46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا ہے اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے جو بنائے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے سو ٹھیک کام پر اور ایک ٹھہرے وعدہ پر1 اور جو لوگ منکر ہیں وہ ڈر کو سن کر منہ پھیر لیتے ہیں2

1 یعنی آسمان و زمین، اور یہ سب کارخانہ اللہ تعالیٰ نے بیکار نہیں بنایا۔ بلکہ کسی خاص غرض و مقصد کے لیے پیدا کیا ہے جو ایک معین میعاد اور ٹھہرے ہوئے وعدہ تک یوں ہی چلتا رہے گا تاآنکہ اس کا نتیجہ ظاہر ہو اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ 2 یعنی برے انجام سے ڈرتے نہیں، اور آخرت کی تیاری نہیں کرتے۔ جب آخرت کی بات سنی ایک کان سنی دوسرے کان نکال دی۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو پکارتے ہو اللہ کے سوا دکھلاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں یا ان کا کچھ ساجھا ہے آسمانوں میں3 لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی علم جو چلا آتا ہو اگر ہو تم سچے4

3 یعنی خداوند قدوس نے تو آسمان و زمین اور کل مخلوقات بنائی کیا سچے دل سے کہہ سکتے ہو کہ زمین کا کوئی ٹکڑا یا آسمان کا کوئی حصہ کسی اور نے بھی بنایا ہے یا بنا سکتا ہے۔ پھر ان کو خدا کے ساتھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیوں پکارا جاتا ہے۔ 4 یعنی اگر اپنے دعوائے شرک میں سچے ہو تو کسی آسمانی کتاب کی سند لاؤ یا کسی ایسے علمی اصول سے ثابت کرو جو عقلاء کے نزدیک مسلم چلا آتا ہو جس چیز پر کوئی نقلی یا عقلی دلیل نہ ہو آخر اسے کیونکر تسلیم کیا جائے۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ گمراہ کون جو پکارے اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ پہنچے اس کی پکار کو دن قیامت تک اور ان کو خبر نہیں ان کے پکارنے کی5

5 یعنی اس سے بڑی حماقت اور گمراہی کیا ہوگی کہ خدا کو چھوڑ کر ایک ایسی بےجان یا بےاختیار مخلوق کو اپنی حاجت برآری کے لیے پکارا جائے جو اپنے مستقل اختیار سے کسی کو پکار کر نہیں پہنچ سکتی۔ بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو پکارنے کی خبر بھی ہو۔ پتھر کی مورتیوں کا تو کہنا ہی کیا، فرشتے اور پیغمبر بھی وہی بات سن سکتے اور وہی کام کرسکتے ہیں جس کی اجازت اور قدرت حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع ہوں گے وہ ہوں گے ان کے دشمن اور ہوں گے ان کے پوجنے سے منکر6

6 یعنی محشر میں جبکہ امداد و اعانت کی زیادہ حاجت ہوگی۔ یہ بیچارے معبود اپنے عابدین کی مدد تو کیا کرسکتے۔ ہاں دشمن بن کر ان کے مقابل کھڑے ہوں گے اور سخت بیزاری کا اظہار کریں گے بلکہ یہاں تک کہہ دیں گے کہ (مَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ ) 28 ۔ القصص :63) یہ لوگ ہماری پرستش کرتے ہی نہ تھے اس وقت سوچو کیسی حسرت و ندامت کا سامنا ہوگا۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب سنائی جائیں ان کو ہماری باتیں کھلی کھلی کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب ان تک پہنچی یہ جادو ہے صریح1

1 یعنی ان لوگوں کو فی الحال انجام کی کچھ فکر نہیں کسی نصیحت و فہمائش پر کان نہیں دھرتے بلکہ جب قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اسے جادو کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں یہ بنا لایا ہے2 تو کہہ اگر میں بنا لایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کرسکتے اللہ کے سامنے ذرا بھی3 اس کو خوب خبر ہے جن باتوں میں تم لگ رہے ہو وہ کافی ہے حق بتانے والا میرے اور تمہارے بیچ4 اور وہی ہے بخشنے والا مہربان5

2 یعنی جادو کہنے سے زیادہ قبیح و شنیع ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید آپ خود بنا لائے ہیں اور جھوٹ طوفان خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ العیاذ باللہ۔ 3 یعنی خدا پر جھوٹ لگانا انتہائی جرم ہے اگر بفرض محال میں ایسی جسارت کروں تو گویا جان بوجھ کر خود کو اللہ کے غضب اور اس کی سخت ترین سزا کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ بھلا خیال کرو جو شخص ساری عمر بندوں پر جھوٹ نہ لگائے اور ذرا ذرا سے معاملہ میں اللہ کے خوف سے کانپتا ہو، کیا وہ ایک دم بیٹھے بٹھائے اللہ پر جھوٹ طوفان باندھ کر اپنے کو ایسی عظیم ترین آفت و مصیبت میں پھنسائے گا۔ جس سے بچانے والی اور پناہ دینے والی کوئی طاقت دنیا میں موجود نہیں۔ اگر میں جھوٹ سچ بنا کر فرض کرو تمہیں اپنا تابع کرلوں تو کیا تم خدا کے غضب و قہر سے جو جھوٹے مدعیان نبوت پر ہوتا ہے، مجھ کو نجات دے سکو گے ؟ اور جب اللہ مجھ کو برائی پہنچانا چاہے گا تم میرا کچھ بھلا کرسکو گے ؟ آخر میرے چہل سالہ حالات و سوانح سے اتنا تو تم بھی جانتے ہو کہ میں اس قدر بےخوف اور بیباک نہیں ہوں اور نہ ایسا بےعقل ہوں کہ بعض انسانوں کو خوش کر کے خداوند قدوس کا غصہ مول لے لوں۔ بہرحال اگر میں معاذ اللہ کاذب و مفتری ہوں تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا۔ 4 یعنی جو باتیں تم نے شروع کر رکھی ہیں اللہ ان کو بھی خوب جانتا ہے۔ لہذا لغو اور دور ازکار خیالات چھوڑ کر اپنے انجام کی فکر کرو۔ اگر خدا کے سچے رسول کو جھوٹا اور مفتری کہا تو سمجھ لو اس کا حشر کیا ہوگا۔ خدا پر میری اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ اپنے علم صحیح و محیط کے موافق ہر ایک کے ساتھ معاملہ کرے گا۔ میں اسی کو اپنے اور تمہارے درمیان گواہ ٹھہراتا ہوں وہ اپنے قول و فعل سے بتلا رہا ہے اور آئندہ بتلا دے گا کہ کون حق پر ہے اور کون جھوٹ بول رہا، افتراء کر رہا ہے۔ 5 یعنی اب بھی باز آؤ تو بخشے جاؤ۔ اور یہ بھی اس کی مہربانی اور بردباری سمجھو کہ باوجود جرائم پر مطلع ہونے اور کامل قدرت رکھنے کے تم کو فوراً ہلاک نہیں کردیتا۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

تو کہہ میں کچھ نیا رسول نہیں آیا6 اور مجھ کو معلوم نہیں کیا ہونا ہے مجھ سے اور تم سے میں اسی پر چلتا ہوں جو حکم آتا ہے مجھ کو اور میرا کام تو یہی ہے ڈر سنا دینا کھول کر7

6 یعنی میری باتوں سے اس قدر بدکتے کیوں ہو ؟ میں کوئی انوکھی چیز لے کر تو نہیں آیا۔ مجھ سے پہلے بھی دنیا میں سلسلہ نبوت و رسالت کا جاری رہا ہے۔ وہ ہی میں کہتا ہوں کہ ان سب رسولوں کے بعد مجھ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے جس کی خبر پہلے رسول دیتے چلے آئے ہیں۔ اس حیثیت سے بھی یہ کوئی نئی بات نہ رہی۔ بلکہ بہت پرانی بشارات کا مصداق آج سامنے آگیا۔ پھر اس کے ماننے میں اشکال کیا ہے۔ 7 یعنی مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں کہ میرے کام کا آخری نتیجہ کیا ہونا ہے۔ میرے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔ نہ میں اس وقت پوری پوری تفاصیل اپنے اور تمہارے انجام کے متعلق بتلا سکا ہوں کہ دنیا اور آخرت میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں گی۔ ہاں ایک بات کہتا ہوں کہ میرا کام صرف وحی الٰہی کا اتباع اور حکم خداوندی کا امتثال کرنا اور کفر و عصیان کے سخت خطرناک نتائج سے خوب کھول کر آگاہ کردینا ہے۔ آگے چل کر دنیا یا آخرت میں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آئے گا اس کی تمام تفصیلات فی الحال میں نہیں جانتا نہ اس بحث میں پڑنے سے مجھے کچھ مطلب۔ بندہ کا کام نتیجہ سے قطع نظر کر کے مالک کے احکام کی تعمیل کرنا ہے اور بس۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ آیا ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی پھر وہ یقین لایا اور تم نے غرور کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا گناہ گاروں کو8

8 اس زمانہ میں عرب کے جاہل مشرک بنی اسرائیل کے علم و فضل سے مرعوب تھے۔ جب حضور ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین نے اس باب میں علمائے بنی اسرائیل کا عندیہ لینا چاہا۔ غرض یہ تھی کہ وہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کردیں تو کہنے کو ایک بات ہاتھ آجائے کہ دیکھو اہل علم اہل کتاب بھی ان کی باتوں کو جھوٹا کہتے ہیں۔ مگر اس مقصد میں مشرکین ہمیشہ ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ نے ان ہی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور ﷺ کی تصدیق و تائید کرائی۔ نہ صرف اتنی بات سے کہ وہ لوگ بھی قرآن کی طرح تورات کو آسمانی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ کو پیغمبر کہتے تھے اور اس طرح حضور ﷺ کا دعوائے رسالت اور قرآن کی وحی کوئی انوکھی چیز نہیں رہتی بلکہ اس طرح کہ بعض علمائے یہود نے صریحاً اقرار کیا اور گواہی دی کہ بیشک ہمارے ہاں اس ملک (عرب) سے ایک عظیم الشان رسول اور کتاب کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور یہ رسول وہ ہی معلوم ہوتا ہے اور یہ کتاب اسی طرح کی ہے جس کی خبر دی گئی تھی۔ علمائے یہود کی یہ شہادتیں فی الحقیقت ان پیشین گوئیوں پر مبنی تھیں۔ جو باوجود ہزارہا تحریف و تبدل کے آج بھی تورات وغیرہ میں موجود چلی آتی ہیں۔ جن سے ہویدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا گواہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) ہزاروں برس پہلے خود گواہی دے چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے اقارب اور بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے اسی کی مثل ایک رسول آنے والا ہے۔ (اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا ڏ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا) 73 ۔ المزمل :15) یہ ہی سبب تھا کہ بعض منصف و حق پرست احبار یہود مثلاً عبد اللہ بن سلام وغیرہ حضور ﷺ کا چہرہ دیکھتے ہی اسلام لے آئے اور بول اٹھے کہ " اِنَّ ہٰذَا الْوَجْہَ لَیْسَ بِوَجْہٍ کَاذِبٍ " (یہ چہرہ جھو ٹے کا چہرہ نہیں) انہوں نے قرآن جیسی واضح الاعجاز کتاب کے حق ہونے کی گواہی دے۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ایک چیز پر وقوع سے ہزاروں برس پہلے ایمان رکھیں، علمائے یہود اس کے صدق کی گواہی دیں، بعض احبار یہود زبانی و قلبی شہادت دے کر مشرف با اسلام ہوجائیں، اور ان سب شہادتوں کے باوجود تم اپنی شیخی اور غرور سے اس کو قبول نہ کرو تو سمجھ لو اس سے بڑھ کر ظلم اور گناہ کیا ہوگا اور ایسے ظالم اور گنہگار کی نجات و فلاح کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ نہ دوڑتے اس پر ہم سے پہلے9 اور جب راہ پر نہیں آئے اس کے بتلانے سے تو یہ اب کہیں گے یہ جھوٹ ہے بہت پرانا10

9 یعنی کمزور و ذلیل اور لونڈی غلام مسلمان ہوتے ہیں۔ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو بہتر لوگ اس کی طرف جھپٹتے۔ کیا یہ چیز اچھی ہوتی تو اس کے حاصل کرنے میں ہم جیسے عقل مند اور عزت و دولت والے ان لونڈی غلاموں سے پیچھے رہ جاتے۔ 10 یعنی ہمیشہ کچھ لوگ ایسی باتیں بناتے چلے آئے ہیں۔ شاید یہ جواب ہوگا " وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ " اور (مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ) 46 ۔ الاحقاف :9) کا۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کتاب موسیٰ کی تھی راہ ڈالنے والی اور رحمت اور یہ کتاب ہے اس کی تصدیق کرتی11 عربی زبان میں تاکہ ڈر سنائے گناہ گاروں کو اور خوشخبری نیکی والوں کو

11 یعنی یہ پرانا جھوٹ نہیں، بلکہ بہت پرانا سچ ہے۔ نزول قرآن سے سینکڑوں برس پہلے تورات نے بھی اصولی تعلیم یہ ہی دی تھی جس کی انبیاء و اولیاء اقتداء کرتے رہے۔ اور اس نے پیچھے آنے والی نسلوں کے لیے اپنی تعلیمات و بشارات سے راستہ و ہدایت کی راہ ڈال دی اور رحمت کے دروازے کھول دیے اب قرآن اترا تو اس کو سچا ثابت کرتا ہوا۔ غرض دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور یہ ہی حال دوسری کتب سماویہ کا ہے۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

مقرر جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے1

1 اس طرح کی آیت " حٰم السجدہ " میں چوبیسویں پارہ میں گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔
Ayah 46:14

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں بہشت والے سدا رہیں گے اس میں بدلہ ہے ان کاموں کا جو کرتے تھے2

2 یعنی اپنے نیک کاموں کے سبب حق تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ بہشت میں رہیں گے۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے حکم کردیا انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کا3 پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے4 اور حمل میں رہنا اس کا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینوں میں ہے5 یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی قوت کو اور پہنچ گیا چالیس برس کو6 کہنے لگا اے رب میرے میری قسمت میں کر کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں نیک کام جس سے تو راضی ہو اور مجھ کو دے نیک اولاد میری میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ہوں حکم بردار7

3 قرآن میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کا حق بیان فرمایا ہے۔ کیونکہ موجد حقیقی تو اللہ ہے لیکن عالم اسباب میں والدین اولاد کے وجود کا سبب ظاہری اور حق تعالیٰ کی شان ربوبیت کا مظہر خاص بنتے ہیں۔ یہاں بھی پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :13) میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کا ذکر تھا۔ اب والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، ان کی تعظیم و محبت اور خدمت گزاری کو اپنی سعادت سمجھے۔ دوسری جگہ بتلایا ہے کہ اگر والدین مشرک ہوں تب بھی ان کے ساتھ دنیا میں معاملہ اچھا رکھنا چاہیے۔ خصوصاً ماں کی خدمت گزاری کے بعض وجوہ سے اس کا حق باپ سے بھی فائق ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر دال ہیں۔ 4 یعنی حمل جب کئی مہینہ کا ہوجاتا ہے اس کا ثقل محسوس ہونے لگتا ہے اس حالت میں اور تولد کے وقت ماں کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کرتی ہے۔ پھر دودھ پلاتی اور برسوں تک اس کی ہر طرح نگہداشت رکھتی ہے۔ اپنی آسائش و راحت کو اس کی آسائش و راحت پر قربان کردیتی ہے۔ باپ بھی بڑی حد تک ان تکلیفوں میں شریک رہتا اور سامان تربیت فراہم کرتا ہے۔ بیشک یہ سب کام فطرت کے تقاضے سے ہوتے ہیں۔ مگر اسی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اولاد ماں باپ کی شفقت و محبت کو محسوس اور ان کی محنت و ایثار کی قدر کرے۔ (تنبیہ) حدیث میں ماں کی خدمت گزاری کا تین مرتبہ حکم فرما کر باپ کی خدمت گزاری کا ایک مرتبہ حکم فرمایا ہے۔ لطف یہ ہے کہ آیہ ہذا میں والد کا ذکر صرف ایک مرتبہ لفظ " والدیہ " میں ہوا۔ اور والدہ کا تین مرتبہ ذکر لفظ " وَالدَیْہِ " میں، پھر " حَمَلَتْہُ اُمُّہُ " میں، پھر " وَضَعَتْہُ " میں۔ 5 شاید یہ بطور عادت اکثریہ کے فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " لڑکا اگر قوی ہو تو اکیس مہینہ میں دودھ چھوڑتا ہے اور نو مہینے ہیں حمل کے۔ " یا یوں کہو کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے ہیں اور دو برس میں عموماً بچوں کا دودھ چھڑا دیا جاتا ہے اس طرح کل مدت تیس مہینے ہوئے۔ مدت رضاع کا اس سے زائد ہونا نہایت قلیل و نادر ہے۔ 6 چالیس برس کی عمر میں عموماً انسان کی عقلی اور اخلاقی قوتیں پختہ ہوجاتی ہیں اسی لیے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت چالیس برس سے پہلے نہ ہوتی تھی۔ 7 یعنی سعادت مند آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جو احسانات اللہ تعالیٰ کے اس پر اور اس کے ماں باپ پر ہوچکے ان کا شکر ادا کرنے اور آئندہ نیک عمل کرنے کی توفیق خدا سے چاہے اور اپنی اولاد کے حق میں بھی نیکی کی دعا مانگے۔ جو کوتاہی حقوق اللہ یا حقوق العباد میں رہ گئی ہو، اس سے توبہ کرے اور ازراہ تواضع و بندگی اپنی مخلصانہ عبودیت و فرمانبرداری کا اعتراف کرے۔ (تنبیہ) صحابہ ؓ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ، بڑے ہی خوش قسمت تھے کہ خود ان کو، ان کے ماں باپ کو اور اولاد کو ایمان کے ساتھ صحبت نبی ﷺ کا شرف میسر ہوا۔ دیگر صحابہ میں یہ خصوصیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم قبول کرتے ہیں بہتر سے بہتر کام جو کئے ہیں اور معاف کرتے ہیں ہم برائیاں ان کی رہنے والے جنت کے لوگوں میں سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا8

8 یعنی ایسے بندوں کی نیکیاں قبول اور کو تاہیاں معاف ہوتی ہیں۔ اور ان کا مقام اللہ کے سچے وعدہ کے موافق جنت میں ہے۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے کہا اپنے ماں باپ کو میں بیزار ہوں تم سے9 کیا مجھ کو وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا قبر سے اور گزر چکی ہیں بہت جماعتیں مجھ سے پہلے10 اور وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے کہ اے خرابی تیری تو ایمان لے آ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے11 پھر کہتا ہے یہ سب نقلیں ہیں پہلوں کی 12

9 سعات مند اولاد کے مقابلہ میں یہ بےادب، نافرمان، اور نالائق اولاد کا ذکر فرمایا کہ ماں باپ اس کو ایمان کی بات سمجھاتے ہیں، وہ نہیں سمجھتا نہایت گستاخانہ خطاب کر کے ایذاء پہنچاتا ہے۔ 10 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی دھمکیوں سے میں نہیں ڈرتا۔ بھلا کتنی قومیں اور جماعتیں مجھ سے پہلے گزر چکی ہیں۔ کوئی شخص بھی ان میں سے اب تک دوبارہ زندہ ہو کر واپس آیا ؟ لوگ ہمیشہ سے یونہی سنتے چلے آتے ہیں مگر آج تک تو اس خبر کا تحقق ہوا نہیں۔ پھر میں کیونکر اعتبار کرلوں۔ 11 یعنی اس کی گستاخیوں پر ایک طرف اللہ سے فریاد کرتے اور دعا مانگتے ہیں کہ اسے قبول حق کو توفیق ملے اور دوسری طرف اس کو سمجھاتے ہیں کہ کم بخت تیرا ستیاناس ! اب بھی باز آجا ! دیکھ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے بعث بعد الموت کی جو خبر اس نے دی ہے ضرور اپنے وقت پر پوری ہو کر رہے گی۔ اس وقت تیرا یہ انکار رنگ لائے گا۔ 12 یعنی ایسی کہانیاں بہت سنی ہیں۔ پرانے وقتوں کے قصے اسی طرح مشہور ہوجاتے ہیں اور واقع میں ان کا مصداق کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ثابت ہوئی بات عذاب کی شامل اور فرقوں میں جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے1 بیشک وہ تھے ٹوٹے میں پڑے2

1 " عذاب کی بات " وہ ہی ہے۔ ( لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 32 ۔ السجدہ :13) یعنی جس طرح بہت سی جماعتیں جنوں اور آدمیوں کی ان سے پہلے جہنم کی مستحق ہوچکی ہیں، یہ بدبخت بھی ان ہی میں شامل ہیں۔ 2 اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہر آدمی کے دل میں فطری طور پر جو بیج ایمان وسعادت کا بکھیرا تھا وہ بھی ان بدبختوں نے ضائع کردیا۔ اس سے زیادہ ٹوٹا اور خسارہ کیا ہوگا کہ کوئی شخص تجارت میں بجائے منافع حاصل کرنے کے راس المال کو بھی اپنی غفلت اور حماقت سے ضائع کر بیٹھے۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر فرقہ کے کئی درجے ہیں اپنے کئے کاموں کے موافق3 اور تاکہ پورے دے ان کو کام ان کے اور ان پر ظلم نہ ہوگا4

3 یعنی اعمال کے تفاوت کی وجہ سے اہل جنت کے کئی درجے ہیں اور اسی طرح اہل دوزخ کے بھی۔ 4 نہ کسی نیکی کا ثواب کم کیا جائے گا نہ کسی جرم کی سزا حد مناسب سے زائد کی جائے گی۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن لائے جائیں گے منکر آگ کے کنارہ پر ضائع کیے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگانی میں اور ان کو برت چکے5 اب آج سزا پاؤ گے ذلت کا عذاب بدلہ اس کا جو تم غرور کرتے تھے ملک میں ناحق اور اس کا جو تم نافرمانی کرتے تھے6

5 کافر کے کسی نیک کام میں ایمان کی روح نہیں ہوتی۔ محض صورت اور ڈھانچہ نیکی کا ہوتا ہے۔ ایسی فانی نیکیوں کا اجر بھی فانی ہے جو اسی زندگی میں مال، اولاد، حکومت، تندرستی، عزت و شہرت وغیرہ کی شکل میں مل جاتا ہے۔ اس کو فرمایا کہ تم اپنی صوری نیکیوں کے مزے دنیا میں لے چکے اور وہاں کی لذتوں سے تمتع کرچکے۔ جو عیش و آرام ایمان لانے کی تقدیر پر آخرت میں ملتا، گویا اس کی جگہ بھی دنیا میں مزے اڑا لیے۔ اب یہاں کے عیش میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جن لوگوں نے آخرت نہ چاہی فقط دنیا ہی چاہی ان کی نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں مل چکا۔ " 6 یعنی آج تمہاری جھوٹی شیخی اور نافرمانیوں کی سزا میں ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب دیا جائے گا۔ یہ ہی ایک چیز تمہارے لیے یہاں باقی ہے آگے بعض زور آور اور متکبر قوموں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ آخرت سے پہلے دنیا ہی میں ان کا انجام کیا ہوا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور یاد کر عاد کے بھائی کو7 جب ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں8 اور گزر چکے تھے ڈرانے والے اس کے آگے سے اور پیچھے سے کہ بندگی نہ کرو کسی کی، اللہ کے سوا میں ڈرتا ہوں تم پر آفت سے ایک بڑے دن کی9

7 یعنی ہود (علیہ السلام) جو " عاد " کے قومی بھائی تھے۔ 8 مؤلف " ارض القرآن "، " بلاد الاحقاف " کے تحت میں لکھتا ہے " یمامہ، عمان، بحرین، حضرموت اور مغربی یمن کے بیچ میں جو صحرائے اعظم " الدہنا۔ " یا " ربع خالی " کے نام سے واقع ہے گو وہ آبادی کے قابل نہیں، لیکن اس کے اطراف میں کہیں کہیں آبادی کے لائق تھوڑی تھوڑی زمین ہے خصوصاً اس حصہ میں جو حضرموت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے۔ گو اس وقت وہ بھی آباد نہیں تاہم عہد قدیم میں اسی حضرموت اور نجران کے درمیان حصہ میں " عادِارم " کا مشہور قبیلہ آباد تھا جس کو خدا نے اس کی نافرمانی کی پاداش میں نیست و نابود کردیا۔ " 9 یعنی ہود (علیہ السلام) سے پہلے اور پیچھے بہت ڈرانے والے آئے۔ سب نے وہ ہی کہا جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا تھا یعنی ایک خدا کی بندگی کرو اور کفر و معصیت کے برے انجام سے ڈرو۔ ممکن ہے قوم عاد میں بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کے علاوہ اور نذیر آئے ہوں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

بولے کیا تو آیا ہے ہمارے پاس کہ پھیر دے ہم کو ہمارے معبودوں سے، سو لے آ ہم پر جو وعدہ کرتا ہے اگر ہے تو سچا10

10 یعنی ہم اپنے آبائی طریقہ سے ہٹنے والے نہیں۔ اگر تو اپنی دھمکیوں میں سچا ہے تو دیر کیا ہے۔ جو زبان سے کہتا ہے، کر کے دکھلادے۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

کہا یہ خبر تو اللہ ہی کی ہے اور میں تو پہنچا دیتا ہوں جو کچھ بھیج دیا میرے ہاتھ لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ نادانی کرتے ہو11

11 یعنی اس قسم کا مطالبہ کرنا تمہاری نادانی اور جہالت ہے۔ میں خدا کا پیغمبر ہوں جو پیام میرے ہاتھ بھیجا گیا وہ پہنچا رہا ہوں۔ اس سے زائد کا نہ مجھے علم نہ اختیار۔ یہ علم خدا ہی کو ہے کہ منکر قوم کس وقت دنیاوی سزا کی مستوجب ہوتی ہے اور کس وقت تک اسے مہلت ملنی چاہیے۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب دیکھا اس کو ابر سامنے آیا ان کے نالوں کے بولے یہ ابر ہے ہم پر برسے گا1 کوئی نہیں یہ تو وہ چیز ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے، ہوا ہے جس میں عذاب ہے دردناک2

1 یعنی سامنے سے بادل اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ سمجھے کہ سب ندی نالے بھر جائیں گے۔ کہنے لگے کہ بہت برساؤ گھٹا اٹھی ہے اب کام بن جائے گا۔ اس وقت طویل خشک سالی کی وجہ سے پانی کی بہت ضرورت تھی۔ 2 یعنی یہ برساؤ بادل نہیں بلکہ عذاب الٰہی کی آندھی ہے وہ ہی جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

اکھڑ پھینکے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے پھر کل کو رہ گئے کہ کوئی نظر نہیں آتا تھا سوائے ان کے گھروں کے یوں ہم سزا دیتے ہیں گناہ گار لوگوں کو3

3 سات رات اور آٹھ دن مسلسل ہوا کا وہ غضب ناک طوفان چلا جس کے سامنے درخت، آدمی اور جانوروں کی حقیقت تنکوں سے زیادہ نہ تھی۔ ہر چیز ہوا نے اکھاڑ پھینکی اور چاروں طرف تباہی نازل ہوگئی۔ آخر مکانوں کے کھنڈرات کے سوا کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔ دیکھ لیا ! اللہ کے مجرموں کا حال یہ ہوتا ہے۔ چاہیے کہ ان واقعات کو سن کر ہوش میں آؤ۔ ورنہ تمہارا بھی یہ ہی حال ہوسکتا ہے۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے مقدور دیا تھا ان کو ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا4 اور ہم نے ان کو دیے تھے کان اور آنکھیں اور دل پھر کام نہ آئے ان کے کان ان کے اور آنکھیں ان کی اور نہ دل ان کے کسی چیز میں5 اس لیے کہ منکر ہوتے تھے اللہ کی باتوں سے الٹ پڑی ان پر جس بات سے کہ وہ ٹھٹھا کرتے تھے6

4 یعنی مال، اولاد، جتھے، اور جسمانی طاقت جو ان کو دی گئی تھی، تم کو نہیں دی گئی۔ مگر جب عذاب آیا، کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر تم کس بات پر مغرور ہو۔ 5 یعنی نصیحت سننے کے لیے کان اور قدرت کی نشانیاں دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سمجھنے بوجھنے کے لیے دل دیے گئے تھے۔ پر وہ کسی قوت کو کام میں نہ لائے۔ اندھے، بہرے اور پاگل بن کر پیغمبروں کے مقابل ہوگئے۔ آخر انجام یہ ہوا کہ یہ قوتیں سب موجود ہیں اور عذاب الٰہی نے آگھیرا۔ کوئی اندرونی یا بیرونی قوت اس کو دفع نہ کرسکی۔ 6 یعنی جس عذاب کی ہنسی اڑایا کرتے تھے وہ ان پر واقع ہوا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کو دل اور کان اور آنکھ دی تھی۔ یعنی دنیا کے کام میں عقلمند تھے۔ وہ عقل نہ آئی جس سے آخرت بھی درست ہو۔ "
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم غارت کرچکے ہیں جتنی تمہارے آس پاس ہیں بستیاں7 اور طرح طرح پھیر کر سنائیں ان کو باتیں تاکہ وہ لوٹ آئیں8

7 یعنی " عاد " کے سوا " قوم ثمود " اور " قوم لوط " وغیرہ کی بستیاں بھی اسی طرح تباہ کی جا چکی ہیں۔ جو تمہارے آس پاس واقع تھیں۔ یہ مکہ والوں کو فرمایا کیونکہ سفروں میں ان کا گزر ان مقامات کی طرف ہوتا تھا۔ 8 مگر اتنا سمجھانے پر بھی وہ باز نہ آئے۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ مدد پہنچی ان کو ان لوگوں کی طرف سے جن کو پکڑا تھا اللہ سے ورے معبود بڑے درجے پانے کو9 کوئی نہیں گم ہوگئے ان سے10 اور یہ جھوٹ تھا ان کا اور جو اپنے جی سے باندھتے تھے11

ف 9 یعنی جن بتوں کی نسبت کہا کرتے تھے کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ سے نزدیک کردیں اور بڑے بڑے درجے دلائیں وہ اس آڑے وقت میں کیوں کام نہ آئے۔ اب ذرا ان کو بلایا ہوتا۔ 10 یعنی آج ان کا کہیں پتہ نہیں۔ نہ عذاب کے وقت ان کو پکارا جاتا ہے آخر وہ گئے کہاں جو ایسی مصیبت میں بھی کام نہیں آتے۔ 11 یعنی ظاہر ہوا کہ بتوں کو خدا بنانا اور ان سے امیدیں قائم کرنا، محض جھوٹی اور من گھڑت باتیں تھیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے پھر وہ چلے کیسے۔ (ربط) اوپر کی آیات میں انسانوں کے تمردو سرکشی کی داستان تھی۔ آگے اس کے مقابل جنوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا حال سناتے ہیں۔ تاکہ معلوم ہو کہ جو قوم طبعی طور پر سخت متمرد اور سرکش واقع ہوئی ہے اس کے بعض افراد کس طرح اللہ کا کلام سن کر موم ہوجاتے ہیں۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جس وقت متوجہ کردیئے ہم نے تیری طرف کتنے لوگ جنوں میں سے سننے لگے قرآن پھر جب وہاں پہنچ گئے بولے چپ رہو پھر جب ختم ہوا الٹے پھرے اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے1

1 بعثت محمدی ﷺ سے قبل جنوں کو کچھ آسمانی خبریں معلوم ہوجاتی تھیں۔ جب حضور ﷺ پر وحی آنا شروع ہوئی وہ سلسلہ تقریباً بند ہوگیا اور بہت کثرت سے شہاب کی مار پڑنے لگی۔ جنوں کو خیال ہوا کہ ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمانی خبروں پر بہت سخت پہرے بٹھلائے گئے ہیں۔ اسی کی جستجو کے لیے جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے۔ ان میں سے ایک جماعت " بطن نخلہ " کی طرف گزری۔ وہاں اتفاق سے اس وقت حضور پرنور ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی اس ٹکڑی کا رخ قرآن سننے کے لیے ادھر پھیر دیا۔ قرآن کی آواز انہیں بہت عجیب اور موثر و دلکش معلوم ہوئی اور اس کی عظمت وہیبت دلوں پر چھا گئی۔ آپس میں کہنے لگے کہ چپ رہو اور خاموشی کے ساتھ یہ کلام پاک سنو۔ آخر قرآن کریم نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ ہی نئی چیز ہے جس نے جنوں کو آسمانی خبروں سے روکا ہے۔ بہرحال جب حضور ﷺ قرآن پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ لوگ اپنے دلوں میں ایمان و ایقان لے کر واپس گئے اور اپنی قوم کو نصیحت کی۔ ان کی مفصل باتیں سورة " جن " میں آئیں گی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ حضور ﷺ کو ان کے آنے جانے اور سننے سنانے کا پتہ نہیں لگا۔ ایک درخت نے باذن اللہ کچھ اجمالی اطلاع آپ ﷺ کو دی اور مفصل حال اس کے بعد وحی کے ذریعہ سے معلوم کرایا گیا۔ کما قال تعالیٰ (قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا) 72 ۔ الجن :1) بعدہ ' بہت بڑی تعداد میں جن مسلمان ہوئے اور حضور ﷺ سے ملاقات کرنے اور دین سیکھنے کے لیے ان کے وفود حاضر خدمت ہوئے۔ خفاجی نے روایات کی بناء پر دعویٰ کیا ہے کہ چھ مرتبہ آپ ﷺ نے جنوں سے ملاقات کی۔ اس لیے روایات میں جو اختلاف ان کے عدد یا دوسرے امور کے متعلق معلوم ہوتا ہے اس کو تعدد وقائع پر حمل کرنا چاہیے۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

بولے اے قوم ہماری ہم نے سنی ایک کتاب جو اتری ہے موسیٰ کے بعدف 2 سچا کرنے والی سب اگلی کتابوں کو3 سجھاتی ہے سچا دین اور ایک راہ سیدھی4

2 کتب سابقہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) کے برابر کوئی کتاب احکام و شرائع کو حاوی نہیں تھی۔ اسی پر انبیائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی یہ ہی فرمایا کہ میں تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کے لیے آیا ہوں۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ اس لیے اس موقع پر انہوں نے اسی کی طرف اشارہ کیا۔ خود تورات میں بھی جو پیشین گوئی نبی کریم ﷺ کی آئی ہے اس کے لفظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ ) " تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا۔ " 3 شاید اس وقت قرآن کا جو حصہ حضور ﷺ نے تلاوت فرمایا تھا اس میں ایسا مضمون آیا ہوگا۔ یا قرائن سے سمجھے ہوں۔ 4 یعنی سچے عقیدے اور عمل کا سیدھا راستہ۔
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم ہماری مانو اللہ کے بلانے والے کو اور اس پر یقین لاؤ5 کہ بخشے تم کو کچھ تمہارے گناہ6 اور بچا دے تم کو ایک عذاب دردناک سے

5 یعنی اس کی بات مانو جو اللہ کی طرف بلا رہا ہے اور اس کی رسالت پر یقین کرو۔ 6 یعنی جو گناہ حالت کفر میں کرچکے ہو، اسلام کی برکت سے سب معاف ہوجائیں گے۔ آئندہ سے نیا کھاتہ شروع ہوگا۔ لیکن یاد رہے کہ یہاں ذنوب کا ذکر ہے۔ حقوق العباد کا معاف ہونا اس سے نہیں نکلتا۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی نہ مانے گا اللہ کے بلانے والے کو تو وہ نہ تھکا سکے گا بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں اس کا اس کے سوا مددگار7 وہ لوگ بھٹکتے ہیں صریح

7 یعنی نہ خود بھاگ کر خدا کی مار سے بچ سکے نہ کوئی دوسرا بچا سکے حضرت شاہ صاحب " فی الارض " کی قید پر لکھتے ہیں کہ " (شیاطین کو) اوپر سے فرشتے مارتے ہیں تو زمین ہی کو بھاگتے ہیں۔ "
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے بنائے آسمان اور زمین اور نہ تھکا ان کے بنانے میں8 وہ قدرت رکھتا ہے کہ زندہ کرے مردوں کو کیوں نہیں وہ ہر چیز کرسکتا ہے9

8 اس لفظ میں " یہود " کے عقیدے کا رد ہے جو کہتے تھے کہ چھ دن میں اللہ نے زمین و آسمان پیدا کیے۔ " ثم استراح " (پھر ساتویں دن آرام کرنے لگا) العیاذ باللہ۔ 9 یعنی بڑا عذاب مرنے کے بعد ہوگا اور اس دھوکا میں نہ رہیں کہ مر کر کہاں زندہ ہوتے ہیں۔ اللہ کو یہ کچھ مشکل نہیں۔ جو آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے نہ تھکا، اس کو تمہارا دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن سامنے لائیں منکروں کو آگ کے کیا یہ ٹھیک نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے ہمارے رب کی10 کہا تو چکھو عذاب بدلہ اس کا جو تم منکر ہوتے تھے11

10 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ دوزخ کا وجود اس کا عذاب کیا واقعی چیز نہیں ؟ آخر سب ذلیل ہو کر اقرار کریں گے کہ بیشک واقعی ہے۔ (ہم غلطی پر تھے جو اس کا انکار کیا کرتے تھے)11 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ اچھا اب اس انکار و تکذیب کا مزہ چکھتے رہو۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ جیسے ٹھہرے رہے ہیں ہمت والے رسول اور جلدی نہ کر ان کے معاملہ میں12 یہ لوگ جس دن دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ ہے جیسے ڈھیل نہ پائی تھی مگر ایک گھڑی دن کی13 یہ پہنچا دینا ہے، اب وہی غارت ہوں گے جو لوگ نافرمان ہیں1

12 یعنی جب معلوم ہوچکا کہ منکرین کو سزا ضرور ملتی ہے۔ آخرت میں ملے یا دنیا میں بھی تو آپ ان کے معاملہ میں جلدی نہ کریں۔ بلکہ ایک معیاد معین تک صبر کرتے رہیں جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا۔ (تنبیہ) بعض سلف نے کہا کہ سب رسول اولوالعزم (ہمت والے) ہیں اور عرف میں پانچ پیغمبر خصوصی طور پر اولوالعزم کہلاتے ہیں۔ حضرت نوح علیہا لسلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ۔ 13 " ڈھیل نہ پائی تھی " دنیا میں یعنی اب تو دیر سمجھتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نہیں آتا۔ اس دن جانیں گے کہ بہت شتاب آیا۔ دنیا میں ہم ایک ہی گھڑی رہے۔ یا عالم قبر کا رہنا ایک گھڑی معلوم ہوگا۔ قاعدہ ہے کہ گزری ہوئی مدت تھوڑی معلوم ہوا کرتی ہے۔ خصوصاً سختی اور مصیبت کے وقت عیش و آرام کا زمانہ بہت کم نظر آنے لگتا ہے۔ 1 یعنی ہم نے نصیحت کی بات پہنچا دی اور سب نیک و بد سمجھا دیا۔ اب جو نہ مانیں گے وہ ہی تباہ و برباد ہوں گے۔ ہماری طرف سے حجت تمام ہوچکی اور کسی کو بےقصور ہم نہیں پکڑتے اسی کو غارت کرتے ہیں جو غارت ہونے ہی پر کمر باندھ لے۔ تم سورة الاحقاف بفضل اللہ وحسن توفیقہ۔ وللہ الحمد والمنۃ۔