46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب ہے اتاری ہوئی اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے حکیم ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو مگر حق کے ساتھ اور ایک معیاد معین کے لیے، اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ڈرائے گئے،

مشرکین کے باطل معبودوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا وہ جن کو پکارتے ہیں قیامت تک بھی جواب نہ دیں گے ! یہاں سے سورة احقاف شروع ہو رہی ہے اس سورت کے تیسرے رکوع میں احقاف کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موصوف اور مشہور ہوئی اوپر جن آیات کا ترجمہ کیا گیا اس میں تنزیل قرآن اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان سب کی تخلیق حکمت کے ساتھ ہے اور اجل مسمیٰ یعنی مقررہ وقت تک کے لیے ہے جب مقررہ معیاد پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں فنا ہوجائیں گی قال فی معالم التنزیل : یعنی یوم القیامة وھو الاجل الذی تنتھی الیہ السمٰوٰت والارض، وھو اشارة الی فنائھا (معالم التنزیل میں ہے ” یعنی قیامت کا دن ہی وہ مقررہ وقت ہے جس پر آسمان و زمین اپنی انتہاء کو پہنچ جائیں گے اور یہ ان کے فناء ہونے کا اشارہ ہے “ ) یہ سب کچھ تو توحید کے دلائل میں سے ہیں اس کے بعد مشرکین کی حماقت اور ضلالت بتائی کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے ان چیزوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کا جواب نہیں دے سکتیں بلکہ انہیں خبر بھی نہیں ہے کہ ہمیں کوئی پکار رہا ہے۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں اپنی حاجات کے لیے پکارتے ہیں ان سے دریافت کیجیے کہ بتاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ؟ کیا زمین کا کوئی حصہ انہوں نے پیدا کیا ہے یا زمین میں جو چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے۔ آپ ان سے یہ بھی دریافت کریں کیا ان کا آسمانوں میں کوئی ساجھا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ نہ انہوں نے زمین میں کچھ پیدا کیا اور نہ آسمانوں میں ان کی شرکت ہے پھر وہ لائق عبادت کہاں سے ہوگئے ؟ ان میں سے کوئی خالق نہیں اس کو تو تم بھی مانتے ہو اور خالق تعالیٰ شانہٗ کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرنا بہت بڑی حماقت ہے اس کو تو تمہاری عقل بھی تسلیم کرے گی اگر اسے کام میں لاؤ گے، عقل کے علاوہ کسی بات کے ماننے کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ تمہارے پاس کوئی کتاب ہو جو قرآن سے پہلے تمہارے پاس آئی ہو جس نے غیر اللہ کی عبادت کی تعلیم دی ہو یا تمہارے پاس کوئی بات اکابر و اسلاف سے نقل در نقل پہنچی ہو جس نے شرک کی تعلیم دی ہو ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے بھی کوئی بات نہیں ہے پھر شرک کرنا انتہاء درجہ کی گمراہی ہوئی یا نہیں۔ قولہ تعالیٰ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ فی معالم التنزیل ای بقیة من علم یوثر عن الاولین ای یسند الیھم قال مجاھد وعکرمة و مقاتل روایة عن الانبیاء وقال قتادة خاصة من علم واصل الکلمة من الاثر وھو الروایة (معالم التنزیل میں ہے ” یعنی باقی رہا ہوا علم جو پہلے لوگوں سے روایت کیا جائے یعنی جس کی سند اولین تک پہنچی ہو عکرمہ، مجاہد اور مقاتل نے کہا مراد ہے انبیاء کرام سے روایت، قتادۃ کہتے ہیں مخصوص علم اور اس کلمہ کی اصل اثر سے ہے جو کہ روایت ہی کو کہتے ہیں۔ ) اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ) (اور جب قیامت کے دن لوگ جمع کیے جائیں گے تو یہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کے دشمن ہوجائیں گے یہ مفہوم اس صورت میں ہے جبکہ ﴿ كَانُوْا ﴾ کی ضمیر مرفوع ﴿عَابِدِیْنَ﴾ کی طرف اور ﴿لَهُمْ ﴾ کی ضمیر معبودین کی طرف راجع ہو اور یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس کا عکس مراد ہو اور مطلب یہ کہ معبودین اپنے عابدوں کے دشمن ہوجائیں جیسا کہ سورة قصص میں ہے ﴿ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ 1ٞ مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ 0063﴾
Ayahs 46:4–7

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ان کے بارے میں بتاؤ مجھے دکھا دو انہوں نے زمین کے اجزاء میں سے کیا پیدا کیا ؟ کیا ان کے لیے آسمانوں میں کوئی ساجھا ہے ؟ لے آؤ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے ہو یا کوئی ایسا علم لے آؤ جو منقول ہو کر آیا ہو اگر تم سچے ہو،

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہو جو قیامت کے دن تک اس کا جواب نہ دے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں،

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے،

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان پر واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا وہ حق کے بارے میں کہتے ہیں جب ان کے پاس آگیا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات اس کے بعد منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات نقل فرمائی اور وہ یہ کہ جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو قرآن کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے جب دلیل نہ دے سکے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت بنانے سے عاجز رہ گئے تو اسے جادو بتادیا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرات انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے سورة الذاریات میں فرمایا ﴿كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا، آپ فرما دیجیے کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا تم مجھے اللہ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے، وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم رہتے ہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے وہ بڑی مغفرت والا ہے اور بڑی رحمت والا ہے،

قریش مکہ کی اس بات کا جواب کہ آپ نے قرآن اپنے پاس سے بنالیا ہے قریش مکہ کے سامنے جب قرآن مجید پڑھا جاتا تھا تو طرح طرح کی باتیں بناتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ یہ قرآن مجید محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنالیا ہے اور اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی ہے یہ اللہ پر افتراء ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ نازل نہیں کیا (العیاذ من ذالک) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر میں نے اپنی طرف سے بنالیا ہے تو اللہ تعالیٰ میرا مواخذہ فرمائے گا اور مجھے اس کی سزا دے گا جیسا کہ سورة الحاقہ میں فرمایا ﴿وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ0045 ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ0046 ﴾ میں صحیح راستہ پر ہوں اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر وحی بھیجی ہے وہی سناتا ہوں اگر میں اس کا حکم نہ پہنچاؤں اور تمہیں راضی رکھنے کے لیے اس کی نافرمانی کروں تو تم مجھے اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتے جب مجھے تم سے کوئی نفع پہنچ ہی نہیں سکتا تو مجھے کیا ضرورت ہے کہ تمہیں راضی کروں۔ ھذا ما ظھرلی فی معنی الآیة الکریمة قال صاحب روح المعانی جواب ان فی الحقیقة محذوف وھو عاجلنی وما ذکر مسبب عنہ اقیم مقامہ او تجوز بہٖ عنہ (یہ وہ ہے جو آیت کریمہ کے معنی میں مجھ پر واضح ہوا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں در حقیقت اِنْ کا جواب محذوف ہے اور وہ عاجلنی ہے اور جو مذکور ہے وہ اس کا مسبب ہے جسے مخذوف کا قائم مقام بنایا گیا ہے یا اس مذکور کی وجہ سے محذوف سے صرف نظر کیا ہے۔ ) ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ﴾ (وہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جن میں تم لگے رہتے ہو) یعنی اللہ کی وحی کے بارے میں جو تم باتیں بناتے ہو خوب سمجھ لو کہ اللہ ان کا بدلہ لے گا اور سزا دی جائے گی۔ ﴿كَفٰى بِهٖ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ 1ؕ﴾ (میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے) وہ میرے بارے میں اس بات کا گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اس کی کتاب لایا ہوں اور تمہارے بارے میں اس کا گواہ ہے کہ تم حق کو جھٹلا رہے ہو اور اس کے قبول کرنے سے انکاری ہو میرے امر کا بدلہ مجھے ملے گا اور تمہاری تکذیب کی سزا تمہیں ملے گی ﴿ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 008﴾ (وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی) تم توبہ کرو ایمان لاؤ وہ بخش دے گا یہ جو کفر کے ساتھ تمہیں رزق مل رہا ہے اور زندگی گزر رہی ہے یہ اس کی رحمت ہے اگر وہ رحم نہ فرماتا تو تمہیں جلدی سزا دے دیتا۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں صرف اس کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں،

﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں رسولوں میں سے انوکھا رسول نہیں ہوں) مجھ سے پہلے بھی رسول آئے جن کے بارے میں تمہیں علم ہے اور تواتر کے ساتھ ان کی خبریں پہنچی ہیں توحید کی جو دعوت انبیاء سابقین (علیہ السلام) نے دی ہے وہی دعوت میں تمہیں دیتا ہوں ان سے بھی معجزات ظاہر ہوئے تم نے بھی میرے معجزات دیکھ لیے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے بندوں کے تجویز کردہ معجزات کا ظہور ہونا نہ ان کے نبی ہونے کے لیے ثبوت شرط تھا نہ میری نبوت کے لیے شرط ہے اگر تم غیب کی خبریں پوچھنا چاہتے ہو تو میں غیب دانی کا مدعی نہیں ہوں اور نہ غیب جاننا نبوت اور رسالت کے لیے شرط ہے ﴿ وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ 1ؕ﴾ اور چونکہ میں غیب نہیں جانتا اس لیے مجھے یہ علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوگا یعنی دنیا میں کیا حالات پیش آئیں گے اور میں نہیں جانتا کہ میری تکذیب کرنے کی وجہ سے تمہارا کیا حال ہوگا گذشتہ امتیں مختلف عذابوں کے ذریعے ہلاک کی گئیں اگر تم میری مخالفت پر قائم رہے ایمان نہ لائے تو تمہیں دنیا میں کیا سزا ملے گی میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ﴿ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ﴾ (میں تو بس اسی کی اتباع کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے) ﴿ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ009﴾ اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں میں نے حق واضح کردیا دلائل پیش کردئیے اب نہ مانو تو تم جانو۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تم بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہوگئے اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لے آئے اور تم تکبر کرو، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

﴿قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب کے صدق پر گواہی دے کر ایمان لے آئے اور تم تکبر ہی میں رہو بلاشبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ ) اس آیت میں مشرکین مکہ سے ایک سوال فرمایا اگر وہ اس میں غور کرتے اور جواب کے فکر مند ہوتے تو انہیں ایمان لانے کا راستہ مل جاتا اور کفر پر نہ جمے رہتے اس آیت سے پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین یوں کہتے تھے کہ یہ قرآن انہوں نے خود بنالیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت کردی ہے اس آیت میں ان کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اس قرآن کے منکر ہو رہے ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس کی گواہی دے دی کہ اس جیسی کتاب اللہ ہی کی طرف سے ہوسکتی ہے اور وہ ایمان بھی لے آیا اور تم تکبر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے تو کیا یہ گمراہی نہیں ہے گمراہی پر جمے رہنا اور بڑی گمراہی ہے۔ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا اور تم اپنے انکار و تکذیب کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہو عذاب آجائے گا تو کچھ نہ کرسکو گے لہٰذا سوچو اور غور کرو اور ایمان لے آؤ۔ مزید تشریح یہ ہے کہ اے منکرو تمہارے سامنے محمد رسول ﷺ کی نبوت کے ثابت کرنے اور قرآن اللہ کی کتاب ہونے کی بہت سی دلیلیں آچکی ہیں، اب ایک اور بات تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل یعنی یہودی توریت شریف کے حامل تھے توریت شریف کو گم کرنے کے باوجود اس کے منتظر تھے کہ عرب میں سے ایک نبی تشریف لائیں گے ان میں سے کئی آدمی ایمان لاچکے ہیں اور وہ گواہی دے رہے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب اللہ ہی کی طرف سے ہوسکتی ہے اپنی اس معرفت کی وجہ سے انہوں نے اسلام قبول کیا تم مانتے ہو کہ یہودی اہل علم ہیں اور ان سے پوچھ کر سوالات بھی کرچکے ہو مثلاً یہ کہ روح کیا ہے اور اصحاب کہف کون تھے اور ذوالقرنین کون تھے تمہیں ان سوالات کے جوابات بھی مل گئے بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے انہوں نے بھی جوابوں کی تصدیق کی اب تمہیں ایمان سے روکنے والی کیا چیز ہے یہ روکنے والی چیز تکبر ہے جو تمہارے دلوں میں گھسا ہوا ہے اس تکبر کو چھوڑ دو ایمان قبول کرو ورنہ تمہارا انجام برا ہوگا جب حق سامنے آگیا تو بنی اسرائیل کے نیک دل افراد نے اسلام قبول کرلیا تمہیں بھی قبول کرنا لازم ہے اگر کفر پر جمے رہے حق کو نہ مانا تو اسی پر مرجاؤ گے اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر نہ آئے تو گمراہی کی سزا ملے گی۔ قال صاحب الروح : ای وشھد شاھد عظیم الشان من بنی اسرائیل الواقفین علی شؤن اللّٰہ تعالیٰ و اسرار الوحی بما اوتوا من التوراة علی مثل القرآن من المعانی منطویة فی التوراۃ من التوحید والوعد والوعید وغیر ذلک فانھا فی الحقیقیة عین ما فیہ کما یعرب عنہ قولہ تعالیٰ ﴿وَ اِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ 00196﴾ علی وجہ وکذا قولہ سبحانہ : ﴿اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ0018﴾ (صاحب روح المعانی نے کہا ہے : یعنی بنی اسرائیل میں عظیم الشان گواہ نے گواہی دی بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی سنتوں اور وحی کے اسرار سے توراۃ ملنے کی وجہ سے واقف تھے توراۃ میں قرآن کریم جیسے مضامین تھے۔ مثلاً توحید، وعدہ وعید وغیرہ بلکہ توراۃ کے مضامین بعینہ قرآن کریم کے مضامین تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد نے بھی اسے بیان فرمایا کہ ﴿وَ اِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ 00196﴾ اور جیسا کہ یہ ارشاد الٰہی ہے کہ ﴿اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ0018﴾ ﴿ عَلٰى مِثْلِهٖ ﴾ کے بارے میں صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ لفظ مثل زائد ہے اور مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے گواہی دے دی کہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے اور ان کا من عند اللہ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی جزا محذوف ہے : وھو الیس قد ظلمتم یدل علیٰ ھذا المحذوف قولہ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (رح) 0010 اور وہ اَلَیْسَ قَدْ ظَلَمْتُمْ ہے اس پر ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (رح) 0010﴾ دلالت کرتی ہے۔ اس کے بعد حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس کی جزا محذوف ہے اور وہ فَمَنْ اضل منکم ہے جیسا کہ سورة حم سجدہ کی آخری دو آیتوں سے پہلے فرمایا ہے۔ ﴿ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍ 0052﴾ (آپ فرما دیجیے کہ یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو پھر تم نے اس کا انکار کیا تو کیا اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو دور دراز کی مخالفت میں پڑگیا۔ )
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمان والوں کے بارے میں یوں کہا کہ اگر یہ ایمان لانا کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے کیوں بڑھ جاتے، اور جب قرآن کے ذریعہ انہوں نے ہدایت نہ پائی تو یوں کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے،

کافروں کی کٹ حجتی کی تردید، توریت شریف کا امام اور رحمت ہونا، اہل ایمان اور اہل استقامت کا انعام الٰہیہ سے سرفراز ہونا انسانوں میں چھوٹائی بڑائی کو دیکھنے کا مزاج ہے مالدار لوگ اپنے آپ کو غریبوں سے بہتر اور زیادہ سمجھدار سمجھتے ہیں اسی طرح بعض قبائل اپنے قبیلے کو دوسرے قبیلے سے برتر جانتے ہیں اسی سلسلہ کی ایک بات اللہ نے یہاں نقل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت توحید پر جب کچھ لوگ ایمان لے آئے تو جو لوگ کفر پر جمے رہے، انہوں نے کہا کہ عقل و فہم اور احوال دنیاویہ کے اعتبار سے ہم ان لوگوں سے بہتر ہیں ہم ہر خیر کے مستحق ہیں اگر یہ دین اچھا ہوتا جو محمد رسول اللہ ﷺ پیش کرتے ہیں تو ہم اس کی طرف سے سبقت کرتے جب اس کی طرف آگے نہ بڑھے اور یہ لوگ آگے بڑھ گئے جو دنیاوی احوال کے اعتبار سے پھسڈی ہیں اور ہم سے پیچھے ہیں تو معلوم ہوا کہ جس دین کو ان لوگوں نے قبول کیا ہے وہ بہتر نہیں ہے کوئی شخص ہم سے خیر میں آگے بڑھ جائے اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ جن کافروں نے یہ بات کہی انہوں نے اپنی جانوں کو بہت بڑا سمجھا، تکبر نے ان کا ناس کھودیا اور ہدایت پر نہ آنے دیا اپنی جہالت اور حماقت سے کفر پر ہی جمے رہے اور ایمان قبول کرنے والوں کو حقیر سمجھا۔ جب قرآن کے ذریعے ہدایت کا راستہ نہ پایا تو قرآن کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ پرانا جھوٹ ہے وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے لکھوالی ہیں۔ یہ سب کچھ عناد کے طور پر تھا۔ قرآن کے چیلنج ﴿فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ﴾ کا جواب تو نہ دے سکے البتہ اسے ﴿اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ﴾ كہہ کر کفر میں مزید ترقی کرلی دوسری آیت میں توریت شریف کا تذکرہ فرمایا کہ قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے مخاطبین کے لیے امام یعنی پیشوا اور رحمت بنایا تھا یہ کتاب یعنی قرآن گذشتہ کتب الٰہیہ کی تصدیق کرنے والا ہے عربی زبان میں ہے تاکہ یہ قرآن ظالموں کو یعنی مکہ معظمہ کے مشرکوں کو ڈرائے، نیز اچھے کام کرنے والوں کے لیے بشارت ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس آیت کریمہ کا مطلب لکھا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ یہ قرآن پرانا جھوٹ ہے تمہارا یہ قول کیسے صحیح ہوسکتا ہے جبکہ تم یہ مان چکے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل ہوئی اور قرآن اس کی تصدیق کرنے والا ہے دونوں کے مضامین متحد ہیں جیسے توریت شریف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی قرآن بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرنے سے کیا چیز مانع ہے جبکہ وہ عربی زبان میں ہے اس کے مضامین کو سمجھتے ہو اس جیسا بنا کر لانے سے عاجز ہوچکے ہوں۔ انتھی مع زیادة شرح من ھذا العبد الفقیر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی اور یہ مطلب ہو کہ اس کتاب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی کتاب نازل ہوئی تھی وہ پیشوا تھی اور رحمت تھی اس کو ماننے والے بھی تھے اور عمل کرنے والے بھی تھے اور ان کے مخالفین بھی تھے اسی طرح آپ پر جو کتاب نازل کی گئی اس کے ماننے والے بھی ہیں اور منکرین بھی، پس منکرین و مکذبین کی طرف سے جو ایذا پہنچے مثلاً اس کتاب کو پرانا جھوٹ بتائیں تو آپ صبر کریں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر کیا۔ اس کے بعد اصحاب استقامت کے بارے میں فرمایا کہ جن لوگوں نے ﴿ رَبُّنَا اللّٰهُ ﴾ کہا اللہ تعالیٰ کو رب ماننے کا اقرار کیا اور یہ اقرار زبانی نہیں تھا دل سے تھا اور محض وقتی طور پر نہ تھا اس پر وہ استقامت کے ساتھ جمے رہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ان لوگوں کے لیے وعدہ ہے کہ انہیں کوئی خوف لاحق نہ ہوگا اور رنجیدہ بھی نہ ہوں گے۔ درحقیقت استقامت بہت بڑی چیز ہے حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اسلام کے احکام تو بہت ہیں مجھے آپ ایک بتادیں جسے میں مضبوطی سے تھامے رہوں آپ نے فرمایا : قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ کہ تم اٰمَنْتُ باللّٰہِ (میں اللہ پر ایمان لایا) كہہ دو پھر اس پر جمے رہو۔ ان حضرات کو بشارت دیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے دنیا میں جو نیک اعمال کرتے ہیں انہیں ان کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayahs 46:12–15

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے جو پیشوا تھی اور رحمت تھی اور یہ کتاب ہے جو تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے، تاکہ ظالموں کو ڈرائے، اور خوشخبری ہے اچھے کام کرنے والوں کے لیے،

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے یوں کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے،

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اس کی ماں نے اسے مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور مشقت کے ساتھ اس کو جنا اور اس کا حمل میں رہنا اور دودھ چھڑانا تیس ماہ کی مدت میں ہے، یہاں تک کہ وہ جب اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے اس بات پر قائم رکھیے کہ میں آپ کی نعمت کا شکر ادا کروں جس کا آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمایا ہے، اور اس بات پر بھی مجھے قائم رکھیے کہ میں نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوں، اور میری اولاد میں بھی میرے لیے صلاحیت پیدا فرما دیجیے ! بیشک میں آپ کے حضور میں توبہ کرتا ہوں، اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں،

والدین کے بارے میں وصیت، نیک بندوں کی دعا اور ان کا اجر، نافرمانوں کا عناد و انکار اور ان کی سزا یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع اول اور سورة لقمان رکوع دو میں بھی گزر چکا ہے ماں باپ چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں آنے کا سبب ہیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش اور پرداخت میں جان و مال لگاتے ہیں اپنا آرام کھوتے ہیں ان کے لیے مشقت برداشت کرتے ہیں اس لیے ان کی اطاعت کا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ انسان کی والدہ جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا ﴾ انسان کو اس کی والدہ مہینوں پیٹ میں رکھتی ہے حمل کے زمانے میں مشقت برداشت کرتی ہے پھر جب بچہ پیدا ہونے لگتا ہے تو عموماً وہ بھی مشقت اور تکلیف کے ساتھ پیدا ہوتا ہے بچہ جننے والی ماں کو دردزہ کی تکلیف بھی برداشت کرنی پڑتی ہے اور عین ولادت کے وقت بھی مصیبت کو سہنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد یہ فرمایا کہ انسان کا ماں کے پیٹ میں رہنا پھر پیٹ سے باہر آکر دودھ پینا اس میں تیس مہینے لگ جاتے ہیں یہ عام حالات کے اعتبار سے ہے۔ دودھ پلانے کے زمانہ میں بھی والدہ کو دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے باپ ضرورت کی چیزوں کا اہتمام کرتا ہے مال کما کر لاتا ہے یہ دن بھی ماں باپ کے مشقت اور تکلیف سے گزرتے ہیں۔ اس کے بعد ان انسانوں کا حال بیان فرمایا جو اہل ایمان ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بھی احساس ہے اور ماں باپ کی خدمتوں کا بھی، ان کے بارے میں فرمایا کہ جب یہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتے ہیں اور جوانی سے آگے بڑھ کر چالیس سال عمر ہوجاتی ہے (جو ہوش گوش سمجھ کے اعتبار سے بہت اچھی عمر ہوتی ہے نہ اس میں جوانی کی بہکانے والی امنگیں ہوتی ہیں اور نہ بڑھاپے والا ضعف ہوتا ہے) ایسے نیک آدمی کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں یوں دعا کرتا ہے کہ اے میرے رب مجھے اس بات کا پابند رکھیے اور استقامت دیجیے کہ میں آپ کی نعمتوں کا شکر ادا کروں جن سے آپ نے مجھے بھی نوازا ہے اور میرے والدین کو بھی (والدین کے نوازنے سے بھی ظاہری اسباب کے طور پر میں وجود میں آیا) اور مجھے یہ بھی توفیق دیجیے اور اس پر قائم رکھیے کہ میں ایسے عمل کروں جن سے آپ راضی ہوں اور یہ نیک عمل کرنا جن میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی ہے مجھ ہی تک محدود نہ رہے میری ذریت میں بھی میرے نفع کے لیے صلاحیت پیدا فرما دیجیے (اس میں اولاد کے لیے اور اپنے لیے دنیا اور آخرت کی خیر کی دعا ہے، اولاد میں صلاحیت ہوگی تو نیک عمل کریں گے جن سے ماں باپ کی خوشی ہوگی اور ماں باپ کی جو خدمت کریں گے اس سے انہیں راحت ہوگی) اولاد مومن نیک صالح ہوگی (جن کے نیک بنانے میں ماں باپ کو بھی دخل ہوگا) تو آخرت میں بھی ان کے اعمال کا ثواب ماں باپ کو ملے گا (جبکہ اولاد کے ثواب میں کچھ کمی نہ آئے گی) نیز صالح اولاد ماں باپ کے لیے نیک دعا بھی کرتی ہے والدین کو اس کا نفع بھی پہنچے گا لفظ ﴿وَاَصْلِحْ لِیْ﴾ میں لام ہے اس کے معنی کی طرف یہ تھوڑا سا اشارہ کیا ہے نیک انسان اللہ تعالیٰ سے نیک عمل کی بھی دعا کرتا ہے اور نیک اولاد کی بھی، اور اللہ کے حضور میں توبہ بھی کرتا رہتا ہے، نیز اپنی فرمانبرداری کا بھی اقرار کرتا رہتا ہے۔ اسی کو ان الفاظ میں نقل فرمایا ﴿ اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ 0015﴾ (اے رب بیشک میں آپ کے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ) جن مومن بندوں کا اوپر تذکرہ ہوا ان کو خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا ﴾ (یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے اچھے کاموں کو ہم قبول کریں گے) ﴿ وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّاٰتِهِمْ ﴾ (اور ہم ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے) ﴿ فِيْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ 1ؕ﴾ (یہ لوگ جنت والوں میں شمار ہوں گے۔ ) قال صاحب روح : كائنین فی عدادھم منتظمین فی سلکھم (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اہل جنت کے شمار میں ہوں گے اور انہیں کے نظم سے وابستہ ہوں گے) ﴿ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 0016﴾ (ان کا یہ جنت کا داخلہ اس وعدہ کے مطابق و موافق ہوگا جو وعدہ ان سے حضرات انبیاء کرام کی زبانی کیا جاتا تھا، یہ وعدہ اللہ کی طرف سے تھا۔ سچا تھا پورا ہونا ہی تھا۔ فائدہ اولیٰ : آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی جوانی میں خاص کر جب چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، یوں تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر واجب ہے لیکن ہوش گوش اور وقت و طاقت کے زمانہ میں اس طرف توجہ کرنا اور زیادہ ضروری ہے جو نعمت اپنی ذات پر ہے اور جو نعمت والدین پر ہے اس کا بھی شکر ادا کرے اور اپنی اولاد اور صلاح اور فلاح کے بارے میں فکر مند ہو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے لیے دعا گو رہے۔ فائدہ ثانیہ : آیت کریمہ میں مدت حمل اور مدت رضاع (یعنی دودھ پلانے کا زمانہ) تیس ماہ بتایا ہے عامۃ الفقہا نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس میں چھ ماہ حمل کے اور چوبیس ماہ دودھ پلانے کے زمانے کے ہیں لہٰذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینہ اور دودھ پلانے کی مدت زیادہ سے زیادہ چوبیس ماہ یعنی دو سال ہوئی دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے اس کے بارے میں سورة البقرہ میں فرمایا ہے :﴿ وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ﴾ (اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال پورے دودھ پلائیں (یہ) اس کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے) نیز سورة لقمان میں فرمایا ﴿ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ ﴾ (اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے) اس میں بھی یہ بتادیا کہ دودھ پلانے کا زمانہ دو سال ہے۔ قرآن حکیم میں حمل کی اکثر مدت نہیں بتائی صاحب ہدایہ نے فرمایا حمل کی مدت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے اور سیّدہ عائشہ ؓ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ بچہ پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہتا اگرچہ تکلہ کے سایہ کے برابر ہو۔ سیّدہ عائشہ ؓ کا یہ قول امام دار قطنی نے روایت کیا ہے لیکن جب امام مالک (رح) سے اس کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات کون کہتا ہے ؟ یہ ہماری پڑوسن ہے اس کا ہر بچہ چار سال میں پیدا ہوتا ہے خود حضرت امام مالک (رح) کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے پیٹ میں تین سال رہے وہیں ان کے دانت نکل آئے تھے چونکہ اس پر عامۃ الوردود مسائل میں سے کوئی مسئلہ موقوف نہیں ہے اس لیے زیادہ بحث میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں۔ مدت حمل جو چھ ماہ بتائی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چھ ماہ سے زیادہ حمل نہیں رہ سکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ چھ ماہ پورا ہونا تو ضروری ہی ہے اس سے زیادہ بھی حمل کی مدت ہوسکتی ہے جیسا کہ عام طور پر نو ماہ میں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے اس پر یہ مسئلہ متفرع ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور تاریخ نکاح سے (چاند کے حساب سے) چھ ماہ پورے ہونے سے پہلے اس عورت کے بچہ پیدا ہوگیا تو یہ بچہ اس مرد کا نہیں مانا جائے گا اور اس شخص کی میراث کا مستحق نہیں ہوگا۔ فائدہ ثالثہ : ﴿ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا 1ؕ﴾ (کہ ماں نے مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور مشقت کے ساتھ جنا) پھر اس کے بعد دودھ پلانے کا ذکر فرمایا ﴿ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا ﴾ دودھ پلانا اور اس میں بچہ کی خدمت کرنا یہ بھی ماں پر پڑتا ہے باپ کا کام اتنا ہے پیسے کما کرلے آئے اور تھوڑی بہت بچے کی دیکھ بھال کرلیا کرے اور ماں کو بہت دیکھنا سنبھالنا پڑتا ہے اسی لیے حدیث شریف میں ماں کی خدمت کرنے کی زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ارشاد فرمائیے میری حسن مصاحبت (اور خدمت) کے اعتبار سے سب سے زیادہ کون مستحق ہے آپ نے فرمایا تیری والدہ، اس نے کہا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تیری والدہ ! اس نے کہا پھر کون ؟ فرمایا تیری والدہ ! سائل نے کہا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ۔ (صحیح البخاری، ص 883) علماء کرام نے فرمایا کہ تین بار ماں کا حق اس لیے بیان فرمایا کہ وہ تین تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ جن کا اوپر ذکر ہوا اور یہ بھی فرمایا کہ مال خرچ کرنے میں والدہ کا زیادہ خیال رکھنا لازم ہے۔ نیک بندوں کا جو اپنے والدین سے حسن تعلق ہونا چاہیے اس کا تذکرہ کرنے کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جن میں بغاوت کی شان ہوتی ہے بعض ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ والدین کی نافرمانی کرتے ہیں بلکہ ایمان ہی نہیں لاتے جب والدین ان میں سے کسی سے کہتے ہیں کہ تو اللہ پر اور قیامت کے قائم ہونے پر ایمان لا تو وہ برے انداز میں انہیں جواب دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تف ہے تم دونوں پر کیا باتیں کرتے ہو تم مجھ سے کہہ رہے ہو کہ میں قیامت کے دن قبروں سے نکالا جاؤں گا یہ بھی کوئی ماننے والی بات ہے مجھ سے پہلے کتنی امتیں گزر چکی ہیں ان کو بھی تمہارے جیسے لوگوں نے یہی کہا تھا کہ مر کر زندہ ہوجاؤ گے آج تک تو ان میں سے کوئی زندہ ہوا نہیں میرے نزدیک تو یہ صرف باتیں ہی باتیں ہیں، اس کی یہ بات سن کر ماں باپ اللہ سے فریاد کرتے ہیں کہ اسے ایمان کی توفیق دے اور اس سے کہتے ہیں ﴿ وَيْلَكَ اٰمِنْ 1ۖۗ﴾ (تیرے لیے ہلاکت ہے ایمان لے آ) یعنی ان باتوں سے تو ہلاکت کے دہانہ پر کھڑا ہے ایمان لے آتا کہ ہلاکت سے بچ جائے۔ ﴿ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ1ۖۚ﴾ (بےشک اللہ کا وعدہ حق ہے) اس نے جو بتایا ہے اور پیشگی خبر دی ہے کہ مردے زندہ ہوں گے قبروں سے اٹھیں گے یہ وعدہ حق ہے ضرور پورا ہوگا قیامت ضرور آئے گی قبروں سے نکلنا ہوگا پیشی ہوگی، حساب ہوگا، یہ جو تو کہتا ہے کہ بہت سی امتیں گزر گئیں کوئی زندہ ہوکر نہیں آیا یہ اس کی دلیل نہیں ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کا جو وقت مقرر فرمایا ہے وہ اسی وقت آئے گی اس کے واقع ہونے میں دیر لگنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ آنی ہی نہیں ہے، یہ بات سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ یہ دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت قائم ہونے کی باتیں پرانے لوگوں کی باتیں ہیں نقل درنقل ہوتی چلی آرہی ہیں سچائی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے (العیاذ باللہ) ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ ﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی یعنی ان کا عذاب میں مبتلا ہونا لازم ہوگیا) ﴿ فِيْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ 1ؕ﴾ (یہ لوگ جنات میں اور انسانوں کی اس جماعت میں شامل ہیں جن کو عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔ ) ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ 0018﴾ (بلاشبہ یہ لوگ خسارہ والے ہیں) ایمان لاتے تو جنت میں جاتے اور نعمتیں ملتیں اور کامیابی کی زندگی گزارتے، جب ایمان نہ لائے تو عذاب نار کے مستحق ہوئے ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔
Ayahs 46:16–19

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے کاموں کو ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کردیں گے جنت والوں میں شامل کرتے ہوئے سچے وعدہ کی وجہ سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا،

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تمہارے لیے کیا تم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے امتیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کر رہے ہیں کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لے آ، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اس پر وہ کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے حق میں اللہ کا قول پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جنات میں سے اور انسانوں میں سے گزر چکے ہیں، بلاشبہ یہ لوگ خسارہ والے ہیں،

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کی وجہ سے درجات ہیں، اور تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی پوری جز دیدے، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

پھر فرمایا ﴿ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا 1ۚ ﴾ اور ہر ایک کے لیے درجات ہیں، اہل ایمان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت عالیہ میں درجات ملیں گے اور اہل کفر کو دوزخ کے طبقات سافلہ میں جانا ہوگا۔ قال فی الجلالین فدرجات المومن فی الجنة عالیہ و درجات الکافر فی النار سافلة (تفسیر جلالین میں ہے کہ جنت میں مومن کے درجات اوپر سے اوپر کو ہوں گے اور جہنم میں کافر کے درجات نیچے سے نیچے ہوں گے) ﴿وَ لِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ﴾ (اور ان کے لیے درجات اس لیے مقدر اور مقرر کردئیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جزا پوری پوری دیدے) ﴿ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 0019﴾ (اور ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا) نہ کسی مومن کی نیکی ضائع جائے گی اور نہ کسی غیر مجرم کو سزا دی جائے گی۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی لذتوں کو اپنی دنیا والی زندگی میں ختم کرلیا اور ان سے نفع حاصل کرلیا سو آج تمہیں سزا کے طور پر ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس سبب سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔

کافروں سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی لذت کی چیزیں دنیا میں ختم کردیں، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ قیامت کے دن جب کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا یعنی دوزخ میں داخل کرنے کے لیے آگ کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب تمہارے لیے عذاب ہی عذاب ہے تمہیں یہاں آنے کا یقین نہیں تھا دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے، دنیا ہی کے لیے جئے، اسی کے لیے مرے، لذت کی چیزوں کے پیچھے پڑے، انہی کو سب کچھ سمجھا، حلال سے حرام سے نفس کی ہر لذت پوری کی، اب تمہارے لیے لذت کی چیزوں میں سے کچھ نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ایمان کی دعوت دیتے تھے اور قیامت پر ایمان لانے کو فرماتے تھے تو تم ایمان لانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے اور برابر نافرمانی کرتے چلے جاتے تھے زمین میں ناحق تکبر کرنے اور نافرمانیوں میں بڑھتے چلے جانے کی وجہ سے آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا دنیا میں کفر پر جمے رہنے میں اپنی عزت سمجھی۔ آج اس کے عوض تمہارے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ علامہ بغوی ؓ معالم التنزیل میں لکھتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی توبیخ فرمائی کہ انہوں نے دنیا میں لذتوں سے استمتاع کیا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ ؓ نے اور دیگر نیک بندوں نے دنیا کی لذتوں سے بچنے ہی کو ترجیح دی تاکہ آخرت میں ثواب ملے، حضرت عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اس پر کوئی بستر نہ تھا آپ کے جسم مبارک میں چٹائی کے نشان پڑگئے تھے اور آپ چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائے تھے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے تاکہ آپ کی امت کو وسعت دیدے۔ فارس اور روم کے لوگوں کو مالی وسعت دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اب تک اسی میں ہو ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے مزے کی چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ ان کو دنیا مل جائے اور ہمیں آخرت مل جائے۔ (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 447) حضرت زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر ؓ نے پینے کے لیے کچھ طلب کیا لہٰذا آپ کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا جس میں شہد ملا ہوا تھا حضرت عمر ؓ نے اس کو دیکھ کر فرمایا یہ تو عمدہ چیز ہے لیکن میں اسے پیوں گا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خواہشیں پوری کرنے والی قوم کی خواہشوں کا برا انجام بتادیا ہے ان سے کہا جائے گا ﴿ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا 1ۚ ﴾ (تم نے اپنی مزے کی چیزوں کو دنیا میں ختم کردیا اور ان سے نفع حاصل کیا) لہٰذا میں لذت کی چیزیں استعمال کرنے سے ڈرتا ہوں ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں دنیا ہی میں دے دی جائیں یہ فرمایا اور اس شہد کے ملے ہوئے پانی کو نہیں پیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 449) حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب ؓ نے میرے ہاتھ میں گوشت دیکھا تو فرمایا اے جابر یہ کیا ہے میں نے عرض کیا گوشت کھانے کی خواہش ہوئی تھی لہٰذا میں نے گوشت خریدا ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ وہ ہر چیز خرید لو گے جس کے لیے جی چاہے گا کیا تم اس آیت سے نہیں ڈرتے۔ ﴿ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا ﴾ (معالم التنزیل)
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور قوم عاد کے بھائی کا ذکر کیجیے جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور حال یہ ہے کہ ان سے پہلے اور پیچھے ڈرانے والے گزر چکے ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں،

قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم کا انکار اور تکذیب، پھر ہلاکت اور تعذیب یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے اس میں قوم عاد کے کفر وعناد کا اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے تبلیغ کرنے کا پھر قوم عاد کے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے اس قوم کے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) تھے جن کو یہاں ﴿ اَخَا عَادٍ ﴾ کے عنوان سے ذکر ہے چونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) عاد ہی کی قوم میں سے تھے اس لیے ﴿ اَخَا عَادٍ ﴾ فرمایا لفظ ﴿اَلاحْقَاف﴾ حِقْفٌ کی جمع ہے۔ قوم عاد کا رہنا سہنا اور بودو باش یمن میں تھی جس علاقہ میں یہ لوگ رہتے تھے وہاں ریت کے پہاڑ تھے اس لیے اسے احقاف سے تعبیر فرمایا ﴿حِقفُ﴾ اس پہاڑی کو کہتے ہیں جو گولائی لیے ہوئے اور نیچے جھکی ہوئی ہو ریت کی پہاڑیاں ایسی ہی ہوتی ہیں چونکہ ریت میں مضبوطی سے ٹھہرنے اور قرار پانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لیے ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ ﴿اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بالْاَحْقَافِ ﴾ جبکہ ہود (علیہ السلام) نے احقاف کے علاقہ میں اپنی قوم کو ڈرایا اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ان سے پہلے بھی اللہ کی طرف سے پیغمبر آئے تھے جنہوں نے اپنی قوموں کو تبلیغ کی توحید کی دعوت دی اور انکار پر عذاب کی وعید سنائی حضرت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچائے اسی کو ﴿ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ ﴾ سے تعبیر فرمایا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ﴿ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 0021﴾ (میں تم سے بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں) یعنی اگر تم نے حق کو قبول نہ کیا تو تم پر بڑا عذاب آئے گا۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے سو تو جس کا ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے لے آ اگر سچوں میں سے ہے،

﴿قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا 1ۚ ﴾ کیا تم اس لیے آئے ہو کہ ہمارے جو معبود ہیں ہم ان کی عبادت کرنا چھوڑ دیں اور تم ہمیں ان کی عبادت سے ہٹا دو تم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ میری دعوت پر عمل نہ کیا تو عذاب آجائے گا تم نے عذاب کی بڑی رٹ لگالی اگر تمہارا یہ ڈرانا صحیح ہے اور واقعی تمہاری بات صحیح ہے کہ نہ ماننے پر ہم عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے تو بس لے آؤ …… اگر قول سچا ہے تو دیر کی کیا ضرورت ہے ؟
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں فرمایا کہ علم اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہ بات پہنچاتا ہوں جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں اور لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت کی باتیں کر رہے ہو،

﴿قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے وہی جانتا ہے کہ کسی قوم پر کب عذاب آئے گا اور کب ہلاک ہوگی میرا کام عذاب لانا نہیں ہے مجھے اللہ نے جو پیغام دے کر بھیجا ہے میں تو اس کے پہنچانے کا پابند ہوں اور تمہیں اسی کی تبلیغ کرتا ہوں میں تو تمہیں حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم جہالت کی باتیں کرتے ہو۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

سو جب انہوں نے بادل کی صورت میں اسے اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا، بلکہ یہ ہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے،

﴿فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں پر عذاب آنے کی یہ صورت ہوئی کہ سخت گرمی کی وجہ سے گھروں کو چھوڑ کر باہر میدان میں آگئے اسی حال میں انہیں ایک بادل آتا ہوا نظر آیا اسے دیکھہ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر پانی برسائے گا وہ پانی برسانے والا بادل کہاں تھا وہ تو وہی عذاب تھا جس کی جلدی مچا رہے تھے وہ عذاب ہوا کی صورت میں آگیا یہ ہوا بہت سخت تھی جو اپنے رب کے حم سے ہر چزد کو ہلاک کرتی جا رہی تھی۔ سورة ذاریات میں فرمایا ﴿ مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِؕ0042﴾ (وہ ہوا جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا کر رکھ دیتی تھی جسے ْ چورا ہو) سورة الحاقہ میں ٍ فرمایا ﴿وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ006 سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ 1ۙ حُسُوْمًا 1ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى1ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ007 فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ 008﴾ (اور لن ص عاد سو ہلاک کےَ گئے تیز ہوا کے ذریعہ، اللہ نے ان پر اس ہوا کو سات دن آٹھ رات لگاتار مسخر فرما دیا، اے مخاطب ! تو دیکھے َ قوم کو اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے پڑے ہیں 6 گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں، کیا تو ان میں دیکھتا ہے کوئی باقی رہا۔ )
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کردے گی سو وہ اس حال میں ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کوئی دکھائی نہ دیتا تھا، ہم ایسے ہی مجرم قوم کو سزا دیا کرتے ہیں،

﴿فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں پر عذاب آنے کی یہ صورت ہوئی کہ سخت گرمی کی وجہ سے گھروں کو چھوڑ کر باہر میدان میں آگئے اسی حال میں انہیں ایک بادل آتا ہوا نظر آیا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر پانی برسائے گا وہ پانی برسانے والا بادل کہاں تھا وہ تو وہی عذاب تھا جس کی جلدی مچا رہے تھے وہ عذاب ہوا کی صورت میں آگیا یہ ہوا بہت سخت تھی جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کرتی جا رہی تھی۔ سورة ذاریات میں فرمایا ﴿ مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِؕ0042﴾ (وہ ہوا جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا کر رکھ دیتی تھی جیسے چورا ہو) سورة الحاقہ میں فرمایا ﴿وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ006 سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ 1ۙ حُسُوْمًا 1ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى1ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ007 فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ 008﴾ (اور لیکن عاد سو ہلاک کیے گئے تیز ہوا کے ذریعہ، اللہ نے ان پر اس ہوا کو سات دن آٹھ رات لگاتار مسخر فرما دیا، اے مخاطب ! تو دیکھے قوم کو اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے پڑے ہیں گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں، کیا تو ان میں دیکھتا ہے کوئی باقی رہا۔ ) ﴿رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ 1ؕ ﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ اس حال میں ہوئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ 0025﴾ (ہم اسی طرح مجرم قوم کو سزا دیا کرتے ہیں) حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان میں کوئی بادل دیکھتے تھے تو آپ کا رنگ بدل جاتا تھا اور آپ کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر آتے، جب بارش ہوجاتی تو آپ کی یہ کیفیت جاتی رہتی تھی میں نے اس بات کو پہچان لیا اور اس بارے میں آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا اے عائشہ ! میں ڈرتا ہوں ایسا نہ ہو جیسا قوم عاد نے بادل دیکھ کر کہا جو ان کی وادیوں کی طرف آ رہا تھا کہ یہ بارش برسانے والا ہے لیکن بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ہوا کی صورت میں عذاب تھا جو ان پر نازل ہوا۔ (رواہ مسلم ص 295 ج 1)
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ان چیزوں میں قدرت دی تھی جن میں تمہیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کو سننے کی قوت دی اور آنکھیں بھی اور دل بھی سو انہیں فائدہ نہ دیا ان کے کانوں نے اور ان کی آنکھوں نے اور ان کے دلوں نے کچھ بھی، اس لیے کہ وہ اللہ کی آیت کا انکار کرتے تھے اور انہیں اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق کرتے تھے،

قوم عاد کی ہلاکت کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل مکہ کو توجہ دلائی ﴿ وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ ﴾ (الآیۃ) اور ہم نے قوم عاد کو ان چیزوں کی قوت دی تھی جن کی قوت وقدرت تمہیں نہیں دی، ان کے پاس جو مالی و جسمانی قوتیں تھیں وہ تم سے کہیں زیادہ تھیں، جب وہ کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے ہلاک کردئیے گئے تو تمہاری کیا حیثیت ہے… ؟ وہ لوگ نہ بہرے تھے نہ اندھے تھے نہ باولے بیوقوف تھے ہم نے انہیں کان بھی دئیے تھے اور آنکھیں بھی اور دل بھی لیکن جب ان پر عذاب آیا ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی نہ ان کے حواس ظاہرہ بچا سکے اور نہ کسی تدبیر سے عذاب سے محفوظ ہوسکے جس کا دل اور دماغ سے ادراک ہوتا ہے یہ عذاب کا ابتلاء اور عدم اغناء الجوارح والا معاملہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے کوئی دنیاوی مصیبت عام حالات میں آجائے تو کچھ حواس ظاہرہ سے اور کچھ عقل و فہم کے ذریعہ سوچ بچار کرکے اور کوئی تدبیر نکال کر بھی کبھی کبھار مصیبت سے نکلنے کا کچھ راستہ نکل آتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے کی وجہ سے عذاب آتا ہے تو آنکھ کان سوچ سمجھ کچھ چیز فائدہ نہیں دیتی۔ ﴿وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (رح) 0026 ﴾ (اور ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کا مذاق بناتے تھے) یعنی اللہ کے نبی حضرت ہود (علیہ السلام) سے جو ٹھٹھہ کرتے تھے اور کہتے تھے کیا عذاب، عذاب کی رٹ لگاتے ہو عذاب آنا ہے تو لے آؤ اپنی اس بات کا انہوں نے نتیجہ دیکھ لیا، عذاب میں مبتلا ہوئے اور بالکل برباد ہوگئے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کردیا جو تمہارے آس پاس تھیں اور ہم نے بار بار اپنی نشانیاں بیان کردیں تاکہ وہ باز آجائیں

اس کے بعد اہل مکہ سے مزید خطاب کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى ﴾ (ہم نے تمہارے چاروں طرف کی بستیاں ہلاک کردیں) اس سے یمن اور شام کی بستیاں مراد ہیں یمن کی بستیاں تو وہی قوم عاد والی بستیاں تھیں، اور جب اہل مکہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے تو قوم ثمود کی بستیوں پر اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو دیکھا کرتے تھے ان کی تباہی و بربادی سے عبرت حاصل کرنا ضروری تھا لیکن عبرت نہیں لیتے تھے۔ ﴿ وَ صَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 0027﴾ (اور ہم نے انہیں بار بار نشانیاں بتادی تھیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) لیکن وہ باز نہ آئے بالآخر وہ ہلاک ہوگئے یہ ہلاک ہونے والے مشرک تھے اللہ کے سوا انہوں نے معبود بنا رکھے تھے اور ان کے تقرب کو اپنی مشکلات دور ہونے کا ذریعہ سمجھتے تھے جب عذاب آیا تو انہوں نے ذرا بھی مدد نہ کی بلکہ ان سے غائب ہوگئے ان لوگوں کی یہ بات کہ یہ معبود ہیں ان سے ہمیں فائدہ پہنچے گا جھوٹ تھی اپنی تراشی ہوئی تھی، جھوٹ سے کچھ فائدہ نہ پہنچا اسی کو فرمایا ﴿فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً 1ؕ ﴾ سو اللہ کے سوا جن جن چیزوں کو انہوں نے تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی ﴿ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ 1ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 0028﴾ (بلکہ وہ سب ان سے غائب ہوگئے اور وہ محض ان کی تراشی ہوئی اور گھڑی ہوئی بات تھی۔ )
Ayahs 46:28–29

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

سو اللہ کے سوا ان لوگوں کی انہوں نے کیوں مدد نہیں کی جنہیں انہوں نے تقرب حاصل کرنے کے لیے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ لوگ ان سے غائب ہوگئے، اور یہ ان کی تراشی ہوئی بات ہے، جس کو وہ جھوٹ بناتے ہیں۔

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے آپ کی طرف جنات کی ایک جماعت کو پھیر دیا جو قرآن سننے لگے، سو جب یہ لوگ قرآن کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے کہ چپ رہو، پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر چلے گئے،

جنات کا رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا، پھر واپس جاکر اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا ! رسول اللہ ﷺ رسول الثقلین تھے یعنی آپ انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جنات کی طرف بھی یہاں سورة الاحقاف میں اور سورة الجن میں جنات کا خدمت عالی میں حاضر ہونا اور آپ سے قرآن مجید سننا مذکور ہے علماء حدیث نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنات کی آبادی میں تشریف لے گئے اور انہیں احکام دینیہ کی تبلیغ فرمائی محدثین کی اصطلاح میں اس کو لیلۃ الجن کہتے ہیں حضرات محدثین کرام نے فرمایا ہے کہ لیلۃ الجن کا واقعہ چھ مرتبہ پیش آیا، معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جنات کو تبلیغ کریں انھیں ایمان لانے کی دعوت دیں اور قرآن سنائیں پھر اللہ تعالیٰ نے نینوا بستی کے رہنے والے جنات میں سے ایک جماعت کو آپ کے پاس بھیج دیا آپ تشریف لے جانے لگے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بھی ساتھ چلے گئے یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ہم چلتے چلتے شعب الحجون پہنچ گئے (المعلیٰ کے علاقے کا پرانا نام ” الحجون “ ہے) وہاں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے خط کھینچ کر میرے لیے جگہ تجویز فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ میرے واپس آنے تک اسی جگہ رہنا آپ مجھے چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے وہاں قرآن کریم پڑھنا شروع کیا، آپ کے پاس پاس گدھوں جیسی چیزیں جمع ہوگئیں اور میں نے طرح طرح کی سخت آوازیں سنیں یہاں تک کہ مجھے آپ کی جان کا خطرہ ہوگیا آپ کی آواز بھی مجھ سے اوجھل ہوگئی پھر میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح واپس جا رہے ہیں رسول اللہ ﷺ ان سے فارغ ہوکر فجر کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہیں نیند آگئی تھی میں نے عرض کیا کہ مجھے نیند کیا آتی مجھے تو آپ کی جان عزیز کا خیال آ رہا تھا بار بار خیال ہوا کہ میں لوگوں کو بلاؤں تاکہ آپ کا حال معلوم کریں فرمایا اگر تم اپنی جگہ سے چلے جاتے تو اس کا کچھ اطمینان نہیں تھا کہ ان میں سے تمہیں کوئی اچک لیتا، پھر فرمایا کیا تم نے کچھ دیکھا عرض کیا کہ میں نے کالے رنگ کے لوگوں کو دیکھا جو سفید کپڑے لپیٹے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ یہ شہر نصیبین کے جنات تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہمارے لیے کچھ بطور خوراک تجویز فرما دیجیے لہٰذا میں نے ان کے لیے ہڈی اور گھوڑے وغیرہ کی لید نیز اونٹ اور بکری وغیرہ کی مینگنی تجویز کردی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان چیزوں سے ان کا کیا کام چلے گا ؟ فرمایا کہ جو بھی کوئی ہڈی پائیں اس پر اتنا ہی گوشت ملے گا جتنا اس دن تھا جس دن اس سے گوشت چھڑایا گیا اور جو بھی لید پائیں گے انہیں اس پر وہ دانے ملیں گے جو جانوروں نے کھائے تھے (جن کی لید بن گئی تھی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے سخت آوازیں سنیں یہ کیا بات تھی ؟ فرمایا جنات میں ایک قتل ہوگیا تھا وہ اسے ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے وہ میرے پاس فیصلہ کرنے کے لیے آئے تھے میں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا۔ بعض روایات میں ہے کہ ہڈی کو جنات کی خوراک اور مینگنی کو ان کے جانوروں کی خوراک تجویز کیا اور اس کی وجہ سے ان سے استنجا کرنے کی ممانعت فرما دی۔ ایک روایت میں حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان یوں بھی نقل کیا گیا ہے کہ لیلۃ الجن کو رسول اللہ ﷺ غار حرا کی طرف سے تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم رات بھر آپ کو ڈھونڈتے پھرے آپ سے ملاقات نہ ہوسکی، فکر اور غم میں ہم نے پوری رات گزاری آپ نے فرمایا کہ جنات کی طرف سے ایک بلانے والا میری طرف آیا تھا میں اس کے ساتھ چلا گیا تھا۔ اور ان کو قرآن مجید سنایا۔ جنات نے قرآن مجید سنا تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو دھیان سے سنو جب آپ نے تلاوت ختم فرما دی تو جنات واپس ہوگئے اور ساتھ ہی مبلغ اور داعی بھی بن گئے واپس ہوکر انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہے یہ کتاب واقعی اللہ کی کتاب ہے جو کتابیں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئیں ان کی تصدیق کرنے والی اور حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف ہدایت دیتی ہے اس سے بعض مفسرین نے یہ بات ثابت کی کہ یہ جنات جنہوں نے آپ سے قرآن مجید سنا پھر واپس ہوکر اپنی قوم کو دین اسلام کی دعوت دی یہ لوگ یہودی تھے جنات کی مذکورہ بالا جماعت نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اللہ کے داعی یعنی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بات مانو ان پر ایمان لاؤ جب ایمان لے آؤ گے اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے بچا دے گا جو جنات ایمان لے آئے ان کا اجر وثواب یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا اور عذاب سے محفوظ فرما دے گا اس میں داخلہ جنت کا ذکر نہیں ہے چونکہ مومن جنات کے جنت میں داخل ہونے کا کسی آیت کریمہ میں واضح اور صریح تذکرہ نہیں ہے اور کوئی حدیث مرفوع صحیح صریح بھی اس بارے میں نہیں ملتی اس لیے مسئلہ اختلافی ہوگیا ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ایمان کا صلہ بس یہی ہے کہ دوزخ سے محفوظ کردئیے جائیں اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ مٹی ہوجاؤ جیسا کہ جانوروں کے لیے یہی ارشاد ہوگا لہٰذا وہ مٹی ہوجائیں گے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ اللہ نے اس میں توقف فرمایا ہے جنت میں داخل ہونے نہ ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ واللّٰہ اعلم الصواب