Ayah 46:20اے محمد ﷺ انہیں یاد دلائیے جس روز انہیں پیش کیا جائے گا۔ یعنی جہنم سے پردہ ہٹایا جائے گا انہیں آگ کے قریب کیا جائے گا اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے۔ یعنی انہیں کہا جائے گا قول مضمر ہے۔ حضرت حسن بصری، نصر ابو العالیہ، یعقوب، اور ابن کثیر نے وہ ہمزہ مخففہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ بغیر مد کے جملہ خبر یہ کی صورت میں پڑھا ہے یہ سب فصیح لغتیں ہیں۔ اس کا معنی شرمندہ ہونا ہے عرب استفہام کے ساتھ اور استفہام کے بغیر شرمند کرتے ہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
ابو عبید نے استفہام کے ترک کو اختیار کیا ہے کیونکہ آئمہ سبعہ میں سے یہ اکثر کی قرأت ہے یعنی نافع، عاصم، ابو عمرو، حمزہ اور کسائی ساتھ ہی ساتھ ان کے ساتھ شیبہ، زہری، ابن محیصن، مغیرہ بن ابی شہاب، یحییٰ بن حارث، اعمش، یحییٰ بن وثاب اور دوسرے قراء ہیں یہی وہ قراء ہیں جن کی قرأت پر اکثر لوگوں کو اتفاق ہے۔ استفہام کا ترک کرنا احسن ہے کیونکہ ہمزہ کا اثبات اس امر کا وہم دلاتا ہے کہ انہوں نے یہ عمل نہیں کیا تھا جس طرح تو کہتا ہے تو اس سے تو یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں نے تجھ پر ظلم نہیں کیا۔ ہمزہ کو ثابت رکھنا بھی اچھا ہے ایک کہنے والا کہتا ہے۔ وہ تو بیخ کرتا ہے اور کہتا ہے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ تم دنیا میں پاکیزہ چیزوں سے لطف اندوز ہوتے رہے اور تم نے شہوات اور لذات کی پیروی کی، مراد نافرمانیاں ہیں۔
یعنی ذلت اور رسوائی کا عذاب : مجاہد نے کہا : ھون سے مراد ھولنا ہے (1) قتادہ نے کہا : یہ قریش کی لغت کے مطابق ہے۔
یعنی اس کے باعث تم اہل زمین پر ناحق بلند مرتبہ چاہتے تھے اس کے باعث کہ تم اپنے افعال میں بغاوت اور ظلم کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی تم نے اپنی جوانی کفر اور معاصی میں فنا کردی ابن بحر نے کہا : طیبات سے مراد جوانی اور قوت ہے (2) یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے یعنی اس کی جوانی اور قوت ختم ہوگئی ماوردی نے کہا : میں نے ضحاک کو پایا کہ اس نے بھی یہی معنی کیا ہے۔
ابو عبید نے حضرت عمر کی حدیث میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں، ایک حدیث میں ابو عمرو اور دوسرے علماء نے کہا : اور کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی بھنا ہوا گوشت ہے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اسے آگ پر بھونا جاتا ہے اصلاء کا معنی صلاء النار بھی ہے اگر تو صاد کو فتحہ دے گا تو آخر میں الف مقصودہ ہوگا اور تو کہے گا : صناب وہ چٹنی جو رائی اور کمشکش سے بنائی جاتی ہے اور عمرو نے کہا : اسی وجہ سے بردون کو صنابی کہتے ہیں کیوان کہ اس کا رنگ اس کے مشابہ ہوتا ہے : کہا : سلائق جب سین کے ساتھ ہو تو اس سے مراد سبزی وغیرہ میں سے ابلی ہوئی چیز ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ لفظ صاد کے ساتھ ہے : جریر نے کہا :
تو مجھے آل زید کی زندگی کا مکلف بناتا ہے تو کون میرے لئے پتلی روٹی اور بھنے گوشت کا اہتمام کرے گا۔
الصلائق سے مراد پتلی چوڑی روٹی ہے یہ بحث سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جہاں تک کرا کر کا تعلق ہے تو اس سے مراد کر اکربل ہے اس کا واحد کر کرۃ ہے جو معروف ہے یعنی سینہ، یہ ابو عبید کا قول ہے۔ صحاق میں ہے الکر کرۃ رحی زو البعیر یعنی اونٹ کے سینے کی چکی ہے۔ یہ پانچ ثفنات٭ میں سے ایک ہے کر کرہ کا معنی لوگوں کی جماعت ہے ابو مالک عمرو بن کر کرہ علماء لغت میں سے ایک ہے ابو عبید نے کہا جہاں تک افلاذ کا تعلق ہے اس کا واحمد فلذ ہے یہ جگر کا ایک ٹکڑا ہے اعشی نے کہا :
اگر وہ اس کے ہاں اترے گا تو بھنے ہوئے جگر کا ایک ٹکڑا اس کے لئے کافی ہوگا اور چھوٹے پیالے کا مشروب اسے سیراب کر دے گا۔
قتادہ نے کہا : ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا : اگر میں چاہتا تو میں تم سے سب سے اچھے کھانے والا ہوتا اور سب سے نرم لباس پہننے والا ہوتا لیکن میں اپنی نیکنیاں آخرت کے لئے باقی رکھنے والا ہوں (1) جب حضرت عمر ؓ شام تشریف لائے تو آپ کے لئے کھانا تیار کیا گیا جس کھانے جیسا آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا فرمایا : یہ ہمارے لئے ہے : تو ان مسلمان فقراء کا کیا ہوگا جو فوت ہوگئے اور جو کی روی سے بھی کبھی سیر نہ ہوتے تھے حضرت خالد بن ولید نے عرض کی : ان کے لئے جنت ہے : حضرت عمر ؓ کی آنکھیں آنسوئوں سے ڈبڈبا گئیں فرمایا : اگر ہمارے حصہ میں دنیا میں سے یہ ٹکڑے ہیں اور وہ اپنے حصے کی جنت میں چلے گئے ہیں تو وہ توم سے بہت دور چلے گئے ہیں۔
صحیح مسلم اور دوسری احادیث کی کتب میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ نبی کریم ﷺ بالائی منزل کے ایک کمرہ میں تشریف فرما تھے یہ اس دور کا واقع ہے جب رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار کی تھی حضرت عمر ؓ متوجہ ہوئے تو کوئی چیز نہ دیکھی جو نظر کو لوٹاتی مگر چمڑے تھے جن پر نمک لگایا گیا تھا جن کی بو سی پھیل رہی تھی 2 میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کے رسول اور اللہ کے منتخب ہیں۔ یہ کسریٰ اور قیصر ہیں جو دیباج و حریر میں ہیں ؟ رسول الللہ ﷺ سیدھے بیٹھ گئے فرمایا : اے ابن خطاب : تو شک میں مبتلا ہے ؟ وہ ایسے لوگ ہیں جن کی عمدہ چیزیں دنیا میں ہی جلدی ان تک پہنچ گئی ہیں “ میں نے عرض کی، میرے لئے بخشش طلب کیجئے، نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی : اے اللہ اسے بخش دے۔
حضرت حفص بن ابی العاص نے کہا : میں حضرت عمر خطاب ؓ کے پاس کھنا کھایا کرتا جو کی روٹی اور زیتوں، روٹی اور سرکہ، روٹی اور دودھ، روٹی اور گوشت کے خشک ٹکڑے ہوتے بہت ہی کم ایسا ہوتا کہ تازہ گوشت ہوا کرتا۔ آپ فرمایا کرتے : آٹے کو چھانا نہ کرو کیونکہ یہ سارے کا سارا کھانا ہے آپ کی خدمت میں روٹی کے ٹکڑے لائے گئے جو موٹے تھے آپ اسے کھانے لگے اور فرمانے لگے : کھائو، ہم نے اسے نہ کھایا، پوچھا تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کھاتے نہیں ؟ ہم نے عرض کی : اے امیر المومنین ! ہم آپ کے اس کھانے سے نرم کھانے کی طرف لوٹیں گے : فرمایا : اے ابن عاص ! تجھے کیا خبر نہیں کہ میں جانتا ہوں اگر میں بکری کے موٹے تازے بچے کے بارے میں حکم دوں اس کے بال اتارے جائیں تو اسے اس طرح بھونا ہوا نکالا جائے ت کیا تو نہیں جانتا کہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں ایک صاع یا دو کشمکش کے بارے میں حکم دوں میں اسے مشکیزے میں رکھوں پھر اس پر پانی انڈیلوں تو وہ صبح تک یوں ہوجائے گا جس طرح ہرن کا خون ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی : اے امیر المومنین ! ہاں جس عیش و نشاط کا آپ ذکر کر رہے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ہاں اس ذات کے سواء کوئی معبود نہیں اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ قیامت کے روز میری نیکیاں کم ہوجائیں گی تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس عیش و نشاط میں شریک ہوجاتے لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو کچھ اقوام کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
سے مراد ھوان (ذلت) ہے ” یعنی اس کی وجہ سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے بڑے بنتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بڑائی کا اظہار کرتے ہو۔ اس وجہ سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جاتے ہو۔ حضرت جابر ؓ نے کہا : میرے گھر والوں نے گوشت کی خواہش کی میں نے ان کے لئے گوشت خریدا میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس سے گزرا پوچھا : اے جابر : یہ کیا ہے ؟ میں نے آپ کو بتایا : پوچھا : کیا تم میں سے جب بھی کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے (1) اسے اپنے پیٹ میں رکھ لیتا ہے کیا وہ نہیں ڈرتا کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے گا۔
ابن عربی نے کہا : یہ حضرت عمر ؓ کی طرف سے عتاب تھا کہ وہ گوشت خریدنے کی وسعت رکھتے تھے اور خشک روٹی اور پانی کے معمول سے نکل چکے ہیں (2) کیونکہ حلال چیز میں سے پاکیزہ چیزوں کے حصول کی طبیعیتیں حریص ہوتی ہیں اور دل ان کو پسند کرتا ہے جب وہ انہیں پاتیں تو وہ شہبات کے ساتھ ان کے حصول کو سہل بنانے کی کوشش کرتی ہیں یہاں تک کہ عادت کے غلبے اور خواہش کے اس کے سنفس پر غلبہ پانے کی وجہ سیجو نفس برائی کا حکم دیتا ہے خالص حرام میں جا واقع ہوتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے معاملہ کو اس کے ابتداء سے ہی پکڑ لیا اور ابتداء سے اسے بچا لیا جس طرح آپ کا معمول تھا اور اس دروازہ کی حفاظت کرتا ہے اور قانون کی پاسداری کرتا ہے تو اس آدمی پر لازم ہے کہ جو پائے اسے کھالے وہ پاکیزہ یا سالن کے بغیر روٹی وہ عمدہ کھانے کا تکلف نہ کرے اور نہ ہی اسے عادت بنائے۔ نبی کریم ﷺ کا معمول مبارک تھا جو پاتے تو سیر ہو کر کھالیتے، جب نہ پاتے تو صبر کرتے، آپ حلوہ کھالیتے جب اس پر قادر ہوتے جب اتفاق ہوتا تو شہد بھی پی لیتے جب میسر ہوتا تو گوشت بھی کھالیتے کسی چیز پر کبھی بھی انحصار نہ کرتے اور نہ ہی اسے عادت بناتے۔ نبی کریم ﷺ کا زندگی کا معمول معروف و مشہور تھا صحابہ کا طریقہ منقول تھا جہاں تک آج کا تعلق ہے حرام اور لقمہ کا فساد غالب آچکا ہے اس سے خلاصی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ خلاصی عطا فرماتا ہے اور چھٹکارا پانے میں اپنی رحمت سے مدد فرماتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے تو بیخ شکر ترک کرنے پر واقع ہے پاکیزہ اور حلال چیزوں کے حصول پر واقع نہیں یہ تعبیر اچھی ہے کیونکہ پاکیزہ حلال چیز کا حاصل کرنا جائز ہے جب وہ اس پر شکر کرنا چھوڑ دے اور اس کے خلاف ایسی چیز سے مدد لے جو حلال ہی نہ ہو تو اس نے نعمت کو ختم کیا۔
Ayah 46:21ہود بن عبداللہ بن رباح (علیہ السلام) ہیں وہ ان کے نبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ان مشرکوں کو عاد کا قصہ یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ کو حکم دیا اپنے دل میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کریں تاکہ اس کی اقتداء کریں اور آپ ﷺ کی قوم آپ کو جھٹلاتی ہے اس کے ذریعے آپ ﷺ پر یہ معاملہ آسان ہوجائے گا احقاف سے مراد عاد کا علاقہ ہے۔ احقاف سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں (1) یہ خلیل اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے وہ لوگ اپنی قوت کے باعث اہل زمین پر غالب آگئے احقاف کی جمع ہے اس سے مراد ریت کا لمبا ٹیلہ ہے جو ٹیڑھا ہو اور پہاڑ تک نہ پہنچا ہو، اس کی جمع حقاف احقاف اور حقوف ہے یعنی ریت کا ٹیلا اور چاند ٹیڑھا ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حقاف کی جمع ہے اور احقاف کی جمع کی جمع ہے یہ کہا جاتا ہے حقف احقف اعشی نے کہا :
یعنی ایسی ریت جو لمبی ہو اور جس کا کنارہ آگے کو جھکا ہوا ہو اس سے فعل احقوقوف ہے عجاج نے کہا :
احقوفقف یعنی مڑ گیا اور گول ہوگیا۔
یہاں احقاف سے جو مراد ہے اس کی تعبیر میں اختلاف ہے ابن زید نے کہا : اس سے مراد ریت کے ایسے ٹیلے ہیں جو ابھرے ہوئے لمبے ہوں جس طرح پہڑاوں کی حالت ہوتی ہے اور پہاڑوں تک نہ پہنچے ہوں اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ اسی امر کا شاید ہے (1) قتادہ نے کہا : اس سے مراد ایسے پہاڑ ہیں جو شجر پر جھکے ہوئے ہوں شجر عدن کے قریب ہے کہا جاتا ہے یہ عمان اور عدن کے درمیان سمندر کا ساحل ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہمارے لئے ذکر کیا گیا ہے (2) کہ عاد یمن میں قبائل تھے ریتلے علاقے میں بہتے سمندر کے قریبی علاقے میں رہتے جسے شجر کہا جاتا۔ مجاہد نے کہا : یہ جسمی کا علاقہ ہے (3) جسے احقاف کہتے جسمی ایسا صرائی علاقہ جس میں اونچے پہاڑ ہوں جن کی اطراف ملائم ہوں اور کو نجیں اس علاقے کو نہیں چھوڑتیں۔ نابغہ نے اسی حوالے سے کہا :
یہ جوہری کا قول ہے حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا : احقاف سے مراد شام میں پہاڑ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے عمان اور مہرہ کے درمیان وادی ہے مقاتل نے کہا : عاد کے گھر یمن کے ملک حضرموت کے علاقہ میں ایک وادی میں تھے جسے مہرہ کہا جاتا تھا اسی طرح مہری اونٹ منسوب ہیں یہ کہا جاتا ہے اہل مہریہ، اہل مہاری۔
یہ قبیلہ ارم سے تعلق رکھتے تھے۔ کلبی نے کہا : احقاف الجھل سے مراد وہ پہاڑ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور میں جب ہر کوئی غرق ہوا تھا ؟ اس پہاڑ سے پانی جاری ہوا تھا زمین سے پانی جاری ہوتا تھا اور اس کا اثر باقی رہتا تھا۔
طفیل نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ فرمایا : لوگوں میں دو وادیاں بہترین ہیں (4) ایک وادی مکہ میں اور ایک وادی جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) اترے جو ہند کے علاقہ میں ہے لوگوں میں سب سے بڑی دو وادیاں ہیں ایک وادی احقاف میں ہے اور ایک وادی حضرموت میں ہے جسے برھوت کہتے ہیں جس میں کفار کی روحیں آپس میں ملیں گی لوگوں میں بہترین کنواں بزمزم ہے اور لوگوں میں برا کنواں بٹر برھوت ہے وہ حضرت موت کی اسی وادی میں ہے۔
نذر سے مراد رسل ہیں : یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) سے پہلے وہ اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے بعد یہ فراء کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں بعدہ ہے الا اللہ یہ مرسل کی جانب سے قول ہے یہ جملہ معترضہ ہے پھر حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ہود (علیہ السلام) کا کلام ہے۔
Ayahs 46:22–25اس میں دو وجوہ ہیں (1) بہتان لگا کر ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں (1) ۔ (2) منع کرنے کے ساتھ ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں یہ ضحاک کا قول ہے : عروہ بن اذینہ نے کہا :
شاعر کہتا ہے : اگر تجھے احسان کی توفیق نہیں دی گئی تو تو ایسی قوم میں ہے جنہیں پھیر دیا گیا ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وعدہ کا لفظ کبھی کبھی وعد کی جگہ استعمال ہوتا ہے اگر اس بات میں سچے ہو کہ تم نبی ہو یعنی عذاب کے آنے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے میرے پاس نہیں جو پیغام مجھے دے کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے رب کی جانب سے تم تک پہنچانے والا ہوں۔ یعنی تم جو جلدی عذاب کے آنے کا مطالبہ کر رہے ہو اس میں تمہیں جابل خیال کرتا ہوں۔
مبرو نے کہا : میں ضمیر اسی چیز کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا پہلے ذکر نہیں ہو۔ اس کی وضاحت عارضاً کا لفظ بیان کر رہا ہے ضمیر سحاب کی طرف لوٹ رہی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی
لفظ تکریر کے طور پر منصوب ہے اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ آسمان کی چوڑائی میں ظاہر ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ حال کی حیثیت سے منصوب ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : کی طرف لوٹ رہی ہیں جب وہ انہوں نے بادل کو دیکھا تو انہوں نے اسے ایسا بادل خیال کیا جو ان پر بارش برسائے گما۔ بارش ہوئے کافی عرصہ ہوچکا تھا جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو وہ خوش ہوئے وہ بادل اس وادی کی جانب سے آیا تھا جس میں عام طریقہ یہ تھا کہ اس وادی سے جو بادل آتا اس میں بارش ہوتی یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا :
جوہری نے کہا : عارض سے مراد وہ بادل ہے جو افق میں چوڑائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یعنی ہم پر بارش برسائے گا کیونکہ یہ معرفہ ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ عارض کی صفت بنے کیونکہ وہ مکرر ہے عرب یہ افعال سے اسماء مشتقہ میں کرتے ہیں کسی اور میں ایسا نہیں کرتے۔
یہ کہنا جائز نہیں ہذا اعرابی نے روزہ افطار کرنے کے بعد کہا : تو اس نے اسے ٹکرو کی صفت بنایا اور اسے معرفہ کی طرف مضاف کیا۔
میں کہتا ہوں : اس کا قول لعارض نحویوں کے قول کے خلاف نہیں، اضافت، انفصال کی تقدیر میں ہے یہ اضافت لفظیہ ہے حقیقیتہ نہیں کیونکہ یہ پہلے اسم کو تعریف کا فائدہ نہیں دیتی بلکہ اسم اپنی جگہ نکرہ ہی رہتا ہے اسی وجہ سے نکرہ کی حیثیت سے صفت آتی ہے آیت میں یہ نحویوں کا قول ہے رب کا لفظ نکرہ پر داخل نہیں ہوتا
ہود نے انہیں کہا اس پر دلیل اس کی قرأت کی ہے جس نے پڑھا اسے قبل ریح بھی پڑھا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہہ دیجئے ! بلکہ تم نے اس کی جلدی مچائی ہے اس سے مراد ان کا قول ہے پھر اس کی وضاحت کی اور کہا : وہ ہوا جس کے ساتھ انہیں عذاب دیا گیا تھا وہ اس بادل سے پیدا ہوئی تھی جس کو انہوں نے دیکھا تھا حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے درمیان سے نکل گئے وہ ہوا خیموں کو اٹھاتی ہود جوں کو اٹھاتی اور انہیں بلند کرتی گویا وہ مکڑیاں ہوں پھر انہیں چٹانوں پر دے مارتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : پہلی دفعہ جب انہوں نے بادل کو دیکھا تو وہ اٹھے انہوں نے ہاتھ پھیلائے سب سے پہلے جنہوں نے پہچانا کہ یہ عذاب ہے وہ لوگ تھے جو گھروں سے باہر تھے انہوں نے لوگوں اور مواشی کو دیکھا ہوا نہیں زمین و آسمان کے درمیان یوں اڑا رہی تھی جس طرح برپا ہوتے ہیں وہ گھروں میں داخل ہوگئے اور دروازوں کو بند کردیا ہوا نے دروازوں کو اکھیڑ دیا اور انہیں پچھاڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا اس نے ان پر ریت ڈال دی وہ سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ریت کے نیچے پڑے رہے جبکہ ان کے رونے کی آوازیں آتی رہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان سے ریت کو دور کردیا ہو ہوا نے انہیں اٹھایا اور سمندر میں جا پھینکا۔ یہ وہی ہوا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یعنی ہر وہ شے جس پر ہوا گزری وہ عاد کے لوگ تھے یا اموال تھے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہر وہ شے جس کی طرف ہوا بھیجی گئی کا معنی ہلاکت ہے اسی طرح دمار ہے اسے یدکل شی بھی پڑھا گیا ہے یہ دمارا سے مشتق ہے یہ کہا جاتا ہے معنی ایک ہی ہے اجازت کے داخل ہوگیا حدیث میں ہے جس کی نظر اجازت طلب کرنے سے سبقت لے گئی تو وہ اندر داخل ہوگیا شام میں ایک شہر ہے جب وہ چوہا چھوٹا ہو۔
اس کے رب کے اذن سے بخاری شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ میں ان کوہ ادیکھتی، آپ تبسم فرمایا کرتے تھے جب آپ بادل یا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بارش کی امید ہوتی ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرے پر ناپسندگی معلوم ہوتی ہے : فرمایا : اے عائشہ : مجھے خوف آتا ہے ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم کو ہوا کے ساتھ عذاب دیا گیا ایک قوم نے عذاب دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ بادل ہے ہم پر بارش برسائے گا۔ “ (1) اسے امام مسلم اور امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس کے بارے میں فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری مدد بادصبا سے کی گئی اور قوم عاد کو بور ہوا سے ہلاک کیا گیا “ (2) ماوردی نے ذکر کیا : کا قائل قوم عاد میں سے ایک تھا۔ وہ بکر بن معاویہ تھا۔ جب اس نے بادل دیکھا تو اس نے کہا : میں تباہ و برباد کرنے والا بادل دیکھتا ہوں وہ عاد میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا عمو بن میمون نے کہا : وہ ہوا ان میں سے غائب آدمی کو لاتی اور ان کی مجلس میں اسے پھینک دیتی۔
ابن اسحاق نے کہا : حضرت ہود اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے وہ ایک باڑہ میں الگ ہوگئے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ تھے انہیں ہوا نہیں پہنچتی تھی مگر وہ ان کے اوپر والے کپڑوں کو ہلاتی اور ان کے ساتھ ان کے نفوس کو لذت حاصل ہوتی اور قوم عاد میں سے ہودج میں بیٹھی کسی عورت کے پاس سے گزرتی انہیں زمین و آسمان کے درمیان اٹھاتی اور انہیں پتھروں پر پٹخ دیتی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجاتے۔ کلبی نے حکایت بیان کی ہے کہ انہیں شاعر نے کہا :
حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان پر ایسی بدعا کی تو وہ مر کر ٹھنڈے ہوگئے ہوا ان پر چلی جس نے عاد کو ٹھنڈی آگ بنا دیا وہ سات راتوں تک ان پر مسلط کی گئی اس نے زمین میں قوم عاد کا کوئی فرد نہ چھوڑا۔
حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے ہلاک ہونے کے بعد ڈیڑھ سو سال تک اپنی قوم میں زندہ رہے۔
عاصم اور حمزہ نے پڑھا ہے یعنی فعل مجہول ہے اسی طرح حماد بن سلمہ نے ابن کثیر سے روایت کیا ہے مگر اس نے تری پڑھا ہے یہ ابوبکر سے مروی ہے انہوں نے اسے عاصم سے روایت کیا ہے باقی قراء نے تری تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور مساکنھم کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ نہیں دیکھتیں گے مگر ان کے مسکن۔
مہدوی نے کہا : جس نے تاء کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے تو مساکن جو مونث ہے اس کے ظاہر کا اعتبار کیا ہے یہ بہت ہی قلیل ہے صرف شعروں میں استعمال ہوتا ہے اور حاتم نے کہا : یہ لغت میں درست نہیں ہوتا مگر جس میں اضمار ہو جس طرح تو کہتا ہے : یزنت جائز نہیں : سیبویہ نے کہا : اس کا معنی ہے تو ان کے اشخاص نہیں دیکھتا مگر ان کے مساکن، ابو عبید اور ابو حاتم نے عاصم اور حمزہ کی قرأت پسند کی ہے۔ کسائی نے کہا : معنی ہے ان کے مساکین کے علاوہ کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی یہ معنی پر محمول ہے جس طرح تو نے کہا ہے : معنی ہے کوئی کھڑا نہیں ہوا مگر ہند فراء نے کہا : لوگ نہیں دکھائی دیتے تھے کیونکہ وہ ریت کے نیچے تھے ان کے گھر دکھائی دیتے تھے کیونکہ وہ کھڑے تھے۔
یعنی مشرکوں کو اس جیسا عذاب دیتے ہیں۔
Ayah 46:26ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان زائد ہے اس کی تقدیر کلام ہے : یہ قتبی کا قول ہے۔ اخفش نے یہ شعر پڑھا۔
انسان امید رکھتا ہے کہ وہ اسے نہیں دیکھے گا جبکہ اس کے قریب سے مصائب اسے آ پہنچتے ہیں۔
پہلے مصرعہ میں ان زائدہ ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ما الذی کے معنی میں ہے اور ان ماء کے معنی میں ہے (2) تقدیر کلام یہ ہے : یہ مبرو کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شرطیہ ہے اور اس کا جواب مضمر مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی : یہاں پر کلام مکمل ہوگئی پھر نئی کلام کی اور فرمایا : افئدہ سے مراد دل ہیں جو اسے سمجھتے ہیں۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کے عذاب ہے کیونکہ وہ انکار کرتے تھے ان کا احاطہ کرلیا (اس نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے)
Ayah 46:27اس سے مراد قوم ثمود کے دیہات، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں اور اسی طرح کی دوسری بستیاں ہیں جو بلا حجاز کے قریب قریب تھی ان کی خبریں ان کے پاس متواتر آتی رہتی تھیں۔ آیات سے مراد ججج اور دلائل، بینات اور مواعظ کی انواع، یعنی ہم نے انہیں ان بستیوں والوں کے لئے بیان کیا تو وہ نھہ لوٹے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے قرآن کی آیات وعدہ، وعید، قصص اور اعجاز کی صورت میں پھیر پھیر کر بیان کیں۔ ممکن ہے یہ مشرک لوٹ آئیں۔
Ayah 46:28ھلا کے معنی میں ہے یعنی ان کے معبودوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی جن کی وہ عبادت کرتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ یہ معبود ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کریں گے کیونکہ انہوں نے کہا تھا (یونس 18) اور جو ہلاکت ان پر واقع ہوگی اس سے یہ معبود انہیں محفوظ رکھیں گے۔ کسائی نے کہا : قربان سے مراد ہر اطاعت اور قربانی ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔ اس کی جمع قرابین ہے جس طرح دھبان کی جمع رہابین ہے اتخذ کے دو مفعولوں میں سے ایک الذین مخدوف کی طرف لوٹ رہا ہے دوسرا مفعول الھۃ ہے (1) اور حال بن رہا ہے کو دوسرا مفعول بنانا صحیح نہیں۔ ا سے بدل ہے کیونکہ معنی میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔
زمحشری کا قول ہے : اسے کے ضم کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
یعنی وہ ان سے ہلاک ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یعنی ان سے ان کے معبود گم ہوگئے کیونکہ انہیں وہ مصیبت نہیں پہچنتی تھی جو انہیں پہنچی کیونکہ وہ تو جمادات تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں نے بتوں کو ترک کردیا اور ان سے برأت کا اظہار کیا۔
یعنی وہ بت جو ان سے گم ہوگئے تھے یہ ان کا اپنے قول میں جھوٹ تھا یہ بت انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کردیں گے عام قرأت ہے۔ ہمزہ مکسور ہے اور فاء ساکن ہے یعنی ان کا جھوٹ تھا اس طرح افی کہ ہے جمع افاک ہے رجل افاک یعنی جھوٹا آدمی حضرت ابن عباس، مجاہد اور حضرت ابن زبیر نے پڑھا۔ یعنی ہمزہ فاء اور کاف کا مفتوح ہے کیونکہ یہ فعل ہے یعنی اس قول نے انہیں تہوحید سے پھیر دیا عکرمہ نے اسے افکھم فاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے یہ تاکید ہے اور تکثیر کے لئے ہے ابو حاتم نے کہا : یعنی وہ جن نعمتوں پر تھے ان سے ان کو پھیر دیا۔
مہدوی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی انہیں پھیرنے والا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر سے ان سے اختلاف کے ساتھ افکھم مد کے ساتھ نقل کیا ہے تو یہ جائز ہوگا کہ وہ افعل کا صیغہ ہو، یعنی انہیں افک کی طرف پھیک دیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ فاعلتھ کے وزن پر ہو جس طرح خادلم ہے عام قرآت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : جو وہ جھوٹ بولتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے کی طرح ہے یہ جذر اور حدر کی طرح ہیں یہ مہدوی کا قول ہے۔
Ayah 46:29یہ قریش کے مشرکوں کو توبیخ ہے یعنی جنوں نے قرآن کو سنا وہ آپ پر ایمان لائے اور انہیں علم ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جبکہ تم اعراض کرنے والے اور کفر پر اصرار کرنے والے ہو۔ کا معنی ہے ہم نے انہیں آپ کی طرف متوجہ کیا اور ہم نے بھیجا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہیں آسمان سے چوری چھپے سنے سے شہبائیے مارنے کے ساتھ پھیر دیا گیا تھا جس طرح اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انہیں اس امر سے نہیں روکا گیا مگر جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی۔
مفرین حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، مجاہد وغیرہ نے کہا : جب ابو طالب فوت ہوگئے تو نبی کریم ﷺ تنہا ثقفیف سے مدد لینے کے لئے طائف کی طرف نکلے آپ نے عبد یا لیل مسعود اور حبیب کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو بھائی تھے ان کا تعلق بنو عمو بن عمیر سے تھا ان کے ہاں بنی جمع کے خاندان کی ایک قریشی عورت بیاہی ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایمان کی دعوت دی اور ان سے سوال کیا کہ وہ قوم کے خلاف آپ کی مدد کریں تو ان میں سے ایک نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ کعبہ کا غلاف اتار دے گا۔ دوسرے نے کہا اللہ تعالیٰ کو تیرے سوا کوئی نہیں ملا تھا کہ اسے رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کوئی کلام نہیں کروں گا، اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے بھیجا ہے جس طرح تو کہتا ہے تو اس سے عظیم شان رکھتا ہے کہ میں تجھ پر تیرا کلام لوٹائوں اور اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو تجھ سے کلام کرنا مجھے زیب نہیں دیتا۔ پھر انہوں نے اپنی قوم کے بیوقوف لوگوں اور اپنے غلاموں کو بھڑکایا کہ وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیں اور آپ پر قہق ہے لگائیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے گرد بہت سے لوگ جمع ہوگئے اور آپ کو عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے کے باغ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا تو آپ نے جمحیہ عورت سے کہا : ہم نے تیسرے سسرال سے کیا پایا ؟ پھر آپ نے یوں دعا کی۔
” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اپنی قوت کی کمزوری، حیلہ کی کمی، لوگوں پر ہلکا ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔ اے ارحم راحمین، تو کمزوروں کا رب ہے تو میرا رب ہے تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے اس بندے کے جو میرے ساتھ ترش روی سے پیش آئے یا ایسے دشمن کے جس کو تو میرے معاملہ کا مالک بنا دے اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں لیکن عافیت میرے لئے بہت وسیع ہے۔ میں تیرے چرے کے نور سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا مجھ پر تیری ناراضگی نازل ہو تجھے عتاب کا حق ہے یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے۔ کسی مصیبت کو دور کرنا اور کسی امر پر طاقت ہونا تیرے ذریعے ہی ہے۔
ربیعہ کے دونوں بیٹوں کو آپ ﷺ پر رحم آگیا دونوں نے اپنے غلام سے کہا جو ایک نصرانی تھا جسے عداس کہا جاتا انگور کا یہ گچھا لو اسے اس طبق پر رکھو پھر اسے اس آدمی کے سامنے رکھ آئو۔ جب اس نے وہ برتن رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : باسم اللہ “ پھر اسے کھایا، عدس نے نبی کریم ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھا پھر کہا : اللہ کی قسم : یہ کلام اس شہر والے نہیں کرتے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : تو کس شہر سے تعلق رکھتا ہے ؟ اے عداس اور تیرا دین کیا ہے ؟ “ کہا میں نصرانی ہوں، اہل نینوی سے میرا تعلق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : ” کیا صالح انسان حضرت یونس بن متی کی بستی سے ؟ “ عداس نے پوچھا : آپ کو کس نے بتایا کہ یونس بن متی کون ہے ؟ فرمایا : ” وہ میرا بھائی ہے وہ نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں “۔ عداس آپ پر جھکا یہاں تک نبی کریم ﷺ کا سر، ہاتھ اور پائوں چومے۔ ربیعہ کے دونوں بیٹوں نے اسے کہا : تو نے اس طرح کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : اے میر آقا : زمین میں ان سے بہتر کوئی فرد نہیں انہوں نے مجھے ایک ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
پھر نبی کریم ﷺ جب ثقیف کی جانب سے کسی بھلائی سے مایوس ہوگئے تو آپ واپس لوٹے یہاں تک کہ جب آپ نخلہ وادی میں تھے تو آپ رات کے وقت نماز پڑھنے لگے تو اہل نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت آپ کے پاس سے گزری۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جن چوری چھپے سنا کرتے تھے جب آسمان کی حفاظت کی جانے لگی اور انہیں شہابیوں سے مارا گیا تو ابلیس نے کہا : آسمان میں جو یہ حادثہ رونما ہوا ہے وہ زمین میں کسی حادثہ کی وجہ سے ہے۔ اس نے اپنے لشکر بھیجے تاکہ حقیقت حال کو جانیں۔ ان میں پہلا قافلہ نصیبین والوں کا تھا وہ معزز جنوں پر مشتمل تھا یہ تہامہ کی طرف آئے، جب وہ نخلہ وادی میں پہنچے تو انہوں نے نخلہ وادی میں نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے سنا جبکہ آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کان لگائے او کہا : خاموش ہو جائو۔ ایک جماعت نے کہا : بلکہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ جنوں کو ڈرائیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ددیں اور انہیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے نینوی کے جنوں کی ایک جماعت آپ کی طرف بھیجی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں آج کی رات جنوں کو قرآن پڑھانے کا ارادہ رکھتا ہوں تم میں سے کون میری اتباع کرے گا ؟ “ تو صحابہ نے اپنے سر جھکا لئے۔ دوسری دفعہ ارشاد فرمایا تو انہوں نے سر جھکا لئے۔ تیسری دفعہ فرمایا تو انہوں نے سر جھکا لئے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : یا رسول اللہ : میں حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : میرے سوا آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ ہم چلے یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے میں تھے تو نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی میں داخل ہوئے جسے ” شعب حجیون “ کہا جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کے لئے ایک خط لگا دیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس میں بیٹھوں۔ فرمایا :” اس سے باہر نہ نکلنا یہاں تک کہ میں تیری طرف واپس آئوں۔ “ پھر آپ چلے یہاں تک کہ کھڑے ہوگئے اور قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں گدھوں جیسی چیزیں دیکھتا جو نیچے گرتیں اور وہ آواز پیدا کرتے ہوئے چلتیں۔ میں غیر واضح سی گفتگو سنتا یہاں تک کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے بارے میں خوف ہونے لگا۔ آپ کو کثیر جماعتوں نے ڈھانپ لیا جو میرے اور آپ کے درمیان حائل ہوگئیں یہاں تک کہ میں ان کی آواز نہیں سنتا تھا۔ پھر وہ یوں چھٹنے لگے جس طرح بادل کا ٹکڑے۔ نبی کریم ﷺ فجر کے وقت اس سے فارغ ہوئے (1) پوچھا : ” کیا تو سویا ہے ؟ “ میں نے عرض کی نہیں : اللہ کی قسم ! میں نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ لوگوں سے مدد طلب کروں یہاں تک کہ میں آپ کو سنتا کہ آپ اپنے عصا کو کھٹکھٹا کر انہیں تنبیجہ کرتے اور کہتے : بیٹھ جائو۔ فرمایا :” اگر تو اس دائرہ سے باہر نکلتا تو مجھے تیرے بارے میں خوف ہوتا کہ ان میں سے کوئی تجھے اچک ہی نہ لے۔ “ پھر پوچھا :” کیا تو نے کوئی چیز دیکھی ہے ؟ “ میں نے عرض کی : ہاں یا رسول اللہ ! میں نے سیاہ رنگ کے لوگوں کو دیکھا جو سفید رنگوں کی دھوتیاں رانوں سے لپیٹے ہوئے ہیں : فرمایا :” وہ نصیبین کے جن تھے، انہوں نے مجھ سے متاع اور زاد کے بارے میں سوال کیا تو میں نے انہیں ہر بوسیدہ ہڈی اور گوبر و مینگنی وغیرہ ان کے لئے خوراک بنا دیا ہے۔ “ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ : لوگ انہیں ہمارے لئے گدلا کردیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے منع کردیا کہ ہڈی اور گوبر سے استنجا کیا جائے۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ چیز انہیں کیا فائدہ دے گا ؟ فرمایا :” وہ کسی ہڈی کو نہیں پائیں گے مگر وہ اس پر ایسا گوشت پائیں گے جس روز اسے کھایا گیا تھا وہ کسی گوبر کو نہیں پائیں گے مگر وہ اس میں ایسا دانہ پائیں گے جس طرح اسے کھایا گیا تھا “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ : میں نے بہت زیادہ غیر واضح سی گفتگو سنی ؟ ” فرمایا : جنوں نے ایک متتوں کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور میرے سامنے معاملہ پیش کیا تو میں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا۔ “ پھر نبی کریم ﷺ ظاہر ہوئے اور میرے پاس تشریف لائے۔ پوچھا :” کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ “ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے پاس برتن ہے جس میں کچھ نبی ند ثمر ہے میں نے اسے آپ کے ہاتھوں پر انڈیلا تو آپ نے وضو کیا۔ فرمایا :” پاکیزہ کھجور اور طہارت عطا کرنے والا پانی۔ “ معمر نے قتادہ سے اور شعبہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے معمر کی حدیث میں نبی د تمر کا ذکر نہیں۔
ابو عثمان نہدی نے روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے زطیوں (ہند کے ایک علاقہ کا رہائشی) وہ دے کر پوچھا۔
یہ لوگ کون ہیں ؟ جواب دیا : یہ زطی ہیں : فرمایا : میں نے ان کی مثل نہیں دیکھا مگر جنوں والی رات میں جنوں کو ان کی مثل دیکھا تھا وہ لنگوٹ مارے ہوئے تھے ایک دوسرے کے پیچھے چل رہے تھے۔
دارقطنی، عبداللہ بن لیہیہ سے وہ قیس بن حجاج سے وہ حبش سے وہ حضر ابن عباس سے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو جنوں والی رات نیند سے وضو کروایا تو آپ نے اس کے ساتھ وضو کیا۔ فرمایا : ایسا راوی ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاتا۔
اس سند سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت مروی ہے کہ وہ جنوں والی رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے رسول اللہ ﷺ نے آپ کو فرمایا : ابے ابن مسعود : کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ “ عرض کی : میرے پاس سفید نبی ند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مجھ پر انڈیلو “ تو آپ نے وضو کیا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس روایت کو نقل کرنے میں اکیلا ہے اور حدیث میں ضعی ہے۔ دارقطنی نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت ابن مسعود ؓ جنوں والی رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے۔ علقمہ بن قیس اور ابو عبیدہ بن عبداللہ وغیرہ نے اس طرح روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا : میں جنوں والی رات آپ کے پاس نہیں تھا۔
ابو محمد بن صاعد، ابو اشعث سے وہ مبشر بن فضل وہ دائود بن ابی سند سے وہ عامر سے وہ علقہ بن قیس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا : کیا تم میں سے کوئی ایک لیلۃ الجن کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ؟ ” جواب دیا : نہیں۔ دارقطنی نے کہا : یہ اسناد صحیح ہے کہ اس کے راویوں کی عدالت میں کوئی اختلاف نہیں۔
عمرہ بن مرہ نے کہا : میں نے ابو عبیدہ سے پوچھا : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ جنوں والی رات حاضر تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جن، نصیبین کے جنوں میں سے سات افراد تھے، نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کی قوم کی طرف قاصد بنا یا، زربن حبیش نے کہا : وہ کل نو تھے ان میں ایک زوبعہ تھا (2) قتادہ نے کہا : وہ اہل نینوی تھے۔ مجاہد نے کہا : وہ اہل حران تھے، عکرمہ نے کہا : وہ موصل کے جزیرہ سے تھے (3)
ایک قول یہ کیا گیا : وہ سات تھے، تین اہل نجران سے اور چار اہل نصیبین سے تھے۔ ابن ابی دنیا نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں کہا او اس میں نصیبین کا ذکر کیا، فرمایا : اسے میری طرف اٹھایا گیا یہاں تک کہ میں نے اسے دیکھ لیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس کی بارش زیادہ ہو، اس کے درت سرسبزوشاداب ہوں اور دریائوں میں پانی زیادہ ہو۔ سہیلی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے وہ سات تھے، وہ یہودی تھے اور اسلام لائے، اسی وجہ سے کہا : ان کے ناموں کے بارے میں کہا گیا : شاصر، ماصر، منشی، ماشی، احقب، ان پانچ کا ذکر ابن درید نے کیا ہے۔ ان میں عمرو بن جابر بھی ہے۔ ابن اسلام نے اس کا ذکر ابو اسحاق سبیعی کی سند سے اپنے اشیاخ سے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے ذکر کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں چل رہے تھے تو ان کے لئے ایک بگولہ بلند ہوا پھر اس سے بڑا بگولہ آیا تو کیا دیکھتے ہیں ایک مردہ سانپ ہے ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی چادر کا قصد کیا اسے پھاڑ اور اس کے کچھ حصہ سے سانپ کو کفن دیا اور اسے دفن کردیا۔ جب رات تاریخ ہوگئی تو دو عورتیں پوچھ رہی تھیں۔ عمرو بن جابر کو کس نے دفن کیا ؟ ہم نے کہا : ہم نہیں جانتے عمرو بن جابر کون ہے ؟ ’“ دونوں نے کہا : اگر تم نے اجر کی نیت کی ہے تو تم نے اسے پایا ہے فاسق جنوں نے مومن جنوں کے ساتھ جنگ کی تو عمرو کو قتل کردیا تھا۔ وہ سانپ تھا جسے تم نے دیکھا تھا۔ وہ اس جماعت سے تھا جس نے حضرت محمد ﷺ سے قرآن سنا تھا، پھر وہ اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے ہو کر واپس لوٹ گئے۔ ابن سلام نے ایک اور کا ذکر کیا ہے جس نے اسے کفن دیا تھا وہ صفوان بن معطل تھا۔
میں کہتا ہوں : ثعلبی نے اس کی مثل خبر ذکر کی ہے : اس نے کہا : ثابت بن قطبہ نے کہا کچھ لوگ حضرت ابن مسعود کی خدمت میں آئے تو انہوں نے کہا : ہم ایک سفر میں تھے ہم نے ایک سانپ دیکھا جو اپنے خون میں لت پت تھا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اسے لیا اور ہم نے اسے مٹی میں دبا دیا، کچھ لوگ آئے انہوں نے کہا : عمرو کو کن لوگوں نے دفن کیا ہے ؟ ہم نے کہا : کون عمرو ؟ انہوں نے کہا : وہ سانپ جسے تم نے فلاں جگہ دفن کیا خبردار : وہ اس جماعت میں سے تھا جس نے نبی کریم ﷺ سے قرآن سنا تھا : مسلمان جنوں اور کافر جنوں میں جنگ ہوئی تو وہ شہید ہوگئے۔
اس روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نہ تو سفر میں تھے نہ دفن میں حاضر تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابن ابی دنیا نے ایک تابعی کا ذکر کیا ہے اس کا نام بھی لیا، ایک سانپ اس کے خیمہ میں داخل ہوا وہ پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا تھا اس نے اسے پانی پلایا اور وہ پھر وہ سانپ مرگیا تو اس تابعی نے اسے دفن کردیا رات کے وقت کوئی اس کے پاس آیا اسے سلام کیا اور اس کا شکریہ ادا کیا : اور بتایا کہ وہ نصیبین کے جنوں میں سے تھا اس کا نام زوبعہ تھا۔
سہیلی نے کہا : حضرت عمر بن عبدالعزیز کے فضائل میں ہمیں یہ خبر پہنچی ہے جس کو ابوبکر بن طاہر اشبیلی نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک آپ نے ایک مردہ سانپ دیکھا آپ نے اپنی زائد چادر سے اسے کفن دیا اور اسے دفن کردیا تو کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا : اے سرق : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا :” تو بیابان میں مرے گا اور تجھے ایک صالح آدمی کفن دے گا۔ “ پوچھا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے تو کون ہے ؟ اس نے کہا : ان جنوں میں سے ایک جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن سنا تھا ان میں سے میں اور سرق باقی رہ گئے تھے یہ سرق فوت ہوچکا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک سانپ کو قتل کردیا جسے آپ نے اپنے حجرہ میں قرآن سنتے ہوئے دیکھا جبکہ حضرت عائشہ قرآن حکیم پڑھ رہی تھیں خواب میں ان کے پاس کوئی آیا اور ان سے کہا : آپ نے جنوں میں سے ایک مومن کو قتل کردیا وہ جن جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : اگر وہ مومن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے حرم میں داخل نہ ہوتا۔ آپ سے عرض کی گئی : وہ آپ کے پاس حاضر نہیں ہوا تھا مگر آپ نے نقاب اوڑھا ہوا تھا، تو قرآن سننے کے لئے آیا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ گھبرا گئیں آپ نے غلام خریدے اور انہیں آزاد کیا۔ سہیلی نے کہا : ہمارے پاس جو جٓوں کے نام تھے ہم نے ان کا ذکر کردیا، اگر وہ سات تھے تو احقب ان میں سے کسی کا وصف ہوگا۔ یہ اسم علم نہیں ہے۔ بیشک وہ اسما جن کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے وہ احقب کے ساتھ مل کر آٹھ بنتے ہیں۔
میں نے کہا : حافظ ابن عسا کرنے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہامہ بن ہیم بن اقیس بن ابلیس۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومن جنوں میں سے تھا ان جنوں میں سے تھا جو نبی کریم ﷺ کو ملے رسول اللہ ﷺ نے اسے سورة واقعہ، سورة مرسلات، سورة یتسالون، سورة اذا الشمس کورت، سورة الحمد اور معوذ تین پڑھائیں۔ اور یہ ذکر کیا وہ ہابیل کے قتل کے وقت حاضر تھا اور ان کے خون میں شریک ہوا تھا وہ غلام بن اعوام ہے وہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے ملا اور ان کے ہاتھ پر توبہ کی وہ حضرت ہود، حضرت صاح، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت الیاس، حضرت موسیٰ بن عمران اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہم ملام سے ملا۔ ماوردی نے ان کے اسماء مجاہد سے ذکر کئے ہیں اور کہا، حسی، مسی، منشی، شاصر، ماصر، ارد، انیان اور احقم۔ ان کا نام ابو عمرو عثمان بن احمد جو ابن سماک کے نام سے معروف ہیں نے کیا ہے کہا : محمد بن برا، زبیر بن بکار سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حمزہ بن عتبہ بن ابی لہب نصیبین والے ان جنوں کے نام ذکر کیا کرتے تھے جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ کہتے، حسی، مسی، شاصر، ماصر، افخر، ارد اور رانیال۔
جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ التفات (1) کے باب سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ قرآن اور اسے سماعت کے لئے حاضر ہوئے۔ ان میں سے بعض نے کہا : قرآن حکیم کو سننے کے لئے خاموش ہو جائو۔ “ حضرت ابن مسعود نے کہا : وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (2) جبکہ آپ بطن نضطہ میں قرآن حکیم پڑھ رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ کی آواز کو سنا تو کہا : خاموش ہو جائو، وہ سات تھے ان میں سے ایک زوبعہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ کی بات سننے کے لئے خاموش ہو جائو۔ معنی قریب قریب ہے۔
لاحق بن حمید اور حبیب بن عبداللہ بن زبیر نے اسے پڑھا یعنی فاعل نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔
اس کا واقعہ یہ ہے جب آسمان کو چوری چھپنے سننے سے محفوظ کردیا گیا تو وہ نکلے تاکہ اس کا جو سبب بنا وہ اس سے آگاہی حاصل کریں وہ وادی نخلہ میں آئے جبکہ نبی کریم ﷺ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے وہ کل سات تھے، انہوں نے اسے سنا اور اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر گئے اور نبی کریم ﷺ کا اس کا علم نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ جنوں کو ڈرائیں اور ان کو قرآن پڑھ کر سنائیں اللہ تعالیٰ نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی بارگاہ میں بھیجا تاکہ وہ آپ سے قرآن سنیں اور اپنی قوموں کو ڈرائیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان پر قرآن پڑھا اور آپ اس سے فارغ ہوئے تو آپ کے حکم سے واپس گئے وہ اپنی قوم کے جنوں کا قصد کررہے تھے انہیں قرآن کی مخالفت سے خبردار کرنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے انہیں خبردار کرنے والے تھے اگر وہ ایمان نہ لائیں۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں باقی ماندہ جنوں کو ڈرانے کے لئے بھیجا اس کے اوپر یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے : اگر ایسا واقعہ نہ ہوتا تو وہ اپنی قوم کو نہ ڈراتے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بات مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی قوم کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا (1) اسی تاویل کی بناء پر جنوں والی دو راتیں ہیں۔ یہ بحث پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم میں وہ روایت ہے جو اسی چیز پر دلالت کرتی ہے جس کی وضاحت (الجن 1) میں آئے گی صحیح مسلم میں حضرت معن سے مروی ہے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہا میں نے مسروق سے پوچھا : کس نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ جنوں نے اس رات قرآن حکیم سنا (2) تو مسروق نے کہا : تیرے باپ یعنی حضرت ابن مسعود نے بتایا کہ درخت نے آپ کو ان کے متعلق بتایا تھا۔
Ayahs 46:30–31کتاب سے مراد قرآن ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تھے۔ عطا نے کہا : وہ پہلے یہودی تھے تو اسلام لے آئے، اسی وجہ سے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : جنوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بارے میں نہیں سنا تھا (3) اسی وجہ سے انہوں نے کہا :
یعنی وہ تو رات کی تصدیق کرنے والے : وہ دین حق کی طرف دعوت دینے والے تھے : یعنی اللہ تعالیٰ کے دین قدیم کی طرف۔
داعی سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی ذات جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث تھی۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ کی ذات سے قبل کوئی نبی جنوں اور انسانوں کی طرف معبوث نہیں کیا گیا۔
میں کہتا ہوں : اس امر پر وہ حدیث جو صحیح مسلم میں دلالت کرتی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی کو عطا نہیں کی گئیں، ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے معبوث کیا جاتا تھا اور میں احمرو اسود کے لئے معبوث کیا گیا ہوں یا میرے لئے غنیمت حلال کی گئیں وہ مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں کی گئیں، زمین میرے لئے پاکیزہ طہارت عطا کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی ہے۔ جس نماز کا وقت ہوجائے تو وہ جہاں ہو نماز پڑھ لے، مجھے ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہے اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ “ (1)
مجاہد نے کہا : احمر و اسود سے مراد جن اور انسان ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے :” مجھے تمام مخلوق کی طرف معبوث کیا گیا ہے اور مجھ پر انبیاء کی بعثت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ “ (2)
ضمیر سے مراد داعی ہے اور وہ حضور ﷺ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی قوم سے ستر افراد ایمان لائے، وہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹے اور آپ کو بطحاء میں ملے ان پر قرآن حکیم کو پڑھا گیا انہیں حکم دیا اور نہی کی۔
مسئلہ : یہ آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ امر، نہی، ثواب اور عقاب میں جن، انسانوں کی طرح ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مومن جنوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی ثواب نہیں کہ انہیں جہنم سے نجات دی جائے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی نقطہ نظر ہے، فرمایا : جنوں کے لئے اس کے سوا کوئی ثواب نہیں کہ انہیں آگ سے پناہ دی جاتی ہے پھر انہیں کہا جاتا ہے تم مٹی ہو جائو جس طرح چوپائوں کو کہا جائے گا، تم مٹی ہو جائو۔ دوسروں نے کہا : انہیں گناہوں سے سزا دی جائے گی اور احسان کی صورت میں ثواب دیا جائے گا : جس طرح انسان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ امام مالک، امام شافعی، اور ابن ابی لیلی کا یہی نقطہ نظر ہے۔ ضحاک نے کہا : جن جنت میں داخل ہوں گے، وہ کھائیں گے اور پیئیں گے، قشیری نے کہا : صحیح بات یہ ہے کہ اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔ حقیقت حال اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کا فرمان اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں ثواب دیا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے کیونکہ سورت کے آغاز میں فرمایا : (انعام 130) آخر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، سورة رحمن میں اس بارے میں مزید گفتگو ہوگی۔ انشاء اللہ
Ayah 46:32نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناپید پائے گا اور نہ اس پر سبقت لے جاسکے گا اس کے ایسے مددگار نہیں ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھیں۔
Ayah 46:33یہاں رویہ علم کے معنی میں ہے ان اسم کا اور اس کی خبر رویۃ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔
منکرین بعث کے خلاف استدلال ہے۔ کا معنی ہے وہ انہیں پیدا کرنے میں عاجز اور کمزور نہیں، یہ جملہ کہا جاتا ہے، جب وہ ہدایت نہ پائے۔ اس میں ادغام اکثر ہوتا ہے جمع میں تو عیو مخفف کہے گا۔ اس کو تشدید کے ساتھ عیرا بھی کہتے ہیں : کہا
وہ اپنے معاملے میں یوں عاجز آگئے کہ جس طرح کبوتری اپنے انڈے کے بارے میں عاجز آگئی۔
جب تو اس کی صحیح صورت کی طرف ہدایت نہ پائے اعیان ھو اس نے مجھے عاجز کردیا ہے حضرت حسن بصری نے عین کے کسرہ اور یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یہ قلیل شاذ ہے کیونکہ عین کلمہ میں اعلال اور لام کلمہ میں تصحیح واقع نہیں ہوتی مگر چند اسماء میں ایسا ہوتا ہے جس طرح غایۃ اور آیۃ ہے شعر کے علاوہ فعل میں ایسا نہیں ہوتا۔ فراء نے اس شعر کو پڑھا ہے وہ شاعر کا قول ہے :
محل استدلال فتحی ہے۔ بقادر ابو عبیدہ اور اخفش نے کہا : باء زائدہ ہے تاکید کے لئے آئی ہے جس طرح ارشاد میں باء زائدہ ہے۔ (المومنون 20) نسائی، فراء اور زجاج نے کہا : باء استفہام کا نائب ہے او کلام کے آغاز میں نفی کا معنی ہے۔ زجاج نے کہا : عرب اسے نفی کے ساتھ داخل کرتے ہیں تو کہتا ہے : (1) تو یہ نہیں کہتا : اس باء کے داخل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس پر ماداخل ہوا اور ان داخل ہوا ہے جو تاکید کے لئے، تقدیر کلام یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (یٰس 81) حضرت ابن مسعود، اعرج، حجدری، ابن اسحاق اور یعقوب نے اسے بقدر پڑھا ہے : ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ ان کی خبر میں باء کا داخل کرنا قبیح ہے۔ ابو عبیدہ نے عام قرأت کو پسند کیا کیونکہ حضرت عبداللہ کی قرأت میں ہے (بنی اسرائیل 99) باء کے بغیر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 46:34انہیں وہ دن یاد دلایا جس روز انہیں پیش کیا جائے گا تو انہیں کہا جائے گا : تو انہیں بیان کرنے والا کہے گا مامصد یہ ہے یعنی اپنے کفر کے باعث عذاب چکھو۔