46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرو نہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا، اس نے خلق و امر کو جمع کردیا۔ (الا لہ الخلق والامر) (اعراف : 8/54) ” یاد رکھو ! اسی نے تخلیق کیا ہے تو حکم بھی اسی کا ہے۔ “ جیسا کہ فرمایا : (اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینھن) (الطلاق : 65/12) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔ “ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشأء من عبادہ ان انذروا نہ لا الہ الا انا فاتقون۔ خلق السموت والارض بالحق) (النحل : 16/32) ” اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر شاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں ( اس بات سے) آگاہ کردو کہ بلاشبہ میرے سو اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ “ تو اللہ تعالیٰ ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو مسخر کردیا، پھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انہیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انہیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کیلئے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔ وہ اس گھر میں اپنے اعمال کی، جو وہ دنیا کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گھر کے اثبات کے لئے دلائل قائم کئے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور جس امر سے ڈرایا گیا ہے اس سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو، بنابریں فرمایا : (ما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق) ” ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے، یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بےکار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہنچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو جزا و سزا کے لئے ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت (اجل مسمی) ” ایک مدت مقررہ تک “ معین ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا۔۔۔ اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے۔۔۔ اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کردیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا : (والذین کفروا عما انذروا معرضون) ” اور کافروں کی جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں “ اور رہے اہل ایمان ‘ تو انہیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کرکے ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا، لہذا وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
Ayahs 46:4–6

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

(قل) یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ ان کے معبودوں کی بےبسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں، ان سے کہہ دیجئے۔ (ارونی ما ذاخلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت) ” مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ “ کیا انہوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انہوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کئے ؟ کیا انہوں نے روئے زمین پر حیوانات پھیلائے یا درخت اگائے ؟ اور کیا انہوں نے تمام چیزوں کی تخلیق میں معاونت کی ہے ؟ دوسروں کی تخلیق تو کجا، خود اپنے اقرار کے مطابق وہ اپنے بارے میں بھی کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، پس یہ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس نقلی دلیل کے عدم و جود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ایتونی بکتب من قبل ھذا) ” اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ “ یعنی کوئی ایسی کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو۔ (او اثرۃ من علم) یا رسولوں کی طرف سے کوئی موروث علم ہو جو ان عقائد کا حکم دیتا ہو۔۔۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ انبیاء و رسل سے منقول کوئی دلیل لانے سے عاجز ہیں بلکہ ہم جزم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء ومرسلین نے اپنے رب کی توحید کی دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے روکا ہے اور یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو ان کے علم میں منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدو اللہ واجتنبوا الطاغوت) (النحل : 16/36) ” اور بلاشبہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا، جو ان کو حکم دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔ “ ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا : (اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ) (الاعراف : 8/59) ” اللہ کی عبادت کرو، تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ “ پس معلوم ہوا کہ شرک کے بارے میں مشرکین کی بحث وجدال کسی برہان اور دلیل پر مبنی نہیں، ان کا اعتماد جھوٹے نظریات، گھٹیا آراء اور فاسد عقل پر ہے۔ ان کے احوال کا استقراء اور ان کے علوم و اعمال کا تتبع ان نظریات کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز ان لوگوں کے احوال پر غور کرنے سے بھی ان کا بطلان ثابت ہوتا ہے جنہوں نے طاغوت کی عبادت میں اپنی عمریں گنوادیں۔ کیا طاغوت نے دنیا یا آخرت میں انہیں کوئی فائدہ دیا ؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ) ” اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس جواب نہ دے سکے۔ “ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا (وھم عن داءھم غفلون) ” اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔ “ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں۔ یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔
Ayahs 46:7–10

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟ ) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(واذا حشر الناس کانوالھم اعداء) ” اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ “ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے (وکانوا بعبادتھم کفرین) ” اور وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “ اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں (ایتنا بینت) ” ہماری واضح آیات “ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، یہ آیات انہیں کوئی فاہدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں (للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین) ” حق کے بارے میں جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے “ یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں رواج پاسکتا ہے ورنہ حق، جسے محمد مصطفیٰ ﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق جو غالب ہے اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے، جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائل آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خرد مند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں، اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے ؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہوسکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لئے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔ کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے ؟ (ام یقولون افترہہ) یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ (قل) ان سے کہہ دیجئے : (ان افتریتہ) ” اگر میں نے اسے بنایا ہے۔ “ تو اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افتراپردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو ؟ پس کیا (تملکون لی من اللہ شیاء) اگر للہ تعالیٰ مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں میرے لئے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو ؟ (ھو اعلم بما تفیضون فیہ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم) ” وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو، وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ “ پس اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا : (وھو الغفور الرحیم) ” اور وہ بخشنے والا مہربان ہے “ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاؤ، اپنے گناہوں کو چھوڑو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمہیں بھلائی کی توفیق سے توزے گا اور تمہیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ (قل ما کنت بدعا من الرسل) یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے پھر تم کسی بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ (وما ادری ما یفعل بی ولا بکم) ” اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے کیا سلوک کیا جائے گا ؟” یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمہارے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا (وما انا الا نذیر مبین) ” اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔ “ لہٰذا اگر تم میرے رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کرلو تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارے خوش نصیبی اور تمہارا بہرۂ وافر ہے اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرادو تو تمہارا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے، میں نے تو تمہیں برے انجام سے خبردار کردیا ہے اور جس نے خبردار کردیا وہ برئ الذمہ ہے۔ (قل ارء یتم ان کان من عند اللہ وکفر تم بہ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم) یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہنچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیائے کرام ﷺ کی خبر اور ان کے متبعین کی خبر میں مطابقت ہوگئی۔ اے جاہل اور کم عقل لوگو ! تم نے تکبر سے کام لیا۔ کیا یہ (تمہارا رویہ) سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے ؟ (ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین) ” بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔
Ayahs 46:11–12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں : (لو کان خیرا ما سبقونا الیہ) ” اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ “ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جاسکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے۔۔۔ کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں ؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں ؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے ؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس شخص کے کلام کی مانند ہے جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس چیز کی مذمت کرنا شروع کر دے۔ اسی لئے فرمایا : (واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم) ” اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ “ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انہوں نے اس قرآن سے راہ نمائی حاصل نہ کی اور یوں وہ عظیم ترین نوازشات اور جلیل ترین عطیات سے محروم ہوگئے۔ اسے جھوٹ کہہ کر اس میں جرح و قدح کی، حالانکہ یہ حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہ قرآن ان کتب سماویہ کی موافقت بھی کرتا ہے جو اس سے قبل نازل ہوچکی ہیں، خاص طور پر تورات کی جو قرآن کریم کے بعد افضل ترین کتاب ہے۔ (اماما ورحمتہ) ” جو راہنما اور رحمت ہے۔ “ یعنی بنی اسرائیل اس کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور انہیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔ (وھذا) یعنی یہ قرآن (کتب مصدق) گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اور ان کی موافقت کرکے ان کی تصدیق کرتا ہے (لسانا عربیا) اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ اس کو اخذ کرنا سہل اور اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان ہو (لینذر الذین ظلموا) تاکہ یہ ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کرے جنہوں نے کفر، فسق اور نافرمانی کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اگر وہ اپنے ظلم پر جمے رہیں تو ان کو دردناک عذاب سے ڈرائے اور اپنے خالق کی عبادت میں احسان کرنے اور مخلوق کو نفع پہنچانے والوں کے لئے، دنیا وآخرت میں ثواب جزیل کی خوشخبری دے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن سے ڈرایا گیا ہے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن پر خوشخبری دی گئی ہے۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں، اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور (استقامو) عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں (فلا خوف علیھم) تو آنے والے کسی شر سے ان کے لئے خوف نہیں (ولا ھم یحزنون) اور نہ انہیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ (اولئک اصح الجنۃ) یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے (خلدین فیھا جزاء بما کانو ایعملون) ” ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ ہمیشہ قائم رہے۔
Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اسکو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں انکا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (و تقوٰی) دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم نے قبول کرینگے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدرو توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم وملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے بیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران میں تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے، پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سے مدت، گھڑی دو گھڑی کے لئے نہیں بلکہ وہ طویل مدت ہے جس کا عرصہ (ثلثون شھرا) ” تیس مہینے ہے۔ “ جن میں سے غالب طور پر نو ماہ کے لگ بھگ حمل اور باقی مہینے رضاعت کے لئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین) (البقرۃ : 2/233) ” اور مائیں اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔ “ کے ساتھ ملا کر استدلال کیا جاتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ رضاعت کی مدت کو، جو کہ دو سال ہے، تیس مہینوں میں سے نکال دیا جائے تو حمل کی مدت چھ ماہ بچتی ہے۔ (حتی اذا بلغ اشدہ) یعنی جب وہ اپنی قوت و شباب کی انتہا اور اپنی عقل کے کمال کو پہنچ جاتا ہے (وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی) ” اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب ! مجھے توفیق دے۔ “ یعنی اے میرے رب مجھے الہام کر اور مجھے توفیق عطا کر (ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی) ” کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے والدین پر کیے ہیں ان کا شکر گزار ہوں۔ “ یعنی دین اور دنیا کی نعمتیں اور اس کا شکر کرنا یہ ہے کہ ان نعمتوں کو، منعم کی اطاعت میں صرف کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ان نعمتوں کی شکرگزاری سے عجز کے اعتراف اور ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا میں کوشاں رہا جائے۔ والدین کو نعمتوں سے نوازا جانا، ان کی اولاد کو ان نعمتوں سے نوازا جانا ہے کیونکہ ان نعمتوں اور ان کے اسباب و آثار کا اولاد تک پہنچنا لازم امر ہے، خاص طور پر دین کی نعمت، کیونکہ وعلم و عمل کے ذریعے سے والدین کا نیک ہونا اولاد کے نیک ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ (وان اعمل صالحا ترضہ) ” اور ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو “ وہ اس طرح کہ وہ ان اعمال کا جامع ہو جو اسے نیک بناتے ہیں اور ان اعمال سے پاک ہو جو اسے خراب کرتے ہیں، یہی وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ قبول فرما کر ان پر ثواب عطا کرتا ہے۔ (واصلح لی فی ذریتی) ” اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا “ جب اس نے اپنے لئے نیکی کی دعا کی تو اس نے اپنی اولاد کے لئے بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے احوال کو درست فرما دے۔ نیز ذکر فرمایا کہ اولاد کی نیکی کا فائدہ والدین کی طرف لوٹتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (واصلح لی) ” اور میرے لئے اصلاح کردے۔ “ (انی تبت الیک) میں گناہ اور معاصی سے تیرے پاس توبہ کرتا ہوں اور تیری اطاعت کی طرف لوٹتا ہوں (وانی من المسلمین) ” اور بیشک میں تیرے مطیع بندوں میں سے ہوں۔ “ (اولئک) وہ لوگ جن کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں (الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا) ” یہی وہ ہیں جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے۔ “ اس سے مراد نیکیاں ہیں کیونکہ وہ اس کے علاوہ بھی نیک عمل کرتے ہیں۔ (ونتجاوز عن سیاتھم فی اصحب الجنۃ) ” اور ان کے گناہوں سے تجاوز فرمائیں گے (یہی) اہل جنت میں ہوں گے۔ “ یعنی جملہ اہل جنت کے ساتھ، سو ان کو بھلائی اور مطلوب و محبوب حاصل ہوگا، شر اور ناپسندیدہ امور زائل ہوجائیں گے (وعد الصدقی الذی کانو یوعدون) یعنی یہ وعدہ جو ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا، سب سے زیادہ سچی ہستی کا وعدہ ہے، جو کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتی۔
Ayahs 46:17–19

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اف اف ! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤنگا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کمبخت ایمان لا خدا کا وعدہ تو سچا ہے تو کہنے لگے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) امتوں میں سے جو ان کے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ تحقیق ہوگیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہونگے انکے مطابق سب کے درجے ہوں گے غرض یہ ہے کہ ان کو انکے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے۔ لہٰذا فرمایا : (والذین قال لوالدیہ) ” اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔ “ یعنی جب انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لئے صادر ہوتا ہے کہ وہ انہیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا : (اف لکما) یعنی ہلاکت ہو تمہارے لئے اور اس دعوت کے لئے جسے تم پیش کرتے ہو، پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا اور کہا : (اتعدننی ان اخرج) کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا (وقد خلت القرون من قبلی) ” حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکتے ہیں “ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاند حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔ (وھما) یعنی اس کے والدین (یستغیثن) اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے : (ویلک امن) ” تیرا برا ہو ! ایمان لے آ “ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لئے انتہائی جدو جہد اور پوری کوشش کر رہے تھے حتی کہ، اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لئے پکارتا ہے۔ وہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے سوال کر رہے تھے جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لئے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے (ان وعد اللہ حق) ” بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ “ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا (فیقول ما ھذا الا اساطیر الاولین) یعنی وہ جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر ان کو وحی کیا ہے، حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے ؟ اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے ؟ (اولئک الذین) یعنی اس مذموم حالت کے حاملین (حق علیھم القول) ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا (فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس) ” وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “ یعنی ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ (انھم کانو خسرین) ” یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔ “ اور خسران انسان کے راس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب راس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ الی ہے۔ پس وہ ایمان سے محروم ہوگئے ہیں انہیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔ (ولکل) یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک (درجت مما عملوا) خیر اور شر کے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے درجہ پر ہوگا۔ بنابریں فرمایا : (ولیوفیھم اعمالھم وھم لا یظلمون) ” اور ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اسکی کہ بدکرداری کرتے تھے

اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا ہے، جب ان کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور زجرو تو بیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا : (اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا) ” تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے۔ “ کیونکہ تم دنیا پر مطمئن ہوگئے، اس کی لذتوں کے دھوکے میں مبتلا ہوگئے، اس کی شہوات کو پسند کرلیا اور اس کی طیبات نے تمہیں آخرت کی کوششوں سے غافل کردیا (واستمتعتم بھا) ” اور ان سے متمتع ہوچکے۔ “ جیسے چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے ہوئے مویشی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی تمہاری آخرت میں سے تمہارا حصہ ہے (فالیوم تجزون عذاب الھون) یعنی آج تمہیں سخت عذاب دیا جائے گا جو تمہیں رسوا کرکے رکھ دے گا اور یہ اس سبب سے ہے جو تم اللہ پر ناحق بات کہا کرتے تھے، یعنی گمراہی کی طرف لے جانے والے جس راستے پر تم گامزن تھے تم اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے حکم کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ تم اس بارے میں جھوٹے تھے۔ (وبما کنتم تفسقون) یعنی تم تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرہ سے نکل گئے تھے۔ پس انہوں نے قول باطل، عمل باطل، اللہ تعالیٰ پر اس کی رضا کے بارے میں جھوٹ، حق کے بارے میں قدح اور حق کے بارے میں تکبر کو جمع کیا، اس لئے ان کو سخت سزا دی گئی۔
Ayahs 46:21–26

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو جو (احکام) دیکر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) انکے میدان کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی اندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ انکے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دئیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دئیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو انکے کان ہی انکے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز سے استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا : (الا تعبدوا الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم) یعنی ان کو اللہ کی عبادت حکم کا دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انہیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انہیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انہوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہوگا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ (قالوا اجئتنا لتافکنا عن الھتنا) یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے (فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین) ” پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آئے۔ “ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ (قالو انما العلم عند اللہ ) ” انہوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ “ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے (وابلغکم فا ارسلت بہ) ” اور میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں “ یعنی واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں (ولکنی ارکم قوما تجھلون) ” لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔ “ اسی وجہ سے تمہاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ (فلما راوہ) جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا جو (عارضا مستقبل اودیتھم) بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا، جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے اور ان وادیوں کے کنوؤں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ (قالو) (تو) انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : (ھذا عارض ممطرنا) یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل ھو ما استعجلتم بہ) بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لئے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا : (فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین) ” ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔ “ (ریح فیھا عذاب الیم۔ تدمر کل شی ءٍ ) ” یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جو ہر چیز کو ہلاک کردے گی۔ “ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر مسلط رکھا (سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوما فتری القوم فیھا صرعی کانھم اعجاز نخل خاویۃ) (الحاقۃ : 69/8) ” لگا تار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں “ (بامرربھا) یعنی اپنے رب کے حخم اور اس کی مشیت سے) فاصبحوا لا یری الا مسکنھم) وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ “ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کردیا۔ (کذلک نجزی القوم المجرمین) ” ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انہوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد مکنھم فیما ان مکنکم فیہ) ” اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمہیں نہیں عطا کی۔ “ یعنی ہم نے انہیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انہیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔ اے مخاطبین ! ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار واختیار عطا کیا تھا جیسے تمہیں عطا کیا ہے، اس لئے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمہارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کردے گا۔ بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ (وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافدۃ) ” اور ہم نے انہیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔ “ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انہوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک گیا۔۔۔ مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولا افدتھم من شئی) ” پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔ “ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ (یجحدون بایت اللہ) ” وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے “ جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ (وحاق بھم ما کون بہ یستھزوؤن) یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
Ayahs 46:27–28

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے انکی کیوں مدد نہ کی بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی افتراء کیا کرتے تھے

اللہ تبارک و تعالیٰ عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین کے ارد گرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں یعنی انہیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ (لعلھم یرجعون) شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔ اس لئے یہاں فرمایا : (فلولا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الھۃ) ” لہٰذا ان لوگوں نے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا تقرب کا ذریعہ بنایا تھا ان کی مدد کیوں نہ کی۔ “ یعنی ان کی جو ان کا تقرب حاصل کرتے اور ان سے فائدہ کی امید پر ان کی عبادت کرتے تھے (بل ضل عنھم) بلکہ ان کے معبودوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب دیا نہ عذاب کو ان سے دور کرسکے۔ (وذلک افکھم وما کانو یفترون) یعنی وہ جھوٹ گھڑا کرتے تے، جس کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے اعمال ان کو فائدہ دیں گے، مگر وہ اعمال بےکار اور باطل ہوگئے۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں تو جب وہ اسکے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (انکو) نصیحت کریں

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام مخلوق، یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اس لئے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔ انسانوں کہ دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لئے ممکن ہے۔ رہے جنات تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالیٰ نے بھیجی (نفرا من الجن یستمعون القرآن فلما حضروہ قالو انصتوا) آپ کی طرف ” جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ “ یعنی انہوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ (فلمی قضی) ” جب قرآن پڑھا جا چکا ہے “ اور انہوں نے اس کو یاد کرلیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا (ولوا لی قومھم منذرین) تو اپنی قوم کی خیر خواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ان کے پاس گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لئے جنات کو مقرر فرمایا۔ (قالو یقومنا انا سمعنا کتبا انزل من بعد موسی) ” انہوں نے کہا : اے قوم ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ “ یہاں انجیل کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کیونکہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب انجیل کے لئے اصل اور بنی اسرائیل کے لئے احکام شریعت کی بنادی ہے۔ انجیل تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ (مصدقا لما بین یدیہ یھدی) ” اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔ “ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے (الی الحق) ’ ’ حق کی طرف “ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔ جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام و مرتبہ بیان کرچکے تو انہوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دے، انہوں نے کہا : (یقومنا اجیبوا داعی اللہ) ” اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔ “ یعنی جو صرف اپن رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لئے تمہیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمہیں صرف تمہارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمہارا رب تمہیں ثواب عطا کرے گا اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کردے، اس لئے انہوں نے کہا : (یغفر لکم من ذنوبکم ویجزکم من عذاب الیم) ” اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔ “ جب اس نے انہیں دردناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں اور یہ اس شخص کے لئے جزا ہے جو اللہ تعالیٰ کے داعی کے دعوت پر لبیک کہتا ہے۔ (ومن لا یجب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض) ” اور جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آسکتا ہے۔ (ولیس لہ من دونہ اولیاء اولئک فی ضلل مبین) ” اور نہ اللہ کے سوا اور اس کے مددگار ہوں گے۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ “ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہوسکتی ہے، جسے انبیاء و رسل ( علیہ السلام) نے دعوت دی، جس کے پاس وہ برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔
Ayahs 46:30–33

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے قوم ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں انکی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا دین اور سیدھا راستہ بتاتی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ (خدا) تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اسکے سوا اس کے حمایتی ہوں گے یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور انکے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے، یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے بعد باوصف، کسی مشقت کے بغیر ان کو تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمہارے مرنے کے بعد تمہاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز قادر ہے ؟
Ayahs 46:34–35

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز انکار کرنے والے آگ کے سامنے کئے جائیں گے کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے محمد) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن (یہ قرآن) پیغام ہے سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جو حالت ہوگئی اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجرو توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا : (الیس ھذا بالحق) ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ جبکہ تم اس جہنم میں پہنچ چکے ہو اور اس کا واضح مشاہدہ بھی کرچکے ہو (قالو ابلی و ربنا) ” تو وہ کہیں گے : کیوں نہیں ہمارے رب ! “ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہوجائے گا۔ (قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) ” اللہ فرمائے گا : اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو “ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمہاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ آپ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے عداوت رکھنے والوں کی ایذارسانی پر صبر کریں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہیں نیز یہ کہ وہ اولوالعزم انبیاء و رسل کی پیروی کریں جو تمام مخلوق کے سردار، عزائم کے مالک اور بلند ہمت تھے، جن کا صبر بہت عظیم اور جن کا یقین کامل تھا۔ پس تمام مخلوق میں وہی سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو نمونہ بنایا جائے ان کے آثار کی پیروی کی جائے اور ان کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چناچہ رسول مصطفیٰ ﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا صبر کیا کہ آپ سے پہلے کسی نبی نے ایسا صبر نہیں کیا۔ آپ کے تمام دشمنوں نے آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے، ان سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا راستہ روکا، محاربت اور عداوت میں ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے کہا۔۔۔ مگر رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بیان کرتے رہے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے رہے اور جو اذیتیں آپ کو پہنچتیں ان پر صبر کرتے رہے۔۔۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زمین پر اقتدار سے سرفراز فرمایا، اس نے آپ کے دین کو تمام ادیان پر اور آپ کی امت کو تمام امتوں پر غالب کردیا۔۔۔ ﷺ تسلیما۔ (ولا تستعجل لھم) یعنی عذاب کے لئے جلدی مچانے والے اہل تکذیب کے لئے جلدی نہ کیجئے یہ سب ان کی جہالت اور حماقت کے سبب سے ہے، وہ اپنی جہالت کی بنا پر آپ کو ہلکا اور حقیر نہ سمجھیں۔ ان کا جلدی مچانا آپ کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ آپ ان کے لئے بددعا کریں، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔ (کانھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثوا) ” جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ نہیں رہے۔ “ یعنی دنیا کے اندر (الا ساعۃ من نھار) ” مگر گھڑی بھر دن کی “ نہایت قلیل مدت کے لئے ان کا متمتع ہونا آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ بالآخر انہیں سخت عذاب کا سامنا کرنا ہے۔ (بلغ) یہ دنیا، اس کی متاع اور اس کی لذات و شہوات، تھوڑے وقت کے لئے ہیں اور ختم ہونے والی ہیں۔ اور یہ قرآن عظیم جو ہم نے پوری طرح تمہارے سامنے بیان کردیا ہے، تمہارے لئے کافی اور آخرت کے لئے زادراہ ہے، کتنا اچھا ہے یہ زاد راہ ! یہ ایسا زاد راہ ہے جو نعمتوں بھری جنت تک پہنچاتا اور درد ناک عذاب سے بچاتا ہے، یہ افضل ترین زادراہ ہے جسے مخلوق اپنے ساتھ لیتی ہے اور یہ جلیل ترین نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ہے۔ (فھل یھلک) ” وہی ہلاک ہوں گے۔ “ یعنی عقوبات کے ذریعے سے (الا القوم الفسقون) جن کے اندر کوئی بھلائی نہیں، وہ اپنے رب کی اطاعت کے دائرے سے نکل گئے اور انہوں نے اس حق کو قبول نہ کیا جو ان کے پاس رسول ﷺ لے کر آئے تھے، ان کی کوتاہی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر قبول کیا، ان کو برے انجام سے ڈرایا، مگر وہ اپنے کفر اور تکذیب پر جمے رہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس رویے سے بچائے۔