46. Surah Al-Ahqaf
الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر القرطبی
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader
پس (اے محمد) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن (یہ قرآن) پیغام ہے سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حزم و صبر والے : مجاہد نے کہا : وہ پانچ ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام۔ یہ سب شریعتوں والے ہیں۔ ابو العالیہ نے کہا : اولو العزم رسول یہ ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، (1) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا کہ وہ چوتھے ہوجائیں۔ سدی نے کہا وہ چھ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد علیہ الصلوۃ والسلام۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ۔ یہ سب سورة اعراف اور سورة شعرء میں مذکور ہیں۔ مقاتل نے کہا : یہ چھ ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایک مدت تک اپنی قوم کی اذیتوں پر صبر کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آگ پر صبر کیا حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے ذبح پر صبر کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بچے کے گم ہونے پر اور نظر کے چلے جانے پر صبر کیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کنویں میں گرنے اور قید خانے میں گرنے پر صبر کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیماری پر صبر کیا۔ (2) ابن جریج نے کہا : ان میں حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب اور حضرت ایوب ہیں ان میں حضرت یونس، حضرت سلیمان اور حضرت آدم (علیہ السلام) نہیں۔
شبعی، کلبی اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ رسل ہیں جن کو جہاد کا حکم دیا گیا انہوں نے مکاشفہ کو ظاہر کیا اور کافروں سے جہاد کیا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ عظیم رسول ہیں جو سورة انعام میں مذکور ہیں وہ اٹھارہ ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت ایوب (علیہ السلام) ، حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) ، حضرت یونس (علیہ السلام) ، اور حضرت لوط (علیہ السلام) ، حسن بن فضل نے اس قول کو پسند کیا ہے کیونکہ اس کے بعد میں ہے : (الانعام 90)
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تمام رسولوں اولوالعزم تھے، اسے علی بن مہدی طبری نے پسند کیا ہے : کہا : اس میں من جنس کو ظاہر کرنے کے لئے ہبعضیت کو بیان کرنے کے لئے نہیں، جس طرح تو کہتا ہے : میں نے بنر کی بنی چادریں اور حز کی بنی کسائیں خریدیں، یعنی آپ صبر کریں جس طرح رسولوں نے صبر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمام انبیاء اولوالعزم ہیں مگر حضرت یونس بن متی کیا تو نہیں دیکھتا کہ نبی کریم ﷺ کو اس امر سے منع کیا گیا کہ آپ ان کی مثل ہوجائیں اس کی وجہ ان کا ہلکا پن او جلد بازی ہے جو ان سے اس وقت ظاہر ہوئی جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے تین امور کے ساتھ انہیں آزمایا۔ اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کو ان پر مسلط کردیا یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے اہل اور مال پر غارت گری مچائی اللہ تعالیٰ نے بھیڑئیے کو ان کے بیٹے پر مسلط کردیا تو وہ اسے کھا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان پر مسلط کردیا تو اس نے آپ کو نگل لیا یہ بات ابوالقاسم حکیم نے کہی ہے۔
بعض علماء نے کہا : اولوالعزم نبی بارہ ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی طرف شام کے علاقہ میں بھیجا گیا۔ تو بنی اسرائیل نے ان کی نافرمانی کی : اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کی کہ میں اپنا عذاب بنی اسرائیل کے نافرمانوں کی طرف بھیجنے والا ہوں یہ امر رسولوں پر شاق گزرا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی، اپنے لئے پسند کرلو اگر چاہو تو میں تم پر عذاب کو نازل کر دوں او بنوں اسرائیل کو نجات دے دوں اور اگر چاہو تو تمہیں نجات دے دوں اور عذاب بنی اسرائیل پر نازل کر دوں انہوں نے آپ میں مشورہ کیا تو ان کی رائے اس بات پر متفق ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کو نازل کردے اور بنی اسرائیل کو نجات عطا فرما دے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو نجات دی اور ان پر عذاب کو نازل کردیا اس کی صورت یہ بنی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زمین کے بادشاہوں کو مسلط کردیا ان میں سے کسی کو آری سے چیر دیا گیا، کسی کو چہرے اور سر کی جلد اتار لی گئی، کسی کو سولی پر لٹکایا گیا یہاں تک کہ وہ مرگیا کسی کو آگ میں جلایا دیا گیا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
حضرت حسن بصری نے کہا : الولو العزم چار تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (1) جہاں تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو انہیں کہا گیا : (بقرۃ) پھر ان سے ان کے مال، ان کی اولاد، وطن اور ذات کے بارے میں امتحان لیا گیا تو جن جن امور میں ان کا امتحان لیا گیا ان میں آپ کو پورا اور سچا پایا گیا۔ جہاں تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو انہوں نے عزم کا اظہار کیا جب ان کی قوم نے ان کو کہا : (الشعرائ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (الشعرائ) جہاں تک حضرت دائود (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو ان سے خطاء ہوئی تو تو اس خطا پر انہیں متنبہ کیا گیا، آپ چالیس سال تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوئوں سے درخت اگ آئے تو آپ اس کے سائے میں بیٹھے۔ جہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو انہوں نے یہ عزم کیا کہ وہ ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہ رکھیں گے۔ انہوں نے فرمایا : یہ ایک راستہ ہے اسے عبور کرو اسے آباد نہ کرو۔
گویا اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے ارشاد فرمایا ہے : صبر کیجئے، جن امور میں آپ کو آزمایا گیا ہے ان میں سچے ہوجائیں جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سچ کا اظہار کیا اپنے مولی کی مدد پر اس طرح اعتماد کرتے ہوئے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اعتماد تھا، اپنی لغزشوں پر ایسے غم کا اظہار کیجئے جس طرح حضرت دائود (علیہ السلام) نے غم کا اظہار کیا تھا اور دنیا میں ایسا زاہد اختیار کیجئے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے زاہد اختیار کیا تھا۔ پھر یہ کہا گیا : یہ آیت آیت سیف سے منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت محکم ہے۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ منسوخ ہے کیونکہ سورت مکی ہے۔ مقاتل نے یہ ذکر کیا ہے ؎ یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ جو مصیبت آپ کو پہنچی ہے اس پر صبر کیجئے۔
جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا، مقصود اس امر کو آپ پر آسان کرنا اور اس پر ثابت قدم رکھنا تھا۔ مقاتل نے کہا : ان کے حق میں بددعا کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر عذاب کے نازل ہونے کے بارے میں جلدی نہ کیجئے کیونکہ قیامت کے روز یہ ان کے مقاصد میں سب سے بعیدی مقصد ہوگا۔ استعجال فعل کا مفعول مخدوف ہے اور وہ عذاب ہے۔
یحییٰ نے کہا : سے مراد عذاب ہے (1) ۔ نقاش نے کہا : مراد آخرت ہے (2) وہ دنیا میں نہ رہے یہاں تک کہ انہیں عذاب نے آ لیا (3) یہ یحییٰ کے قول کا مقضنا ہے : نقاش نے کہا : وہ اپنی قبروں میں رہیں گے یہاں تک کہ انہیں حساب کے لئے اٹھا لیا جائے گا۔ یعنی یوم قیامت کا ایک حصہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے جو عذاب دیکھا اس کی ہولناکی نے انہیں دنیا میں طویل عرصہ تک رہنے کے عمل کو بھلا دیا۔ پھر کہا : رفع کو مبتدا کے مضمر ہونے کی بناء پر ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ابراہیم 52) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانبیائ) بلاغ، تبلیغ کے معنی میں ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ٹھہرنا ہی بلاغ ہے (4) یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے اس تعبیر کی صورت میں وقف بلغ اور نہار پر ہوگا۔
ابو حاتم نے ذکر کیا ان میں سے بعض نے پر وقف کیا پھر لھم سے کلام کا آغاز کیا کلام یوں ہوگی لھم بلاغ۔ ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ تو نے البلاغ اور لام میں فاصلہ کردیا ہے۔ عربی زبان میں بلاغا اور بلاغ دونوں اعتبار سے کہ کلام ہے من نہار بلاغ۔ نصیب کے ساتھ عیسیٰ بن عمر اور حضرت حسن بصری نے پڑھا ہے۔ بعض قراء سے یہ مروی ہے بلاغ یہ امر کا صیغہ ہے۔ اس صورت میں وقف منہار پر ہے پھر بلغ سے کلام شروع ہوگی۔
یعنی اللہ کے حکم سے خارج۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ابن محیصن نے پڑھا فعل قوم کی طرف منسوب ہے حضرت ابن عباس ؓ جب عورت پر بچے کی پیدائش مشکل ہوجائے تو یہ دوآیتیں اور دو کلمے ایک کاغذ پر لکھے جائیں پھر انہیں دھویا جائے اور اسے پلایا جائے وہ یہ ہیں : جو عظیم شان والا ہے اس نے سچ بولا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ بلاک نہیں کرتا مگر مشرک کو (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امید میں سب سے قومی آیت ہے۔