46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الاحقاف والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ والدین فر نبر دار اللہ کا اور ان کیل یے دعائیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الہٰی ! ہم ہر ایک نعمت کا شکر یہ ادا کرتے ہیں آپ سے ایسے اعمال صالحہ کی درخواست کرتے ہیں کہ جن سے آپ راضٰ ہوجائیں ۔ ہم سے کوتاہیاں ہوگئی ہیں ان کو معاف کر دیجئے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں اور ان کی دعاؤں کو قبول کیا جاتا ہے لیکن جو لوگ والدین کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں ان پر جہنم کی آگ کو مسلط کیا جائے گا۔ ٭اس کتاب (قرآن مجید ) کو اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زبر دست اور حکمت والا ہے ۔ اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق اور ایک مقرر مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہیں وہ اس چیز کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے ڈرایا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھے کہ ان میں سے کس کس چیز کو تمہارے ان معبودوں نے بنایا ہے جنہیں تم اللہ کے مقابلے میں پوجتے ہو اور کیا اللہ نے انہیں اپنا شریک بنا رکھا ہے ۔ اگر تم راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کی پکار کو نہ یہ سنتے ہیں اور قیامت کے دن تو وہ بالکل صاف انکار کریں گے اور کہیں گے کہ الہٰی ! ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کفار کو جواب دینے سے عاجز آکر کہتے ہیں کہ اصل میں اس قرآن کو انہوں نے خودگھر لیا ہے یا کوئی کھلا ہوا ہے جادو ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فر مادیجئے کہ اگ میں نے اس قرآن کو خود گھڑلیا ہے تو اس جرم پر مجھے اللہ سے کون بچائے گا اور میں تم سے نہیں کہوں گا کہ مجھے بچا لو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور میں کوئی ایسا انوکھا اور نا ہوں ۔ جو مجھے حکم دیا جاتا ہے میں اس کی تعمیل کرتا ہوں ۔ ذرا تم سو چو کہ اگر یہ کلام اللہ کی طرف سے ہے ( اور یقینا ہے) اور تم نے اس کو نہیں مانا تو تمہارا انجا کیا ہوگا ؟ کیا تم سزا سے بچ جائو گے ؟ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ دو ۔ دیکھو تم بنی اسرائیل کو بڑا عالم و فاضل سمجھتے ہو اگر وہ ایمان لے آئے اور تم ایمان نہ لائے اور تم اپنی جگہ تکبر ہی کرتے رہ گئے تو تم ان ظالموں میں شمار ہوگے جنہیں اللہ کی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ فر مایا گیا کہ جنات نے قرآن کریم کو سنا تو خود بھی ایمان لے آئے اور اپنی قوم کو بھی اس پر آمادہ کیا کہ وہ اللہ کے کلام پر ایمان لے آئیں لیکن انسان کیسا بدنصیب ہے کہ وہ جنات جو انسانوں کی جنس سے بھی نہیں ہیں وہ تو ایمان کی دولت سے مالا مال ہورہے ہیں اور خاص طور پر جن انسانوں کے لیے قرآن بھیجا گیا تھا وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سعادت سے محروم ہیں۔ ٭وہ کہتے ہیں کہ اگر ہماری کتاب کے مقابلے میں قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو دوسروں کے مقابلے میں ہم سب سے پہلے اس کو مانتے اور اہمارے بڑے اور ذہین لوگ اس طرف توجہ کرتے چونکہ انہوں نے بھی اس کو قبول نہین کیا لہذا ایسا لگتا ہے کہ اس میں یقینا کوئی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قرآن سے پہلے اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اس زمانے کے لوگوں کی ہدایت کے لیے توریت کو نازل کیا اسی طرح اللہ نے عربی زبان میں اس قرآن کو نازل کیا ہے جو ظا لموں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ہے ۔ تمہاری کتاب کی تصدیق کرتا ہے اس میں نیک عمل کرنے والوں کو قدم قدم پر خوش خبریاں دی گئی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہما را رب اللہ ہے ۔ وہ اسی بات پر زندگی بھر رجمے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی رنج و غم نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ کی جنتوں میں رہیں گے۔ ٭ فرمایا والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ ان کی فرمانبرداری کا یہ حال ہے کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتے ہیں اور چالیس سال ہی کی عمر کے باوقار ، سنجیدہ اور اعتدال پسند ہوتے ہیں تو وہ اس طرح دعا کرتے ہیں الہٰی ! میں ان تمام نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہوں جو آپ نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہیں ۔ مجھے ایسے اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما دیجئے جس سے آپ راضی ہوجائیں ۔ اور میری اولاد کو بھی بھلائی کی صلاحیت اور توفیق عطا فرما دیجئے۔ اور مجھ سے جو کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہیں ان کو معاف کردیجئے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو خوش خبری ہے کہ اللہ ان کے اعمال کو قبول کرلے گا۔ ان کی خطاؤں سے درگزر کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ لیکن وہ لوگ جو والدین کے ساتھ گستاخی کا اندازہ اختیار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم حشر نشر اور جزا سزا کو نہیں مانتے یہ سب بےاصل اور بےبنیاد باتیں ہیں ۔ فرمایا کہ قیامت کے دن جب ایسے لوگوں کے سامنے جہنم کو لا یا جائیگا اور اللہ عذاب کا وعدہ پورا کرے گا تو یہ لوگ سرا سر نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں بہت مزر اڑا چکے ہو اب اس کی سزا بھگتوں اور اس طرح ان کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ ٭ قوم عاد جن کی اصلاح کے لیے حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کو کفر و شرک سے منع کیا تو انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا۔ جب ان سے کہا گیا کہ اگر تم نے اپنے کفر و شرک سے توبہ نہ کی تو تمہارے اوپر اللہ کا عذاب آسکتا ہے ۔ تو پوری قوم نے بڑی ڈھٹائی سے کہا ا ہے ہود (علیہ السلام) ! اگر تم سچے ہو تو اس عذاب کو لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو۔ جب وہ اپنی ضد پر جمے رہے تو اللہ نے ان پر ہوا کا زبر دست طوفان بھیجا جس نے انکی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ ہوا کی تیزی کا یہ حال تھا کہ وہ قوم عاد کو زمین اور پتھروں پر پٹک پٹک کر ماررہی تھی۔ اہل مکہ سے کہا گیا کہ قوم عاد تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قوم تھی لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسول اور دین کا مذاق اڑایا تو ان کی طاقت و قوت ان کے کسی کام نہ آسکی جب کہ تم کو ان کے مقابلے میں کوئی خاص طاقت نہیں رکھتے ہو۔ عبرت دلانے کے لیے فرما یا کہ آج تم ان ہی قوموں کے کھنڈرات کے پاس گزرتے ہو جنہین جس طرح سمجھایا گیا تھا جب انہوں نے اللہ و رسول کے احکامات کو ماننے سے انکار کیا تو ان کو بچانے کی بھی نہ آسکا۔ اہل مکہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے جنات کے متعلق بتایا گیا کہ جنات تو قرآن کو سن کر ایمانے لے آئے لیکن تم انسان ہو کر بھی ایمان کی لذت سے محروم ہو۔ ٭ فرمایا کہ جنات نے جب قرآن کریم کو سنا تو انہوں نے نہایت خاموشی سے سنا اور خود بھی ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایک ایسا عجیب و غریب کلام سنا ہے جو سیدھا راستہ بتا تا ہے ۔ اگر تم اللہ کے اس کلام پر ایمان لے آئے تو تمہاری خطائیں معاف کردی جائیں گی لیکن اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اللہ کے عذاب سے تمہیں کوئی بھی بچا نہ سکے گا اور تمہاری مدد کے لیے کوئی نہ آسکے گا۔ ٭ مکہ والوں نے فرمایا کہ تم بھی جنات کی طرح ایمان لے آئو اور جہنم کی آگ سے بچ جائو۔ وہ اللہ ایسا ہے جس کی ہر چیز پر قدرت ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ جب قیامت میں ان منکرین سے پوچھا جائے گا کہ بتائو کیا قیامت ایک حقیقت نہیں ہے ؟ اس وقت ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ کہیں گے کہ واقعہ ہم غلطی پر تھے تو اللہ ان سے فر مائیں گے کہ اب عذاب جہنم کا مزہ چکھو۔ ٭ آخری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کفار و مشرکین کی حرکتوں پر صبر کیجئے۔ جب یہ لوگ اپنے سامنے جہنم کو دیکھیں گے تو ان پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ان کی اتنی مدت بھی ایسی لگے گی جیسے وہ دن کی ایک کھڑی دنیا میں ٹھہر کر آئے ہیں اور پھر ان پر جہنم کو مسلط کردیا جائے گا۔

Ayahs 46:1–6

حٰمٓۚ Open ayah 46:1 in the Quran reader

حا ۔ میم حروف مقطات (معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل ہونا اس اللہ کی طرف سے ہے جو زبر دست اور حکمت والا ہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں سوائے حق کے اور کچھ نہیں بنایا اور یہ بی ایک مقرر مدت تک کے لئے ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں کفر و انکار کیا ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (پرواہ نہیں کرتے ) ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں وغیرہ ) کی عبادت و بندگی کرتے ہو مجھے یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین سے کیا چیز بنائی ہے ؟ کیا وہ آسمانوں کے بنانے میں شریک رہے گی ؟ اگر تم سچے ہو تو اس (قرآن سے پہلے) جو کتاب (اتاری گئی ہے ) اس کو لے آئو یا کوئی ایسا علم لے آئو جو متعبر ہو۔

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اس بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکار تا ہے جو قیامت تک نہ تو ان کی پکار کو سن سکتے ہیں اور نہ ان کو ان مشرکوں کی پکار تک خبر ہوگی۔

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب (قیامت کے دن) سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو یہ (جھوٹے معبود) نہ صرف ان کے دشمن بن جائیں گے بلکہ وہ ان کی اس عبادت ہی کا انکار کردیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

تشریح : آیات نمبر 1 تا 6 سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی انہوں نے مجھے پڑھا اور مجھے پر ایمانا لائے تو آپ ان کو جہنم میں داخل نہ کیجئے یقینا ان سورتوں کی سفارش سے وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! یہ کتاب (قرآن مجید) اس اللہ نے بندوں کی ہدایت کے لئے نازل کی ہے جو زبردست طاقت و قوت والا اور ہر علم و حکمت کی بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کے پیدا کرنے کا عظیم مقصد ہے کوئی چیز اس نے بیکار اور فضول پید انہیں کی بلکہ ہر چیز کے پیدا کرنے میں ایک خاص مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہ سب اللہ کے نظام کے تحت جاری ہے جو اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک وہ مدت پوری نہ ہوجائے جس کو اللہ نے متعین فر مادیا ہے ۔ اس کے پیدا کرنے اور اس کا نظام چلانے میں وہ کسی کا محتاج بھی نہیں ہے بلکہ سب ساس کے محتاج ہیں وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کائنات کے خالق ومالک اللہ کو چھوڑ کے بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جب ساری حقیقت ان کے سامنے کھل کر آجائے گی تو ان کے سامنے سوائے شرمندگی اور پچھتاوے کے اور کچھ بھی نہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ ذرا ان سے پوچھئے کہ جن چیزوں کو انہوں نے اپنا معبود قرار دے رکھا ہے انہوں نے کائنات میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے ؟ کہئے کہ اگر انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے تو ذرا مجھے بھی تو دکھائو یا قرآن کریم سے پہلے جتنی کتابیں نازل کیں یا انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے تو ان کو توحید درس ہی دیا ہے جسے قرآن کریم پیش کر رہا ہے ۔ وہ نہ تو دنیا میں ان کے کسی کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ بلکہ وہ آخرت میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ الہٰی ہمیں تو نہیں معلوم کہ یہ لوگ ہماری عبادت کیوں کرتے تھے۔ انہوں نے جو بھی عبادت کی ہے وہ انہوں نے اپنی مرضی اور خوشی سی کی ہے اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ وقت ان لوگوں کے لئے کس قدر حسرت اور ندامت کا ہوگا جب ان کے جھوٹے معبود بھی ان کی مخالفت پر اتر آئیں گے وہ ان جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے مگر وہ ان کو ان کی پکار کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔
Ayahs 46:7–12

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انہیں ہماری کھلی کھلی آیاتا سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر (حق و صداقت کو سمجھنے کے باوجود ) یہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو آپ نے خود سے گھڑ لیا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اس قرآن کو خود سے گھڑلیا ہوتا تو کیا تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی بچاسکتے تھے۔ تم جو باتیں بنا رہے ہو وہ انہیں خوب اچھی طرح جانتا ہے ۔ اور (کہہ دیجئے کہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے ۔ وہی معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول تو نہیں ۔ نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے ۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں ( عمل کرتا ہوں) جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور میں تو ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے اور تم اس کے ماننے سے انکار کر دو اور بنی اسرائیل اس کتاب کے اللہ کی طرف سے ہونے کی گواہی دیدیں اور اس پر وہ ایمان بھی لے آئیں اور تم (اپنی جہالت و نادانی میں ) تکبر ہی کرتے رہ جائو۔ (تو پھر تم سے بڑا بد نصیب ظالم کون ہوگا ) بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر اہل ایمان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اگر (اس میں ) کوئی خیر ہوتی تو یہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اور کافر اہل ایمان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی خیر ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ نکلتے۔ چونکہ ان منکرین کو اس (قرآن) سے ہدایت حاصل نہیں ہوئی تو وہ کہتے ہیں کہ توہ وہی پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو (کتاب دی گئی تھی) جو رہنما اور ہدایت کے اعتبار سے رحمت تھی۔ اور یہ قرآن جو عربی زبان میں ہے اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ ظالموں کو آگاہ اور خبر دار کردیا جائے اور نیک اعمال کرنے والوں کو خوش خبری سنادی جائے۔

تشریح آیات 7 تا 12 قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور اعلیٰ ترین مضامین کے سامنے وہ بےبس نظر آنے لگے اور قرآن کریم کسی چیلنج کا وہ جواب نہ دے سکے بلکہ نعوذ باللہ وہ کہتے تھے کہ اس کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خود سے گھڑلیا ہے انہوں نے اپنی شرمندگی کو مٹانے ، ضد، ہٹ دھرمی ، غرور ، تکبر اور رسول دشمنی میں اس سچائی کو بےحقیقت بنانے کی لئے طرح طرح کی باتیں مشہور کردیں۔ کبھی قرآن کریم کو جادو کہتے کیونکہ وہ ہر اس بات کو جادو کہہ دیا کرتے تھے جو ان کی طاقت و قوت سے بڑھ کر ہوا کرتی تھی۔ کبھی وہ یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ اصل میں قرآن کریم حضرت محمد ﷺ نے خود ہی گھڑ کر اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ۔ کبھی وہ یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا بھی ہے ، با ل بچے بھی رکھتا اور ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ انہیں اہل کتاب میں سے بنی اسرائیل کے علم پر بہت بھروسہ اور اعتماد تھا اور وہ ان ہی لوگوں کو اہل دانش سمجھتے تھے یا انکو اہل علم سمجھتے تھے جن کے پاس دولت کی ریل پیل ہوا کرتی تھے اسی لئے وہ کہتے کہ اگر دین اسلام کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہوتی تو ہم اور ہمارے اہل علم و دانش سب سے پہلے اس کتاب کو قبول کرتے۔ عمار ؓ ، بلال ؓ ، صہیب ؓ اور خباب ؓ جیسے کمزور لوگ اور لونڈی غلام اسلام کو قبول نہ کرتے۔ حالانکہ ایمان لانے والوں میں قریش کے معززین حضرت ابو بکرصدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی مرتضٰی ؓ جیسے عظیم لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوچکے تھے لیکن وہ دین اسلام کی حقارت کے لئے ان غریبوں ، کمزوروں ، لونڈیوں اور غلاموں کا نام لیتے تھے جو ان کے معاشرے میں حقیر سمجھے جاتے تھے۔ ان تمام باتوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی اعلیٰ تعلیمات سے لوگوں کو اس طرح بد ظن کردیا جائے کہ ہر شخص ان کے قریب جانے سے گھبرانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کی ان تمام باتوں اور اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کفار کا یہ حال ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت بھر پور ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے ۔ وہ ایک مسلسل جھوٹ کا سہارا لے کر کہا کرتے تھے کہ اصل میں اس شخص نے اس قرآن کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ۔ اللہ نے فرما یا کہ اے نبی ﷺ آپ لوگوں کے سامنے صاف صاف اعلان کر دیجئے کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو مجھے اللہ کے عذاب سے بچانے والا کون ہوتا۔ اس قرآن کے سلسلہ میں میرا گواہ صرف اللہ ہے جو اس بات کو جانتا ہے کہ تم اللہ کے لئے کیا کیا باتیں بناتے ہو۔ وہ اللہ جو بہت مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے ۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ یہ بھی کہہ دیجے کہ میں کوئی ایسا انوکھا یا نیا رسول نہیں ہوں کہ تمہارے گمان کے مطابق کھانے، پینے اور بیوی بچھے رکھنے سے بےنیازہوں بلکہ مجھ سے پہلے بہت سے پغمبر تشریف لائے ہیں جو انسان ہی تھے اور انہوں نے اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچایا ۔ اسی پیغام الہی کو لے کر میں بھی آیا ہوں میرا دعویٰ نہیں ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں ۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آئندہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ اللہ کا کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ میں تو وہی بات بتا تا ہوں جو اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے ۔ میں بھی اسی کی پیروی کرتا ہوں اور میں تمہیں نہایت وضاحت سے صاف صاف طریقے پر آگاہ کرنے والا ہوں ۔ فرمایا کہ تم اہل کتاب بنی اسرائیل کو بہت پڑھا لکھا مانتے ہوذرا اس بات پر غور کرو کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے ( اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہے ) تم تو اللہ کا مسلسل انکار کرتے رہو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی اس کتاب کے مومن جانب اللہ ہونے کا اقرار کر کے اس پر ایمان لے آئے اور تم تکبر ہی کرتے رہ جائو اس صورت میں تم سے بڑا ظالم اور بد نصیب اور کون ہوگا ۔ واقعی اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارنے والے بےانصاف اور ظالم ہوں ۔ فرمایا کہ اے کفار قریش ! تمہارا یہ کہنا کہ اگر اس میں کوئی خیر اور بھلائی ہوتی تو ہم اس کے قبول کرنے میں دیر نہ کرتے اور لوگوں سے پیچھے نے رہتے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ پرانا جھوٹ ہے جو مسلسل چلا آرہا ہے اس پر ہم اعتماد کیسے کرلیں ۔ فرمایا کہ ذرا غور تو کرو اس سے پہلے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب عطا کی تھی جو اپنے زمانہ کے لئے رہبر و رہنما تھی۔ اسی طرح یہ قرآن مجید بھی ہے جو سچائیوں کا مجموعہ ہے اور اسکو تمہاری سہولت و آسانی کے لئے عربی زبان میں نازل کیا ہے جو توریت کی تصدیق کرتا ہے اس کا انکار نہیں کرتا یا اس کو جھوٹا نہیں بتاتا۔ توریت اور قرآن یہ اللہ کی کتابیں ہیں جو بد عملوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ اور خبر دار کرنے والی ہیں اور ان لوگوں ک لئے بہترین انجام کی خوش خبری ہے جو نیک عمل کرنے والے ہیں۔
Ayahs 46:13–20

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگونے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس کہنے پر وہ مضبوطی سے ڈٹے رہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ جنت والے ہیں جو ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے وہ اعمال جو انہوں نے کئے ہوں گے ان کا یہ بدلہ ہوگا۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اسے بڑی مشقت سے اپنے پیٹ میں رکھا اور بری دشواری سے اسے جنا۔ اور اس کو پیٹ میں رکھنے اور دودھ چھوڑنے کی (اکثریت ) تیس (30) مہینے ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کا ہوگیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی نعمت کا شکر ادا کرنے کی ہمیشہ توفیق دیئے رکھئے گا۔ وہ نعمت جو آپ نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے۔ اور مجھے ایسے نیک عمل کی توفیق دیجئے گا کہ جس سے آپ راضی ہوجائیں ۔ اور میرے لئے میری اولاد کو بھی نیک اعمال کی صلاحیت عطا کیجئے گا۔ میں آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں اور (میں اقرار کرتا ہوں کہ) میں آپ کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال کع جو انہوں نے کئے ہیں ہم قبول کرلیں گے۔ اور ان گناہوں سے درگذر کریں گے اور وہ اہل جنت میں سے ہوں گے ۔ یہ معاملہ ان سے اللہ کے اس سچے وعدے کی وہ سے ہوگا جو ان سے کیا گیا تھا۔

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ سے یہ کہا کہ تم دونوں پر افسوس ہے کہ تم مجھے اس بات کی اطلاع دے رہے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا ۔ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں۔ اولاد کی بات سن کر ماں باپ اللہ سے فریاد کرتے ہوئے کہیں گے کہ ارے تیرا ستیا ناس جائے تو ایمان لے آ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اس پر وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات پوری ہوکر رہی تھی۔ بیشک یہ وہ لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق (الگ الگ) درجے ملیں گے اور ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ذرا بی ظلم و زیادتی نہ کی جائے گی۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور وہ دن (کتنا ہیبت ناک ہوگا ) جب کفار آگ کے سامنے حاضر کئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے حصے کی نعمتیں حاصل کرچکے تھے اور ان سے خوب فائدے اٹھا چکے تھے تو آج تم اس ناحق تکبر ار نا فرمانیوں کی وجہ سے جو تم دنیا کیا کرتے تھے تمہیں ذلت والا عذاب دیا جائے گا۔

تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20 قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کردے تو پھر زندگی کے آخری سانس تک اسی پر جما رہے اور اس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ ایک مرتبہ حضرت سفیان ابن عبداللہ ثقفی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے دین اسلام کی ایک ایسی جامع اور مکمل بات بتادیجئی کہ پھر اس کے بعد مجھے اس سلسلہ میں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ نے جواب فرمایا ” قل امنت باللہ ثم استقم “ یعنی تم یہ کہو کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا اور پھر اس عقیدہ پر قائم رہو اور ڈٹے رہو۔ استقامت کیا ہے اس کی وضاحت حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے اس طرح فرمائی ہے کہ استقامت یہ ہے کہ اس پر جو بھی فرائض عائد ہوتے ہیں ان کو پوری طرح ادا کرنا اور اس پر قائم رہنا (ابن کثیر ) خلاصہ یہ ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد حالات کتنے بھی مخالف کیوں نہ وہوں آدمی کو ان حالات کا اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے کہ عقیدے اور عمل میں ذرا بھی ڈگمگاہٹ آنے نہ پائے۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ہو اس کو اسی طرح کرنا اور جس چیز سے منع کردیا ہو اس سے رک جانا۔ یہ انسان کی اتنی بڑی کامیابی ہے کہ پھر نہ تو ماضی پر کوئی شرمندگی، پچھتاوا اور خوف ہوگا اور نہ اخرت کا رنج ہوگا۔ اس بات کو سورة حم المسجد میں ذرا سی تفصیل سے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے “ بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹے رہے تو ان پر اللہ کے فرشتے (رحمتیں لے کر ) نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم کسی طرح کا نہ تو خوف کرو اور رنج و غم ۔ اور اس جنت کے ملنے پر خوش ہوجائو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں میں) تمہارے ساتھ ہوں گے۔ تمہیں ان جنتوں میں ہر وہ چیز دی جائے گی جو تمہارا دل چاہے گا اور جو مانگو گے وہ تمہیں ملے گا۔ یہ رحمٰن و رحیم اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی۔ (حم السجدہ آیت نمبر 30 تا 32 ) (1) ۔ ان آیات میں ایمان پر استقامت کے ساتھ والدین اور خاص طور پر ماں کے ساتھ حسن سلوک، اور ان کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس بات کی وضاحت فر مادی گئی ہے کہ اگر والدین کا فرد مشرک ہوں تب بھی ان کی خدمت، حسن سلوک اور احترام میں کمی نہ لائی جائے۔ البتہ اگر والدین کفر و شرک یا گناہ کی زندگی اختیار کرنے کا حکم دیں تو اس سے انکار کردینا فرض ہے کیونکہ گناہ اور معیصت میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ لیکن والدین کے کفر و شرک کی وجہ سے ان کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (2) بیشک کائنات میں صرف ایک اللہ ہی ہے جو سب کی پرورش کر رہا ہے لیکن دنیا کے ظاہری اسباب میں ماں باپ کے دل میں اللہ نے اپنی اولاد کی ایسی محبت و شفقت ڈال دی ہے کہ ہر بچہ والدین کی شفقت و محبت کے سائے میں پل بڑھ کر جو ان ہوتا ہے۔ اس محبت و شفقت اور اولاد کے لئے تکلیفیں برداشت کرنے میں ماں اور باپ دونوں کا برابر کا درجہ ہوتا ہے لیکن اللہ نے مرد کو زیادہ طاقت ور اور حوصلہ مند بنایا ہے لیکن ماں تو صنف نازک ہونے کے باوجود بچے کی پیدائش سے لے کر اس کو جوان ہونے تک مشقت پر مشقت اٹھاتی ہے ۔ ایک ماں اپنے بچے کو نو مہینے یا اس کم یا زیادہ عرصے تک پیٹ میں رکھتی ہے۔ بوجھ پر بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے مگر ماں اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہے، چلنے پھرنے ، سونے جاگنے اور ہر قدم اٹھانے میں انتہائی احتیاط کرتی ہے ، اس کو خون جگر پلاتی ہے، پھر زندگی اور موت کی جیسی تکلیف برداشت کرکے اس کو دنیا میں جیتے جاگتے انسان کی شکل میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ کم از کم چھ مہینے یا اس سے کچھ زیادہ اپنے پیٹ میں رکھنے کے بعد دو سال تک اس کو دودھ پلاتی ہے ۔ وہ دودھ جو اس کی بہترین غذا ہوتی ہے۔ اگر بچہ کمزور یا بیمار ہے تو اس کو ڈھائی سال تک بھی دودھ پلاتی ہے۔ اگر بچہ بیمار ہوجائے تو ماں رات بھر بےچین و بےقرار رہتی ہے۔ یہ اور اسی طرح کی ہزاروں تکلیفیں ایک ماں ہی اٹھاسکتی ہے لہذا باپ سے زیادہ ماں اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جائے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ (ایک مومن کو) اپنی والدہ کے ساتھ بہترین معاملہ کرنا چاہیے۔ اپنی والدہ کی پھر اپنی والدہ کی پھر والدہ کی اس کے بعد والد کی اور اس کے بعد جو قریب ترشتہ دار ہوں ان کے ساتھ خدمت اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ (بصری) ۔ (3) ان آیات میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یوں تو زندگی میں ہوش سنبھالنے کے بعد سے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرنا فرض اور عین سعادت ہے لیکن جو ان ہونے کے بعد جب ایک آدمی چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے جب زندگی میں ایک پختگی اور عقل آجاتی ہے تب اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اب اس نے بڑھاپے کی طرف قدم رکھنا شروع کردیا ہے۔ ایسے شخص کو اس بات کا شدت سے احساس ہونا چاہیے کہ اگر اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا تو اس کے بڑھاپے میں اس کی اپنی اولاد ، اس کی بیوی اور رشتہ دار بھی اس کا لحاظ نہ کریں ۔ (4) ۔ چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اولاد دو طرح کی ہوتی ہے فرماں بردار اور نافرمان۔ فرماں بردار اور اطاعت گذار نیک اولاد کا انداز تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرتی ہے اور اس کی زبان پر یہ بات ہوتی ہے کہ الہٰی ! آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر جو انعامات اور کرم کئے ہیں میں نہ صرف اس کا شکر ادا کرتا ہوں بلکہ مزید شکر ادا کرنے کی توفیق کی درخواست کرتا ہوں تاکہ میں حسن عمل میں سب سے آگے نکل جاؤں ۔ وہ اس بات کی بھی دعا کرتا ہے کہ الہٰی ! میری اولاد کی بھی اصلاح فرمادیجئے تاکہ وہ بھی آپ کے دین کی خدمت میں کام آسکے۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اس کی فرماں برداری کا اقرار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی دعاؤں کو قبول کر کے ان کو بھول چوک سے درگذر کرتا ہوں اور ان سے یہ سچاوعدہ کرتا ہوں کہ میں ان کو جنت کی راحتیں ضرورعطا کروں گا۔ اس کے خلاف ایک اولاد ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اپنے والدین کے احسانات کو ماننے کے بجائے ان کے سامنے بےادبی اور گستاخی کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مجھے تمہارے طریقے پسند نہیں ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ بھلا یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جب میں مر جائو گا دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا۔ کیا مجھ سے پہلے بیشمار وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو کر واپس آیا ہے ؟ جب والدین اس کی جاہلانہ باتوں سے اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے بدنصیب ان حرکتوں سے باز آجا۔ اللہ پر ایمان لے آتو وہ اس کے جواب میں کہتا ہے یہ سب تو پرانے زمانے کے وہ قصے ہیں جن کو نجانے کب سے ہم سنتے آرہے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نالائقیوں کی وجہ سے نجات کا سامان کرنے کے بجائے ہر طرح کے گناہ سمیٹتے رہتے ہیں۔ اس کے والدین اس کا کافرانہ باتوں کو سن کر اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں ۔ اور اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کم بخت تو اب بھی اپنی حرکتوں سے باز آجا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔ وہ یہی کہتا ہے کہ یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں یعنی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح بہت سے جنات اور انسانوں میں سے انکار کرنے والوں کا انجام ہو اس کا بھی وہی برا انجام ہوگا ۔ وہ سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور اس کو سوائے بد نصیبی کے اور کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ وہ لوگ جو سعادت مند ، نیک ، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہیں اور ان کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ کے نافرمان اور گستاخ ہیں ان کے اپنے اعمال کے مطابق درجات ہوں گے۔ کوئی جنت کی راحتوں سے لطف اٹھارہا ہوگا اور کوئی اپنے برے اعمال کی وجہ سے جہنم کی آگ میں جھلس رہا ہوگا اور اس طرح ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ حاصل کرسکے گا اور کسی پر کسی طرح کا ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ کافروں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب جہنم کو ان کے سامنے لایا جائے گا کہ تم نے آخرت کی زندگی اور اس کی راحتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی اور اس کی راحتیں حاصل کرنے میں اپنی ساری صلاحیتوں کا لگا کر خوب عیش و آرام سے زندگی گذارلی اور خوب شہرت اور عزت کمائی اب آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ آج تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے اس کو بھگتو۔ چونکہ تم دنیا کی ذرا سی دولت کی وجہ سے غرور وتکبر کا پیکر بنے ہوئے تھے آج تمہیں ایسا عذاب دیا جائے گا جو تمہیں رسوا اور ذلیل و خوار کر کے رکھ دے گا اور تم پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار برسے گی۔
Ayahs 46:21–33

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ قوم عاد کے بھائی (حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنی قوم کو (جو ایک ریگستانی علاقہ میں رہتی تھی اللہ کے خوف سے ) ڈرایا تھا ۔ اور یقینا سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے ڈرانے والے گذر چکے تھے جنہوں نے یہی کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرنا۔ حضرت ہود نے کہا میں تم پر ایک سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دے۔ اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(حضرت ہود (علیہ السلام) نے ) کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ۔ میں تو تمہیں وہ پیغام پہچارہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے ۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس عذاب کو ایک بادل کی شکل میں دیکھا جو ان کی وادی کی طرف آرہا تھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو وہ ہے جو ہم پر برسے گا۔ (اللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ) یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے۔ یہ ایک سخت آندھی تھی (ہوا کا طوفان تھا) جس میں دردناک عذاب تھا۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔ پھر وہ لوگ ایسے برباد ہوئے کہ سوائے گھروں کے کچھ نظر نہ آتا تھا اور اسی طرح ہم مجرم (گناہ گار) قوم کو سزادیا کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

بیشک ہم نے انہیں (دنیاوی مال و دولت کی) وہ قوت و طاقت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی گئی۔ ہم نے ان کو کان ، آنکھ اور دل دیئے تھے۔ پھر جب انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو ان کے کان ، آنکھ اور دل کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور جس (عذاب کا ) وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بہت سی بستیوں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تہس نہس کردیا تھا اور ہم نے ان کو طرح طرح کی نشانیاں دکھائیں تاکہ وہ لوٹ آئیں (توبہ کرلیں )

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے جن چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا تاکہ وہ ان کے ذریعہ قرب حاصل کریں انہوں نے ان کیو کوئی مدد نہ کہ ۔ بلکہ وہ سب کے سب غائب ہوگئے ۔ اور انہوں نے غیر اللہ کو اپنا معبود بنایا یہ ان کا (اللہ پر) محض ایک الزام تھا اور جھوٹی اور غلط باتیں تھیں۔

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور یاد کیجئے جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو قرآن سن رہے تھے۔ پھر جب وہ حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ پھر جب تلاوت کی جاچکی تو وہ جنات اپنی قوم کو آگاہ اور خبر دار کرنے کیلئے لوٹ گئے۔

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک ایسی کتاب (کی تلاوت) سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے سے پہلے تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ حق و صداقت اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم کے لوگو ! تم اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات سنو ! اس پر ایمان لائو تو اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے محفوظ رکھیگا۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ زمین میں کہیں بھاگ کر اللہ کو عاجز اور بےبس نہ کرسکے گا اور نہ اللہ کے سوا کوئی اس کا حمایتی ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور وہ ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی نہیں تھکا۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ کیوں نہیں بلا شبہ یر چیز پر قدرت رکھنے والاوہی تو ہے۔

تشریح آیات نمبر 12 تا 28 قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ ہوا کہ زبر دست طاقت وقوت ہونے کے باوجود جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کے گھروں کے کھنڈرات بھی مشکل سے نظر آتے ہیں ۔ اہل مکہ سے فرمایا جارہا ہے کہ تمہارے اندر اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لا چکے ہیں جو ان کو دوسرے پغمبروں کی طرح یاد دلا رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے کفر و شرک اور تکبر سے توبہ نہ کی تو وہ برے انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں لیکن اگر انہوں نے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلی اور رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری قبو ل کرلی تو ان کو قوم عاد سے زیادہ قوت و طاقت ، حکومت و سلطلنت اور عزت و عظمت نصیب ہوگی۔ قوم عاد اور ان کے پغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم عاد قدیم زمانے کی ایک زبر دست تر قی یافتہ قوم تھی جو احقاف کے علاقے (الربع الخالی) میں آباد تھی جب ان کے کفر وشرک ، نا فرمانیوں ، غرور وتکبر کی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا تو ان کی بستیاں اس طرح اجاڑ کر رکھ دی کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ اہل مکہ سے فرمایا جار ہا ہے کہ مال و دولت طاقت و قوت ، حکومت سلطلنت اور ان کی زبر دست ترقیات کے مقابلے میں تمہاری حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ تم چند بستیوں اور شہروں تک محدود ہو جب کہ قوم عاد زمین کے اکثر ح سے پر چھائی ہوئی تھی۔ لیکن نا فرمانیوں ، غرور وتکبر کی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا تو ان کی بستیاں اس طرح اجاڑ کر رکھ دی گئیں کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے ۔ اہل مکہ سے فرمایا جارہا ہے کہ مال و دولت، طاقت و قوت حکومت و سلطلنت اور ان کی زبردست ترقیات کے مقابلے میں تمہاری حیثیت کچھ بھی نہیں ہے ۔ تم چند بستیوں اور شہروں تک محدود ہو جب کہ قوم عاد زمین کے اکثرحصے پر چھائی ہوئی تھی۔ لیکن نافرمانیوں کی وجہ سے آج ان کا وجود اس طرح مٹ گیا کہ اگر کوئی ان کی ویران اور برباد آبادیوں اور بستیوں کو دیکھتا ہے تو وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس علاقے میں کبھی کوئی زبر دست اور ترقی یافتہ قوم آباد تھی۔ عذاب الہٰی سے پہلے وہ ایک سر سبز و شاداب سلطنت اور دنیاوی تر قیات میں نمایاں حیثیت کی مالک تھی مگر عذاب الہٰی آنے کے بعد وہ پورا علاقہ ایک ایسے خوفناک ریگستان میں تبدیل ہوگیا ہے کہ جس کے اندرونی علاقوں میں دن کی روشنی میں جاتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ قوم عاد یمن میں حضرت موت اور نجران کے درمیانی علاقے میں آباد تھی۔ صحرا میں ریت کے ٹیلے پہاڑوں کی طرح سر اٹھائے کھڑے تھے۔ زمین پیداوار کے قابل نہ تھی مگر اس قوم نے نہایت محنت سے اسے صحرا کو گل و گلزار بنا دیا تھا۔ ہر طرف خوشحالی اور مال و دولت کے ڈھیر تھے ۔ اس قوم نے دنیاوی ترقیات تو ضرور کیں، ان کا معیاری زندگی بہت بلند ہوگیا تھا مگر معیار اخلاق اس قدر پست اور گھٹیا ہوچکا تھا کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے مقابلے میں سب کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ کمزور اور بےبس لوگوں کو سانا، پریشان کرنا، طرح طرح کے ظلم و ستم کرنا، دوسروں کی عزت و آبرو سے کھیلنا ، ایک اللہ کو چھوڑ کر بیشمار بتوں کی عبادت و پرستش کرنا اور گناہوں کے کاموں میں سب سے آگے رہنا یہ اس قوم کا مزاج بن چکا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی اصلاح کیلئے ان ہی کی قوم اور برداری سے حضرت ہود (علیہ السلام) کو پغمبر بنا کر بھیجا۔ جنہوں نے دن رات اپنی قوم کو سمجھایا کہ وہ ظلم و ستم کے راستے سے ہٹ کر لوگوں کو سکون پہنچائیں اور مٹی ، پتھر اور لکڑی سے بنائے ہوئے بتوں کے بجائے صرف اس اللہ کی عبادت و بندگی کریں جس نے اس ساری کائنات کو بنایا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کو بتایا کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو ان کے کفر شرک اور غرور کی وجہ سے اللہ کا عذاب آجائے گا جس سے کوئی نہ بچ سکے گا ۔ حضرت ہو د (علیہ السلام) اس قوم کو دن رات ہر طرح سمجھاتے رہے مگر اس قوم نے حضرت ہود (علیہ السلام) کی باتوں پر کوئی توجہ نہ کی ۔ ان نصیحتوں پر عمل کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ کہنے لگے کہ اے ہود (علیہ السلام) کیا ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑسکتے۔ اور تم جس عذاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہو وہ عذاب ہم پر لے آئو۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا پغمبر انہ اور سنجیدہ جواب یہ تھا کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ تمہارے اعمال کے سبب اللہ کا عذاب تم پر کب آئے گا۔ بہر حال اللہ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا ہے وہ میں نے تم تک پہنچا دیا ہے ۔ مگر حیرت ہے کہ میں تمہیں اللہ کی رحمت کی بلا رہا ہوں اور تم اس کی رحمت کے بجائے اس کا عذاب مانگ رہے ہو ۔ بڑی جہالت اور نادانی کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اس قوم کی نا فرمانیاں بہت بڑھ کئیں اور ہر طرح سمجھانے کے باوجود انہوں نے کفرو شرک اور تکبر اور غرور سے توبہ نہ کی تو اللہ کے عذاب کے آثار آنا شروع ہوگئے۔ پورے ملک میں بارشوں کی شدید کمی ہوگئی جس سے ان کے سر سبز و شاداب باغات بےرونق ہوگئے ۔ ان کی کھیت خشک ہونا شروع ہوگئے۔ گرمی کی شدت کا یہ حال تھا کہ گھر اور گھر سے باہر کہیں بھی سکون نہیں ملتا تھا۔ ایک دن جب انہوں نے آسمان کے ایک طرف سے تیز گھٹاؤں کو اٹھتے دیکھا تو خوشی سے بےقابو ہو کر کہنے لگے کہ دیکھو کیسے زبردست بادل ہماری طرف آرہے ہیں۔ اب خوب بارش برسے گی ، ہمارے ندی نالے بھر جائیں گے ، پانی کی کمی نہ رہے گی، ہر طرف سر سبز شادابی ہوگی اور موسم خوش گو ار اور ٹھنڈا ہوجائے گا ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تم جس بادل اور بارش کو اپنی راحت کا ذریعہ سمجھ رہے وہ اللہ کا عذاب ہے جو تمہاری طرف بڑی تیزی سے چلا آرہا ہے اگر اب بھی تم نے توبہ نہ کی تو یہ عذاب اتناسخت ہوگا جو تمہیں اور تمہاری بستیوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دے گا۔ قوم ہود (علیہ السلام) کی نصیحتوں پر کوئی توجہ نہ کی ۔ نتیجہ ہوا کہ طوفانی جھکڑ چلنا شروع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ ہوا کے یہ جھکڑ تیز ہونا شروع ہوئے اور انسان ، درخت اور جانوروں کی حیثیت ایک تنکے سے زیادہ نہ رہی۔ ہوا کی شدت کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کو اور جانوروں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی کہ ان کے سر اور جسم پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہورہے تھے ۔ شدید طوفانی ہواؤں نے ان کے گھروں کی چھتیں اڑا کر رکھ دیں غرضیکہ اس طوفانی ہوا نے چیز کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا اور ہر طرف تباہی پھیل گئی ۔ آخر کار مکانوں کے کھنڈرات کے سوا کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ جس قوم نے بھی اللہ کی نافرنی کی اس کا یہی انجام ہوا۔ فرمایا کہ قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم سبا، اصحاب مدین اور اہل یمن بھی بڑی طاقتوں والے تھے لیکن جب انہوں نے مسلسل اللہ کی نا فرمانیاں کیں اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی نصیحتوں سے انکار کیا تو ان کو بھی اللہ نے اس طرح تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا کہ پھر ان کے مال و دولت ، حکومت و سلطلنت ، اونچی عمارتیں اور ترقیات ان کے کسی کام نہ آسکیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم نے ان تمام قوموں کے سننے کے لئے کان، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سوچنے کے لئے دل و دماغ عطا کئے تھے مگر انہوں نے ان صلا حیتوں سے کام نہ لیا اور جب انکی عقلیں مفلوج ہو کر رہ گئیں تو اللہ نے ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکا اور ان کے وجود کو ان کی ترقیات کو نشان عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور قیامت تک آنے والی قوموں کو یہ بتا دیا ہے کہ قوم عاد جو جسمانی اور مالی اعتبار سے ایک زبر دست ، مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بھی جب انہوں نے بد نصیبی کا راستہ اختیار کیا تب ان پر قہر نازل ہوا اور ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کی زندگی اور اس کے آثار قصے کہانیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ جو بھی قوم عاد کے راستے پر چلے گا اس کا انجام بھی اس سے مختلف نہ ہوگا اور جو لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے راستے پر چل کر اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کریں گے ان کی نہ صرف دنیا بہتر ہوگی بلکہ ان کی صرف دنیا بہتر ہوگی بلکہ آخرت کی تمام کامیابیاں ان کا مقدر ہوں گی۔
Ayahs 46:34–35

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

جس دن وہ کافر جہنم کے سامنے کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا کہ ) کیا یہ سب کچھ بر حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں اپنے رب کی قسم ایسا ہی ہے۔ فرمایا جائے گا کہ تم جو کفر اور انکار کرتے تھے اس کے سبب عذاب کا مزہ چکھو۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے جس طرح اور عزم و ہمت والے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے صبر کیا تھا۔ اور ان کفار کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (اس دن) انہیں ایسا لگے گا کہ جیسے وہ دنیا میں ایک دن میں سے ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے۔ (اے نبی ﷺ آپ کا کام یہ ہے کہ ) آپ ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیجئے ۔ بس وہی لوگ تباہ برباد ہوں گے جو نافرمان ہوں گے۔

تشریح ـ: آیت نمبر 34 تا 35 جو شخص بھی حق و صداقت کی بات کرتا اور لوگوں کو اس طرف دعوت دیتا ہے اس کو ہمیشہ قوم کی بےرخی ، مخالفت ، دشمنی ، مزاحمت اور طرح طرح کی اذیتوں سے عزم و حوصلہ اور صبر برداشت کے ساتھ گذرنا پڑتا ہے۔ جب سورت الاحقاف کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت مسلمانوں پر کفار کا ظلم و ستم ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا تھا ۔ بنی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی ان مسلسل اذیتوں اور تکلیفوں سے پریشان ہو کر رہ گئے تھے جن کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہ لینا تھا۔ یہ ایک بڑا نازک لمحہ تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جس طرح آپ سے پہلے عزم و ہمت والے پیغمبروں نے اللہ کے نافرمانوں کے اذیتوں پر نہایت صبر، برداشت، عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا تھا آپ بھی حالات کی سختی پر صبر اور برداشت کا شیوہ اختیار کیجئے اور ان کفار کے لئے کسی عذاب کی جلدی نہ کیجئے کیونکہ اللہ نے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ ان پر مسلط ہو کر رہے گا۔ یہ اس کے برے انجام سے بچ نہ سکیں گے۔ آپ اپنے حق و صداقت کے مشن اور مقصد کو جاری رکھئے اسی میں ساری انسانیت کی فلاح اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے ۔ اصل میں جب حالات بےقابو اور نازک ہوجائیں اور ہر طرف سے سوائے پریشانیوں کے اور کچھ بھی نہ ملتا ہو تو حق و صداقت کے راستے پر چلنے ولے یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکے ہیں اور ان حالات سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تو بشری تقاضوں کی وجہ سے بوکھلا جاتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اے ظالموں کے ظلم انتہا ہوچکی آپ ان کفار پر عذاب نازل کرکے ان کو تہس نہس کیوں نہیں کردیتے ؟ ۔ یہ ایک نازک اور جذباتی وقت ہوتا ہے اس وقت اللہ کی طرف سے صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور ان کو بتا یا جاتا ہے کہ یہ کائنات اللہ کی ہے وہ اس کو جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ کس کے ساتھ کب کیا معاملہ کرنا چاہیے۔ اس کا یہ اٹل اور قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اہل ایمان کو ان کے نیک اعمال کے سبب ضرور کامیاب و با مر اد فرمائے گا اور وہ آخر کار کفار و مشرکین کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گا۔ اب وہ وقت کب آئے گا یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جب چاہے گا کفار کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لے گا جس کے سامنے دنیا کے تمام وسائل ، مال و دولت ، قوت و طاقت اور حکومت و سلطلنت سب ناکارہ ہو کر رہ جائیں گے۔ فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ آپ کے ذمے یہ ہے کہ آپ حق و صداقت کی بات اور اللہ کا پیغام پہنچانے کی جدو جہدنہایت صبر اور عذم و ہمت سے کیجئے ۔ ان کفار کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے۔ جب اس کی مصلحت ہوگی وہ ان کفار کو ہلاد کردے گا۔ جب ان پر عذاب آئے گا تو ان کو ایسامحسوس ہوگا جیسے وہ دن کی ایک ساعت تک ہی اس دنیا رہے ہیں ۔ فرمایا کہ جس طرح تمام پیغمبروں نے عزم و حوصلے کے ساتھ اللہ کا دین پہنچایا ہے آپ بھی ایسا ہی کیجئے اور کسی بات کی فکر نہ کیجئے۔ واخر دعو ان الحمد للہ رب العالمین