Al-Ahqaf 46:9

Al-Ahqaf · from ayah 9

46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِكُمْ ؕ— اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤی اِلَیَّ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَاۤ اَدۡرِىۡ مَا يُفۡعَلُ بِىۡ وَلَا بِكُمۡؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I am not something original among the messengers, nor do I know what will be done with me or with you. I only follow that which is revealed to me, and I am not but a clear warner."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:9

اِن سے کہو، "میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو کہ : میں پیغمبروں میں کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا ؟ میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے۔ اور میں تو صرف ایک واضح انداز سے خبردار کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمہارے ساتھ (کیا) ، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں، میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مجھ سے کیا سلوک کیا جائے گا اور تم سے کیا ؟ میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو محض ایک واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو صرف ایک کھلا ہوا آگاہ کرنے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ میں تو بس پیروی کرتا ہوں اس وحی کی جو بھیجی جاتی ہے میری طرف اور میرا کام تو خبردار کردینا ہے کھول کر (حق اور حقیقت کو)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ میں رسولوں میں کوئی انوکھا تو ہوں نہیں تو ہوں نہیں میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے اور میں تو صرف ایک صاف ڈرانے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا } میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو وحی مجھ پر آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: “I am not the first of the Messengers; and I do not know what shall be done with me or with you. I follow only what is revealed to me, and I am nothing but a plain warner.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I am not something unprecedented among the messengers, and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me, and I am only a clear warner.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I am not something unprecedented among the messengers, and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me, and I am only a clear warner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I am not a new thing among the Messengers, nor do I know what will be done with me or you. I only follow that which is revealed to me, and I am but a plain warner."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I am no new thing among the messengers (of Allah), nor know I what will be done with me or with you. I do but follow that which is inspired in me, and I am but a plain warner.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I am not something original among the messengers, nor do I know what will be done with me or with you. I only follow that which is revealed to me, and I am not but a clear warner."

— Saheeh International

Say, "I am not the first Messenger. I do not know what will be done to me or to you. I follow only what has been revealed to me and my duty is only to give clear warning".

— Muhammad Sarwar

Say: I am not the first of the apostles, and I do not know what will be done with me or with you: I do not follow anything but that which is revealed to me, and I am nothing but a plain warner.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: I am not an innovator among the apostles, nor I know whatsoever shall be done with me or with you; I only follow that which is revealed Unto me, and am but a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I am no bringer of new-fangled doctrine among the messengers, nor do I know what will be done with me or with you. I follow but that which is revealed to me by inspiration; I am but a Warner open and clear."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 12 اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے اپنے آپ کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تو مکہ کے لوگ اس پر طرح طرح کی باتیں بنانے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، اور ہم جیسے انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس میں یہ عام انسانوں سے مختلف ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ خاص طور پر اس شخص کو خدا نے اپنا رسول بنایا ہے۔ پھر وہ کہتے تھے کہ اگر اس شخص کو خدا نے رسول بنایا ہوتا تو وہ اس کی اردلی میں کوئی فرشتہ بھیجتا جو اعلان کرتا کہ یہ خدا کا رسول ہے، اور ہر اس شخص پر عذاب کا کوڑا برسا دیتا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ جملہ ان اتبع بمعنے استثناء کے ہے یعنی میں نہیں جانتا بجز اس کے جو مجھ پر وحی کی جائے۔ اسی بناء پر امام تفسیر ضحاک سے اس آیت کی تفسیر وہ منقول ہے جو خلاصہ تفسیر مذکور میں اختیار کی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ امور غیبیہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے جس معاملے کے متعلق وحی سے مجھے علم نہ ہو خواہ وہ میری ذات سے متعلق ہو یا امت کے مومن و کافر لوگوں سے اور خواہ وہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا اس کی مجھے کچھ خبر نہیں۔ امور غیبیہ کے متعلق میں جو کچھ کہتا ہوں وہ سب وحی الٰہی سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل ما کنت بدعا من الرسل ومآ ادری مایفعل بی ولابکم ط ان اتبع الاما یوحی الی وما انا الا نذیر مبین 9 یعنی اگر تم میری مخالفت اس وجہ سے کر رہے ہو کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں اور وہ عذاب دکھا نہیں سکتا جس سے تم کو ڈرا رہا ہوں تو یاد رکھو کہ میں دنیا میں پہلا شخص نہیں ہوں جو رسول بن کر آیا ہو۔ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ وہ سب بشر ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مافوق بشر نہیں۔ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہی رہی ہے کہ انسانوں کے اندر رسول ہمیشہ انسانوں ہی کے اندر سے آئے ہیں اور یہ بات بھی سن لو کہ اگر میں تمہاری طلب کے مطابق عذاب نہیں لا سکتا تو یہ چیز بھی میرے دعوائے رسالت کی نفی نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آ چکے ہیں۔ 9۔ 2 یعنی دنیا میں، میں مکہ میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہوگا ؟ تم جلدی ہی سزا سے دو چار ہونگیں یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی ؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہوگا تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمن جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی ﷺ کی وفات پر جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو فرمایا واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: اس جملے کو اگلے جملے کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہیے، اور مطلب یہ ہے کہ نہ میں کوئی انوکھا پیغمبر ہوں کہ مجھ سے پہلے دوسرے پیغمبر نہ آئے ہوں، اور نہ میں کوئی ایسا غیر معمولی دعوی کررہا ہوں کہ میں عالم الغیب ہوں، کیونکہ مجھے جو کچھ علم ملا ہے، وہ وحی کے ذریعے ملا ہے، یہاں تک کہ وحی کے بغیر مجھے ذاتی طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی میری باتوں سے اس قدر بدکتے کیوں ہو ؟ میں کوئی انوکھی چیز لے کر تو نہیں آیا۔ مجھ سے پہلے بھی دنیا میں سلسلہ نبوت و رسالت کا جاری رہا ہے۔ وہ ہی میں کہتا ہوں کہ ان سب رسولوں کے بعد مجھ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے جس کی خبر پہلے رسول دیتے چلے آئے ہیں۔ اس حیثیت سے بھی یہ کوئی نئی بات نہ رہی۔ بلکہ بہت پرانی بشارات کا مصداق آج سامنے آگیا۔ پھر اس کے ماننے میں اشکال کیا ہے۔ 7 یعنی مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں کہ میرے کام کا آخری نتیجہ کیا ہونا ہے۔ میرے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔ نہ میں اس وقت پوری پوری تفاصیل اپنے اور تمہارے انجام کے متعلق بتلا سکا ہوں کہ دنیا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں“ بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ”بدعت“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہو بلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کردی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسول ﷺ بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو آخری رسول ﷺ ہوں۔ بہت سے رسول علیہ السلام مجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورة آلِ عمران میں حضور ﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 یعنی رسالت کا سلسلہ کچھ مجھ سے ہی شروع نہیں ہوا مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر اور سینکڑوں رسول گزر چکے ہیں۔ سب کی تعلیم یہی تھی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ میں کوئی نئی اور نرالی بات تم سے نہیں کہتا۔ جسے تم صریح جادو یا بناوٹی باتیں کہہ رہے ہو۔ 13 کسی کے انجام کی یقینی خبرصرف اللہ کو ہے :۔ اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اور تمہارے خیال کے مطابق اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا نتیجہ میرے حق میں کیا نکلنے والا ہے اور تمہارے حق میں کیا ہوسکتا ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم نہ ہی کوئی بات میرے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں تو صرف یہ بات ہے کہ جو کچھ میری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ میں اپنے لئے نہ غیب دانی کا مدعی ہوں نہ مافوق الفطرت قوتوں کا۔ جیسے اللہ کے سب بندے، ویسا ہی میں بھی۔ فرق صرف اتنا کہ میرا رشتہ وحی الہی سے جڑا ہوا ہے اور میں توحید اور دین حق کی تبلیغ مامور ہوں۔ (آیت) ” ما ...... الرسل “۔ سلسلہ نبوت و رسالت تو بہت قدیم ہے۔ خدا کو معلوم ہے کہ مجھ جیسے کتنے پیغمبر پہلجے بھی دنیا میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” وما ..... بکم “۔ بغیر وحی الہی مجھے تو نہ اپنا حشر معلوم نہ تمہارا۔ اہل بدعات نے رسول ﷺ کے غیب وغیرہ سے متعلق جو عقیدے گڑھ رکھے ہیں، یہ آیت ان کے حق میں کیسی ضرب کاری ہے۔ (آیت) ” لابکم “۔ لا معنی نفی کی تاکید کے لئے ہے۔ ولا لتاکید النفی المشتمل علی مایفعل بی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قل ماکنت بدعا من الرسل یہ دراصل مشرکین مکہ کی واہی اور لچر شبہات کا جواب ہے، اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے نبوت کا دعویٰ پیش کیا اور خود کو خدا کا نمائندہ بتایا تو مکہ کے لوگ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے، ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، غرضیکہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے، آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس میں یہ عام انسانوں سے مختلف ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ خاص طور پر اس شخص کو خدا نے اپنا رسول اور نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ؟ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر خدا نے اس شخص کو اپنا رسول بنایا ہوتا تو اس کی اردلی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ما کنت بدعا من الرسل وما ادری ما یفعل بی ولا بکم آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی انوکھا رسول تو ہوں نہیں۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ بدع اور بدیع دونوں ہم معنی ہیں ‘ جیسے نصف اور نصیف ‘ یعنی میں پہلا پیغمبر نہیں ہو کہ جو دعویٰ مجھ سے پہلے کسی پیغمبر نے نہیں کیا ‘ وہ میں کر رہا ہوں۔ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ‘ پھر تم لوگ میری نبوت کا انکار کیوں کرتے ہو ‘ جبکہ معجزات بھی میری نبوت کی تصدیق کر رہے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں انوکھا پیغمبر نہیں ہو کہ تمہارے مطالبات اور مطلوبہ فرمائشیں پوری کر دوں ‘ جو پہلے پیغمبر نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں انسانوں میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں مجھ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ سختی و نرمی اور عافیت میں سے میرے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم مکہ سے کب نکلیں گے اور کفار کی سختیوں سے کب نجات ملے گی اس وقت رسول اکرم نے ان سے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مجھے اور تمہیں ہجرت کا حکم ہوگا یا نہیں میں تو صرف اسی پر عمل کرتا ہوں جس کا مجھے بذریعہ قرآن کریم حکم دیا جاتا ہے اور میں تو ایسی زبان میں جسے تم سمجھو ڈرانے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قل ما کنت بداعً من الرسل :”یدع یبدع بدعا“ (ف) ”الشیء“ کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورة بقرہ (117) اور سورة انعام (101) میں ”بدیح السموت والارض“ اسی سے ہے۔ ”بدع یبدع یدعاً و بداعۃ وبدوعۃ“ (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔”بدعا“ صفت مشبہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے۔ جیسے ”خف“ بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے ”حب“ بمعنی محبوب ہے۔ ”بدعا من الرسل“ نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لئے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی وہ آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں مجھ سے قتل بھی تو رسول تھے، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے البدع یعنی پہلا۔ عکرمہ اور دوسرے علماء نے اسے بدعا پڑھا ہے یعنی دال مفتوح ہے اس بناء پر کہ مضاف مقدر ہے معنی ہے میں رسالت والا پہلا تو نہیں ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ بدع اور بدیع ایک معنی میں ہیں جس طرح نصف اور نصیف ہے۔ ابدع الشاعر یعنی وہ بدیع لایا یعنی نئی چیز فلاں اس معاملہ میں بدیع ہے۔ قوم ابداع یہ اخفش سے مروی ہے قطرب نے عدی بن زید کا شعر پڑھا : میں کوئی پہلا شخص نہیں جسے حواد ثابت لاحق ہوئے ہیں یعنی قیامت کے روز میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا میں اسے نہیں جانتا۔ جب یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

علم غیب اللہ کا خاصہ ہے : 1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ما کنت بدعا من الرسل “ (آپ فرما دیجئے کہ میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں) یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں ہوں (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ (میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا) تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک “ (الفتح آیت 2) (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے معاف کردے) اور فرمایا (آیت ) ” لیدخل المؤمنین والمؤمنت جنت تجری “ (الفتح آیت 5) (تاکہ وہ ایمان والوں کو باغات میں داخل کرے) پس اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ مَا كُنْتُ [ آپ کہیے میں نہیں ہوں ] بِدْعًا [ کوئی نیا نویلا ] مِّنَ الرُّسُلِ [ رسولوں میں سے ] وَمَآ اَدْرِيْ [ اور میں نہیں جانتا ] مَا يُفْعَلُ [ کیا کیا جائے گا ] بِيْ [ میرے ساتھ ] وَلَا بِكُمْ ۭ [ اور نہ تمہارے ساتھ (کیے جانے کو ) ] اِنْ اَتَّبِــعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] يُوْحٰٓى اِلَيَّ [ وحی کیا گیا میری طرف ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ مگر ایک واضح خبردار کرنے والا ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 9 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں نہیں جانتا بجز اس کے جو مجھ پر وحی کی جائے ۔ امور غیبیہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے ۔ جس معاملے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں رسولوں میں سے انوکھا رسول نہیں ہوں) مجھ سے پہلے بھی رسول آئے جن کے بارے میں تمہیں علم ہے اور تواتر کے ساتھ ان کی خبریں پہنچی ہیں توحید کی جو دعوت انبیاء سابقین (علیہ السلام) نے دی ہے وہی دعوت میں تمہیں دیتا ہوں ان سے بھی معجزات ظاہر ہوئے تم نے بھی میرے معجزات دیکھ لیے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے بندوں کے تجویز کردہ معجزات کا ظہور ہونا نہ ان کے نبی ہونے کے لیے ثبوت شرط تھا نہ میری نبوت کے لیے شرط ہے اگر تم غیب کی خبریں پوچھنا چاہتے ہو تو میں غیب دانی کا مدعی نہیں ہوں اور نہ غیب جاننا نبوت اور رسالت کے لیے شرط ہے ﴿ وَ مَاۤ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖف 9:۔ ” قل ما کنت۔ الایۃ “ میں کوئی نئی بات لے کر نہیں آیا، نہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز میں نے پیش کی۔ میں نے وہی دعوت توحید پیش کی ہے جو پہلے پیغمبروں کی دعوت تھی یعنی لست مبتدعا لامر یخالف امورھم بل جئت بما جاء وا بہ من الدعوۃ الی التوحید (روح ج 26 ص 8) ۔ ” وما ادری ما یفعل بی الخ “ یل دلیل وحی پر سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر تم پر وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، تو جواب دیا گیا کہ مجھے تو ابھی تک اپنے بارے میں بھی علم نہیں کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کیونکہ اس بارے میں ابھی تک کوئی وحی نہیں آئی۔ نمیدانم چہ کردہ شود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

کلام الٰہی میں انتباہ آج کے درس کی پہلی آیت گزشتہ درس کی آخری آیت سے مربوط ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ ان کے اثر کے اعتبار سے کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اب اللہ نے فرمایا ہے کہ ان بدبختوں نے اس سے بھی بری بات کی ہے اور وہ یہ کہ ام یقولون افترئہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کلام کو گھڑ لیا ہے گویا قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کا خود ساختہ ہے نعوذ باللہ مگر اللہ نے اس کی تردید فرمائی اور اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا ۔ قل آپ کہہ دیجیے ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً کہ اگر میں نے اس کو غصہ لیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ۝ 0 ۭ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 9 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

تفسیر : پہلی بات کا پھر اعادہ کرتا ہے یعنی مسئلہ نبوت کا۔ کس لیے کہ عرب میں سینکڑوں برس سے کوئی نبی نہیں آیا تھا بلکہ اس سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے۔ ہاں اہل کتاب سے کبھی کچھ انبیاء کا ذکر سنا کرتے تھے اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں بڑا شک و تردد تھا اور ہم کہہ چکے ہیں کہ باقی باتوں کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے طبائعِ عامہ کے نزدیک۔ پس اس کے قوی کرنے کو پھر اس میں کلام کرتا ہے فقال و اذاتتلی علیہم الخ کہ ان جہال کا عجب حال ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو صاف جاود ہے۔ عرب میں اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر چیز کو سحر کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَـآ اَدْرِیْ مَایُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُمْ ط اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَایُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَـآ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الاحقاف : 9) (آپ ان سے کہیے کہ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے، اور میں تو صرف ایک صاف صاف آگاہ کردینے والا ہوں۔ ) ایک اور اعتراض کا جواب قریش اور دیگر مشرکین کے نزدیک آپ کی نبوت کے انکار کے جو اسباب تھے ان میں بڑا سبب یہ تھا کہ آپ ہماری طرح کے ایک انسان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کے پراپیگنڈہ کے جواب میں نبی ﷺ کی طرف سے ایک اور اعلان۔ اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی فرمائیں کہ میں کوئی نیا رسول نہیں اور نہ ہی مجھے یہ علم ہے کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں کھلے الفاظ میں برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ اہل مکہ ایک طرف نبی کریم ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے اور آپ پر مختلف قسم کے الزام لگاتے تھے لیکن دوسری طرف آپ سے مطالبات کرتے کہ اگر آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے پاس کم از کم یہ چیزیں ہونا ضروری ہیں۔ ان کے مطالبات کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ ان کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 9 : قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ (کہہ دیں میں کوئی انوکھا رسول نہیں) بدعاً یہ بدیع کے معنی میں ہے جیسا خف بمعنی خفیف آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں کہ تم میری نبوت کو انوکھا قرار دے رہے ہو۔ وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَابِکُمْ (اور مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا) یعنی میرے اور تمہارے ساتھ زمانہ مستقبل میں کیا کرنے والے ہیں۔ قولِ کلبی m : کفار و مشرکین کی ایذائوں سے تنگ آ کر آپ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا۔ ہم اس حالت میں کب تک رہیں گے ؟ تو فرمایا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ آیا مکہ کو چھوڑوں گا یا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” ام یقولون افتراہ “ محمد ﷺ اپنی طرف سے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قل “ اے محمد (ﷺ) !” ان افریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا “ تم قدرت نہیں رکھتے کہ مجھ سے اس کے عذاب کو دور کرسکو۔ اگر وہ مجھے میرے افتراء پر عذاب دے ۔ پس میں تمہاری وجہ سے اللہ پر کیسے جھوٹ گھڑ سکتا ہوں۔ ” ھواعلم “ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ ” بما تفیضون فیہ “ تم قرآن کی تکذیب اور اس کو جادو کہنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔ ” کفی بہ شھیدا بینی وبینکم “ کہ قرآن اس کی طرف سے آیا ہے۔ ” وھوالغفور الرحیم “ تم سے عذاب کو موخر کرنے میں۔ زجاج حمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ان کی توبہ کی طرف دعوت ہے۔ اس کا معنی ہے بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–13

9۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

(واذا حشر الناس کانوالھم اعداء) ” اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ “ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے (وکانوا بعبادتھم کفرین) ” اور وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “ اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں (ایتنا بینت) ” ہماری واضح آیات “ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، یہ آیات انہیں کوئی فاہدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں (للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین) ” حق کے بارے میں جب حق ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 17] پیغمبر (علیہ السلام) کو منکرین کے لئے جواب کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کھو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔ " کہ تم لوگوں کو تعجب ہو کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوگیا، کیونکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تشریف لا چکے ہیں اور انہوں نے بھی وہی کچھ کہا جو میں کہہ رہا ہوں۔ انہوں نے بھی اسی توحید کی دعوت دی جس کی دعوت میں سے رہا ہوں۔ تو پھر میرے بارے میں تم لوگوں کو اس قدر اچنبھا کیوں ہو رہا ہے ؟ اور اگر تم لوگ میری مخالفت اس وجہ سے کرتے ہو کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں اور وہ عذاب تم کو نہیں دکھا سکتا جس سے میں تم کو ڈرا رہا ہوں تو یاد رکھو کہ یہ کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 بلکہ مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر دنیا میں آچکے ہیں اور ان کی دعوت وہی رہی ہے جو میری ہے۔ “ 4 آیا مکہ میں رہوں گا یا اس سے نکال دیا جائونگا اور کیا طبعی طریق پر وفات پائوں گا یا دشمنوں کے ہاتھوں شہید کردیا جائیگا 5 کیا تم پر عذاب ابھی آئیگا یا تمہیں مزید مہلت دی جائیگی ؟ “ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جن کے متعلق آنحضرت کو بیخبر ہونے کا اعلان کردینے کا حکم دیا گیا۔ رہی آخرت ! تو آنحضرت کو معلوم تھا کہ اس میں آپ ﷺ کو اور آپ کے متعین کو جنت اور تکذیب کرنے والوں کو دوزخ نصیب ہوگی۔ ابن جریر وغیرہ نے آیت کے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ مگر بعض نے آیت کے مفہوم کو عام رکھا ہے کہ آنحضرت کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:9) قل۔ ای قل یا محمد ( ﷺ ) ۔ ما کنت بدعا۔ بدعا کنت کی خبر ہے اس لئے منصوب ہے۔ بدعا نیا ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اسم فاعل اور اسم مفعول کے معنی میں آتا ہے ۔ چناچہ بعض نے اول معنی بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نئی باتیں کہنے والا اور بعض نے دوسرے معنی میں بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نیا بھیجا ہوا۔ کہ جس سے پہلے کوئی پیغمبر نہ آیا ہو۔ قل ما کنت بدعا من الرسل۔ ای قل لہم یا نبی اللہ : ما کنت اول رسول ارسل الی البشر بل قد ارسل اللہ قبلی جمیع الرسل الی البشر فلاوجہ لاستبعادکم رسالتی واستنکارکم ایاھا لان اللہ ارسل قبلی رسلا کثیرۃ۔ وما ادری۔ مضارع منفی واحد متکلم درایۃ (باب ضرب ) مصدر، میں نہیں جانتا ۔ ما یفعل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

تشریح آیات 7 تا 12 قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اے محبوب ﷺ مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میری باتوں سے اس قدر بدکتے کیوں ہوں میں کوئی انوکھی چیز لے کر نہیں آیا مجھ سے پہلے بھی دنیا میں سلسلہ نبوت و رسالت کا جاری رہا ہے وہ ہی میں کہتا ہوں کہ کہ ان سب رسولوں کے بعد مجھ کو اللہ نے رسول بناکربھیجا ہے جس کی خبر پہلے رسول دیتے چلے آئے ہیں اسی حیثیت سے یہ بھی کوئی نئی بات نہیں رہی بلکہ بہت پرانی بشارت کا مصداق آج سامنے آگیا پھر تم کیوں نبوت کا انکار کرتے ہو۔ کافروں کا جواب اور فرائض رسالت۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ سے مشرکین مکہ جو اخبار غیبیہ پوچھتے تھے کہ ہم سب کب تک زندہ رہیں گے اور ہر شخص کیا حال ہوگا لڑائیوں کے حالات ، بیماریوں کے حالات، قحط…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

میں جھوٹا نہیں ہوں مکے والے آخر تک یہ فیصلہ نہیں کرپاتے ۔ کہ قرآن کو کتب وصحائف میں کسی درجہ پر رکھا جائے کبھی وہ اس کی آیتوں کو سنتے ۔ تو بوجہ اسکی موثریت کے اس کو جادو سے تعبیر کرتے ، کبھی یہ کہتے کہ حضور ﷺ کے دماغی اخترع کا نتیجہ ہے ۔ کبھی یہ کہتے ۔ پہلی کتابوں میں سے قصوں اور کہانیوں کو لے کر جمع کردیا گیا ہے ۔ اور کبھی کہتے ۔ کہ دراصل دوسرے شخص کی دماغی کاوشوں کا ثمرہ ہے ۔ اور حضور ﷺ نے اس سے سیکھ لیا ہے ۔ اور اپنے ہم سے منسوب کرلیا ہے ۔ غرضیکہ انہوں نے اس بات کا پورا ثبوت دیا ۔ کہ ان میں کتاب اللہ کی اہمیت کو محسوس کرنے کی زرہ برابر بھی صلاحیت نہیں ۔ وہ کتاب جو انسانی عقول سے بالا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) آپ ان منکرین رسالت سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا رسول نہیں آیا ہوں اور میں کوئی انوکھا اور دنیا سے نرالا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو صرف اس حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے آتا ہے میں تو صرف ایک کھلا اور صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں کوئی دنیا سے انوکھا اور نیا اور نرالا رسول نہیں آیا ہوں آخر مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آچکے ہیں ان کی تعلیم اور میری تعلیم کو ملا کر دیکھ لو۔ جس طرح وہ اپنے فرشتہ ہونے اور عالم الغیب ہونے کی نفی کیا کرتے تھے میں بھی اپنے عالم الغیب ہونے کی نفی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

ف 1۔ یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے تو اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے، جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں۔ یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں : 9 ؎ مخالفین و معندین کو ایک سے زیادہ اعتراض تھے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر اور اس دعویٰ پر کہ مجھ پر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو رہا ہے مثلاً ایک اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ تو انسان ہیں یعنی بشر اور بشر کبھی رسول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی منصب رسالت پر فائز ہو سکتا ہے کبھی کہتے کہ آپ تو ہماری طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں سودا سلف خریدنے کے لئے آتے جاتے ہیں اور اس طرح تمہارے ساتھ ساری حوائج و ضروریات ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کے ساتھ ہیں اگر آپ اللہ کے رسول بنائے گئے ہوتے تو تمہاری ان ساری چیزوں اور باتوں کا اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–9

Commentary وَمَا أَدْرِ‌ي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, "I do not follow anything but what is revealed to me," has been used here as an 'exception' to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet ﷺ only through…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 Its background is this: When the Holy Prophet presented himself as Allah's Messenger, the people of Makkah raised different kinds of objections against it. They said: "what kind of a Messenger he is who has a family, who moves about in the streets, eats and drinks and lives a common man's life. There is nothing special about him, which might distinguish him above the other people and therefore we may know that Allah has specially made this man His Messenger. " Then they said: "Had he ban appointed a Messenger by God, He would have sent an angel as an attendant with him who would have…

Read the full tafseer →