Explained with ayahs 16–23
حسن کارکردگی کے انعامات
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 16
یعنی وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو اپنی راتیں فسق و فجور اور فواحش میں گزارتے رہے اور پھر بھی کسی استغفار کا خیال تک انہیں نہ آیا۔ اس کے برعکس ان کا حال یہ تھا کہ رات کا اچھا خاصا حصہ عبادت الٰہی میں صرف کردیتے تھے اور پھر بھی پچھلے پہروں میں اپنے رب کے حضور معافی مانگتے تھے کہ آپ کی بندگی کا جو حق ہم پر تھا، اس کے ادا کرنے میں ہم سے تقصیر ہوئی۔ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کے الفاظ میں ایک اشارہ اس بات کی طرف بھی نکلتا ہے کہ یہ پرسش انہی کو زیبا تھی۔ وہی اس شان عبودیت کے اہل تھے کہ اپنے رب کی بندگی میں جان بھی لڑائیں اور پھر اس پر پھولنے اور اپنی نیکی پر فخر کرنے کے بجائے گڑ گڑا…
Read the full tafseer →استغفار سحری کی برکات و فضائل
وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ، (یعنی مومنین متقین سحرگاہ کے وقت اپنے گناہوں سے استغفار کرتے ہیں، اسحار، سحر کی جمع ہے، رات کے آخری چھٹے حصے کو سحر کہا جاتا ہے اس آخری حصہ شب میں استغفار کرنے کی فضیلت اس آیت میں بھی ہے، اور دوسری آیت (آیت) والمستغفرین بالاسحار میں بھی، صحاح حدیث کی سب کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کو آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں (جو ان کی شان کے مناسب ہے، اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں) اور اعلان فرماتے ہیں کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا جس کی میں توبہ قبول کروں، ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اس…
Read the full tafseer →وبالا سحارھم یستغفرون 18
پو پھٹنے سے کچھ پہلے کا وقت سحر کا وقت ہے۔ یہ ان کی تمام شب خیزی اور تمام رکوع و سجود کی غایت بیان ہوئی ہے۔ یعنی آخری کام ان کا یہ ہوتا ہے کہ سحر کے وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں کہ رب کریم جزاء و سزا کے دن ان کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان کو اپنے دامن عفو و کرم میں جگہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہ تو اس بات کے موتقع ہوتے کہ اس شب بیداری اور رکوع و سجود کے صلہ میں ان کو حضور و شہود کا کوئی بڑا مقام حاصل ہوگا اور نہ وہ اس طرح کی کسی چیز کے طلبگار ہی بنتے بلکہ ان کی طلب صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے چناچہ ان کی شب کی…
Read the full tafseer →18۔ 1 وقت سحر قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ّصحیح مسلم)
Read the full tafseer →7: یعنی رات کا بڑا حصہ عبادت میں گذارنے کے بعد بھی وہ اپنے اس عمل پر مغرور نہیں ہوتے، بلکہ سحری کے وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استغفار کرتے ہیں کہ نہ جانے ہماری عبادت میں کون کون سی کو تاہیاں رہ گئی ہوں جن کی وجہ سے وہ عبادت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لائق نہ ہو، اس لیے آخر میں استغفار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
کانوا…….. یستغفرون (51 : 81)
” راتوں کو کم سوتے تھے ، پھر وہ رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے “ وہ رات کے پچھلے حصے میں جاگ رہے ہوتے ہیں جبکہ لوگ سوتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ، اللہ سے رحم کی درخواست کرتے ہیں ، وہ بہت کم اونگھتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں۔ رات کے اندھیروں میں وہ اپنے رب کے ساتھ ہمکلام ہوتے ہیں۔ ان کے پہلو اپنے بستروں سے دور ہوجاتے ہیں اور اللہ کی طرف دیکھنے کا شوق انہیں ہلکا کردیتا ہے اور نیند ان کے جسم کو بوجھل نہیں کرسکتی۔
امام حسن بصری کہتے ہیں :
کانو ........ مایھجعون (15 : 71) ” یعنی وہ مشقت سے قیام لیل کرتے ہیں ، وہ رات کو کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
4 یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت الٰہی میں گزارتے اور سحر کے وقت جب رات ختم ہونے کو آتی اللہ سے اپنی تقصیرات کی معافی مانگتے کہ الٰہی حق عبودیت ادا نہ ہوسکا۔ جو کوتاہی رہی اپنی رحمت سے معاف فرما دیجیے۔ کثرت عبادت ان کو مغرور نہ کرتی تھی۔ بلکہ جس قدر بندگی میں ترقی کرتے جاتے خشیت و خوف بڑھتا جاتا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 18{ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔ } ”اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →11 استغفار کرنا : اس آیت میں وقت کی بھی تعیین ہوگئی۔ یعنی وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہ کر اپنے اس نیک کام پر پھول نہیں جاتے۔ بلکہ پھر بھی اللہ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ کیونکہ انسان فطری طور پر خطا کار ہے۔ اس سے نادانستہ بھی کئی غلطیاں ہوجاتی ہیں اور اللہ غفور رحیم ہے اور اس سے ہر حال میں بخشش طلب کرتے رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →8۔ یعنی کمال پر کمال یہ تھا کہ باوجود اس اہتمام عبادت کے نظر اپنی عبادت پر نہ تھی، بلکہ اپنے کو عبادت میں کوتاہی کرنے والا ہی سمجھتے تھے۔ کیا ٹھکانہ ہے خشیت قلب کا ! رات کا بیشتر حصہ جاگ جاگ کر عبادت میں کاٹ دیتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار اس طرح کرتے ہیں کہ گویا رات عبادت میں نہیں، جرم ومعصیت میں گزاری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
کانوا قلیلاً من اللیل مایھجعون کفار اور منکرین کے ذکر کے بعد مومنین و متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے، یھجعون، ھجوع سے مشتق ہے جس کے معنی رات کے سونے کے ہیں، ما، قلت کی تاکید کے لئے ہے اس میں پرہیز گار مومنین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ رات اللہ کی بندگی میں گذارتے ہیں، سوتے بہت کم ہیں، یہ تفسیر ابن جریر سے منقول ہے، اور حسن بصری سے بھی یہی تفسیر نقول ہے اور حضرت ابن عباس ؓ قتادہ، مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جملہ کا مطلب حرف ما کو نفی کے لئے قرار دے کر یہ بتلایا ہے کہ رات کو ان پر تھوڑا سا حصہ ایسا بھی آتا ہے جس میں سوتے نہیں بلکہ عبادت نماز وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں اس مفہوم کے اعتبار…
Read the full tafseer →وبالاسحارھم یستغفرون . اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے۔
سحر ‘ رات کا آخری چھٹا حصہ ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے صبح سے کچھ پہلے کا وقت اور ہر شئی کا کنارہ۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو کم سونے اور بیشتر وقت میں نماز پڑھتے رہنے کے باوجود وہ اپنے اس عمل کو اداء حق سے کم سمجھتے ہیں اور سحر کو معافی کے طلبگار ہوتے ہیں گویا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی بڑا جرم سرزد ہوگیا اور اللہ کی اطاعت میں قصور ہوگیا ‘ جس کی تلافی توبہ سے کرنی ضروری ہے۔
حسن نے کہا : جملے کا معنی یہ ہے کہ وہ رات کو کم ہی سوتے ہیں اکثر چستی کے ساتھ سحر تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں ‘ پھر استغفار کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
(15۔ 18) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کا مقام بیان فرمتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے باغوں اور پاکیزہ پانی کے چشموں میں ہوں گے اور جنت میں ان کے پروردگار نے جو انہیں اجر وثواب عطا کیا ہوگا اس سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے یا یہ کہ دنیا میں ان کے پروردگار نے جو ان کو حکم دیا تھا اس کی کمال کے ساتھ تعمیل کرنے والے ہوں گے اور کیوں نہ ہوں وہ اس ثواب اور درجات کی بلندی سے پہلے بھی دنیا میں قول فعل سے نیکوکار تھے، رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں خوب نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →و بالا استحارھم یستعفرون :”اسحار“ ”سحر“ (سین اور حاء کے فتحہ کے ساتھ) رات کا آخری حصہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ینزل ربنا تبارک و تعالیٰ کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین بیقی تلث اللیل الآخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ ؟ من یسالنی فاعطیہ ؟ من یستغفرنی فاغفرلہ ؟)) (بخاری، التھجد، باب الدعائ، والصلاۃ من آخر اللیل : 1135)”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات ، جب رات کا آخری ثلث باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا کی طرف اترنا ہے اور فرماتا ہے :”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
مسئلہ نمبر۔ کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون ،۔ یھجعون کا معنی ہے وہ سوتے ہیں۔ ھجوع کا معنی رات کو سونا ہے۔ تھجاع سے مراد ہلکی نیند ہے ؛ ابو قیس بن اسلت نے کہا ؛
قد حصت البیضۃ راسی فما اطعم نوما غیر تھجاع
خود نے میرے سر کے بال مونڈ دئیے ہیں۔ تھجاع ( ہلکی نیند) کے علاوہ کوئی نیند نہیں کرتا۔ عمر وبن معد یکرب اپنی بہن کے لئے شوق کا اظہار کرتا ہے جسے صمہ ابو دریدین بن صمہ نے گرفتار کرلیا تھا :
امن ریحانہۃ الداعی السمیع یورقنی واصیحابی ھجوع
کیا ریحانہ کی جانب سے سنانے والاداعی (شوق) مجھے بیدار رکھتا ہے اور میرے ساتھی سوئے ہوئے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : ھجع یھجع ھجوعا، ھبغ، یھبغ ھبوغا۔ جب وہ سوجائے ؛ یہ…
Read the full tafseer →(آیت ) '' وبالاسحار ھم یستغفرون وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم (19)
11:۔ ابن جریر (رح) ومحمد بن نصر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانوا قلیلا '' یعنی وہ نیکی کرنے والے لوگ بہت کم ہیں (پھر فرمایا) یہ محسن کی تفصیل ہے پھر نئے سرے سے فرمایا (آیت ) '' من الیل ما یھجعون '' '' الھجوع '' سے مراد ہے نیند۔
12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن نصر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ ساری رات نہیں سوتے تھے۔
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون '' کے بارے میں روایت کیا کہ حسن ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رات کے وقت بہت کم سوتے تھے اور…
Read the full tafseer →وَبِالْاَسْحَارِ [ اور صبح کے تڑکوں میں ] هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ [ وہ لوگ مغفرت مانگتے تھے ]
نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 18 ۔ میں ان کی شب بیداری اور عبادت کی غایت بیان ہوئی ہے کہ ان کا آخری کام یہ ہوتا ہے کہ سحر کیوقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اس بات کی توقع نہیں رکھتے کہ اس شب بیداری کے صلہ میں ان کو حضور وشہود کا کوئی بڑامقام حاصل ہوگا ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں عبادت اور ریاضت کا مقصود دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصود کشف ، مشاہدہ ، تجلی ذات ، ذات خداوندی میں انضمام اور اس قبیل کی دوسری چیزیں ہیں، جوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
متقی بندوں کے انعامات کا اور دنیا میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کا تذکرہ
مکذبین کی سزا بتانے کے بعد مومنین متقین کا انعام بتایا اور فرمایا کہ متقی لوگ باغوں میں چشموں میں ہوں گے ان کے رب کی طرف سے انہیں وہاں جو کچھ دیا جائے گا اسے (بڑی خوشی سے) لینے والے ہوں گے، دنیا میں یہ حضرات گناہوں سے تو بچتے ہی تھے جس کی وجہ سے انہیں متقین کے لقب سے سرفراز فرمایا، اعمال صالحہ بھی بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں محسنین کے لقب سے ملقب فرمایا ان کے نیک کاموں میں ایک بڑا قیمتی عمل یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے نمازیں پڑھتے رہتے تھے دنیا سوتی رہتی اور یہ لوگ جاگتے رہتے تھے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
6:۔ ” ان المتقین۔ تا۔ والمحروم “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور رفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے یعنی شرک نہ کرو، ظلم نہ کرو اور احسان کرو۔ المتقین، شرک سے بچنے والے۔ یہ امر اول کا بیان ہے۔ یہ لوگ جنت کے باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور وہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو حاصل کریں گے اور ان سے متمتع ہوں گے۔ ” انہم کانوا قبل ذلک محسنین “ یہ امر دوم کا بیان ہے یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ ” کانوقا قلیلا۔ الایۃ “ ” ما “ زائدہ ہے وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور نیند کم کیا کرتے تھے۔ ” وباالاسحار۔ الایۃ “ اور بوقت سحر اٹھ اٹھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان
سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →وَبِالْاَسْحَارِہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ 18
سحرصبح
والسَّحَرُ والسَّحَرَةُ : اختلاط ظلام آخر اللیل بضیاء النهار، وجعل اسما لذلک الوقت، ويقال : لقیته بأعلی السّحرین، والْمُسْحِرُ : الخارج سحرا، والسَّحُورُ : اسم للطعام المأكول سحرا، والتَّسَحُّرُ : أكله .
السحرۃ والسحرۃ اصل میں تو اس کے معنی آخر شب کی تاریکی کے ہیں جو دن کی ابتدائی روشنی میں مخلوط ہو ۔ پھر اس وقت کا نام ہی سحر رکھ دیا گیا ہے ۔ محاورہ ہے لقیتہ باعلی السحرین یعنی میں اسے صبح کاذب کے وقت ملا ۔ اور مسحر اس آدمی کو کہتے ہیں جو سحری کے وقت گھر سے نکلا ہو اور السحور اس طعام کو کہتے ہیں جو بوقت سحر تناول کیا جائے اور تسحر کے معنی سحور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 18)
(اور رات کے پچھلے وقتوں میں وہ مغفرت مانگتے تھے۔ )
دوسری علامت
باوجود اس کے کہ ان کے معمولات تعمیلِ احکام کی تصویر تھے اور راتوں کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرتا تھا۔ اس پر بھی ان میں یہ خیال کبھی پیدا نہ ہوتا تھا کہ ان کی یہ شب خیزیاں اور عبادات میں استغراق اللہ تعالیٰ کی خوشنودگی کے لیے کافی ہے۔ اور ہماری زندگی اتنی پاکیزہ ہوگئی ہے کہ اب اس میں مزید فکرمندی کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ ان کی فکر اور سوچ کا عالم یہ تھا کہ وہ رات کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور پھر طلوع سحر سے پہلے جو سحر کا وقت ہے اس میں وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سزا کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ، قیامت پر ایمان لانے اور اس کی جوابدہی کا خوف رکھنے والوں میں یہ صفات پید اہوتی ہیں۔
قیامت پر یقین رکھنا انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے اور نیکی کے کاموں پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے قیامت پر یقین رکھنے والوں کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یقیناً یہ لوگ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور اپنے رب سے جنت کی نعمتیں حاصل کریں گے۔ کیونکہ وہ دنیا میں نیکی کرنے والے تھے۔ وہ پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ سویا کرتے تھے اور سحری کے وقت اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے اور اپنے مال سے سائل…
Read the full tafseer →آیت 18 : وَبِالْاَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (اور وہ اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے) اس میں ان کی یہ تعریف فرمائی کہ وہ تہجد کی ادائیگی میں رات کو زندہ کرتے ہیں۔ جب سحر کا وقت ہوجاتا ہے تو استغفار کرنے لگتے ہیں گویا انہوں نے رات میں گناہ کئے ہیں۔ السحر : رات کا آخری چھٹا حصہ۔
Read the full tafseer →17 ۔” کانوا قلیلا من اللیل ما یھجعون “ اور ھجوع رات کو سونا دن کے علاوہ۔ ” وما “ صلہ ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ رات کو تھوڑا سوتے تھے یعنی اکثر رات نماز پڑھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ساری رات جس میں وہ سوتے ہیں تھوڑی ہے اور یہ سعید بن جبیر کے ابن عباس ؓ سے قول کا معنی ہے۔ یعنی کم رات بھی ان پر آئے تو اس میں کچھ نماز ضرور پڑھتے ہیں یا تو اس کے ابتداء میں یا درمیان میں۔
انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ وہ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں۔ محمد بن علی ؓ فرماتے ہیں وہ نہیں سوتے حتیٰ کہ عتمہ کی نماز پڑھ لیں۔ مطرف بن عبداللہ بن شخر فرماتے ہیں کہ بہت کم رات ان پر ایسی گزرت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ (ان المتقین) یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (فی جنت) ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میوں پر مشتمل ہوں گے، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہوگا۔ (وعیون) وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
شب زندہ داروں کی عظمت
قول باری ہے (کانوا قلیلا من اللیل ما یھجعون وہ رات کو بہت کم سوتے تھے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم اور ضحاک کا قول ہے کہ ہجوع نیند کو کہتے ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ بہت ہی کم راتیں ایسی گزرتی تھیں جن میں وہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ وہ راتوں میں بہت کم سوتے تھے۔ مطرف بن عبداللہ نے کہا ہے کہ بہت کم کوئی رات ہوتی تھی جس کے اول یا وسط میں وہ نماز نہ پڑھتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے کہ وہ ساری رات نہیں سوتے تھے۔ قتادہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل پڑھتے تھے۔ ابوحیوہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[ 12] صفت احسان باعث سرفرازیء دوجہان :
سو اہل جنت کے نعیم جنت سے سرفرازی کی علت اور اس کے سبب کو بیان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ اس سے پہلے نیک و کار تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، کہ ان کی نیتیں بھی ٹیک تھیں۔ عقائد بھی صحیح تھے، اور ان کے عمل بھی درست تھے۔ اللہ سب کو توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ نہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس عظیم الشان صلہ اور بدلہ سے اس لئے نوازا گیا کہ یہ محسن اور نیکوکار تھے، اور یہ ہر کام اس طرح کرنے کی کوشش کرتے تھے جس طرح کہ اس کے کرنے کا حق تھا۔ اور یہ صفت انہی لوگوں کے اندر پائی جاسکتی ہے جن کے اندر سزاوجزا کا عقیدہ راسخ ہو۔ کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →ف 3 سحر کے وقت یعنی رات کے آخری حصہ میں …امام حسن بصری فرماتے ہیں یعنی وہ سحرتک نماز لمبی کرتے ہیں اور پھر استغفار کرتے ہیں۔ “ ضحاک “ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز فجر ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(51:18) اسحار۔ سحر کی جمع ہے صبح کا وقت ۔ صبح کے اوقات ۔ ہم ضمیر محسنین کے لئے ہے یستغفرون مضارع جمع مذکر غائب، استغفار (استفعال) مصدر وہ معافی مانگا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی المقتین کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] کفار کا یہ سوال کہ روز جزا کب آئے گا طنز و تمسخر کے طور پر تھا اس لئے ان کو جواب اس انداز میں دیا گیا ظاہر ہے تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ کسی منکر آخرت کو اقرار پر آمادہ کر دے کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یقین کرلیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(18) اور رات کے آخری حصے میں یعنی سحر کے وقت بخشش طلب کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 3۔ یعنی زیادہ حصہ رات کا عبادت میں صرف کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Merits of Seeking Forgiveness in the hours before dawn
وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (and in the hours before dawn, they used to pray for forgiveness..., 51:18) The word ashar is the plural of sahar, and it refers to the latter sixth part of the night. This verse speaks of the significance of seeking forgiveness in the latter part of the night. Another verse [ 3:17] also speaks of the significance of seeking forgiveness at the last hours of the night thus: وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ (...and who seek forgiveness in pre-dawn hours. - 3:17) It is confirmed in the Sahih…
Read the full tafseer →16 That is "They did not belong to those who spent their nights in immoral and indecent acts and even then never thought of seeking Allah's forgiveness. On the contrary, they spent a major part of the nights in the worship of AIIah and then in the early hours of dawn sought His forgiveness, saying that they did not do full justice to the worship that was due from them. The words hum yastaghfirun also contain an allusion to this that it befitted and suited them alone that they should exert their utmost in the service of their Lord and then, at the same time, should implore Him humbly for the…
Read the full tafseer →