Ayahs 46:1–2[ 1] قرآن حکیم خالص کلام خداوندی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتارہوئی کتاب ہے۔ " یعنی یہاں پر " نازل " یا " منزل " نہیں " تنزل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے اور جس کا اطلاق مبالغے کیلئے ہوتا ہے۔ جیسے " زید عدل " وغیرہ۔ سو اس کے مفہوم کو ظاہر اور واضح کرنے کیلئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ مطلب یہ کہ اس کتاب میں کسی انسانی فکر و عمل اور کدوکاوش کا کوئی عمل دخل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے، اس کی شان اس سے کہیں اعلیٰ وارفع اور بلند وبالا ہے، پس منکرین و مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ اسے محمد ﷺ خود بنا کر لاتے ہیں سراسر باطل اور مردود ہے، سو ایسا نہیں۔ بلکہ یہ ازاول یا آخر سراسر اللہ پاک کی طرف سے نازل کردہ کلام ہے۔ اور دوسری کوئی ایسی کتاب ہے نہ ہوسکتی ہے، کیونکہ خالصۃً کتاب الٰہی اور وحی خدا وندی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ ایک ہی کتاب ہے جو اس شان کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ادیان و مذاہب کی کتابیں یا تو سرے سے آسمانی اور الہامی تھیں ہی نہیں، ہیں ہی نہیں، بلکہ وہ محض انسانی فکرو کاوش کا نتیجہ تھیں اور ہیں۔ اور یا اگر وہ آسمانی اور الہامی تو تھیں بھی، جو انکے حاملین نے ان کی تحریف و تبدیل کے ذریعے اس حد تک بدل اور بگاڑ دیا کہ وحی خداوندی کے الفاظ و کلمات ان میں ڈھونڈنے ہی سے کہیں مل سکیں گے۔ سوائے اس کتاب حکیم قرآن مجید کے۔ کیونکہ اس کو حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے جس طرح اتارا تھا اور جن الفاظ و کلمات سے ساتھ اتارا تھا یہ آج تک اسی طرح باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ سو قرآن حکیم خالص کلام خداوندی اور وحی ربانی ہے۔ فالحمدللہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کتاب حکیم کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق بخشے اور نفس و شیطان کے ہر مکرہ فریب سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین یا رب العالمین،
[ 2] قرآن حکیم عزت و حکمت کا منبع و سرچشمہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ اس اللہ کی طرف سے ہے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے۔ " پس جس نے اس کتاب حکیم کو صدق دل سے اپنایا، اس پر ایمان لایا اور شاہراہ حیات پر اسی کو اپنا ہادی اور رہنما بنایا، وہی مشاکل حیات اور صعوبات راہ پر غالب آیا اور علم و حکمت کی دولت سے مالا مال ہوا۔ اور جس سے اس کتاب حکیم سے منہ موڑا وہ سچی عزت اور حقیقی حکمت کی دولت سے محروم ہو کر ذلت و رسوائی سے دو چار ہوا۔ والعیاذ باللہ۔ اور وجہ اس امر کی ظاہر اور واضح ہے کہ اس کتاب حکیم سے اعراض و روگردانی برتنے والوں کو نہ اس کائنات کے خالق ومالک کا پتہ ہے، نہ اس کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات سے آگہی۔ نہ ان کو اپنی زندگی کا مقصد، اور نہ اپنے مال و انجام کی کوئی خبر۔ اور نہ ہی راہ حق و ہدایت سے کوئی واقفیت، اور نہ ہی اس کے تقاضوں کے بارے میں کوئی علم و آگہی۔ سو ایسا انسان طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا محض ایک جانور بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس کی سطح سے بھی کہیں گر کر اور [ بل ہم اضل ] ۔ کا مصداق بن کر رہ جاتا ہے۔ سو قرآن حکیم کی تکذیب اور اسکا انکار اور اس سے روگردانی و اعراض محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے اور اپنی رضا کی راہوں ہی چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 46:3[ 3] کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ :
سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " زمین و آسمان کی اس کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ ہی ہوئی ہے۔ " سو ان سب کی پیدائش بڑی بامقصد اور نہایت پر حکمت ہے۔ تاکہ انسان ایک طرف تو ان میں غور و فکر سے کام لے کر اپنا خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور دوسری طرف ان سے طرح طرح سے فائدہ اٹھا کر اس کا شکر بجالائے اور دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور اس طرح وہ اپنے لئے ابدی سعادت، حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح کا سامان کرے۔ اور حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کا تقاضا اور مخلوق بالحق ہونے کا لازمی نتیجہ اور طبی تقاضا یہ ہے کہ قیامت قائم ہو اور ہر کسی کو اپنے کیے کا صلہ وثمرہ ملے۔ اور اس اہم اور بنیادی حقیقت کو نہ ماننے سے یہ سارا کارخانہ عالم بالکل عبث اور بےکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو " بالحق " یعنی ایک بڑی اہم غایت اور عظیم مقصد کیلئے پیدا فرمایا ہے۔ سو جو لوگ اس حقیقت سے غافل ہو کر بےمقصد زندگی گزارتے ہیں وہ بڑے ہی سخت خسارے میں ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا،
[ 4] کائنات کی تخلیق ایک مقررہ مدت تک کیلئے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " خالق نے اس کائنات کو حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مد تک کیلئے پیدا فرمایا ہے۔ " جس کے بعد اس سب کو ختم کردیا جائے گا۔ اور اس کی جگہ ایک دوسرا جہان آباد کیا جائے گا جو ابدی ہوگا۔ اور جس میں بالکل دوسری قسم کی قوانین و نوامیس کار فرما ہوں گے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور تمام و کمال پورے ہوسکیں۔ اور ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے۔ سو اس کائنات کے " بالحق " پیدا ہونے کا دوسرا نتیجہ اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ یہ کائنات یونہی نہ چلتی رہے، بلکہ یہ ایک وقت پر ختم ہوجائے۔ تاکہ اس کے بعد ہر کسی کو اس کی سعی اور کوشش کو صلہ اور ثمرہ ملے۔ اور اس طرح اس کی تخلیق کی حکمت کی تکمیل ہو اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوں۔ سو خالق حکیم نے اس کائنات کو جو " بالحق " پیدا فرمایا ہے تو اس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ دنیا اسی طرح ہمیشہ کیلئے چلتی نہ رہ جائے۔ بلکہ ایک مقرر وقت پر یہ ختم ہوجائے جس کے بعد اس خالق حکیم کی عدالت قائم ہو۔ جس میں آخری فیصلہ ہو اور اس کے مطابق اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا صلہ و بدلہ ملے اور منکرین و اشرار کو ان کے کیے کی سزا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے جس نے بہر حال بپا ہو کر رہنا ہے، پس اس کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا تقاضاء عقل و نقل ہے کہ عدل و انصاف کا وہ دن قائم ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وھو الھادی الی سواء السبیل سبحانہ و تعالی،
[ 5] منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں وہ اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا جاتا ہے۔ " اور ان کو اسکا کوئی خیال و احساس تک نہیں کہ ہم نے آگے جاکر جواب دینا ہے اور زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا پھل پانا ہے، اور اپنے عمل کا بھگتان بھگتنا ہے، اور حیات مستعار کی یہ مختصر و محدود فرصت جو ہر لمحہ ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے پھر کبھی بھی اور کسی طرح بھی ملنے والی نہیں ہے کہ پھر نہ تو دنیا کی اس زندگی کے ددوبارہ ملنے کا کوئی موقع سوال ہے، اور نہ ہی کسی کمائی اور عمل کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی ہے، مگر اس سب کے باوجود ایسے لوگوں کی یہ غفلت شعاری اور اس قدر لاپرواہی کس قدر تعجب انگیز روش اور کتبا تباہ کن وطیرہ ہے العیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں منکرین کے اعراض و انکار پر اظہار افسوس ہے کہ یہ لوگ خدائے عزیز و حکیم کے اتارے ہوئے اس صحیفہء رشد و ہدایت کی تعلیمات مقدسہ کو اپنا کر اپنی بگڑی بنانے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے الٹا اس کی تکذیب و انکار پر مصر ہیں۔ اور اپنے مال و انجام کی فکر کرنے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے گڑھے کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین،
Ayahs 46:4–7[ 12] منکروں کے اللہ کی آیتوں کو کھلا ہوا جادو قرار دینے کے جرم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر لوگ حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ " سو ان کی بدنصیبی اور محرومیء قسمت ملاحظہ ہو کہ کلام الٰہی قوت تاثیر کے احساس و اقرار اور اس کے اعتراف کے باوجود اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی بجائے یہ بدبخت اس کو کھلا ہوا جادو قرار دے رہے ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کا ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا اور ان آیتوں کی تاثیر وہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں تو بجائے ماننے اور ان پر ایمان لانے کے یہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی اس کی یہ تاثیر اس کے خدائی کلام ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ یہ محض الفاظ کی جادو گری ہے۔ اور اس طرح ایسے بدبخت لوگ حق سے دور اور محروم ہوتے جاتے ہیں، اور ان کا اسکا کوئی احساس و شعور تک نہیں کہ وہ اپنے لیے کس قدر خسارے کا سامان کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،
Ayah 46:8[ 13] منکرین کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا جواب :
سو منکرین و مخالفین کے قرآن کے خلاف پروپیگنڈے کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے اس الزام کا جواب اللہ کے حوالے۔ سو اگر بالفرض میں نے ایسے کیا جیسا کہ تم لوگ کہتے ہو تو میں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکوں گا۔ کیونکہ اگر دنیا کا کوئی بادشاہ بھی اپنے اوپر جھوٹ باندھنے کو برداشت نہیں کرتا تو اللہ رب العزت جو کہ مالک حقیقی اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اور ایسا بادشاہ و شہنشاہ جو کہ ہر طرح کے نقص و عیب اور اس کے ہر شائبہ سے پاک و بری ہے وہ کس طرح ایسے افتراء اور جھوٹ کو یونہی چھوڑ سکتا ہے ؟ تو پھر اس پر جھوٹ باندھنے والا اس کی گرفت اور پکڑ سے کیونکر بچ سکتا ہے ؟ اور ایسی صورت میں۔ بقول تمہارے۔ میں اس پر اتنا بڑا جھوٹ باندھ کرکے اس کی گرفت و پکڑ سے کس طرح بچ سکتا ہوں ؟ اور میں اتنی بڑی بات کا ارتکاب کس طرح کرسکتا ہوں ؟ اور اتنا بڑا خطرہ کس طرح مول لے سکتا ہوں۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کیا تم لوگ اتنی بڑی اور اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے۔ بہر کیف پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان کے اس پروپیگنڈے کے جواب میں ان سے کہیں کہ اگر میں نے تمہارے کہنے کے مطابق اتنا بڑا افترا کیا ہے تو تم اللہ کی پکڑ سے بچنے کیلئے کچھ کام نہ آسکو گے۔ سو میرے اس جرم کی تم کوئی فکر اور پرواہ نہیں کرو۔ اور میرے اس بوجھ کو اپنے اوپر محسوس کرو۔ ہمارا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ وہی بہتر فیصلہ فرمائے گا۔ اس لئے ہمارا معاملہ اسی کے حوالے ہے۔ سبحانہ و تعالی۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی رواہوں پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے،
[ 14] معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کرنے کا درس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ خوب جانتا ہے ان تمام باتوں کو جس میں تم لوگ لگے ہوئے ہو۔ " کہ تم اس کے کلام حق ترجمان کی تکذیب کرتے اور اس کی کذب وافترا اور سحر و جادو قرار دیتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ پس تم لوگ اپنے کیے کی سزا ضرور پاکر رہو گے۔ اور دوسرا مطلب اس فقرے کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " فیہ " کی ضمیر کا مرجع " ما " ہو، اور " ما " کو اپنے عموم پر رکھا جائے۔ یعنی اللہ پاک خوب جانتا ہے ان سب باتوں کو جن میں تم مشغول رہے ہو۔ اس لئے دیکھ لو کہ تمہارا وقت کن مشاغل میں گزرتا ہے کہ تمہیں اپنے کیے کرائے کا بدلہ بہرحال پانا ہے اور اس کا بھگتان بہر قیمت بھگتنا ہے پس تم لوگ خود اپنی فکر کرو کہ وہاں کا خسارہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے تمہاری ان تمام سخن سازیوں کو جن میں تم لوگ لگے ہوئے ہو۔ اس لیے میں اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتا ہوں۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ مفتری کون ہے ؟ اور حق پر کون ؟ اور یہ کہ کون کس سزا و جزاء کا مستحق ہے، کہ اس سے کسی کا بھی کوئی حال مخفی نہیں اور اسی کی گواہی ہمارے اور تمہارے لیے کافی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
[ 15] اللہ تعالیٰ کی گواہی پر بھروسہ و اعتماد کی تعلیم و تلقین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کافی ہے گواہی دینے کیلئے میرے اور تمہارے درمیان۔ " اور وہ میری صداقت و حقانیت اور تبلیغ رسالت کی گواہی دے رہا ہے۔ اور تمہاری تکذیب اور انکار حق کی۔ پس تمہاری تصدیق و شہادت کی مجھے کوئی ضرورت نہیں، کہ مجھے اپنے رب کی شہادت ہی ہر لحاظ سے کافی ہے۔ میں جو تمہیں حق و ہدایت کی دعوت دے رہا ہوں تو محض تمہارے بھلے کے لئے کہ اس کے نتیجے میں تم کو دنیا میں پاکیزہ زندگی ملے گی اور آخرت میں دائمی نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ پس اپنا بھلا برا تم خود سوچ لو۔ سو ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں اور ان سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے کے سلسلے میں یہ ایک معقول اور شریفانہ طریقہ ہے کہ انسان ایسے لوگوں سے الجھنے اور توتکار کرنے کی بجائے معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرکے بحث کو ختم کر دے۔ اور یہ شریفانہ طریقہ بعض اوقات مخالفوں کو بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ اور وہ اگر اس سے متاثر نہ بھی ہوں تو بھی دعوت و تبلیغ حق کے نقطہ نظر سے بابرکت طریقہ یہی ہے۔ غیر جانبدار ذہن کے لوگ اس سے ضرور متاثر ہوتے ہیں، اور مخالفوں کے دلوں میں بھی داعیء حق کی عظمت اور اس کی خود اعتمادی اس کے نتیجے میں دو چند ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الہادی الی سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین،
[ 16] اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کی امید کا درس :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے نہایت درگزر کرنے والا انتہائی مہربان۔ " پس اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ سے کسی کے لئے بھی محرومی اور مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ پس جو کوئی جب بھی توبہ کرکے صدق دل سے اس کی بارگاہ لطف و کرم کی طرف رجوع کرے گا وہ اس کی رحمت و عنایت اور اس کی بخشش و عطا کے دروازے کو اپنے لئے کھلا پائے گا۔ کہ وہاں بخشش ہی بخشش اور عطا ہی عطا ہے۔ رحمت ہی رحمت اور کرم ہی کرم اور عنایت ہی عنایت ہے۔ سبجانہ وتعالیٰ ۔ قصور اور کوتاہی اگر ہے تو ان بدنصیبوں کی طرف سے جو اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ لوگوں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ان کو آخری حد تک مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔ تاکہ جو توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ اصلاح کرکے اس کی رحمت و عنایت کے سزاوار بن جائیں۔ سو اس ارشاد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کی مغفرت و بخشش کی امید کا درس دیا گیا ہے۔ تاکہ راہ حق سے پھرے ہوئے اور بگڑے بھٹکے ہوئے لوگ اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ کی طرف رجوع کرکے اپنی بگڑی بنا سکیں، اور اس کی رحمت و عنایت سے سرشار ہو سکیں، اور نیک اور سعادت مند بن سکیں، اور آگے بڑھ سکیں۔ فاغفرلی وارحمنی وخذبناصیتی الی ما فیہ جک والرضا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین۔
Ayah 46:9[ 17] پیغمبر (علیہ السلام) کو منکرین کے لئے جواب کی تعلیم و تلقین :
سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کھو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔ " کہ تم لوگوں کو تعجب ہو کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوگیا، کیونکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تشریف لا چکے ہیں اور انہوں نے بھی وہی کچھ کہا جو میں کہہ رہا ہوں۔ انہوں نے بھی اسی توحید کی دعوت دی جس کی دعوت میں سے رہا ہوں۔ تو پھر میرے بارے میں تم لوگوں کو اس قدر اچنبھا کیوں ہو رہا ہے ؟ اور اگر تم لوگ میری مخالفت اس وجہ سے کرتے ہو کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں اور وہ عذاب تم کو نہیں دکھا سکتا جس سے میں تم کو ڈرا رہا ہوں تو یاد رکھو کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور نہ میں کوئی پہلا شخص ہوں جو رسول بن کر آیا ہو، اور اس کے عذاب سے ڈراتا اور خبر دار کرتا ہو، بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آچکے ہیں۔ وہ سب بھی اسی طرح کے تھے۔ میں کوئی مافوق البشر ہستی اور کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔ رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور ہمیشہ یہی رہا کہ اس نے انسانوں کیلئے انسانوں ہی سے کوئی نہ کوئی رسول بھیجا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة یوسف میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القریٰ ط } الاٰیۃ۔ [ یوسف : 109 پ 13] یعنی " ہم نے آپ سے پہلے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے بستیوں والوں میں سے۔ " اور بعینہٖ یہی بات پ 14 سورٔ نحل کی آیت نمبر 23 میں اس طرح ارشاد فرمائی گئی { وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم } " یعنی ہم نے آپ سے پہلے مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے ہیں۔ اور بعینہٖ یہی بات پ 17 سورة انبیاء کی آیت نمبر 7 میں ارشاد فرمائی گئی { وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیہم } " اور اس کے ساتھ ہی آیت نمبر 8 میں مزید ارشاد فرمایا گیا۔ { وما جعلنھم جسداً لا یاکلون الطعام وما کانوا خلدین } یعنی " نہ تو ہم نے ان کو کوئی جسم بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ " تو پھر منکرین کا حضرت خاتم الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) کی نبوت و رسالت اور آپ کی بشریت پر اچنبھا اور اعتراض کیوں ؟ سو ان نصوص کریمہ اور ارشادات عالیہ سے بشریت رسول کا انکار کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں، اور ان کو اپنے رویے کی اصلاح کر لینی چاہیے۔ قبل اس سے کہ اس کا موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم، جل وعلا۔
[ 18] پیغمبر (علیہ السلام) کا اپنی ذات سے علم غیب کی نفی کا اظہار و اعلان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " میں نہیں جانتا کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ۔ " یعنی تفصیلی طور پر مجھے معلوم نہیں کہ آئندہ مجھ سے کیا ہونے والا ہے اور تم سے کیا۔ دنیا میں بھی کہ مجھے دیس نکالا دیا جائے گا یا قبل کیا جائے گا۔ جیسا کہ پہلے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہوچکا ہے۔ یا کیا صورت پیش آئے گی۔ اور آخرت میں بھی کہ نفس نجات تو اگرچہ یقینی ہے مگر اس کی پوری تفصیلات میرے علم میں نہیں ہیں، کہ حشر میں کیا صورت پیش آئے گی اور جنت کی ان بیش بہا اور دائمی نعمتوں کی کیفیت کیا ہوگی جن کے بارے میں خود حضرت حق جل مجدہ کا ارشاد ہے۔ { فلا یعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین ج جزاءم بما کانوا یعملون۔ } [ السجدہ : 17 پ 21] یعنی " کسی شخص کو پتہ نہیں کہ ان لوگوں کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ " اور اسی طرح تمہارے بارے میں بھی مجھے پتہ نہیں کہ تمہارا انجام کیا ہوگا۔ ایمان لاکردارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوؤ گے یا کفر و انکار کی راہ اختیار کرکے تم لوگ خسف و قذف وغیرہ دوسرے مختلف عذابوں کا شکار ہوؤ گے۔ کیونکہ یہ سب تفصیلات جاننا عالم الغیب ہی کا کام ہے جو کہ اللہ رب العزت ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جبکہ میرا کام اور میرا مذہب صرف اس وحی کی پیروی کرنا ہے جو اس خالق ومالک کی طرف سے مجھے کی جاتی ہے اور بس۔ یعنی اس آیت کریمہ میں مذکور عدم درایت کا تعلق دارین سے ہے۔ اور درایت سے مراد تفصیلی درایت ہے۔ آیت کریمہ کا یہی مطلب جمہور علمائے کرام اور ثقہ مفسرین کرام نے لیا ہے۔ بطور نمونہ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ " ای لا ادری حالی وحالکم فی الدارین علی سبیل التفصیل اذلا ادعی علم الغیب " [ جامع البیان : ج 2 ص 279] ۔ و مثلہ فی المظہری : ج 8 ص 397، وابو السعود ج 7 ص 210، والمراغی : ج 2 ص 11، والمدارک : ج 2 ص 222، وابن کثیر : ج 3 ص 430 وصفوۃ التفاسیر : ج 3 ص 194، و محاسن التاویل : ج 15 ص 12 وغیرہ ذالک ] اور دوسرا قول مفسرین کرام کا اس آیت کریمہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس میں نفی تفصیلی نہیں مطلق درایت کی ہے۔ اور اس کا تعلق آخرت سے نہیں صرف دنیا سے ہے۔ کیونکہ آخرت کی کامیابی اور فلاح کا آپ ﷺ کو یقینی طور پر پتہ تھا۔ اس احتمال کو بھی مختلف مفسرین نے اختیار فرمایا ہے۔ مثلاً [ معالم التنزیل : ج 4 ص 59-60، ابن کثیر : ج 4 ص 155، جامع البیان : ج 2 ص 279 وغیرہ ] ۔ مگر راحج پہلا قول ہی ہے۔ ایک تو اس لئے کہ جب آیت کریمہ کے الفاظ عام ہیں تو پھر ان کو اپنے عموم پر رکھنا ہی مناسب و متبادر ہے۔ تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ دارین کو شامل رہیں۔ دوسرے اس لئے کہ اس کی تائید کئی صحیح احادیث شریفہ سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً سیدہ ام العلا انصاریہ ؓ کی وہ صحیح روایت جس کے مطابق آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اور تاکید و تکرار کے ساتھ فرماتے ہیں " واللہ لا ادری واللہ لا ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم " [ صحیح بخاری : ج 2 ص 1029، مشکوۃ : ج 2 ص 456] یعنی " قسم ہے اللہ کی، قسم ہے اللہ کی، میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ " اسی لئے حضرت ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے محقیقین نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ " قلت و ھذا ھو الصحیح۔ " یعنی " یہی قول صحیح ہے۔ " [ المرقاۃ علی ھامش المشکوۃ : ج 2 ص 456، و مثلہ فی ھامش صحیح البخاری : ج 2 ص 1039] ۔ مگر واضح رہے کہ اس صورت میں اخروی انجام سے متعلق یہ نفی علم و درایت وہاں کے تفصیلی احوال اور مختلف انواع و اقسام کے اعتبار سے ہے۔ نہ کہ نفس نجات کے اعتبار سے، کہ وہ تو آنحضرت ﷺ کیلئے قطعی امر ہے۔ جیسا کہ دوسری نصوص و روایات سے ثابت اور واضح ہے، کہ ان میں آنحضرت ﷺ کیلئے مقام محمود وغیرہ کئی نعمتوں کا ذکر مصرح ہے۔ تیسرا قول بعض مفسرین کرام سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ منسوخ ہے اور ہمارے یہاں کے اہل بدعت کے بعض بڑوں نے بھی اسی کو لیا ہے۔ تاکہ اس طرح وہ اپنے شرکیہ عقائد کو اس آیت کریمہ کی زد سے بچا سکیں۔ مگر محققین کے نزدیک آیت کریمہ کی یہ تفسیر درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ خبر ہے اور نسخ اخبار میں نہیں ہوتا بلکہ احکام میں ہوتا ہے۔ یا کم از کم کسی ایسی خبر میں ہوتا ہے جو کسی حکم وغیرہ کے معنی میں ہو۔ جبکہ یہاں پر یہ آیت کریمہ خالص خبر ہے۔ اس میں حکم و انشاء کا کوئی شائبہ نہیں۔ اور خبر میں نسخ نہ ہوسکنے کے بارے میں علمائے کرام کی تصریحات کے لئے ملاحظہ ہوں۔ [ مدارک : ج 1 ص 447، معالم : ج 1 ص 146، خازن : ج 1 ص 448 وغیرہ ] ۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس میں ناسخ پ 26 سورة فتح کی آیت 2 ۔ { لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراطا مستقیما۔} کو قرار دیا گیا ہے جو کہ اس کے کئی سال بعد نازل ہوئی۔ جبکہ علمائے اصول کے یہاں ایک ضابطہ اور طے شدہ قانون یہ ہے کہ ضرورت اور حاجت کے باوجود تاخیر بیان جائز نہیں۔ وفیہ تاخیر البیان عن الحاجۃ ببضع عشر سنۃ وذالک محال [ المظہری : ج 8 ص 396] ۔ تیسرے اس لئے کہ اس میں حضرت رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں تنفیض کا پہلو نکلتا ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کو سالہا سال تک اپنی نجات کا بھی علم نہ تھا۔ تو پھر آپ ﷺ لوگوں کو دعوت کس چیز کی دیتے تھے ؟ اور یوں سورة فتح کی اس آیت کریمہ کا اپنے اصل معنی و مفہوم کے اعتبار سے زیر بحث اس آیت کریمہ سے کوئی تعارض بھی نہیں۔ اس لیے وہ اس کی ناسخ بن بھی نہیں سکتی۔ اہل بدعت نے علم غیب کل وغیرہ کے اپنے شرکیہ عقائد کو اس آیت کریمہ کی زد سے بچانے کیلئے ایک اور واپچ یہ لگائی کہ یہاں درایت کی نفی ہے نہ کہ علم کی۔ حالانکہ علم اور درایت ایک ہی چیز ہے۔ چناچہ اہل لغت کی چند تصریحات ملاحظہ ہوں۔ " درٰی بہ ای علمہ و ادراہ ای اعلمہ " [ مختار الصحاح : ص 552، القاموس ج : 4 ص 327، تاج العروس : ج 1 ص 210] ۔ پس اس آیت کریمہ میں صریح نفی اور انکار ہے علم غیب کلی، اور حاضر و ناظر وغیرہ کے ان شرکیہ عقائد کا جو کہ اہل بدعت نے از خود گھڑ کر اپنے گلے لگا رکھے ہیں۔ اور جو عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کی توفیق بخشے اور ہر طرح کے زیغ و ضلال اور سوء فہم سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے اور پیغمبر کو اس کے اعلان و اظہار کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " ان سے کہو کہ مجھے غیب کا علم نہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا۔ میرا کام تو اس وحی کی پیروی کرنا ہے جو میری طرف کی جاتی ہے اور بس "۔ پس اس سے اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو حق بات سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین،
[ 19] پیغمبر علیہ الصلوۃ السلام کا کام وحی خداوندی کی پیروی کرنا ہوتا ہے، اور بس :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " نافیہ اور " الا " استثنائیہ کے کلمات حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو صرف اس وحی کی پیروی کرنا ہے جو میری طرف بھیجی جاتی ہے، اور بس۔ پس نہ تو میں اپنی طرف سے کچھ کہتا ہوں، اور نہ ہی غیب کا علم رکھتا ہوں۔ بلکہ میرا کام تو صرف اتباع اور پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف میرے رب کی طرف سے نازل کی جاتی ہے۔ اور اسی کی تعلیم و تبلیغ میں تم لوگوں کو کرتا ہوں اور بس۔ سو یہی میرا منصب ہے، اور اسی کیلئے مجھے میرے رب کی طرف سے مبعوث فرمایا گیا ہے، اور یہی میرا دعویٰ ہے، کہ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ اس کی اتاری ہوئی وحی کی پیروی کرتا ہوں اور اسی کی تعلیم و تبلیغ تم لوگوں کو کرتا ہوں اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر نہ میں نے کسی طرح کے خدائی اختیارات کا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی عالم غیب ہونے کا۔ تو پھر تم لوگ مجھ سے اس طرح کے سوالات آخر کیوں کرتے ہو ؟ اور اس طرح کی توقعات مجھ سے کیوں وابستہ کرتے ہو جن کا تعلق خدائی صفات و اختیارات سے ہے ؟ اور میری نبوت و رسالت پر اس طرح اچنبھا اور اعتراض کیوں کرتے ہو ؟ اور اگر تم لوگ میری مخالفت اس لیے کر رہے ہو کہ میں تم ہی جیسا اور تمہاری ہی طرح کا ایک انسان اور بشر ہوں اور میں وہ عذاب تم لوگوں کو نہیں دکھا سکتا ہوں جس سے میں تمہیں ڈراتا اور خبردار کرتا ہوں تو یہ کوئی تعجب اور اچنبھے کی چیز نہیں۔ اور میں کوئی پہلا ایسا شخص نہیں ہوں جو دنیا میں رسول بن کر آیا ہوں۔ بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آچکے ہیں جو سب اسی شان کے تھے۔ اور میرا کام انذاروتبلیغ ہے اور بس۔ آگے منوا لینا، اور لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا نہ میرے بس میں ہے اور نہ ہی میری ذمہ داری ہے۔
[ 20] پیغمبر (علیہ السلام) کی ذمہ داری انذار و تبلیغ، اور بس :
سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان سے کہلوایا گیا کہ میرا کام تو خبردار کردینا ہے کھول کر اور بس۔ یعنی میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں تمہیں اس انجام سے خبردار کر دوں جس سے کفر و انکار کی صورت میں تمہیں سابقہ پڑنا ہے اور بس۔ باقی غیب کی وہ باتیں بتلانا جن کا میرے منصب سے کوئی تعلق نہیں، یا حق کو نہ ماننے والوں پر فوری عذاب واقع کردینا۔ جیسا کہ تم لوگ مطالبہ کرتے ہو۔ نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ ہی یہ میرا کام ہے۔ اور نہ ہی میں نے اس طرح کا کبھی کوئی دعویٰ ہی کیا ہے۔ میں تو نبی و رسول اور نذیر مبین ہوں، اور بس۔ سو تم نے اگر حق بات کو مجھ سے سن کر مان لیا تو اس میں خود تمہارا اپنا بھلا ہے ورنہ تمہاری اپنی ہی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اب جس کی مرضی ایمان لائے اور جس کی مرضی کفر کرے۔ { فمن شاء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر } [ الایۃ ][ الکہف : 29 پ 15] پس میرا کام وحی خداوندی کی اتباع اور پیروی کرنا اور دنیا کو ان کے انجام سے خبردار کردینا ہے اور بس۔ میں ایک کھلا ہوا نذیر اور خبردار کرنے والا ہوں۔ اس سے زیادہ نہ کوئی میری ذمہ داری ہے اور نہ ہی میں نے اس سے زیادہ کچھ ہونے یا کرنے کا دعویٰ ہی کیا ہے۔ سو مجھ سے اگر تم لوگوں نے بحث کرنی ہے تو میرے اس دعوے سے متعلق کرو جو میں نے کیا ہے۔ اس سے غیر متعلق سوالات چھیڑ کر تم لوگ نہ خود اپنے آپ کو الجھن میں ڈالو اور نہ دوسروں کو۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا کام اور اس کا منصب و مقام لوگوں تک پیغام حق پہنچا دینا اور ان کو ان کے انجام سے خبردار کردینا ہوتا ہے اور بس۔ اس کے بعد لوگ اپنے رویے کے ذمہ دار خود ہوتے ہیں۔
Ayah 46:10[ 21] شاہد بنی اسرائیل سے مقصود و مراد ؟
اس میں حضرت اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ منصف اہل کتاب مراد ہیں جو وحی کے اسرارورموز کے واقف ہونے کے باعث قرآن پاک کی حقانیت پر ایمان لائے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔ اور بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ اس لئے جمہور مفسرین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اسکا مصداق حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ہی کو قرار دیا ہے جبکہ کچھ اہل علم نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ اسلئے بعض نے اس کا مصداق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے۔ مگر آگے { فامن واستکبرتم } کا ارشاد اس سے جوڑ نہیں کھاتا اس لئے صحیح بات وہی معلوم ہوتی ہے جو مفسر نیشاپوری (رح) اور علامہ ابن کثیر (رح) جیسے محققین نے کہی ہے کہ یہاں " شاھد " سے مراد کوئی خاص شخص نہیں بلکہ ہر منصف اہل کتاب ہے۔ اور بعض اہل علم نے کہا اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں لیکن ہم نے اوپر جس قول کو اختیار کیا ہے اس کے عموم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی شامل اور داخل ہوسکتے ہیں۔ والعلم عند اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 22] انکارو تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم
یعنی حرف شرط کی جزاء یہاں پر محذوف ہے اور اس حذف میں یہ بلاغت ہے کہ استکبار اور اس کی بناء پر ایمان سے محرومی کا جرم اتنا بڑا اور اس قدر سنگین ہے کہ اس کی سنگینی احاطہ بیان سے باہر ہے، سو اس سے واضح ہوجاتا کہ کتاب حکیم قرآن مجید کے انکار و تکذیب کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ ایسے میں تم سے بڑھ کر بدبخت اور گمراہ اور کون ہوگا کہ ایسے حق صریح کے آجانے کے باوجود جس کی صداقت و حقانیت ہر طرح ثابت اور واضح ہوگئی ہے تم لوگ محض تعصب اور اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کا انکار کرتے اور اس کو جھٹلاتے ہو۔ یہ عبارت جو ہم نے یہاں مقدرمانی ہے۔ " ارء یتم " الخ۔ کے استفہام حرف ان کی شرط کا جواب ہے۔ جس کیلئے اس طرح کی کوئی بھی عبادت مقدر مانی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ سورة فصلت یعنی حم السجدہ کی آیت نمبر 52 پ 25 میں ارشاد فرمایا گیا۔ { قل ارء یتم ان کان من عند اللّٰہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاقٍ م بعید۔ } اور اسی طرح اور بھی کئی مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف ایسے مواقع پر جواب شرط محذوف ہوتا ہے۔ اور اس حذف میں بلاغت کا یہ اسلوب کارفرما ہے کہ وہ جواب شرط ایسا ہولناک ہوتا ہے اور اس کے نتائج اس قدر خوفناک ہوتے ہیں کہ الفاظ و کلمات اس کی تعبیر و ادا سے قاصر ہیں سو مطلب اس ارشاد کا یہ ہوا کہ تم لوگ تو اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ کتاب حکیم کا انکار کرتے، اور اس کو خدا کے اوپر میرا افترا قرار دیتے ہو۔ تو ذرہ تم سوچو اور اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھو کہ اگر یہ خدا وند قدوس ہی کی طرف سے۔ جیسا کہ یہ فی الواقع ہے۔ تو پھر تمہارا کیا بنے گا ؟ ساتھ ہی یہ بات بھی تمہارے لیے سوچ لینے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد اس طرح کی چیز کی گواہی دے چکا ہے اور وہ اس پر ایمان بھی لایا۔ اور تم نے اپنے استکبار اور اپنی لڑائی کے گھمنڈ میں اس کا انکار کیا اور اس طرح کی چیز کی گواہی دے چکا ہے اور وہ اس پر ایمان بھی لایا۔ اور تم نے اپنے استکبار اور اپنی لڑائی کے گھمنڈ میں اس کا انکار کیا اور اس سے اعراض برتا۔ اور تم اس سنے منہ موڑے چلے جا رہے ہو تو ذرا سوچو کہ ایسے میں آخر تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو تم لوگ باز آجاؤ تکذیب و انکار حق کی اس روش سے تاکہ خود تمہارا بھلا ہو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔ وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو العزیز الوھاب۔ ملہم الصدق والصواب۔
[ 23] ظالموں کو ہدایت نہیں مل سکتی۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور پوری صراحت اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو " کہ ایسے لوگ ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ بلکہ جان بوجھ کر اس کا انکار کرتے ہیں۔ تو پھر ہدایت جیسی عظیم الشان نعمت اور انمول دولت ایسے ناشکرے اور بدنصیب لوگوں کو کیسے اور کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ وہ ملتی تو اس واہب مطلق جل جلالہٗ ۔ کی طرف سے مفت اور بالکل ہی مفت ہے۔ مگر اس کے لیے اولین تقاضا اور اس کی بنایدی شرط طلب صادق ہے۔ جس سے یہ لوگ عاری اور محروم ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { انلذمکموھا وانتم لہا کرھون }۔ [ ہود :28 پ 12] یعنی " کیا ہم اس کو تم لوگوں پر مڑھ دیں گے جبکہ تم اس کو ناپسندیدہ سمجھتے ہو ؟ سو ایسے نہیں ہوسکتا کہ تم لوگ ہدایت چاہو ہی نہ اور ہم یونہی خواہ مخواہ اس کو تم پر چپکا دیں " یہ تو عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف اور عدل و انصاف کے منافی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور اس کے اس قانون و دستور کے مطابق ظالم لوگ اپنی ناشکری اور بےقدری کی بنا پر حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت کے نور سے نوازنے کیلئے ایک طرف تو ان کو عقل کے نور سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے اور دوسری طرف دلائل وبراہین سے بھری کائنات کی اس کھلی کتاب کو ان کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اور اس پر مزید یہ کہ حضرات انبیاء و رسل کو مبعوث فرما کر اور ان پر کتابیں نازل فرما کر حق کو پوری طرح ان کیلئے واضح فرما دیا۔ مگر ایسے ظالم لوگوں نے ان میں سے کسی کی بھی قدر نہیں کی۔ جس کے نتیجے میں وہ نور حق و ہدایت سے محروم ہوگئے۔ سو اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے دستور کے مطابق ایسے ظالم لوگ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے بلکہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ظلم و انکار کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ویجار علیہ۔
Ayah 46:11[ 24] منکرین کو استکبار اور محرومی کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگ ایمان والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین سچا ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے کبھی سبقت نہ لے جاتے۔ " کہ ہم اشراف و سردار اور بڑے مال و منال والے لوگ ہیں۔ جبکہ یہ محتاج و مسکین تو پھر یہ ہم سے اس کارخیر میں سبقت کیونکر لے جاتے ؟ لہٰذا اگر یہ دین و ایمان کوئی بڑی خیر اور اچھی چیز ہوتی تو یہ سب پہلے ہمارے ہی حصے میں آتی۔ نہ کہ ہمیں چھوڑ کر ان فقراء کو ملتی، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی مال و دولت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ باعث خسارہ ہے کہ اس کی بنا پر دنیا دار لوگ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے حق سے اور دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو تکبر محرومیوں کی محرومی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ اور تکبر کی حدیث شریف میں یہی تعریف فرمائی گئی ہے کہ " تکبر حق کا انکار کرنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ہے۔ " الکبر بطر الحق و غمط الناس " [ رواہ الترمذی ] ۔ سو اس جہاں ایک طرف ان متکبر لوگوں کے کبر و غرور اور ان کے باطن کے فساد کا پتہ چلتا ہے وہیں دوسری طرف اس سے اہل ایمان کے صدق و صفا اور ان کے باطن کی صحت و سلامتی کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی لیے ان کو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش و عطا کا دارومدار اصل میں انسان کے قلب و باطن ہی پر ہے۔ جیسے اس کے قلب و باطن کا معاملہ ہوتا ہے ویسے ہی اس کو صلہ و بدلہ ملنا چاہئے، اور یہی تقاضا ہے عقل اور نقل دونوں کا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الأحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
[ 25] منکرین کی محرومی اور حماقت کا ایک اور نمونہ و ثبوت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ اس سے ہدایت نہیں پاس کے تو کہا یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ " یعنی اپنی حماقت اور محرومی پر ماتم کرنے کی بجائے ایسے لوگ الٹا حق کو ہی برا کہنے لگتے ہیں، کہ یہ بھی وہی پرانا جھوٹ ہے جو کہ پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یعنی ہزاروں برس پہلے سے چلے آنے والے یہ حقائق جن کی تعلیم و تبلیغ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں نے فرمائی۔ یہ سب تو جھوٹ ہیں اور سچ ان لوگوں کے پاس ہے جو جہالت و گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سو جن کی مت مار دی جاتی ہے ان کا یہی حال ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، ان لوگوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کی اور کوئی نعمت تو ان لوگوں کے حصے میں آئی نہیں تو اگر دین بھی کوئی نعمت اور خیر کی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف سبقت کرنے والے نہ بنتے۔ بلکہ ہم ہی اس کی طرف سبقت کرنے والے ہوتے۔ لہٰذا ان کا اس کی طرف سبقت کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ اس میں کوئی خیر نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے منکرین کی محرومی و مت ماری اور ان کی حماقت و بدمغزی کا ایک اور نمونہ و ثبوت ملتا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے ان لوگوں کے اسکتبار اور ان سے کبر و غرورہ کا۔ پس استکبار و سرکشی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ کیونکہ جب مریض بیماری کو ہی اپنی صحت سمجھنے لگے اور ڈاکٹر سے دوا لینے اور اس کی ہدایت کے مطابق اس کو استعمال کرنے کی بجائے الٹا وہ اس کے خلاف چلے اور اسی کو برا کہنے لگے تو پھر اس کی صحت یابی آخر کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ اور پھر حضرات انبیائے کرام اور خاص کر امام الرسل علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، کا معاملہ تو اس سے بھی کہیں آگے اعلیٰ و اشرف اور مقدس و نازک ہوتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلیٰ ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیوۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، جل جلالہ، وعم نوالہ،
Ayah 46:12[ 26] کتاب الٰہی منبع رشد و ہدایت، والحمدللہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی پیشوا اور رحمت کے طور پر آچکی ہے۔ " یعنی اپنے دور کے لوگوں کے لئے کہ اس وقت کتاب ہدایت یہی تھی۔ اور اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کی بشارت دی گئی تھی۔ اور تورات کو تم لوگ آسمانی کتاب مانتے ہو اور اس پر ایمان کا دعویٰ بھی کرتے ہو تو پھر تم قرآن کا انکار کس طرح کرتے ہو ؟ جبکہ یہ تورات کی بشارت و پیشینگوئی کے عین مطابق ہے۔ اور اس پر ایمان لانا خود تورات پر ایمان لانے کا مقتضیٰ ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح قرآن حکیم کے بارے میں " ھدی و رحمۃ " کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں اسی طرح تورات کے بارے میں " اماماً " اور " رحمۃً " کے کلمات ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اور یہ دونوں الفاظ دنیا و آخرت دونوں کے اعتبار سے ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی کتاب دنیا میں خلق خدا کی رہنمائی کرتی ہے اور آخرت میں اس کیلئے رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ سو اس کی حیثیت " امام " کی ہے۔ جس طرح امام کی اقتداء لازمی ہوتی ہے اسی طرح زندگی کے معاملات میں اس کتاب کی اقتداء لازم ہے۔ اگر اس کی یہ حیثیت باقی نہ رہے تو پھر اس پر ایمان و یقین اور اس سے عشق و محبت کے سب دعوے بےسود اور لاحاصل ہوجاتے ہیں، خواہ زبانی کلامی طور پر اس کا کتنا ہی احترام کیا جائے اور اس کی کتنی ہی چوما چاٹی کیوں نہ کی جائے۔ سو کلام الٰہی اور کتاب خداوندی پر ایمان و یقین کا اصل تقاضا اس کی اطاعت و اتباع اور اس کی پیروی و اقتدا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال اور غفلت و لاپرواہی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین،
[ 27] قرآن حکیم گزشتہ کتب سماویہ کی تصدیق، والحمدللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور یہ کتاب عظیم جو کہ تصدیق کرنے والی ہے۔ " یعنی ان تمام آسمانی کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں۔ کہ اس کی بھی بنیادی تعلیم وہی ہے جو گزشتہ آسمانی کتابوں میں دی گئی تھی کہ توحید و رسالت اور آخرت و معاد کی اصولی اور بنیادی تعلیمات سب کتب سماویہ میں ایک ہی رہی ہیں۔ پھر کس برح ممکن ہوسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا انکار کرکے تورات پر تمہارا دعوائے ایمان صحیح قرار پاس کے ؟ نیز اس اعتبار سے بھی کہ یہ کتاب حکیم پہلی آسمانی کتابوں کی پیشینگوئیوں کا مصداق ہے۔ ایسے میں اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا سابقہ آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے۔ اور اس کے انکار سے ان کی اپنی کتابوں کا انکار لازم آتا ہے۔ سو گزشتہ انبیاء و رسل اور ان کی پیش کردہ آسمانی کتابوں کی پیشینگوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ پس قرآن حکیم کے نزول سے ان کی ان پیشینگوئیوں کا مصداق سامنے آگیا اور ان کی ان پیشینگوئیوں کی تصدیق ہوگئی۔ سو جو اس کے باوجود اس کتاب حکیم کو نہیں مانتے وہ طالم ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم جل وعلا،
[ 28] قرآن حکیم کی تین خاص صفات کا ذکر وبیان :
ایک یہ کہ اس کو عربی زبان کی کتاب کی صورت میں نازل فرمایا گیا تاکہ عرب اس سے براہ راست اور خاص طور مستفید ہوں۔ جبکہ تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی۔ مگر اس کے باوجود ان دونوں کی تعلیمات کا اتحاد اس بات کی کھلی علامت اور اس کا واضح ثبوت ہے کہ ان دونوں کا مصدر و ماخذ ایک ہی ہے۔ یعنی وحی خداوندی۔ اس لئے تورات پر ایمان کے دعوے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن پر ایمان لایا جائے۔ نیز اس میں عربوں پر اظہار احسان ہے کہ انہی کی زبان میں اس کتاب حکیم کو اتارا گیا جس سے یہ زبان زندہ وجاوید بن گئی۔ اور دوسری خاص اور امتیازی صفت اس کتاب حکیم کی یہ بیان فرمائی گئی کہ تاکہ یہ خبردار کرے ظالموں کو ان کے حال اور مآل سے۔ تاکہ وہ اپنی روش کی اصلاح کرکے ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ اور تیسری طرف یہ واضح فرمای دیا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے نیکوکاروں کے لئے، کہ ان کے لئے سعادت دارین سے سرفرازی کا مژدہ ہے والحمدللّٰہ جل وعلا۔ پس اس پر ایمان لانا اور اس کی تعلیمات کو اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس کا انکار اور اس سے اعراض و ردگردانی سعادت دارین سے محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، جل وعلا من کل زیغ وضلال،
Ayah 46:13[ 29] ایمان و استقامت فوز و فلاح دارین کی شاہ کلید، وباللّٰہ التوفیق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر پکے ہوگئے تو ان کیلئے حقیقی کامیابی، کیونکہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا راستہ یہی اور صرف یہی ہے، سو اس سے اہل باطل کے مقابلے میں اہل حق کے حال اور مآل دونوں کو واضح فرما دیا گیا، کیونکہ اس ارشاد میں ان سعادت مندوں کی صفات کا خلاصہ دو باتوں میں پیش فرما دیا گیا۔ اول عقیدہ توحید جو کہ تمام علوم و معارف کا مرکزی نقطہ ہے۔ اور جو بنیاد ہے سعادت و سرخروئی کی۔ اور دوسرے راہ حق پر صبر و استقامت جو کہ زبدہ و نچوڑ ہے سارے معاملے اور تمام اعمال کا۔ اور پھر " ثم " کا کلماہ لاکر اور اس کے بعد " ربنا سے رب کی طرف نسبت کرکے اس کی توفیق و عنایت کی دعا و درخواست بھی سکھا دی گئی، کہ اس واھب مطلق جل جلالہ کی توفیق و عنا کے بغیر از خود اور اپنے بل بوتے پر کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا، اور پھر ان کے درمیان دونوں ترتیب کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ اول عقیدہ اور اس کی صحت ہے کہ اسی پر سارے معاملے کا دارومدار ہے، اور اس کے بعد عمل کا درجہ ہے جو کہ اس کا صلہ وثمرہ ہے۔ نیز اس میں استقامت کی عظمت شان اور بلندیء مقام کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ سو ایمان و استقامت دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے اور راہ حق پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین۔
[ 30] اللہ والوں کے لئے خوف اور غم سے ہمیشہ کی رہائی کی خوشخبری :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ والوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ " یعنی نہ تو ان کو محشر کے ہولناک مناظر کا کوئی خوف ہوگا کہ وہ اپنے ایمان خالص و کامل کی بناء پر اللہ پاک کی طرف سے بخشے گئے امن وامان میں ہوں گے۔ [ وہم من فزع یؤمئذ امنون ] ۔ اور نہ ہی ان کو اپنے ماضی پر کسی طرح کا کوئی غم اور افسوس ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے راہ حق پر گزاری ہوگی۔ اللہم ارزقنا ورفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح ہے کہ ان خوش نصیبوں کے لئے اس بشارت کا کامل ظہور اگرچہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں ہی ہوگا جو کہ جزاء و سزا اور صلے اور بدلے کا جہاں ہے لیکن اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ان کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے اور ملتا رہے گا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو ایمان صادق اور راہ ھق میں ثبات و استقامت کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ومالا مال کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اس سے سرفراز و شاد کام رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی پناہ اور حفاظت میں رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 46:14[ 31] اہل ایمان کیلئے نعیم جنت سے ابدی سرفرازی کا مثردہ جانفرا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے خوش نصیب لوگ جنتی ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سو خلودودوام جنت کی ایسی خاص صفت اور ایک عظیم الشان امتیازی نعمت ہوگی جو اس دنیا میں کسی کو نصیب ہوسکتی ہی نہیں، کہ اس دنیائے فانی کی کسی بھی نعمت کے لئے خلودودوام ممکن نہیں۔ دنیا اور اس کے اندر پائی جانے والی ہر چیز فانی ہے۔ کسی بھی چیز کیلئے یہاں خلودودوام ممکن نہیں۔ یہاں کے ہر موجود نے بہر حال فنا کے گھاٹ اترنا ہے۔ جبکہ جنت کی ہر نعمت دائمی ہوگی۔ سو اس ارشاد سے اس بشارت کی وضاحت فرمائی گئی جس کا ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں [ محسنین ] یعنی " نیکوکاروں " کے لیے فرمایا گیا تھا۔ نیز اس سے ان حضرات کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن حکیم کی دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہمارا رب بس اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور اپنے اس اعلان و اقرار پر وہ تمام تر مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود ڈٹ گئے ان کیلئے ابدی جنت کی یہ عظیم الشان اور سبے مثال بشارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین،
[ 32] جنت انسان کے اپنے اعمال کا صلہ و بدلہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے ان اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر جو وہ کرتے رہے تھے۔ " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو جنت تو اگرچہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کے انعام و احسان ہی سے ملے گی مگر اس کے اس فضل و کرم بےپایاں کا سبب بندہ مومن کے اپنے وہ نیک اعمال ہی ہوں گے جو وہ اخلاص و استقامت کے ساتھ دنیا میں کرتا رہا ہوگا۔ سو جنتیوں کو اس مژدہ جانفرا سے پکار کر نوازا جائے گا کہ یہ جنت جس سے تم لوگوں کو سرفراز کیا جا رہا ہے تمہارے اپنے ان اعمال ہی کا صلہ و بدلہ ہے جو تم لوگ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { ونودوآ ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعلمون } [ الاعراف : 43 پ 8] سو اس میں مالک کے کرم و احسان کے دو بڑے اور عظیم الشان مظہر سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ جنت جو کہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوگا اس کو اہل جنت کے ان اعمال کا بدلہ قرار دیا جائے گا جو کہ بہر حال محدود ہوں گے۔ اور دوسرا بڑا مظہر یہ ہے کہ جنتیوں کو اس جہان رحمت و عنایت میں باتیں بھی ایسی سننے کو ملیں گی جن سے ان کا سرور دوبالا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور پکا رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ہم قسم کی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔