46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 46:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

(1۔ 2) حم، یعنی جو ہونے والا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے یا یہ بطور تاکید کے قسم کھائی گئی یہ کتاب اس اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ کفار کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس چیز کا اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

اس نے تمام مخلوقات اور عجائبات قدرت کو اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے اور ایک مقررہ مدت تک کے لیے پیدا کیا ہے اس کے بعد فنا ہوجائیں گے اور کفار مکہ رسول اکرم اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ڈرایا گیا مگر یہ ان کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

آپ ان مکہ والوں سے یہ تو پوچھیے کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو مجھے بتاؤ تو سہی کہ انہوں نے کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں اور زمینوں کے بنانے میں انہوں نے کیا مدد کی ہے۔ یا قرآن کریم سے پہلے کی اپنے دعوی کی تصدیق کے لیے کوئی کتاب لاؤ یا علماء سے اس بارے میں کوئی معتبر چیز ہو یا کہ انبیاء کرام کے علم میں کوئی اس کا پیش خیمہ ہو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
Ayahs 46:5–6

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

(5۔ 6) اور اس کافر سے زیادہ کون حق و ہدایت سے گمراہ ہوگا جو ایسے معبودوں کو پوجے کہ جو اس کی پکار تک نہ سنیں۔ اور ان بتوں کو تو ان پجاریوں کے پکارنے تک کی بھی خبر نہیں اور قیامت کے دن یہ بت اپنے پجاریوں کے دشمن اور بلکہ ان کی عبادت ہی کے منکر ہوجائیں گے۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

اور جب مکہ کے کافروں کے سامنے قرآن کریم پڑھ کر سنایا جاتا ہے جو کہ اوامرو نواہی کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تو یہ کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں جب رسول اکرم قرآن کو ان کے پاس لے کر آتے ہیں کہہ دیتے ہیں کہ معاذ اللہ یہ تو صاف جھوٹ ہے اور مزید برآں کہتے ہیں کہ محمد نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں بقول تمہارے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنا لیتا تو تم لوگ مجھے عذاب خداوندی سے ذرا بھی نہ بچا سکتے وہ خوب جانتا ہے جو تم قرآن کریم میں جھوٹی باتیں بنا رہے ہو۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ اس دیز پر کافی گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور قرآن کریم اس کا کلام ہے وہ توبہ کرنے والے کی مغفرت کرنے والا ہے اور توبہ کی حالت میں مرنے والے پر بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں انسانوں میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں مجھ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ سختی و نرمی اور عافیت میں سے میرے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم مکہ سے کب نکلیں گے اور کفار کی سختیوں سے کب نجات ملے گی اس وقت رسول اکرم نے ان سے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مجھے اور تمہیں ہجرت کا حکم ہوگا یا نہیں میں تو صرف اسی پر عمل کرتا ہوں جس کا مجھے بذریعہ قرآن کریم حکم دیا جاتا ہے اور میں تو ایسی زبان میں جسے تم سمجھو ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

اور آپ ان یہودیوں سے فرما دیجیے اے گروہ یہود مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے ہوا اور تم اس قرآن کریم کا انکار کرو اور جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اس قرآن کی گواہی دے کر اس پر اور رسول اللہ پر ایمان لے آئے بنیامین بنی اسرائیل میں سے گواہی دے کر ایمان لے آئیں اور تم رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر ہی میں رہو تو جان لو کہ حق تعالیٰ ایسے شخص کو جو کہ اہل نہیں ہوتا ہدایت نہیں کرتا۔ شان نزول : قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ (الخ) امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ عوف بن مالک الاشجعی سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم چلے اور میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ یہود کے گرجا میں ان کے عید کے دن داخل ہوئے تو ان کو ہمارا ان کے پاس جانا ناگوار گزرا، رسول اکرم نے ان سے فرمایا اے گروہ یہود مجھے بارہ آدمی ایسے بتاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور محمد حق تعالیٰ کے رسول ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے ہر ایک یہودی سے جو کہ آسمان کے نیچے اپنا غصہ جو کہ اس یہودی پر تھا دور کردے یہ سن کر وہ خاموش ہوگئے، اور ان میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ چناچہ آپ لوٹ چلے اچانک ایک شخص آپ کے پیچھے ہولیا اور کہنے لگا کہ آپ محمد وہی ہیں پھر وہ شخص یہودیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ تم مجھے اپنے میں کیسا آدمی سمجھتے ہو وہ کہنے لگے کہ واللہ ہم تم سے زیادہ کتاب اللہ کا عالم اور تم سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں جانتے اور تم سے پہلے تمہارے باپ سے زیادہ اور نہ تمہارے باپ سے پہلے تمہارے دادا سے بڑح کر کسی عالم کو سمجھتے ہیں۔ تو وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ نبی ہیں جن کی صفت و توصیف تم توریت میں پاتے ہو وہ یہود کہنے لگے کہ تو جھوٹ کہتا ہے اور اس شخص کو انہوں نے برا بھلا کہا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ کہہ دیجیے تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو۔ اور بخاری و مسلم نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت وشھد شاھد (الخ) حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ابن جریر نے عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

اور یہ کافر قبیلہ یعنی اسد غطفان، حنظلہ مسلمان قبیلوں یعنی جہینہ، مزنیہ، اسلم کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ محمد جو بات کہتے ہیں اگر وہ صحیح اور بہتر ہوتی تو یہ اسلم جہنیہ اور مزنیہ والے اس کو قبول کرنے میں پہل نہ کرتے۔ اور جب یہ لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائے تو یوں کہیں گے کہ یہ قرآن بھی ایک قدیمی جھوٹ ہے۔ شان نزول : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اور فلاں عزت والے ہیں اور اگر یہ قرآن کریم حق ہوتا تو فلاں اور فلاں کے ماننے میں ہم سے پہل نہ کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن منذر نے عون بن شداد سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک زنین نامی باندھی تھی وہ حضرت عمر فاروق کی سختی کی وجہ سے بھاگ جاتی تھی اور کفار قریش کہا کرتے تھے اگر یہ قرآن کریم حق ہوتا تو یہ زنین اس کو قبول کرنے میں ہم سے پہل نہ کرتی۔ چناچہ حق تعالیٰ نے اس باندی کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہ کافر ایمان والوں کے متعلق یوں کہتے ہیں۔ اور ابن سعد نے اسی طرح ضحاک اور حسن سے روایت نقل کی ہے۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

اور قرآن کریم سے پہلے توریت نازل ہوچکی ہے جو ماننے والوں کے لیے رہنما اور اہل ایمان کے لیے عذاب سے رحمت تھی۔ مگر پھر بھی یہ لوگ نہ اس پر ایمان لائے اور نہ اس کی پیروی کی اور یہ قرآن کریم ایسی کتاب ہے جو توحید اور رسول اکرم کی نعت و صفت کے بارے میں توریت کی تصدیق کرنے و الی ہے اور عربی زبان میں ہے مشرکین کو ڈرانے کے لیے اور ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری دینے کے لیے۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

جو لوگ توحید خداوندی کے قائل ہوگئے اور پھر فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے میں قائم رہے لومڑی کی طرح مکرو فریب نہیں کیا تو ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ پچھلی باتوں پر غمگین ہوں گے یا یہ مطلب کہ جس وقت دوزخی خوف زدہ ہوں گے انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا اور جس وقت دوسرے لوگ غمگین ہوں گے انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔
Ayah 46:14

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ ان کے نیک اعمال اوراقوال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے تھے۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اسکو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں انکا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (و تقوٰی) دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

ہم نے بذریعہ قرآن کریم حضرت عبدالرحمن کو ان کے والدین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کی بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے بڑی مشقت کے ساتھ اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر بڑی مشقت کے ساتھ اسے پیدا کیا اور اس بچے کو پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا اکثر تیس مہینوں میں پورا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اٹھارہ سال سے تیس سال تک پہنچ جاتا ہے اور پھر چالیس سال کی عمر ہوتی ہے تو حضرت ابوبکر دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار مجھے اس چیز پر ثبات عطا فرمایئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو بذریعہ توحید عطا فرمائی ہیں ان کے والدین اس سے پہلے اسلام قبول کرچکے تھے۔ اور یہ کہ میں نیک کام کروں کہ جنہیں آپ قبول فرمائیں اور میری اولاد کو بھی توبہ اور اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایئے ان کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن اس سے پہلے اسلام نہیں لائے تھے مگر اس کے بعد وہ بھی مشرف باسلام ہوگئے اور میں آپ کے حضور توبہ کے ساتھ رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں کے ساتھ ان کے دین پر قائم ہوں۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم نے قبول کرینگے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کی نیکیوں کو ہم قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں پر پکڑ نہیں کریں گے اس لیے کہ یہ جنت والوں کے ساتھ جنت میں ہوں گے اس جنت کے وعدہ کی وجہ سے جس کا ان سے دنیا میں وعدہ کیا جارہا ہے۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اف اف ! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤنگا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کمبخت ایمان لا خدا کا وعدہ تو سچا ہے تو کہنے لگے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اور جس نے یعنی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر نے اسلام لانے سے پہلے اپنے والدین سے کہا تف ہے تم پر کیا تم مجھ سے یہ بیان کرتے ہو کہ میں حشر کے لیے قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر رہی ہیں میں نے تو ابھی تک نہیں دیکھا کہ ان میں سے کوئی قبر میں سے نکلا ہو، عبدالرحمن کے دو دادا یعنی جدعان بن عمرو اور عثمان بن عمرو زمانہ جاہلیت میں مرگئے تھے عبدالرحمن کی مراد وہ تھے۔ اور اس کے والدین اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ارے تم پر دنیا تنگ ہو رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آ۔ شان نزول : وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے اپنے والدین سے ایسا کہا تھا اور ان کے والدین مشرف بااسلام ہوگئے تھے اور یہ اسلام لانے سے انکار کرتے تھے اور ان کو اسلام لانے کا حکم کرتے تھے تو یہ ان کی تردید اور تکذیب کرتے تھے اور قریش کے بوڑھوں کے بارے میں جو مرچکے تھے پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، پھر اس کے بعد یہ بھی مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا تو حق تعالیٰ نے ان کی توبہ اس آیت میں نازل فرمائی۔ ولکل درجت مما عملوا (الخ) اور ابن جریر نے بواسطہ عوفی ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ مگر امام بخاری نے یوسف بن ہامان کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مروان نے حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کے بارے میں کہا کہ یہ وہ شخص ہیں کہ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، یہ سن کر حضرت عائشہ نے پردہ کے پیچھے سے فرمایا کہ ہمارے بارے میں قرآن کریم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی البتہ حق تعالیٰ نے میری پاکدامنی نازل فرمائی ہے۔ اور عبدالرزاق نے متی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے سنا کہ وہ اس آیت کا عبدالرحمن بن ابوبکر کے بارے میں نازل ہونے کا انکار کرتی ہیں اور ایک شخص کا نام لے کر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں یہ حضرت عائشہ کی انکار والی روایت سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح اور قبولیت کے اعتبار سے بھی زیادہ لائق توجہ ہے۔ بیشک مرنے کے بعد ضرور زندہ ہونا ہے تو اس وقت عبدالرحمن جواب میں کہتے ہیں کہ محمد جو کہہ رہے ہیں یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) امتوں میں سے جو ان کے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ تحقیق ہوگیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

یہ حضرت عبدالرحمن کے مشرک اجداد یعنی جدعان اور عثمان وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب اور ناراضگی کا وعدہ پورا ہو کر رہا ایسی امتوں کے ساتھ جو ان سے پہلے جن و انس کافر ہو کر دوزخ میں داخل ہو کر رہے ہیں۔ بیشک یہ لوگ سخت خسارے میں رہے اب ان کو قیامت تک بھی دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام بھی خوب اچھا ہوا۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہونگے انکے مطابق سب کے درجے ہوں گے غرض یہ ہے کہ ان کو انکے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

مسلمانوں اور کافروں میں سے ہر ایک فریق کے لیے ان کے اعمال دنیویہ کی وجہ سے الگ الگ درجے ہیں، چناچہ مسلمانوں کے لیے جنت اور کفار کے لیے دوزخ میں درجے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے اعمال کی جزا پوری کردے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہوگا کہ ان کی نیکیوں میں کمی اور گناہوں میں اضافہ کردیا جائے۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اسکی کہ بدکرداری کرتے تھے

اور دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے جب کفار دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیوں کا ثواب یعنی لذت دنیا میں حاصل کرچکے اور ان نعمتوں سے خوب فائدہ حاصل کرچکے تو آج تمہیں سخت ترین عذاب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ تم ایمان لانے سے ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم دنیا میں کفر و گناہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

اور آپ کفار مکہ کے سامنے حضرت ہود کا تذکرہ کیجیے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو دوزخ کی سختیوں سے ڈرایا یا یہ کہ احقاف میں یا شام میں ایک پہاڑ سے یا یہ کہ احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں وہاں یہ قوم آباد تھی یا یہ کہ یمن میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضرت ہود نے کھڑے ہو کر اپنی قوم کو ڈرایا۔ حالانکہ حضرت ہود سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے نبی گزر چکے ہیں۔ حضرت ہود نے ان سے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ اور کسی کی وحدانیت کے مت قائل ہو اور یہ کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر سخت دن کا عذاب آئے گا۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ

قوم نے کہا اے ہود کیا تم ہمارے پاس اس ارادہ سے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے ہٹا دو تم عذاب لے آؤ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ اگر ہم ایمان نہ لائے تو ہم پر عذاب نازل ہوگا۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو جو (احکام) دیکر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

حضرت ہود نے فرمایا نزول عذاب کے متعلق تو اللہ کو خبر ہے میں تو تمہیں توحید کا حکم پہنچا رہا ہوں اور میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم حکم الہی اور اس کے عذاب کے بارے میں جہالت کی باتیں کر رہے ہو۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) انکے میدان کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی اندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے

چناچہ جب انہوں نے اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو اس کی ہوا اور ہوا کے آثار دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل ہماری کھیتیوں پر برسے گا، حضرت ہود نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے اس میں ایک دردناک عذاب ہے۔
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ انکے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں

ہر ایک چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے ہلاک کردے گا۔ چناچہ وہ ہلاکت کے بعد ایسے ہوگئے کہ سوائے ان کے مکانات کے اور کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا تھا اسی طرح ہم مشرکین کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دئیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دئیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو انکے کان ہی انکے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز سے استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

اور ہم نے ان کو اس قدر مال و طاقت اور کاموں کا حوصلہ دیا تھا کہ اے مکہ والو تمہیں اس قدر مال نہیں دیا اور نہ اتنی قوت دی ہے اور ہم نے انہیں سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے و سمجھنے کے لیے دل دیے تھے مگر کیونکہ وہ حق تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی کتاب کا انکار کیا کرتے تھے تو اس لیے عذاب الہی کے سامنے ان کی آنکھوں وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی اور وہ جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب نازل ہوگیا۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

اور مکہ والو ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی ہلاک کیں اور ہم نے ان ہلاک ہونے والوں کے سامنے اوامرو نواہی کی نشانیاں بیان کردی تھیں تاکہ یہ اپنے کفر سے رجوع کرکے توبہ کرلیں۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے انکی کیوں مدد نہ کی بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی افتراء کیا کرتے تھے

تو جن چیزوں کو انہوں نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی بلکہ وہ ان کے معبود ان سے غائب ہوگئے یہ ان کی خود بنائی ہوئی جھوٹی بات تھی۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں تو جب وہ اسکے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (انکو) نصیحت کریں

اور جبکہ نو جنات آپ کی طرف آئے وہ آکر قرآن کریم سننے لگے اور جب وہ بطن نخلہ میں رسول اکرم جہاں قرآن کریم پڑھ رہے تھے پہنچے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو تاکہ رسول اکرم کے قرآن پڑھنے کو سنیں۔ چناچہ جب رسول اکرم اپنی تلاوت اور اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو وہ رسول اکرم اور قرآن پر ایمان لے آئے۔ چناچہ وہ ایمان سے سرفراز ہو کر اپنی قوم کے پاس ان کو ڈرانے والے بن کر پہنچے۔ شان نزول : وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ (الخ) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم بطن نخلہ میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے آپ کے پاس نو جن اترے جب انہوں نے قرآن کریم سنا تو وہ آپس میں کہنے لگے خاموش رہو ایک ان میں ذوبقہ تھے اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے، یعنی اور جبکہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے قوم ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں انکی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا دین اور سیدھا راستہ بتاتی ہے

اور کہنے لگے کہ ہم قرآن کریم سن کر آئے ہیں، جو موسیٰ کے بعد رسول اکرم پر نازل کیا گیا ہے کہ وہ توحید اور رسول اکرم کی نعت و صفت میں توریت کی تصدیق کرنے والا ہے، اور جنات موسیٰ پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ وہ حق اور دین اسلام کی طرف رہنمائی کرتے تھے۔
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ (خدا) تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

اے بھائیو تم رسول اکرم کی بات پر لبیک کہو جو توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور ان پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ زمانہ جاہلیت کے تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اسکے سوا اس کے حمایتی ہوں گے یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اور جو آپ کا کہنا نہ مانے تو وہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکتا اور اللہ کے علاوہ اس کے اقرباء اس کے کام نہیں آسکتے اور ایسے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور انکے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

کیا کفار مک نے یہ نہ جانا کہ جس ذات نے زمین و آسمان کو بغیر کسی تکان کے پیدا کردیا تو وہ ان کے دوبارہ زندہ کرنے پر پہلے سے زیادہ قادر ہے ضرور وہ تو زندگی اور موت ہر ایک چیز پر قادر ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز انکار کرنے والے آگ کے سامنے کئے جائیں گے کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

اور جس روز یہ کافر دوزخ میں داخل کرنے سے پہلے اس کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا یہ عذاب امر واقعی نہیں ہے، تو یہ کہیں گے ضرور واقعی امر ہے، حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا تو اچھا دنیا میں جو تم کفر و انکار کر رہے تھے اور اس کے بدلے میں اس دوزخ کا عذاب چکھو۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے محمد) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن (یہ قرآن) پیغام ہے سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

آپ ان کفار کی تکالیف پر ویسا ہی صبر کیجیے جیسا ہمت اور یقین والے پیغمبروں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) نے صبر کیا تھا یا یہ کہ جیسا کہ صبر اور برداشت والے پیغمبر یعنی نوح، ایوب، زکریا اور یحییٰ (علیہم السلام) نے صبر کیا تھا۔ اور ان کی ہلاکت کے لیے جلدی نہ کیجیے جس روز یہ عذاب کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا یہ لوگ دنیا میں دن بھر میں ایک گھڑی رہے ہیں، یہ چیز ان کو پہنچا دینی ہے۔ کہ جب عذاب کا وقت آئے گا تو اس سے صرف کافر ہی ہلاک ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود بھی کفر کیا اور دوسروں کو بھی راہ حق سے روکا۔