46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsسراج البیان

Ayah 46:1
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے ، جو غالب حکمت والا ہے

Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا کیا ہے تو ایک ٹھیک کام کے لئے اور ایک وقت مقررہ تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں

عالم بےمقصد نہیں 1: قرآن حکیم بار بار اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے ۔ کہ یہ کائنات جو آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے تعبیر ہے ۔ یونہی بلا مقصد اور بغیر غرض کے نہیں پیدا کی گئی ہے ۔ یہ مادہ کے اندھے تصورات کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اس کو محض فطرت کے مجازفہ کے نام سے نہیں موسوم کیا جاسکتا ۔ یہ دینی ساخت کے اعتبار سے اس درجہ کامل اور معقول ہے ۔ کہ دیکھنے والا بادنیٰ تامل پکار اٹھتا ہے ۔ کہ یہ کس مستاق اور صاحب حکمت و عظمت کی کارفرمائیاں ہیں ۔ اس تصویر میں ایسی ہنرمندی اور تخیل کا اظہار ہے کہ بجز خلاق اکبر پر ایمان لے آنے کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ۔ آپ غور فرمائیے ۔ کہ دنیا میں یہ جو حسن و جمال ہے ۔ کہاں سے آیا ہے ۔ کیا یہ مادہ کی اعجازنمائی ہے ؟ اور کیا آپ اس چیز کو عقل تسلیم کرسکتے ہیں ۔ کہ بےشعور مادے میں یہ سلیقہ ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ اس دنیائے بسیط کو اس طرح سنواردے ۔ اس عالم رنگ وبو کو دیکھ کر یہ استدلال خود بخود ذہن میں آجاتا ہے ۔ کہ کوئی بڑی حسین ذات ہے ۔ جس نے آفتاب وماہتاب کو پیدا کیا ہے ۔ اور بڑی عقل و حکمت والی ذات ہے جس نے ہر چیز کو ایک خاص استفاء ے کسے قالب میں ڈھال رکھا ہے ۔ قرآن کا مطالبہ ہے ۔ کہ تم لوگ اس غرض وغایت کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ جو دنیا کی تعمیر اور تخلیق کا موجب ہے ۔ اور منکرین کی طرح دانستہ اس سے اعراض نہ کرو ۔ کیونکہ یہ زندگی اور زندگی کے تمام مظاہرات ایک وقت مقررہ تک ہیں ۔ حل لغات :۔ بالحق ۔ یعنی غرض ومقصد کے ساتھ اجل مسمی ۔ معیاد مقرر کے لئے شرک ۔ ساجھا اثرۃ ۔ مستول ۔
Ayahs 46:4–7

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہہ بھلا دیکھ تو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو ۔ مجھے دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا یا آسمانوں میں ان کو کچھ سابھا ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو میرے پاس اس قرآن سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی عملی روایات لاؤ

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک اسے جواب نہ دیں ؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب آدمی جمع کئے جائینگے تو وہ (معبود) ان کے دشمن ہونگے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کافر سچی بات کو جب وہ ان کے پاس آئی کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

بت پرستوں سے سوالات 1: جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں ۔ یا دوسرے معبودان باطل کو اپنا رب قرار دیتے ہیں ۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے ۔ کہ تم یہ بتاؤ ان معبودوں کا تخلیق کائنات کتنا حصہ ہے ۔ کیا انہوں نے زمین کے کسی گوشہ کو بنایا ہے ۔ یا آسمانوں کی تکوین میں مدد فرمائی ہے ؟ یا کسی مذہبی صحیفہ میں لکھا ہے ۔ کہ غیر اللہ کی پوجا کرو ۔ یا علمی دلائل کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رب السموات والارض کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور حقیر وبے جان چیزوں کو مقدس جان لیا جائے ! یعنی آخر جب تم اتنی کھلی ہوئی حقیقت کی مخالفت کرتے ہو ۔ تو پھر کچھ تو اس کی وجہ ہونی چاہیے ۔ وہ بتان سنگ جن کو تم الفطرت قوتوں کا مالک سمجھتے ہو ۔ کیوں کائنات کی تعمیر یا تخریب میں اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں پر صرف نہیں کرتے ۔ کیوں نئی زمین ان کے پاؤں تلے نہیں بچھا دیتے ۔ تاکہ یہ توحید کے احسانات سے سبکدوش ہوسکیں ۔ اور برملا اپنے ان معبودوں پر فخر کرسکیں ۔ یا اگر تقرب الی اللہ کے لئے ان درمیانی وسائل کی ضرورت اور احتیاج سمجھتے ہو ۔ اور تمہارے خیال میں انسان اس وقت تک معرفت کی منزلوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ۔ جب تک کہ اپنے نفس کو ذلیل نہ کرلے ۔ اور ان اھنام بےاختیار کے سامنے نہ جھک جائے ۔ تو پھر الہامی کتابوں میں اس کا ذکر ضرور ہونا چاہیے تھا ۔ یا کوئی علمی دلیل ہی ہوتی ۔ جو اس دعویٰ شرک کی تائید میں پیش کی جاسکتی ، اور جی کیفیت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ۔ تو پھر یہ کتنی بڑی گمراہی ہے ۔ کہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کی جائے ۔ جو قیامت تک آرزوؤں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ حل لغات :۔ تفیضون فیہ ۔ یعنی قرآن کے باب میں جس طرح تم روانی سے باتیں کرتے ہو ۔
Ayahs 46:8–9

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں ۔ کہ یہ (قرآن) اس نے اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ تو کہہ اگر میں نے وہ بنالیا ہے تو تم میرا اللہ کے سامنے کچھ بھلا نہیں کرسکتے ۔ جن باتوں میں قرآن کے بارہ میں لگے ہو اللہ خوب جانتا ہے ۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اور وہی گناہ بخشنے والا ہے

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

تو کہہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں اور میں (محض قیاس سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا ۔ ( البتہ جو جانتا ہوں وہی خدا سے یقینی جانتا ہوں) میں تو اسی تابع ہوں ۔ جو بذریعہ وحی مجھ پر نازل ہوتا ہے اور میں تو صرف کھول کر ڈر سنانے والا ہوں

میں جھوٹا نہیں ہوں مکے والے آخر تک یہ فیصلہ نہیں کرپاتے ۔ کہ قرآن کو کتب وصحائف میں کسی درجہ پر رکھا جائے کبھی وہ اس کی آیتوں کو سنتے ۔ تو بوجہ اسکی موثریت کے اس کو جادو سے تعبیر کرتے ، کبھی یہ کہتے کہ حضور ﷺ کے دماغی اخترع کا نتیجہ ہے ۔ کبھی یہ کہتے ۔ پہلی کتابوں میں سے قصوں اور کہانیوں کو لے کر جمع کردیا گیا ہے ۔ اور کبھی کہتے ۔ کہ دراصل دوسرے شخص کی دماغی کاوشوں کا ثمرہ ہے ۔ اور حضور ﷺ نے اس سے سیکھ لیا ہے ۔ اور اپنے ہم سے منسوب کرلیا ہے ۔ غرضیکہ انہوں نے اس بات کا پورا ثبوت دیا ۔ کہ ان میں کتاب اللہ کی اہمیت کو محسوس کرنے کی زرہ برابر بھی صلاحیت نہیں ۔ وہ کتاب جو انسانی عقول سے بالا ہے ۔ جس میں فصاحت وبلاغت کا وہ التزام ہے ۔ جو طاقت بشری سے باہر ہے جس میں زندگی کا وہ قانون مذکور ہے ۔ کس کی نظیر صدیوں سے تجربہ بھی پیش نہیں کرسکتا ۔ اور تمام دینی کتابوں پر جس میں اعلیٰ پایہ کی تنقیدیں ہیں ۔ اس کے متعلق اس نوع کے شبہات کا اظہار محض نادانی اور جہالت ہے ۔ فرمایا ۔ آپ ان سے کہہ دیجئے ۔ کہ مجھ ایسے آدمی کو اللہ افتراء کرنے کی کیونکر جرات ہوسکتی ہے ۔ جب کہ مجھے معلوم ہے ۔ کہ آپ میں سے کوئی بھی اس کی گرفت سے بچا لینے والا نہیں ۔ اور کسی میں یہ قدرت نہیں ۔ کہ اگر وہ مجھے اس جھوٹ کی پاداش میں پکڑلے ۔ تو وہ کہہ سن کر چھڑا سکے ۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی اس بات کا کافی ثبوت ہے ۔ کہ میں اپنے دعویٰ میں جھوٹا نہیں ہوں ۔ کیونکہ اگر میں اس کی جانب سے نہ ہوتا ۔ اور یہ ادعائے نبوت محض افترا ہوتا ۔ تو پھر اللہ کی رحمتیں اور بخششیں جن کو تم بھی محسوس کرتے ہو ۔ میرے شامل حال نہ ہوتیں ۔ اور اس عزیمت و استقلال کے ساتھ میں اس کے پیغام کو تم تک نہ پہنچا سکتا ۔ اور پھر غول در غول لوگ اس دین میں داخل نہ ہوتے ۔ یہ اس کی تائیدیں اس بات کی صریح ثبوت ہیں ۔ کہ وہ میرے ساتھ ہے اور میں اس کے حضور میں جھوٹا نہیں ہوں یہی معنے ہیں وھوالغفورالرحیم کے ۔ حل لغات :۔ بدعا ۔ انوکھا ۔ نادر ۔
Ayahs 46:10–12

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) اللہ کے یہاں سے ہوا اور تم نے اس کو نہ مانا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ ایک ایسی کتاب (یعنی توراۃ) کی گواہی بھی دے چکا پھر وہ یقین بھی لے آیا اور تم نے تکبر کیا (تو اس صورت میں کیا تم ظالم نہ ہوگئے ؟ ) بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمانداروں کے حق میں کہا کہ اگر یہ اسلام کچھ بہتر ہوتا تو اس کی طرف سے وہ ہم سے پہلے نہ ڈرتے اور جب انہوں نے قرآن سے ہدایت نہ پائی تو اب یوں کہیں گے کہ یہ تو پرانی مدت کا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت اور یہ ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے ۔ عربی زبان میں ہے تاکہ جو لوگ ظالم ہیں ان کو ڈرائے اور نیکی کرنے والوں کے لئے بشارت ہو

پیغمبر بشر ہوتا ہے قرآن میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس نے نبوت کے مفہوم پر کوئی غبار نہیں رہنے دیا ۔ صاف صاف اس حقیقت کا اظہار کردیا ہے ۔ کہ پیغمبر باوجود جلالت قدر کے ایک انسان ہوتا ہے اور اس میں وہی بشری لوازم ہوتے ہیں جن کا ہونا انسان میں ضروری ہے ۔ مکہ والے اس بناء پر کہ پیغمبر فوق البشر ہونا چاہیے ۔ حضور ﷺ سے بعض مخصوص معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ اور یہ کہتے تھے ۔ کہ آپ ہم کو چند غیب کی باتوں سے اطلاع دیں ۔ اس آیت میں اس چیز کو واضح کیا ہے ۔ کہ حضور کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ہے ۔ آپ بھی اس قسم کے پیغمبر ہیں ۔ جس طرح کہ پہلے انبیاء گزر چکے ہیں ۔ جس طرح وہ محض وحی اور الہام کے تابع تھے ۔ اس طرح آپ بھی پابند ہیں ۔ اپنی جانب سے کسی خرق عادت پر قادر نہیں ۔ اور نہ بغیر اللہ کے آگاہ کرنے کے کسی غیب کی بات سے مطلع ہوسکتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ باوجود قرآن ایسے عظیم الشان غیب کے حالم ہونیکے یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے (دل کی زبان سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت رہے ۔ انہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

وہ بہشت کے لوگ ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ بدلہ ان کے اعمال کا

ربنا اللہ کہنے کے معنی خدا کو پروردگار ان لینے کے بعد بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں ۔ جن کو نبھانا ضروری ہوجاتی ہے ۔ اور جن کے ضمن میں عزیمت و استقامت کی اللہ احتیاج لاحق ہوتی ہے ۔ خدا کو اپنا رب قرار دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے سوا ہر آستانہ عظمت کا انکار کردیا جائے ۔ ہر ربوبیت کو ٹھکرادیا جائے ۔ اور ہر خوف وہراس کو دل میں سے دور کردیاجائے اس کے احکام کی تعمیل میں بڑی سے بڑی قوت سے دوچار ہونا پڑے ۔ تو دبلغ نہ ہو ۔ اور بڑی سے بڑی مصیبت کو جھیلنا پڑے تو تامل نہ ہو ۔ اور مرد مومن ہر چیز سے بالا اور مجھے نیاز ہوجائے ۔ اس کا محض نصب العین ہو کہ اپنے اعمال سے اللہ کو خوش کیا جائے اور اس سلسلہ میں اگر ساری دنیا ناراض ہوجائے تو پرواہ نہ کرے ۔ گویا ربنا اللہ کہنے کے معنے کامل بےنیازی اور کامل عزیمت و استقامت کے ہیں ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ جو خدا کی پناہ چارہ سازمان لیتا ہے ۔ اور پھر اس عقیدہ پر عملاً جما رہتا ہے ۔ اس کے لئے آخرت میں قطعاً اعمال کا خوف نہیں اور نہ اس کے لئے کسی نوع کا غم اور حزن مقدر ہے ۔ یہ واضح رہے ۔ کہ اس بےخوفی کا تعلق کے جلال وجبروت سے نہیں ہے بلکہ ان اتمام ونکدرت سے ہے جو آئندہ زندگی میں آسکتے ہیں ۔ کیونکہ مومن جنت میں میں جائینگے بعد بھی ہیبت کبریائی سے مرعوب ہے ۔ اور اس کی شان و عظمت سے متاثر ۔ ووصیینا الانسان سے مراد ہے ۔ کہ مذہب کا دائرہ صرف عبادات متمینہ محدود نہیں ۔ بلکہ اس کی حدود اخلاق وآداب کی جزئیات تک ہیں ۔ جس طرح حقوق اللہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے ۔ اسی طرح بھی ضروری ہے ۔ کہ والدین کی خدمت کی جائے ۔ اور فرائض سے کچھ زیادہ کے ساتھ سولک روارکھا جائے ۔ اور حتی المقدور ان کو خوش کرنے کی جائے ۔ کیونکہ یہ والدین بڑی محنتوں اور مشقتوں کو برداشت کرنے کی اور اس قابل ہوتے ہیں ۔ کہ اپنی اولاد کی ضروریات سے بہرہ مند ہوسکیں یا مال کو دیکھئے کیونکر بچاری تیس مہینوں تک برابر حمل اور تربیت مصیبتوں کو سہتی ہے ۔ تب جاکر کہیں بچہ اس لائق ہوتا ہے ۔ کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے اپنے میں تھوڑی سی استعداد پیدا کرے ۔ حل لغات :۔ اعلما ۔ قائد ۔ راہنما ووصینا ۔ توصیۃ سے ہے جس کے معنے حکم موفدئے ہیں ۔
Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے اسے جنا اور اس کا حمل (ف 1) میں رہنا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینے میں ہے یہاں تک کہ جب اپنی قوت (یعنی جوانی کو پہنچا) اور چالیس برس کا ہوا تو کہا کہ اے رب مجھے توفیق دے کہ تیری اس رحمت کا شکرکروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو دی اور یہ کہ میں نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو اور میری اولاد مجھ کو نیک دے میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں مسلمانوں (یعنی علمبرداروں) میں ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے عمدہ سے عمدہ عملوں کو جو انہوں نے کئے ہیں قبول کرتے اور ان کی برائیوں سے درگزر کرتے وہ جنت کے لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدہ کے موافق جو انہیں دیا گیا تھا

ف 1: وحملہ وفضالہ ثلثون شھرا کے معنے یہ ہیں کہ عمل کی اقل مدت چھ مہینے ہیں ۔ اور باقی دو سال دودھ پلانے کے لئے ہیں چناچہ ایک دفعہ جب حضرت عمر ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا ۔ جب کہ اس نے چھ مہینے کے بعدوضع حمل سے فراغت پائی ۔ تو حضرت علی ؓ نے ان کو روک دیا ۔ اور ثبوت میں یہ آیت پیش فرمائی ۔ پوری عمر وبلغ اربعین سنتہ قال رب اوزعنی (الآیہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے مطابق عمر کا وہ حصہ جس میں انسان صحیح معنوں میں تشکرواستنان کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ چالیس سال کا ہے یہی وجہ ہے ۔ انبیاء بھی اسی عمر میں پہنچ کر عہدہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں ۔ اور اصل کام کرنے کا وقت اس منزل سے گزرجانے کے بعد ہوتا ہے ۔ مگر آج کل ہمارے نوجوان تیس سال کی عمر میں خاصے بوڑھے ہوجاتے ہیں ۔ اور ان میں زندگی کا کوئی ولولہ موجود نہیں رہتا ۔ اور چالیس سال کی زندگی میں تو وہ قبر کی آغوش میں جاسوتے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حل لغات :۔ کرھا ۔ مشقت وکلفت اشدہ ۔
Ayahs 46:17–19

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس نے اپنے والدین سے کہا ۔ کہ میں تم سے بیزار ہوں ۔ کیا تم مجھے وعدہ دیتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جاؤں گا اور مجھ سے پہلے اتنی امتیں گزر چکیں (اور کوئی بھی قبر سے نکلتا نہیں دیکھا ؟ ) اور اس کے والدین اللہ سے فریاد کرتے ہیں ہائے تیری خرابی ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ پھر کہتا ہے کہ یہ سب اگلوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر جنوں اور آدمیوں کی دوسری امتوں کے سمیت جو ان سے پہلے ہو گزری ہیں ۔ وعدہ عذاب ثابت ہوا ہے بیشک وہ لوگ زیاں کار ہیں

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہر کسی کے لئے درجے ہیں تاکہ خدا ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

بد بخت بیٹا 1: اس سے قبل کی آیتوں میں ماں باپ کی خدمت کی اہمیت پر زور دیا تھا ۔ اور کہا تھا ۔ کہ ان کے ساتھ بیش از بیش حسن سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ اپنے جذبات شفقت وممیت میں ربوبیت کبریٰ کا مظہر ہیں ۔ ان آیتوں میں اس بدبخت اور نالائق لڑکے کا ذکر ہے ۔ جس کے والدین ایمان کی دولت سے بہرہ مندہ ہوں ۔ اور اس کو بھی دعوت دیتے ہوں ۔ کہ وہ بھی اپنے دامن کو اللہ کے ان انعامات سے بھرلے ۔ اور وہ بجائے اس نیک مشورہ کو قبول کرنے کے تمسخر کے ساتھ ان کی اس پاک خواہش کو ٹھکرادے ۔ اور کہہ دے کہ میں تو حشر ونشر کے نظام کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ میرے نزدیک تو یہ محض افسانہ ہے ۔ جس کو پہلے لوگوں نے وضع کررکھا ہے ۔ فرمایا ایسے ناعاقبت اندیش گھاٹے اور خسارے میں رہیں گے ۔ ان کے باب میں اللہ کا فیصلہ پورا ہوچکا ہے ۔ اور طے شدہ ہے ۔ جس میں کوئی تبدیلی اور ترمیم نہیں ہوسکے گی ۔ یہ واضح رہے ۔ کہ بعض لوگوں نے آیات کو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر پر محمول کیا ہے ۔ کہ اولاً انہوں نے اسلام کی دعوت کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔ اور اسی لئے امیر معاویہ نے جب یزید کو اپنا نائب مقرر کیا ۔ تو عبدالرحمن نے کہا ۔ کہ کیا تم اسلام میں ہر قلیت کی ابتدا کرنا چاہتے ہو ۔ تو اس پر امیر معاویہ نے جواب دیا ۔ کہ تم وہی ہو ۔ جن کے متعلق یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں ۔ سو یہ غلط بات ہے حضرت عائشہ ؓ تک جب یہ واقعہ پہنچا ۔ تو آپ نے اس کی تردید فرمائی اور کہا کہ آل ابی بکر کے متعلق سوائے سورة نور کی آیات کے اور کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ۔ خود سیاق یہ بتارہا ہے ۔ کہ کسی متعین شخص کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ تو ایسا نافرمان اور ناہنجار شخص ہے جس کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے ۔ کہ وہ جہنم میں جائے گا ۔ حل لغات : ۔ اساطیرالاولین ۔ پہلوں کی کہانیاں ۔ اسطورہ کی جمع ہے ۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی (ف 1) زندگی میں اپنے مزے اڑاچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے سو آج تم ذلت کے عذاب کی سزا پاؤ گے اس لئے کہ تم ملک میں ناحق تکبر کرتے تھے ۔ اور اس لئے کہ تم نافرمان تھے

ف 1: جہنم والوں سے کہا جائے گا ۔ کہ تم نے دنیا کو دین پر مقدم جانا ۔ اور منافع عاجلہ کو اخروی ثواب واجر پر ترجیح دی ۔ تم دنیا میں تمام مسرتوں سے یاد کام ہوچکے ۔ اس لئے آج تمہارے لئے اور رسوائی کا عذاب ہے ۔ اور یہ اس تکبر کا عوض ہے ۔ جو تم میں رکھا ! اور اس فسق کی پاداش ہے ۔ جس کا تم نے ارتکاب کیا ۔ حضرت ہود ایسی قوم میں تشریف لائے ۔ جو ریگستانوں میں رہتی تھی ۔ اس مناسبت سے ان کی جگہوں کو اخفاف کے نام سے کیا گیا ۔ جس کے معنے ریت کے تو وہ کسے ہوتے ہیں ۔ ان کی بھی انبیاء کی طرح بھی تھی ۔ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو ۔ اور صرف ایک معبود کو اپنا پروردگار قرار دو ۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور تو عاد کے بھائی (ہود) (ف 2) کو یاد کر جب اس نے احقاف میں (کہ ملک یمن میں ایک میدان ہے) اپنی قوم کو ڈرایا اور ہود (ف 3) کے پہلے اور پیچھے بہت ڈرانے والے گزر چکے ہیں ۔ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں بڑے دن کے عذاب سے تمہاری نسبت ڈرتا ہوں

حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم 2: تذکیر یا یام اللہ کے اصول کے مطابق گزشتہ قوموں کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ کیونکر نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا ۔ حضرت ہود کا ذکر تھا ۔ کہ انہوں نے آکر اپنی قوم کو بتوں کی پرستش سے روکا ۔ اور کہا ۔ کہ اگر تم ایک اللہ کی عبادت نہیں کرو گے ۔ اس خالق ارض وسما کے سامنے نہیں جھکوگے ۔ اور اپنی بندگی اور عبودیت کا ثبوت نہیں دوگے ۔ تو مجھے ڈر ہے کہ اس یوم عظیم میں تمہارے لئے عذاب مقدر نہ ہو ۔ ایسا نہ ہو تم لوگ اپنی گمراہی کی وجہ سے اللہ کے غضب وخشم کو آزماؤ۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ اس خیر و برکت کی تعلیم کو تسلیم کرلیتے ۔ اور عقیدہ توحید کو مان لیتے ۔ صاف انکار کرکے کہہ دیا ۔ کیا آپ ہم سے ہمارے معبودوں چھڑاتے ہیں ۔ اور چاہتے ہیں ۔ کہ ہم ان دیوتاؤں سے بدظن ہوجائیں ۔ جن کو برسوں پوجا ہے ۔ اور عمریں گزری ہیں ۔ کہ انہیں کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں ۔ جب سے ہم نے آنکھیں کھولی ہیں ۔ باپ دادا کو انہیں کا حلقہ بگوش پایا ہے ۔ آج آپ کے کہنے پر ان دیرینہ تعلقات ارادت کو کیونکر چھوڑ دیں ۔ اور کیونکر گوارا کرلیں ۔ کہ یہ معبود ہم سے ناراض ہوجائیں ۔ آپ کو اختیار ہے ۔ آپ اپنی سی کر دیکھیں ۔ اور اللہ کو دعوت دیں کہ وہ ہمیں اس گستاخی کی پاداش میں عذاب سے دو چار کرے ۔ اگر واقعی آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں ۔ تو پھر عذاب کو ہم پر ضرور نازل کروائیے ۔ ہم اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کی اس جہالت اور بےوقوفی پر ترس کھا کر کہا ۔ کہ پورا علم تو خدا ہی کو ہے ۔ کہ وہ کب تم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے ۔ میں تو اس کا پیامبر ہوں ۔ اور میرا کام تو صرف یہ ہے ۔ کہ اس پیغام کو تم تک پہنچادوں ۔ جس کو لے کر میں مبعوث ہوا ہوں ۔ اور حتیٰ الامکان کوشش کروں ۔ کہ تم اللہ کی ناراضی سے بچ جاؤ۔ مگر میں دیکھتا ہوں ۔ کہ تم بالکل جاہل ہو ۔ اور خود اپنے نفع ومضرات سے آشنا نہیں ہو ؟ تم ضرور عذاب کو حاصل کرکے رہوگے ۔ چناچہ ایک دن انہوں نے دیکھا ۔ کہ بادل افق سے اٹھا ۔ اور ان کی وادیوں کے بالکل مقابل آگیا ۔ اس پر یہ خوش ہونے لگے ۔ کہ خوب بارش ہوگی ۔ اور ہمارے کھیت سر سبز و شاداب ہوجائیں گے ۔ حالانکہ وہ عذاب تھا ۔ اور ان کی جلد بازی کا نتیجہ تھا ۔ بادل کے ساتھ تیز اور تند ہوا چلی ۔ اور ان کی آبادیوں چند لمحوں میں ہلاک ہوکر رہ گئیں ۔ حل لغات :۔ عذاب الھون ۔ ذلت ورسوائی کی سزا تفسقون ۔ فس سے ہے جس کے معنے حدود اخلاق اور شریعت سے تجاوز کرنے کے ہیں ۔ عارض ۔ بادل ۔ ابر تلھر ۔ ہلاک کردے گا ۔ ان میر سے ہے مکنھم ۔ سکنت اور قوت عطا کررکھی تھی ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کو ہم نے زمین میں وہ قوت اور ملک میں وہ اختیارات دے رکھے تھے ۔ کہ تم اس سے بہرہ ور نہیں ہو ۔ پھر جب انہوں نے ان اختیارات سے صحیح صحیح کام نہ لیا ۔ اور حق وصداقت کی طرف سے انہوں نے اپنی توجہ کو دوسری طرف پھیرلیا ۔ تو اللہ کی ناراضی شکار ہوگئے ۔ اس طرح تمہارے لئے بھی یہ ممکن ہے ۔ کہ اگر تم توبہ نہ کرو ۔ اور حضور ﷺ کے پیغام کو تسلیم نہ کرو ۔ تو باوجود تمہاری دولت مندی کے تم کو حرف غلط کی طرح مٹادیا جائے ۔
Ayahs 46:22–28

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دے سو اگر تو سچا ہے تو جس عذاب کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے ہم پر لے آؤ

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

بولا یہ خبر (کہ عذاب کب آئیگا) تو اللہ ہی کو ہوے اور جو پیغام میری معرفت بھیجا گیا ہے وہ تمہیں پہنچا دیتا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کرتے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے عذاب (ایک بادل کی صورت میں دیکھا) کہ ان کے میدانوں کی طرف سے آتا ہے تو کہا کہ یہ ایک بادل ہے ہم پر برسے گا ۔ کوئی نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کی تم جلدی طلب کررہے تھے ایک ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

اپنے رب کے حکم سے ہر شئے کو اکھاڑ مارتی پھر وہ ایسے ہوگئے کہ سوائے ان کے مکانوں کے کوئی نظر نہ آتا تھا گنہگاروں کو ہم یوں سزا دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں وہ مقدور دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا ۔ اور ہم نے ان کو ہاتھ اور کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے سو نہ ان کے کان کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور جس بات پر وہ ٹھٹھا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

جتنی بستیاں تمہارے آس پاس ہیں ان کو ہم نے ہلاک کیا اور ہم نے ان سے پھیر پھیر کر آیتیں بیان کیں شایدوہ رجوع کریں

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ مدد کی ان کی ان لوگوں نے پکڑے سو اسے اللہ کے واسطے تقرب کے معبود بلکہ کھوئے گئے ان سے اور یہ ہے جھوٹ ان کا اور جو کچھ تھے باندھ (ف 1) لیتے

ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں (ف 2) میں سے کئی شخص تیری طرف متوجہ کردیئے کہ قرآن سنیں ۔ پھر جب وہ اس کے پاس حاضر ہوئے تو آپس میں بولے کہ چپ رہو ۔ پھر جب پڑھنا تمام ہوا تو اپنی قوم کی طرف ڈراتے ہوئے واپس لوٹے

جنات کا وجود 2: جنوں کے متعلق آج سے پہلے اہل تاویل کا مسلک یہ تھا ۔ یہ انسانوں کا ایک گروہ ہے جو عام طور پر پہاڑوں اور جنگلوں میں رہتا ہے ۔ انہیں لوگوں نے طائف سے واپسی کے وقت قرآن کو سنا ۔ قوم جن نے تعجب اور حیرت سے اپنی قوم کو قرآن کے سننے کا مژدہ سنایا ۔ ابن کو جن اس مناسبت سے کہا گیا ۔ کہ یہ لوگ عام لوگوں کی نظروں پے پوشیدہ اور مستتر رہتے ہیں ۔ اور شہر والوں سے ان کے تعقات زیادہ نہیں ہوتے ۔ مگر یہ تاویل اب بالکل مہمل ثابت ہوچکی ہے ۔ کیونکہ جو مجبوری اس مسئلہ میں تھی ۔ اب وہ دور ہوگئی ۔ تجربات کی روشنی میں معلوم ہوگیا ہے ۔ کہ جنات ایک مستتر اور نظر نہ آنے والی مخلوق ہے ۔ اب خود یورپ نے جو دانش وعقل کا سب سے زیادہ مدعی ہے ۔ جنات کے وجود کو تسلیم کرلیا ہے ۔ بلکہ ان کے وظائف اور اعمال تک معلوم کرلیا ہے ۔ جدید تحقیقات یہ ہے ۔ کہ جن ایک لطیف ذی روح مخلوق ہے جس کا وزن ہے ۔ سوچنی اور سمجھتی ہے ۔ اور جس کی قوتیں اور حواس انسان سے زیادہتیز اور بڑھ کر ہیں ۔ وہ دیکھی نہیں جاسکتی ۔ البتہ جب وہ عام مادی اشیاء کو اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے استعمال کرتی ہے ۔ تو اس وقت اس کے وجوہ کا پتہ چلتا ہے ۔ یہ تاویل کہ جن انسان ہی کی ایک صنف کا نام ہے ۔ نہ صرف واقعات کے اعتبار سے غلط ہے ۔ بلکہ صفت قرآن اور حدیث کے اعتبار سے بھی غلط ہے اور اصل میں یہ نتیجہ ہے ۔ کہ ایک طرح کی مرعوبیت اور شوق اجتہاد کا ۔ غرض یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کے پیغام کو مکہ والوں نے تسلیم نہ کیا تو آپ برداشتہ خاطر ہوکر طائف کی طرف چل دیئے ۔ کہ شاید ان لوگوں کو قبول ہدایت کی توفیق حاصل ہو ۔ جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے اور زیادہ بدبختی (محرومی) اور شقاوت کا ثبوت دیا ۔ وہاں سے بھی مایوسانہ لوٹ کر آرہے تھے ۔ کہ راستہ میں جنوں کے گروہ نے قرآن کی سماعت کی ۔ اور تسلیم کرلیا ۔ کہ یہ اللہ کا پیغام ہے ۔ بلکہ قرآن کے داعی بھی بن گئے ۔ چناچہ جب یہ قوم کے پاس گئے ۔ تو انہوں نے برملا کہا ۔ کہ ہم نے ایک عجیب صحیفہ رشدوہدایت کو سنا ہے ۔ جو موسیٰ کے بعدنازل ہوا ہے ۔ اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور حق وصداقت کی جانب رہنمائی کرتا ہے ۔ صراط مستقیم کی جانب بلاتا ہے ۔ اور اللہ کی سچی آواز ہے اے قوم ضرور اس کو قبول کرلو ۔ خدا تمہارے گناہوں کو اس کے صلہ میں بخش دیگا ۔ اور آخرت کے دردناک عذاب سے بچا رہیگا ۔ یاد رکھو اگر تم نے نہ مانا ۔ تو یہ تمہاری بدقسمتی ہوگی ۔ اللہ کا دین بہر آئینہ پھیلے گا ۔ اور تمہاری پوری قوت بھی اس کو روک دینے پر قادر نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ یجحدون ۔ جھود سے ہے ۔ یعنی انکار کرتا ۔ نفرا ۔ ایک جماعت ۔
Ayahs 46:30–35

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی جو موسیٰ کے بعدنززل ہوئی ہے ۔ اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور) دین حق اور راہ راست کی طرف ہدایت کرتی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ۔ کہ تمہارے گناہ بخشے اور دکھ دینے والے عذاب سے تمہیں بچاوے

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کو نہ مانے گا تو وہ زمین میں بھاگ کر تھکانہ سکے گا اور نہ خدا کے سوا اس کے لئے کوئی مددگار ہے وہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہ تھکا وہ اس بات پر قادر ہے کہ مرے جلائے اور کیوں نہیں وہ ہر شئے پر قادر ہے

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آگ کے سامنے لائے جائینگے ان سے کہا جائیگا ۔ کیا یہ دوزخ حق نہیں ۔ کہیں گے کیوں نہیں اس میں رب کی قسم حق ہے کہے گا تو ہے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

بس جیسے عالی ہمت رسولوں نے صبر کیا تو بھی صبر کر اور ان کے لئے جلدی نہ کر ۔ جس دن وہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا اس نے وعدہ دیا جاتا ہے تو ایسے ہوجائینگے کہ گویا وہ سوائے دن کی ایک گھڑی کے دنیا میں نہ رہے تھے ۔ بچا دیتا ہے پس ہلاک وہی لوگ ہوں گے جو بےحکم ہیں ۔

حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔ نبوت وعزیمت منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔ اور سیسہ کاریوں سے اس کا ناکام رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔ قوم جذبات عداوت رحسد میں اس درجہ ترقی کرجاتی ہے ۔ کہ نبی کو زندگی تک کا اتفاق نہیں بخشتی اور چاہتی ہے ۔ کہ اس کو وہ حقوق زیست بھی حاصل نہ ہوں ۔ جو دوسرے عام انسانوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ مکہ والے آپ کو دکھ پہنچاتے ہیں ۔ تو آپ بھی صاحب عزیمت انبیاء کی طرح اس کو برداشت کیجئے ۔ اور عذاب طلب کرتے ہیں عجلت نہ فرمائیے ۔ کیونکہ جب عذاب کا دن آگیا تو پھر باوجود اس کے اب زندگی ناپائدار کو دائمی قرار دیتے ہیں ۔ اور ابدی سمجھنے میں اس وقت یہ سمجھیں گے کہ شاید ایک گھڑی دو گھڑی تک اس عالم میں رہتے ہیں ۔ یہ عذاب پھر کافی ممتد ہوگا اور اس سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی ۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ اللہ رفیق دلخور کو پنپنے نہیں دیتا اور یہ لوگ زیادہ دیر تک اس کی بخششوں اور رحمتوں سے استفادہ نہیں کرسکتے ۔ ان کا عذاب آئے گا ۔ اور ضرور آئے گا ۔ حل لغات :۔ ولم یقی ۔ تھکانہ کوفت محسوس کی عین الولیل ۔ یہ من تصیفیہ نہیں ہے تنبیہہ ہے کیونکر تمام انبیاء الولوالزم ہوتے ہیں ۔