Adh-Dhaariyat 51:21

Adh-Dhaariyat · from ayah 21

51:21

وَفِیْۤ اَنْفُسِكُمْ ؕ— اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ۟وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And in yourselves. Then will you not see?

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:21

اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور خود تمہارے اپنے اندر بھی، پھر کیا تم غور سے نہیں دیکھتے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور خود تمہارے اندر بھی، کیا تم دیکھتے نہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور خود تمہاری اپنی جانوں میں بھی (اے لوگو) تو کیا تمہیں دکھلائی نہیں دیتا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور خود تمہاری ذات میں بھی کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی (نشانیاں ہیں)۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور خود تمہاری جانوں میں، تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

and also in your own selves. Do you not see?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in your own selves! So, do you not perceive?

— Muhammad Taqi Usmani

and in your own selves! So, do you not perceive?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And also in yourselves. Will you not then see

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (also) in yourselves. Can ye then not see?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And in yourselves. Then will you not see?

— Saheeh International

There is also evidence of the Truth within your own selves. Will you then not see?

— Muhammad Sarwar

And in your own souls (too); will you not then see?

— Muhammad Habib Shakir

And also in Your own selves. Behold ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

As also in your own selves: Will ye not then see?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–23

حسن کارکردگی کے انعامات پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 19 یعنی باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بیشمار نشانیاں مل جائیں گی۔ کس طرح ایک خورد بینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خورد بینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشۂ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کر کے بتدریج بڑھایا گیا۔ کس طرح تمہیں ایک بےنظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و تاریک دنیا سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خود کار مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روز پیدائش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، اس جگہ آیات قدرت کے بیان میں آسمان اور فضائی مخلوقات کا ذکر چھوڑ کر صرف زمین کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کے بہت قریب ہے، جس پر انسان بستا اور چلتا پھرتا ہے، اس آیت میں اس سے بھی زیادہ قریب یعنی خود انسان کی ذات کی طرف توجہ دلائی کہ زمین اور زمین کی مخلوقات کو بھی چھوڑو خود اپنے وجود اپنے جسم اور اس کے اعضاء وجوارح ہی میں غور کرلو تو ایک ایک عضو کو حکمت حق تعالیٰ کا ایک دفتر پاؤ گے اور سمجھ لوگے کہ سارے عالم میں جو آیات قدرت حق تعالیٰ کی ہیں انسان کے اپنے چھوٹے سے وجود میں وہ سب گویا سمٹ آئی ہیں، اسی لئے انسان کے وجود کو عالم اصغر کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وفی انفسکم افلاتصرون 21 انفس کے بعض دلائل کی طرف اشارہ یہ روز جزاء و سزا پر انفس کے دلائل کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن نے جس طرح آفاق سے اپنی دعوت کے تمام بنیادی اجزاء پر استدلال کیا ہے۔ اسی طرح انفس سے بھی تمام اصولی مطالب پر دلیل قائم کی ہے جن کی وضاحت اس کتاب میں ان کے محل میں ہم کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں ہم بالا جمال صرف جزاء و سزا سے متعلق چند باتوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ …قرآن نے جگہ جگہ انسان کی غفلت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو خدا حقیر پانی کی ایک بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر، ایک بھلا چنگ انسان بنا کھڑا کرتا ہے اور اس کو گوناگوں ظاہری و باطنی صلاحیتوں سے آراستہ کردیتا ہے کہ اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–21

8: سائل سے مراد تو وہ حاجت مند ہے جو زبان سے اپنی ضرورت کا اظہار کردے، اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود کسی سے کچھ مانگتا نہیں، اس آیت میں حق کا لفظ استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ انسان ان لوگوں پر زکوٰۃ وغیرہ کی شکل میں جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں پہنچانا ہی چاہیے تھا، کیونکہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور اس کا یہ حکم ہے کہ اس میں حاجت مند لوگوں کا بھی حصہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب ان عجائبات میں سے دوسرا عجوبہ۔ وفی ........ تبصرون (51 : 12) ” اور خود تمہارے وجود میں ہیں کیا تمہیں سوجھتا نہیں “ یہ حضرت انسان تو عجائبات عالم میں سے ایک عظیم عجوبہ ہے لیکن اس کی قسمت کیا ہے۔ اس کا مقام کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر کیا اسرار و رموز ہیں۔ اس سے وہ غافل ہے اور غافل اس وجہ سے ہے کہ وہ ایمان ویقین کی نعمت سے محروم ہے۔ یہ انسان اپنی جسمانی ساخت میں بھی عجوبہ ہے۔ جسم کے اسرار میں عجوبہ ہے۔ روحانی دنیا میں عجوبہ ہے۔ نفسیات کا تو عالم ہی جدا ہے۔ غرض اپنے ظاہر میں اور اپنے باطن میں عجوبہ ہے۔ یہ انسان اس کائنات کا عناصر کا نمونہ ہے اور پوری کائنات کے اسرار و رموز اس کے اندر پوشیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–21

6 یعنی یہ شب بیداری، استغفار اور محتاجوں پر خرچ کرنا اس یقین کی بناء پر ہونا چاہیے کہ خدا موجود ہے اور اس کے ہاں کسی کی نیکی ضائع نہیں جاتی۔ اور یہ یقین وہ ہے جو آفاقی و انفسی آیات میں غور کرنے سے بسہولت حاصل ہوسکتا ہے۔ انسان اگر خود اپنے اندر یا روئے زمین کے حالات میں غور وفکر کرے تو بہت جلد اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ہر نیک و بد کی جزاء کسی نہ کسی رنگ میں ضرور مل کر رہے گی۔ جلد یا بدیر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی نشانیاں ہیں۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ یعنی انسان کے جسم اور جسم کے ایک ایک نظام کے اندر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرے۔ مرزا بیدل ؔ نے اس خوبصورت شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے : ؎ ستم است گر ہوست کشد کہ بہ سیر ِسرو وسمن درآ تو زغنچہ کم نہ دمیدئہ درِ دل کشا بہ چمن درآ ! اے انسان ! بڑے ستم کی بات ہے اگر تجھے تیری خواہش نفس کسی باغ کی سیر کے لیے کھینچ کرلے جاتی ہے ‘ جبکہ خود تیری اپنی چمک دمک کسی پھول سے کم نہیں ہے۔ کبھی اپنے دل کا دروازہ کھول کر اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–21

10۔ یعنی انسان اگر خود اپنے حالات ظاہری وباطنی کا جائزہ لیتا ہے، اگر آیات آفاقی وانفسی پر غور کرتا رہے تو وقوع حشر کی ضرورت کا وہ ضرور قائل ہوجائے گا۔ (آیت) ” للموقنین “۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں یقین کی طلب اور حق کی جستجو ہے۔ (آیت) ” وفی الارض ایت “۔ یعنی وقوع قیامت وجزاء کے آفاقی دلائل و شواہد۔ دنیا میں جتنے بھی علوم وفنون نظر آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہیں ؟ موجودات عالم اور ان کے مختلف اصناف کے متعلق قاعدے اور کلیے ہی تو ہیں۔ آفتاب وماہتاب سے لے کر ریگستان کے ذروں اور دریا کے قطروں اور گھاس کی پتیوں اور ننھے سے ننھے کیڑوں تک بڑی چھوٹی چیزیں جو کچھ بھی کائنات میں ہیں۔ سب کیسی قاعدوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–22

صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خاص ہدایت : اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو اپنی حاجت شرم و شرافت کی وجہ سے کسی پر ظاہر نہیں کرتے، مطلب یہ کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز روزہ اور شب بیداری پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ جو شرافت و شرم کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وفی انفسکم . اور خود تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔ وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ : یعنی اے انسانو ! خود تمہارے اندر اللہ کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ انسان عالم صغیر (چھوٹی دنیا) ہے۔ اللہ کی قدرت ‘ حکمت ‘ صنعت اور ربوبیت کی جو نشانیاں عالم کبیر میں ابتداء تخلیق سے لے کر آخری انجام تک وہ ساری آیات انسان کے اندر ہیں۔ آغاز میں تخلیق انسانی بصورت نطفہ تھی۔ پھر نطفہ بستہ خون بنا۔ پھر ایک گوشت کا لوتھڑا ہوا۔ پھر ہڈیاں بنائی گئیں ‘ پھر ہڈیوں کے ڈھانچے کو گوشت کا لباس پہنایا گیا۔ پھر اس میں روح ڈالی گئی۔ پھر بسہولت باہر آنے کا راستہ بنایا گیا۔ باہر آنے کے بعد فراہمی غذا کا انتظام کیا گیا۔ پستان مادر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 20) اور ان کے مال میں سوالی اور غیر والی سب کا حق تھا اور محروم ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم ہوگیا ہو یا یہ کہ محروم سے وہ پیشہ ور آدمی مراد ہے جس کا ذریعہ معاش بہت تنگ ہو اور ایک دن کی روزی بھی اسے میسر نہ ہو۔ شان نزول : وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا تو اسے فتح اور خوب غنیمت حاصل ہوئی اس لشکر کے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسری قوم آئی تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں زمین کی کائنات…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وفی انفسکم افلاتبصرون : یعنی خود تمہارے نفسوں میں دوبارہ زندہ ہونے کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں کہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک ہر لمحہ موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منقت ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ یہ بحث تفصیل کے ساتھ سورة مومنون (12 تا 16) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ (2) انسان کی ذات میں قیامت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، حکمت، تدبیر، صنعت، قدرت اور دوسری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–23

۔ وفی الارض ایت للموقین، جب دونوں فر یقوں کے معاملہ کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان فرمایا کہ زمین میں ایسی علامات ہیں جو بعث اور نشور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو پھر وہاں نباتات اگ آتی ہے، ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں رزق کو مقدر کیا جو حیوانات کے لئے سہارا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے وہ مختلف علاقوں میں جاتے ہیں جن میں ہلاکت کے آثار کر دیکھتے ہیں جو جھٹلانے والی قوموں پر ہلاکت واقع ہوتی تھی۔ موقنین ہی حقیقت میں رب العالمین کی وحدانیت اور اپنے نبی کی نبوت کی صداقت کو پہچاننے والے اور ثابت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' (اور خود تمہاری ذات میں بھی پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا) یعنی جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور وفکر کیا تو وہ جان لے گا کہ اس کے جوڑ نرم کردیئے گئے ہیں عبادت کے لئے۔ 3:۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا تبصرون '' سے مراد ہے کہ تم کو پاخانہ اور پیشاب کا راستہ نظر نہیں آتا۔ 4:۔ الخرائطی نے مساوی الاخلاق علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی انفسکم افلا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ [ اور تمہاری جانوں میں بھی ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں کو سجھائی نہیں دیتا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–22

زمین میں اور انسانوں کی جانوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تمہاری جانوں میں بھی نشانیاں ہیں ان میں غور کرنے سے تمہاری سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اپنی مخلوق میں جو ایسے ایسے تصرفات کرنے والا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، بصیرت کی آنکھوں سے دیکھنے والا اس بات کو کچھ سمجھ سکتا ہے کہ قیامت قائم کرنا اس ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے جس کے یہ تصرفات ہیں۔ ﴿اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ اور ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ میں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–23

انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔ بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–23

7:۔ ” وفی الارض۔ تا۔ تنطقون “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ زمین میں اور خود تمہاری جانوں میں بھی یقین لانے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں تم غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ نے زمین کو کیسی قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وفی السماء رزقکم الخ “ یعنی آسمان سے باران رحمت نازل فرماتا ہے جس سے مختلف انواع و اقسام کا رزق پیدا ہوتا ہے۔ ” وما توعدون “ یعنی اولے بھی آسمان ہی سے گرتے ہیں۔ ” فورب السماء۔ الایۃ “ زمین و آسمان کے رب کی قسم حشر و نشر اسی طرح حق ہے جس طرح تم بولتے اور منہ سے الفاظ نکالتے ہو اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–23

ربط آیات پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔ انسان کے مالی حقوق اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ۝ 0 ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۝ 21 نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( نس ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–30

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 21) (اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہے، کیا تم دیکھتے نہیں۔ ) انفس میں جزاء و سزا کی بعض نشانیاں یعنی باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بیشمار نشانیاں مل جائیں گی۔ کس طرح ایک خوردبینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خوردبینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشہ ٔ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کرکے بتدریج بڑھایا گیا۔ کس طرح تمہیں ایک بینظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : جنت ایمان کے بدلے نصیب ہوگی اور ایمان یقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ یقین کے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور وخوض کرے، اور ان پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کی معرفت کے لیے نہ صرف زمین میں بیشمار نشانیاں پیدا کی ہیں بلکہ اس نے لوگوں کے وجود میں بھی اپنی قدرت کی نشانیاں پیدا کی ہیں کہ لوگ ان پر غور کریں تو انہیں اپنے رب کی ذات اور صفات پر اس طرح یقین ہوجائے کہ وہ کسی اور کو الٰہ ماننے اور اس کا شریک بنانے اور اس کی نافرمانی کی جرأت نہ کرسکیں۔ لیکن بیشمار لوگ اپنے رب کی قدرتوں اور نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں مگر اس کی ذات اور صفات پر صحیح معنوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسان میں نمونہ قدرت : آیت 21 : وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ (اور تمہاری ذات میں بھی) ان کی ابتدائی حالت اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے اور نفوس کے ظواہر و بواطن میں عجائبات فطرت ٗ اور تخلیق کے وہ عمدہ نمونے ہیں جن پر ذہن حیران ہوجاتے ہیں۔ یہ دلوں کو دیکھ لو اور جو اس میں عقل رکھ دی۔ زبانوں کو دیکھو اور ان کا بولنا ٗ مخارج حروف اور ان کی ترکیب و ترتیب اور اس کے لطائف میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر ٗ صنعت کی قطعی اور روشن دلیلیں ہیں۔ کانوں ٗ آنکھوں اور اطراف اور تمام جوارح پر توجہ کرو اور جس کیلئے انکو بنایا گیا انکی ادائیگی دیکھو۔ اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں دوہرے ہونے اور مڑنے کا کتنا شاندار انداز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–22

20-21…” وفی الارض آیات “ عبرتیں ” للموقنین “ جب اس میں پاس پہاڑوں ، سمندروں، درختوں ، پھلوں اور قسم قسم کے پودوں میں۔ ” وفی انفسکم “ نشانیاں ہیں جب وہ نطفہ تھا پھر جما ہوا خون بنا۔ پھر گوشت کا لوتھڑا ، پھر ہڈی یہاں تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زبانوں، صورتوں، رنگوں اور طبیعتوں کا اختلاف مراد ہے۔ ابن زبیر (رح) فرماتے ہیں پاخانہ، پیشاب کا راستہ مراد ہے کہ ایک راستہ سے بندہ کھاتا پیتا ہے اور دوراستوں سے نکلتا ہے۔ ” افلا تبصرون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہیں کیسے پیدا کیا پھر تم بعث پر اس کی قدرت کو پہچان لو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–23

15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–23

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : (و فی الارض ایت للموقنین) ” اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں۔ “ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے مثلاً پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات، جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح خود بندے کی ذات میں بیشمار عبرتیں، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بےنیاز ہے، اس نے مخلوق کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 16] دلائل انفسی میں دعوت غور و فکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور خود تمہاری جانوں میں بھی اے لوگو ! سو تم دیکھو اور غور کرو کہ ان کے ظاہر میں اور باطن میں بھی کہ عجائب ہیں جو قدرت نے ان میں رکھے ہیں، سو تم ذرہ اپنے اس ظاہر و باطن اور اپنے آغاز آفرینش پر گور تو کرو، کہ کس طرح خدائے قدیر و حکیم نے ایک حقیقی بوند سے تمہاری تخلیق و پیدائش کا آغاز فرمایا، اور پھر تمہیں مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر کہاں پہنچایا، اور تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنا کھڑا کیا، اور تمہیں گونا گوں ظاہری اور باطنی نعمتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ و پیراستہ کیا، تو پھر اس کیلئے تمہیں دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–23

پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی باہر کی نشانیوں سے قطع نظر خود تمہاری پیدائش نشو و نما جوانی بڑھاپے اور نظام ہضم و صحت میں ایسی سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں جن پر اگر تم غور کرو تو تمہیں صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ تم خود پیدا نہیں ہوئے ہو بلکہ کسی خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہو اور یہ کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کہئے جائو گے اور اپنے خلاق ومالک سے اپنے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ پائو گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(51:21) وفی انفسکم وائو عاطفہ ، جملہ کا عطف فی الارض ایت پر ہے۔ اور (خود) تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔ افلا تبصرون : أ استفہامیہ ہےعاطفہ کا عطف محذوف پر ہے ای الا تنظرون فلا تبصرون (لبعین البصیرۃ) کیا تم نہیں دیکھتے ہو اور پھر کیا تم چشم بصیرت سے نہیں دیکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–23

اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔ (ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[12] قرآن نے جگہ جگہ انسان کی خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو اللہ پانی کی حقیر بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر ایک بھلا چنگا انسان بنا کھڑا کرتا ہے کیا اس کے لئے ناممکن ہے کہ انسان کو ازسرنو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے اور اس کے اعمال و اقوال کا حساب کرے ؟ جب پہلی بار پیدا کیا جانا اس کے لئے ناممکن نہیں ہوا تو دوبارہ یہی کام اس کے لئے کیوں ناممکن ہوجائے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–27

مساوات اور مقام احسان 1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اورخود تمہاری ذات میں بھی دلائل موجود ہیں پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا۔ اوپر محسنین کا ذکر تھا اب فرمایا سب کاموں کا دارومدار یقین پر ہے یقین کرنے والوں کے لئے زمین قدرت الٰہی کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے اس کی نباتات رنگ برنگ کے پھول اور پتوں کی ساخت معدنیات قسم قسم کے جواہرات غرض کیا چیز ہے جو زمین ہر نہیں اگلتی۔ یہ کارخانہ ارضی اپنے اندر ہزاروں نشانیاں قدرت خداوندی کی پنہاں رکھتا ہے اور ان کو وقتاً فوقتاً آشکارا کرتا رہتا ہے اور زمین تو بڑی چیز ہے خود انسان کے اندر کیا نہیں ہے۔ انسان خود ایک عالم صغیر ہے جس میں سب کچھ موجود ہے سرے لے کر پائوں تک قدرت الٰہی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–27

ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Thus Allah says: وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ (... and in your own selves! So, do you not perceive? ....51:21). Out of the innumerous signs of Allah's power which are present everywhere in the universe, including the heavenly and celestial beings and creatures, only those signs are referred to here which are available on earth, because they are very close to man's experience, and he resides and moves about among them. The present verse now speaks of man himself. Man is required to ponder on his own body, its limbs and organs. Every single part of the body testifies to the boundless…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19 That is, "You may not look outside yourself; look within your own self, and you will find countless signs testifying to the same truth. You will see how your creation was begun by combining a microscopic sperm with a microscopic egg in a corner of the mother's body; how you were blessed with a body of unique structure and a self endowed with wonderful powers and abilities; how you were brought out from the dark world of your mother's womb, as soon as your structure became complete, into this vast world, equipped with an automate machine within yourself, which goes on functioning by itself…

Read the full tafseer →