46. Surah Al-Ahqaf
الأحقافThe Dunes · 35 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الاحقاف والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ والدین فر نبر دار اللہ کا اور ان کیل یے دعائیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الہٰی ! ہم ہر ایک نعمت کا شکر یہ ادا کرتے ہیں آپ سے ایسے اعمال صالحہ کی درخواست کرتے ہیں کہ جن سے آپ راضٰ ہوجائیں ۔ ہم سے کوتاہیاں ہوگئی ہیں ان کو معاف کر دیجئے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں اور ان کی دعاؤں کو قبول کیا جاتا ہے لیکن جو لوگ والدین کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں ان پر جہنم کی آگ کو مسلط کیا جائے گا۔ ٭اس کتاب (قرآن مجید ) کو اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زبر دست اور حکمت والا ہے ۔ اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق اور ایک مقرر مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہیں وہ اس چیز کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے ڈرایا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھے کہ ان میں سے کس کس چیز کو تمہارے ان معبودوں نے بنایا ہے جنہیں تم اللہ کے مقابلے میں پوجتے ہو اور کیا اللہ نے انہیں اپنا شریک بنا رکھا ہے ۔ اگر تم راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کی پکار کو نہ یہ سنتے ہیں اور قیامت کے دن تو وہ بالکل صاف انکار کریں گے اور کہیں گے کہ الہٰی ! ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کفار کو جواب دینے سے عاجز آکر کہتے ہیں کہ اصل میں اس قرآن کو انہوں نے خودگھر لیا ہے یا کوئی کھلا ہوا ہے جادو ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فر مادیجئے کہ اگ میں نے اس قرآن کو خود گھڑلیا ہے تو اس جرم پر مجھے اللہ سے کون بچائے گا اور میں تم سے نہیں کہوں گا کہ مجھے بچا لو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور میں کوئی ایسا انوکھا اور نا ہوں ۔ جو مجھے حکم دیا جاتا ہے میں اس کی تعمیل کرتا ہوں ۔ ذرا تم سو چو کہ اگر یہ کلام اللہ کی طرف سے ہے ( اور یقینا ہے) اور تم نے اس کو نہیں مانا تو تمہارا انجا کیا ہوگا ؟ کیا تم سزا سے بچ جائو گے ؟ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ دو ۔ دیکھو تم بنی اسرائیل کو بڑا عالم و فاضل سمجھتے ہو اگر وہ ایمان لے آئے اور تم ایمان نہ لائے اور تم اپنی جگہ تکبر ہی کرتے رہ گئے تو تم ان ظالموں میں شمار ہوگے جنہیں اللہ کی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ فر مایا گیا کہ جنات نے قرآن کریم کو سنا تو خود بھی ایمان لے آئے اور اپنی قوم کو بھی اس پر آمادہ کیا کہ وہ اللہ کے کلام پر ایمان لے آئیں لیکن انسان کیسا بدنصیب ہے کہ وہ جنات جو انسانوں کی جنس سے بھی نہیں ہیں وہ تو ایمان کی دولت سے مالا مال ہورہے ہیں اور خاص طور پر جن انسانوں کے لیے قرآن بھیجا گیا تھا وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سعادت سے محروم ہیں۔ ٭وہ کہتے ہیں کہ اگر ہماری کتاب کے مقابلے میں قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو دوسروں کے مقابلے میں ہم سب سے پہلے اس کو مانتے اور اہمارے بڑے اور ذہین لوگ اس طرف توجہ کرتے چونکہ انہوں نے بھی اس کو قبول نہین کیا لہذا ایسا لگتا ہے کہ اس میں یقینا کوئی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قرآن سے پہلے اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اس زمانے کے لوگوں کی ہدایت کے لیے توریت کو نازل کیا اسی طرح اللہ نے عربی زبان میں اس قرآن کو نازل کیا ہے جو ظا لموں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ہے ۔ تمہاری کتاب کی تصدیق کرتا ہے اس میں نیک عمل کرنے والوں کو قدم قدم پر خوش خبریاں دی گئی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہما را رب اللہ ہے ۔ وہ اسی بات پر زندگی بھر رجمے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی رنج و غم نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ کی جنتوں میں رہیں گے۔ ٭ فرمایا والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ ان کی فرمانبرداری کا یہ حال ہے کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتے ہیں اور چالیس سال ہی کی عمر کے باوقار ، سنجیدہ اور اعتدال پسند ہوتے ہیں تو وہ اس طرح دعا کرتے ہیں الہٰی ! میں ان تمام نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہوں جو آپ نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہیں ۔ مجھے ایسے اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما دیجئے جس سے آپ راضی ہوجائیں ۔ اور میری اولاد کو بھی بھلائی کی صلاحیت اور توفیق عطا فرما دیجئے۔ اور مجھ سے جو کو تاہیاں سرزد ہوگئی ہیں ان کو معاف کردیجئے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو خوش خبری ہے کہ اللہ ان کے اعمال کو قبول کرلے گا۔ ان کی خطاؤں سے درگزر کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ لیکن وہ لوگ جو والدین کے ساتھ گستاخی کا اندازہ اختیار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم حشر نشر اور جزا سزا کو نہیں مانتے یہ سب بےاصل اور بےبنیاد باتیں ہیں ۔ فرمایا کہ قیامت کے دن جب ایسے لوگوں کے سامنے جہنم کو لا یا جائیگا اور اللہ عذاب کا وعدہ پورا کرے گا تو یہ لوگ سرا سر نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں بہت مزر اڑا چکے ہو اب اس کی سزا بھگتوں اور اس طرح ان کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ ٭ قوم عاد جن کی اصلاح کے لیے حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا جب انہوں نے اپنی قوم کو کفر و شرک سے منع کیا تو انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا۔ جب ان سے کہا گیا کہ اگر تم نے اپنے کفر و شرک سے توبہ نہ کی تو تمہارے اوپر اللہ کا عذاب آسکتا ہے ۔ تو پوری قوم نے بڑی ڈھٹائی سے کہا ا ہے ہود (علیہ السلام) ! اگر تم سچے ہو تو اس عذاب کو لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو۔ جب وہ اپنی ضد پر جمے رہے تو اللہ نے ان پر ہوا کا زبر دست طوفان بھیجا جس نے انکی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ ہوا کی تیزی کا یہ حال تھا کہ وہ قوم عاد کو زمین اور پتھروں پر پٹک پٹک کر ماررہی تھی۔ اہل مکہ سے کہا گیا کہ قوم عاد تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قوم تھی لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسول اور دین کا مذاق اڑایا تو ان کی طاقت و قوت ان کے کسی کام نہ آسکی جب کہ تم کو ان کے مقابلے میں کوئی خاص طاقت نہیں رکھتے ہو۔ عبرت دلانے کے لیے فرما یا کہ آج تم ان ہی قوموں کے کھنڈرات کے پاس گزرتے ہو جنہین جس طرح سمجھایا گیا تھا جب انہوں نے اللہ و رسول کے احکامات کو ماننے سے انکار کیا تو ان کو بچانے کی بھی نہ آسکا۔ اہل مکہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے جنات کے متعلق بتایا گیا کہ جنات تو قرآن کو سن کر ایمانے لے آئے لیکن تم انسان ہو کر بھی ایمان کی لذت سے محروم ہو۔ ٭ فرمایا کہ جنات نے جب قرآن کریم کو سنا تو انہوں نے نہایت خاموشی سے سنا اور خود بھی ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایک ایسا عجیب و غریب کلام سنا ہے جو سیدھا راستہ بتا تا ہے ۔ اگر تم اللہ کے اس کلام پر ایمان لے آئے تو تمہاری خطائیں معاف کردی جائیں گی لیکن اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اللہ کے عذاب سے تمہیں کوئی بھی بچا نہ سکے گا اور تمہاری مدد کے لیے کوئی نہ آسکے گا۔ ٭ مکہ والوں نے فرمایا کہ تم بھی جنات کی طرح ایمان لے آئو اور جہنم کی آگ سے بچ جائو۔ وہ اللہ ایسا ہے جس کی ہر چیز پر قدرت ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ جب قیامت میں ان منکرین سے پوچھا جائے گا کہ بتائو کیا قیامت ایک حقیقت نہیں ہے ؟ اس وقت ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ کہیں گے کہ واقعہ ہم غلطی پر تھے تو اللہ ان سے فر مائیں گے کہ اب عذاب جہنم کا مزہ چکھو۔ ٭ آخری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کفار و مشرکین کی حرکتوں پر صبر کیجئے۔ جب یہ لوگ اپنے سامنے جہنم کو دیکھیں گے تو ان پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ان کی اتنی مدت بھی ایسی لگے گی جیسے وہ دن کی ایک کھڑی دنیا میں ٹھہر کر آئے ہیں اور پھر ان پر جہنم کو مسلط کردیا جائے گا۔
حٰمٓۚ Open ayah 46:1 in the Quran reader
حا ۔ میم حروف مقطات (معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader
اس کتاب کا نازل ہونا اس اللہ کی طرف سے ہے جو زبر دست اور حکمت والا ہے۔
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں سوائے حق کے اور کچھ نہیں بنایا اور یہ بی ایک مقرر مدت تک کے لئے ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں کفر و انکار کیا ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (پرواہ نہیں کرتے ) ۔
قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader
اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں وغیرہ ) کی عبادت و بندگی کرتے ہو مجھے یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین سے کیا چیز بنائی ہے ؟ کیا وہ آسمانوں کے بنانے میں شریک رہے گی ؟ اگر تم سچے ہو تو اس (قرآن سے پہلے) جو کتاب (اتاری گئی ہے ) اس کو لے آئو یا کوئی ایسا علم لے آئو جو متعبر ہو۔
وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader
اس بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکار تا ہے جو قیامت تک نہ تو ان کی پکار کو سن سکتے ہیں اور نہ ان کو ان مشرکوں کی پکار تک خبر ہوگی۔
وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader
اور جب (قیامت کے دن) سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو یہ (جھوٹے معبود) نہ صرف ان کے دشمن بن جائیں گے بلکہ وہ ان کی اس عبادت ہی کا انکار کردیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader
اور جب انہیں ہماری کھلی کھلی آیاتا سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر (حق و صداقت کو سمجھنے کے باوجود ) یہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو آپ نے خود سے گھڑ لیا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اس قرآن کو خود سے گھڑلیا ہوتا تو کیا تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی بچاسکتے تھے۔ تم جو باتیں بنا رہے ہو وہ انہیں خوب اچھی طرح جانتا ہے ۔ اور (کہہ دیجئے کہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے ۔ وہی معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول تو نہیں ۔ نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے ۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں ( عمل کرتا ہوں) جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور میں تو ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے اور تم اس کے ماننے سے انکار کر دو اور بنی اسرائیل اس کتاب کے اللہ کی طرف سے ہونے کی گواہی دیدیں اور اس پر وہ ایمان بھی لے آئیں اور تم (اپنی جہالت و نادانی میں ) تکبر ہی کرتے رہ جائو۔ (تو پھر تم سے بڑا بد نصیب ظالم کون ہوگا ) بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader
اور کافر اہل ایمان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اگر (اس میں ) کوئی خیر ہوتی تو یہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اور کافر اہل ایمان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی خیر ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ نکلتے۔ چونکہ ان منکرین کو اس (قرآن) سے ہدایت حاصل نہیں ہوئی تو وہ کہتے ہیں کہ توہ وہی پرانا جھوٹ ہے
وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو (کتاب دی گئی تھی) جو رہنما اور ہدایت کے اعتبار سے رحمت تھی۔ اور یہ قرآن جو عربی زبان میں ہے اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ ظالموں کو آگاہ اور خبر دار کردیا جائے اور نیک اعمال کرنے والوں کو خوش خبری سنادی جائے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader
جن لوگونے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس کہنے پر وہ مضبوطی سے ڈٹے رہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔
اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader
یہ جنت والے ہیں جو ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے وہ اعمال جو انہوں نے کئے ہوں گے ان کا یہ بدلہ ہوگا۔
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اسے بڑی مشقت سے اپنے پیٹ میں رکھا اور بری دشواری سے اسے جنا۔ اور اس کو پیٹ میں رکھنے اور دودھ چھوڑنے کی (اکثریت ) تیس (30) مہینے ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کا ہوگیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی نعمت کا شکر ادا کرنے کی ہمیشہ توفیق دیئے رکھئے گا۔ وہ نعمت جو آپ نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے۔ اور مجھے ایسے نیک عمل کی توفیق دیجئے گا کہ جس سے آپ راضی ہوجائیں ۔ اور میرے لئے میری اولاد کو بھی نیک اعمال کی صلاحیت عطا کیجئے گا۔ میں آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں اور (میں اقرار کرتا ہوں کہ) میں آپ کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال کع جو انہوں نے کئے ہیں ہم قبول کرلیں گے۔ اور ان گناہوں سے درگذر کریں گے اور وہ اہل جنت میں سے ہوں گے ۔ یہ معاملہ ان سے اللہ کے اس سچے وعدے کی وہ سے ہوگا جو ان سے کیا گیا تھا۔
وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader
اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ سے یہ کہا کہ تم دونوں پر افسوس ہے کہ تم مجھے اس بات کی اطلاع دے رہے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا ۔ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں۔ اولاد کی بات سن کر ماں باپ اللہ سے فریاد کرتے ہوئے کہیں گے کہ ارے تیرا ستیا ناس جائے تو ایمان لے آ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اس پر وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات پوری ہوکر رہی تھی۔ بیشک یہ وہ لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔
وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader
اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق (الگ الگ) درجے ملیں گے اور ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ذرا بی ظلم و زیادتی نہ کی جائے گی۔
وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader
اور وہ دن (کتنا ہیبت ناک ہوگا ) جب کفار آگ کے سامنے حاضر کئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے حصے کی نعمتیں حاصل کرچکے تھے اور ان سے خوب فائدے اٹھا چکے تھے تو آج تم اس ناحق تکبر ار نا فرمانیوں کی وجہ سے جو تم دنیا کیا کرتے تھے تمہیں ذلت والا عذاب دیا جائے گا۔
وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ آپ قوم عاد کے بھائی (حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنی قوم کو (جو ایک ریگستانی علاقہ میں رہتی تھی اللہ کے خوف سے ) ڈرایا تھا ۔ اور یقینا سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے ڈرانے والے گذر چکے تھے جنہوں نے یہی کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرنا۔ حضرت ہود نے کہا میں تم پر ایک سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader
وہ کہنے لگے کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دے۔ اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے۔
قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader
(حضرت ہود (علیہ السلام) نے ) کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ۔ میں تو تمہیں وہ پیغام پہچارہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے ۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو
فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader
پھر جب انہوں نے اس عذاب کو ایک بادل کی شکل میں دیکھا جو ان کی وادی کی طرف آرہا تھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو وہ ہے جو ہم پر برسے گا۔ (اللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ) یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے۔ یہ ایک سخت آندھی تھی (ہوا کا طوفان تھا) جس میں دردناک عذاب تھا۔
تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader
یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔ پھر وہ لوگ ایسے برباد ہوئے کہ سوائے گھروں کے کچھ نظر نہ آتا تھا اور اسی طرح ہم مجرم (گناہ گار) قوم کو سزادیا کرتے ہیں۔
وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader
بیشک ہم نے انہیں (دنیاوی مال و دولت کی) وہ قوت و طاقت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی گئی۔ ہم نے ان کو کان ، آنکھ اور دل دیئے تھے۔ پھر جب انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو ان کے کان ، آنکھ اور دل کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور جس (عذاب کا ) وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader
اور بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بہت سی بستیوں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تہس نہس کردیا تھا اور ہم نے ان کو طرح طرح کی نشانیاں دکھائیں تاکہ وہ لوٹ آئیں (توبہ کرلیں )
فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader
پھر اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے جن چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا تاکہ وہ ان کے ذریعہ قرب حاصل کریں انہوں نے ان کیو کوئی مدد نہ کہ ۔ بلکہ وہ سب کے سب غائب ہوگئے ۔ اور انہوں نے غیر اللہ کو اپنا معبود بنایا یہ ان کا (اللہ پر) محض ایک الزام تھا اور جھوٹی اور غلط باتیں تھیں۔
وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader
اور یاد کیجئے جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو قرآن سن رہے تھے۔ پھر جب وہ حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ پھر جب تلاوت کی جاچکی تو وہ جنات اپنی قوم کو آگاہ اور خبر دار کرنے کیلئے لوٹ گئے۔
قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader
انہوں نے کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک ایسی کتاب (کی تلاوت) سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے سے پہلے تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ حق و صداقت اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader
اے ہماری قوم کے لوگو ! تم اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات سنو ! اس پر ایمان لائو تو اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے محفوظ رکھیگا۔
وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader
اور جو شخص اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ زمین میں کہیں بھاگ کر اللہ کو عاجز اور بےبس نہ کرسکے گا اور نہ اللہ کے سوا کوئی اس کا حمایتی ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور وہ ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی نہیں تھکا۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ کیوں نہیں بلا شبہ یر چیز پر قدرت رکھنے والاوہی تو ہے۔
وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader
جس دن وہ کافر جہنم کے سامنے کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا کہ ) کیا یہ سب کچھ بر حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں اپنے رب کی قسم ایسا ہی ہے۔ فرمایا جائے گا کہ تم جو کفر اور انکار کرتے تھے اس کے سبب عذاب کا مزہ چکھو۔
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader
اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے جس طرح اور عزم و ہمت والے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے صبر کیا تھا۔ اور ان کفار کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (اس دن) انہیں ایسا لگے گا کہ جیسے وہ دنیا میں ایک دن میں سے ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے۔ (اے نبی ﷺ آپ کا کام یہ ہے کہ ) آپ ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیجئے ۔ بس وہی لوگ تباہ برباد ہوں گے جو نافرمان ہوں گے۔