انسان کا رزق اور جو کچھ اس سے وعدے کئے گئے اور اس کا جو کچھ انجام ہونا ہے وہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ حدیث میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے مقررہ رزق سے بچنے اور بھاگنے کی بھی کوشش کرے تو رزق اس کے پیچھے پیچھے بھاگے گا جیسے موت سے انسان بھاگ نہیں سکتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وفی السمآء رزقکم وما توعدون (22) آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ اب یہ آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھو اس کے اندر تمہارا رزق بھی ہے اور وہ عذاب بھی ہے جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رزق سے مراد بارش ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ سبب بول کر مراد اس سے مسبب کو لیا ہے جو عربیت کا معروف اسلوب ہے۔ وما توعدون سے جیسا کہ آیت 5 کے تحت وضاحت ہوچکی ہے۔ وہ عذاب مراد ہے جس سے لوگوں کو پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کیا جا رہا تھا۔ اس کی مثالیں قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں اور ان میں سے بعض کا حوالہ آگے اسی سورة میں آ رہا ہے۔ یعنی یہ آسمان تو آئے دن تمہارے سامنے جزاء و سزا کی شہادت دیتا رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 یعنی بارش بھی آسمان سے ہوتی ہے جس سے تمہارا رزق پیدا ہوتا ہے اور جنت دوزخ ثواب وعتاب بھی آسمانوں میں ہے جن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: آسمان سے یہاں مراد عالم بالا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے رزق کے فیصلے بھی آسمان میں ہوتے ہیں، اور تم سے جنت اور دوزخ وغیرہ کا جو وعدہ کیا جارہا ہے، اس کا فیصلہ بھی آسمان ہی میں ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وفی السمائ ........ توعدون (51 : 22) ” آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ “ بظاہر یہ ایک عجیب ہدایت اور توجہ مبذول کرنے کا ایک اشارہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اسباب رزق زمین میں ہیں انسان ان اسباب کے اندر جدوجہد کرتا اور اس سعی اور جہد کے نتیجے میں بھی رزق کا انتظام کرتا ہے لیکن قرآن انسان کی نظروں کو آسمانوں کی طرف پھیرتا ہے۔ عالم ظاہر سے عالم غیب کی طرف لے جاتا ہے تاکہ وہ وہاں اپنے نصیبہ رزق کی امید کرے۔ رہی یہ بات کہ زمین اور اس کے اندر اسباب رکھے گئے تو یہ تو یقین کرنے والوں کے لئے آیات ہیں۔ ان آیات ونشانات کو دیکھ کر انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی سائلوں اور محتاجوں پر خرچ کرنے سے اس لیے نہیں ڈرنا چاہیے کہ خرچ کر کے ہم کہاں سے کھائیں گے اور نہ خرچ کر کے ان مساکین پر احسان جتلائے کیونکہ تمہاری سب کی روزی اور اجر وثواب کے جو وعدے کیے گئے ہیں آسمان والے کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر ایک کی روزی پہنچ کر رہے گی کسی کے روکے نہیں رک سکتی۔ اور خرچ کرنے والوں کو ثواب بھی مل کر رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔ } ”اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارا رزق بھی طے شدہ ہے اور تمہارے جنت یا دوزخ میں جانے کا فیصلہ بھی اسی کی مشیت سے ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 انسان بلکہ سب جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ بارش ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ آسمان سے مراد بادل بھی ہوسکتا ہے اور نفس آسمان بھی۔ کیونکہ ہر علاقے میں جتنی بارش ہونا مقدر ہو اس کا حکم آسمان سے نازل ہوتا ہے اور ہر ایک کو اس کے مقدر کی روزی مل کے رہتی ہے کسی کے روکنے سے رک نہیں سکتی اور اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں ہے اس سے زیادہ نہیں مل سکتی۔ 16 رزق انسان کو زندہ رہنے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے لیکن وہ دنیا میں کتنا عرصہ کام کرے گا اور کب اور کہاں مرے گا۔ یہ فیصلہ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ نیز یہاں وعدہ سے مراد وعدہ قیامت، حشر و نشر، محاسبہ وباز پرس، جزا و سزا اور جنت و دوزخ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ یعنی قیامت کا۔ (آیت) ” وفی السمآء “۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رزق مقدر کا اور قیامت کا سب کا علم لوح محفوظ میں مندرج ہے۔ لیکن عام طور پر مفسرین نے معنی یہ لیے ہیں کہ اسباب رزق (مثلا بارش) وغیرہ کا اصل نزول آسمان ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–22

صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خاص ہدایت : اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو اپنی حاجت شرم و شرافت کی وجہ سے کسی پر ظاہر نہیں کرتے، مطلب یہ کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز روزہ اور شب بیداری پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ جو شرافت و شرم کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وفی السماء رزقکم وما تو عدون . اور تمہارا رزق اور جو تم سے (قیامت کے متعلق) وعدہ کیا جاتا ہے (ان سب کا معین وقت) آسمان میں ہے۔ وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے کہ رزق سے مراد ہے رزق کے پیدا ہونے کا سبب یعنی بارش۔ اس تفسیر کی بنا اس مسلمہ پر ہے جو (ظاہر) شریعت میں آیا ہے کہ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ بیضاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ السمآء سے مراد بادل اور رزق سے مراد ہے بارش۔ یہ تشریح فلاسفہ کے خیال پر مبنی ہے (کہ بارش بادل سے ہوتی ہے) بیضاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسباب رزق مراد ہیں۔ یا رزق سے مراد ہے حصہ اور نصیب (لغت میں رزق کا یہی معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) سو قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی کہ تم سے جو رزق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ حق ہے اور ایسا یقینی جیسا کہ تم کلمہ طیبہ پڑھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وفی السمآء رزقکم : اکثر مفسرین نے یہاں رزق سے مراد بارش لی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذین یریکم ایتہ وینزل لکم من السمآء ر زقاً (المومن : 13)”وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔“ مگر لفظ عام ہیں، اس لئے رزق سے مراد وہ سب کچھ ہے جو دنیا میں انسان کو جیتے، کھانے پیتے اور کام کرنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ یعنی تمہیں جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ آسمان میں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور تمہیں وہیں سے عطا ہوتا ہے۔”فی السمآئ“ مقدم لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمہارا رزق آسمان ہی میں ہے۔“ تو جب تمہارا رزق آسمان ہی میں ہے تو پھر کمائی کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–23

۔ وفی الارض ایت للموقین، جب دونوں فر یقوں کے معاملہ کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان فرمایا کہ زمین میں ایسی علامات ہیں جو بعث اور نشور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو پھر وہاں نباتات اگ آتی ہے، ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں رزق کو مقدر کیا جو حیوانات کے لئے سہارا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے وہ مختلف علاقوں میں جاتے ہیں جن میں ہلاکت کے آثار کر دیکھتے ہیں جو جھٹلانے والی قوموں پر ہلاکت واقع ہوتی تھی۔ موقنین ہی حقیقت میں رب العالمین کی وحدانیت اور اپنے نبی کی نبوت کی صداقت کو پہچاننے والے اور ثابت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم '' دو آیتیں۔ 6:۔ ابن النفور والدیلمی (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم وما تو عدون '' (تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب کا معین وقت آسمان میں ہے یعنی رزق سے بارش مراد ہے۔ 7:۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ میں برف کو پہچانتا ہوں اور میری یہ رائے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم وما تو عدون '' سے برف مراد ہے۔ 8:۔ ابوالشیخ (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی السمآء رزقکم '' سے مراد ہے بارش (آیت ) '' وما تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ [ اور آسمانوں میں تمہارا رزق ] وَمَا [ اور وہ (بھی) ہے جس کا ] تُوْعَدُوْنَ [ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–22

زمین میں اور انسانوں کی جانوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تمہاری جانوں میں بھی نشانیاں ہیں ان میں غور کرنے سے تمہاری سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اپنی مخلوق میں جو ایسے ایسے تصرفات کرنے والا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، بصیرت کی آنکھوں سے دیکھنے والا اس بات کو کچھ سمجھ سکتا ہے کہ قیامت قائم کرنا اس ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے جس کے یہ تصرفات ہیں۔ ﴿اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ اور ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ میں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–23

انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔ بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–23

7:۔ ” وفی الارض۔ تا۔ تنطقون “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ زمین میں اور خود تمہاری جانوں میں بھی یقین لانے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں تم غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ نے زمین کو کیسی قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وفی السماء رزقکم الخ “ یعنی آسمان سے باران رحمت نازل فرماتا ہے جس سے مختلف انواع و اقسام کا رزق پیدا ہوتا ہے۔ ” وما توعدون “ یعنی اولے بھی آسمان ہی سے گرتے ہیں۔ ” فورب السماء۔ الایۃ “ زمین و آسمان کے رب کی قسم حشر و نشر اسی طرح حق ہے جس طرح تم بولتے اور منہ سے الفاظ نکالتے ہو اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–23

ربط آیات پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔ انسان کے مالی حقوق اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۝ 22 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–30

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُـکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 22) (اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کی تمہیں وعید سنائی جارہی ہے۔ ) جزاء و سزا کی آسمان میں نشانیاں اس آیت میں آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس سلسلے میں صرف دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارا رزق ہے۔ اس صورت میں بعض اہل علم نے اس سے عالم بالا مراد لیا ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے جس میں بادل بھی شامل ہیں اور آسمان بھی۔ اور رزق سے مراد بارش ہے۔ یعنی عالم بالا سے تم پر بارش اترتی ہے اور وہ زمین سے رزق اگنے کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح سبب بول کو مسبب مراد لیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–23

فہم القرآن ربط کلام : متقین کی آیت 19 میں یہ صفت بیان ہے کہ وہ اپنے مال سے محتاج لوگوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اب مال کی حقیقت بتلائی ہے کہ مال پر کسی کا حقیقی اور دائمی اختیار نہیں، اس کا کنٹرول آسمان میں ہے جسے دینے کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کی قسم اٹھا کر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق کا کنٹرول آسمان میں رکھا ہے اور رزق دینے کا اس کا سچا وعدہ ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور بات سچ پر مبنی ہے یہ اس طرح سچ ہے جس طرح تم بولتے ہو۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد انسان کی وہ تمام ضروریات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 22 : وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ (اور تمہارا رزق آسمان میں ہے) رزق سے بارش مراد ہے کیونکہ وہ سبب اقوات ہے۔ قولِ حسن۔ : جب آپ بادل کو دیکھتے تو اپنے اصحاب کو فرماتے۔ اس میں اللہ کی قسم تمہارا رزق ہے۔ لیکن تم اپنی خطائوں سے اس سے محروم کردیئے جاتے ہو۔ وَمَا تُوْعَدُوْنَ (اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی جنت وہ آسمان سابع کی چھت اور عرش کے نیچے ہے۔ یا مراد وہ ارزاق ہیں جو دنیا میں ملتے ہیں اور وعدہ جو آخرت میں رزق ملنے کا کیا جاتا ہے۔ یہ سب مقدر اور آسمان میں لکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–22

20-21…” وفی الارض آیات “ عبرتیں ” للموقنین “ جب اس میں پاس پہاڑوں ، سمندروں، درختوں ، پھلوں اور قسم قسم کے پودوں میں۔ ” وفی انفسکم “ نشانیاں ہیں جب وہ نطفہ تھا پھر جما ہوا خون بنا۔ پھر گوشت کا لوتھڑا ، پھر ہڈی یہاں تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زبانوں، صورتوں، رنگوں اور طبیعتوں کا اختلاف مراد ہے۔ ابن زبیر (رح) فرماتے ہیں پاخانہ، پیشاب کا راستہ مراد ہے کہ ایک راستہ سے بندہ کھاتا پیتا ہے اور دوراستوں سے نکلتا ہے۔ ” افلا تبصرون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہیں کیسے پیدا کیا پھر تم بعث پر اس کی قدرت کو پہچان لو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–23

15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–23

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : (و فی الارض ایت للموقنین) ” اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں۔ “ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے مثلاً پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات، جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح خود بندے کی ذات میں بیشمار عبرتیں، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بےنیاز ہے، اس نے مخلوق کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 18] آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان ہی میں ہے تمہاری روزی اور وہ سب کچھ جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی بارش جس سے مردہ زمین کو زندگی ملتی ہے، اور اس میں طرح طرح کی فصلیں اور دوسری بےحد وحساب چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ نیز چناد اور سورج کے وہ عظیم الشان کرے اور دوسرے کواکب وغیرہ، جو اس ضمن میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز ان ظاہری اسباب کے پردے میں جو اصل حقیقت کار فرما ہے یعنی امر ربی وہ بھی عالم بالا ہی سے آتا ہے، اور اسی کے مطابق اسباب و مسباب کا یہ سارا نظام چلتا ہے، فحلت قدرتہٗ وعز شانہٗ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تم لوگ غور و فکر سے کام لو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–23

پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 مراد بارش ہے جو روزی کا سبب ہے۔ 8 یعنی حشر و نشر جزا و سزا اور جنت و دوزخ وغیرہ جن کے رونما ہونے کا وعدہتمام انبیاء کی زبانی اور تمام آسمانی کتابوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(51:21) وفی انفسکم وائو عاطفہ ، جملہ کا عطف فی الارض ایت پر ہے۔ اور (خود) تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔ افلا تبصرون : أ استفہامیہ ہےعاطفہ کا عطف محذوف پر ہے ای الا تنظرون فلا تبصرون (لبعین البصیرۃ) کیا تم نہیں دیکھتے ہو اور پھر کیا تم چشم بصیرت سے نہیں دیکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–23

اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔ (ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یہاں آسمان سے مراد عالم بالا ہے اور رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو دنیا میں انسان کی زندگی اور اس کے رہن سہن کے لئے ضروری ہیں اور جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے، اس سے مراد وہ عذاب ہے جسے لوگوں کو پیغمبروں کی تکذیب کی صورت آگاہ کیا جاتا رہا۔ مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے ہر انسان کے رزق کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسے کیا کچھ دیا جائے اور وہیں سے یہ بھی فیصلہ ہوتا ہے کہ نافرمانی اور سرکشی کرنے والوں پر عذاب کب نازل کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–27

مساوات اور مقام احسان 1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سب آسمان میں ہے۔ یعنی رزق کا سامان آسمان سے ارتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس قدر رزق تمہارے لئے مقسوم ہے اور جس قدر رزق تمہاری قسمت میں ہے اور جو ثواب و عقاب اور خیر اور شر اور قیامت کا وقوع یہ سب امور لوح محفوظ میں درج ہیں اور وہیں کے لکھے کے موافق آسمان پر سے ہرچیزنازل ہوتی ہے آسمان میں ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ سب لوح محفوظ میں درج ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–27

ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَفِي السَّمَاءِ رِ‌زْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (And in the heavens, there is your sustenance and all that you have been promised.... 51:22). The plain and simple interpretation of this is that 'in heaven' here means what has been written in the Preserved Tablet (Al-Lauh-ul-Mahfuz). It is clear that man's sustenance, what has been promised to him and whatever its consequences will be - are all preserved in the Preserved Tablet. Sayyidna Abu Said Khudri ؓ reports that the Holy Messenger ﷺ said: "Even if someone tries to avoid and run away from his designated sustenance, he will not succeed,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 By the heaven here is meant the "heavens", by "provisions" all that man is given for his survival and functioning in the world, and by "that which is promised. " Resurrection, gathering together, accountability, meting out of rewards and punishments, and Hell and Heaven, which have been foretold and promised in aII Divine Books and now in the Qur'an. The verse means to say; "The decisions as to who should be given what and how much in the world arc taken in heavens, and also the decision as to when should any of you be recalled for the purpose of accountability and dispensation of the…

Read the full tafseer →