Ayah 46:2تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے جو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔
Ayah 46:3ما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی والذین کفروا عما انذروا معرضون ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور دونوں کی درمیانی کائنات کو حکمت کے ساتھ (ہی) ایک میعاد معین کیلئے پیدا کیا ہے۔ اور جو لوگ کافر ہیں ‘ وہ اسی چیز سے لاپرواہی کرتے ہیں جس سے ان کو ڈرایا گیا ہے۔
تَنْزِیْلُ اس کی تفسیر سورة جاثیہ میں گذر چکی ہے۔
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلاَّ بالْحَقِّ یعنی ہم نے آسمان و زمین اور اسکی درمیانی موجودات کو برحق پیدا کیا (بےحقیقت اور بلاحکمت نہیں پیدا کیا ‘ مترجم) یہ ساری کائنات بتارہی ہے کہ ان کا ایک بنانے والا ہے جو قدیم ہے اور حکمت والا ہے۔ یہ سارا جہان یہ بات بھی بتارہا ہے کہ حسب تقاضائے حکمت و انصاف سزا و جزا دینے کیلئے انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
وَاَجَلٍ مُّسَمًّیط یعنی اس کل سنسار کی تخلیق ایک معین مدت کیلئے ہے ‘ جب مقررہ مدت ختم ہوجائے گی تو انکی بقاء ختم ہوجائے گی ‘ یعنی قیامت کے دن یہ نظام تباہ ہوجائے گا۔
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا۔ عَمّا میں مَا مصدریہ ہے ‘ یعنی ڈرانا ‘ یا مَا موصولہ ہے یعنی روز قیامت کا عذاب ‘ جس سے کافروں کو ڈرایا گیا ہے۔
مُعْرِضُوْنَ اعراض کرتے ہیں ‘ یعنی غور نہیں کرتے کہ روز قیامت کا عذاب عقلاً محال نہیں ہے اور شرعاً لازم ہے اور قیامت کے آنے کی کوئی تیار نہیں کرتے اور اللہ کے سوا دوسروں کو بغیر دلیل کے معبود قرار دیتے ہیں۔
Ayah 46:4قل ارئیتم ما تدعون من دون اللہ ارونی ما ذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ایتونی بکتب من قبل ھذا او اثرۃ من علم ان کنتم صدقین آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو بتاؤ کہ علاوہ اللہ کے جن چیزوں کو تم پوجا کرتے ہو ‘ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کونسی زمین پیدا کی ہے ‘ یا ان کا آسمان (کی تخلیق) میں کچھ ساجھا ہے ؟ میرے پاس کوئی (خدائی) کتاب جو اس سے پہلے کی ہو ‘ لاؤ۔ یا کوئی اور علم کی بات جو منقول ہو (لاؤ) اگر تم سچے ہو۔
قُلْ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے۔
اَرَءَیْتُمْ یہ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی مخاطب کو اقرار پر آمادہ کرنا مقصود ہے۔
مَا تَدْعُوْنَ یعنی جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ اس سے بت مراد ہیں۔
مَا ذَا۔ مَا استفہامیہ اور ذَا موصولہ ہے بمعنی الذی یعنی وہ کیا چیز ہے جس کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔
مِنَ الْاَرْضِ یہ مَا کا بیان ہے ‘ یعنی کیا زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔
فِی السَّمٰوٰتِ یعنی آسمانوں کو پیدا کرنے میں کیا ان کی شرکت اور دخل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غور کرنے کے بعد مجھے بتاؤ کہ جن معبودوں کو تم پوجتے ہو ‘ کیا انہوں نے اس ساری دنیا کی کوئی چیز بھی پیدا کی ہے ‘ یا تخلیق عالم میں ان کی شرکت کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے۔ جب ان کی شرکت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تو پھر ان کو معبود ہونے کا استحقاق کیسے حاصل ہوسکتا ہے اور کس وجہ سے تم ان کو معبود قرار دیتے ہو اور پوجتے ہو۔
ایک گمان کیا جاسکتا تھا کہ عالم سفلی یعنی کائنات عنصری میں جو حوادث و واقعات ہوتے ہیں ‘ ان کی تخلیق میں عالم علوی یعنی کائنات سماوی کی شرکت ہے۔ اس گمان کو زائل کرنے کیلئے فرمایا کہ تخلیق سماوات میں کیا تمہارے معبودوں کا کوئی دخل ہے ‘ یا ان کی شرکت کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے۔
بِکِتٰبٍ یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو شرک کی تعلیم دیتی ہو۔
مِنْ قَبْلِ ھٰذَا یعنی اس قرآن سے پہلے جو توحید کی تعلیم دے رہا ہے۔
اَوْ اَثٰرَۃٍ امام احمد نے حضرت ابن عباس کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا قول نقل کیا ہے کہ اثارۃ (سے مراد ہے) تحریر۔
مجاہد اور عکرمہ نے ترجمہ کیا : ” نقل “۔ قتادہ نے کہا : اثارۃ یعنی خاص۔ کلبی نے اس کا ترجمہ کہا : بقیہ۔ قاموس میں ہے : اَثَرَ کسی چیز کا باقی حصہ۔
مِنْ عِلْمٍ یعنی سابق انبیاء کا علم جو وحی قطعی سے حاصل ہوا۔
اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اللہ نے تم کو بت پرستی کا حکم دیا ہے۔ یعنی بتوں کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں ‘ نہ عقلی نہ نقلی۔
Ayah 46:5ومن اضل ممن یدعو من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعاءھم غفلون۔ اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ کرے اور ان کو اپنے پکارے جانے کی خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 46:6واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین اور جب سب آدمی جمع کئے جائیں تو وہ ان (پوجنے والوں) کے دشمن ہوجائیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں۔
وَمَنْ اَضَلُّ (سوال انکاری ہے) یعنی اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں ... جو
مِمَّنْ یَّدْعُوْ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتا اور ان سے مرادیں مانگتا ہے ....
مِنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗ جو بالفرض اگر پکارنے والوں کی پکار سن بھی لیں تو انکا مطلب نہ سمجھیں اور نہ مرادیں پوری کرنے کا طریقہ ان کو معلوم ہو۔
اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ روز قیامت تک ‘ یعنی جب تک دنیا قائم ہے۔
وَھُمْ عَنْ دُعَآءِھُمْ غٰفِلُوْنَ اور ان کو ان پکارنے والوں کی خبر بھی نہیں۔
کیونکہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں ‘ وہ یا تو جمادات (یا نباتات یا جانور یا ستارے ‘ سیارے۔ مترجم) ہیں جو ان کی پکار کو نہ سنتے ہیں ‘ نہ سمھجھتے ہیں۔ یا اللہ کے ایسے بندے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار ہیں (اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں) اور اپنے احوال میں مشغول ہیں ‘ جیسے حضرت عیسیٰ ‘ حضرت عزیر اور فرشتے۔
وَاِذَا حُشِرَ النَّاس یعنی جب قیامت کے دن لوگ جمع کئے جائیں گے۔
کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآءً وہ معبود ان پجاریوں کے دشمن ہوجائیں گے ‘ فائدہ پہنچانے کی جگہ ضرر پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں گے اور ان پجاریوں کی پوجا کی تکذیب کریں گے ‘ اور کہیں گے : اے اللہ ! ہم ان سے بیزار ہیں ‘ یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے (بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے) مطلب یہ ہے کہ ان کے معبود نہ دنیا میں ان کے کام آسکتے ہیں اور نہ آخرت میں ‘ بلکہ آخرت میں تو ضرر رساں (ضرر پہنچنے کا ذریعہ) ہوجائیں گے۔ لہٰذا ایسے معبودوں کی پوجا کرنے والوں اور اللہ سمیع وبصیر ‘ خبیر ‘ قادر ‘ مجیب کی عبادت کو ترک کرنے والوں سے زیادہ اور کون گمراہ ہوسکتا ہے ؟
بعض اہل تفسیر نے آیت وَکَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کَافِرِیْنَ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ معبودان باطل کے یہ پجاری قیامت کے دن باطل معبودوں کی پوجا کرنے سے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے : قسم ہے معبود برحق کی جو ہمارا رب ہے ! ہم مشرک نہ تھے۔
Ayah 46:7واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین کفروا للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین۔ اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کو جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے ‘ کہتے ہیں : یہ صریح جادو ہے۔
Ayah 46:8ام یقولون افتراہ قل اللہ افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا ھو اعلم بما تفیضون فیہ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم وھو الغفور الرحیم کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی طرف سے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اس کو میں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہوگا تو پھر تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔ وہ خوب جانتا ہے ‘ قرآن میں تم جو جو باتیں بنا رہے ہو۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ کافی گواہ ہے۔ اور وہی بڑی مغفرت والا (اور) رحمت والا ہے۔
لِلْحَقِّ یعنی حق کی بابت ‘ حق کو۔ حق سے مراد ہیں : آیات۔ کَفَرُوْا کے ساتھ صراحۃً لَلْحَقِّ کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ آیات حق اور سچی ہیں اور یہ لوگ بلاشبہ کافر ‘ گمراہ اور حق کے منکر ہیں۔
لَمَّا جَآءَھُمْ یعنی جونہی آیات ان کو پہنچیں ‘ انہوں نے بغیر سوچے اور غور کئے فوراً کہہ دیا کہ یہ قرآن صریح جادو ہے ‘ اس کا جادو ہونا کھلا ہوا ہے۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ ۔ ام استفہامیہ منقطعہ ہے اور استفہام انکار آگیں ‘ تعجب آگیں ہیں۔
قُلْ اِنِ اْفَتَرَیْتُہٗ یعنی آپ کہہ دیجئے کہ بالفرض اگر تم لوگوں کو اپنا تابع بنانے کیلئے میں نے یہ کلام ازخود بنا لیا ہے اور اللہ کی طرف نسبت کردی ہے۔
فَلاَ تَمْلِکُوْنَالخ تو اللہ کا عذاب جو مجھ پر آئے گا ‘ اسکو تم میرے اور سے بالکل دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ‘ اللہ کے عذاب کو دفع نہیں کرسکتے ‘ پھر کس طرح اللہ کی طرف غلط نسبت کر کے میں اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا سکتا ہوں۔ تمہاری طرف سے تو مجھے نہ حصول نفع کی امید ہے ‘ نہ دفع ضرر کی۔
بِمَا تُقِیْضُوْنَ فِیْہِ یعنی اللہ کی آیات کی تکذیب اور اس کے کلام کو جادو اور من گھڑت کہنے میں تم گھس رہے ہوں ‘ اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
کَفٰی بِہٖ یہ فاعل کا قائم مقام ہے ‘ یعنی اللہ کافی ہے۔
شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ میرے اور تمہارے درمیان شہادت دینے کیلئے ‘ یعنی معجزات عطا فرما کر اس نے میری سچائی اور تبلیغ کی شہادت دی اور تمہارے جھوٹے ہونے کی ‘ اور اسی کی شہادت کافی ہے۔ یہ کافروں کیلئے وعید ہے کہ تم کو اس تکذیب کی سزا ملے گی۔
وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ یہ ان لوگوں کیلئے مغفرت اور رحمت کا وعدہ ہے جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔
آیت میں درپردہ اشارہ ہے کہ اللہ بڑا حلیم ہے کہ باوجود بڑے مجرم ہونے کے کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا۔
Ayah 46:9قل ما کنت بدعا من الرسل وما ادری ما یفعل بی ولا بکم آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی انوکھا
رسول تو ہوں نہیں۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
بدع اور بدیع دونوں ہم معنی ہیں ‘ جیسے نصف اور نصیف ‘ یعنی میں پہلا پیغمبر نہیں ہو کہ جو دعویٰ مجھ سے پہلے کسی پیغمبر نے نہیں کیا ‘ وہ میں کر رہا ہوں۔ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ‘ پھر تم لوگ میری نبوت کا انکار کیوں کرتے ہو ‘ جبکہ معجزات بھی میری نبوت کی تصدیق کر رہے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں انوکھا پیغمبر نہیں ہو کہ تمہارے مطالبات اور مطلوبہ فرمائشیں پوری کر دوں ‘ جو پہلے پیغمبر نہیں کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے۔
وَمَآ اَدرِیْالخ بعض اہل تفسیر نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے کہ مجھے نہیں معلوم تمہارے ساتھ قیامت کے دن کیا کیا جائے گا ‘ اور میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کافر بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے : قسم ہے لات و عزّٰی کی ! اللہ کے نزدیک ہمارا اور محمد ﷺ کا درجہ ایک ہی ہے ‘ ان کو ہم پر کوئی برتری اور مرتبہ حاصل نہیں۔ اگر یہ کلام اس کا خودساختہ نہ ہوتا (اور اللہ کی طرف سے اس کو پیغمبر بنایا گیا ہوتا) تو اللہ اس کو اس کی برتری اور مرتبہ سے واقف کردیتا۔ اس کے بعد آیت لِیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَم وَمَا تَأَخَّرَ نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو ‘ اللہ جو معاملہ اور سلوک آپ سے کرے گا ‘ وہ تو ہم کو معلوم ہوگیا لیکن ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ‘ یہ ہم کو معلوم نہیں ہوا۔ اس پر آیت لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَات الخ اور آیت وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلاً کَبِیْرًا نازل ہوئی اور اللہ نے بتادیا کہ اللہ کے نبی کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور اہل ایمان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ قول حضرت انس اور قتادہ اور حسن اور عکرمہ کا ہے ‘ ان حضرات کا بیان ہے کہ یہ آیت حدیبیہ کی صلح سے پہلے نازل ہوئی تھی ‘ لیکن جب حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو آپ کی ساری اگلی پچھلی فروگذاشتوں کے معاف ہونے کی اطلاع دے دی گئی تو آیت مذکورہ منسوخ ہوگئی۔ میرے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ قرآن کی ہر سورت میں مدنی سورت ہو یا مکی ‘ مؤمنوں کیلئے وعدۂ مغفرت اور کافروں کیلئے وعید عذاب مذکور ہے۔ سب سے پہلے (حکم تبلیغ کی) آیت وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تھی ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر اقرباء ایمان نہ لائیں تو ان کو عذاب کی وعید سنا دو ۔ اس سورة میں بھی کافروں کو عذاب کی وعید اور مؤمنوں کو بشارت دی گئی ہے اور صراحت کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو اپنا رب مان لیا اور اس پر قائم رہے ‘ اور سیدھی چال چلتے رہے تو ان کو نہ عذاب کا خوف ہوگا ‘ نہ غم۔ اور سب کے سب جنتی ہوں گے۔ فرمایا ہے : وَھٰذَا کِتَابٌ مُّصْدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ اُولٰٓءِکَ اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کا (اچھا) اور کافروں کا (برا) انجام رسول اللہ ﷺ کو معلوم نہ ہو اور اللہ کی کتاب میں بھی اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اس سے تو کافروں کو اعتراض کرنے اور یہ کہنے کا موقع مل سکتا تھا کہ ہمارا اور محمد ﷺ کا معاملہ اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے ‘ ان کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے ‘ پھر باپ دادا کے مذہب کو ترک اور پیغمبر کی اتباع کرنے سے کیا فائدہ۔ اس کے علاوہ ایک خرابی یہ ہوجائے گی کہ اگر آیت لِیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَم وَمَا تَأَخَّرَ اور آیت لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ کا نزول بعثت سے کچھ اوپر دس سال کے بعد مانا جائے گا تو وقت ضرورت سے بیان کی تاخیر لازم آئے گی اور یہ محال ہے۔
ایک شبہ
بغوی نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت خارجہ بن زید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ام علاء انصاریہ نے کہا : جب مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی سکونت (اور میزبانی) کے سلسلہ میں انصار نے قرعہ اندازی کی۔ ہمارے حصہ میں حضرت عثمان بن مظعون آئے اور ہمارے پاس ان کی سکونت ہوگئی۔ پھر وہ بیمار ہوگئے ‘ ہم نے ان کی تیمار داری کی۔ کچھ مدت کے بعد ان کی وفات ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ‘ میں بھی اندر چلی گئی اور میں نے کہا : ابو السائب ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کی عزت افزائی فرما دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تجھے کیا معلوم کہ اللہ نے اس کی عزت افزائی فرما دی ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ‘ اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو اس کے رب کی طرف سے موت آگئی ‘ اور میں اس کیلئے بھلائی کی امید رکھتا ہوں۔ اور باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں ‘ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ جانتا ہوں کہ) تم لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ حضرت ام علاء نے فرمایا : اس واقعہ کے بعد میں کسی کے گناہوں سے پاک ہونے کا اظہار نہیں کرتی تھی۔ کچھ مدت کے بعد میں نے خوا میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کا ایک چشمہ جاری ہے۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ اس کے اعمال (خیر) ہیں۔
یہ حدیث اس تفسیر کی تائید کر رہی ہے جس میں آیت کا مطلب یہ بیان کیا گیا کہ میں نہیں جانتا کہ قیامت کے دن میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اگر یہ مراد نہیں ہے تو پھر حدیث کا مطلب ہی کیا ہوگا۔
جواب
ہم کہتے ہیں : حدیث کا تقاضا ہے کہ کسی معین شخص کی نجات یا ہلاکت کا قطعی فیصلہ کرنا ناجائز ہے ‘ کیونکہ یہ علم غیب کا دعویٰ ہوجائے گا اور اللہ کے سوا کوئی بھی باطن اور غیب کا علم نہیں رکھتا۔ لیکن اگر کسی شخص کے ظاہری احوال (اعمال) اچھے ہوں تو اس کیلئے خیر کی امید کی جاسکتی ہے۔ حدیث مبارک کا مطلب یہ ہے کہ میں باوجودیکہ اللہ کا رسول ہوں ‘ اللہ نے مجھے اگلوں اور پچھلوں کے سارے علوم عطا فرما دئیے ہیں ‘ پھر بھی میں تفصیلی طور پر نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے خاص خاص اعمال کی جزا کیا ہوگی۔ تجھے معین شخص یعنی ابوالسائب کے متعلق کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ نے اس کی عزت افزائی فرما دی۔
آیت مذکورہ کی اسی طرح کی تاویل بعض اہل تفسیر نے یہ بھی کی ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ (تفصیلی طور پر) کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ‘ کیونکہ مجھے غیب کا علم نہیں۔
یہ تفسیر رفتار کلام کے اقتضاء کے خلاف ہے ‘ آیت کی رفتار یہ بتارہی ہے کہ کفار ‘ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مذہب پر لانے کے خواستگار تھے ‘ مال کا لالچ بھی دیتے تھے اور بغیر مہر کے حسب پسند عورتوں سے نکاح کرا دینے کا بھی ‘ اور بصورت انکار آپ کو تکلیفیں بھی دیتے تھے اور ڈراتے دھمکاتے بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی کسی درخواست کو قبول نہیں کیا اور فرما دیا کہ مجھے نہ تم سے کوئی دنیوی لالچ ہے ‘ نہ کسی قسم کا خوف۔ کوئی بات تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔ خیر و شر ‘ سب اللہ کے اختیار میں ہے ‘ وہ جیسا چاہے گا کرے گا۔ رفتار کلام کے اس اقتضاء کو پیش نظر رکھ کر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ‘ کون کامیاب ہوگا اور کس کو ناکام چھوڑ دیا جائے گا۔ بہرصورت میں تمہارا اتباع نہیں کرسکتا۔
ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو بس اسی وحی پر چلوں گا جو میرے پاس بھیجی جا رہی ہے۔
یعنی قرآن پر چلوں گا ‘ اس کو کبھی ترک نہیں کروں گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ کافروں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ غیبی باتیں جن کے متعلق کوئی وحی نہیں آئی تھی ‘ دریافت کی تھیں ‘ یہ آیت ان کی درخواست کا جواب ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ مسلمانوں نے درخواست کی تھی کہ کافروں کی طرف سے جو اذیتیں ان کو پہنچ رہی ہیں ‘ ان سے جلد از جلد رہائی مل جائے۔ اس خواہش کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی کا یہی قول ہے۔
علماء کی ایک جماعت نے کہا کہ آیت مذکورہ کا مطلب یہ ہے : ” میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا “۔ رہا آخرت کا معاملہ ‘ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنت میں ‘ اور کافر دوزخ میں ہوں گے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے : جب صحابہ پر تکلیفیں حد سے بڑھ گئیں تو ایک روز مکہ میں ہی حضور ﷺ نے خواب دیکھا ‘ جیسے سوتا آدمی خواب دیکھتا ہے کہ ایک ہموار (غیر مزروعہ) زمین ہے ‘ جس میں کھجور کے درخت ہیں ‘ اور آپ ترک وطن کر کے اس کی طرف گئے ہیں۔ یہ خواب سن کر صحابہ نے عرض کیا : آپ ہجرت کر کے وہاں کب جائیں گے ؟ حضور ﷺ خاموش رہے ‘ اس پر آیت مَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُمْ نازل ہوئی۔ یعنی میں نہیں جانتا کہ میں اسی جگہ رہوں گا یا میں اور تم یہاں سے نکل کر اس سرزمین میں چلے جائیں گے جو میرے سامنے (خواب میں) لائی گئی ہے۔
بعض مفسرین نے یہ مطلب بیان کیا ہے : ” مجھے معلوم نہیں کہ اس دنیا میں میرا معاملہ کیا رہے گا۔ کیا جس طرح دوسرے انبیاء ‘ مثلاً حضرت ابراہیم کو وطن سے نکال دیا گیا تھا ‘ مجھے بھی اسی طرح نکال دیا جائے گا ‘ یا جیسے بعض انبیاء ‘ مثلاً حضرت یحییٰ قتل کئے گئے ‘ ویسے ہی مجھے بھی قتل کردیا جائے گا۔ اور اے ایمان والو ! مجھے تمہارے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ تم کو بھی نکال دیا جائے گا ‘ یا میرے ساتھ تم کو قتل کردیا جائے گا۔ اور اے کافرو ! تمہاری بابت بھی مجھے معلوم نہیں کہ قوم لوط کی طرح تم پر پتھر برسائے جائیں گے ‘ یا قارون کی طرح تم کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ‘ یا گذشتہ کافر امتوں کی طرح تمہارے ساتھ کوئی اور سلوک کیا جائے گا “۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ آپ کا دین تمام مذاہب پر غالب ہوجائے گا ‘ اور فرمایا : ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَدِیْنَ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۔ اور امت کے متعلق فرمایا : مَا کَان اللّٰہُ لِیَُذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَان اللّٰہُ معَذِّبِھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ یہ سدی کا تفسیری قول ہے۔
Ayah 46:10قل ارئیتم ان کان من عند اللہ وکفرتم بہ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) من جانب اللہ ہو ‘ اور تم اس کے منکر ہو ‘ اور بنی اسرائیل میں کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر اس پر ایمان لے آئے ‘ اور تم تکبر ہی میں رہو۔ بیشک اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔
اَرَءَیْتُمْ مجھے بتاؤ ‘ تمہارا کیا حال ہے۔
وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءَیْلَ قتادہ اور ضحاک نے کہا : شاہد سے مراد ہیں حضرت ابو یوسف عبد اللہ بن سلام بن حارث ‘ آپ حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔
بخاری اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے اور محمد بن سلام نے عبد اللہ بن سلام کی اولاد میں سے کسی شخص کی روایت سے ‘ نیز بیہقی نے حضرت موسیٰ بن عقبہ اور زہری کی روایت سے ‘ اور امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن سلام کے حوالے سے بیان کیا ‘ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ سنا اور آپ کے اوصاف ‘ نام اور شکل اور ان باتوں کو جن کی (آنے والے نبی کی بابت) ہم کو توقع تھی ‘ پہچان لیا تو میں خاموش رہا اور دل میں اس بات کو چھپائے رہا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں فروکش ہوئے ‘ تو ایک شخص نے آپ کی تشریف آوری کی خبر دی۔ میں اس وقت کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا اور میری پھوپھی خالدہ بنت حارث نیچے بیٹھی ہوئی تھیں۔ جونہی میں نے رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خبر سنی (زور سے) اللہ اکبر کہا۔ پھوپھی نے آواز تکبر سن کر کہا : اگر حضرت موسیٰ بن عمران کی آمد کی خبر و سنتا تو اس سے بڑھ کر اظہار مسرت نہ کرتا۔ میں نے پھوپھی سے کہا : اللہ کی قسم ! یہ موسیٰ بن عمران کے بھائی ہیں اور انہی کے دین کے پیرو ہیں اور جو دین دے کر ان کو بھیجا گیا تھا ‘ وہی دین دے کر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پھوپھی نے کہا : یہ تو سنی ہوئی بات ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوگیا اور چہرۂ مبارک کو دیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہوسکتا۔
حضرت عبد اللہ نے جو بات رسول اللہ ﷺ سے سب سے پہلے سنی ‘ وہ یہ تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا : لوگو ! (غریبوں ‘ محتاجوں وغیرہ کو) کھانا کھلاؤ ‘ سلام (کا رواج) پھیلاؤ ‘ قرابت داروں کی قرابت کو جوڑے رکھو ‘ اور رات میں جب اور لوگ سوتے ہوں تو تم نما زپڑھو (یہ عمل کر کے) جنت میں داخل ہوجاؤ۔
حضرت عبد اللہ نے عرض کیا : میں آپ سے تین باتیں دریافت کرتا ہوں ‘ جن کا علم نبی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوسکتا۔ (1) قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہوگی ؟ (2) اہل جنت کو سب سے پہلے کونسا کھانا دیا جائے گا ؟ (3) اولاد ماں یا باپ کی طرف کیوں کھنچتی ہے ؟ (یعنی باپ یا ماں کے ہم شکل کیوں ہوتی ہے ؟ ) اور (چوتھی بات ایک یہ ہے کہ) چاند میں یہ سیاہی کیسی ہے ؟
حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے ابھی جبرئیل نے بتایا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا : جبرئیل نے بتایا ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ عبد اللہ نے کہا : وہ تو یہودیوں کا دشمن فرشتہ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : (1) قیامت کی اول ترین نشانی ایک آگ ہوگی جو مشرق سے برآمد ہوگی اور لوگوں کو مغرب کی طرف لائے گی۔ (2) اور اہل جنت سب سے پہلے جو کھانا کھائیں گے ‘ وہ مچھلی کے جگر کی نوک (ابھار) ہوگی۔ (3) اور مرد کا پانی غالب آتا ہے تو بچے کو اپنی شکل کی طرف کھینچ لیتا ہے اور عورت کا پانی غالب آتا ہے تو بچے کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ اور وہ سیاہی جو چاند میں ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں سورج (یعنی چمک دار) تھے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّھَارَ اٰیَتیْنِ فَمَحَوْنَا اٰیَۃَ الَّیْلِ پس یہ سیاہی وہی محو ہے (یعنی اللہ نے اتنی جگہ کی چمک مٹا دی ہے) ۔ حضرت عبد اللہ یہ سن کر فوراً بول اٹھے اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَنَّکَ مُحْمَّدًا رَسُوْلُ اللہ۔ پھر لوٹ کر گھر جا کر سب کو مسلمان ہوجائے کا مشورہ دیا ‘ سب گھر والے بھی مسلمان ہوگئے ‘ لیکن اس وقت آپ نے اپنا اسلام چھپائے رکھا۔
پھر کچھ وقت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان کا سب سے بڑا عالم ہوں اور سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں ‘ مگر یہ لوگ ہیں بڑے جھوٹے۔ آپ پہلے ان سے میرے متعلق دریافت کریں ‘ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے ان کو میرے مسلمان ہوجانے کا علم ہوجائے گا تو یہ مجھ پر دروغ بافی کریں گے اور میرے اندر وہ عیوب نکالیں گے ‘ جو مجھ میں نہیں ہیں ‘ اسلئے میں چاہتا ہوں کہ مجھے آپ اپنے گھر کے اندر کسی کوٹھڑی میں چلے جانے کی اجازت دے دیجئے (پھر ان کو بلوا کر میرے متعلق دریافت کیجئے) ۔
حضور ﷺ نے عبد اللہ کو اپنے گھر کے اندر ایک کوٹھڑی میں چھپ جانے کی اجازت دے دی۔ پھر یہودیوں کو طلب فرمایا ‘ یہودی آگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا : اے گروہ یہود ! اللہ سے ڈرو۔ قسم نے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! تم لوگ بلاشبہ جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ‘ حق دین اور شریعت لے کر آیا ہوں۔ تم مسلمان ہوجاؤ (مان لو) ۔ یہودیوں نے کہا : ہم آپ کے دین کو حق نہیں جانتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عبد اللہ تمہارے اندر کیسا آدمی ہے ؟ یہودیوں نے کہا : وہ ہم سے بہتر ہے اور سب سے افضل آدمی کا بیٹا ہے ‘ ہمارا سردار ہے اور ہمارا سردار زادہ ہے ‘ ہم میں سب سے بڑا عالم ہے اور سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اچھا ! اگر وہ اسلام لے آیا (تو تم مسلمان ہوجاؤ گے) کہنے لگے : اللہ اس کو بچائے۔ حضور ﷺ نے (آواز دے کر) حضرت عبد اللہ سے فرمایا : باہر آجاؤ۔ فوراً عبد اللہ باہر آگئے اور بولے : میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اے گروہ یہود ! اللہ سے ڈرو ‘ اور جو دین تمہارے پاس آگیا ہے ‘ اس کو قبول کرلو۔ بخدا ! تم بلاشبہ جانتے ہو کہ یہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ تمہارے پاس جو توریت ہے ‘ اس میں تم ان کا نام اور ان کے اوصاف لکھے ہوئے پاتے ہو ‘ اسلئے میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں ان پر ایمان رکھتا ہوں ‘ ان کی تصدیق کرتا ہوں اور ان کو پہچانتا ہوں۔ یہودی بولے : تو جھوٹا ہے اور تو ہم میں سب سے زیادہ برا اور سب سے زیادہ برے کا بیٹا ہے۔ غرض یہودیوں نے حضرت عبد اللہ کے نقائص بیان کئے (یعنی تہمت تراشی کی) حضرت عبد اللہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں نے آپ کو پہلے ہی بتا نہیں دیا تھا کہ یہ لوگ بڑے جھوٹے ‘ عہدشکن ‘ دروغ گو اور بدکار ہیں۔
اس کے بعد حضرت عبد اللہ نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ آپ کی پھوپھی خالدہ بنت حارث بھی مسلمان ہوگئیں اور اچھی مسلمان ثابت ہوئیں۔
طبرانی نے صحیح اسناد سے بیان کیا کہ حضرت عوف بن اشجعی نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ایک روز (یہودیوں کی طرف) روانہ ہوئے ‘ میں بھی ساتھ تھا۔ آپ یہودیوں کے عبادت خانہ میں تشریف لے گئے۔ یہودیوں کی عید کا دن تھا ‘ اسلئے ان کو ہمارا اندر جا پہنچنا برا معلوم ہوا۔ حضور اقدس ﷺ نے ان سے فرمایا : اے گروہ یہود ! اپنے اندر سے مجھے بارہ آدمی ایسے نکال کر بتاؤ جو لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دیں (اگر تم نے ایسے بارہ آدمی دے دئیے تو) اللہ اس آسمان کے نیچے رہنے والے ہر اس یہودی سے اپنا غضب اٹھا لے گا جو اس پر (ا اللہ کی طرف سے) مسلط تھا۔ یہودی یہ سن کر خاموش رہے ‘ کسی نے جواب نہ دیا۔ کچھ وقفہ کے بعد رسول اللہ ﷺ واپس چل پڑے ‘ جونہی واپس ہوئے ‘ یچھے سے ایک آدمی نے کہا : محمد ﷺ جہاں ہو ‘ وہیں ٹھہر جاؤ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور کہا : اے گروہ یہود ! تم مجھے اپنے اندر کیسا آدمی جانتے ہو ؟ یہودیوں نے کہا : خدا کی قسم ! تم سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے اور سمجھنے والا اپنے اندر ہم کسی کو نہیں جانتے اور نہ تم سے پہلے تمہارے باپ سے زیادہ عالم اور تمہارے با سے پہلے تمہارے دادا سے بڑا عالم ہم کسی کو جانتے ہیں۔ اس پر اس شخص نے کہا : تو میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم توریت میں پاتے ہو۔ یہودیوں نے اس شخص کی تردید کی اور کہا : تو جھوٹا ہے۔ کچھ اور برے الفاظ بھی کئے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
شیخین نے لکھا ہے کہ حضرت سعید بن ابی وقاص نے فرمایا : میں نے نہیں سنا کہ سوائے عبد اللہ بن سلام کے رسول اللہ ﷺ نے روئے زمین پر چلنے والے کسی (زندہ) شخص کے متعلق فرمایا ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ہے ‘ عبد اللہ ہی کے متعلق آیت وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءَیْلَ نازل ہوئی۔
شیخ بخاری عبد اللہ بن یوسف نے جو اس بیان کے راوی ہیں اور مالک کی طرف اس روایت کی انہوں نے نسبت کی ہے ‘ کہا : میں نہیں کہہ سکتا کہ مالک نے یہ آیت ازخود پڑھی یا حدیث میں آئی ہے۔
ابن جریر کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے فرمایا : آیت وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءَیْلَ میرے حق میں نازل ہوئی تھی۔
حضرت عبد اللہ بن سلام مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے ‘ اسلئے اگر نزول آیت حضرت عبد اللہ کے متعلق مانا جائے تو یہ آیت مدنی ہوگی۔
عَلٰی مِثْلِہٖ لفظ مثل زائد ہے اور مثلہٖ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک گواہ قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی شہادت دے ‘ یا مثل کا لفظ زائد نہیں ہے ‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ میں جو قرآن کو من جانب اللہ کہتا ہوں ‘ اسی طرح کی شہادت ایک شاہد دے۔
فَاٰمَنَ پس وہ یعنی عبد اللہ بن سلام تو ایمان لے آئے۔
وَاسْتَکْبَرْتُمْ اور تم اپنے تکبر میں پڑے رہے ‘ یعنی تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لائے۔ مسروق کے نزدیک آیت کا نزول حضرت عبد اللہ بن سلام کے حق میں نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے انکار کی دلیل یہ بیان کی کہ حٰمٓ مکی سورة ہے اور حضرت عبد اللہ (ہجرت کے بعد) مدینہ میں اسلام لائے تھے۔ حقیقت میں آیت کا نزول اس مباحثہ کے سلسلہ میں ہوا جو رسول اللہ ﷺ نے قریش سے کیا تھا ‘ اس صورت میں شاہدٌ سے مراد ہوں گے حضرت موسیٰ اور مثلہٖ سے مراد ہوگی توریت ‘ اور شہادت سے مراد ہوگی توریت کی وہ صراحت جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے متعلق اللہ نے کردی تھی۔ توریت کے اندر وہ مضامین ہیں جو قرآن کی تصدیق کر رہے ہیں اور حضرت موسیٰ نے ان کے حق ہونے کی شہادت دی۔
اِنْ کَان الخ جملہ شرطیہ ہے ‘ جزاء شرط محذوف ہے ‘ یعنی اگر قرآن من جانب اللہ ہے اور تم نے اس کو ماننے سے غرور کیا تو تم سے زیادہ گمراہ کون ہوگا ‘ یا کیا تم بےانصاف نہیں ہو گے ؟
ایک شبہ
لفظ اِنْ شک کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس جگہ شک کا کوئی امکان نہیں ‘ کیونکہ قرآن کا من جانب اللہ ہونا اور کافروں کا اس کو ماننے سے انکار کرنا اور اسرائیلی شاہد کا شہادت دینا ‘ سب کچھ ہوچکا ‘ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ‘ پھر کلمۂ شک کیوں استعمال کیا ؟
ازالہ مذکورہ جملوں کے درمیان واؤ صرف عطف کیلئے ہے اور ان کا استعمال تنبیہ و توبیخ کو ظاہر کر رہا ہے اور قطعی یقینی بات کو مشکوک کی جگہ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن جب من عند اللہ ہے تو عقل سلیم کے نزدیک اس کا انکار اور اس سے تکبر کرنا جائز نہیں ‘ جبکہ اہل علم کی شہادت بھی موجود ہے کہ یہ قرآن سچا ہے ‘ پھر تم جو انکار کر رہے ہو تو یہ بڑی بےانصافی اور گمراہی ہے (گویا) آیت مذکورہ میں اِنْ کا استعمال ایسا ہی ہے جیسا آیت اِنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ میں کیا گیا ہے۔
Ayah 46:11وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیرا ما سبقونا الیہ وازلم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم اور کافر ‘ ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو اب یہ کہیں گے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے۔
لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی اہل ایمان کی بابت کافروں نے کہا۔
لَوْ کَان یعنی اگر محمد ﷺ کا دین اچھا ہوتا۔
ابن جریر نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ مشرکوں نے کہا تھا : ہم بڑی عزت والے ہیں ‘ ہم (ان مسلمانوں سے) افضل ہیں۔ اگر یہ مذہب بہتر ہوتا تو فلاں فلاں شخص ہم سے سبقت نہ لے جاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن المنذر نے بروایت عون بن ابی شداد بیان کیا ہے کہ حضرت عمر کی ایک باندی جس کو زنین کہا جاتا تھا ‘ آپ سے پہلے ایمان لے آئی تھی۔ حضرت عمر مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کو اتنا مارتے تھے کہ اس کے اوسان خطا ہوجاتے تھے ‘ اور کفار قریش کہا کرتے تھے کہ اگر اسلام کوئی اچھی چیز ہوتا تو زنین ہم سے سبقت نہیں لے جاسکتی۔ اس پر زنین کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن سعد نے ضحاک اور حسن کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اگر آیت سابقہ کا نزول حضرت عبد اللہ بن سلام کے متعلق مانا جائے تو آیت موجودہ کا مطلب یہ ہوگا کہ کفار یہود نے مؤمن یہودیوں کی بابت کہا کہ اگر محمد ﷺ کا دین بہتر ہوا تو یہ (عبدا اللہ بن سلام) ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔
وَاِذْلَمْ یَھْتَدُوْا بِہٖ یعنی اہل ایمان تو قرآن سے ہدایت یاب ہوگئے اور ان کو قرآن سے جب ہدایت نصیب نہ ہوئی تو ان کا عناد ظاہر ہوگیا ‘ یا یہ گمراہ ہوگئے۔
فَسَیَقُوْلُوْنَالخ فَ سببیت کیلئے ہے (یعنی پہلا کلام ‘ اس کلام کا سبب ہے اور یہ کلام ہدایت یاب نہ ہونے کا نتیجہ ہے) ظہور عناد اور گمراہی اس بات کے کہنے کا سبب ہے۔
ھٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ یہ پرانا جھوٹ ہے ‘ گذشتہ زمانہ والوں نے اس کو ازخود گھڑ لیا تھا ‘ پھر محمد ﷺ نے ان سے لے لیا (اور جو بات سابق لوگوں نے کہی تھی ‘ وہی محمد ﷺ کہنے لگے۔
Ayah 46:12ومن قبلہ کتب موسیٰ اما ما ورحمۃ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا لینذر الذین
ظلموا وبشری للمحسنین اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے جو راہنما اور رحمت تھی۔ اور یہ ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے عربی زبان میں ‘ ظالموں کو ڈرانے کیلئے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کیلئے۔
وَمِنْ قَبْلِہٖ اور قرآن سے پہلے۔
کِتٰبُ مُوْسٰی یعنی توریت۔ اِمَامًا راہنما ‘ پیشوا۔
وَّرَحْمَۃً اور اللہ کی طرف سے لوگوں پر رحمت تاکہ لوگ دونوں جہانوں میں فلاح حاصل کرلیں۔
وَھٰذَا کِتٰبٌ اور یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک کتاب ہے۔
مُصَدِّقٌ یعنی موسیٰ کی کتاب کو سچا بتاتی ہے ‘ یا معجزہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو ثابت کر رہی ہے۔
لِسَانًا عَرَبِیًّا یعنی مصدق توریت ہونا جس طرح اس کتاب کی حقانیت و صداقت کو ثابت کر رہا ہے ‘ اسی طرح اسکے وحی ہونے پر بھی دلالت کر رہا ہے۔
لِیُنْذِرَ یعنی کتاب ‘ یا اللہ ‘ یا رسول ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کفر کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
وَبُشْرٰی یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور تاکہ وہ نیکوں کو خوشخبری دے۔
Ayah 46:13ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے ‘ پھر مستقیم رہے تو ان لوگوں کو کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayah 46:14اولئک اصحب الجنۃ خلدین فیھا جزاء بما کانوا یعملون یہ لوگ جنتی ہیں ‘ ہمیشہ جنت میں رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے۔
ثُمَّ اسْتَقَامُوْا استقامت کی تشریح حٰمٓ السجدۃ کی تفسیر میں کردی گئی ہے۔
فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ یعنی مرنے کے بعد ان کو کوئی خوف نہیں ہوگا۔
وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ اور نہ کسی مرغوب چیز کے فوت ہونے کا ان کو غم ہوگا۔
جَزَآءً یعنی ان کو یہ بدلہ دیا جائے گا ‘ ان علمی اور عملی فضائل کا جن کو انہوں نے حاصل کیا تھا۔
Ayah 46:15ووصینا الانسان بوالویہ احسنا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا۔ اور اس کو پیٹ میں رکھنا دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں پورا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس (کی عمر) کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے : اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور (اس بات کی کہ) میں نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا کر دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبردار ہوں۔
وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ ۔ الانسان میں الف لام عہدی ہے ‘ اس سے مراد ہے خاص انسان ‘ یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت علی نے فرمایا : یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی۔ آپ کے ماں باپ بھی مسلمان ہوگئے ‘ آپ کے سوا کوئی ایسا مہاجر نہیں ہوا جس کے ماں باپ دونوں اسلام میں داخل ہوگئے ہوں۔
سدی اور ضحاک کا بیان ہے کہ یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص کے حق میں نازل ہوئی۔ سورة عنکبوت کی تفسیر میں ہم نے حضرت سعد کا واقعہ ذکر کردیا ہے۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ الانسان میں الف لام جنسی ہے۔ خواہ آیت کا نزول حضرت ابوبکر یا حضرت سعد کے حق میں ہوا ہو ‘ پھر بھی عام انسان مراد ہے۔ یہ قول رفتار آیت کے اقتضاء کے خلاف ہے۔
بِوَالِدَیْہِ کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ حضرت ابوبکر کے والد حضرت ابو قحافہ عثمان بن عمر تھے اور والدہ کا نام ام الخیر بنت الخیر صخر بن عمر تھا۔
کُرْھًا یہ اچھا سلوک کرنے کی وجہ بتائی ہے۔ کُرہ کا معنی ہے مشقت ‘ یعنی مشقت والا بوجھ۔ کُرہ اور کرہ دونوں ہم معنی ہیں اور لغت میں دونوں لفظ آئے ہیں۔ بعض نے کہا : بضم کاف ‘ اسم مصدر ہے اور بفتح کاف ‘ مصدر ہے۔
وَفِصٰلُہٗ ۔ فصال بمعنی فطام ‘ دودھ چھڑانا ‘ مراد دودھ پلانا۔ ملزوم کو لازم کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ کم سے کم حمل کی مدت چھ ماہ ہے ‘ کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے : وَفِصَالُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے اور اس جگہ حمل و فصال کی مجموعی مدت 30 ماہ بیان کی گئی ‘ جب دو سال فصال کے مجرا کر دئیے گئے تو حمل کی مدت چھ ماہ رہ گئی۔ 1 ائمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کم سے کم حمل کی مدت چھ ماہ ہے ‘ لیکن زیادہ سے زیادہ حمل کی مدت کتنی ہے ‘ اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ نے دو سال تک حمل رہنے کی صراحت کی ہے۔ امام مالک نے چار سال ‘ پانچ سال ‘ سات سال انتہائی مدت حمل بتائی ہے۔ امام مالک سے یہ تینوں روایات آئی ہیں۔ امام شافعی نے چار سال کی صراحت کی ہے۔ امام احمد سے دو روایتیں آئی ہیں۔ مشہور قول امام شافعی کے قول کے مطابق ہے اور دوسرا قول امام ابوحنیفہ کے قول کے موافق ہے۔
امام ابوحنیفہ کے قول کی دلیل حضرت عائشہ کا یہ قول ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں ٹھہرتا ‘ خواہ وہ تکلے کے گھیر برابر ہو۔ دوسری روایت میں آیا ہے : خواہ وہ تکلے کے سایہ کے بقدر ہو ‘ اور ظاہر ہے کہ ایسے مسائل میں اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت عائشہ نے (رسول اللہ ﷺ سے) سنا ہی ہوگا۔ میں کہتا ہوں : ممکن ہے کہ امام شافعی اور امام مالک کا قول جس طرح تجربہ پر مبنی ہے ‘ اسی طرح حضرت عائشہ کے قول کی بنا بھی تجربہ پر ہو اور عام طور پر آپ نے یہی دیکھا ہو ‘ اسلئے انتہائی دو سال کے استقرار کی صراحت فرما دی۔ آیت مذکورہ سے جو کم ترین مدت حمل پر استدلال کیا گیا ہے ‘ یہ اس صورت میں صحیح ہوگا جب الانسان میں الف لام کو جنسی مانا جائے ‘ اگر عہدی کہا جائے گا تو عمومی استدلال صحیح نہ ہوگا ‘ بلکہ ایک واقعہ کا بیان ہوگا۔
امام ابوحنیفہ نے جو دودھ پلانے کی انتہائی مدت 30 مہینے قرار دی ہے ‘ اس قول پر اس آیت سے استدلال درست نہیں ہے۔ سورة النساء کی آیت وَاُمَّھَاتُکُمْ اللَّاتِیْٓ اَرْضَعنَکُمْ کی تفسیر میں رضاعت کے مسائل ہم نے مفصل بیان کر دئیے ہیں۔ اس آیت کی تشریح کے ذیل میں عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب مدت حمل پوری نو مہینے ہوجائے تو عورت بچہ کو دودھ 21 مہینے پلائے گی (یعنی مدت حمل نو ماہ ہوگی) اور اگر چھ ماہ میں بچہ پیدا ہوجائے تو 24 مہینے دودھ پلائے گی (مدت رضاعت دو سال ہوگی) ۔
حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ اس جملہ کا تعلق ایک محذوف فعل سے ہے ‘ کلام اس طرح تھا : ” اور ماں باپ نے اس کو پرورش کیا ‘ یہاں تک کہ جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچ گیا اور چالیس برس کی عمر کو پہنچا “ یعنی عقل پوری پوری ہوگئی۔ حضرت ابوبکر کی عمر 18 سال تھی ‘ یہ جوانی تک پہنچنے کا وقت تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر اس وقت 20 سال تھی۔ ملک شام کے تجارتی سفر میں دونوں کا ساتھ ہوگیا (اور اس وقت سے برابر ساتھ رہا) پھر چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو ایمان لے آئے (شاید یہ راوی کا سہو بیان یا فروگذاشت ہے) راوی نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر کی عمر کا جو تفاوت بتایا ہے ‘ اسکے حساب سے ایمان لانے کے وقت حضرت عمر کی عمر 38 سال یا چھ ماہ زائد ہونی چاہئے ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت 40 سال چھ ماہ کی عمر میں ہونا ناقابل اختلاف تاریخی روایت ہے۔
اَوْزِعْنِیْ میرے دل میں پیدا کر دے (ایزاع بمعنی الہام) بعض علماء نے کہا : وزعٌ کا معنی ہے روک دینا ‘ یعنی مجھے ایسا کر دے کہ میں اپنے نفس کو ناشکری سے روک دوں۔
نِعْمَتَکَ نعمت سے مراد ہے ہدایت اسلام ‘ یا عام نعمت مراد ہے جس میں ہدایت اسلام کی نعمت بھی داخل ہے۔
صَالِحًا تنوین تعظیم ہے ‘ بڑے نیک کام یا ایک خاص نوع مراد ہے ‘ یعنی وہ عمل جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے حضرت ابوبکر کی دعا قبول فرما لی ‘ اللہ نے ایسی توفیق دی کہ آپ نے نومسلمان (باندی ‘ غلاموں) کو جو اللہ کی راہ میں طرح طرح سے ستائے جا رہے تھے (خرید کر) آزاد کیا اور جس کارخیر کو کرنے کا آپ نے ارادہ کیا ‘ اللہ نے اس کو پورا کرنے میں مدد فرمائی۔ دوسری دعا اولاد کے صالح ہونے کی آپ نے کی تھی ‘ وہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور آپ کی سب اولاد اسلام کے حلقہ بگوش ہوئی۔ اسی طرح ماں باپ ‘ اولاد سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ حضرت ابو قحافہ ‘ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق اور ابوعتیق بن عبدالرحمن سب صحابی ہوئے۔ یہ شرف آپ کے سوا کسی صحابی کو حاصل نہ ہوا۔
اِنِّیْ تُبْتُ یعنی میں نے کفر سے ‘ یا تیری ناراضگی کے ہر عمل سے ‘ یا ان اعمال سے جو تیری طرف سے غافل بنانے والے ہیں ‘ توبہ کی۔
وَاِنّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ یعنی میں خلوص کے ساتھ توبہ کرنے والوں میں سے ہوں۔
حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَالخ یہ پورا کلام ثابت کر رہا ہے کہ الانسان میں الف لام عہدی ہے اور انسان سے معین انسان مراد ہے ‘ کیونکہ الف لام کو جنسی قرار دے کر انسان سے عام انسان مراد لیا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا کہ جو نعمت اللہ نے شروع جوانی میں عطا کی تھی ‘ اسکے شکر ادا کرنے کی توفیق کی دعا چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد کی اور یہ کسی طرح جائز نہیں ‘ اسلئے الانسان سے خاص انسان یعنی حضرت ابوبکر مراد ہیں اور آیت میں ایک واقعہ کا بیان کیا گیا ہے ‘ کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ ایمان لائے تھے اور ایمان لانے کے بعد شکر ادا کیا اور ایمان کے بعد ہی ادائیگئ شکر معتبر ہے۔
ایک شبہ
روایات میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے دن ابو قحافہ مسلمان ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر کی عمر اس وقت ساٹھ برس کی تھی اور یہ آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ‘ کیونکہ پوری سورت مکی ہے۔ جب حضرت ابوبکر کی عمر چالیس برس کی تھی ‘ اس وقت ابو قحافہ کافر تھے ‘ پھر کس طرح کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اللہ نے حکم دیا اور حضرت ابوبکر کا یہ کہنا کس طرح صحیح قرار پائے گا کہ تو نے مجھے نعمت دی اور میرے ماں باپ کو (حضرت ابوبکر کے چہل سال ہونے کے زمانہ میں ابو قحافہ نعمت اسلام سے محروم تھے) ۔
ازالہ
ہم کہتے ہیں : بعض روایات میں آیا ہے کہ 38 سال کی عمر میں حضرت ابوبکر مسلمان ہوئے اور دو سال بعد جبکہ آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو آپ کے والدین بھی اسلام لے آئے ‘ غالباً یہی روایت صحیح ہے۔ لیکن اگر پہلی روایت کو ہی صحیح مانا جائے اور تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت ابوبکر چالیس برس کی عمر میں مسلمان ہوئے اور ابو قحافہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ‘ تب بھی مطلب میں کوئی نقص نہیں آتا ‘ کافر ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جائز ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا (عنکبوت) اس تقدیر پر نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ عَلَیَّ سے مراد ہوگی عام نعمت ‘ دینی ہو یا دنیوی۔ لیکن اگر الف لام کو جنسی مان کر عام انسان مراد ہو تب بھی (مطلب صحیح ہوگا) اَشُدّ سے مراد ہوگا کمال جسمانی ‘ یعنی جسم کا پورا نشو و نما پا جانا اور بلوغ چہل سالہ سے مراد ہوگا عقل کا پختہ ہوجانا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی جسمانی طاقت اور نمو کی جب تکمیل ہوگئی ‘ تب اس نے اس نعمت کا شکر ادا کیا اور جب 40 سال کی عمر کو پہنچ کر عقل پختہ ہوگئی ‘ تب بھی اس نے شکر ادا کیا۔ وا اللہ اعلم۔
Ayah 46:16اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا ونتجاوز عن سیاتھم فی اصحب الجنۃ وعد الصدق الذی کانوا یوعدون یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے اچھے اعمال کو قبول کرلیں گے اور ان کے برے اعمال سے درگذر کریں گے ‘ یہ لوگ اہل جنت میں سے ہوں گے ‘ اس سچے وعدہ کی وجہ سے جو ان سے (دنیا میں) کیا جاتا تھا۔
اُولٰٓءِکَ اگر الانسان سے عام انسان مراد ہوں تو اولٰٓءِکَ سے اشارہ ان تمام انسانوں کی طرف ہوگا جو صفات مذکورہ کے حامل ہوں اور اگر حضرت ابوبکر یا حضرت سعد مراد ہوں تو اشارہ ان لوگوں کی طرف عموماً ہوگا جو حضرت ابوبکر یا حضرت سد جیسی صفات رکھتے ہوں۔ اس عموم میں حضرت ابوبکر اور حضرت سعد بطور کنایہ آجائیں گے اور کلام نہایت بلیغ ہوجائے گا۔ کنایہ میں صراحت سے زیادہ بلاغت ہوتی ہے۔ کسی بات کو بطور کنایہ بیان کردینے کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ دعوے کے ساتھ دلیل بھی بیان کردی۔
اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا فعل مباح ‘ حسن (اچھا) تو ضرور ہوتا ہے ‘ لیکن اس سے ثواب نہیں ملتا اور آیت میں وہ اعمال مراد ہیں جن کا ثواب دیا جائے گا ‘ اسلئے ان اعمال کو احسن (بہت اچھے) فرمایا ‘ یا دوسروں کے اعمال سے ان کے اعمال کو بہتر قرار دے کر قبول کرنے کا وعدہ فرمایا۔ اس وقت صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہوگی ‘ یعنی ہم ان کے وہ اعمال قبول کرتے ہیں جو دوسروں کے کئے ہوئے اعمال سے بہتر ہوتے ہیں۔
وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِھِمْ ہم انکی برائیوں سے درگذر کرتے ہیں ‘ یعنی انکو کسی برائی کی سزا نہیں دیں گے (سب معاف کردیں گے)
فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِط یعنی اہل جنت میں ان کا شمار ہوگا ‘ یا جنتیوں کے ساتھ ان کو بھی ثواب دیا جائے گا۔
وَعْدَ الصِّدْقِ یہ مفعول مطلق ہے تاکید کیلئے ‘ یعنی اللہ نے سچا وعدہ کیا ہے۔
الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ یعنی ان یا میں جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
Ayah 46:17والذی قال لوالدیہ اف لکما اتعدننی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی وھما یستغیثان اللہ ویلک امن ان وعدہ اللہ حق فیقول ما ھذا الا اساطیر الاولین اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : افسوس تم پر ‘ تم مجھ سے کہہ رہے ہو (قیامت کے دن زندہ کر کے قبر سے) نکالا جاؤں گا ‘ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گذر گئیں (اور کوئی بھی دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آیا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور بیٹے سے کہہ رہے ہیں :) تیرا ناس ہو ‘ مان لے ‘ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے : یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول ہوتی چلی آرہی ہیں (ان کی کوئی حقیقت نہیں) ۔
وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ یعنی وہ شخص جس کو ماں باپ نے ایمان کی جب دعوت دی تو اس نے ماں باپ سے کہا۔
اُفٍّ- اُف کلمۂ نفرت و کراہت ہے۔
اَتَعِدٰنِنِیْ استفہام (سوالیہ نہیں بلکہ) انکاریہ توبیخیہ ہے ‘ اُف کہنے کی وجہ کو ظاہر کر رہا ہے۔
وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ یعنی اقوام و امم مجھ سے پہلے بکثرت گذر گئیں اور کوئی بھی زندہ ہو کر دوبارہ نہیں آیا۔ یہ آخری جملہ محذوف ہے۔
یَسْتَغِیْثَان اللّٰہِ اللہ سے فریاد کرتے ہیں ‘ یا دونوں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ مدد کرے اور انکے بیٹے کو توفیق ایمان عطا فرما دے
وَیْلَکَ (اور کہتے ہیں :) تو ہلاک ہوگیا۔
وَیْل فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔
اٰمِنْ مان لے اللہ کو اور قیامت کے دن جی اٹھنے کو۔
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ یعنی اللہ نے دوبارہ زندہ کرنے کا جو وعدہ کیا ہے ‘ وہ حق ہے۔
مَا ھٰذَآ یہ وعدہ نہیں ہے۔
اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ مگر گذرے ہوئے لوگوں کی جھوٹی (لکھی ہوئی) باتیں۔
بخاری نے یوسف بن مالک کے سلسلہ سے بیان کیا کہ مروان ‘ حجاز کا حاکم تھا ‘ حضرت معاویہ نے اس کو گورنر بنا دیا تھا۔ ایک روز مروان نے تقریر کی اور حضرت معاویہ کے بعد یزید بن معاویہ کے خلیفہ ہونے کیلئے لوگوں سے بیعت لینے کا ذکر کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق نے اس کو کچھ (ناگوار) بات کہہ دی۔ مروان نے کہا : اس کو پکڑ لو۔ حضرت عبدالرحمن ‘ حضرت عائشہ کے گھر کے اندر چلے گئے ‘ آپ کو کوئی پکڑ نہ سکا۔ مروان بولا : یہی ہے وہ شخص جس کے بارے میں اللہ نے آیت والَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ افٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْ نازل کی ہے۔ حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا : اللہ نے ہمارے متعلق کچھ نازل نہیں کیا ‘ صرف میری صفائی کی آیت نازل فرمائی ہے۔ یہ بھی ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن کو مروان کی بات پر غصہ آگیا ‘ اور فرمایا : دستور شاہیت ہے کہ بیٹے ‘ باپ کی حکومت کے وارث ہوتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے بروایت سدی ‘ حضرت ابن عباس کا قول بھی وہی نقل کیا ہے جو مروان نے کہا تھا ‘ لیکن اتنا مزید فرمایا کہ آیت حضرت عبدالرحمن کے حق میں ان کے مسلمان ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبد اللہ کے حق میں ہوا۔ بعض روایات میں حضرت عبد اللہ کی جگہ حضرت عبدالرحمن کا نام آیا ہے۔ حضرت عبدالرحمن کو جب ان کے والدین نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا : میرے لئے عبد اللہ بن جدعان کو ‘ عامر بن کعب کو اور مشائخ قریش کو زندہ کر دو ‘ ان سے میں آپ کی بات کی متعلق پوچھوں گا (کہ صحیح کہتے ہو یا غلط) ۔
میں کہتا ہوں کہ آیت مذکورہ کا عبدالرحمن کے حق میں نازل ہونے کا خیال مروان کے قول سے پیدا ہوا۔ اور آپ نے سن لیا کہ مروان کا قول محض دشمنی پر مبنی تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے مروان کے قول کی تردید کی اور ایک شخص کا نام لے کر فرمایا : یہ آیت فلاں شخص کے حق میں اتری تھی۔ حافظ ابن حجر نے کہا : حضرت عائشہ نے جو مروان کے قول کی تردید کی اور حضرت عبدالرحمن کے حق میں نزول آیت سے انکار کیا ‘ یہ روایت زیادہ صحیح الاسناد اور قبول قبول ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : زیادہ صحیح روایت یہ ہے کہ ایک کافر کیلئے نازل ہوئی جو ماں باپ کا نافرمان تھا۔ حسن اور قتادہ کا یہی قول ہے۔
زجاج نے کہا : جو شخض کہتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن کے مسلمان ہونے سے پہلے یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ‘ اس قول کی تردید آگے کی آیت کر رہی ہے۔ آگے فرمایا ہے :