Explained with ayahs 16–23
حسن کارکردگی کے انعامات
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 17
بالفاظ دیگر، ایک طرف اپنے رب کا حق وہ اس طرح پہچانتے اور ادا کرتے تھے، دوسری طرف بندوں کے ساتھ ان کا معاملہ یہ تھا۔ جو کچھ بھی اللہ نے ان کو دیا تھا، خواہ تھوڑا یا بہت، اس میں وہ صرف اپنا اور اپنے بال بچوں ہی کا حق نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کو یہ احساس تھا کہ ہمارے اس مال میں ہر اس بندہ خدا کا حق ہے جو ہماری مدد کا محتاج ہو۔ وہ بندوں کی مدد خیرات کے طور پر نہیں کرتے تھے کہ اس پر ان سے شکریہ کے طالب ہوتے اور ان کو اپنا زیر بار احسان ٹھہراتے، بلکہ وہ اسے ان کا حق سمجھتے تھے اور اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ پھر ان کی یہ خدمت خلق صرف انہی لوگوں تک محدود نہ تھی جو خود سائل بن…
Read the full tafseer →صدقہ و خیرات کرنیوالوں کو خاص ہدایت
(آیت) وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ، سائل سے مراد وہ غریب حاجت مند ہے جو اپنی حاجت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور لوگ اس کی مدد کرتے ہیں اور محروم سے مراد وہ شخص ہے کہ فقیر و مفلس اور حاجت مند ہونے کے باوجود شرافت نفس کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتا، اس لئے لوگوں کی امداد سے محروم رہتا ہے، اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین یعنی اپنی حاجات ظاہر کرنے والوں ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے اور حالات کی تحقیق سے باخبر رہتے ہیں جو اپنی حاجت کسی…
Read the full tafseer →وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم 19
محسنین خدا کے حقوق کی طرح بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں
یعنی یہ محسنسنی جس طرح خدا کا حق پہچاننے والے تھے اسی طرح اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے تھے۔ وہ اپنے مالوں میں صرف اپنے نفس ہی کا حق نہیں۔ بلکہ سائلوں اور محروموں کا حق بھی سمجھتے تھے اور اس کو اسی طرح ادا کرتے تھے جس طرح اہل حق کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں یعنی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں تھے کہ ان کے پاس جو مال ہے وہ تنہا انہی کا ہے بلکہ وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ خدا نے اگر ان کی ناگزیر ضروریات سے ان کو زیادہ دیا ہے تو یہ دوسروں کا حق ہے جو ان کی امانت میں دیا گیا ہے۔ اس امانت کا یہ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
8: سائل سے مراد تو وہ حاجت مند ہے جو زبان سے اپنی ضرورت کا اظہار کردے، اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود کسی سے کچھ مانگتا نہیں، اس آیت میں حق کا لفظ استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ انسان ان لوگوں پر زکوٰۃ وغیرہ کی شکل میں جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں پہنچانا ہی چاہیے تھا، کیونکہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور اس کا یہ حکم ہے کہ اس میں حاجت مند لوگوں کا بھی حصہ ہے۔
Read the full tafseer →وفی ........ والمحروم (51 : 91) ” اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے “ وہ اپنے اموال میں اس سائل کا حصہ بھی رکھتے ہیں جو مانگتا ہے اور دے دیا جاتا ہے اور اس محروم کا بھی حق مقرر کرتے ہیں جو خاموش رہتا ہے ، حیا کرتا ہے اور محروم رہ جاتا ہے۔ وہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے لئے اپنے اموال میں حق رکھتے ہیں۔ وہ خود اس حق کو اپنے اوپر فرض کرلیتے ہیں اور یہ حق غیر محدود ہے متعین نہیں۔
یہ اشارہ سورة کے محور کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ رزق آسمانوں میں ہے تاکہ انسانوں کا دل کنجوسی ، بخل اور رات اور دن جمع مال میں مشغولیت سے ذرا آزاد ہوجائے اور یہ سورة کے اس اہم حصے کے لئے…
Read the full tafseer →5 " ہارا ہوا " وہ جو محتاج ہے اور مانگتا نہیں پھرتا۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ( زکوٰۃ کے علاوہ) اپنے مال میں اپنی خوشی سے سائلوں اور محتاجوں کا حصہ مقرر کر رکھا تھا جو التزام کی وجہ سے گویا ایک حق لازم سمجھا گیا۔
Read the full tafseer →آیت 19{ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔ } ”اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔“
انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →12 مال میں سائل اور محروم کا حق :۔ اس سے مراد محض اموال زکوٰۃ نہیں، کیونکہ زکوٰۃ تو اس وقت فرض بھی نہ ہوئی تھی۔ نیز ترمذی میں واضح طور پر یہ صراحت موجود ہے۔ کہ ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے اور اس حق میں مانگنے والے بھی شامل ہیں اور نہ مانگنے والے بھی۔ یعنی نیک لوگ خود ان لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو محتاج ہوں۔ بیوہ عورتیں ہوں، مریض یا معذور ہوں اور کما نہ سکتے ہوں یا عیالدار ہوں مگر مانگنے سے ہچکچاتے ہوں۔ اور ان کو جو کچھ دیتے ہیں وہ ان کا حق سمجھ کر انہیں ادا کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کے طور پر نہیں دیتے کہ ان سے کسی شکریہ یا بدلہ کے طالب ہوں یا بعد میں…
Read the full tafseer →9۔ یعنی ایسے التزام واہتمام سے ان کو دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ تھا۔ (آیت) ” السآئل “۔ وہ جو منہ سے سوال کرے۔ (آیت) ” المحروم “۔ وہ جو منہ سے سوال نہ کرے مگر ہوحاجتمند۔ ان نفل طاعتوں اور عبادتوں کے ذکر سے مقصود ان کے ثمرات عالیہ کا اظہار کردینا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ جنات، عیون کے انعامات بغیر انکے ملیں ہی نہیں۔
Read the full tafseer →وفی اموالھم حق للسائل و المحروم محروم سے مراد وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے، چناچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے، یہ قتادہ اور زہری کی رائے ہے (شوکانی) یا وہ شخص مراد ہے جس کا آفت ارضی و سماوی سے سب کچھ تباہ ہوجائے، یہ زید بن اسلم سے منقول ہے (فتح القدیر شوکانی) حسن اور محمد ابن الحنفیہ نے کہا ہے کہ محروم وہ شخص ہے کہ جو مال غنیمت اور مال فئی سے محروم رہے اس کے علاوہ بھی اور بہت سے اقوال ہیں۔
Read the full tafseer →وفی اموالھم حق للسائل والمحروم . اور ان کے مال میں سوالی اور غیر سوالی کا حق تھا۔
وَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ : یعنی وہ سائلوں کو بھی دیتے ہیں اور سوال سے بچنے والے کو بھی ‘ جن کو سوال نہ کرنے کی وجہ سے ناواقف لوگ مالدار سمجھتے ہیں۔ نیکو کار ان کے چہرے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور اندرونی احوال سے واقف ہونے کے بعد ان کو بھی دیتے ہیں۔ قتادہ اور زہری وغیرہ نے محروم کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن مسیّب نے کہا : محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کو نہ مال غنیمت سے کوئی حصہ ملا ہو ‘ نہ مال فے میں سے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم کا بیان ہے کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 20) اور ان کے مال میں سوالی اور غیر والی سب کا حق تھا اور محروم ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم ہوگیا ہو یا یہ کہ محروم سے وہ پیشہ ور آدمی مراد ہے جس کا ذریعہ معاش بہت تنگ ہو اور ایک دن کی روزی بھی اسے میسر نہ ہو۔
شان نزول : وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ (الخ)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا تو اسے فتح اور خوب غنیمت حاصل ہوئی اس لشکر کے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسری قوم آئی تب یہ آیت نازل ہوئی۔
اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں زمین کی کائنات…
Read the full tafseer →(وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم : اس کی تسیر کے لئے دیکھے سورة معارج (24، 25) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
مسئلہ نمبر۔ کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون ،۔ یھجعون کا معنی ہے وہ سوتے ہیں۔ ھجوع کا معنی رات کو سونا ہے۔ تھجاع سے مراد ہلکی نیند ہے ؛ ابو قیس بن اسلت نے کہا ؛
قد حصت البیضۃ راسی فما اطعم نوما غیر تھجاع
خود نے میرے سر کے بال مونڈ دئیے ہیں۔ تھجاع ( ہلکی نیند) کے علاوہ کوئی نیند نہیں کرتا۔ عمر وبن معد یکرب اپنی بہن کے لئے شوق کا اظہار کرتا ہے جسے صمہ ابو دریدین بن صمہ نے گرفتار کرلیا تھا :
امن ریحانہۃ الداعی السمیع یورقنی واصیحابی ھجوع
کیا ریحانہ کی جانب سے سنانے والاداعی (شوق) مجھے بیدار رکھتا ہے اور میرے ساتھی سوئے ہوئے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : ھجع یھجع ھجوعا، ھبغ، یھبغ ھبوغا۔ جب وہ سوجائے ؛ یہ…
Read the full tafseer →19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وفی اموالھم حق '' (ان کے مالوں میں حق ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ زکوٰۃ کے علاوہ اس (مال) کے ذریعہ صلہ رحمی کرتے ہیں یا مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں یا اس کے ذریعہ غیر سائل کی مدد کرتے ہیں۔
20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کہا کہ (آیت) '' وفی اموالھم حق '' سے مراد ہے کہ ان کے مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق تھا۔
21:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ اور بھی حق کو دیکھتے ہیں۔
22:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن…
Read the full tafseer →وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ [ اور ان کے مالوں میں ] حَقٌّ [ حق ہوتا تھا ] لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ [مانگنے والوں کے لیے اور محروم لوگوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
متقی بندوں کے انعامات کا اور دنیا میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کا تذکرہ
مکذبین کی سزا بتانے کے بعد مومنین متقین کا انعام بتایا اور فرمایا کہ متقی لوگ باغوں میں چشموں میں ہوں گے ان کے رب کی طرف سے انہیں وہاں جو کچھ دیا جائے گا اسے (بڑی خوشی سے) لینے والے ہوں گے، دنیا میں یہ حضرات گناہوں سے تو بچتے ہی تھے جس کی وجہ سے انہیں متقین کے لقب سے سرفراز فرمایا، اعمال صالحہ بھی بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں محسنین کے لقب سے ملقب فرمایا ان کے نیک کاموں میں ایک بڑا قیمتی عمل یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے نمازیں پڑھتے رہتے تھے دنیا سوتی رہتی اور یہ لوگ جاگتے رہتے تھے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
6:۔ ” ان المتقین۔ تا۔ والمحروم “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور رفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے یعنی شرک نہ کرو، ظلم نہ کرو اور احسان کرو۔ المتقین، شرک سے بچنے والے۔ یہ امر اول کا بیان ہے۔ یہ لوگ جنت کے باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور وہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو حاصل کریں گے اور ان سے متمتع ہوں گے۔ ” انہم کانوا قبل ذلک محسنین “ یہ امر دوم کا بیان ہے یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ ” کانوقا قلیلا۔ الایۃ “ ” ما “ زائدہ ہے وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور نیند کم کیا کرتے تھے۔ ” وباالاسحار۔ الایۃ “ اور بوقت سحر اٹھ اٹھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ربط آیات
پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔
انسان کے مالی حقوق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی…
Read the full tafseer →وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ 19
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین،
والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں
اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ (الذریٰت : 19)
(اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا۔ )
تیسری علامت
متقین اور محسنین کی مزید علامات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتے اور اس کی یاد میں کوشاں رہتے ہیں اسی طرح وہ بندوں کے حقوق کو پہچاننے والے بھی ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں کے حوالے سے جو فرائض عائد کیے ہیں وہ صرف ان کو ادا کرکے نہیں رہ جاتے بلکہ ان کے علاوہ بھی وہ اپنے مال میں سائل اور محروم کا حق سمجھتے ہیں۔ یعنی جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس کوئی سوال کرنے والا اپنی جائز ضروریات کا صحیح طریقے سے ذکر کررہا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سزا کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ، قیامت پر ایمان لانے اور اس کی جوابدہی کا خوف رکھنے والوں میں یہ صفات پید اہوتی ہیں۔
قیامت پر یقین رکھنا انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے اور نیکی کے کاموں پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے قیامت پر یقین رکھنے والوں کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یقیناً یہ لوگ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور اپنے رب سے جنت کی نعمتیں حاصل کریں گے۔ کیونکہ وہ دنیا میں نیکی کرنے والے تھے۔ وہ پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ سویا کرتے تھے اور سحری کے وقت اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے اور اپنے مال سے سائل…
Read the full tafseer →آیت 19 : وَفِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ (اور ان کے اموال سوالی کا حق ہیں) السائل : جو اپنی حاجت طلب کرے۔ وَالْمَحْرُوْمِ (اور غیر سوالی) جو سامنے آئے مگر حیاء کی وجہ سے سوال نہ کرے۔
Read the full tafseer →18 ۔” وبالا سحارھم یستغفرون “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ وہ رات کا حکم حصہ سوتے ہیں اور کبھی طبیعت میں نشاط ہوتا ہے تو سحر تک چلے جاتے ہیں۔ پھر سحر کے وقت استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کلبی، مجاہد اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ سحر کے وقت نماز پڑھتے ہیں کیونکہ ان کی سحر کے وقت کی نماز مغفرت طلب کرنے کے لئے ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتے ہیں۔ جب رات کا تہائی باقی رہ جاتا ہے پھر فرماتے ہیں میں بادشاہ ہو، میں بادشاہ ہوں، کون شخص ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے پس میں اس کو دوں ؟ کون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ (ان المتقین) یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (فی جنت) ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میوں پر مشتمل ہوں گے، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہوگا۔ (وعیون) وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 14] محسنین کی صفت انفاق کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے ان کی عطاء و بخشش کی شان کا ذکر فرمایا گیا کہ ان کے مالوں میں سائل کا بھی حق ہوتا ہے، اور محروم کا بھی۔ یعنی ان کی عطاء و بخشش صرف مانگنے والوں پر موقوف نہ تھی، بلکہ جو لوگ محتاج ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی بناء پر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے ان کے لئے بھی ان کے مالوں میں حصہ ہوتا تھا، سو محسنین جس طرح اپنے خالق ومالک کے حقوق پہچانتے اور ان کو ادا کرتے ہیں، اسی طرح وہ اس کے بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں، اور وہ اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے کہ ان کے مالوں میں صرف انہی کا حق ہے، بلکہ وہ دوسروں کے حقوق بھی اپنے حقوق کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی وہ ان کی دستگیری اور مدد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔” حق “ (حصہ) سے مراد نفلی صدقہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکی ہے اور زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ ” محروم “ سے مراد وہ شخص ہے جو ہو تو محتاج لیکن لوگوں سے سوال نہ کرے اس لئے اسے لوگ غیر محتاج سمجھیں یا جو کسی آفت کی وجہ سے اپنی روزی سے محروم ہوگیا ہو۔ جیسے کوئی بچہ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو یا عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو یا آدمی جس کا روزگار چھوٹ گیا ہو یا اس کا مال تباہ ہوگیا ہو وغیرہ ہم سبھی مراد ہوسکتے ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا مال میں برہ کے علاوہ بھی (غربیوں اور)…
Read the full tafseer →(51:19) فی اموالہم حق للسائل والمحروم : یہ چوتھی صفت ہے المتقین کی ۔ وائو عاطفہ ہے۔ اموالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے مال میں ، سائل اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر سؤال (باب فتح) مصدر۔ مانگنے والا۔ سوال کرنے والا۔
المحروم : اسم مفعول واحد مذکر، وہ مسلمان رشتہ دار ، جس کا میراث سے حصہ نہ نکلتا ہو۔ بدنصیبی کی وجہ سے نادار۔ تنگ دست جس کی کمائی نہ ہو۔ سوال نہ کرنے والا۔ حیا سے نہ مانگنے والا۔ جس کو حیا نے سوال سے روک دیا ہو۔
مادہ حرم کے لئے روک، منع، بازداشت کا مفہوم لازم ہے۔ تمام مشتقات میں یہ مفہوم مشترک ہے کرم سے لازم اور ضرب سے متعدی۔ اور سمع سے کبھی لازم اور کبھی متعدی آتا ہے۔
زید بن اسلم نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →[9] وہ جو منہ سے سوال کرے۔
[10] جو منہ سے سوال نہ کرے مگر ہو حاجت مند۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(19) اور ان کے مالوں میں حصہ مقرر تھا سوال کرنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا۔ یعنی ایسے باغات میں ہوں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور جو جو نعمتیں ان کا پروردگار ان کو عطا فرمائے گا ان کو حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ یہ پرہیزگار لوگ دنیا میں نیک روش رکھتے تھے اور نیکیاں کرنے کے خوگر تھے اور علاوہ فرائض و واجبات کے نوافل اور تطوعات بھی بجا لاتے تھے رات کو بہت کم سوتے تھے یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے تھے اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کرتی تھے یہ استغفار یا تو تھوڑی دیر سو جانے پر کیا کرتے تھے یا رات نہیں سوتے تھے بلکہ عشاء کی نماز پڑھتے تھے اس تقدیر پر اس آیت کا تہجد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Special Guidance for Philanthropists
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (and in their wealth, there was a right for the one who asks and the one who is deprived...51:19) The word sail means the poor or needy who begs others, that is, he expresses his needs to people who help him. The word mahrum also refers to a poor or needy, but who cannot express his needs from a sense of self-respect or a feeling of shame, and thus is deprived of people's help. In this verse another quality of the believers and the righteous is mentioned, that is, their quality of spending in charity…
Read the full tafseer →17 In other words, on the one hand, they recognized the right of their Lord and duly discharged it; on the other, they did not think that whatever AIIah had given them, whether little or much, was wholly their own and their children's right, but they had the sense that in their possessions there was the right and share of every such person who was indigent and needy. They did not render help to the people as a charity so as to earn their gratitude for the favor done, but they regarded it as the people's right and discharged it as their own duty. Then their this service to mankind was not only…
Read the full tafseer →