46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب ہے اتاری ہوئی اللہ کی طرف سے ہے جو عزیز ہے، حکیم ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو مگر حق کے ساتھ اور ایک میعاد معین کے لئے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ڈرائے گئے

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حم الاحقاف مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ اسی طرح روایت کیا ہے : 3: احمد نے جید سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے سورة حم پڑھائی اور یہ سورة احقاف ہے پھر فرمایا کہ جب کوئی سورة تیس آیات سے زیادہ ہو تو اس کو ثلاثین (یعنی تیس آیتوں والی) کہتے ہیں۔ 4:۔ ابن الغریس والحاکم (رح) (وصححہ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے سورة احقاف پڑھائی (پھر) دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی لیکن اس کی قرأت مختلف تھی میں نے کہا تجھے کس نے یہ سورة پڑھائی اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے میں نے کہا اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے اس کی سوا (دوسری قرأت) میں نہیں پڑھائی ہے (اس کے بعد) ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں پھر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں میں سے ایک کو چاہئے کہ وہی پڑھے جو اس نے سنا کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 46:4–8

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ان کے بارے میں بتاؤ مجھے دکھادو انہوں نے زمین کے اجزاء میں سے کیا پیدا کیا ؟ کیا ان کے لئے آسمانوں میں کوئی ساجھا ہے ؟ لے آؤ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے ہو یا کوئی ایسا علم لے آؤ جو منقول ہو کر آیا ہو اگر سچے ہو

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہو جو قیامت کے دن تک اس کا جواب نہ دے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان پر واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا وہ حق کے بارے میں کہتے ہیں جب ان کے پاس آگیا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا، آپ فرمادیجئے کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا تو مجھے اللہ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم رہتے ہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے۔ وہ بڑی مغفرت والا ہے اور بڑی رحمت والا ہے

1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی اور اس نے دی ہو جس کی علم موافقت کرے ؟ صفوان نے کہا میں نے اس بارے میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی (علیہ السلام) لکھتے تھے اور جو کوئی ان کی تحریر لکھتا تو وہ ان کی تحریر کو جان لیتا۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) ابوسعید (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے خط کا خوبصورت ہونا۔ 6:۔ الطبرانی نے الاوسط میں والحاکم (رح) نے شعبہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے خط کی عمدگی۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد خط ہے عرب کے لوگ زمین میں خط لگاتے تھے۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے علم میں سے خاص طور پر (کوئی ثبوت ) ۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ یعنی کسی امر کی کوئی دلیل۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے کوئی آدمی جو علم نقل کرتا ہے (آیت ) ” ھو اعلم بما تفیضون فیہ “ (وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم اس میں بناتے ہو) یعنی جو تم کہتے ہو۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں صرف اس کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

علم غیب اللہ کا خاصہ ہے : 1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ما کنت بدعا من الرسل “ (آپ فرما دیجئے کہ میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں) یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں ہوں (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ (میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا) تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک “ (الفتح آیت 2) (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے معاف کردے) اور فرمایا (آیت ) ” لیدخل المؤمنین والمؤمنت جنت تجری “ (الفتح آیت 5) (تاکہ وہ ایمان والوں کو باغات میں داخل کرے) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو یہ بتادیا کہ جو کچھ وہ آپ سے اور سب ایمان والوں سے کرے گا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ما کنت بدعا من الرسل “ سے مراد ہے کہ میں ان کا پہلا نبی نہیں ہوں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ما کنت بدعا من الرسل “ یعنی ان سے پہلے بھی رسول تھے۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ سے مراد ہے میں نہیں جانتا کہ مجھے مکہ میں رہنے دیا جائے گا یا اس سے نکال دیا جائے گا۔ 5:۔ ابوداؤد نے اپنے ناسخ میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت کو منسوک کردیا اس آیت نے جو سورة فتح میں ہے آپ لوگوں کی طرف نکلے تاکہ ان کو خوشخبری دے اس بات کی کہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے گئے تو ایمان والوں میں سے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کے لئے مبارک ہو یقینی طور پر ہم نے جان لیا جو کچھ آپ کے ساتھ کیا جائے گا پس بتائیے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ سورة احزاب میں نازل فرمایا (آیت ) ” وبشرالمؤمنین بان لھم من اللہ فضلا کبیر ا “ (الاحزاب آیت 47) اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا فضل ہے) اور فرمایا (لیدخل المؤمنین والمؤمنت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ویکفر عنہم سیاتھم، وکان ذلک عند اللہ فوزا عظیما (5) “ (الفتح آیت 5) (تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایسے باغات میں داخل فرمائے کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے) تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ آپ کے ساتھ اور آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ اور حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 7:۔ احمد والبخاری والنسائی وابن مردویہ (رح) نے ام العلاء ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی کہا کہ جب عثمان بن مظعون ؓ وفات پاگئے تو میں نے کہا تجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اے ابوالسائب میں تجھ پر گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت و تکریم عطا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے کیسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت عطا فرمائی ہے پس اسے تو اپنے رب کی جانب سے موت آئی ہے۔ اور بلاشبہ میں امید کرتا ہوں اس کے لئے خیر کی اللہ کی قسم میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے۔ ام العلاء نے کہا اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں کسی کے تزکیہ کی گواہی نہیں دوں گا۔ 8:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب عثمان مظعون وفات پاگئے تو ان کی بیوی نے یا کسی اور عورت نے کہا ابن مظعون تیرے لئے جنت کی مبارک باد ہو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف غصہ کی نظر سے دیکھا اور فرمایا تو کیسے جانتی ہے اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے، ابن عباس ؓ نے فرمایا اور یہ واقعہ اس (آیت ) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کردے) کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے اس عورت نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ کا ساتھی اور آپ کے شہسوار تھے اور آپ ہی (اس کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں پھر آپ نے فرمایا میں اس کیلئے اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہوں اور ان کے خلاف ان کے گناہوں کا خوف بھی رکھتا ہوں۔ 9:۔ ابن حبان والطبرانی (رح) نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون جب وفات پاگئے تو ام العلا نے کہا ابو السائب اپنے آپ کو خوش کرلے کہ بلاشبہ تو جنت میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو کیسے جانتی ہے (کہ وہ جنت میں ہے) کہنے لگی یارسول اللہ ﷺ یہ عثمان بن مظعون ہیں آپ نے فرمایا ہاں بلاشبہ ہم نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا اللہ کی قسم ! میں نے جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا (معاملہ) کیا جائے گا۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ نازل ہوئی (یعنی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا) تو رسول اللہ ﷺ نے خوف کی حالت میں ایک زمانے تک عمل کیا۔ پھر جب (یہ آیت) نازل ہوئی ” انافتحنا لک فتحا مبینا (1) ، لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “ (الفتح) بیشک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی تاکہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے تو آپ نے (عبادت میں) اور زیادہ کوشش کی آپ سے کہا گیا آپ نے اپنے نفس کو مشقت میں ڈال دیا اور یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کردیا ہے تو آپ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ ہو۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے جان لیا جو آپ کے ساتھ کیا جائے گا جب یہ ( آیت) نازل ہوئی ” انافتحنا لک فتحا مبینا (1) ، لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “۔ 12:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ میں نہیں جانتا جو کچھ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ آخرت میں کیا جائے گا (معاذاللہ) ایسا نہیں یقیناً آپ اس وقت سے جانتے تھے کہ آپ جنت میں ہوں گے جب رسولوں سے آپ ﷺ کے بارے میں وعدہ لیا گیا لیکن (آیت) ” وما ادری مایفعل بی ولا بکم “ سے مراد یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں نکالا جاؤں گا جسے دوسرے انبیاء مجھ سے پہلے نکالے گئے یا میں قتل کیا جاؤں گا جیسے مجھ سے پہلے دوسرے انبیاء قتل کئے گئے ” ولا بکم “ اور میں نہیں جانتا کہ میری امت جھٹلانے والی ہوگی یا میری امت تصدیق کرنے والی ہوگی یا میری امت پر آسمان سے پتھر برسائے جائیں گے یا اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر آپ کی طرف وحی کی گئی (آیت ) ” واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس “ (الاسرا آیت 60) (اور جب ہم نے آپ کو کہا کہ تیرے رب لوگوں کو گھیرے گا) یعنی میں نے آپ کے لئے گھیرے میں لے لیا عرب (کے لوگوں) کو کہ وہ تجھ کو قتل نہیں کریں گے اس سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ آپ کو قتل نہیں کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ، وکفی باللہ شھیدا (28) (وہ ذات ہے جس نے اپنے رسولوں کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو سارے دینوں پر غالب کردے اور اللہ تعالیٰ گواہی کے لئے کافی ہے) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لئے بذات خود گواہی دیتا ہوں کہ عنقریب وہ غالب کردے تیرے دین کو سارے دینوں پر پھر ان کیلئے ان کی امت کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم، وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون (33) (اور اللہ ایسا نہ کرے گا کہ انہیں تیرے ہوتے ہوئے عذاب دے اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں اس حال میں کہ وہ بخشش مانگتے ہوں) تو اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ جو کچھ آپ کے ساتھ کیا جائے گا اور جو کچھ آپ کی امت کے ساتھ کیا جائے گا۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس سے منکر ہوگئے اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گوہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لے آئے اور تم تکبر کرو، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا

1:۔ ابویعلی وابن جریر (رح) والطبرانی (رح) نے صحیح سند کے ساتھ عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز (یہودیوں کی طرف) روانہ ہوئے میں بھی ساتھ تھا آپ یہودیوں کے عبادت خانہ میں تشریف لے گئے اور یہ یہودیوں کی عید کا دن تھا اس لئے ان کو ہمارا اندر جاپہنچنا برا معلوم ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اپنے اندر مجھے بارہ آدمی ایسے نکال کر بتاؤ جو ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں (اگر تم نے بارہ آدمی دیدیئے تو) اللہ اس آسمان کے نیچے رہنے والے ہر اس یہودی سے اس غیظ وغضب کو اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ کو اس پر ہے یہودی خاموش رہے ان میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ نے دوبارہ ان سے فرمایا تو کسی نے جواب نہ دیا پھر تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا تو کسی نے جواب نہ دیا آپ نے فرمایا تم نے انکار کردیا اللہ کی قسم ! میں حاشہ ہوں (مردوں کو اٹھانے والا) اور میں عاقب ہوں (پیچھے آنے والا) اور میں مقفی ہوں (سب پیغمبروں کے آخر میں آنے والا ہوں) تو ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ (اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) پھر آپ ﷺ چل پڑے۔ اور میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم نکلے کے قریب تھے اچانک پیچھے سے ایک آدمی نے کہا محمد ﷺ جہاں ہو ٹھہر جاؤ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور کہا اگر گروہ یہود ! تم مجھے اپنے اندر کیسا آدمی پاتے ہو ؟ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اپنے درمیان تجھ سے بڑھ کر اور تیرے باپ دادا سے بڑھ کر کتاب اللہ کا علم اور فقیہ کسی آدمی کو نہیں جانتے۔ اس پر اس آدمی نے کہا بلاشبہ میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات اور انجیل میں پاتے ہو۔ یہودیوں نے کہا تو نے جھوٹ کہا اور اس آدمی کی تردید کی اور اسے سخت اور ناپسندیدہ باتیں کیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا تم سے تمہاری بات کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھر ہم باہر نکل آئے اور ہم تین تھے رسول اللہ ﷺ میں اور ابن سلام تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری۔ قل ارء تم ان کان من عنداللہ وکفرتم بہ وشھد شاھد من بنی اسرآء یل علی مثلہ فامن واستکبرتم ان اللہ لایھدی القوم الظلمین “ (آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر تو یہ قرآن من جانب اللہ ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسراء یل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر اس پر ایمان لے آئے اور تم تکبر ہی میں رہو بیشک اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا) 2:۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی کے لئے یہ کہتے ہوئے نہیں سنا جو سطح زمین پر چلنے والا ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ہے مگر عبداللہ بن سلام ؓ کے لئے اور اس کے بارے میں یہ (آیت) نازل ہوئی ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ (اور بنی اسراء یل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے) عبداللہ بن سلام یہودی عالم تھے : 3:۔ الترمذی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ کئی آیات اللہ کی کتاب میں سے میرے بارے میں نازل ہوئی یہ آیت (بھی) میرے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل علی مثلہ فامن واستکبرتم، ان اللہ لا یھد القوم الظلمین “ اور میرے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی ” قل کفی باللہ شھید بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب “ (الرعد آیت 42) 4:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں۔ 5:۔ ابن سعد بن عبد بن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ 6:۔ ابن عساکر (رح) نے زید بن اسلم اور قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 7:۔ ابن سعد وابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) عطا (رح) اور عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ سے عبداللہ بن سلام مراد ہیں۔ 8:۔ حسن بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور عبداللہ بن سلام مدینہ میں تھے۔ 9:۔ ابن سعد وابن عساکر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حم “ نازل ہوئی اور عبداللہ (بن سلام) مدینہ منورہ میں مسلمان تھے۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ یہ خیال کرتے تھے یہ (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر فرمایا یہ سورة مکی اور یہ آیت مدنی ہے اور فرمایا (جو) آیت نازل ہوتی تھی تو نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا تھا کہ اس کو فلاں سورت میں فلاں فلاں آیتوں کے درمیان اس آیت کو رکھ دیں ان کا خیال ہے کہ آیت ان میں سے ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ عبداللہ بن سلام کے بارے میں نہیں ہے (کیونکہ) یہ آیت مکی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص بنی اسرائیل میں سے ایمان لایا میں وہ اس شخص کی طرح ہے جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا۔ 12:۔ ابن المنذر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں قرآن میں سے کوئی چیز نازل نہیں ہوئی۔ 13:۔ ابن المنذر نے مسروق (رح) سے (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل نہیں ہوئی یہ (آیت ) ” مکہ میں نازل ہوئی اور عبداللہ بن سلام مدینہ منورہ میں اسلام لائے یہ تو ایک خصوصیت ہے جس کے ساتھ محمد ﷺ نے جھگڑا کیا۔ توراۃ میں آپ (علیہ السلام) کے صفات موجود ہیں : 14:۔ ابن سعد بن حمید وابن جریر (رح) وابن عساکر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے جب اسلام لانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول اللہ آپ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا گیا بلاشبہ یہود اپنے پاس تورات میں آپ کی صفات کو پاتے ہیں پھر انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ یہودیوں کی ایک جماعت کو اپنے پاس بلائیے اور اس سے میرے اور میرے والد کے بارے میں پوچھیں بلاشبہ وہ آپ کو خبر دیں گے پھر میں ان پر ظاہر ہوں گا اور میں گواہی دوں گا کہ بلاشبہ آپ الہ کے رسول ہیں شاید کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہوجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے یہود کی جماعت کو بلوایا اور اس سے پہلے ان کو (یعنی عبداللہ بن سلام ؓ کو اپنے گھر میں چھپا دیا (جب جماعت آگئی) تو آپ نے ان سے فرمایا تمہارے اندر عبداللہ بن سلام کیسا آدمی ہے اور ان کا والد کیسا تھا تو انہوں نے کہا ہمارا سردار اور ہمارے سردار کا بیٹا ہے اور ہمارا عالم ہے اور ہمارے عالم کا بیٹا ہے۔ پھر فرمایا تم بتاؤ اگر وہ مسلمان ہوجائے تو تم مسلمان ہوجاؤ گے ؟ کہنے لگے وہ مسلمان نہیں ہوگا اتنے میں عبداللہ بن سلام باہر آئے اور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ جانتے ہیں آپ کے بارے میں جیسے میں جانتا ہوں تو وہ لوگ آپ کے پاس سے چلے گئے (اور مسلمان نہ ہوئے) اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ (آیت ) ” نازل فرمائی ” قل ارء یتم ان کان من عنداللہ “ (الآیہ) 15:۔ ابن مردویہ نے جندب ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ آئے یہاں تک کہ میرے دروازے کے چوکٹھوں کو پکڑ لیا پھر فرمایا میں تک کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم جانتے ہو میں وہ ہوں جس کے بارے میں یہ (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہاں (اسی طرح ہے) 16:۔ عبدبن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میمون بن یامین ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور وہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے سردار تھے وہ اسلام لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہودیوں کو بلابھیجنے اور اپنے اور ان کے درمیان انہی میں سے کسی آدمی کو حکم (یعنی ثالث) مقرر کردیجئے بلاشبہ وہ مجھے ہی ثالث بنائیں گے۔ تو آپ نے ان کو بلوابھیجا اور میمون بن یامین کو اندر بھیج دیا وہ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور طویل وقت تک آپ سے گفتگو کرتے رہے آپ نے ان سے فرمایا اپنے میں سے ایک آدمی چن لو وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا ہوگا۔ انہوں نے کہ ہم میمون بن یامین کو مقرر کرتے ہیں پھر آپ نے میمون کو ان کے سامنے باہر نکالا تو میمون نے ان سے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور بلاشبہ وہ حق پر ہیں تو ان یہودیوں نے اس کی تصدیق کرنے انکار کردیا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” قل ارء یتم ان کان من عنداللہ “ (الآیہ) 17:۔ سعید بن منصور ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مسروق (رح) سے (آیت ) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل علی مثلہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) محمد ﷺ کی مثل ہیں اور تورات قرآن کی مثل پس یہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کے ساتھ ایمان لائے اور تم نے کفر کیا اے مکہ والو !
Ayahs 46:11–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمان والوں کے بارے میں یوں کہا کہ اگر یہ ایمان لانا کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے کیوں نہیں بڑھ جاتے اور جب قرآن کے ذریعہ انہوں نے ہدایت نہ پائی تو یوں کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے جو پیشوا تھی اور رحمت تھی اور یہ کتاب ہے جو تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور خوشخبری ہے اچھے کام کرنے والوں کے لئے

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے یوں کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ جنت والے ہیں وہ اس پر ہمیشہ رہیں گے ان کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم زیادہ عزت والے ہیں اور ہم بہتر اور افضل ہیں اگر اس دین میں خیر اور بھلائی ہوتی تو فلاں فلاں آدمی اس دین کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ (اور کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے) 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عون بن ابی شداد ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کی ایک باندی تھی وہ ان سے پہلے اسلام لے آئی جس کو زنیرہ کہا جاتا تھا اور عمر بن خطاب اس کو مارا کرتے تھے اس کے اسلام (لانے) پر، اور کفار مشرکین کہتے تھے اگر یہ (دین) اچھی چیز ہوتا تو اس کی طرف زنیرا ہم سے آگے نہ ہوتی تو اس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ ( الآیہ ) 3:۔ الطبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنوغفار واسلم سب سے زیادہ فتنہ پھیلانے والے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگر دین اسلام میں خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان غریب مسلمانوں کو اس کی طرف پہل کرنے کی توفیق نہ دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سب سے پہلے اس دین کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرماتا۔
Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اس کی ماں نے اسے مشقت کے سامنے پیٹ میں رکھا اور مشقت کے ساتھ اس کو جنا، اور اس کا حمل میں رہنا اور دودھ چھڑانا تیس ماہ کی مدت میں ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہتا کے اے رب ! مجھے اس بات پر قائم رکھئے کہ میں آپ کی نعمت کا شکر ادا کروں جس کا آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمایا ہے اور اس بات پر بھی مجھے قائم رکھئے کہ میں نیک عمل کروں، جس سے آپ راضی ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا فرمادیجئے بیشک میں آپ کے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور بلاشبہ فرماں برداروں میں سے ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے کاموں کو ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کردیں گے۔ جنت والوں میں شا مل کرتے ہوئے سچے وعدہ کی وجہ سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

1:۔ ابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) (آیت) ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسنا “ (اور ہم نے انساں کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے) سے لیکر (آیت ) ” وعد الصدق الذی کانوا یوعدون “ تک (اس سچے وعدے کی وجہ سے جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حملتہ امہ کرھا “ (اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا یعنی اس پر مشقت اٹھاتے ہوئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وحملہ وفصلہ “ بغیر الف کے پڑھا۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے بعجۃ بن عبداللہ الجھنی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ہم میں سے جھینہ قبیلے کی عورت سے شادی کی چھ ماہ کے اور ہونے پر اس کو بچہ پیدا ہوگیا اس کا شوہر عثمان بن عفان ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے اس کے رجم کا حکم فرمایا یہ فیصلہ علی ؓ کے پاس پہنچا تو وہ حضرت عثان ؓ کے پاس آئے اور کہا آپ نے کیسے (یہ فیصلہ) کیا انہوں نے کہا کہ اس عورت نے چھ ماہ پورے ہونے پر بچہ جنا ہے کیا وہ اس کا ہوسکتا ہے ؟ علی ؓ نے فرمایا کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت ) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “ (اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں پورا ہوتا ہے) اور فرمایا (آیت) ” حولین کاملین “ (البقرہ آیت 334) مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلاتی تو باقی آپ نے چھ ماہ پائے۔ عثمان ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نے اس کو نہیں سمجھا مجھ پر لازم ہے کہ میں اس عورت کی خبر لوں چناچہ انہوں نے اسے اس حال میں پایا کہ اسے رجم کیا جا چکا تھا اور اس (عورت) نے اپنی بہن کے لئے یہ بات کی تھی اے بہن تو میرے بارے میں غم نہ کرنا اللہ کی قسم ! میری شرمگاہ کو اس آدمی کے سوا کسی نے ننگا نہیں کیا، راوی کا بیان ہے کہ وہ بچہ جوان ہوا تو اس آدمی نے اس کا اعتراف کیا اور اس کی سب سے زیادہ مشابہت اسی کے ساتھ تھی۔ راوی نے کہا کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اکثر اپنے بستر پر پڑا رہتا تھا۔ 5:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابو حرب بن ابو السود الدولی سے روایت کیا کہ عمر ؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی اس عورت نے بچہ جنا تھا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب سے اس بارے میں سوال کیا علی ؓ نے فرمایا اس عورت پر رجم نہیں ہے کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “ اور فرمایا اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے تو باقی حمل کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے۔ (یہ سن کر) عمر ؓ نے اس کو چھوڑدیا اور فرمایا پھر ہم کو یہ بات پہنچی کہ اس عورت نے دوسرا بچہ بھی چھ ماہ میں جنا۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے نافع بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے ان کو خبر دی اور کہا کہ بلاشبہ میں اس عورت کے ساتھ تھا جو عمر ؓ کے پاس لائی گئی اس نے چھ ماہ میں بچہ کو جن دیا تو اس پر لوگوں نے انکار کردیا میں نے عمر ؓ سے کہا ظلم نہ فرمائیے انہوں نے فرمایا وہ کیسے ؟ میں نے کہا پڑھئے (آیت ) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “ (اور) (آیت ) ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ (اور مائیں اپنے بچوں کو دو سال پورے دودھ پلائیں) (پوچھا حول کتنا ہوتا ہے فرمایا ایک سال کا میں نے پوچھا سال میں کتنے مہینے ہیں کہا بارہ مہینے میں نے پس چوبیس مہینے کامل (وسال) ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جتنا چاہیں حمل کو آگے پیچھے کرسکتا ہے (یہ سن کر) عمر ؓ کو اطمینان ہوگیا۔ 7:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابوعبیدہ (رح) مولی عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت حضرت عثمان ؓ کے پاس لائی گئی جس نے چھ ماہ میں بچہ جنا عثمان ؓ نے فرمایا میرے پاس ایک عورت لائی گئی ہے میں اس کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ اس نے برائی کا ارتکاب کیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا جب دودھ پلانا پورا ہوجائے (یعنی دو سال) تو حمل کی مدت چھ ماہ ہے اور یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “ (یہ سن کر) عثمان ؓ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ 8:۔ سعید بن منصور (رح) عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب عورت نوماہ میں بچہ جنے تو دودھ بلانے میں اکیس مہنے کافی ہیں اور جب سات ماہ میں بچہ جنے تو دودھ پلانے میں تیئس مہینے کافی ہیں اور جب چھ ماہ میں بچہ جنے تو اس کی مدت رضاعت کامل (دو سال) ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “۔ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قاسم بن عبدالرحمن سے روایت کیا کہ میں نے مسروق سے کہا آدمی کب اپنے گناہوں کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے تو انہوں نے فرمایا جب تو چالیس سال کو پہنچ جائے تو خوب احتیاط کر۔ 10:۔ ابن الجوزی نے کتاب الحدائق میں ضعیف سند کے ساتھ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دو حفاظت کرنے والوں کو حکم فرمایا ہے اور دونوں کو کہا کہ میرے بندے کی جوانی ابتداء میں اس کے ساتھ رہیں اور جب وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کی حفاظت کریں اور ایسا کرنا دونوں پر لازم ہے۔ 11:۔ ابوالفتح الازدی جویبر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی نیکی اس کی برائی پر غالب نہ آئے تو اس کو چاہئے کہ دوزخ کی آگ کی طرف تیاری کرے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مالک بن مغول (رح) سے روایت کیا کہ ابو معشر کے بیٹے نے حضرت طلحہ بن مصرف سے شکایت کی تو طلحہ نے فرمایا کہ اس پر (اللہ تعالیٰ سے) مدد طلب کر اس آیت کے ساتھ (آیت ) ” اوزعنی ان اشکر نعمتک “ (الآیہ) 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) ” حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی “ (یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے اے میرے رب مجھے توفیق دے) ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا ان کے والدین ان کے بھائی اور ان کے اولاد سب کے سب مسلمان ہوگئے اور اس بارے میں یہ (آیت ) ” بھی نازل ہوئی (آیت) ” فامامن اعطی واتقی “ (اللیل آیت 5) سورة کے آخر تک۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واصلح لی فی ذریتی “ (اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا کردے) یعنی ان کو میرے لئے نیک لوگوں میں سے بنادے۔ 15:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ روح الامین یعنی جبرائیل (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ بندے کی نیکیاں اور اس کی برائیاں لائی جائیں گی تو ان میں سے بعض کا بعض سے جنت تک وسیع کردے گا۔ راوی نے کہا کہ میرے پاس ہر دن آتے تو انہوں نے بھی اس طرح یہ حدیث بیان کی میں نے کہا اگر ایک نیکی بھی چلی جائے (تو پھر کیا ہوگا) (تو یہ آیت پڑھی) ” اولٓئک الذین نتقبل عنہم احسن ما عملوا “ الآیہ (یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کو اچھے اعمال کو قبول کرلیں گے) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی نصیحت : 16:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے عمر ؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ میں تجھ کو ایسی وصیت کرتا ہوں کہ تو اس کو یاد کرلے بلاشبہ اللہ کے لئے رات میں حق ہے کہ وہ اس کو دن میں قبول نہیں فرماتے اور دن میں بھی حق ہے کہ وہ اس کو رات کو قبول نہیں فرماتے کسی کے لئے نفل (عبادت) قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ فرض (عبادت) کو ادا نہ کرے، بلاشبہ وزن بھاری ہوں گے اور قیامت کے دن ان کے دنیا میں اتباع حق کی وجہ سے ان کے میزان بھاری ہوں گے ان پر اور اس (ترازو) میں نہیں رکھا جائے گا مگر حق کو تاکہ وہ بھاری ہوجائے اور وزن ہلکے ہوں گے قیامت کے دن ان کے دنیا میں باطل کی پیروی کرنے کی وجہ سے جن کے وزن ہلکے ہوں گے۔ اور میزان کا ان پر ہلکا ہونا اور میزان کا حق ہونا یہ ہے کہ اس میں سوائے باطل کے اور کچھ نہیں رکھا جائے گا وہ ہلکا ہوجائے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کا ذکر ان کے اچھے اعمال کے ساتھ کیا اور وہ فرماتے ہیں تیرا عمل کہاں پہنچے گا ان لوگوں کے اعمال کے قریب اور دوزخ والوں کا ان کے برے اعمال کے ساتھ ذکر فرمایا یہاں تک کہ ایک کہنے والا کہے گا میں ان لوگوں کے عمل سے بہتر ہوں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اچھے اعمال کو رد کردیا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آیۃ الشدۃ کو آیۃ الرخاء کے ساتھ نازل فرمایا اور آیۃ الرخاء کو آیۃ الشدۃ کے ساتھ تاکہ مؤمن رغبت کرنے والا اور ڈرنے والا بن جائے تاکہ وہ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ ڈالے تاکہ وہ اس میں اللہ تعالیٰ سے سوائے حق کے اور کوئی تمنا نہ رکھے۔
Ayahs 46:17–19

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تمہارے لئے کیا تم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے امتیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کررہے ہیں کے اے تیرا ناس ہو ایمان لے آ ! بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اس پر وہ کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے حق میں اللہ کا قول پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جنات میں سے اور انسانوں میں سے گزر چکے ہیں بلاشبہ یہ لوگ خسارہ والے ہیں

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے درجات ہیں اور تاکہ اللہ ان کے اعمال کی پوری جزا دیدے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

1:۔ البخاری نے یوسف بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ مروان معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا اس نے خطبہ دیا اور یزید بن معاویہ کا ذکر کرنا شروع کردیا تاکہ اس کے باپ (حضرت معاویہ) کے بعد اس کی بیعت کی جائے۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ نے کچھ کہا تو مروان نے کہا اس کو پکڑ لو۔ وہ اپنی بہن حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں داخل ہوگئے تو وہ لوگ اس کے پکڑنے پر قادر نہ ہوئے مروان نے کہا اس کے بارے میں یہ (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ (اور جس نے اپنے والدین سے کہا افسوس تم پر تم مجھ سے کہہ رہے ہو) نازل ہوئی حضرت عائشہ ؓ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق کچھ نازل نہیں کیا صرف میرا عذر نازل فرمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) والنسائی وابن المنذر (رح) والحاکم (صححہ) وابن مردویہ (رح) نے محمد بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ جب معاویہ ؓ نے اپنے بیٹے کیلئے بیعت لی تو مروان نے کہا یہ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کی سنت ہے عبدالرحمن نے کہا یہ ہرقل اور قیصر کی سنت ہے مروان نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ یہ بات حضرت عائشہ ؓ کو پہنچی تو فرمایا مروان نے جھوٹ کہا مروان نے جھوٹ کیا اللہ کی قسم وہ اس طرح نہیں ہے اگر میں اس کا نام لینا چاہوں تو لے سکتی ہوں جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن رسول اللہ ﷺ نے مردوں کے باپ پر لعنت کی یہ اس کی صلب میں تھا تو مروان اللہ تعالیٰ کی لعنت سے کشادہ ہوگیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ نے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں مسجد میں تھا جب مروان نے خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین (حضرت معاویہ ؓ کے دل میں بہت اچھی رائے پیدا فرما دی اور انہوں نے اس طرح اپنا خلیفہ منتخب کیا جس طرح ابوبکر اور عمر ؓ نے اپنے خلیفے منتخب کئے عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے کہا کیا یہ (روم کے بادشاہ) ھرقل کی سنت ہے۔ بلاشبہ ابوبکر ؓ نے اللہ کی قسم اپنی اولاد کی عزت اور تکریم کے لئے اس کو خلیفہ نہیں بنایا (یہ سن کر) مروان نے کہا کیا تو وہی نہیں جس نے اپنے والد کے لئے کہا (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف “ (یعنی تمہارے حال پر افسوس ہے) عبدالرحمن نے کہا کیا تو اسی لعین کا بیٹا نہیں ہے کہ تیرے باپ پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی حضرت عائشہ ؓ نے (جب) اس کو سنا تو فرمایا اے مروان تو عبدالرحمن کے لئے ایسا کہنے والا ہے تو نے جھوٹ کہا اللہ کی قسم اس کے بارے میں یہ (آیت ) ” نازل نہیں ہوئی (بلکہ) فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ابن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ والدین کو ستانا حرام ہے : 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ عبدالرحمن بن ابی بکر کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے اپنے والدین سے کہا حالانکہ وہ مسلمان ہوچکے تھے مگر اس نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا وہ دونوں اس کو اسلام لانے کا حکم کرتے تھے اور یہ ان کو رد کردیتا تھا اور ان کو جھٹلاتا تھا اور کہتا تھا فلاں کہاں ہے اور فلاں کہاں ہے۔ یعنی قریش کے بڑے لوگ جو مرچکے تھے (وہ کہاں ہیں) پھر بعد میں یہ مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام لانا اچھا رہا تو یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی (آیت) ” ولکل درجت مماعملوا “ (اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے الگ الگ درجے ملیں گے ) 6:۔ عبدالرزاق ابن مردویہ (رح) نے میناء کے طریق سے یہ روایت کیا کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو اس بات کا انکار کرتے ہوئے سنا کہ یہ آیت عبدالرحمن بن ابی بکر کے بارے میں نازل ہوئی اور فرمایا کہ (یہ آیت) فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی اور آپ ایک آدمی کا نام بھی لیتی تھیں۔ 7:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتعدننی ان اخرج “ (کیا تم مجھ سے وعدہ دیتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا) یعنی موت کے بعد اٹھنا۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی لذتوں کو اپنی دنیا والی زندگی میں ختم کرلیا اور ان سے نفع حاصل کرلیا سو آج تمہیں سزا کے طور پر ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس سبب سے تم نافرمانی کرتے تھے

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے حفص بن ابی العاص (رح) سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر ؓ کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” ویوم یعرض الذین کفروا علی النار “ (اور جس دن کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے ) 2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) والحاکم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے جابر بن عبداللہ ؓ کے ہاتھ میں کچھ درہم دیکھے تو فرمایا یہ درہم کیسے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا (اس سے) میرا ارادہ اپنے گھرو الوں کیلئے گوشت خریدنے کا ہے کہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہیں عمر ؓ نے فرمایا جب بھی تم کسی چیز کی خواہش کرتے ہو اس کو خرید لیتے ہو یہ آیت تم سے کہاں گئی۔ (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا “ (کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے اور تم اس کے ساتھ نفع اٹھاچکے) دنیوی نعمتیں استعمال کرتے ہوئے آخرت کو یاد رکھنا : 3:۔ احمد نے الزھد میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس سے گزرے اور گوشت اٹھائے ہوئے تھے پوچھا اے جابر یہ کیا ہے ؟ عرض کیا یہ گوشت ہے میں نے اس کی خواہش کی تو اس کو خرید لیا۔ فرمایا جب بھی تم کسی چیز کی خواہش کرتے ہو اس کو خرید لیتے ہو ؟ کیا تم نہیں ڈرتے کہ تم اس آیت والوں میں سے ہوجاؤ (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا “۔ 4:۔ ابونعیم نے الحلیہ میں سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ فرمایا کرتے تھے اللہ کی قسم وہ ارادہ نہیں کریں گے زندگی کی لذتوں کا کہ ہم حکم دیں بکری کے چھوٹے بچے گا کہ ہمارے لئے اس کو بھونا جائے اور ہم حکم دیں گندم کے آٹے کے بارے میں کہ ہمارے لئے روٹی پکائی جائے اور ہم کشمکش کا حکم کریں کہ ہمارے لئے مٹکوں میں نبیذ بنائی جائے یہاں تک کہ جب نرچکور کے آنکھوں کی مثل ہوجائے اور ہم اس کو کھائیں اور اس کو پیئیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی نیکیوں اور نعمتوں کو باقی رکھیں کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا “۔ 5:۔ ابونعیم (رح) نے عبدالرحمن بن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا کہ عراق کے کچھ لوگ عمر ؓ کے پاس آئے انہوں نے دیکھا گویا کہ وہ کبوتر کھاتے ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا اے عراق والو اگر میں چاہتا تو میرے لئے اس طرح عمدہ کھانا تیار کیا جاتا جیسے تمہارے لئے کیا جاتا ہے تو میں ایسا کرلیتا لیکن ہم اپنے رب سے جو پاتے ہیں اسے اپنی آخرت کے لئے باقی رکھتے ہیں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو ایک قوم کے بارے میں فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا (الآیہ) 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ فرمایا تم جان لو کہ لوگ نگل جاتے ہیں اپنی نیکیوں کو دنیا میں اگر وہ طاقت رکھے تو اپنی نیکیوں کو باقی رکھے اور قوت اللہ کے لئے ہے۔ راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات کہی کہ عمر بن خطاب ؓ فرمایا کرتے تھے اگر میں چاہوں تو میں تم سے اچھا اور عمدہ کھانا کھا سکتا ہوں اور تم سے زیادہ نرم لباس پہن سکتا ہوں لیکن میں اپنی نیکیوں کو بچاتا ہوں اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عمر بن خطاب ؓ جب شام تشریف لائے تو ان کے لئے ایسا کھانا تیار کیا گیا جو اس سے پہلے اس جیسا کھانا نہیں دیکھا تھا فرمایا یہ ہمارے لئے ہے تو ان غریب مسلمانوں کے لئے کیا ہے جو وفات پاگئے اور وہ جو کی روٹی سے اپنا پیٹ نہیں بھرسکے۔ خالد بن ولید ؓ نے فرمایا ان کے لئے جنت ہے تو حضرت عمر ؓ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور فرمایا اگر ہمارے لئے یہ حقیر سی چیزیں ہیں تو ان کے لئے جنت ہے تو پھر وہ ہم سے دور چلے گئے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اپنی نیکیوں کو ضرور تلاش کریں گے جو انہوں نے کی تھیں تو ان سے کہا جائے گا (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا “ 8:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ کے لئے شہد کا شربت لایا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں اس کی فضیلت کو برداشت نہیں کرسکتا اس کو فلاں کو پلادو۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) نے وھب بن کیسان سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے مجھے دیکھا اور میں گوشت ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھا پوچھا اے جابر ! یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا گوشت ہے میں نے اس کو ایک درہم میں خریدا ہے اپنی عورتوں کے لئے کہ انہوں نے اس کی خواہش کی تھی عمر ؓ نے فرمایا تم میں سے جو کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو وہ اسے پورا کرلیتا ہے کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے پیٹ کو لپیٹ لے (یعنی بھوک برداشت کرلے) (اپنے پڑوسی کے لئے اور اپنے چچا کے بیٹے کے لئے ؟ یہ آیت کہاں گئی۔ (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا “ پھر فرمایا اس سے کسی نے رہائی نہیں پائی۔ یہاں تک کہ قریب ہے کہ میں بھی رہائی نہ پاؤں۔ 10:۔ ابن سعد وعبد بن حمید (رح) نے حمید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ حفص اکثر اوقات شام کے کھانے پر امیر المؤمنین عمر فاروق ؓ کے ساتھ اکٹھے ہوتے تھے لیکن جب حضرت عمر ؓ کی خدمت میں کھانا پیش کیا جاتا تو خالص کھانا نہ کھاتے تو عمر ؓ نے ان سے فرمایا تجھے کیا ہوا ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے ؟ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین میرے گھروالوں نے میرے کھانا تیار کیا ہے وہ آپ کے کھانے سے زیادہ نرم ہے تو میں ان کے کھانے کو آپ کے کھانے کی نسبت زیادہ پسند کرتا ہوں۔ یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے کیا تو نہیں جانتا اگر میں چاہوں تو ایک موٹی تازی بکری کا چھوٹا بچہ ذبح کرنے کا حکم کروں۔ اس سے بال دور کردیئے جائیں اور سے بھونا جائے پھر میں آٹے کا حکم کروں اس کو کپڑے میں چھانا جائے پھر اس سے نرم نرم روٹی پکائی جائے۔ اور ایک صاع کشش کا حکم کروں اس کو گھی میں ڈال دیں یہاں تک کہ اس کا رنگ ہرن کی آنکھ کی طرح سرخ ہوجائے۔ حفص نے کہا میں جانتا ہوں آپ عمدہ کھانوں کو پہچانتے ہیں تو عمر ؓ نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر مجھے اس بات کی ناگواری نہ ہوتی کہ قیامت کے دن میری نیکیوں سے کم کردیا جائے گا تو میں ضرور تمہارے ساتھ عمدہ اور نرم کھانوں میں شریک ہوتا۔ 11:۔ ابن المبارک (رح) وابن سعد (رح) اور احمد (رح) نے الزھد میں وعبد بن حمید (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ اہل بصرہ کا وفد موسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ان کیلئے ہر دن روٹی پر کوئی چیز لگی ہوتی تھی اور کبھی ہم دیکھتے کہ ان پر زیتون کا تیل لگایا گیا ہے اور کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر گھی لگایا گیا ہے اور کبھی ہم دیکھتے کہ اس دودھ لگایا گیا ہے اور کبھی ہم دیکھتے کہ اس پر خشک گوشت کا قیمہ بنا کر لگایا گیا اور کبھی ہم دیکھتے کہ اس پر گوشت کا سالن لگایا گیا لیکن یہ بہت کم ہوتا، راوی کا بیان ہے کہ ہم کو عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں دیکھ رہا ہوں تم میرے کھانے کو ناپسند کرتے ہو اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں تو تم سے اچھا کھانا کھاؤں اور تم سے اچھی زندگی گزاروں۔ اللہ کی قسم ! میں ناواقف نہیں ہوں مرغابی بٹیر گوشت بھنے ہوئے زیتوں اور رائی سے بنائی ہوئی چٹنی اور ابلی ہوئی سبزیوں سے لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو پایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو ان کے اپنے اعمال کے سبب عار دلائی ہے اور فرمایا (آیت ) ” اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا “ نیکیوں کا بدلہ آخرت میں پانے کی تمنارکھنا : 12:۔ احمد و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر فرماتے تھے تو آپ اپنے اہل بیت میں سے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ ؓ سے ملاقات فرماتے اور سب سے پہلے آپ کے پاس تشریف لائے اور حضرت فاطمہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے جب آپ اس کے دروازے پر پہنچے اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو دو چاندی کے کنگن پہنے ہوئے دیکھا تو آپ واپس لوٹ گئے اور ان کے پاس اندر تشریف نہیں لے گئے جب فاطمہ ؓ نے یہ معاملہ دیکھا تو یہ خیال کیا کہ اس وجہ سے آپ اندر تشریف نہیں لائے جو آپ نے (ان کنگنوں کو) دیکھا فاطمہ ؓ نے پردے کو پھاڑ دیا اور بچوں سے کنگن اتاردیئے۔ ان دونوں کو توڑ ڈالا تو بچے رونے لگے تو انہوں نے ان کے درمیان وہ دونوں کو تقسیم کردیئے اور وہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے لے گئے اور فرمایا اے ثوبان یہ مدینہ میں بنی فلاں کے گھر والوں کی طرف لے جاؤ اور فاطمہ ؓ کے لئے دریائی جانور کے دانت کا بنا ہوا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خریدو کیونکہ میرے گھر والے ہیں اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں کھاجائیں (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayahs 46:21–23

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور قوم عاد کے بھائی کا ذکر کیجئے جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور حال یہ ہے کہ ان سے پہلے اور پیچھے ڈرانے والے گزر چکے ہیں یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک تم پر بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے ؟ سو تو جس کا ہم سے وعدہ کرتا ہے اس کو لئے آ ! اگر سچوں میں سے ہے

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں فرمایا کہ علم اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہ بات پہنچاتا ہوں جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں اور لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ جہالت کی باتیں کررہے ہو

1:۔ ابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود (علیہ السلام) پر رحم فرمائے گا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ دو وادیاں لوگوں میں خیر کی ہیں وادی مکہ اور وادی ارم جو ہند میں ہے اور دو بڑی وادیاں ہیں لوگوں میں وادی احقاف اور وادی حضرموت جس کو وادی برھوت کہا جاتا ہے جس میں کافروں کی روحیں ڈالی جاتی ہیں۔ اور لوگوں میں بہترین کنوں زمزم ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا کنواں برھوت ہے اور یہ اس وادی میں ہے جو حضرموت کے مقام پر ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ احقاف شام میں ایک پہاڑ ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ احقاف شام میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ احقاف کا معنی ہے زمین۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ احقاف سے مراد ہے جسم کو ٹیڑھا کرنا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عاد یمن کے قبائل تھے جو سمندر کے کنارے اس ریگستان میں آباد تھے جسے شحر کہا جاتا ہے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ احقاف سے مراد یمن کی زمین کے ٹیلے ہیں۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الا تعبدوا الا اللہ “ (ان سے پہلے بھی ڈارنے والے گزر گئے تھے اور ان کے بعد بھی گزرے۔ (اور انہوں نے ڈرایا) کہ اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے، 10:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لتافکنا “ (تاکہ ہم کو پھیر دے یعنی ہم کو پھسلادیں (اپنے معبود سے) (یہ آیت) پڑھی ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ (قریب تھا کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھر دے فرمایا) یہ تینوں الفاظ ” یضلنا یدیلنا یافکنا “ ایک ہی معنی ہے