46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 46:1–10

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے حکمت کے ساتھ اور ایک میعاد معین کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے وہ (اس سے) منہ پھیر لیتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

فرمائیے دیکھو تو ! جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ، مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا یا ان کی آسمانوں میں کوئی شراکت ہے ؟ اس سے پہلے کی کوئی کتاب ہو تو میرے پاس لاؤ یا اگر تم سچے ہو تو کوئی پہلے سے نقل شدہ مضمون لاؤ

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور اسے ان کے پکارنے کی خبر ہی نہ ہو

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ (بت) ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے انکار کریں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ حق کے بارے میں جب وہ ان کے پاس آچکا ، کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو (پیغمبر نے اپنی طرف سے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرمادیجئے کہ اگر میں نے اسکو (اپنی طرف سے) بنایا ہو تو پھر تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے ، وہ خوب جانتا ہے تم اس (قرآن کے) بارے میں جو باتیں بناتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے ، اور وہ بخشنے والے مہربان ہیں

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ میں کوئی نیا پیغمبر تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا (سلوک) ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے اور میرا منصب تو صاف صاف (انجام بد سے) ڈرانا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

فرما دیجئے دیکھ لو ! اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی (کتاب) پر گواہی دے پھر ایمان لے آئے ، اور تم تکبر ہی میں رہو۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتے

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں ان سے کہیے کہ اللہ کے علاوہ جن کو تم پکارتے ہو جن کی عبادت کرکے ان سے نفع نقصان کا اندیشہ رکھتے ہوذرا یہ تودکھا کہ انہوں نے زمین میں کیا کچھ پیدا کیا ہے یا ان کی کوئی آسمان میں شراکت ہے اگر عقلا ثابت نہیں کرسکتے تو کسی پہلی کتاب سے ثابت کرو کہ کسی بھی آسمانی کتاب میں اس کی کوئی دلیل ہو یا کسی اللہ کے نبی اور رسول کے قول سے یہ ثابت ہوسکتا ہو تو بتاؤ تمہارے دعوے میں کیا صداقت ہے۔ دلائل کی تین اقسام۔ دلائل کی تین قسمیں ہیں اول کتب سماوی کہ اللہ نے بات کسی کتاب میں نازل فرمائی ہو یا اثرۃ من علم کوئی علمی اثر یا ذخیرہ یقینا اس بارے میں وہی علم معتبر ہوگا جو کسی نبی سے منقول ہو اور یا پھر عقلا ثابت کیا جائے جب کفار اپنی بات ان تینوں طریقوں سے ثابت نہیں کرسکتے تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس سے بڑی گمراہی تو کوئی ہو نہیں سکتی کہ اللہ کو چھوڑ کر جن معبودان باطلہ کو یہ پکارتے ہیں وہ تو قیامت تک بھی ان کی پکار سن ہی نہیں سکتے بلکہ انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ کوئی انہیں پکاررہا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو وہ بجائے دوست ان کے دشمن ثابت ہوں گے اور ان کے عبادت کرنے کا انکار کردیں گے۔ آج جب ان پر اللہ کی واضح آیات پیش کی جاتی ہیں اور ان کفار کے سامنے جب حق کی بات کی جاتی ہے تو کہہ دیتے ہیں یہ تو جادو ہے صاف پتہ چل رہا ہے یاپھرکہتے ہیں کہ آپ نے از خود یہ باتیں جوڑ کر اللہ پر بہتان باندھا ہے ان سے کہیے کہ اگر میں نے معاذ اللہ بہتان باندھا ہے تو تم مجھے اللہ سے نہیں بچاسکتے کہ میں تمہاری خاطر اللہ پر بہتان باندھوں کہ یہ قانون ہے نبوت کا جھوٹا مدعی ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے۔ کذاب ہمیشہ خوار ہوتا ہے۔ اللہ کریم اس بات پر مہلت نہیں دیتے کہ مخلوق کی گمراہی کا سبب بنتا رہے اور جب آپ کو ہر آن نصرت الٰہی حاصل ہے اور آپ کے دشمن خوار ہو رہے ہیں تو یہ نبوت صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اور جن باتوں میں لگے ہو وہ بھی اللہ سے چھپی ہوئی نہیں میرے اور تمہارے درمیان وہی بہتر گواہ ہے کہ اگر تم کہو ہم بھی ہلاک تو نہیں ہوئے لہذا ہم سچے ہیں تو یہ درست نہیں کہ اللہ کی کتاب تمہارے عقائد باطلہ کو رد فرمارہی ہے ہاں یہ الگ بات کہ اگر توبہ کرلو تو وہ بخشنے والا ہے اور معاف کردینے والا ہے۔ اور وہ رحیم ہے کہ کافر بھی اسکی رحمت عامہ سے اپنے کفر کے باوجود حیات دنیا سے فائدہ اٹھاتا ہے آپ فرمادیجئے کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں ہوں یا کوئی عجیب بات نہیں مجھ سے پہلے اللہ کے نبی اور رسول تشریف لائے یہ حقیقت تم خوب جانتے ہو اور نہ ہی میرا غیب دانی کا دعوی ہے کہ میں اپنی طرف سے کچھ کہہ دوں کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارانجام کیا ہوگا بلکہ یہ سب کچھ جو میں کہتا ہوں اللہ کریم وحی کرکے مجھے بتلاتے ہیں اور میرامنصب یہ ہے کہ میں تمہیں آنے والے مشکل وقت سے بروقت مطلع کردوں۔ نبی کریم اور علم غیب۔ یہ مسئلہ بڑا معرکوں میں بیان کیا جاتا ہے حالانکہ علماء حق کے نزدیک ایسا کہنا نبی کریم غیب نہ جانتے تھے یا آپ کی ذات کو موضوع بحث بنانا ہرگز ہرگز جائز نہیں اور سوء ادب سے ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہے یہ حق ہے کہ آپ ذات وصفات میں اللہ کے شریک نہیں نہ کوئی اور ہے اور جس قدر علوم مخلوق کو عطا ہوئے ان سب سے زیادہ اپ کو عطا ہوئے یہاں جو ارشاد ہوا اس کا مفہوم بھی یہی ہے۔ میرایہ دعوی نہیں کہ میں غیب دان ہوں یہ تو میں اپنے بارے بھی نہیں کہتا کہ کل کیا پیش آئے ہاں وہ سب کہتا ہوں جس کا علم اللہ عطا فرماتا ہے ان سے کہیے کہ دیکھ لو کہ اگر یہ قرآن من جانب اللہ ہے اور تم اس کا انکار کر رہے ہو تو انجام کیا ہوگا ، اور یہ یقینا ہے کہ عقلا اور نقلا بھی ثابت ہوچکا ہے اور بنی اسرائیل میں طبع سلیم رکھنے والے علماء جو بھی پہلی کتابوں کا علم رکھتے تھے ایمان لے آئے اور اس کی صداقت پہ شہادت دے رہے اور تم باوجود اپنی جہالت اور بےعلمی کے محض اکڑ رہے ہو اور تکبر کرکے اس کا انکار کر رہے ہو تو اس کی سزابڑی سخت ہے کہ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت سے محروم فرمادیتے ہیں ۔
Ayahs 46:11–20

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ چلے جاتے اور جب ان لوگوں کو اس (قرآن) سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو یہ کہیں گے یہ پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی جو راہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب جو عربی زبان میں ہے اس کی تصدیق کرتی ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور (خلوص سے) نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنائے

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

اور بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ لوگ جنت کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے بڑی مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف سے اس کو جنا اور اس کا پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس ماہ میں (پورا) ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ خوب جوان ہوجاتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ آپ نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمائے ہیں ، ان کا شکر ادا کروں اور یہ کہ نیک کام کروں جن کو آپ پسند فرمائیں اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا فرمادیجئے۔ میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں فرمانبردار ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ہم قبول فرمائیں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے۔ یہ اہل جنت میں ہوں گے۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ میں تم سے بیزار ہوں ، کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا اور یقینا بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ۔ اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کر رہے ہیں ، (کہتے ہیں) تیرا ناس ہو ! ایمان لے آ ، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی امتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں اللہ کا وعدہ پورا ہو کررہا۔ بیشک یہ خسارہ میں رہے

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کو ان کے اعمال کی وجہ سے الگ الگ درجے ملیں گے۔ غرض یہ کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے کہ ہم تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں حاصل کرچکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے ۔ سو آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس لئے کہ تم دنیا میں ناحق کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے

آیات 11 تا 20 اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت کے ساتھ ان کی دنیا کی کامیابی بھی اللہ کی بہت بڑی رحمت تھی یہ کتاب جو واضح عربی زبان میں ہے بھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور خود اس کا نزول اس کی پیش گوئی کو سچا ثابت کرتا ہے یہ کتاب ظالموں اور کفار کو کفر کے انجام بد سے خبردار کررہی ہے محسنین اور ان کی تعریف۔ اور خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جو خلوص سے اللہ پر ایمان لاکر اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مانا اور پورے خلوص کے ساتھ اپنی تمام امیدیں اس کی ذات سے وابستہ کردیں پھر عمر بھر ایمان وعمل پر استقامت کا مظاہرہ کیا یعنی اس پر جمے رہے ایسے لوگوں کونہ عذاب کا ڈر اور خطرہ ہوگا اور نہ دنیا کے چھوٹنے کا افسوس بلکہ وہ تو خوش وخرم جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کے ایمان وعمل پر اللہ کا احسان ہوگا۔ اور اس کی جزا ہوگی ہم نے حقوق اللہ کے ساتھ بنی آدم کو حقوق العباد کا حکم بھی دیا جس میں سب سے بڑھ کر والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے بالخصوص ماں کہ اس نے حمل پیدائش اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے تکلیف برداشت کی ۔ حمل اور رضاعت کی مدت۔ یہاں سے استدلال کیا گیا ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے تو دوسری جگہ دودھ چھڑانے کو دوسال پر متعین فرمایا گویا حمل کی کم ازکم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے اس سے کم مدت کا پھر پورا اور مکمل بچہ نہ ہوگا ، حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کی تعیین نہیں کی گئی کئی کئی سال بھی ہوسکتی ہے اور دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال امام ابوحنیفہ نے مزید چھ مال فرمایا مگر اس وجہ سے کہ اگر دو سال کا بچہ بھی ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہ لے سے اور کمزور وغیرہ ہو تب ورنہ رضاعت سب کے نزدیک دو سال کے اندرثابت ہے اگر اس عمر کے بعد کسی بچے نے کسی دوسری ماں کادودہ پی لیا تورضاعت ثابت نہ ہوگی۔ حتی کہ وہ بچہ بلوغت کو پہنچتا ہے (بلوغت کی عمومی عمراٹھارہ سال شمار کی گئی ہیی) اور عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے زندگی کے تجربات اسے سبق سکھاتے ہیں اور پھر چالیس کا ہوجاتا ہے جو عمر کی پختگی کا زمانہ کہ جوش جوانی کی جگہ سمجھ بوجھ سے کام لینے لگتا ہے تو اسے والدین کی عظمت اور اولاد کو پالنے کی مشقت کا احساس شدید ہوتا ہے کہ اے رب کریم مجھے توفیق ارزاں کر کہ تو نے جس قدر نعمتیں عطا کی ہیں اور ان کا شکر ادا کرسکوں اور جو انعامات میرے بزرگوں اور والدین پر فرمائے ان کا بھی اور مجھے ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما کہ جن کے باعث تیری رضا نصیب ہو اور میرے لیے میری اولاد کو نیک اور صالح بنادے میں آپ کے حضور تمام خطاؤں سے توبہ کرتا ہوں اور میں آپ کا اطاعت گزار ہوں اور فرمانبردار ہوں۔ ابوبکرصدیق ؓ قرآن حکیم سب انسانوں کے لیے ہے مگر مفسرین کرام کے مطابق اس آیہ مبارکہ کے مصداق اول ابوبکر صدیق ہیں کہ اٹھارہ برس کی عمر میں آپ کے ہمرکاب تجارتی قافلے میں سفر کیا گرویدہ ہو کر ہمیشہ ساتھ رہے ، جب آپ ﷺ نے دعوائے نبوت فرمایا تو عمر 38 برس تھی سب سے پہلے ایمان لائے اور آپ کے والدین بھی ایمان لائے اور ساری اولاد بھی حتی کہ اولاد کی اولاد بھی آپ کی نسل میں چار پشت صحابیت رسول ﷺ ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیکیاں ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتے ہیں یہ لوگ جنت کے باسی ہیں یہ اس وعدے کی سچائی کو پائیں گے جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ کیا جاتا تھا اور ایسے بدنصیب جو مسلمان والدین کے گھر پیدا ہو کر بھی گمراہ ہوجائیں ( اور یہ مصیبت آج کل پھر عرام ہے اللہ اس سے پناہ دے) اور والدین کے سمجھانے پر انہیں جھڑک دیں اور کہیں کہ ہمیں ایسی باتوں کو ماننے کے لیے کہتے ہو کہ ہم دوبارہ زندہ ہوں گے ۔ صدیاں گزرچکیں بھلا مرکر کوئی زندہ ہوا ہے کبھی۔ اور والدین فریادیں کر رہے ہوں کہ اللہ کے لیے مان لے اور جان لے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور ضرور سچ ثابت ہوگا اور وہ کہے یہ کہنے کی باتیں ہیں اور پہلوں کی اڑائی کہانیاں اور محض قصے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن پر عذاب کا وعدہ حق ثابت ہوگا پہلی امتوں میں بھی خود وہ انسانوں میں ہوں یاجنات میں سے یہ سب خسارے میں رہنے والے ہوں گے ہر ہرقوم اور ہر ہرفرد کے لیے اپنا اپنا درجہ ہوگا ، عذاب وثواب دونوں میں جس درجے کے اعمال وہ کرے گا ان کے مطابق بدلہ دیاجائے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی۔ کافر کی نیکی کا اجر۔ اور جس روز کافروں کو جہنم میں لایاجائے گا تو وہ کہیں گے ہم نے نیکیاں بھی تو کی تھیں جیسے ضرورت مند کی مدد یاہسپتال اور کنویں وغیرہ بنوادیے تو ارشاد ہوگا کہ تمہیں تمہاری نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا گیا تھا کہ تم آخرت کے تو قائل ہی نہ تھے کہ آخرت کی نیت سے نیکی کرتے تم نے کی بھی دنیا ہی کے لیے تھیں دولت کی غرض یاشہرت یا کسی مصیبت سے بچنے کے لیے سو وہ تمہیں وہاں بدلہ مل چکا اور تم اس سے فائدہ اٹھاچکے اب تمہیں ذلت کے عذاب میں مبتلا رکھاجائے گا کہ تم دنیا میں تکبر کیا کرتے تھے اور اللہ کی زمین پر ناحق اکڑتے تھے اور اللہ کی نافرمانی کیا کرتے تھے لہذا نافرمانی کا عذاب اور تکبر کے بدلے ذلت مسلط کی جائے گی۔
Ayahs 46:21–26

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے (قومی) بھائی (ھود علیہ السلام) کا ذکر کریں جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا (جو) احقاف (ایسی جگہ جہاں ریت کے خمدار تودے ہوں) میں (رہتے تھے) اور ان سے پہلے اور ان سے پیچھے بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے (جو کہتے تھے) کہ تم صرف اللہ کی عبادت کیا کرو۔ بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ کیا تم ہمارے پاس اس ارادے سے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیردو۔ اگر سچے ہو تو جس (عذاب) کا ہم سے وعدہ کرتے ہو وہ لے آؤ

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بیشک قورا علم اللہ کے پاس ہے اور مجھے تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا وہ تم کو پہنچا رہا ہوں و لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ لوگ نری جہالت کی باتیں کرتے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو کہنے لگے ، یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ (نہیں ! ) بلکہ یہ وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔ آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کردے گی۔ چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ سوائے ان کے گھروں کے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ہم گنہگاروں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

یقینا ہم نے ان لوگوں کو ایسے کاموں میں قدرت دی تھی جن میں تم لوگوں کو قدرت نہیں دی گئی۔ اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل ، چونکہ وہ لوگ اللہ کی آیات کا (ضد سے) انکار کرتے تھے۔ اور جس (عذاب) کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

آیات 21 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر تم اسی شرک میں مبتلا رہے تو مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے وہ کہنے لگے کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم سے ہمارے معبودوں کو چھڑادیں۔ انعامات باری کو دوسروں کی طرف منسوب کرکے ان کی اطاعت میں لگارہتا ہے۔ ہر انسان کو قدرت کی طرف سے رزق و روزی صحت عزت وغیرہ سب نعمتیں پہنچتی ہیں مگر اللہ کی معرفت سے محرومی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں دوسروں کی طرف منسوب کرکے ان کی غلامی کرتارہتا ہے جبکہ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی معرفت عطا فرماتے ہیں ۔ چناچہ انہیں بڑا دکھ ہوا کہ ان کے زعم باطل میں تو بتوں سے انہیں بہت فوائد مل رہے تھے اور یہی سوچ اہل مکہ کی تھی چناچہ انہوں نے برہم ہو کر کہا کہ اگر آپ اپنی بات میں سچے ہیں تو اس یوم عظیم یا روز قیامت کو رہنے دیں اور ہم پر ابھی سے عذاب لے آئیں یہی دعا اہل مکہ نے بھی کی تھی مگر جواب ارشاد ہوا کہ اس حال میں عذاب نہ اتاریں گے کہ آپ ﷺ بھی موجود ہوں چناچہ آپ کی نبوت کو دوام ہے تو ہمیشہ کے لیے اجتماعی عذاب دنیا سے ٹل گیا۔ ہاں جب آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی تو جزوی عذاب اہل مکہ پہ آیاقحط پڑے بدر میں ہلاک ہوئے احد میں شکست کھائی خندق میں بےآبرو ہوئے اور بالا آخر مکہ مکرمہ فتح ہوکرمشرکین کا خاتمہ ہوگیا تو ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نزول عذاب کا وقت یا قیام قیامت کا وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ مجھے نہ تو عذاب نازل کرنا ہے نہ قیامت کا حساب مجھے لینا ہے کہ مجھے وقت کی خبر ہو وہ اللہ کا اپنا کام ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ اسے کب ایسا کرنا ہے ہاں میرا کام اللہ کا حکم اور اس کا پیغام تم تک پہنچانا ہے سو میں کرچکا مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم نرے جاہل ہو اور غیرمتعلقہ سوال کرتے ہو اور جب نہ مانے تو عذاب آگیا انہیں دور سے بادل سادکھائی دیتاتھاجوان کی وادیون کی طرف بڑھ رہا تھا بہت خوش ہوئے کہ یہ عذاب سے ڈراتے تھے حالانکہ صحرا میں ہم پر بادل آرہا ہے جو برسے گا اور خوب آبادی ہوگی لیکن ایسانہ تھا یہ تو وہ عذاب تھا جس کی ان لوگوں کو جلدی پڑی ہوئی تھی اس میں بہت سخت آندھی تھی اور وہ دردناک عذاب تھا۔ چناچہ اس نے ہر شے کو پٹک پٹک کر تباہ کردیا اور شب بھر میں سب ہلاک ہوگئے انسان مواشی یا کوئی جاندار باقی نہ بچا کہ یہی پروردگار کا حکم تھ اچنانچہ ویران مکان لاشوں سے پٹے پڑے تھے ہم مجرموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پہلی اقوام نے بھی سائنس وغیرہ میں بہت ترقی کی تھی۔ اور اے مخاطبین قرآن جس طرح کی قوت اور کمالات انہیں عطا ہوئے تھے اس طرح کے تم کو ملے بھی نہیں ، اور یہ حق ہے کہ پہلی اقوام نے بھی سائنس اور علوم دنیا میں بہت ترقی کی تھی آج کتنے آثار ایسے ملتے ہیں کہ جو کام انہوں نے اس دور میں کردکھائے انسان آج کی ساری ترقی کے باوجود نہیں کرسکتا۔ ہم نے ان کو بھی سماعت و بصارت دی تھی یعنی کمالات مادی کے حصول کے ذرائع بخشے تھے اور قلب بھی دیا تھا یعنی روحانی کمالات کی استعداد بھی لکن انہوں نے ان سب سے عظمت الٰہی کو جاننے اور معرفت باری کو حاصل کرنے کا کام نہ لیا صرف دنیاوی نعمتیں مال دولت یا حکومت واقتدار کے حصول میں لگے رہے تو ان کمالات کا محض ان کے پاس ہونا ان سے عذاب دور نہ کرسکا ان کے کسی کام نہ آیا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کی مخالفت کی اور مذاق اڑایا چناچہ وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان پر واقع ہوگیا اور ان کی تباہی کا باعث بن گیا۔
Ayahs 46:27–35

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں بھی تباہ کیں اور بار بار (اپنی) نشانیاں بھی ظاہر کیں تاکہ وہ رجوع کریں

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

سو اللہ کے سوا جن کو ان لوگوں نے (اللہ کا) قرب حاصل کرنے کے لئے (اپنا) معبود بنا رکھا ہے ، انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی۔ بلکہ وہ ان سے غائب ہوگئے۔ اور یہ محض ان کا جھوٹ تھا اور ان کی گھڑی ہوئی بات

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص آپ کی طرف متوجہ فرمائے کہ قرآن سنیں۔ پس جب وہ اس (قرآن) کے پاس آئے تو کہنے لگے خاموش رہو۔ پھر جب (قرآن) پڑھا جاچکا تو وہ اپنی قوم کو ڈرانے کے لئے اس کے پاس گئے

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے اے ہماری قوم ! بیشک ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل فرمائی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور) حق اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ وہ (اللہ) تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ رکھیں گے

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ زمین میں (چھپ کر یا بھاگ کر اللہ کو) ہرا نہیں سکتا اور اس (اللہ) کے سوا اس کے کوئی حامی بھی نہ ہوں گے۔ ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان کے پیدا کرنے میں تھکا نہیں۔ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو زندہ کردے۔ کیوں نہیں ! بیشک وہ ہر چیز پہ قادر ہے

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن کافر آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے (پوچھا جائے گا) کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ کہیں گے ہاں ! ہمارے پروردگار کی قسم۔ ارشاد ہوگا کہ تم (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے تو (اس لئے) اب عذاب (کے مزے) چکھو

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس آپ صبر کیجئے جیسے اور باہمت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور ان لوگوں کے لئے (عذاب کی) جلدی نہ کیجئے۔ کہ جس روز یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ یہ (قرآن) پیغام ہے۔ سو وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

آیات 27 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان لاکر اور اتباع کرکے برکات نبوی سے بیشمار روحانی کمالات ودرجات حاصل کرسکتا ہے۔ جنات کا واقعہ۔ اکثر روایات میں ہے کہ آپ ﷺ سوق عکاظ کو تشریف لے جا رہے تھے شہر سے باہر بطن وادی میں فجر ادا کرنے کو کھڑے ہوئے توجنات آپہنچے کہ بعثت سے قبل جنات آسمان دنیا پر چلے جاتے تھے اور فرشتوں کی باتیں سن آتے تھے مگر آپ کی بعثت پہ ان کا جانابند ہوگا اور شہاب پڑتے تھے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ زمین پر پھیل کردیافت کیا جائے کہ کون سا ایسانیاواقعہ پیش آیا ہے جس کے باعث ہمیں آسمان پر روک دیا گیا ہے اس جستجو میں ایک جماعت آپ ک پاس پہنچی تو قرآن سنا اور ایمان لائے درحقیقت جنات کی حاضری کے متعدد واقعات ہوئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا پھر وہ اپنی قوم یعنی جنات کے پاس واپس گئے اور انہیں بتایا کہ اے قوم ہم نے ایک ایساکلام سنا ہے وہ ایسی کتاب ہے کہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اسی طرح نازل ہوئی اور اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے توحید و رسالت اور آخرت وغیرہاعقائد میں ان کی تائید کرتی ہے اور حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بالکل سیدھے راستے کی طرف لے جاتی ہے اے قوم اسے قبول کرلو ایمان لے آؤ اللہ کے رسول پر جو اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہے اس طرح تمہاری خطائیں معاف ہوجائیں گی اور تم عذاب سے بچ جاؤ گے۔ جنات کے لیے جنت کی بشارت۔ قرآن حکیم میں کہیں بھی جنات کے لیے جنت کی بشارت نہیں ملتی کہ ان میں معرفت الٰہی کو حاصل کرنے کا انسانی درجہ کا کمال نہیں اور نہ ہی ان کی ارواح انسانی ارواح کی طرح ہیں لہذا عذاب تو ہوگا یاپھرنجات ہوجائے گی اور نجات پاکر فنا ہوجائیں گے یا عذاب پورا ہونے کے بعد سوائے ان کے جنہیں اللہ ہمیشہ دوزخ میں رکھنا چاہے علماء کے ایک طبقہ کے مطابق جنات جنت میں جائیں گے مگر اس پر قوی دلائل نہیں ہیں (واللہ اعلم باالصواب) ۔ اور جس نے رسول اللہ کی مخالفت کی وہ زمین کی وسعتوں میں بھاگ کر بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے گا اور نہ ہی اللہ کے علاوہ کوئی اس کا مددگار ہوگا ایسے کرنے والے یقینا ایک واضح گمراہی میں پڑگئے بھلا افراد کی گرفت کیا معنی رکھتی ہے کیا یہ دیکھتے نہیں کہ اللہ کریم نے کتنی بڑی کائنات تخلیق فرمائی آسمانوں کو سجایا اور زمین کو پیدا فرمایا ایک وسیع نظام پیدا فرمایا جس کی حدود انسان کی عقل سے بالاتر ہیں۔ اس سارے کام میں اس ذات کریم کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی نہ تھکاوٹ ہوئی وہ یقینا مردوں کو بھی زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ایک روز کفار کو آگ اور جہنم کے روبرو پیش کرکے پوچھاجائے گا کہ اب بات کرو کیا یہ واقعی ہے یا نہیں تو کہیں گے ہاں واقعی ہمارے رب کی قسم یعنی ہمارے رب کی ربوبیت اس پہ شاہد ہے کہ اعمال پر ان کا پھل آنا چاہیے۔ تو ارشاد ہوگا اب اس میں عذاب بھگتو کہ جب ماننے کا وقات تھا اس وقت تم نے انکار کردیا تھا۔ آپ ﷺ صبر کیجئے اور راہ حق میں یہ سب مشکلات برداشت کیجئے جس طرح آپ ﷺ سے پہلے اولوالعزم اور صاحب ہمت رسولوں نے برداشت کیں اور ان کے بارے جلدی نہ کیجئے اگر انہیں چندے مہلت نصیب ہے تو کیا ہوا کہ جس روز یہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے تو انہیں یوں لگے گا جیسے دنیا کا عرصہ تو محض چند لمحے تھا اور فورا ہی عذاب نے آلیا اپ کامنصب اللہ کا پیغام پہنچانا ہے آپ نے پہنچادیا جو لوگ نافرمانی کریں گے وہی ہلاک بھی ہوں گے۔