46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

اجل مسمی سے مراد قیامت ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے یہ وہ موت ہے جس پر آسمان اور زمین ختم ہوجائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ وقت ہے (2) جو ہر مخلوق کے لئے مقدر ہے۔ عما انذرو جس سے انہیں ڈرایا گیا۔ معرضون وہ اس سے اعراض کرنے والے ہیں۔ غفلت کا اظہار کرنے والے ہیں وہ اس کے لئے تیاری کرنے والے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ م مصدریہ ہو معنی ہوگا انہیں اس دن کے ڈرانے سے۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ بتوں اور اللہ تعالیٰ کے جن شریکوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ کیا انہوں نے زمین میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے۔ کیا ان کے لئے کوئی حصہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ آسمانوں کی تخلیق میں۔ یعنی اس قرآن سے قبل مسئلہ نمبر 2: عام قرأت اواثرۃ ہے یعنی ثاء کے بعد الف ہے۔ حضرت ابن عباس نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے “ یہ وہ خط تھا جو عرب زمین میں لگاتے تھے “ (1) اسے مہدوی اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اب عربی نے کہا : یہ درست نہیں : مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ” انبیاء میں سے ایک خط لگایا کرتا تھا جس نے ان کے خط کی موافقت کی تو وہ صحیح نتیجہ تک پہنچ گیا (2) یہ بھی روایت صحیح نہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ معاویہ بن حکم سلمی کی حدیث سے ثابت ہے اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے نحاس نے اس کی سند بیان کی محمد بن احمد جرایحی محمد بن بندار سے وہ یحییٰ بن سعید سے وہ سفیان ثوری سے وہ صفوان بن سلیم سے وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں (3) کہ آپ نے فرمایا :’ سے مراد خط ہے “ یہ بھی صحیح ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس کی تاویل میں علماء نے اختلاف کیا ان میں سے کچھ نے نہیں یہ خط لگانے کی اباحت کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ کچھ انبیاء اس طرح کیا کرتے تھے ان میں سے بعض نے کہا یہ نہیں بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کا خط نبی کے خط کے موافق ہوگیا تو وہ اس امر کو جان گیا “ کیونکہ پہلے نبی کے طریقہ کی پہچان کا کوئی طریقہ نہیں کہ اس پر عمل کرنے کی کوئی صورت نہ ہوگی، شاعر نے کہا : تیری زندگی کی قسم کنکریاں پھینکنے والیاں نہیں جانتی اور نہ پرندے کو جھڑکنے والیاں جانتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا کرنے والا ہے۔ اس کی حقیقت اس علم کو جاننے والوں کے ہاں اس طرح ہے جس طرح ستاروں کی صورتیں ہوا کرتی ہیں ایسا آدمی اس چیز کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے جس پر ستارے دلالت کرتے ہیں کہ سعادت یا نحوست ان میں واقع ہوئی پس یہ گمان پر مبنی ہوگا اور امر غائب کے متعلق ہوگا جس کا طریقہ ناپید ہوچکا ہے اور اس کی تحقیق فوت ہوچکی ہے اور شریعت نے اس بارے میں منع کیا ہے اور اس امر کی خبر دی ہے کہ وہ امر ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص اور مخلوق سے اس امر کو قطع کردیا ہے اگرچہ ان کے لئے اس سے قبل ایسے اسباب تھے کہ وہ غائب اشیاء کو جاننے کے لئے ان اسباب سے وابستہ ہوا کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کو اٹھا دیا ہے ان دروازوں کو مٹا دیا ہے اور علم غیب کے لئے اپنی ذدات کو خاص کردیا ہے اس میں اس ذات کے ساتھ مزاحمت جائز نہیں اس کا دعویٰ کرنا کسی کے لئے حلال نہیں اس میں اگر نہی نہ بھی ہو تو اس کی طلب صرف تھکاوٹ ہی تھکاوٹ ہے جب اس میں نہی وارد ہوچکی ہے تو اس کا مطلب معصیت ہوگی یا کفر ہوگا۔ جیسا طالب کا ارادہ ہوگا (1) میں کہتا ہوں : جو قول اس نے اختیار کیا ہے وہ خطابی کا قول ہے خطابی نے کہا : نبی کریم ﷺ کا ارشاد فذاک یہ زجر کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ یہ نبوت کا علم تھا جو منقطع ہوچکا ہے ہمیں اس کے حاصل کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ قاضی عیاض نے کہا : لفظ کا ظاہر اس کے خلاف ہے اور جس کا خط نبی کے خط کے موافق ہو اس کی تصویب کی گئی ہے لیکن موافقت کہاں سے معلوم ہو جبکہ شرع نے گمان اور غیب کا دعویٰ کرنے سے منع کیا ہے اس حدیث کا معنی ہے جس نے اس کے خط کی موافقت کی یہی وہ چیز ہے جس کی درستگی کو وہ پاتے تھے اس سے مراد یہ نہیں کہ ایسا عمل کرنے والے کے لئے اباحت ثابت ہوتی ہے جس طرح بعض لوگوں نے معنی کیا ہے۔ مکی نے نبی کریم ﷺ کے قول (2) کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ وہ اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے ریت میں خط لگاتے اور پھر فال لیتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قول کی یہ وضاحت کی اس سے مراد وہ خط ہے جو کاہن لگایا کرتا اور اسے عطیہ دیا جاتا اور کہتا : بیٹھو یہاں تک کہ میں تیرے لئے خط لگائوں، کاہن کے سامنے ایک بچہ ہوتا جس کے پاس سرمچو ہوتا پھر وہ نرم زمین پر آتا استاد جلدی جلدی خط لگاتا تاکہ اسے ساتھ ساتھ گنا نہ جاسکے پھر وہ پلٹتا اور آہستہ آہستہ دو دو خط مٹاتا اگر دو خط باقی رہ جاتے تو یہ کامیابی کی علامت ہوتی اگر ایک خط باقی رہ جاتا تو یہ ناکامی کی علامت ہوتا۔ عرب اسے الحم کا نام دیتے یہ ان کے نزدیک منحوس ہوتا۔ مسئلہ نمبر 3:۔ ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب نہیں چھوڑے جو غیب پر دلالت کرتے ہوں جن کے ساتھ تعلق کی اجازت دی گئی تھی اور جن کے ساتھ ساتھ استدلال کی اجازت دی گئی تھی صرف خواب باقی ہیں اور یہ بتایا کہ یہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے اسی طرح فال ہے جہاں تک طیرہ اور زجر کا تعلق ہے ان دونوں سے منع کیا گیا ہے (3) فال سے مراد جو کلام سنی جائے اور اس سے اس امر پر استدلال کرنا جس کا ارادہ ہو جب وہ آواز اچھی ہو جب مکرر کو سنے تو یہ تطیر ہے شرح نے یہ حکم دیا ہے کہ فال سے خوش ہو اور خوشی خوشی اپنے امر کو گزرے اور جب وہ مکرر آواز سنے تو اس سے اعراض کرے اور اس کی وجہ سے نہ لوٹے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کوئی فال نہیں مگر تیرا فال اور کوئی خیر نہیں مگر تیری خیر تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایک ادیب نے اس کا ذکر کیا ہے : فال، پرندوں کو جھڑکنا سب گمراہ کرنے والے ہیں، علم غیب کے سامنے تالے لگے ہوئے ہیں۔ یہ کلام صحیح ہے مگر فال میں درست نہیں کیونکہ شرع نے اسے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے شاعر نے جو کچھ اس میں کہا اسے قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ اس نے جہالت کی بات کی ہے اور صاحب شرع زیادہ سچا، زیادہ علم رکھنے والا اور زیادہ حکیم ہے۔ میں کہتا ہوں : طیرہ، فال اور ان دونوں میں فرق کے بارے میں بحث سورة مائدہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے، سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیب میں منفرد ہے۔ کوئی اسے نہیں جان سکتا مگر اللہ تعالیٰ اسے جو علم عطا کرے یا اس پر دلالت عادیہ بنا دے اس کی مدد سے اسے جانا جاسکے جو عام معمول ہے۔ بعض اوقات اس میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب وہ کھجور کا ایک درخت دیکھے جس پر گابھے نکلے ہوں تو وہ جان لے یہ پھل دے گا اور جب وہ درخت کو دیکھے کہ اس کا گابھ اگر چکا ہے تو اسے علم ہوجائے گا کہ وہ پھل دار نہیں ہوگا۔ یہ جائز ہے کہ اس پر کوئی آفت آجائے اور جو اس کے پھل کو ہلاک کردے تو وہ پھل نہ دے جس طرح یہ جائز ہے کہ اس کا گابھ اگر جائے اللہ تعالیٰ اس میں دوبارہ گابھا پیدا کر دے تو وہ پھلدار ہوجائے جس طرح یہ جائز ہے کہ اس کے مہینے کے بعد کوئی مہینہ نہ ہو اور اس دن کے بعد کوئی دن نہ ہو جب اللہ تعالیٰ اس عالم کو فنا کرنے کا ارادہ کرے۔ اس کے علاوہ بھی کئی امثلہ ہیں جن کی وضاحت سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 4:۔ ابن خویز منداد نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان سے مراد خط ہے۔ امام مالک (رح) خط (تحریر) دیکھ کر فیصلہ فرما دیا کرتے تھے جب گواہ خط پہچان لیتا جب حاکم اس کی تحریر پہچان لیتا اور جس کی طرف وہ خط لکھا جاتا اسے پہچان لیتا تو اس کے مطابق وہ فیصلہ کردیا کرتا تھا مگر پھر جب لوگوں میں دھوکہ اور فریب ظاہر ہونے والا تو آپ نے اس سے رجوع کرلیا امام مالک سے یہ مروی ہے فرمایا : لوگ فسق و فجور کرتے ہیں تو ان کے لئے فیصلے بھی نئے ہوجاتے ہیں۔ جب گواہ اس تحریر پر گواہی دے دیں جس کے مطابق میں فیصلہ کیا گیا ہو، مثلاً وہ یہ گواہی دیں کہ یہ حاکم کا خط ہے یا اس کی تحریر ہے اس میں جو کچھ ہے ہم اس پر گواہی دیتے ہیں اگرچہ اس تحریر میں جو کچھ ہے اسے نہ جانتے ہوں اسی طرح وصیت ہے یا کسی آدمی کے اعتراف کی تحریر ہے کہ اس نے کسی کا مال دینا ہے گواہ یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اس کا خط ہے اور اسی قسم کی گواہی دیں ان کے مذہب میں اختلاف نہیں کہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی ہے علم میں سے باقی یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، ابوبکر بن عیاش اور دوسرے لوگوں کا قول ہے صحاح میں ہے اس علم میں سے باقی اسی طرح الاثرہ کا لفظ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے اس میں بھی یہ لفظ باقی ماندہ چربی ہے جو اس سے پہلے تھی ماوردی اور ثعلبی نے ایک چروا ہے کا قول ذکر کیا ہے جس میں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہروی نے کہا : اثارہ اور اثر دونوں کا معنی باقی ماندہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے نہ وہاں چشمہ ہے نہ باقی ماندہ چیز، میمون، بن مہران ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور قتادہ نے کہا : علم میں سے کوئی خاص چیز (1) مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسی روایت ہے جو تم مقتدین سے بیان کرتے ہو عکرمہ اور مقاتل نے کہا : انبیاء سے مروی (2) قرظی نے کہا : اس سے مراد اسناد ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے ایسی چیز جو بیان کی جائے یا جو استخراج کی جائے (3) زجاج نے کہا : کا معنی ہے یا علامت اثارہ مصدر ہے جس طرح کلمہ کا اصل اثر ہے جس کا معنی روایت ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے اثریہ اس وقت کہتے ہیں جب تو اسے غیر سے بیان کرے اسی معنی میں یہ قول ہے حدیث ماثور یعنی اسے بعد والوں نے پہلے والوں سے نقل کیا : اعثی نے کہا : جس میں تم نے شک کیا ہے وہ سننے والے اور روایت کرنے والے کے لئے واضح ہے۔ اس شعر کو بھی روایت کیا گیا ہے یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی باقی ماندہ علم ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی ایسی چیز ہو جو پہلے لوگوں کی کتابوں سے بیان کی گئی ہو ماثورا اسے کہتے ہیں جسے بیان کیا جائے اور جس سے اسے بیان کیا جائے اسی سے اس کی سند صحیح ہو سلمی، حسن بصری اور ابورجاء نے ہمزہ اور ثا کو الف کے بغیر مفتوح پڑھا ہے معنی ہوگا خاص علم جو تمہیں عطا کیا گیا یا جس کے ساتھ تمہیں غیر پر ترجیح دی گئی حضرت حسن بصری اور ایک طائفہ سے اثرہ بھی منقول ہے یعنی ہمزہ مفتوح اور ثاء ساکن ہے۔ پہلا قول ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ دوسرا قول ماوردی نے ذکر کیا ہے ثعلبی نے عکرمہ سے بیان کیا ہے : معنی ہے علم کی میراث : (4) مسئلہ نمبر 5:۔ اس میں ادلہ کے تمام مسالک کا بیان ہے ان میں سے پہلا درجہ معقول کا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے : یہ دلیل عقلی سے استدلال ہے کہ جامد چیز اس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہ چیز نہ نقصان دیتی ہے اور نہ نفع پہنچاتی ہے پھر فرمایا : اس میں ادلہ سمعیہ کا بیان ہے۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

یعنی اس سے بڑھ کر نہ کوئی گمراہ ہے اور نہ ہی جاہل ہے سے مراد بت ہیں۔ یعنی نہ وہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں یہ بت جامد چیزیں ہیں انہیں انسانوں سے مذکر افراد کے قائم مقام رکھ کر ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے عبادت کرنے والے بتوں کو بادشاہوں اور امراء کے ساتھ تشبیہ دیتے تھے جن کی خدمت کی جاتی تھی۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

اس سے مراد یوم قیامت ہے یعنی یہ معبود قیامت کے روز کفار کے دشمن ہوں گے، ملائکہ کفار کے دشمن ہوں گے جن اور شیاطین قیامت کے روز اپنی عبادت گزاروں سے برأت کا اظہار کریں گے وہ ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کفار کے بت جن کی یہ لوگ عبادت کرتے رہے وہ دشمن ہوں اس تقدیر کی بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے زندگی پیدا فرما دے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (القصص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اپنے معبودوں سے دشمنی کا اظہار کیا کیونکہ یہ معبود ان کی کفار کی ہلاکت کا سبب بنے اور معبودوں نے ان کی عبادت کا انکار کردیا اسی پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے :
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

ایتنا سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

میں میم زائد سے تقدیر کلام یہ ہے، یعنی حضرت محمد ﷺ نے اپنی جانب سے بات کی ہے وہ آیات کو جو جادو کا نام دیتے تھے اس سے اضراب کیا گیا ہے م میں ہمزہ انکار اور تعجب کے لئے ہے گویا فرمایا : اسے چھوڑ ان کا عجیب و غریب قول سنو جس سے تعجب عیاں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس پر قادر نہیں کہ یہاں تک کہ وہ یہ کہیں اور اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھیں اگر آپ اس پر قادر ہوں عرب قوم اس پر قادر نہ ہو تو عادت کے خلاف ہونے کی وجہ سے آپ کی قدرت معجزہ ہوگی، جب معجزہ ہوگی تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کی تصدیق ہوگی حکیم جھوٹے کی تو تصدیق نہیں کرتا تو آپ مفتری تو نہ ہوئے اور ضمیر حق کے لئے ہے اور مراد آیات ہیں۔ کہہ دیجئے : اگر بفرض محال میں اس پر افتراء باندھوں تو تم اس بات پر قادر نہ ہو گے کہ تم مجھ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب دور کرسکو تو میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ پر کیسے افتراء باندھوں گا۔ جو تم کہتے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے : یہ مجاہد سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جو تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ ، الشی سے مراد ہوتا ہے اس میں داخل ہونا اور اس میں شروع ہوجانا۔ وہ گفتگو میں شروع ہوگئے۔ یعنی اونٹ نے جگالی کو اوجھ سے دھکیلا اور اسے نکالا۔ اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :۔ انہوں نے اوجھ کی خشکی کے بعد جگالی کو باہر نکالا۔ یعنی تیزی سے چلے۔ پس ہر وہ چیز جس میں دفعہ کا معنی پایا جاتا ہو اس کو افاضہ کہتے ہیں یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے یعنی وہ میری سچائی کو جانتا ہے جبکہ تم باطل پر ہو۔ و جو توبہ کرے اس کو بخشنے والا ہے الرحیم، اپنے مومن بندوں پر رحیم ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں مجھ سے قتل بھی تو رسول تھے، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے البدع یعنی پہلا۔ عکرمہ اور دوسرے علماء نے اسے بدعا پڑھا ہے یعنی دال مفتوح ہے اس بناء پر کہ مضاف مقدر ہے معنی ہے میں رسالت والا پہلا تو نہیں ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ بدع اور بدیع ایک معنی میں ہیں جس طرح نصف اور نصیف ہے۔ ابدع الشاعر یعنی وہ بدیع لایا یعنی نئی چیز فلاں اس معاملہ میں بدیع ہے۔ قوم ابداع یہ اخفش سے مروی ہے قطرب نے عدی بن زید کا شعر پڑھا : میں کوئی پہلا شخص نہیں جسے حواد ثابت لاحق ہوئے ہیں یعنی قیامت کے روز میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا میں اسے نہیں جانتا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک، یہودی اور منافق بڑے خوش ہوئے انہوں نے کہا : ہم اس نبی کی کیسے پیروی کریں جو جانتا ہی نہیں کہ اس کے ساتھ اور ہمارے ساتھ کیا کیا جانے والا ہے اسے ہمارے اوپر کوئی فضلیت حاصل نہیں اگر یہ اپنی جانب سے نہ کہتے تو جس ذات نے اسے معبوث کیا ہے وہ اسے ضرور بتا دیتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے یہ تو آیت نازل ہوئی (الفتح 2) تو یہ آٰیت منسوخ ہوگئی او اللہ تعالیٰ نے کفار کو ذلیل و رسوا کردیا صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ : آپ کو مبارک ہو : اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بیان کردیا ہے جو وہ تیرے معاملہ ساتھ کرنے والا ہے کاش ہم بھی جان لیتے وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی (الفتح 5) اور یہ آیت نازل ہوئی (احزاب) یہ حضرت انس، حضرت ابن عباس، قتادہ، حضرت حسن بصری، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : حضرت ام العلاء جو انصا کی ایک عورت تھی نے کہا : ہم نے مہاجرین کو تقسیم کیا تو ہمارے حصہ میں حضرت عثمان بن مظعون بن حذافہ بن جمح آئے ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا تو وہ فوت ہوگئے میں نے کہا : اے ابا سائب ! اللہ تعالیٰ کی رحمت تجھ پر ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت دی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تجھے کیسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا باپ اور میری ماں آپ پر قربان تو پھر کون ؟ فرمایا :” جہاں تک اس کا تعلق ہے اسے موت آئی ہے ہم نے بھلائی ہی دیکھی ہے، اللہ کی قسم ! میں اس کے لئے جنت کی امید رکھتا ہوں اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہایر ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔ “ اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد کسی کا کبھی بھی تذکیہ نہیں کروں گی۔ ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے اور کہا : یہ اس وقت فرمایا تھا جب آپ اپنی خطائوں کی بخشش کو نہ جانتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے وصال سے چار سال قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر بخشش کی نوید سنائی تھی۔ میں کہتا ہوں : حضرت ام العلاء کی حدیث کو امام بخاری نے نقل کیا ہے اس میں میری روایت یہ ہے اس میں بی و بکم کی نہیں (1) انشاء اللہ یہ صحیح ہے جس کی وضاحت آگے آئے گی۔ آیت منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے : نحاس نے کہا : یہ محال ہے کہ اس میں ناسخ ومنسوخ ہو اس کی دو وجوہ ہیں 1 ۔ یہ خبر ہے۔ 2 ۔ سورت کے آغاز سے لے کر اس جملہ تک مشرکوں سے خطاب ہے ان کے خلاف استدلال ہے اور انہیں شرمندہ کرنا ہے تو ضروری ہے کہ یہ بھی مشرکوں سے خطاب ہو جس طرح اس سے پہلے اور اس کے بعد مشرکوں سے خطاب ہے اور یہ امر محال ہے کہ نبی کریم ﷺ مشرکوں کو کہیں : یعنی آخرت میں میرے ساتھ او تمہارے ساتھ کیا کیا جانے والا ہے میں نہیں جانتا جبکہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے آغاز سے لے کر وصال تک یہی خبر دیتے کہ ” جو آدمی حالت کفر پر مرا ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو حالت ایمان پر مرا اتباع اور اطاعت کی وہ جنت میں ہوگا “۔ جبکہ نبی کریم ﷺ نے وہ منظر دیکھا تھا کہ آخرت میں اس کیساتھ اور ان کے ساتھ کیا کیا جانے والا ہے تو وہ کہیں گے : ہم تیری اتباع کیسے کریں جبکہ تو جانتا ہی نہیں کیا کیا تو خوشحالی کی طرف لوٹے گا یا عذاب و عقاب کی طرف (لوٹے) گا۔ آیت کے بارے میں صحیح قول حضرت حسن بصری کا ہے جس طرح علی بن محمد بن جعفر بن حفص، یوسف بن موسیٰ سے وہ وکیع سے وہ ابوبکر ہذلی سے وہ حضرت حسن بصری (رح) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ او تمہارے ساتھ کیا کیا جانے والا ہے۔ ابو جعفر نے کہا : یہ سب سے اچھا صحیح اور اچھا قول ہے۔ نبی کریم ﷺ نہیں جانتے کہ آپ کو اور ان لوگوں کو مرض، صحت، نرمی، عنا او فقر میں سے کیا کچھ لاحق ہونے والا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (اعراف 188) واحدی اور دوسرے علماء نے کلبی سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر آزمائشیں بڑھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ایسے علاقے کی طرف ہجرت کر رہے ہیں جہاں کھجوریں، درخت اور پانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ پر بیان کیا تو صحابہ خوش ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ مشرکوں کی جانب سے جس اذیت میں مبتلا ہیں اس سے آسودگی پا جائیں گے پھر تھوڑا عرصہ رکے رہے جس میں انہوں نے ہجرت کا منظر نہ دیکھا انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہم کب اس علاقہ کی طرف ہجرت کریں گے جو آپ نے دیکھا تھا ؟ تو نبی کریم ﷺ خاموش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : یعنی میں نہیں جانتا کہ جس جگہ کو میں نے خواب میں دیکھا ہے اس کی طرف میں نکلوں گا یا نہیں۔ پھر کہا : یہ تو وہ چیز تھی جو میں نے خواب میں دیکھی میں تو اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (1) یعنی جس امر کی میں نے تمہی خبر دی ہے وہ میری طرف وحی نہیں کی گئی۔ قشیری نے کہا : اس اعتبار سے اس آیت میں کوئی نسخ نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جو فرائض مجھ پر تم پر لازم کئے گئے ہیں میں انہیں نہیں جانتا طبری نے کہا : اس کا معنی ہے میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرا اور تمہارا انجام کیا ہوگا، کیا تم ایمان لائو گے یا کفر کرو گے، تمہیں جلدی عذاب آئے گا یا تم کو مہلت دی جائیگی۔ میں کہتا ہوں : یہ حضرت حسن بصری، سدی اور دوسرے علماء کا قول کا معنی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اللہ کی پناہ نبی کریم ﷺ خوب جانتے تھے کہ آپ جنت میں ہیں (2) جب آپ نے رسولوں سے میثاق لیا تھا، لیکن فرمایا : میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا کیا مجھے میری بستی سے نکال دیا جائے گا جس طرح انہیں ان کی بستیوں سے نکالا گیا تھا یا مجھے قتل کردیا جائے گا جس طرح انہیں قتل کردیا گیا تھا اور میں تمہارے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا کیا میری امت تصدیق کرنے والی ہوگی یا جھٹلانے والی یا میری امت پر آسمان سے پتھروں کی بارش کی جائے گی یا انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر یہ آیت نازل ہوئی (توبہ :33) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اس کا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا پھر آپ ﷺ کی امت کے بارے میں فرمایا : (انفال 33) اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ وہ آپ کے ساتھ اور آپ کی امت کے ساتھ کیا کچھ کرنے والے ہیں ان تمام تعبیروں کی بناء پر کوئی نسخ نہیں۔ الحمداللہ۔ ضحاک نے یہ بھی کہا ہے : کا معنی ہے میں نہیں جانتا کہ تمہیں کس چیز کا حکم دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ مومنوں کو کہہ دیں کہ میں نہیں جانتا کہ قیامت کے روز میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں وضاحت فرما دی : (الفتح 2) اس کے بعد مومنوں کی حالت کو بیان فرمایا پھر کافروں کی حالت کو بیان فرمایا : میں کہتا ہوں : یہ قول اول کا معنی ہے مگر اس میں نسخ کا ذکر بیان کے معنی میں کیا اور یہ حکم دیا کہ یہ مومنوں کو کہہ دیں صحیح وہ ہے جو ہم نے حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے بیان کیا ہے میں ما کے بارے میں جائز ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ موصولہ ہے اور یہ بھی کہا جائے کہ یہ موصولہ ہے او یہ بھی جائز ہے کہ اسے استفہامیہ بنایا جائے اور یہ مرفوع ہو اسے یوحی بھی پڑھا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے اس کے بارے میں بحث کئی دفعہ پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟ ) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں (2) آپ نے یہودیوں کے خلاف گواہی دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر تورات میں ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی ہیں۔ ترمذی میں ان سے روایت ہے کہا : میرے بارے میں کتاب اللہ کی آیات نازل ہوئیں میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی سورة رعد کے آخر میں بھی گزر چکا ہے۔ مسروق نے کہا : اس آیت کا مصداق حضرت موسیٰ اور تورات ہے حضرت ابن سلام نہیں، کیونکہ آپ مدینہ طیبہ میں اسلام لائے جبکہ سورت مکی ہے : کہا : یہ قریش سے خطاب ہے، شعبی نے کہا : اس سے مراد : بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لائے جبکہ ابن سلام نے نبی کریم ﷺ کی وفات سے دو سال قبل اسلام قبول کیا تھا جبکہ سورت مکی ہے، قشیری نے کہا : جس نے کہا شاہد سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس نے کہا سورت مکی ہے اور حضرت ابن سلام نبی کریم ﷺ کے وصال سے دو سال قبل اسلام لائے یہ بھی جائز ہے کہ آیت مدنی ہو اور اسے مکی سورت میں رکھا گیا ہو، کیونکہ آیت نازل ہوتی تو نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے : ” اسے فلاں سورت میں دیکھو “ آیت مشرکین سے دلیل کے ساتھ مدعا ثابت کرنے کے بارے میں ہے دلیل کے ساتھ مقابلہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت سے معاملات میں یہودیوں کی طرف رجوع کیا کرتے تھے ان کی شہادت مومنوں کے بارے میں ان کے نبی کی شہادت میرے بارے میں واضح ترین دلائل میں سے تھی یہ بھی بعید نہیں کہ سورت یہودیوں کے ساتھ مناظرہ کی صورت میں ہو جب حضرت عبداللہ بن سلام مسلمان کی حیثیت میں آئے جبکہ یہودیوں کو ان کے اسلام کا علم نہ تھا عرض کی : یا رسول اللہ اپنے درمیان اور یہودیوں کے درمیان مجھے حکم بتائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں پوچھا :” عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے ؟ یہودیوں نے کہا : وہ ہمارا سردار اور ہمارا عالم ہے : آپ نے فرمایا :’ وہ تو مجھ پر ایمان لا چکا ہے “ تو یہودیوں نے حضرت عبداللہ بن سلام کی برائیاں کیں۔ یہ بھی بات پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہودی حضرت عبداللہ بن سلام کے فیصلے پر راضی ہوگئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : اگر اس نے آپ کے حق میں گواہی دی تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے حضرت عبداللہ بن سلام سے پوچھا گیا : تو انہوں نے گواہی دے دی پھر اسلام قبول کرلیا۔ علی مثلہ جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اس کی مثل، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات پر اور حضرت محمد ﷺ نے قرآن پر گواہی دی۔ جرجانی نے کہا : مثل کا لفظ زائد ہے پھر کلام اس طرح ہوگی۔ وہ گواہ ایمان لے آیا تم نے ایمان لانے میں تکبر کیا۔ کا جواب مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہے یہ زجاج کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کیا تم نے ظلم نہیں کیا اللہ تعالیٰ اس کی وضاحت فرماتا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسا لفظ ہے جو سوال اور استفہام کے لئے وضع کیا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ مفعول کا تقاضا نہیں کرتا۔ نقاش اور دوسرے علماء نے یہ حکایت بیان کی ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے (2) تقدیر کلام یہ ہو گی
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے اور چھ اقوال ہیں : 1 ۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں حضرت ابو ذر غفاری کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے دعوت قبول کرلی ان کی قوم نے ان سے پناہ چاہی تو ان کا سردار آیا تو وہ بھی مسلمان ہوگیا پھر سردار نے قوم کو اسلام کی دعوت دی تو وہ بھی مسلمان ہوگئے یہ خبر قریش کو پہنچی تو انہوں نے کہا : بنو غفار تو حلیف لوگ ہیں اگر یہ دعوت خیر ہوتی تو بنو غفار ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ ابو متوکل کا قول ہے : 2 ۔ حضرت زنیرہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی نظر خراب ہوگئی لوگوں نے کہا : لات و عزی نے تیری نظر خراب کی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر لوٹا دی قریش کے سرداروں نے کہا : (حضرت محمد ﷺ جو لائے ہیں اگر وہ بہتر ہوتا تو زنیرہ ہم سے اس کی طرف سبقت نہ لے جاتی، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : یہ عروہ بن زبیر کا قول ہے۔ 3 ۔ بنو عامر، بنو غطفان، بنو تمیم، بنو اسد، بنو حنظلہ اور بنو اشجمع میں سے کافروں نے کہا، جو لوگ بنی غفار، بنی اسلم، بنی جہینہ، بنی مزینہ اور بنی خزاعہ سے اسلام لائے تو انہوں نے کہا : (حضرت محمد ﷺ جو کچھ لائے ہیں اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو گائے، بھیڑ، بکری کے بچوں کو چرانے والے ہم پر سبقت نہ لے جاتے کیونکہ ہم ان سے بہتر ہیں، یہ کلبی اور زجاج کا قول ہے، قشیری نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے قتادہ نے کہا : یہ آیت قریش کے مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی، انہوں نے کہا : (حضرت محمد ﷺ جس امر کی ہمیں دعوت دیتے ہیں تو بلال، صہیب، عمار، فلاں اور فلاں ہم پر سبقت نہ لے جاتے، یہ چوتھا قول ہے۔ 5 ۔ یہودیوں میں سے کافروں نے اپنے میں سے مومنوں یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کو کہا : اگر (حضرت محمد ﷺ کا دین حق ہوتا تو وہ ہم پر اس کی طرف سبقت نہ لے جاتے یہ اکثر مفسرین کی رائے ہے ثعلبی نے بھی یہ حکایت بیان کی ہے مسروق نے کہا : کفار نے کہا اگر یہ بہتر ہوتا تو یہودی اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کفار کی جانب سے یہ معاوضہ جو ان کے قول میں ہوتا :” اگر یہ خیر ہوتا وہ ہم سے اس کی طرف سبقت نہ جاتے۔ “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کفار کی جانب سے یہ معارضہ جو ان کے قول میں ہوتا : اگر یہ خیر ہوتا تو وہ ہم سے اس کی طرف سبقت نہ لے جاتے “ یہ بڑے معارضات میں سے ایک تھا کیونکہ یہ اس پر منطبق ہوجاتا جو ان سے مخالفت کرتا یہاں تک کہ یہ انہیں کہا جاتا : جس پر تم ہو اگر یہ بہتر ہوتا تو ہم اس پر نہ پھرتے، اگر رسولوں کی تکذیب بہتر ہوتی تو تم ہم پر سبقت نہ لے جاتے (1) یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ پھر یہ کہا گیا : یہ قول اس کے بارے میں یہ جائز ہے کہ یہ کفار کا بعض مومنوں کے لئے قول ہو او یہ بھی جائز ہے کہ یہ خطاب کے صیغہ سے غیبت کے صیغہ کی طرف خطاب ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یونس 22) و ضمیر سے مراد ایمان ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا، مراد قرآن حکیم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے (1) جب انہوں نے قرآن سے ہدایت حاصل نہ کی اور نہ اس سے جو اس قرآن کو بلایا تو اس سے دشمنی کی اور اسے جھوٹ کی طرف منسوب کیا اور کہا : یہ پرانا جھوٹ ہے جس طح انہوں نے اس کے بارے میں کہا : (الانعام) کسی سے پوچھا گیا : کیا قرآن میں بھی ہے جو آدمی کسی چیز سے ناواقف ہوتا ہے وہ اس سے دشمنی کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اس کی مثل ہے (یونس 39)
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

یعنی قرآن سے پہلے تعنی تورات اس میں جو کچھ ہے اس کی اقتدا کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رحمت ہے کلام میں حذف ہے یعنی تم اس سے ہدایت نہ پائو گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تورات میں نبی کریم ﷺ کی نعت اور آپ پر ایمان لانے کا ذکر ہے تو انہوں نے اسے ترک کیا۔ حال کی حیثیت سے منصوب ہوگا، کیونکہ معنی ہے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بطور امام گزر چکی ہے۔ پر معطوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اخفش نے کہا : ماقبل سے الگ ہونے کی بناء پر منصوب ہے کیونکہ کتاب موسیٰ اضافت کی وجہ سے معرفہ ہے، کیونکہ نکرہ کو جب دوبارہ ذکر کیا جائے یا اسے مضاف کیا جائے یا اس پر الف لام داخل کردیا جائے تو وہ معرفہ ہوجاتا ہے۔ کتب مراد قرآن ہے یہ تورات اور اس سے قبل کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرنے والی ہے یہ حال ہونے کی حیثیت سے منسوب ہے یعنی عربی ہوتے ہوئے سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے یہ حال کی تمہید کے لئے ہے یعنی تاکید ہے جس طرح تیرا قول ہے تو تو رجلا کو تاکید کے طور پر ذکر کرے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوئی ایک قول یہ کیا گیا ہے : حرف جار کے حذف کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لفظ لسان مفعول بہ ہے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یہ عربی زبان والے کی تصدیق کرنے والی ہے۔ لفظ لسان مصدق کی وجہ سے منصوب ہے وہ نبی کریم ﷺ کی ذات ہے یہ قول بعید ہوگا کہ لسان سے مراد قرآن لیا جائے کیونکہ اس صورت میں معنی ہوگا وہ اپنی ذات کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ کتاب کے بارے میں خبر دے رہی ہے یعنی جن لوگوں نے کفر اور معصیت کے ساتھ اپنی جانوں پر ظلم کیا انہیں یہ کتاب خبردار کرنے والی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں خبر دے رہی ہے، نافع، ابن عامر اور بزی نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النازعات 45) بشری محل رفع میں ہے یعنی ھو بشری۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا عطف کتاب پر ہے یعنی ہذا کتاب مصدق و بشری یہ بھی جائز ہے کہ حرف جار کے حذف کی وجہ سے منصوب ہو تقدیر کلام یہ ہوگی۔ جب حرف جار کو حذف کیا گیا تو اسے نصب دی ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، جب اسے بشارۃ کی جگہ رکھا تو اسے نصب دی، جس طرح تو کہتا ہے : معنی ہوگا میں تیری ملاقات کروں گا میں تیری عزت کروں گا اور تیرا حق ادا کروں گا۔ کر امۃ کے لفظ کو فعل مضمر کی وجہ سے نصب دی گئی۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی (1) آیت عام ہے مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اسکو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں انکا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (و تقوٰی) دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

اس میں سات مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1:۔ انسان کی اپنے والدین کے ساتھ حالت کے اختلاف کو بیان کیا کبھی وہ ان دونوں کی اطاعت کرتا ہے اور کبھی ان کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کی مثل نبی کریم ﷺ اور آپ کی قوم میں بعید نہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض آپ کی دعوت قبول کیں اور بعض انکار کریں یہ کلام کے بعض سے اتصال کی صورت ہے، یہ قشیری کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 2: حسنا عام قرأت حسنا ہے اہل حرمین اہل بصرہ اور اہل شام کے مصاحف میں بھی اسی طرح ہے حضرت ابن عباس اور کو فیوں نے اسے احسنا پڑھا ہے ان کی حجت سورة الانعام اور بنی اسرائیل میں ہے (بقرہ 83) کوفہ کے مصاحف میں اسی طرح ہے (1) پہلی قرأت کی حجت اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان ہے جو سورة عنکبوت میں ہے اس میں قراء نے اختلاف نہیں کیا۔ حسن قبح کا خلاف ہے احسان کے خلاف ہے توصیۃ کا معنی حکم دینا ہے اس بارے میں اور جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی گفتگو گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 3:۔ یہاں باء حرف حذف ہے اصل میں بکرۃ و مشقۃ تھا عام قرأت کاف کے فتحہ کے ساتھ ہے ابو عبید نے اسے پسند کیا، اسی طح لفظ کرہ پورے قرآن میں فتحہ کے ساتھ ہے مگر وہ جو سورة بقرہ میں ہے کیونکہ وہ اسم ہے اور یہ تمام مصادر ہیں۔ کو فیوں نے گڑھا ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں، جس طرح ہے یہ کسائی کا قول ہے تمام بصریوں کے نزدیک یہ اسی طرح ہے۔ کسائی نے بھی یہ کہا ہے فراء نے دونوں میں فرق کیا ہے کہ کرہ جب ضمہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد وہ تکلیف ہوتی ہے جو انسان اپنی ذات پر برداشت کرتا ہے اور فتحہ کے ساتھ وہ ہوتی ہے جو غیر پر لازم کرتا ہے اس سے مراد قہر اور غضب ہے اسی وجہ سے بعض عربوں نے کہا : کرھا یہ غلط ہے۔ مسئلہ نمبر 4: حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب وہ نو ماہ تک حاملہ رہے تو وہ 21 ماہ تک دودھ پلائے اگر وہ چھ ماہ تک حاملہ رہے تو چوبیس ماہ تک دودھ پلائے۔ (1) یہ روایت کی گئی کہ حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں ایک عورت لائی گی جس نے چھ ماہ میں بچہ جن دیا تھا آپ نے ارادہ کیا کہ اس پر حد جاری کیں حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ اس پر لازم نہیں ہوتی : اللہ کا فرمان ہے : (بقرہ 233) دودھ پلانے کی مدت چوبیس ماہ اور حاملہ کی مدت چھ ماہ ہے حضرت عثمان ؓ نے اپنے فیصلہ سے رجوع کرلیا اور اس پر حد جاری نہ کی سورة بقرہ میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے حمل کے ابتدائی تین ماہ کو شمار نہیں کیا کیونکہ ان تینوں مہینوں میں وہ نطفہ، علقہ اور مضغہ ہوتا ہے اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا جس کو محسوس کیا جائے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (اعراف 189) فصال کا معنی دودھ چھڑانا ہے سورة لقمان میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت حسن بصری یعقوب اور دوسرے علماء نے وفصلہ پڑھا ہے روایت بیان کی گئی ہے کہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کا حمل اور دودھ چھڑانے کا عرصہ تین سال تھا ان کی ماہ نے انہیں نو ماہ تک رحم میں اٹھایا اور اکیس ماہ تک دودھ پلایا کلام میں اضمار ہے یعنی ان کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ تھی اگر یہ اضمار نہ ہوتا تو ثلاثین کی ظرف کی وجہ سے نصب دی جاتی اور معنی بدل جاتا۔ مسئلہ نمبر 5:۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ مدت اٹھارہ سال سے ہے عطا نے ان سے جو روایت کی وہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نبی کریم ﷺ کے دوست بنے جبکہ ان کی عمر اٹھارہ سال تھی جبکہ نبی کریم ﷺ کی عمر بیس سال تھی۔ یہ لوگ تجارت کے لئے شام کا ارادہ رکھتے تھے وہ ایک جگہ اترے جس میں بیری کا درخت تھا نبی کریم ﷺ اس کے سائے میں بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ایک راہب کے پاس گئے تاکہ اس سے دین کے باے میں کوئی بات پوچھیں۔ راہب نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ نبی ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی آدمی اس درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے نہیں بیٹھا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دل میں یقین اور تصدیق بیٹھ گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق سفر و حضر میں جدا نہیں رہتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا جبکہ آپ کی عمر مبارک چالیس سال تھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ کی تصدیق کی جبکہ آپ کی عمر مبارک 38 سال تھی۔ جب چالیس سال کے ہوئے تو دعا کی (نمل 19) امام شعبی اور ابن زید نے کہا : الاشد سے مراد حلم ہے حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد چالیس سال کی عمر کو پہنچنا ہے۔ اسی سے اس امر پر دلیل قائم کی جاتی ہے سورة الانعام میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ سدی اور ضحاک نے کہا : یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص کے حق میں نازل ہوئی یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : یہ عام ہے او عمومی حکم لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 6: یعنی مجھے الہام کیجئے۔ یہ محل نصب میں ہے جو مفعول مطلق کے قائم مقام ہے تقدیر کلام یہ ہوگی جو تو نے ہدایت کی صورت میں مجھ پر انعام فرمایا ہے۔ یعنی میرے والدین پر شفقت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے میری چھوٹی عمر میں تربیت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو نے مجھے پر صحت و عافیت کے ساتھ انعام فرمایا اور میرے والدین پر غنا اور ثروت کے ساتھ انعام فرمایا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی اور ان کے دونوں والدین مسلمان ہوئے مہاجرین میں سے آپ کے علاوہ کسی کو یہ شرف حاصل نہ ہوا کہ اس کے والدین مسلمان ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ نے انہیں ان دونوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیا اور آپ کے بعد ہر کسی کے لئے یہ حکم لازم ہوگیا۔ ان کے والد حضرت ابو قحانہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم تھے۔ ان کی والدہ ام الخیر تھی اس کا نام سلمی بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق کی دادی کا نام قیلہ تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق کی بیوی کا نام قتیلہ تھا جو عبدالعزی کی بیٹی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی تو آپ نے ان نو غلاموں کو آزاد کیا جن کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا ان میں حضرت بلال، حضرت عامر بن فیرہ بھی تھے آپ نے بھلائی میں سے کسی چیز کی دعا نہیں کی مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی مدد کی۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج تم میں سے کون روزے سے ہے “ (1) حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : میں : پوچھا : ” آج تم میں سے کس نے نماز جنازہ پڑھی ؟ “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی، میں نے۔ فرمایا : ” آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟ “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی۔ میں نے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یہ امور کسی انسان میں جمع نہیں ہوتے مگر وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ “ مسئلہ نمبر 7:۔ یعنی میری ذریت کو صالحین میں سے بنا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اولاد اور والدین میں سے کوئی بھی نہ رہا مگر وہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک پر ایمان لائے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے حضرت ابوبکر صدیق کے سوا کوئی بھی ایسا نہ تھا جو خود اس کے والدین اس کے بچے اور بچیاں صحابی ہوں۔ سہل بن عبداللہ نے کہا : معنی ہے انہیں میرا اچھا نائب اور تیرا سچا بندہ بنا دے۔ (2) ابو عثمان نے کہا : انہیں میرے ساتھ حسن سلوک کرنے والا اور اپنا اطاعت گزار بنا دے۔ ابن عطا نے کہا : انہیں ایسے اعمال صالح کی توفیق دے جن کے ساتھ تو ان پر اضی ہو ہوجائے محمد بن علی نے کہا : شیطان نفس اور خواہش کو تو ان پر غلبہ نہ دے۔ مالک بن مغول نے کہا : ابو معشر نے اپنے بیٹے کی شکایت حضرت طلحہ بن مصرف سے کی، فرمایا : اس آیت کے ذریعے اس کے خلاف مدد طلب کر۔ اور یہ آیت پڑھی : یعنی میں نے اس امر سے رجوع کرلیا جس میں میں تھا یعنی میں توحید میں مخلص ہوں۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم نے قبول کرینگے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

عام قراء کی قرأت ہے اسے زیاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے، دونوں میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے حفص، حمزہ او کسائی نے دونوں میں نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہم انہیں بخش دیتے اور درگزر سے کام لیتے ہیں تجاوز کا اصل معنی ہے اس وقت کہتے ہیں جب تو اس چیز پر نہ رکے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اس سے پہلے آیت آخر تک کسی کے ساتھ مقید نہیں بلکہ عموم کے لئے نازل ہوئی ہے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : معنی ہے ہم ان کی نیکیاں قبول کرتے ہیں اور ان کی سینات سے درگزر کرتے ہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : وہ اسے مرفوع نقل کرتے ہیں جب وہ اسلام لائیں گے تو ان کی نیکیاں قبول ہوں گی اور برائیاں بخش دی جائیں گی (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : احسن سے مراد طاعات میں سے وہ اعمال ہیں جو ثواب کا تقاضا کرتے ہیں حسن مباح میں نہ ثواب ہے نہ عقاب ہے اور یہ ابن عیسیٰ نے بیان کیا ہے۔ (2) فی مع کے معنی میں ہے یعنی جنتیوں کے ساتھ، تو کہتا ہے، البلد یہاں بھی فی مع کے معنی میں ہے۔ یہ منصوب ہے کیونکہ یہ مفعول مطلق ہے اور ما قبل کی تاکید کے لئے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ محسن کی نیکیاں قبول کرے او گناہ گار سے درگزر کرے۔ یہ سچا وعدہ ہے نفسہ کے باب سے ہے کیونکہ صدق وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (الواقعہ) کی طرح ہے یہ کو فیوں کی رائے ہے جہاں تک بصریوں کا تعلق ہے اس کی تقدیر یہ ہے تو موصوف کو حذف کردیا گیا ہے یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ یعنی دنیا میں رسولوں کی زبانوں پر ان سے وعدہ کیا جاتا تھا اس سے مراد جنت ہے۔
Ayahs 46:17–18

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اف اف ! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤنگا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کمبخت ایمان لا خدا کا وعدہ تو سچا ہے تو کہنے لگے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) امتوں میں سے جو ان کے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ تحقیق ہوگیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

اخرج یعنی مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ نافع، حفص اور دوسرے قراء نے افسکور اور منون پڑھا ہے ابن کثیر، ابن محیصن، ابن عامر اور مفضل نے عاصم سے اف تنوین کے بغیر مفتوح منقول ہے باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ یہ تمام لغتیں ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ بات گزر چکی ہے۔ عام قرأت مخففہ نونوں کے ساتھ ہے۔ اہل مدینہ اور اہل مکہ نے اس کی یاء کو فتحہ دیا ہے : باقی قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔ ابو حیوہ، مغیرہ اور ہشام نے نون مشددہ کے ساتھ پڑھا ہے اہل شام کے مصاحف میں اسی طرح ہے عام قرأت ان کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ ہے حضرت حسن بصری، نصر، ابو عالیہ، اعمش اور ابو معمر نے الف کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس، سدی، ابو العالیہ، اور مجاہد نے کہا : یہ آیت عبداللہ بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (1) عبداللہ کے والدین اسے اسلام کی طرف دعوت دیتے تو وہ اپنے والدین کو وہ جواب دیتا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی۔ قتادہ اور سدی نے بھی یہ کہا ہے، وہ عبدالرحمن بن ابی بکر تھے وہ ان کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ عبدالرحمن کے والد، اس کی والدہ حضرت ام روحان اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے اور دوبارہ اسے اٹھانے کی دعوت دیتے تھے تو وہ اپنے والدین کو جواب دیتا جس کی اللہ تعالیٰ نے وصیت بیان کی ہے یہ اس کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس امر کا انکار کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عبدالرحمن کے بارے میں نازل ہو حضرت حسن بصری اور قتادہ نے بھی یہ کہا : یہ ایک ایسے بندے کی صفت ہے جو کافر تھا اور اپنے والدین کا نافرمان تھا : زجاج نے کہا : یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ یہ آیت حضرت عبدالرحمن کے بارے میں اسلام لانے سے قبل نازل ہوئی جبکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : قول سے مراد عذاب ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ایمان نہ ہو جبکہ حضرت عبدالرحمن بی ابی بکر مومنوں میں سے بڑی فضلیت کے حامل تھے صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ایسے کافر بندے کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے والدین کا نافرمان تھا۔ محمد بن زیاد نے کہا : حضرت معاویہ ؓ نے مروان بن حکم کی طرف خط لکھا کہ لوگوں سے یزید کے لئے بیعت لیں تو حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر نے کہا : تم نے ہر قل والا کام کیا ہے کیا تم اپنے بیٹوں کے لئے بیعت لیتے ہو، مروان نے کہا : یہ عبدالرحمن وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہا : اللہ کی قسم وہ عبدالرحمن نہیں اگر میں چاہوں تو میں اس کا نام بھی لے دوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے تیرے باپ پر لعنت کی جبکہ تو اس کی پشت میں تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کا لعنت کا ایک حصہ ہے : مہدوی نے کہا : جس نے یہ کہا کہ یہ آیت حضرت عبدالرحمن کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس نے القول سے مراد لیا ہے کہ یہ اس کے متعلق ہے جو وہ اعتقاد رکھتا ہو جس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ آیت کا ابتدائی حصہ خاص ہے اور آخری حصہ عام ہے۔ ایک قول میں یہ کیا گیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن نے جب یہ کہا : اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا تھا تو پھر عبداللہ بن جدعان، عثمان بن عمرو، عامر بن کعب اور قریش کے مشائخ کہاں ہیں یہاں تک کہ میں ان سے پوچھوں کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ ان لوگوں کی طرف لوٹتا ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر کے بارے میں واقعہ سورة انعام کی آیت (انعام 71) میں گزر چکا ہے جو اس آیت کے حضرت عبدالرحمن کے بارے میں نازل ہونے پر دلالت کرتا ہے جب وہ کافر تھے اور سلام لانے اور اپنی فضلیت کے باعث وہ اس کلام کا مصداق نہ رہے۔ یعنی اس کے والدین دونوں اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے لئے ہدایت کی التجا کرتے ہیں یا کفر سے چھٹکارا کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جب حرف جار کو حذف کردیا اور معفول فعل کے ساتھ مل گیا تو اسے نصب دے دی گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : استغاثہ سے مراد دعا ہے تو باء کی ضرورت ہی نہیں۔ فراء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول کیا۔ تو ہلاک ہوا ایمان لے آ اور دوبارہ اٹھائے جانے کی تصدیق کر۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اس میں خلاف ورزی کی کوئی صورت نہیں۔ وہ کہتا ہے جو اس کے والدین کہتے ہیں : نہیں ہیں یہ : مگر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں اور جن کو انہوں نے لکھا ہے جبکہ ان کی کوئی اصل نہیں۔ یعنی وہ لوگ جن کی طرف ابن ابی بکر نے اپنے قول میں اشارہ کیا تھا میرے لئے قریش کے مشائخ کو زندہ کرو یہاں بھی وہی مراد ہیں جہاں تک حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹھے عبداللہ یا عبدالرحمن کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ان کے باپ کی دعا قبول کرلی۔ جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ کا معنی ہے ان پر عذاب لازم ہوچکا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ لوگ جنت میں ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ لوگ جہنم میں ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ یہاں فی مدع کے معنی میں ہے قدخلت یعنی گزر چکے ہیں۔ یعنی کافر جن و انس میں سے۔ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے خسارہ پانے والوں میں سے تھے، یعنی ان کی سعی ضائع ہوگئی اور جنت کو حاصل نہ کرسکے۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہونگے انکے مطابق سب کے درجے ہوں گے غرض یہ ہے کہ ان کو انکے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

جنوں اور انسانوں میں سے مومنوں اور کافروں کی دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کے قیامت کے روز اعمال کے مطابق مراتب ہوں گے ابن زید نے کہا : اس آیت میں جہنمیوں کے درجات نچلی جانب اور جنتیوں کے درجات اوپر کی جانب جاتے ہیں (1) ابن کثیر، ابن محیصن، عاصم، ابوبکر اور یعقوب نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرما ہے : ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے، باقی قراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کی طرف لوٹایا ہے، یہ ابو عبید کا پسندیدہ مسلک ہے۔ یعنی گناہ گار پر عذاب میں زیادتی اور نیکو کار کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔