46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsبیان القرآن

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو انکے درمیان میں ہیں حکمت کے ساتھ ایک میعاد معین کے لئے پیدا کیا ہے (ف 1) اور جو لوگ کافر ہیں ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (ف 2 (وہ اس سے بےرخی کرتے ہیں۔

ف 1۔ وہ حکمت دلالت علی التوحید والمجازاة ہے اور وہ میعاد قیامت ہے۔ 2۔ مثلا یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ جن چیزوں کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو مجھ کو یہ دکھلاؤ کہ انہوں نے کونسی زمین پیدا کی ہے یا ان کا آسمان میں کچھ ساجھا ہے (ف 3) میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی اور مضمون منقول لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی ظاہر ہے کہ تم بھی ان کو خالق نہیں مانتے جو کہ دلیل ہوسکتی ہے استحقاق الوہیت کی، بلکہ مخلوق کہتے ہو استحقاق الوہیت کی منافی ہے، پس دلیل عقلی تو منفی ہوئی۔ 4۔ مطلب یہ کہ دلیل نقلی کے لئے یہ ضرور ہے کہ اصل منقول عنہ کا قابل تقلید ہونا ثابت ہو اور سند اس تک متواتر یا متصل موجود ہو، خواہ وہ منقول عنہ کسی نبی کی کتاب ہو یا ان کا زبانی قول ہو، ظاہر ہے کہ ایسی دلیل کوئی پیش نہیں کرسکتا۔
Ayahs 46:5–6

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو خدا کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اسکا کہنا نہ کرے اور ان کو انکے پکارنے کی بھی خبر نہ ہو۔

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب سب آدمی جمع کئے جائیں تو وہ انکے دشمن ہوجائیں اور انکی عبادت ہی کا انکار کر بیٹھیں۔ (ف 5)

ف 5۔ پس ایسے معبود ین کی عبادت کرنے سے بڑھ کر کیا غلطی ہے کہ عبادت کا مقتضی ایک بھی نہیں اور عدم عبادت کے مقتضی بکثرت متحقق ہیں۔
Ayahs 46:7–8

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کی نسبت جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے یوں کہتے ہیں کہ صریح جادو ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اسکو اپنی طرف سے بنایا ہوگا تو پھر تم لوگ مجھ کو خدا سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے (ف 6) وہ خوب جانتا ہے تم قرآن میں جو جو باتیں بنا رہے ہو میرے اور تمہارے درمیان میں وہ کافی گواہ ہے (ف 7) اور وہ بڑی مغفرت والا ہے۔

ف 6۔ مطلب یہ کہ عقاب کا ترتب دعوائے کا ذبہ نبوت پر ایسا لازم ہے کہ کوئی میرا حامی مددگار بھی اس کے تخلف پر قادر نہیں۔ 7۔ یعنی اس پر مطلع ہے۔
Ayahs 46:9–11

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کوئی میں انوکھا رسول تو ہوں نہیں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائیگا اور نہ ( یہ معلوم کہ) تمہارے ساتھ (کیا کیا جائیگا) میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھ کو یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن منجانب اللہ ہو اور تم اسکے منکر ہو اور بنی اسرئیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لے آوے اور تم تکبر ہی میں رہو بیشک اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور یہ کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے (ف 1) اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو یہ کہینگے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے۔

ف 1۔ یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے تو اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے، جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں۔ یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔
Ayahs 46:12–13

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے جو رہنما اور رحمت تھی اور یہ ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے عربی زبان میں ظالموں کے ڈرانے کے لئے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کے لئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (ف 2) پھر مستقیم رہے (ف 3) ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہونگے۔

ف 2۔ یعنی توحید کو حسب تعلیم رسول کے قبول کیا۔ 3۔ یعنی اس کو چھوڑا نہیں۔
Ayahs 46:14–15

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو وہ کرتے تھے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اسکی ماں نے اسکو بڑی مشقت کیساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کیساتھ اسکو جنا اور اسکو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا تیس مہینے (میں پورا ہوتا ہے) یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو (ف 4) پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار مجھ کو اسپر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور میں نیک کام کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا کردیجئے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں فرمانبردار ہوں۔ (ف 5)

ف 4۔ یعنی بلوغ کو۔ 5۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جو شخص سعید ہوتا ہے وہ اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور حقوق والدین کے بھی جو کہ حقوق العباد میں سے ہیں ادا کرتا ہے۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے کاموں کو قبول کرلیں گے اور انکے گناہوں سے درگذر کریں گے اس طور پر کہ یہ اہل جنت میں سے ہونگے (ف 6) ۔ اس وعدہ صادقہ کی وجہ سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

ف 6۔ یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ بدون توبہ کے گناہ معاف نہیں ہوتے، کیونکہ گناہ فضیل محض سے بھی معاف ہوجاتے ہیں۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ (یعنی خبر) دیتے ہو کہ میں (قیامت میں دوبارہ زندہ ہوکر) قبر سے نکالا جاؤنگا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گذر گئیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کررہے ہیں کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو یہ کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ مطلب یہ کہ ایسا شقی ہے کہ کفر اور عقوق دونوں کا مرتک ہے، اور عقوق بھی اس درجہ کا کہ ماں باپ کی مخالفت کے ساتھ ان سے کلام میں بھی بد تمیزی اور درشتی کرتا ہے۔
Ayahs 46:18–20

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ انکے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن اور انسان ہوگذرے ہیں بیشک یہ خسارہ میں رہے۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے انکے اعمال کی وجہ سے الگ الگ درجے ملینگے اور تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو انکے اعمال پورے کردے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کرچکے اور ان کو خوب برت چکے سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے (ف 1) ۔ اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔ (ف 2)

ف 1۔ فی الارض کی قید اس اشارہ کے لئے کہ ارض پر رہ کر تکبر کرنا اور بھی زیادہ مذموم ہے، اور بغیر الحق قید واقعی ہے کیونکہ مخلوق سے صدور تکبر کا ہمیشہ بغیر الحق ہی ہوگا، اور استکبار سے مراد استکبار عن الایمان ہے کہ عذاب خلود اسی کے خواص سے ہے۔ 2۔ اس میں تمام کفریات و فسقیات و وجوہ ظلم داخل ہوگئے۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور آپ قوم عاد (علیہ السلام) کے بھائی (ہود (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خم دار تودے تھے (ف 3) اس پر ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور ان سے پہلے اور ان سے پیچھے بہت ڈرانے والے (پیغمبر ابتک) گزر چکے ہیں مجھ کو تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

ف 3۔ ان لوگوں کا مسکن بقول اکثر بلاد یمن میں تھا، اور وہاں ریگ کے تودے تھے، عرب کے لوگ تجارت کے لئے اکثر سفر کیا کرتے تو ان مقامات پر گزرتے تھے اور آدمیوں کا اور مواشی کا اس ہوا میں اڑے اڑے پھرنا در منثور میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور وادی کہتے ہیں نشیب زمین کو جہاں پانی جمع ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے کبھی اس کا ترجمہ میدان سے کیا جاتا ہے اور کبھی ندی نالہ سے۔
Ayahs 46:22–23

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس ارادہ سے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو سو اگر تم سچے ہو تو جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اسکو ہم پر واقع کردو۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ پورا علم خدا ہی کو ہے اور مجھ کو تو جو پیغام دیکر بھیجا گیا ہے میں تم کو وہ پہنچا دیتا ہوں لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ (ف 4)

ف 4۔ اس لئے کہ ایک تو توحید کو نہیں قبول کرتے ہو، پھر اپنے منہ سے بلا مانگتے ہو، پھر مجھ پر اس کی فرمائش کرتے ہو۔
Ayahs 46:24–26

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنے وادیوں کے مقابل آتا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا نہیں نہیں بلکہ یہ وہی ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

وہ ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے ہلاک کردے گی چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ نہ دکھائی دیتا تھا ہم مجرموں کو یوں ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھ اور دل دیے تھے سو چونکہ وہ لوگ آیات الہٰیہ کا انکار کرتے تھے اسلئے نہ انکے کان انکے ذرا کام آئے اور نہ انکی آنکھیں اور نہ انکے دل اور جس کی وہ ہنسی کیا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی نہ ان کے حواس ان کو عذاب سے بچا سکے اور نہ ان کی تدبیر جس کا ادراک قلب سے ہوتا ہے اور نہ ان کی قوت، پس تمہاری تو کیا حقیقت ہے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی غارت کی ہیں (ف 2) اور ہم نے باربار اپنی نشانیاں بتلادی تھیں تاکہ وہ باز آئیں۔

ف 2۔ جیسے ثمود و قوم لوط کہ شام کو جاتے ہوئے ان کے مساکن سے گزرتے تھے اور چونکہ مکہ سے ایک طرف میں ہے، دوسری جہت میں شام، اس لئے ماحولکم فرمایا۔
Ayahs 46:28–31

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

سو خدا کے سوا جن جن چیزوں کو انہوں نے خدائے تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کو اپنا معبود بنارکھا ہے انہوں نے انکی مدد کیوں نہ کی بلکہ وہ سب ان سے غائب ہوگئے اور وہ محض انکی تراشی ہوئی اور گھڑی ہوئی بات ہے۔

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جبکہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے جو قرآن سننے لگے تھے غرض جب وہ لوگ قرآن کے پاس آپہنچے کہنے لگے کہ خاموش رہو پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس خبر پہنچانے کے واسطے واپس گئے۔

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے بھائیو ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے بھائیو اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو عذاب دردناک سے محفوظ رکھے گا۔ (ف 3)

ف 3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور ﷺ مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی یہ ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ جنات جب یہاں آئے تو باہم کہنے لگے کہ خاموش رہ کر قرآن سنو، جب آپ نماز صبح سے فارغ ہوئے تو وہ معتقد اور مومن ہو کر اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور ان کو خبر سنا کر ایمان کی ترغیب دی، اور آپ ﷺ کو ان کے آنے جانے کی خبر نہیں ہوئی، یہاں تک کہ سورة جن کے نزول سے آپ کو خبر دی گئی۔
Ayahs 46:32–35

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا تو وہ زمین میں ہرا نہیں سکتا اور خدا کے سوا کوئی اس کا حامی بھی نہ ہوگا ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور انکے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا وہ اسپر قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں نہ ہو بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز وہ کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائینگے (ان سے پوچھا جائیگا) کیا یہ دوزخ امرواقعی نہیں ہے وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ضرور امر واقعی ہے ارشاد ہوگا تو اپنے کفر کے بدلہ میں اسکا عذاب چکھو۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

تو آپ صبر کیجئے جیسے اور ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا (ف 4) اور ان لوگوں کیلئے (انتقام الہٰی کی) جلدی نہ کیجئے اور جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھینگے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو گویا یہ لوگ دن بھر میں ایک گھڑی رہے ہیں (ف 1) یہ پہنچادینا ہے سو وہی برباد ہونگے جو نافرمانی کرینگے۔

ف 4۔ اولو العزم سے محققین نے سب پیغمبر مراد لئے ہیں، کیونکہ سب کا اہل عزم اور اہل ہمت ہونا ظاہر ہے اور من الرسل میں کلمہ من بیانیہ ہے اور چونکہ حسب ارشاد فضلنا بعضھم علی بعض اس صفت میں بعض رسل علیہ الصلوة والسلام اوروں سے بڑھے ہوئے ہیں، اس بناء پر یہ لقب بعض رسل کا بھی مشہور ہوگیا ہے جیسا کہ اعلام غالبہ میں ہوتا ہے۔ 1۔ یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصہ معلوم ہوگی اور یہی معلوم ہو کہ استعجالا عذاب آگیا۔