Explained with ayahs 16–23
حسن کارکردگی کے انعامات
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 18
نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت کے امکان اور اس کے وجوب و لزوم کی شہادت دے رہی ہیں۔ زمین کا اپنا وجود اور اس کی ساخت، اس کا سورج سے ایک خاص فاصلے پر اور ایک خاص زاویے پر رکھا جانا، اس پر حرارت اور روشنی کا انتظام، اس پر مختلف موسموں کی آمد و رفت، اس کے اوپر ہوا اور پانی کی فراہمی، اس کے پیٹ میں طرح طرح کے بیشمار خزانوں کا مہیا کیا جانا، اس کی سطح پر ایک زرخیز چھلکا چڑھایا جانا، اس میں قسم قسم کی بےحد و حساب نباتات کا اگایا جانا، اس کے اندر خشکی اور تری اور ہوا کے جانوروں کی بیشمار نسلیں جاری کرنا، اس میں ہر نوع کی زندگی کے لیے مناسب حالات اور موزوں خوراک کا انتظام…
Read the full tafseer →آفاق دانفس دونوں میں قدرت کی نشانیاں
(آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، (یعنی زمین میں بہت نشانیاں قدرت کی ہیں، یقین کرنے والوں کے لئے) پچھلی آیات میں اول کفار و منکرین کا حال اور انجام بد بتلایا گیا ہے، پھر مومنین متقین کے حالات وصفات اور ان کے درجات عالیہ کا ذکر فرمایا، اب پھر کفار و منکرین قیامت کے حال کی طرف غور اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں ان کے پیش نظر کر کے انکار سے باز آجانے کی ہدایت ہے، تو اس جملہ کا تعلق مذکورہ سابق جملے (اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ) سے ہوا، جس میں قرآن و رسول سے انکار کا ذکر ہے۔
اور تفسیر مظہری میں اس کو بھی مومنین متقین ہی کی صفات…
Read the full tafseer →5۔ آگے آیات 23-20 کا مضمون
آگے کی آیات میں سورة کے اصل عمود یعنی جزاء و سزا کے مضمون کو از سر نو لیا ہے اوپر صرف ابرو ہوا کے تصرفات سے استدلال تھا آگے آفاق وانفس کے ان تمام دلائل کی طرف آنکھیں کھولیں اور ان سے جو نتائج سامنے آتے ہیں ان پر یقین کریں۔ فرمایا۔
6 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وفی الارض ایت للموقنین (20)
آسمان و زمین اور انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ
اوپر جزا و سزا کی جو نشانیاں مذکور ہوئی ہیں اس آیت کا عطف انہی پر ہے۔ ابرو ہوا کی نشانیوں کا تعلق زمین و آسمان کے درمیان کی نشانیوں سے ہے۔ اب آگے آسمان و زمین اور خود انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور اقرب فالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
8: سائل سے مراد تو وہ حاجت مند ہے جو زبان سے اپنی ضرورت کا اظہار کردے، اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود کسی سے کچھ مانگتا نہیں، اس آیت میں حق کا لفظ استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ انسان ان لوگوں پر زکوٰۃ وغیرہ کی شکل میں جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں پہنچانا ہی چاہیے تھا، کیونکہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور اس کا یہ حکم ہے کہ اس میں حاجت مند لوگوں کا بھی حصہ ہے۔
Read the full tafseer →اس آیت کے ذریعے انفس وآفاق میں موجود نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ تمہارے لئے رزق کے جو ذرائع مقرر کردیئے ہیں وہ آسمان سے مقرر ہیں اور اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرماتا ہے یہاں ذات باری کو رب سماء اور ارض کہا گیا جن کا ذکر اس سبق میں ہوچکا ہے اور جو اب قسم یہی اہم سوال ہے یعنی حشرونشر۔
وفی الارض ........ للموقنین (51 : 02) وفی ........ تبصرون (51 : 12)
” زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے اور خود تمہارے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں “ یہ چھوٹا سا سیارہ جس کے اوپر ہم رہتے ہیں یہ ایک بہت بڑی نمائش گاہ ہے۔ ان آیات وعجائبات کے لئے جو اس میں اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
6 یعنی یہ شب بیداری، استغفار اور محتاجوں پر خرچ کرنا اس یقین کی بناء پر ہونا چاہیے کہ خدا موجود ہے اور اس کے ہاں کسی کی نیکی ضائع نہیں جاتی۔ اور یہ یقین وہ ہے جو آفاقی و انفسی آیات میں غور کرنے سے بسہولت حاصل ہوسکتا ہے۔ انسان اگر خود اپنے اندر یا روئے زمین کے حالات میں غور وفکر کرے تو بہت جلد اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ہر نیک و بد کی جزاء کسی نہ کسی رنگ میں ضرور مل کر رہے گی۔ جلد یا بدیر۔
Read the full tafseer →آیت 20{ وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ } ”اور زمین میں ہر چہارطرف نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔“
سورة البقرۃ ‘ آیت 164 آیت الآیات میں اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔
Read the full tafseer →13 زمین میں مختلف قسم کی قدرت کی نشانیاں :۔ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور قرآن میں بار بار ان میں غور و فکر کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ گردش لیل و نہار، یہ موسموں کی تبدیلی اور ان میں تدریج کا دستور، یہ بارش کا پورا نظام۔ اس سے مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ مختلف قسم کی نباتات، غلے اور پھل اگانا اور اسی پیداوار سے ساری مخلوق کے رزق کی فراہمی، زمین کے اندر مدفون خزانے، سمندروں اور پہاڑوں بلکہ کائنات کی اکثر چیزوں اور چوپایوں پر انسان بےبنیان کا تصرف اور حکمرانی۔ غرض ایسی نشانیاں ان گنت اور لاتعداد ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک کے طور پر جو چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
10۔ یعنی انسان اگر خود اپنے حالات ظاہری وباطنی کا جائزہ لیتا ہے، اگر آیات آفاقی وانفسی پر غور کرتا رہے تو وقوع حشر کی ضرورت کا وہ ضرور قائل ہوجائے گا۔ (آیت) ” للموقنین “۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں یقین کی طلب اور حق کی جستجو ہے۔ (آیت) ” وفی الارض ایت “۔ یعنی وقوع قیامت وجزاء کے آفاقی دلائل و شواہد۔ دنیا میں جتنے بھی علوم وفنون نظر آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہیں ؟ موجودات عالم اور ان کے مختلف اصناف کے متعلق قاعدے اور کلیے ہی تو ہیں۔ آفتاب وماہتاب سے لے کر ریگستان کے ذروں اور دریا کے قطروں اور گھاس کی پتیوں اور ننھے سے ننھے کیڑوں تک بڑی چھوٹی چیزیں جو کچھ بھی کائنات میں ہیں۔ سب کیسی قاعدوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خاص ہدایت :
اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو اپنی حاجت شرم و شرافت کی وجہ سے کسی پر ظاہر نہیں کرتے، مطلب یہ کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز روزہ اور شب بیداری پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ جو شرافت و شرم کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے…
Read the full tafseer →وفی الارض ایت للموقنین . اور یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اس جملہ کا اور اس کے بعد آنے والے سارے معطوفات کا تعلق اِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ سے ہے اور دونوں کے درمیان کے تمام جملے معترضہ ہیں۔ میرے نزدیک اس کا عطف ان مدحیہ جملوں پر ہے جو سابق کلام میں محسنین کے حالات کی تشریح میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ زمین میں ان محسنین کے لیے (اللہ کی قدرت تامہ ‘ علم محیط اور ربوبیت و الوہیت کی) نشانیاں ہیں۔ وہ ان نشان ہائے قدرت کو اندھوں ‘ بہروں کی طرح دیکھ کر گزر نہیں جاتے بلکہ بینا آنکھوں سے دیکھ کر غور کرتے اور سوچتے ہیں کہ زمین کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 20) اور ان کے مال میں سوالی اور غیر والی سب کا حق تھا اور محروم ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم ہوگیا ہو یا یہ کہ محروم سے وہ پیشہ ور آدمی مراد ہے جس کا ذریعہ معاش بہت تنگ ہو اور ایک دن کی روزی بھی اسے میسر نہ ہو۔
شان نزول : وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ (الخ)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا تو اسے فتح اور خوب غنیمت حاصل ہوئی اس لشکر کے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسری قوم آئی تب یہ آیت نازل ہوئی۔
اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں زمین کی کائنات…
Read the full tafseer →(1) وفی الاضر ایت للموقنین : شروع سورت میں چار طرح کی ہواؤں کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ قیامت حق ہے، پھر اس پر آسمان کی قسم اٹھائی۔ اب ”واؤ“ کے ذریعے سے اسی کے ساتھ سلسلہ کلام جوڑ کر فرمایا :”اور زمین میں بھی یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یہ وہی استدلال ہے جو قرآن میں قیامت حق ہونے کے لئے جا بجا موجود ہے۔ مثلاً فرمایا :(ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھترت و ربت ، ان الذین احیاھا لمحی الموتی (حم لسجدۃ : 39)”اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بیشک وہ جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
۔ وفی الارض ایت للموقین، جب دونوں فر یقوں کے معاملہ کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان فرمایا کہ زمین میں ایسی علامات ہیں جو بعث اور نشور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو پھر وہاں نباتات اگ آتی ہے، ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں رزق کو مقدر کیا جو حیوانات کے لئے سہارا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے وہ مختلف علاقوں میں جاتے ہیں جن میں ہلاکت کے آثار کر دیکھتے ہیں جو جھٹلانے والی قوموں پر ہلاکت واقع ہوتی تھی۔ موقنین ہی حقیقت میں رب العالمین کی وحدانیت اور اپنے نبی کی نبوت کی صداقت کو پہچاننے والے اور ثابت کرنے والے…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ نے العظمہ میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وفی الارض ایت للموقنین '' (اور یقین لانے والوں کے لئے زمین میں بہت سے نشانیاں ہیں) یعنی معتبر نشانیاں اس شخص کے لئے جو اعتبار کرے (آیت ) '' وفی انفسکم '' (اور خود تمہاری ذات میں بھی) یعنی اس کی مخلوق میں بھی معتبر نشانیاں ہیں اس میں غوروفکر کرے۔
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ [ اور زمین میں نشانیاں ہیں ] لِّلْمُوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
زمین میں اور انسانوں کی جانوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تمہاری جانوں میں بھی نشانیاں ہیں ان میں غور کرنے سے تمہاری سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اپنی مخلوق میں جو ایسے ایسے تصرفات کرنے والا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، بصیرت کی آنکھوں سے دیکھنے والا اس بات کو کچھ سمجھ سکتا ہے کہ قیامت قائم کرنا اس ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے جس کے یہ تصرفات ہیں۔ ﴿اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ اور ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
7:۔ ” وفی الارض۔ تا۔ تنطقون “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ زمین میں اور خود تمہاری جانوں میں بھی یقین لانے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں تم غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ نے زمین کو کیسی قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وفی السماء رزقکم الخ “ یعنی آسمان سے باران رحمت نازل فرماتا ہے جس سے مختلف انواع و اقسام کا رزق پیدا ہوتا ہے۔ ” وما توعدون “ یعنی اولے بھی آسمان ہی سے گرتے ہیں۔ ” فورب السماء۔ الایۃ “ زمین و آسمان کے رب کی قسم حشر و نشر اسی طرح حق ہے جس طرح تم بولتے اور منہ سے الفاظ نکالتے ہو اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ربط آیات
پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔
انسان کے مالی حقوق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی…
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ 20 ۙ
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…
Read the full tafseer →وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 20)
(زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے۔ )
زمین میں جزاء و سزا کی نشانیاں
اوپر جزاء و سزا کی جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اس آیت کا عطف ان ہی پر ہے۔
نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت کے امکان اور اس کے وجوب و لزوم کی شہادت دے رہی ہیں۔ زمین کا اپنا وجود اور اس کی ساخت، اس کا سورج سے ایک خاص فاصلے پر اور ایک خاص زاویئے پر رکھا جانا، اس پر حرارت اور روشنی کا انتظام، اس پر مختلف موسموں کی آمدورفت، اس کے اوپر ہوا اور پانی کی فراہمی، اس کے پیٹ میں طرح طرح کے بیشمار خزانوں کا مہیا کیا جانا، اس کی سطح پر ایک زرخیز چھلکا چڑھایا جانا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : جنت ایمان کے بدلے نصیب ہوگی اور ایمان یقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ یقین کے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور وخوض کرے، اور ان پر ایمان لائے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کی معرفت کے لیے نہ صرف زمین میں بیشمار نشانیاں پیدا کی ہیں بلکہ اس نے لوگوں کے وجود میں بھی اپنی قدرت کی نشانیاں پیدا کی ہیں کہ لوگ ان پر غور کریں تو انہیں اپنے رب کی ذات اور صفات پر اس طرح یقین ہوجائے کہ وہ کسی اور کو الٰہ ماننے اور اس کا شریک بنانے اور اس کی نافرمانی کی جرأت نہ کرسکیں۔ لیکن بیشمار لوگ اپنے رب کی قدرتوں اور نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں مگر اس کی ذات اور صفات پر صحیح معنوں…
Read the full tafseer →عظیم قدرت کے نمونے :
آیت 20 : وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ (اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں) جو پیدا کرنے والے اور اس کی قدرت و تدبیر پر دلالت کرتی ہیں۔ زمین کو دیکھو بستر کی طرح بچھی ہوئی ہے۔ اس میں راستے اور وادیاں آنے جانے والوں کیلئے ہیں اور اس کے مختلف حصے ہیں۔ نچان زمین کے حصے ٗ پہاڑ ٗ نرم ٗ سخت اور شور والے اور اس میں پھوٹنے والے چشمے اور مختلف انواع کی کانیں اور مختلف صورتوں اور شکلوں کے پھیلے ہوئے جانور ٗ متضاد ہیئات و افعال والے جانور پائے جاتے ہیں۔ لِّلْمُوْقِنِیْنَ (یقین لانے والوں کیلئے) ایسے توحید پرستوں کیلئے جو درست دلیل والے راستہ پر چلیں جو راستہ ان کو معرفت تک پہنچانے والا ہے ٗ…
Read the full tafseer →19 ۔” وفی اموالھم حق للسائل والمحروم “ سائل جو لوگوں سے مانگے اور محروم جس کا غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو اور اس پر مال فئی سے کچھ جاری نہ ہو یہ ابن عباس ؓ اور سعید بن مسیب کا قول ہے۔ فرمایا :” المحروم “ وہ شخص جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو اور لغت میں اس کا معنی وہ شخص جو خیر اور عطاء سے روک دیا گیا۔ قتادہ اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں محروم وہ باعفت شخص جو سوال نہ کرے۔ زید بن اسلم فرماتے ہیں وہ شخص جس کا پھل یا اس کی کھیتی یا اس کے جانوروں کی نسل تباہ ہوگئی ہو اور یہی محمد بن کعب قرظی (رح) کا قول ہے۔ فرمایا محروم ضرورت مند شخص۔ پھر پڑھا ” انا لمغرمون بل نحن محرومون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : (و فی الارض ایت للموقنین) ” اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں۔ “ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے مثلاً پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات، جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح خود بندے کی ذات میں بیشمار عبرتیں، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بےنیاز ہے، اس نے مخلوق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 15] دلائل ارضی میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین کے اندر بھاری نشانیاں ہیں یقین والوں کے لئے یعنی ایسی عظیم الشان نشانیاں جو حضرت خالق۔ جل وعلا مجدہٗ ۔ وجود باجود اس کی عظمت شان، اور اس کی وحدانیت مطلقہ پر دلالت کرتی ہیں، مگر ان سے فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے جو نگاہ عبرت و بصیرت سے کام لینا اور ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہونا چاہتے ہوں۔ کیونکہ ان ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے کوئی بھی نشانی موثر اور کارگر نہیں ہوسکتی جو ایمان لانا چاہتے ہی نہ ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { قل انظروا ما ذا فی السمٰوٰات والارض وما تغنی الاٰیات والنذر عن قومٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →ف 5 جو اس نظام کائنات کے خلاق، مالک کے وجود اور آخرت کے امکان بلکہ وجوب و لزوم کی شہادت دیتی ہیں۔
Read the full tafseer →(51:20) الموقنین ۔ اسم فاعل جمع مذکر معرفہ مجرور ایقان (افعال) مصدر۔ اہل ایمان اہل توحید۔ اہل یقین، یقین کرنے والے۔ ی ق ن حروف مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →[11] یہاں نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت اور جزا سزا پر دلیل ہیں۔ ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ زمین جو بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے اس پر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی گھٹا بھیجتا ہے تو بارش کا ایک ہی چھینٹا اس کو زندگی اور شادابی سے معمور کردیتا ہے۔ جو اللہ اپنی قدرت کی یہ شان دکھا سکتا ہے کیا وہ اس بات سے عاجز ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(20) اور زمین میں یقین کرنیوالوں کے لئے بہت سے دلائل موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Allah's Signs on the Earth and in Mankind
وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ (And in the earth, there are signs for those who [ seek truth to ] believe,... 51:20). In the preceding verses in the first instance a description of the infidels and rejecters and their evil fate was given. As against those who flounder in the welter of wrong beliefs and evil deeds and deny the possibility of the Day of Judgment, the qualities of the believers and the righteous were subsequently given, and their elevated position was described. Now once again attention is drawn to those who deny the possibility…
Read the full tafseer →18 The signs imply those proofs which testify to the possibility and necessity of the Hereafter. The earth's own body and its structure, its having been placed at a suitable distance from the sun at a particular angle, the arrangement of heat and light and of different seasons on it, the provision of air and water on it, and of countless different kinds of treasures in its belly, covering its surface with a fertile crest and causing to grow in it an endless variety of vegetables, generating countless races of the animals of the land and water and air, providing suitable food and proper…
Read the full tafseer →