46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 46:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

) یہ) کتاب نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے،1۔

1۔ پس جب متکلم ایسا ہے جو سب پر غالب و قادر بھی ہے اور سب سے بڑا حکیم بھی تو اس کا کلام بھی بہت اہم اور نہایت درجہ قابل غور ہے۔ (آیت) ” حم “۔ اور اس پوری آیت پر حاشیے قریب ہی کی سورتوں میں کئی بار گذر چکے ہیں۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حکمت ہی کے ساتھ، اور ایک میعاد مقرر کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے، بےرخی کئے ہوئے ہیں،2۔

2۔ کافروں اور منکروں کی اصلی بدبختی یہ ہے کہ وہ حقائق کی طرف توجہ والتفات ہی نہیں کرتے۔ آیت سے تین عقیدوں کی تعلیم نکلی، اور تین زبردست گمراہیوں کی تردید۔ (آیت) ” وما خلقنا “۔ الخ سارے موجودات عالم کا خالق حق تعالیٰ ہی ہے۔ کوئی شے خود بخود وجود میں نہیں آگئی ہے ..... عقیدۂ دہریت وقدامت مادہ وروح وغیرہ کی تردید۔ (آیت) ” الا بالحق “۔ ہر شے کسی نہ کسی خاص حکمت یا مقصود کے ساتھ ہی پیدا کی گئی ہے جو خالق کائنات ہے وہ حکیم کل بھی ہے۔ عقیدۂ آفرینش بےمقصد اور بعض اقسام شرک کی تردید۔ (آیت) ” واجل مسمی “۔ ہر شے فناء پذیر ہے، اور ایک مدت ومیعاد مخصوص ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ ... عقیدہ معاد کا اثبات اور عقیدہ مخلوق غیر فانی کی تردید۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توحید ومعاد پر دلائل قائم کردیئے، رسول پر رسول بھیجے، کتابوں پر کتابیں نازل کیں، جو ہٹ دھرم کافر ہیں، وہ اپنے جمود پر اڑے رہے، انہوں نے غور والتفات ہی کو گناہ سمجھا، امام رازی (رح) نے یہیں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ فکر و استدلال سے کام لینا واجب ہے اور کام نہ لینا موجب ملامت۔ وھذا یدل علی وجوب النظر والا ستدلال وعلی ان الاعراض عن الدلیل مذموم فی الدین والدنیا (کبیر) (آیت) ” السموت والارض وما بینھما “۔ فقرہ سے مراد محاورۂ قرآنی میں ساری کائنات ہوتی ہے۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ جن چیزوں کو تم پکارتے ہو، اللہ کے سوا مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کون سے زمین پیدا کی ہے یا یہ کہ ان کا ساجھا آسمان میں ہے میرے پاس کوئی کتاب لاؤ جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی مضمون منقول (معتبر) لاؤ اگر تم سچے ہو،3۔

3۔ لوگ عموما اثبات توحید پر دلائل قائم کرتے رہتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سے آگے بڑھ کر الٹے مشرکوں سے اثبات شرک پر دلیل کا مطالبہ اور دہرا مطالبہ کیا ہے۔ (آیت) ” ارونی ..... السموت “۔ اے اہل شرک، ذرا بتاؤ کہ تمہارے دیوتاؤں کی شرکت خلقت زمین یا آسمان میں آخر کس حیثیت سے اور کسی حد تک بھی ہے ؟ جب تم زمین و آسمان کو بھی اللہ ہی کا مخلوق سمجھ رہے تو یہ تو تم نے تسلیم کرلیا کہ یہ مخلوق معبود نہیں ہوسکتے، بلکہ ان کی معبودیت کی عین نفی ان کی مخلوقیت سے نکل آئی، پھر آخر تم شرک پر کس عقلی دلیل کا سہارا پکڑے ہوئے ہو ؟ یہ پہلا مطالبہ عقلی دلیل کا ہوا۔ (آیت) ” ایتونی ..... من علم “۔ میری لائی وحی کو جانے دو ، تو اچھا یہی بتاؤ کہ کسی پچھلے نوشتہ آسمانی میں حکم شرک درج ہے ؟..... یہ دوسرا مطالبہ نقلی دلیل کا ہوا (آیت) ” اثرۃ “۔ تنوین اظہار تقلیل کیلئے ہے۔ التنوین للتقلیل (روح) یعنی ثبوت قطعی نہ سہی، ثبوت ظنی ہی سہی۔ محققین عارفین نے آیت سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ دین کے باب میں کوئی بھی دعوی بغیر دلیل معتبر کے مسموع نہ ہوگا، یہاں تک کہ دعوی کشف والہام بھی نہیں۔ (آیت) ” ان کنتم صدقین “۔ یعنی اگر تم اپنے دعوی اثبات شرک میں صادق ہو۔ (آیت) ” الارض “۔ سے مراد ممکن ہے کہ جملہ سفلیات ہوں۔ یجوز ان یراد بالارض السفلیات مطلقا ولعلہ اولی (روح) (آیت) ” السموت “۔ سے بھی اسی طرح مراد ممکن ہے کہ جملہ علویات ہوں، لعل الاولی فیھا ایضا ان تفسر بالعلویات (روح)
Ayahs 46:5–6

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو،

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب سب لوگ اکٹھے کئے جائیں تو وہ ان کے دشمن نکلیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کربیٹھیں،4۔

4۔ حاصل یہ کہ جن معبودوں سے تم لگائے بیٹھے ہو، ان کی معبودیت کا مقتضا تو کوئی ایک بھی نہیں۔ البتہ ان کی عدم معبودیت کے متقضا ایک چھوڑ کئی کئی موجود ہیں۔ پھر بھی انہیں معبود چلے جانا کتنی بڑی حماقت اور کیسی شدید گمراہی ہے ! (آیت) ” کفرین “۔ کفر۔ یہاں مطلق انکار وتکذیب کے معنی میں ہے۔ اے مکذبین (روح)
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے روبرو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، تو جو لوگ کافر ہیں وہ اس سچائی کی بابت جب وہ ان تک پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے،5۔

5۔ (جو ہم پر مؤثر ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت وحقانیت سے معری ہے) قرآن مجید کے متعلق ماضی کے ” روشن خیال “ کی تشخیص یہی تھی، اور حال کے ” روشن خیال “ کی ” تحقیق “ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، جب وہ یہ کہتا ہے کہ ”’ موافق ماحول اور مناسب فضانے محمد ﷺ کے کلام وپیام کو اس درجہ مؤثر وکامیاب بنادیا۔ “ (آیت) ” ایتنا بینت۔ بینت “۔ میں صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ قرآن مجید کا معارضہ ممکن نہیں۔ حالانکہ سحر جو اور جیسا بھی ہو اس کا معارضہ برابر ممکن رہتا ہے۔ قرآن مجید کی نفس تاثیر شدید سے انکار مشرکین عرب کے لئے بھی ممکن نہ تھا، فقط وہ اس کی توجیہ وتاویل دوسری کرلیا کرتے تھے اور ٹھیک وہی کج نظری آج تک یورپ اور یورب زدہ حلقوں میں متوارث چلی آرہی ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس (شخص) نے قرآن گڑھ لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اسے گڑھ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی بچا نہیں سکتے،6۔ وہ خوب جانتا ہے جو جو باتیں تم قرآن کے باب میں بنا رہے ہو وہی میرے تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اور وہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحیم ہے،7۔

6۔ (وہ مجھے ایسی شدید جسارت پر یقیناً عتاب میں مبتلا کرے گا) (آیت) ” ام یقولون افترہ “۔ یعنی یہ کلام میں نے اپنی طرف سے گڑھا۔ اور پھر اسے منسوب حق تعالیٰ کی جانب کردیا۔ ابھی ایک تشخیص ” سحر “ بیان ہوئی تھی، اب یہ دوسری تشخیص ” افترا “ بیان ہورہی ہے ..... اور افتراء (ارادی واختیاری) کا سحر (اضطراری وغیرارادی) سے بدتر وقبیح ترہونا ظاہر ہی ہے۔ 7۔ (اپنے عام بندوں کے حق میں) (آیت) ” ھو ...... فیہ “۔ اس پر خوب روشن ہے کہ تم روز روشن سے انکار کئے چلے جا رہے ہو .... اس طرح کے اقوال رسول کی زبان سے بار بار اسی لئے ادا کردئیے گئے ہیں کہ مخاطبین کا احساس ذمہ داری بیدار ہو، اور انکار قرآن زبان پر خوب سوچنے سمجھنے کے بعد لائیں۔ (آیت) ” وھو الغفورالرحیم “۔ سو اب بھی اگر اپنی غلطیوں اور گمراہیوں کا اقرار کرلوتو اس کی مغفرت تمہیں اپنے آغوش میں لے لینے کے لئے کھلی ہوئی ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میں رسولوں میں کوئی انوکھا تو ہوں نہیں، تو ہوں نہیں، میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے اور میں تو صرف ایک صاف ڈرانے والا،8۔

8۔ میں اپنے لئے نہ غیب دانی کا مدعی ہوں نہ مافوق الفطرت قوتوں کا۔ جیسے اللہ کے سب بندے، ویسا ہی میں بھی۔ فرق صرف اتنا کہ میرا رشتہ وحی الہی سے جڑا ہوا ہے اور میں توحید اور دین حق کی تبلیغ مامور ہوں۔ (آیت) ” ما ...... الرسل “۔ سلسلہ نبوت و رسالت تو بہت قدیم ہے۔ خدا کو معلوم ہے کہ مجھ جیسے کتنے پیغمبر پہلجے بھی دنیا میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” وما ..... بکم “۔ بغیر وحی الہی مجھے تو نہ اپنا حشر معلوم نہ تمہارا۔ اہل بدعات نے رسول ﷺ کے غیب وغیرہ سے متعلق جو عقیدے گڑھ رکھے ہیں، یہ آیت ان کے حق میں کیسی ضرب کاری ہے۔ (آیت) ” لابکم “۔ لا معنی نفی کی تاکید کے لئے ہے۔ ولا لتاکید النفی المشتمل علی مایفعل بی (بیضاوی)
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

ہوں، آپ کہئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور پھر تم اس سے کفر کررہے ہو، اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے اور ایمان لے آئے، اور تم تکبر ہی میں رہو،9۔ بیشک اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا،10۔

9۔ (تو تمہارا انجام کیا ہوگا) یعنی یقین و اعتقاد کرکے نہ سہی، بطور فرض واحتمال بھی اگر اسے مان لو کہ یہ قرآن واقعی کتاب الہی ہے اور تم اس سے خواہ مخواہ بھاگ رہے ہو، تو ذار سوچو تو کہ کیسے خسارہ میں رہوگے ؟ ، (آیت) ” وشھد ..... مثلہ “۔ قرآن مجید “۔ نے تو (آیت) ” شاھد “۔ بصیغہ واحد کہا، اور صرف ایک ہی متدین وصاحب علم اسرائیلی کی شہادت کو فرض کیا تھا۔ واقعۃ وعملا تو اس سے بڑھ کر معاملہ رہا۔ یعنی ایک نہیں متعدد متدین وصاحب علم اسرائیلی قرآن پر ایمان لا کر رہے بنی اسرائیل کا نام اس لئے لیا کہ وہی ایک ساحب کتاب قوم موجود تھی۔ اور اس قوم کا علم وفضل قریش کو بھی مسلم تھا۔ (آیت) ” شاھد “۔ کی تنوین اظہار عظمت وقدر کے لئے ہے۔ (آیت) ” والتنوین للتفخیم (روح) (آیت) ’ ’ شاھدمن بنی اسرآء یل “۔ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہی لی گئی ہے۔ اور مثلہ سے مراد توریت ہے۔ عن مسروق قال، التوریۃ مثل القران و موسیٰ مثل محمد ﷺ (ابن جریر) وقال الاخرون الشاھد ھو موسیٰ بن عمران (معالم) 10۔ (اور بےانصافی میں تم سے بڑھ کر اور کون ہوگا ؟ ) یہاں اس قانون تکوینی کا اعلان ہے کہ جو لوگ خود اپنی ہدایت نہیں چاہتے، خلوئے ذہن کے ساتھ حقائق پر غور والتفات ہی نہیں کرتے۔ ہدایت ان کے سر زبردستی چپیک بھی نہیں دی جاتی، اور وہ ہدایت سے ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور یہ کافر ایمان والوں کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اگر کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرجاتے، اور جب ان لوگوں کو ہدایت نصیب نہ ہوئی تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ وہی پرانا جھوٹ ہے،11۔

11۔ (اور نبوت کے جھوٹے دعوے جس طرح ہمیشہ سے لوگ کرتے آئے ہیں، اسی طرح کا ایک جھوٹا دعوی یہ بھی ہے) (آیت) ” لو ..... الیہ “۔ روئسائے یہود اور سرداران قریش دونوں فخر وپندار تفوق میں مبتلاء عوام عرب کو اسلام کی طرف بڑھتے دیکھ کر کہتے کہ یہ نیا دین قابل تصدیق ہوتا تو ہم ہی نہ سب سے پہلے اس کی طرف بڑھتے ؟ تو جب ہم اسکی جانب نہیں بڑھے، تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ یہ دین خیر سے خالی ہے، مفسرابن کثیر رحمۃ اللہ علیہنے لکھا ہے کہ اہل سنت یہ فقرہ (آیت) ” لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “۔ ذرا سا بدل کر حضرات صحابہ ؓ سے متعلق کہا کرتے ہیں کہ فلاں عمل اگر اچھا ہوتا تو حضرات صحابہ کرام ؓ نہ اس کی جانب بڑھتے ؟ اور جب انہوں نے سبقت نہ کی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ وہ عمل بدعت ہے اور خیر سے خالی۔ (آیت) ” وقال الذین کفروا “۔ اشارہ رؤساء یہود اور سرداران قریش کی طرف ہے جو اس وقت تک انکار ومخالفت پر قائم تھے۔ من الیھود وقال قتادہ نزلت فی مشرکین مکۃ (معالم) (آیت) ” للذین امنوا “۔ اشارہ عوام عرب کی طرف ہے جو اس وقت تک ایمان لاچکے تھے۔ (آیت) ” واذ ...... قدیم “۔ آج بھی ” روشن خیال “ فرنگی نبوت کو ایک قدیم، متوارث شعبہ جنون ہی کہنے پر مصر ہے۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

حالانکہ اس کے قبل موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی رہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے،12۔ اور نیک لوگوں کے حق میں بشارت ہے ،

12۔ تو یہ بہت قدیم جھوٹ نہیں، بہت قدیم سچ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت جو اپنے وقت میں اپنی قوم کے لئے رہنما اور باعث رحمت تھی، یہ نئی کتاب عین اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ ظلم یہاں بھی کفر کے معنی میں ہے۔ اے کفروا (مدارک) (آیت) ” ومن قبلہ “۔ ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ اے ومن قبل القرآن (معالم) (آیت) ” للمحسنین “۔ محسنین سے مراد صاحب عمل مسلمان ہیں۔ ال مومنین المطیعین (مدارک) (آیت) ” لسانا عرب یا “۔ اس میں اشارہ کلام مجید کی فصاحت ووضاحت بیان کی طرف بھی آگیا۔ کلام عربی کے معنی کلام فصیح کے ہی ہیں۔ اے فصیحا بیناواضحا (ابن کثیر)
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائمر ہے سو ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ تو اہل جنت میں ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو وہ کرتے رہتے تھے،13۔

13۔ جن لوگوں نے صدق دل سے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور پھر اسے چھوڑا نہیں، آخر وقت تک اسی عقیدہ پر قائم رہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں نہ کوئی خوف وہراس ہوگا اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے جنت ہی جنت ہے، چین ہی چین ہے اور یہ سب ان کے حسن عمل کا صلہ ہوگا (آیت) ” ثم استقاموا “۔ اقرار توحید کے بعد پھر اس پر قائم وثابت قدم رہنا اور ہر آزمائش میں پورے اترتے رہنا بہت بڑی چیز ہے اور مدح خاص کی مستحق، عین جس وقت ان سطروں پر نظر ثالث ہورہی ہے (1950 ء ؁ میں) ہندوستان یا بھارت میں آیت کے اس جزء کی قدر خاص طور پر ہورہی ہے۔ سورة حم السجدہ (پ 24) میں بھی یہی مضمون ایک آیت میں آچکا ہے۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہے، اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اسے جنا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑہائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے،14۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری پختگی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس سال کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے اس پر مدوامت دے کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتارہوں جو تو نے مجھ کو اور میرے والدین کو عطا کی ہیں، اور اس پر کہ میں نیک عمل کرتارہوں کہ تو خوش ہو اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صالحیت پیدا کردے، میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں،15۔

14۔ (علی العموم اور اکثر) مدت حمل، 6 ماہ کم سے کم ہے۔ اور مدت رضاعت 2 سال زیادہ سے زیادہ ہے۔ یہ ملا کر کل 30 مہینہ ہوگئے ..... یا یہ حساب رکھا جائے کہ طبیعی مدت حمل 9 مہینہ اور طبیعی مدت رضاعت 21 مہینہ کل اڑھائی برس یوں بھی ہوگئے۔ سورة لقمان (پ 21) میں بھی ایک آیت اسی مضمون کی آچکی ہے۔ (آیت) ” ووصینا ...... احسنا “۔ سورة بنی اسرائیل (پ 15) میں ایک آیت اسی قسم کی گزر چکی ہے۔ (آیت) ” حملتہ ...... وضعتہ کرھا “۔ ماں کی خدمت کی اہمیت خصوصی اس کی ان مصیبتوں سے واضح ہے جو اسے حمل ووضع حمل کے سلسلہ میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ ان حقائق کی طبی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 15۔ حاصل یہ نکلا کہ جو بندہ سعید ہوتا ہے وہ اللہ کے براہ راست حقوق تو ادا کرتا ہی ہے۔ اور ساتھ ہی بندوں کے حقوق بھی درجہ کمال میں پہچانتا ہے۔ اور انہیں بندوں کے حقوق میں ایک بڑا فضل اشرف حق والدین کی اطاعت و خدمت گزاری ہے۔ چناچہ بندۂ سعید دن رات اپنی عبدیت کے اقرار اور عبادت کے عزم واہتمام میں لگا رہتا ہے۔ (آیت) ” اذا بلغ اشدہ “۔ یعنی نشوونما پاکر پورا مرد ہوجاتا ہے۔ مختلف مفسرین وفقہاء نے اس کے لئے مختلف عمریں ٹھہرائی ہیں۔ کسی نے 18 سال، کسی نے 25 سال، کسی نے 30 سال، کسی نے کچھ اور، لیکن سب سے زیادہ محقق قول اس باب میں حسن تابعی کا ہے، جنہوں نے فرمایا کہ جس عمر میں انسان اپنے اعمال کا پوری طرح ذمہ دار ہوجائے۔ اور اس پر حجت قائم ہوجائے۔ بس وہی اس کی عمر کا اشد ہے۔ قال الحسن اشدہ قیام الحجۃ علیہ (جصاص) (آیت) ” وبلغ اربعین سنۃ “۔ قوائے عقلی اپنے حد کمال پر چالیس سال کی عمر میں جا کر پہنچتے ہیں۔ (آیت) ” واصلح لی فی ذریتی “۔ یعنی میری اولاد کو بھی توفیق خردے اور محل صالحیت بنادے۔ اے اجعل ذریتی موقعا للصلاح ومظنۃ لہ (مدارک) اے اجعل الصلاح ساریا فی ذریتی راسخا فیھم (روح) صالح اولاد بھی حق تعالیٰ کی اعلی ترین نعمتوں میں سے ہے ..... بڑے بڑے کاملین ومقبولین اس کی دعائیں مانگتے اور اس کی آرزو کرتے رہتے ہیں۔ اس سے شرماتے نہیں۔ (آیت) ” انی من المسلمین “۔ ” مسلم “۔ کا لقب ان حضرات اہل جنت کے شرف وافتخار کے لئے بالکل کافی ہے۔ یہ اور بڑھ بڑھ کر دعوی نہیں کرتے۔ صرف اپنے تائب اور مسلم ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے اچھے اچھے عمل کو قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے (یہ) اصحاب جنت میں سے (ہوں گے) اس سچے وعدہ (کی بناء) پر جس کا ان سے وعدہ کیا جاچکا تھا،16۔

16۔ (دنیا میں) (آیت) ” وعدالصدق “۔ وہ سچا وعدہ یہی کہ حسن عمل کے اجر بہت بڑے بڑے ہیں۔ (آیت) ” ونتجاوز عن سیاتھم “۔ یہ حقیقت قرآن مجید میں بیسیوں بار آچکی ہے۔ اور یہاں ایک بار پھر اسی کا اعادہ ہے کہ بڑے بڑے کاملین اور مقبولین بھی گناہوں سے خالی نہیں ہوتے ان کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ان کی خطاؤں سے درگزر کردی جاتی ہے۔ اگر سیئات کا وجود ہی سرے سے نہیں ہوتا تو درگزر یا معافی ہی کس چیز سے ملتی ہے ؟ آیت کی زد فرقہ خوارج پر بھی پڑتی ہے۔ جن کے نزدیک ہر مومن کو عملا معصوم ہی ہونا چاہیے۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھے یہ خبردیتے ہو کہ میں (قبر سے) نکالا جاؤں گا درآنحالیکہ مجھ سے پہلے (بہت سی) امتیں گزر چکی ہیں،17۔ اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کررہے ہیں۔ (اور اس اولاد سے کہہ رہے ہیں) ارے تیری کم بختی تو یمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے،18۔ تو (اس پر) وہ کہتا (کیا) ہے کہ یہ تو بس اگلوں کے دھکوسلے ہیں،19۔

17۔ (اور کسی کے بھی مشاہدہ و تجربہ میں یہ مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا نہ آیا) ذکر یہاں کافر اولاد کا ہے۔ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں سے یکساں غافل۔ ایسی اولاد بجائے اطاعت و خدمت والدین کے دعوت اسلام پر الٹ کر یہ جواب دے رہی ہے اور بکمال ” روشن خیالی “ کہتی ہے کہ قیامت کا بس ذکر ہی ذکر سنتے چلے آئے ہیں۔ آج تک تو کسی مردہ کو زندہ ہوتے دیکھا یا سنا نہیں ...... مادیین منکرین آخرت کے دعوے پر خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے اس کا ماحصل سوا اس کے اور ہے کیا۔ (آیت) ” اف لکما “۔ ولا تقل لھما اف۔ پر حاشیہ سورة بنی اسرائیل (پ 15) میں ملاحظہ ہو۔ 18۔ (تو توحید کی طرح تو روز جزاء پر بھی اعتقاد رکھ) (آیت) ” وھما یستغیثن اللہ “۔ نالائق اولاد کے کفر وبے دینی سے گھبرا کر مومن والدین حق تعالیٰ سے فریاد کررہے ہیں۔ ...... نئی نسل سے متعلق کتنے تجربے اس قسم کے پرانی نسلوں کو نہیں ہوتے رہتے ہیں ! 19۔ (حق وصداقت سے خالی) (آیت) ” ھذا “۔ یعنی یہی وعدۂ آخرت و عذاب آخرت۔ (آیت) ” ماھذا الا اساطیر الاولین “۔ یعنی یہ کیا وہی افسانہائے کہن شروع کردیئے ؟..... ٹھیک وہی فقرہ جو آج بھی کتنے ” روشن خیالوں “ کے حلق و زبان سے مذہب کے خلاف نکل رہا ہے۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ انکے حق میں ان لوگوں کے ساتھ (اللہ کا) قول پورا ہو کر رہا جو ان سے قبل جنات اور انسانوں میں گزر چکے ہیں، بیشک یہ لوگ خسارہ میں رہے،20۔

20۔ (جس کا پورا نکشاف جاکر آخرت میں ہوا) (آیت) ” القول “۔ سے مراد یہی وعدۂ گرفت و عذاب ہے۔ (آیت) ” من الجن “۔ جنات پر حاشیے پہلے گذر چکے۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق (الگ الگ) درجے ہیں تاکہ (اللہ) ان کے اعمال کی جزا پوری دے اور ان پر ظلم (کسی طرح کا بھی) نہ ہوگا،21۔

21۔ اور حشر کی عدالت کے فیصلے رتی رتی حق وعدل پر مبنی ہوں گے۔ ظلم، زیادتی، دھاندلی کا گزر ہی کہیں نہ ہوگا۔ (آیت) ” لکل ..... عملوا “۔ ان درجات میں دوزخ اور جنت دونوں کے درجے آگئے۔ (آیت) ” لیوفیھم “۔ ل تعلیل کا ہے۔ یعنی یہ قیام حشر اور ہر ایک کا اس کے حسب استحقاق درجہ سب اسی لئے ہوگا کہ ہر ایک کے حق میں عدل پورا پورا ہوجائے۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس روز کافر لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے کہ تم اپنی لذت کی چیزیں (سب) دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب مزہ اٹھا چکے،22۔ سو آج تمہیں ذلت کی سزادی جائے گی اس لئے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس لئے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے،23۔

22۔ (یہاں تک کہ ان میں منہمک ومستغرق ہو کر اپنے انجام اور اپنے خالق کو بھی بالکل بھلا بیٹھے تھے) (آیت) ” واستمتعتم “۔ استمتاع سے یہاں مطلق استمتاع لذات مراد نہیں کہ وہ ہرگز ممنوع یا مذموم نہیں۔ بلکہ صرف وہ استمتاع لذات مراد ہے جو آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کی طرف لے جائے اور جس میں حلال و حرام کا کوئی امتیاز ہی نہ باقی رہ جائے۔ (آیت) ” اذھبتم ...... الدنیا “۔ یعنی اس طرح اوندھے منہ تم ان دنیوی ومادی لذتوں پر جھکے اور گرے کہ اب عالم آخرت میں عیش سرمدی و راحت ابدی سے لطف اٹھانے کی اپنے میں صلاحیت ہی باقی نہ رکھی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے دلالت زہد پر نکلتی ہے نیز اس طرف اشارہ کہ لذات دنیوی میں توسع موجب خطر ہے۔ مگر مطلقا نہیں بلکہ حب معاصی کے ساتھ۔ 23۔ غرض یہ کہ عذاب جو کچھ بھی ہوگا انسان سب اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہی ہوگا۔ (آیت) ” فی الارض “ کی تصریح سے اشارہ یہ نکلا کہ اللہ کی بنائی اور بسائی ہوئی زمین پر چلنا پھرنا، رہنا بسنا اور پھر زمین کے فاطر و پروردگار سے تکبر وبغاوت کرنا اور بھی کھلی ہوئی ڈھٹائی ہے۔ (آیت) ” تستکبرون “ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہاں استکبار سے مراد استکبار عن الایمان ہے کہ عذاب خلود اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ کبر و استکبار تو بجائے خود ناحق ہمیشہ ہی ہوگا۔ قید کے اضافہ سے مراد یہ ہے کہ یہ کبر خود تمہارے بشری معیار سے بھی بیجا اور بالکل باطل تھا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور آپ (ان سے) ذکر کیجئے قوم عاد کے بھائی کا جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا، ریگ کے تودوں (کی بستی) میں۔24۔ اور ان سے پہلے اور ان سے پیچھے بھی ڈرانے والے گزرچکے ہیں اس بات سے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، مجھے تمہارے لئے اندیشہ ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا ہے،25۔

24۔ (آیت) ” اخاعاد “۔ یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر۔ قوم عاد اور مسکن عاد پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔ (آیت) ” الاحقاف “۔ احقاف کے لفظی معنی ریک کے مستطیل تودوں کے ہیں۔ عرب قدیم کے لوگ ایسے مقامات پر بستیوں اور آبادیوں سے ناآشنا نہ تھے۔ دہنہ عرب جنوب کے اس طویل علاقے کا نام ہے جو شرقا غربا عمان سے یمن تک اور شمالا جنوبا نجد سے حضرموت تک، 3 لاکھ مربع میل کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع خطہ کے مغربی حصہ کی زمین میں سرخ رنگ کی ریگ کی ہے۔ اور یہی علاقہ الاحقاف کہلاتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 25۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ دعوت توحید کوئی نرالی اور انوکھی چیز تو ہے نہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) سے پہلے بھی اس کی تبلیغ بار بار ہوچکی تھی اور اس کے بعد سے بھی برابر ہوتی چلی آئی ہے۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ لوگ بولے تو کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردو، تو ہم پر لاواقع کرو (وہ عذاب) جس کا تم ہم سے وعدہ کررہے ہو، اگر تم سچے ہو،26۔

26۔ اس قوم نے بھی حسب معمول دعوت کی اصل خوبیوں پر غور ہی نہ کیا، بلکہ اس دعوت کو اپنے رواجی پیمانہ سے ناپ کر اس سے بےتحاشا انکار ہی شروع کردیا .... قوم عاد اپنے زمانہ کے ایک بڑے زبردست تمدن کی مالک تھی، اس نے وہی جواب دیا، جو آج بھی ” مہذب “” ومتمدن “ قوموں کی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ (پورا) علم تو بس اللہ ہی کو ہے میں تو تمہیں وہی پہنچاتا ہوں جس کا پیام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے البتہ تمہیں کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کررہے ہو،27۔

27۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم عجیب الٹے پلٹے مطالبے مجھ سے کررہے ہو، میرا کام تو صرف عقائد صحیح کی تبلیغ ہے یعنی توحید، رسالت وعقیدۂ معاد تو ان کی صداقت ومعقولیت پر مجھ سے جتنی چاہو گفتگو کرلو۔ باقی مجھے یہ چیلنج دے کر کہ اگر میں سچا ہوں تو تمہارے سر پر ابھی قیامت لاکھڑی کروں، اس سے تو تم اپنی ہی بےمغزی وکج فہمی کا مظاہرہ کررہے ہو۔ (آیت) ”’ انما العلم عند اللہ “۔ یعنی قیامت کے متعلق تفصیلات وجزئیات کا علم کہ وہ کب آئے گی، کس وقت آئے گی وغیرہا، تو یہ تو صرف حق تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ (آیت) ” قوما تجھلون “۔ جہل وجہالت کا اردو میں ایک مفہوم یہ بھی چلا ہوا ہے کہ وہ ناخواندگی کا مراد اور حرف شناسی کی ضد ہے۔ عربی کے ” تجھلون “ کو اس مفہوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ عربی میں اس کا مفہوم ہے نادانی اور بےمغزی کی باتیں کرنا اور ضد یا نفسانیت کی بناء پر قبول سے اغماض کرنا۔
Ayahs 46:24–25

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا نہیں بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے یعنی ایک آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

وہ ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے ہلاک کردے گی چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دیکھنے کو نہیں رہا، ہم مجرموں کو یوں ہی سزا دیا کرتے ہیں،28۔

28۔ قوم عاد کی آخری تباہی کا ذکر ہے کہ پہلے تو وہ بدلی سی اٹھتی ہوئی دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سمجھے کہ بارش کا بادل ہے۔ کچھ ہی دیر بعد معلوم ہوگیا کہ نہیں وہ تو عذاب کا طوفان ہے۔ (آیت) ” اودیتھم “۔ وادی کے لفظی معنی اس نشیب کے ہیں جس میں پانی جمع ہوجائے۔ (آیت) ” تدمر ..... مسکنھم “۔ یعنی نہ کوئی انسان زندہ بچا نہ کوئی حیوان اور نہ ان کی وہ عالی شان آراستہ پیراستہ عمارتیں ہی باقی رہیں۔ صرف اجڑے ہوئے اور گرے پڑے مکان اور کھنڈر باقی رہ گئے۔ (آیت) ” کذلک .... المجرمین “۔ عام قانون الہی کا بھی اعلان کردیا گیا کہ یہ غیبی ہلاکت عادی مجرموں اور نافرمانوں ہی کے نصیب میں آتی ہے اور اس میں کوئی تخصیص قوم عاد کی نہ تھی۔ جو قوم بھی نافرمانی کرے گی وہ اسی سزا کی مستحق ہوجائے گی۔ (آیت) ” بامر ربھا “۔ اس تصریح نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ آندھی میں خود کوئی اختیار نہ تھا، نہ کوئی الگ دیوتا ہوا اور آندھی کا ہے بلکہ یہ جو کچھ بھی پیش آیا، تمامتر پروردگار عالم ہی کے حکم سے پیش آیا۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو قدرت دی تھی وہ قدرت تم لوگوں کو نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دئے تھے، سو نہ ان کے ان کان ان کے ذرا بھی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل جب کہ وہ لوگ اللہ کی آیتوں کے خلاف ہٹ کرتے رہے اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی کیا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا،29۔

29۔ یعنی جب ان کی، جو تم سے کہیں زیادہ صاحب اقتدار ومالک جاہ وحشم تھے۔ کوئی عقلی تدبیر اور مادی قوت انہیں اس انجام سے نہ بچا سکی تو تم کب تک عذاب الہی سے بچے رہ سکتے ہو۔...... چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کا عرب، قوم عاد وقوم ثمود کے آغاز و انجام سے خوب واقف تھا۔ اس لئے اس کے سامنے ان قوموں کی مثالیں خاص طور پر مؤثر تھیں، (آیت) ” ولقد ..... فیہ “۔ یعنی جو تہذیبی وتمدنی عروج انہیں حاصل تھا وہ تمہیں کہاں نصیب۔ (آیت) ” وجعلنا ..... افئدۃ “۔ یعنی ہر قسم کی جسمی وعقلی صلاحیتیں انہیں حاصل تھیں۔ اے الات الدرک والفھم (مدارک) آیت سے بقاعدۂ عبارۃ النص یہ بھی نکلا کہ انسان کو مادی وعقلی جتنی بھی صلاحیتیں اور قوتیں عطا ہوئی ہیں، وہ اسی لئے ہیں کہ انہیں رضائے الہی کے کاموں میں لگایا جائے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے گردو پیش کی (اور) بستیوں کو بھی غارت کردیا اور (اپنی) نشانیاں بھی پھیر پھیر کر بیان کردی ہیں، کہ شاید وہ باز آجائیں،30۔

30۔ (کفر وشرک اور تکذیب رسول اللہ ﷺ سے) (آیت) ” ولقد ...... القری “۔ یہ اہلاک اسی جرم کفر وتکذیب کی پاداش میں ہوا تھا۔ (آیت) ” ما حولکم من القری “۔ اطراف عرب کی مشہور متمدن وہلاک شدہ قومیں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، وغیرہ تھیں، جو یمن، عمان، عراق، عرب، شام و فلسطین میں آباد تھیں، لکم میں ضمیر جمع مخاطب سے مراد اہل عرب ہیں، جو قرآن مجید کے مخاطب اول تھے۔ (آیت) ” وصرفنا الایت “۔ یعنی ان کے ہلاک کرنے سے قبل بطور فہمائش وتنبیہ انہیں بار بار آگاہ بھی کیا گیا۔ ایات کے تحت میں ہر قسم کے دلائل و شواہد آگئے۔ اے کر رنا علیھم الحجج و انواع العبر (مدارک) اے الحجج والدلائل والعظات (بحر) (آیت) ” لعلھم یرجعون “۔ مقصود یہ تھا کہ وہ لوگ اپنے کفر وشرک سے باز آجائیں، پھر بھی وہ باز نہ آئے۔ انہیں حرکتوں پر مصر رہے۔ اور بالآخر ہلاک ہوئے۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

سو ان کی مدد ان لوگوں نے کیوں نہ کی جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، تقرب کے لئے وہ تو الٹے ان سے غائب ہوگئے، اور یہ محض ان کی تراشی ہوئی اور گڑھی ہوئی بات تھی،31۔

31۔ یعنی کہیں واقع میں وہ شفیع یا معبود یا صاحب تصرف تھوڑے ہی تھے۔ یہ تو محض جاہلی مذہب والوں نے افسانے گڑھ رکھے تھے۔ افک سے اس مشرکانہ عقیدہ کی کامل تردید ہوگئی کہ خدائی بھی کوئی تدریجی درجہ بندی کی چیز ہے۔ اور ایک معبود اعظم کے ماتحت چھوٹے چھوٹے دیوی، دیوتا اور بھی ہوتے ہوں ! (آیت) ” الذین ...... الھۃ “۔ یعنی انہوں نے ان ہستیوں کو معبود اس غرض سے تراش رکھا تھا کہ وہ آڑے وقت کام آئیں گی۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور (اس وقت کا ذکر کیجئے) جب ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے جو قرآن سننے لگے تھے غرض جب وہ لوگ آپ کے پاس آپہنچے تو کہنے لگے کہ خاموش رہو،32۔ پھر جب وہ ختم ہوچکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس ڈرانے کیلئے گئے،33۔

32۔ (اور غور اور ادب سے اس کلام کو سنو) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے قیام مکہ کے زمانہ میں طائف تبلیغ دعوت کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اور بظاہر وہاں سے بالکل ناکام اور شکستہ خاطر واپس آرہے تھے۔ شب کے وقت نخلہ میں آپ ﷺ قرآن مجید نماز میں بآواز بلند پڑھ رہے تھے کہ جنات کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ قرآن سننے لگے۔ ملاحظہ ہوں، سورة الاعراف (پ 8) کے حاشیے۔ (آیت) ” حضروہ “۔ یعنی قرآن پڑھے جانے کے موقع پر آگئے۔ 33۔ یعنی قرآن کی اہمیت مطلع کرنے اور اس کے احکام کی نافرمانی کے نتائج سے خبردار کرنے کے لئے۔
Ayahs 46:30–31

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے اے ہمارے قوم والو، ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہمارے قوم والو، کہنامانو اللہ کی طرف بلانے والے کا، اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں محفوظ رکھے گا عذاب درد ناک سے،34۔

34۔ آیت اس باب میں تو صاف وصریح ہے کہ جنات ایمان لے آنے کے بعد عذاب الہی سے بچ جائیں گے۔ لیکن اس باب میں ناطق وصریح نہیں کہ ایمان لانے پر جنت میں بھی داخل ہوجائیں گے۔ ان کے دخول جنت کے باب میں خاموشی ہے۔ امام ابوحنفیہ (رح) سے غایت احتیاط کی بناء پر جنات کے دخول جنت کے بارے میں سکوت وتوقف منقول ہے۔ قال ابوحنیفۃ لاثواب لھم الالنجاۃ من النار لھذہ الایۃ (مدارک) وقال النسفی فی التیسیر توقف ابوحنیفۃ فی ثواب الجن فی الجنۃ ونعیمھم لانہ لااستحقاق للعبد علی اللہ تعالیٰ ولم یقل بطریق الوعد فی حقھم الاالمغفرۃ والا جارۃ من العذاب واما نعیم الجنۃ فموقوف علی الدلیل (روح) البتہ دوسرے ائمہ نے جنات کے مستحق جنت ہونے کو بلاتامل تسلیم کرلیا ہے۔ قال النووی فی شرح مسلم والصحیح انھم یدخلونھا یتنعمون فیھا بالاکل والشرب وغیرھما وھذا مذھب الحسن البصری ومالک بن انس والضحاک وابن ابی لیل وغیرھم (روح) وقال مالک ابن ابی لیل وابو یوسف (رح) ومحمد (رح) رحمہم اللہ لہم الثواب والعقاب وعن الضحاک انھم یدخلون الجنۃ ویاکلون ویشربون (مدارک) (آیت) ” الی الحق “۔ الحق سے مراد اصول دین ہیں۔ یعنی عقائد اساسی، اے فی الاعتقادات (ابن کثیر) (آیت) ” الی طریق مستقیم “۔ طریق مستقیم۔ سے مراد تفصیلات شریعت ہیں۔ یعنی احکام عبادات، ومعاملات وغیرہا۔ اے فی العملیات (ابن کثیر) (آیت) ” داعی اللہ “۔ سے مراد رسول اللہ ﷺ سے ہونا ظاہرہی ہے۔ قرآن مجید بھی مراد ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” من ذنوبکم “۔ مراد اس سے بعض گناہ نہیں بلکہ کل گناہ ہیں۔ من صلۃ اے ذنوبکم کلھا (معالم)
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا، تو وہ زمین میں کہیں بھی (اللہ کو) نہیں ہراسکتا، اور نہ اللہ کے سوا کوئی حامی ہوگا یہی لوگ صریح گمراہی میں (پڑے) ہیں،35۔

35۔ (کہ باوجود وضوح حق و قیام دلائل کے داعی حق کی بات پر کان نہیں دھرتے اور اس کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں)
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے (ذرا بھی) نہ تھکا، وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں نہیں بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے،36۔

36۔ (تو وہ وقت مناسب پر مردوں کے زندہ کرنے پر قادر کیوں نہ ہوگا ؟ ) یعنی امکان بعث تو قدرت حق کے مشاہدہ آثار سے بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ’ ’ ولم یعی بخلقن “۔ یہ تردید ہے اسی یہود اور مسیحی عقیدہ کی کہ خدا چھ روز میں آفرینش کائنات کے بعد تھک گیا تھا، اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” بلی ..... قدیر “۔ یہ تردید ہے مشرک قوموں اور جاہلی فلسفیوں کے اس زعم کی کہ خدا موجود تو ہے لیکن اس کی قدرت محدود ہے اور اس کے اختیارات ایک خاص درجہ اور حد سے زیادہ نہیں۔ یورپ میں ایک گروہ مؤحدون (DEISTS) کے نام سے گزرا ہے۔ یہ لوگ وجود باری کے تو قائل تھے، لیکن جزاء وسزائے آخرت اور رسالت وغیرہ کے منکر۔ قدیم قوموں میں بھی یہ گمراہی اچھی خاصی شائع رہی ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے پوچھا جائے گا کہ) یہ حقیقت ہے یا نہیں، تو وہ کہیں گے کہ بیشک ہے ہم کو قسم ہے ہمارے پروردگار کی (تب) ارشاد ہوگا کہ اچھا تو چکھو عذاب اپنے کفر کے بدلہ میں،37۔

37۔ اور اس کفر میں آخرت و جہنم کا انکار بھی داخل ہے۔ (آیت) ” ھذا “۔ یعنی یہ عذاب جس کا اب وقوع ہورہا ہے۔ (آیت) ” الیس ھذا بالحق “۔ یعنی حقیقت سے دو چار ہونے کے بعد ابھی تمہارے وہمی دلائل قائم ہیں ؟
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

آپ صبر کیجئے جیسا کہ ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور ان لوگوں کے حق میں جلدی نہ کیجئے،38۔ جس روز یہ دیکھ لیں گے اس (عذاب) کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو اس وقت (انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ) گویا دن بھر میں کل ایک گھڑی رہے ہیں (یہ اللہ کی طرف سے) تبلیغ ہے، سو برباد تو وہی ہوں گے جو نافرمان ہوں گے،39۔

38۔ (انتقام الہی کی) امت اسلامیہ کی نصرت کے خیال سے آپ کے دل میں تقاضا طبعا پیدا ہوتا تھا کہ مخالفین معاندین پر گرفت اگر جلد ہوجاتی تو اچھا تھا۔ (آیت) ” فاصبر ...... الرسل “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ صبر بدرجہ کمال انبیاء کرام کی خصوصیات میں سے ہے۔ انبیاء کی سی عالی ہمتی نہ کسی غیر نبی کی قدرت میں ہے اور نہ وہ اس پر مامور ہے۔ (آیت) ” اولوالعزم من الرسل “۔ من تبعیضیہ بھی وسکتا ہے۔ اس صورت میں مراد منتخب مشاہیر رسل سے ہوگی، اور اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ مفسرین کی ایک بڑی جماعت اسی ترکیب کی طرف گئی ہے۔ وعن عطاء الخراسانی والحسن بن الفضل والکلبی ومقاتل وقتادہ وابی العالیہ وابن جریج والیہ ذھب اکثر المفسرین ان من للتبعیض فاولوا العزم بعض الرسل (علیہم السلام) واختلف فی عدتھم وتعیینھم علی اقوالہ (روح) وقد اختلف فی تعداد اولی العزم علی اقوال (ابن کثیر) اور جائز ہے کہ من کو بیانیہ بھی سمجھا جائے۔ اس صورت میں اولوالعزم کا اطلاق سارے ہی انبیاء پر ہوگا۔ محققین کی ایک مختصر تعداد نے اسی ترکیب کو صحیح مانا ہے۔ اوللبیان فیکون اولوا العزم صفۃ الرسل کلھم (مدارک) ومن بیانیۃ فیکون اولوالعزم صفۃ جمیعھم والیہ ذھب ابن زید واجبائی وجماعۃ (روح) وقد یحتمل ان یکون المراد باولی العزم جمیع الرسل فتکون من لبیان الجنس (ابن کثیر) قال ابن زید کل الرسل کانوا اولی العزم لم یبعث اللہ نبی ا الاکان ذاعزم وحزم ورأی و کمال عقل وانما ادخلت من التجنیس لاللتبعیض (معالم) 39۔ (اور اتمام حجت کے بھی نافرمان ہی رہیں گے) (آیت) ” کانھم ..... نھار “۔ یعنی مشاہدہ عذاب آخرت کے وقت دنیوی زندگی کی طویل سے طویل مدت بھی چشم زدن کی سی معلوم ہوگی۔ (آیت) ” بلغ “۔ یعنی رسولوں کی معرفت اتمام حجت ہوچکا۔ (آیت) ” الفسقون “۔ یہاں مراد محض گنہگار نہیں، بلکہ دائرہ اسلام سے خارج رہنے والے کافر مراد ہیں۔ جن پر تبلیغ حق کا کوئی اثر ہی نہ ہوا۔ اے المشرکون الخارجون عن الاتعاظ بہ والعمل بمواجہ (مدارک) فاسق کا اصطلاحی مفہوم، اسے کافر سے ممتاز کرنے والا تو بہت بعد کا ہے، قرآن مجید میں اور اپنے وسیع وعمومی مفہوم میں آیا ہے۔ مطلق نافرمان کے مرادف۔