45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 45:1
حم۔ یہ مبتدا ہے تنزیل یہ خبر ہے بعض نے کہا : حم سورت کا نام ہے تنزیل الکتب مبتدا ہے اس کی خبر امن اللہ ہے کتاب سے مراد قرآن ہے العزیز کا معنی زبردست محفوظ الحکیم اپنے افعال میں حکمت والا۔ ان تمام کلمات کے بارے میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 45:2–5

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

یعنی ان دونوں کی تخلیق ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے، تمام بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ عام قرأت : دونوں آیات رفع کے ساتھ ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تاء کے نیچے کسرہ دیا ہے پہلے میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ وہ منصوب ہے اور وہ ان کا اسم ہے اور اس کی خبر فی السموت ہے دوسرے لفظ آیات میں کسرہ اس پر عطف کی وجہ سے ہے جو اس میں حامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اسے اس پر محمول کریں گے جس میں ان عامل ہے ان میں فی کو مخذوف مقدر مانیں گے تقدیر کلام یہ ہے فی حذف ہوگیا کیونکہ انس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ سیبویہ نے اس کے حذف میں یہ شعر پڑھا ہے : ” کیا ہر آدمی کو تو آدمی خیال کرتی ہے اور ہر آگ جو رات کو روشن کی جاتی ہے اسے ضیافت کی آگ شمار کرتی ہے ، “ لفظ کل حذف کردیا گیا ہے جو نار کی طرف مضاف ہے جو مجرور ہے حذف کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ دو عاملوں پر عطف کے بابے سے تعلق رکھتا ہے سیوبہہ نے اسے جائز قرار نہیں دیا اخفش اور کو فیوں کی جماعت نے اسے جائز قرار دیا ہے پھر فرمایا : تو یہ دو عاملوں پر عطف کا محتاج ہے اور دو عاملوں پر عطف قبیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حروف عطف عامل کے قائم مقام ہوتے ہیں پس یہ اس کی قوت نہ رکھیں گے کہ دو مختلف عاملوں کے قائم مقام ہوجائیں کیونکہ اگر یہ ناصب اور رافع کے قائم مقام ہو تو یہ ایک ہی حال میں رفع اور نصب دینے والا ہوگا جہاں تک رفع کی قرأت کا تعلق ہے تو یہ ان اور جس میں ان عامل ہے اس کے محل پر محمول ہوگا جبکہ نحویں نے اس صورت میں بھ یدو عاملوں پر عطف کو لازم کیا ہے کیونکہ اس نے کا عطف پر کیا ہے اور آیت کا عطف پہلے لفظ آیت کے محل پر کیا ہے لیکن لفظ کو مکرر مقدر کیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ ماقبل کلام سے اسے قطع کر کے اسے رفع دیا جائے تو اسے مبتدا ہونے کی حیثیت میں اسے رفع دیا جائے گا اور ماقبل اس کی خبر ہوگی اور جملہ کا عطف جملہ پر ہوگا۔ فراء نے اختلاف اور ایت دونوں کے منع کا ذکر کیا ہے اور اختلاف ہی کو آیات بنایا ہے۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں یعنی ایسے دلائل اور براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ حق سے مراد صدق ہے۔ یعنی یہ ایسی آیات ہیں جو باطل نہیں اور جن میں جھوٹ نہیں۔ اسے یتلوھا پڑھا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے قرآن کے بعد : عام قرأت کے ساتھ ہے ابن محیصن اور ابوبکر نے عاصم سے حمزہ اور کسائی نے تومنون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

ویل جہنم میں ایک وادی ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کی آیات سے استدلال کو ترک کرتا ہے اس کے لئے دھمکی ہے آفاک کا معنی کذاب ہے افک کا معنی جھوٹ ہے آثیم گناہ کا ارتکاب کرنے والا مراد ہے نضر بن حارث۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : مراد حارث بن کلدہ ہے ثعلبی نے حکایت بیان کی ہے : مراد ابو جہل اور اس کے ساتھی ہیں۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اللہ سے مراد قرآن کی آیات ہیں وہ اپنے کفر میں بہت دور نکل گیا ہے اور اطاعت کرنے سے اپنے آپ کو عظیم خیال کرتا ہے یہ ضرالضہ سے ماخوذ ہے جب وہ تھیلی کو باندھے، یہ معنی حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصل میں وہ اپنے کان کھڑے کر کے اس کی طرف مڑتا ہے کان میں امشقلہ سے مخففہ ہے گوگویا اس نے اس کو سنا ہی نہیں ضمیر ضمیر شان ہے جس طرح اس مصرعہ میں اسم ضمیر شان مخذوف ہے : گویا ہرن تروتازہ سلم کے درخت سے کھاتا ہے۔ جملہ کا محل نصب ہے یعنی کان اس طرح کھڑے کرتا ہے جس طرح نہ سننے والا کان کھڑے کرتا ہے۔ سورة لقمان کے آغاز میں اس آیت کا معنی گزر چکا ہے۔ کا معنی بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 45:9–10

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

جس طرح زقوم کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مکھن اور کھجور کا مجموعہ ہے جہنم کے دارغوں کے بارے میں کہتا : اگر وہ انیس ہیں تو میں اکیلا انہیں کافی ہو جائوں گا۔ مھین سے مراد ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔ دنیا میں جس غلبہ میں تھے اور حق سے تکبر کیا کرتے تھے اب ان کے آگے جہنم ہوے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کے آگے جہنم ہے۔ اس کی مثل (ابراہیم) یعنی ان کے آگے جہنم ہے : شاعر نے کہا : اگر میری موت موخر ہوجائے تو کیا میرے آگے ایسا وقت نہیں کہ میں بچوں کے ساتھ رینگوں گا اور گدھ کی طرح گھسٹوں گا۔ یعنی مال او اولاد میں سے کوئی چیز انہیں نفع نہ دے گی۔ اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران 10) یہاں بھی مراد مال اور اولاد ہے۔ مراد بت ہیں۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا اور تکلیف دہ عذاب ہوگا۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

یہ مبتدا خبر ہے یعنی قرآن سراپا ہدایت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جس کو حضرت محمد ﷺ لائے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا رجز سے مراد عذاب ہے، یعنی ان کے لئے دردناک عذاب ہے ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (بقرہ 59) رجز سے مراد عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : رجز سے مراد ناپاک شے ہے جس طرح رجس ہوا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے (ابراہیم) یعنی گندہ مشروب پینے کی صورت میں ان کے لئے عذاب ہے یہ لفظ جہاں بھی واقع ہوا ہے ابن محیصن نے راء کو ضمہ دیا ہے ابن کثیر، ابن محیصن اور حفص نے الیم کو مرفوع پڑھا ہے معنی ہے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے جو رجز ہے باقی قراء نے الیم کو مجرور پڑھا ہے۔ یہ رجز کی صفت ہے۔
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت اور اپنے بندوں پر تمام نعمتوں کا ذکر کیا اور اس امر کی وضاحت کی کہ جو کچھ پیدا کیا وہ لوگوں کے منافع کے لئے پیدا کیا۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا فعل، اس کی تخلیق اس کا احسان اور انعام ہے۔ حضرت ابن عباس، حجدری اور دوسرے علماء نے پڑھا ہے یعنی میم مسکور، نون مشدد اور ھاء پر تنوین ہے۔ یہ مفعول مطلق کے طریقہ پر منصوب ہے ابو عمرو نے کہا : میں نے مسلمہ سے اس طرح سنا کہ انہوں نے اسے منہ پڑھا، یعنی فضل وکرم کے طریقہ پر۔ مسلم بن محارب نے اسے پڑھا ہے کہ من کا لفظ ھاء کنایہ کی طرف منسوب ہے۔ ابو حاتم کے نزدیک یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے یعنی ذلک و ھونہ جماعت کی قرأت ظاہر ہے۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

قل کے جواب کی وجہ سے مجزوم ہے اسے شرط و جزا کے ساتھ تشبیہ دی جس طرح تیرا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے لام کے حذف کی وجہ سے محزوم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس معنی کی بناء پر یہ مجزوم ہے۔ یہ امر مخدوف کا جواب ہے جس امر پر کلام دلالت کرتی ہے۔ یہ علی بن عیسیٰ نے قول کیا ہے، ابن عربی نے اسے سپند کیا ہے یہ آیت اس سبب سے نازل ہوئی (1) کہ قریش کے ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب کو گالیاں دیں تو آپ نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا ابن عربی نے کہا : یہ قول صحیح نہیں : واحدمی، قشیری اور دوسرے علماء نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں نازل ہوئی جو ان کا معاملہ غزوہ بنی مصطلق میں عبداللہ بن ابی کے ساتھ ہوا تھا (1) یہ سب لوگ ایک چشمہ پر فروکش ہوئے جسے مریسیع کہا جاتا ہے عبداللہ نے اپنا غلام پانی لانے کے لئے بھیجا اس نے واپس آنے میں دیر کردی۔ عبداللہ بن ابی نے پوچھا : کس چیز نے تجھے روکے رکھا ؟ اس نے کہا : حضرت عمر بن خطاب کے غلام نے وہ کنویں کے منہ پر بیٹھ گیا اس نے کسی کو بھی پانی بھرنے کی اجازت نہ دی یہاں تک کہ اس نے نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق اور اپنے آقا کا مشکیزہ بھرا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا : ہماری اور ان کی مثال ایسے ہی ہے جس طرح کہا گیا سمن کلبک یا کلک اپنے کتے کو موٹا کرو کہ وہ تمہیں کھا جائے۔ حضرت عمر ؓ کو اس بات کی پہنچ گئی آپ نے تلوار لی آپ اس کی طرف جانا چاہتے تھے کہ اسے قتل کردیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : یہ عطا کی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ میمون بن مہران نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی : من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا۔ مدینہ کا یہودی جس کو فخاص کہا جاتا اس نے کہا : محمد ﷺ کا رب محتاج ہوگیا ہے کہا : جب حضرت عمر ؓ نے اس کی یہ بات سنی تو آپ نے تلوار لی اس کی تلاش میں نکلے، جبریل امین نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے فرمایا : حضرت جبریل امین نے بتایا : حضرت عمر ؓ نے تلوار لی اور یہودی کی تلاش میں نکلے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کی تلاش میں آدمی کو بھیجا جب حضرت عمر آگئے فرمایا : اے عمر ! اپنی تلوار رکھ لو “ عرض کی : یا رسول اللہ : آپ نے سچ فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کو حق کے ساتھ معبوث کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیرا رب کہتا ہے : عرض کی : کوئی حرج نہیں جس ذات نے آپ کے حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ میرے چہرے پر غضب نہ دیکھیں گے۔ مہیں کہتا ہوں : مہدوی اور نحاس نے جو ذکر کیا ہے وہ ضحاک کی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے، یہ قرظی اور سدی کا قول ہے : اسی قول کی بناء پر آیت میں نسخ کی طرف توجیہ کی جاتی ہے اور یہ کہنا کہ آیت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے یا غزوہ بنی مصطلق میں نازل ہوئی ہے تو یہ منسوخ نہیں یغفرا کا معنی معاف کرنا اور درگزر کرنا ہے۔ کا معنی ہے وہ اس کے ثواب کی امید نہیں کرتے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور انتقام سے خوف نہیں کھاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رجاء کا معنی خوف ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (نوح) تم اس کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ تم سابقہ امتوں کے عذاب کی مثل سے نہیں ڈرتے۔ ایا سے مراد بڑے واقعات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی امید نہیں رکھتے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا اور اپنے دشمنوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بعض (دوبارہ اٹھائے جانے) سے نہیں ڈرتے۔ عام قرأت لیجزی ہے معنی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ جزا دے۔ حمزہ، نسائی اور ابن عامر نے لنجزی پڑھا ہے جمع متکلم کا صیغہ تعظیم کے طریقہ پر ہے۔ ابو جعفر، اعرج اور شیبہ نے لیجزی پڑھا ہے، فعل مجہول ہے : قوماً یہ منصوب ہے : ابو عمرو نے کہا : وہ واضح غلطی ہے نسائی نے کہا : اس کا معنی ہے قوم کو جز دی جاتی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانبیا) یہ ابن عامر اور ابوبکر کی سورة الانبیاء میں قرأت ہے : شاعر نے کہا : اگر قفیرہ کتے کے پلے کو جنم دیتی تو اسی پلے کی وجہ سے کتوں کو گالیاں دی جاتیں۔
Ayahs 45:15–17

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

اس کے بارے میں وہ گفتگو گزر چکی ہے۔ کتاب سے مراد تورات ہے حکم سے مراد کتاب کا فہم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حکم سے مراد لوگوں پر حکم چلانا اور فیصلہ کرنا ہے : یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک انبیا ہیں۔ طیبات سے مراد غذائوں، پھلوں اور کھانوں میں سے حلال چزیں جو ملک شام میں تھیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد تیہ کے ریگستان میں من وسلویٰ ہے : یعنی ان کے زمانہ کے عالم، جس طرح اس کی وضاحت سورة دخان میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد نبی کریم ﷺ کا امر اور آپ کی نبوت کے شواہد ہیں (1) کہ آپ تہامہ سے یثرب کی طرف ہجرت کریں گے اہل یثرب آپ کی مدد کریں گے : ایک قول یہ کیا گیا : الامر سے مراد شرعی احکام ہیں جو حلال و حرام میں واضح ہیں اور معجزات ہیں۔ اس سے مراد حضرت یوشع بن نون ہے ان میں بعض ایمان لائے اور ان میں سے بعض نے کفر کیا (2) یہ نقاش نے بیان کیا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد نبی کریم ﷺ کی نبوت ہے پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ نبی کریم ﷺ پر حسد کرنے کی بناء پر (3) ، یہ معنی ضحاک نے کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : کا معنی ہے بعض بعض پر بغاوت کرتے ہیں اور فضل و سرداری کو طلب کرتے ہیں اور انہوں نے انبیاء کو قتل کیا، اسی طرح تیرے زمانے کے مشرک ہیں اے محمد ﷺ ان کے اس بینات آگئیں لیکن انہوں نے بینات سے بےاعراض کیا کیونکہ وہ ریاست میں باہم مقابلہ کرتے ہیں۔ تیرا رب ان کو حکم دیتا ہے اور ان کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے : وہ دنیا میں اختلاف کیا کرتے تھے
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ لغت میں شریعت سے مراد مذہب اور ملت ہے۔ پانی کے گھاٹ کو شریعہ کہتے ہیں اسی سے لفظ شارع ہے کیونکہ یہ مقصد کی طرف جانے کا راستہ ہے شریعت اسے کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے دین شروع کیا ہوتا ہے اس کی جمع شرائع ہے دین میں شرائع سے مراد وہ مذہب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے مشروع کیئے ہوتے ہیں۔ کا معنی ہے یعنی دین کے معاملہ میں واضح منہاج جو تجھے حق کی طرف لے جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کا معنی ہے دین کے معاملہ میں ہدایت پر۔ قتادہ نے کہا : شریعت سے مراد امر، نہی، حدود اور فرائض ہیں۔ مقاتل نے کہا : اس کا معنی بینہ ہے کیونکہ یہ حق کی طرف واضح راستہ ہے۔ کلبی نے کہا : مراد السنۃ ہے کیونکہ اس کے ذریعے ماقبل انبیاء کے راستہ پر چلا جاتا ہے۔ (4) ابن زید نے کہا : مراد دین ہے کیونکہ وہ نجات کا راستہ ہے (5) ابن عربی نے کہا : امر کا لفظ لغت میں دو معنوں میں ہوتا ہے 1 ۔ یہ شان کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ہود) 2 ۔ کلام کی وہ قسم ہے نہی جس کے مقابل ہوتی ہے دونوں معانی کو یہاں مراد بنانا صحیح ہے تقدیر کلام یہ ہوگی پھر ہم نے تجھے دین کے طریقے پر چلایا یہ ملت اسلام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النحل) اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے توحید، مکارم اخلاق اور مصالح میں شرائع میں کوئی فرق نہیں رکھا فرعی مسائل میں فرق کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا علم محیط تقاضا کرتا تھا۔ مسئلہ نمبر 2: ابن عربی نے کہا : جو لوگ علوم میں گفتگو کرتے ہیں ان میں سے بعض کا گمان یہ ہے کہ یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ ہم سے قبل کی شریعتیں ہماری شریعتیں نہیں کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور اس کی امت کو شریعت میں خاص کیا ہے ہم اس بات کا تو انکار نہیں کرتے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے امت شریعت میں مفرد ہے اور اختلاف اس امر میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ماقبل شریعتوں کے بارے میں مدح اور ثناء کے انداز میں خبر دی ہے کیا اس کی اتباع لازم ہے یا نہیں ؟ یعنی مشرکوں کی خواہشات کی اتباع نہ کریں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد بنی قریظہ ہے اور بنی نضیر ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ قول مروی ہیں۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب قریش نے آپ کو اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

اگر آپ ان کی خواہشات کی اتباع کریں تو وہ تجھ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کسی چیز کو دور نہیں کریں گے۔ ظالم ایک دوسرے کے دوست مددگار اور احباب ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد منافق یہودیوں کا دوست ہیں۔ اللہ متقین کا مددگار ہے۔ یہاں متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور معاصی سے بچتے ہیں۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

یہ کلام مبتدا اور خبر ہے یعنی یہ چیز جو تم پر نازل کی گئی ہے یہ حدود احکام میں لوگوں کے لئے براہین، دلائل اور علم کے محل ہیں۔ اسے پڑھا گیا یعنی یہ آیات بصائر ہیں۔ یعنی رہنمائی اور طریقہ ہیں جو اس آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے جو بھی اسے اپناتا ہے : اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے آخرت میں رحمت ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

یعنی جنہوں نے برائیاں کیں۔ اجتراح کا معنی کمانا ہے، اسی سے جو جوارح کا لفظ ہے اس کی وضاحت سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔ کلبی نے کہا : سے مراد عتبہ، شیبہ جو ربیع کے بیٹے تھے (1) اور ولید بن عتبہ ہے سے مراد حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث ہیں جب انہوں نے ان کو بدر کے روز دعوت مبارزت دی اور انہیں قتل کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مشرکوں کی ایک جماعت کے بارے میں آیت نازل ہوئی انہوں نے کہا تھا : آخرت میں انہیں مومنوں کے مقابلہ میں بہتر دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کے بارے میں بتایا۔ (فصلت :50) یہ استفہام ہے یہ کلام معطوف ہے اس کا معنی انکار ہے اہل عربیہ عطف کے بغیر بھی اسے جائز سمجھتے ہیں جب وہ خطاب کے وسط میں ہو۔ ایک قوم کہتی ہے : اس میں اضمار ہے یعنی اللہ تعالیٰ متقین کا ولی ہے کیا مشرف یہ جانتے ہیں یا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کے درمیان برابری کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام منقطع ہے اس میں ہمزہ کا معنی حسبان کا انکار ہے عام قرأت کی قرأت رفع کے ساتھ ہے کہ یہ مبتدا کی خبر مقدم ہے تقدیر کلام یہ ہے : میں ضمیر کفار کی طرف لوٹے گی۔ یعنی ان کی زندگی بری زندگی ہے اور ان کی موت بھی اسی طرح ہے۔ حمزہ، کسائی اور اعمش نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے اس کا معنی ہے ہم اسے برابر بنا دیں گے۔ اعمش اور عیسیٰ بن عمر نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے معنی ہوگا وہ اپنی زندگی اور موت میں برابر ہیں جب حرف ج سے ساقط کردیا تو وہ منصوب ہوگیا یہ بھی جائز ہے کہ ھم ضمیر سے بدل ہوں، معنی ہوگا کیا ہم ان کی زندگی اور موت کو برابر کردیں گے جس طرح مومنوں کی زندگی اور موت ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر کفار اور مومنین سب کے لئے ہو۔ مجاہد نے کہا : مومن مومن کی حیثیت سے مرتا ہے : مومن کی حیثیت سے اٹھایا جاتا ہے کافر کافر کی حیثیت سے مرتا ہے اور کافر کی حیثیت سے اٹھایا جاتا ہے : (1) ابن مبارک نے ذکر کیا شعبہ، عمرو بن مرہ سے وہ ابو ضحا سے وہ مسروق سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اہل مکہ کے آدمی نے کہا : یہ تممیم داری کا مقام ہے میں نے اسے ایک رات دیکھا۔ یہاں تک کہ اس نے صبح کی یا صبح کے قریب تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے ایک آیت کو پڑھتا، رکوع کرتا، سجدہ کرتا اور روتا بشیر نے کہا : میں ایک رات ربیع بن خیمثہ کے پاس گزرا وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے وہ اس آیت کے پاس سے گزرے ساری رات اسی پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح کردی شدید رونے کی وجہ سے اس سے آگے نہ بڑھے۔ ابراہیم بن اشعت نے کہا : میں فضیل بن عیاض کو اکثر دیکھا کرتا تھا وہ رات کے پہلے حصہ سے آخر رات تک اس آیت کو دہراتے رہتے اور اس کی مثل آیات پڑھتے رہتے پھر کہتے : کاش تو جانتا ہے تو کس جماعت میں ہے ؟ اس آیت کو عابدین کو رلانے والی آیت کہا جاتا ہے کیونکہ یہ محکم ہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

الحق سے پہلے الامر کا لفظ مخدوف ہے اصل میں لکی تجزی تھا ہر نفس نے جو کیا ہوگا اسے آخرت میں جزا دی جائے گی ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

حضرت ابن عباس، قتادہ اور حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس کافر نے اپنا دین اسی کو بنا لیا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے وہ کسی چیز کی خواہش نہیں کرتا مگر اس پر سوار ہوجاتا ہے۔ (2) عکرمہ نے کہا : ذرا اسے تو دیکھو جس نے اپنا معبود اسے بنا لیا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے یا جسے وہ اچھا جانتا ہے جب وہ کسی چیز کو اچھا خیال کرتا ہے اور اس کی خواہش کرتا ہے تو اسے اپنا الہ بنا لیتا ہے۔ (3) سعید بن جبیر نے کہا : ان میں سے کوئی پتھر کی پوجا کرتا ہے جب اس پتھر سے خوبصورت پتھر دیکھتا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتا اور دوسرے پتھر کی عبادت شروع کردیتا۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت حارث بن قیس سہمی کے بارے میں نازل ہوئی جو مذاق اڑانے والوں میں سے ایک تھا کیونکہ وہ اس کی پوجا کرتا جس کی خواہش کرتا۔ سفیان بن عینیہ نے کہا : انہوں نے پتھر کی عبادت کی کیونکہ بیت اللہ پتھر کا بنا ہوا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کیا تو نے اسے دیکھا ہے جو اپنی خواہش اور اپنے معبود کی پیروی کرتا ہے : اس کلام سے مقصود ذوی العقول کی اس جہالت پر تعجب کا اظہار کرنا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے کیا تو نے اسے دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ شعبی نے کہا : خواہش کو ھوی کا نام اس لئے دیا گیا کہ وہ خواہش کرنے والے کو آگ میں پھینک دیتی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ھوی کا ذکر نہیں کیا مگر اس کی مذمت کی : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (اعراف 176) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (کہف) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الروم 29) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (قصص 50) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ص 26) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے ” تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش اس کے تابع نہ ہو جس پیغام حق کو میں لایا ہو “ (1) حضرت ابو امامہ نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے نا :” آسمان کے نیچے کسی معبود کی عبادت نہیں کی گئی جو خواہش نفس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض ہو “ حضرت شداد بن اوس نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : (2) دانا وہ ہے جس نے اپنے نفس کو مطیع کیا اور موت کے بعد کے لئے عمل کیا اور فاجر وہ ہے جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہش کے تابع کیا اور اللہ تعالیٰ پر تمنا کی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب تو ایسا بخل رکھے جس کی اتباع کی جاتی ہو، خواہش کی پیروی کی جاتی ہو، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہو، ہر رائے والا اپنی رائے پر خوش ہوتا ہے تو تجھے اپنی ذات کی فکر کرنی چاہیے اور تجھے عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا چاہیے۔ (3) ۔ “ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : (4) تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں اور تین چیزیں نجات دینے والی ہیں ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں۔ ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے، ایسی خواہش کی پیروی کی جائے اور آدمی کا اپنے آپ پر خوش ہونا۔ نجات دینے والی چیزیں یہ ہیں مخفی اور علانیہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، غنا اور فقرا میں میانہ روی اختیار کرنا اور رضا مندی اور ناراضگی میں عدل کرنا۔ حضرت ابو درداء ؓ نے کہا : جب ایک آدمی صبح کرتا ہے تو اس کی خواہش اس کا عمل اور اس کا علم اکٹھے ہوتے ہیں اگر اس کا عمل اس کی خواہش کے تابع ہو تو اس کا دن برا دن ہوتا ہے اگر اس کا عمل اس کے علم کے تابع ہوتا ہے تو اس کا دن صالح دن ہوتا ہے اصمعی نے کہا میں نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : ذلت ہی خواہش ہے اس کا نام الٹ دیا گیا ہے جب تو خواہش کرے تو تو نے ذلت کو پا لیا ابن مقفع سے ھوی کے بارے میں پوچھا گیا اس نے کہا : ھوان کا نون چرا لیا گیا شاعر نے اسے لیا اور اسے اشعار میں نظم کیا اور کہا ھوان کا نون ھوی سے چرا لیا گیا ہے جب تو خواہش کرے گا تو تو نے ذلت کو پا لیا اور ایک شاعر نے کہا : بیشک ھوا بعینہ ہی ھوان ہے جب تو نے خواہش کی تو تو نے ذلت کو کما لیا۔ جب تو نے خواہش کی تو خواہش نے تجھے اپنا غلام بنا لیا اپنی محبت کو پست رکھ وہ جس سے بھی ہو عبداللہ بن مبارک کے اشعار ہیں : آزمائشیں آزمائشوں کی علامت ہوتی ہیں کیا تیرے لئے تیری خواہش سے میلان دکھائی نہیں دیتا۔ بندہ اپنی خواہشات میں نفس کا غلام ہوتا ہے، شریف آدمی کبھی سیر ہوتا ہے اور کبھی بھوکا رہتا ہے۔ ابن درید کے اشعار ہیں : جب نفس کسی روز تجھ سے کسی خواہش کا مطالبہ کرے جبکہ اس سے اختلاف کا طریقہ ہو اسے چھوڑ دو اور جو تو نے خواہش کی ہے اس کی مخالفت کر بیشک تیری خواہش دشمن ہے اور اس سے اختلاف کرنا درست ہے۔ ابو عبید طوسی کا شعر ہے۔ اگر تو نفس کو اس کی آرزو عطا کرے نفس اپنی خواہش کی طرف اپنا منہ کھولے ہوئے ہے۔ احمدح بن ابی حواری نے کہا : میں ایک راہب کے پاس سے گزرا تو میں نے اسے نحیف ونزار پایا، میں نے اسے کہا : تو کمزور ہے : اس نے کہا، ہاں : میں نے کہا : کتنے عرصے سے ؟ اس نے کہا : جس بے میں نے اپنے نفس کو پہچانا ہے، میں نے کہا : تو اس کی دوا کرتا ہے ؟ اس نے کہا : دوا نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں نے کئی کا عزم کیا ہے۔ میں نے کہا : کئی کیا ہے ؟ اس نے کہا : خواہش نفس کی مخالفت۔ سہل بن عبداللہ تستری نے کہا : تیری خواہش تیری بیماری ہے اگر تو اس کی مخالفت کرے گا تو تیری دوائی ہے : وہب نے کہا : جب تجھے دو امور میں شک ہو اور تو ان میں سیبہترین کو نہ جانتا ہو تو ان دونوں میں سے تیری خواہش سے جو زیادہ دور ہے اس کو دیکھو اور اس پر عمل کرو۔ اس باب یعنی خواہش نفس کی مخالفت اور اس کی مذمت میں مستقل کتابیں اور کتابوں کے ابواب ہیں ان میں سے جن چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہی کافی ہے : (نازعات) یعنی عل جو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں رکھتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے ثواب سے محروم رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں علم تھا کہ وہ اس کا مستحق نہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ وہ گمراہ ہوگا (1) ۔ مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں علم تھا کہ وہ گمراہ ہے (2) معنی قریب قریب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ بت پرست کے بارے میں اسے علم تھا کہ یہ عمل اسے نہ نفع دے گا اور نہ نقصان پہنچائے گا۔ پھر کہا گیا : علم کے بارے میں جائز ہے کہ فاعل سے حال ہو معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مفعول سے حال ہو معنی ہوگا اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کیا اس حال میں کہ کافر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ گمراہ ہے۔ اس کے کان پر مہر لگا دی یہاں تک کہ وہ وعظ کو نہیں سنتا (3) اس کے دل پر مہر لگا دی یہاں تک کہ وہدایت کو نہیں سمجھتا۔ یعنی ایسا پردہ یہاں تک کہ وہ ہدایت کو نہیں دیکھتا۔ حمزہ اور کسائی نے کہا : غشوۃ الف کے بغیر غین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے : شاعر نے کہا : محل استدلال البستنی غشوۃ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کردیا ہے تو کون اسے ہدایت دے گا۔ کہا : تم نصیحت حاصل نہیں کرتے اور تم نہیں پہچانتے کہ وہ ہر چاہت پر قادر ہے۔ یہ آیت قدریہ اور امامیہ کے اور جو بھی ان کی راہ چلا اس کا رد کرتی ہے، کیونکہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ انہیں ہدایت سے روک دیا گیا ہے : پھر یہ قول کیا گیا ہے : یہ ان کے احال کے بارے میں خبر کے طریقہ پر کلام چلائی گئی ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کے خلاف دعا کے طریقہ پر کلام ذکر کی گئی ہے جس طرح سورة بقرہ کے آغاز میں کلام گزری ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حارث بن قیس غیاطلہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ نقاش نے کہا : یہ آیت حارث بن نوفل بن عبدمناف کے بارے میں نازل ہوئی۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت : ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے اس نے ایک روز بیت اللہ شریف کا طواف کیا جبکہ اس کے ساتھ ولید بن مغیرہ تھا دونوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں گفتگو کی ابو جہل نے کہا : اللہ کی قسم : میں جانتا ہوں کہ وہ سچا ہے۔ ولید بن مغیرہ نے کہا : رہنے دو کس چیز نے تجھے اس پر آگاہ کیا ؟ نے کہا : اے ابو عبد شمس ! ہم بچپن میں اسے صادق و امین کہتے تھے جب اس کی عقل مکمل ہوگئی اور دانش کمال کو پہنچ گئی تو ہم اسے کذاب و خائن کہتے ہیں اللہ کی قسم ! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ صادق ہیں ولید نے پوچھا : تجھے کون سی چیز روکتی ہے کہ تو اس کی تصدیق کرے اور اس پر ایمان لائے ؟ ابو جہل نے کہا : میرے بارے میں قریش کی بچیاں باتیں کریں گی کہ میں نے ابو طالب کے ہاں پرورش پانے والے یتیم کی پیروی کی ہے وجہ مقابلہ نہ کر سکنا ہے لات وعزی کی قسم : میں کبھی بھی اس کی پیروی نہیں کروں گا۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

یہ ان کی جانب سے انکار، دوبارے اٹھائے جانے کو جھٹلانا اور جزا کا ابطال ہے کا معنی ہے ہم مریں گے اور ہماری اولادیں زندہ رہیں گی (1) یہ کلبی کا قول ہے اسے نحیا بھی پڑھا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم میں سے بعض مریں گے اور ہم میں سے بعض زندہ ہوں گے۔ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی ہم زندہ ہوں گے اور ہم مریں گے، یہ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد سال اور دن ہیں (3) قتادہ نے کہا : عمر ہے (4) معنی ایک سال ہے۔ اسے الادھریمر بھی پڑھا گیا ہے انب عینیہ نے کہا : دور جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے اور ہمیں مارتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی قطرب نے کہا : معنی ہے ہمیں موت ہی ہلاک کرتی ہے اور ابوذ ویب کا قول پڑھا۔ کیا تم موتوں اور ان کے حادثات سے دکھی ہوتے ہو جو آدمی جزع فزع کرتا ہے زمانہ اس پر عتاب نہیں کرتا۔ عکرمہ نے کہا : للہ تعالیٰ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے۔ ” دور جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر رات اور دن اور وہی ہمیں ہلاک کرتا ہے ہمیں موت دیتا ہے اور ہمیں زندہ کرتا ہے پس وہ زمانہ کو گالیاں دیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (1) ابن آدم مجھے اذیت ہے اور وہ زمانہ کو گالیاں دیتا ہے میں دھر ہوں اور میرے قبضہ قدرت میں امر ہے، میں رات اور دن کو گھماتا ہوں۔ میں کہتا ہوں : بخاری کی نص اور اس کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم نے بھی اسے نقل کیا ہے سنن ابو دائود میں بھی یہ روایت ہے۔ موطا میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (2) تم میں سے کوئی ایک یہ نہ کہے، ہائے زمانہ کی بربادی، بیشک اللہ ہی زمانہ ہے، جس نے یہ کہا کہ دہر اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے اس نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اور کہا علماء میں سے جنہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا اسم قرار نہیں دیا اس نے اسے دورجاہلیت میں عربوں کا جو انداز کلام تھا اس کا رد بنایا ہے کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ دہر ہی حقیقت میں فاعل ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے آیت میں ان کے بارے میں بتایا ہے جب انہیں کوئی مصیبت، ظلم یا ناپسندیدہ چیز پہنچتی تو اسے دہر کی طرف منسوب کرتے تو انہیں یہ کہا گیا : تم زمانہ کو گالیاں نہ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ (3) یعنی اللہ تعالیٰ ہی ان امور بجا لانے والا ہے جن کو تم زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہو تو گالی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتی ہے تو انہیں اس امر سے روک دیا گیا۔ اس نے جو ذکر کیا ہے اس کی صحت پر حضرت ابوہریرہ کی حدیث دلالت کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے “ (4) جس نے کہا بہت اچھا کہا وہ ابو علی ثقفی ہے : اے زمانہ کو عتاب کرنے والے جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے زمانہ کی جانب سے وعدہ پورا نہ کرنے پر اسے ملامت نہ کر، زمانہ تو مامور ہے اس کا ایک آمر ہے زمانہ اس کے امر پر منتہی ہوجائے گا کتنے ہی کافر ہیں جن کے اموال بیشمار ہیں ان کے کفر کے باوجود ان میں اضافہ ہو رہا ہے ایک مومن ہے اس کے پاس کوئی درہم نہیں اس کے فقر کے باوجود اس کے ایمان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اکثر زمانہ کا ذکر کرتے تو ان کے والد نے انہیں اس بات سے جھڑکا فرمایا : اے بیٹے : زمانہ کے ذکر سے بچ اور یہ شعر پڑھا۔ زمانہ کسی شے پر آزمائش کے ساتھ جنابت کرنے والا نہیں اور نہ ہی مصیبت لانے والا ہے پس تو زمانہ کو گالیاں نہ دے مگر جب اللہ تعالیٰ کسی قبیلہ پر کوئی مصیبت بھیجتا ہے تو ان کی خوشحالیوں کو تنگدستی بنا دیتا ہے۔ ابو عبید نے کہا : میں نے جو ایک ملحد سے مناظرہ کیا اس نے کہا : کیا تو نہیں دیکھا کہ وہ کہتا ہے : میں نے کہا : کیا کوئی ایسا بھی ہے جو زمانہ کی ہلاکتوں میں اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہو بلکہ وہ کہتے جس طرح اعشی نے کہا : بے شکر سفر پڑائو ڈالنے کا ایک محل ہے اور کوچ کرنے کی جگہ ہے اور اس میں آرام و فرصت ہے جب وہ چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے وفا اور عدل کو چن لیا ہے اور ملامت کو انسان کی طرف پھیر دیا ہے۔ ابو عبید نے کہا : اور حادثات کو اس کی طرف منسوب کیا۔ عمرو بن قیمیہ نے کہا : مجھے حادثات زمانہ تیر مارتے ہیں جہاں سے میں دیکھتا نہیں اس آدمی کا کیا حال ہوگا جس پر تیر مارا جائے اور وہ خود تیر نہ مار سکے اگر وہ تیر ہوتا تو میں اس سے بچ جاتا لیکن مجھے تو تیر اس کے بغیر مارا جاتا ہے ایک دفعہ دونوں ہتھلیوں پر اور تیسری دفعہ عصا کے سہارے اٹھتا ہوں ان کے بعد میرا کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ اس کی مثل اشعار میں بہت زیادہ ذکر ہے اور شعراء اسے زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی فاعل حقیقی ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں۔ یہاں من زائد ہے یعنی انہوں نے جو کچھ کہا شک کرتے ہوئے کہا۔ یعنی وہ ظن کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جو بعث میں شک کرتے ہیں اور قطعی طور پر انکار نہیں کرتے۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں مسلمانوں کے خوف کی وجہ سے ان کے لئے قیامت کا انکار تو ممکن نہیں وہ تاویل کرتے ہیں اور قیامت سے مراد بدن کی موت لیتے ہیں اور ثواب و عقاب اسے خیالات دیکھتے ہیں جو ان کے گمان کے مطابق روحوں کو لاحق ہوتے ہیں ان لوگوں کا شر تمام کفار کے شر سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ لوگ حق پر ملمع سازی کرتے ہیں اور ان کی ظاہری تبلیس سے دھوکہ کھایا جاتا ہے۔ وہ مشرک جو اعلانیہ شرک کرتا ہے مسلمان اس سے احتیاط کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم مرتے ہیں اور ہمارے آثار زندہ رہتے ہیں۔ یہ اچھے ذکر کے ساتھ زندگی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے تناسخ کی طرف اشارہ کیا یعنی ایک آدمی فوت ہوتا ہے تو اسکی روح مردوں میں رکھ دی جاتی ہے تو وہ اس کے ساتھ زندہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

جب ان مشرکوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بعث کے جواز میں نازل ہوئی ہیں تو ان کے پاس رد کرنے کے کوئی دلائل نہیں۔ یہ کان کی خبر ہے اور اسم ہے یعنی ہمارے مردہ آباء کو لے آئو جن سے ہم اس بارے میں سوال کریں گے کہ جو کچھ کہتے ہو وہ سچ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول رد کردیا بعد اس کے کہ تم مردہ نطفہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کردیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں قیامت کے روز جمع کرے گا جس طرح اس نے تمہیں دنیا میں زندہ کیا۔ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح اس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ زمحشری نے کہا : اگر تو کہے ان کے قول کو کیوں حجت قرار دیا گیا جبکہ وہ حجت نہیں ؟ میں کہوں گا : انہوں نے اس کے ساتھ اس طرح دلیل پکڑی جس طرح استدلال کرنے والا اپنی دلیل سے استدلال کرتا ہے (1) انہوں نے اسے دلیل کے انداز میں ذکر کیا تو بطور استہزاء اسے حجت کا نام دیا گیا یا ان کے گمان اور اندازے کے مطابق وہ حجت تھی یا یہ اس اسلوب میں کلام ہے ان کا اہم اسلام تکلیف دہ وار ہے۔ گویا کہا گیا : ان کی حجت نہیں تھی مگر جو حجت نہیں تھی۔ مراد یہ ہے کہ اس امر کی نفی کی جائے کہ ان کی کوئی حجت ہو۔ اگر تو یہ کہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کا جواب ہے : میں اس کا جواب دوں گا : جب انہوں نے بعث کا انکار کیا، رسولوں کی تکذیب کی اور انہوں نے گمان کیا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے یہ خاموش کرنے والا قول ہے تو ان پر بطریق دلیل الزامی اس چیز کو لازم کیا جائے گا جس کے وہ اقرار کرنے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا پھر وہی انہیں مارے گا۔ اس دلیل الزامی کے ساتھ اس دلیل الزامی کاملا دیا جائے گا جو اس اقرار کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ قیامت کے روز انہیں جمع کرتا ہے اگر وہ انصاف سے کام لیں اور حق کے داعی کی طرف توجہ کریں جو ذات اس امر پر قادر ہے وہ ان کے آباء کو دوربارہ زندہ کرنے پر قادر ہے یہ امر اس پر زیادہ آسان ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

ارلاض خلقت اور ملک کے اعتبار سے یہ اللہ کے لئے ہیں۔ پہلا یوم یخسر کی وجہ سے منصوب ہے اور یومذً تاکید کے لئے مکرر ذکر کیا گیا ہے یا یہ بدل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر کلام یہ ہے یخسر کا مفعول مخدوف ہے معنی ہے وہ جنت میں اپنی منازل کے بارے میں خسارے میں ہوں گے۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

اس دن کی ہولناکی کے باعث تو یہ گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھے گا۔ یہاں امت سے مراد ہر ملت والے ہیں، جاثیہ میں پانچ تاویلیں ہیں : 1 ۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی مستوفزہ ہے (1) سفیان نے کہا : مستوفزا اسے کہتے ہیں جس کے زمین پر اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے پوروں کے اطراف لگتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : یہ حساب کے موقع پر ہوتا ہے۔ 2 ۔ مجتمع، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے قول کیا ہے : فراء نے کہا : معنی ہے تو ہر دین والے کو مجتمع دیکھے گا۔ 3 ۔ متمیزہ، الگ الگ، یہ عکرمہ نے قول کیا ہے : 4 ۔ جھکا ہوا یہ قریش کی لغت ہے، یہ مورج کا قول ہے۔ 5 گھنٹوں پر بیٹھنے والا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : جثا سے مراد گھنٹوں پر بیٹھنا ہے۔ دونوں میں فعول کا وزن ہے سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے جثوا کا اصل معنے ہر شے کی جماعت ہے طرفہ دو قربوں کی صفت بیان کرتا ہے۔ تو مٹی کی دو قبریں دیکھے گا جن پر پتلے مضبوط پتھر ہیں جو ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ پھر یہ کہا گیا ہے : یہ کفار کے ساتھ خاص ہیں یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کافر اور مومن دونوں کو عام ہے وجہ حساب کا انتظار ہے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے وہ عبداللہ بن باباہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کہا : گویا میں تمہیں اونچی جگہوں پر جہنم سے پہلے گھنٹوں کے بل گرا ہوا دیکھتا ہوں۔ “ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے (1) حضرت سلمان فارسی نے کہا : قیامت کے دن ایک گھڑی ہے جو دس سال کے برابر ہوگی لوگ اس میں گھنٹوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ آج میں تجھے اپنی ذات کے سوا کسی کے لئے سوال نہیں کرتا۔ بن سلام نے کہا : کتاب سے مرا حساب ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد وہ کتاب ہے جس میں اس کے اچھے اور برے اعمال لکھے جاتے تھے، یہ مقاتل کا قول ہے یہ مجاہد کا قول کا معنی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے سے مراد وہ کتاب ہے جس پر فرشتے لکھتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے ( 2) یعقوب حضری نے کہا : کل امۃ منصوب ہے کیونکہ یہ پہلے کل سے بدل ہے کیونکہ دوسرے کل میں وضاحت ہے جو پہلے میں نہیں ہے، کیونکہ پہلے جثو کی حالت کی کوئی وضاحت نہیں جس طرح دوسرے جثو میں اس بب کا ذکر ہے جو اس کا داعی ہے وہ اس امت کو اس کی کتاب کی طرف دعوت دینا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منصوب ہے اس میں عامل تری ہے جو مضمر ہے اور رفع مبتدا ہونے کی بناء پر ہے۔ جو اچھا یا برا عمل کرتے تھے، اس کی آج تمہیں جزا دی جائے گی۔
Ayahs 45:28–29

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا ان کے لئے قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا : یہ فرشتوں کا قول ہے۔ یعنی وہ گواہی دیتا ہے یہ استعارہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے یعنی کتاب نے اس کی وضاحت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس کتاب کو پڑھیں گے تو کتاب انہیں ان کے اعمال یاد دلائے گی گویا وہ ان سے کلام کرے گی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (کہف 49) مومن کے بارے میں ہے : (مومنون 62) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ الکتاب سے حال ہے یا ذا سے حال ہے یا ذا کی دوسری خبر ہے یا سے بدل ہے اور ینطق خبر ہے، یعنی تم جو عمل کرتے تھے اس کے لکھنے کا حکم دیتے تھے حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں وہ ہر روز کسی چیز کے ساتھ نازل ہوتے ہیں جس میں وہ انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ لکھنے کا عمل کتاب سے ہوگا (1) حضرت حسن بصری نے کہا : حفظہ فرشتوں نے جو لکھا ہوگا ہم اسے لکھ لیا کرتے تھے کیونکہ حفظ فرشتے اعمال کے صیحفے خازنوں کی طرف بلند کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے : حفظہ بندوں کے جو اعمال لکھتے ہیں ہر روز انہیں اٹھا کرلے جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے مکان کی طرف لوٹتے ہیں تو اس سے نیکیاں اور برائیاں لکھ لی جاتی ہیں مباحات کو دوسرے نسخہ کی طرف منتقل نہیں کیا جاتا ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتے جب بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جاتے ہیں توہ وہ حکم دیتا ہے جن اعمال پر ثواب و عقاب ہے انہیں اس کے ہاں لکھ لیا جائے اور جن پر ثواب و عقاب نہیں ہوتا ان سے ساقط ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 45:30–31

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

رحمت سے مراد جنت ہے یعنی انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ استفہام توبیخ کے لئے ہے۔ تم نے اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا۔ تم مشرک قوم ہو تم نافرمانیاں کرتے ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جب وہ اس جرم کا ارتکاب کرنیوالا ہو : مجرم اسے کہتے ہیں جو اپنے آپ کو نافرمانیوں پر برانگختیہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القلم) مجرم مسلم کی ضد ہے پس وہ کفر کے گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے۔
Ayahs 45:32–33

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

یعنی دوبارہ اٹھانا ہو کر رہے گا۔ حمزہ نے الساعۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف وعد پر ہے باقی قراء نے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے یا ان وعد اللہ کے محل پر اس کا عطف ہے مصدر میں جو ضمیر ہے اس پر عطف کرنا اچھا ہے کیونکہ اس کی تاکید نہیں لگائی گئی ضمیر مرفوع پر شعر میں تاکید کے بغیر عطف کیا جاتا ہے۔ یعنی کیا قیامت حق ہے یا باطل ہغ۔ مبرو کے نزدیک اس کی تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی ہم یقین کرنے والے نہیں تھے کہ قیامت ہو کر رہنے والی ہے۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

ہم تمہیں آگ میں چھوڑ جائیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو چھوڑ دیا تھا۔ یعنی اس کے لئے عمل کو ترک کردیا تھا تمہارا مسکن اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے یعنی تمہارے لئے کوئی ایسا آدمی نہیں جو تمہاری مدد کرے۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

مراد قرآن حکیم ہے کھیل دنیاوی زندگی نے اپنی باطل چیزوں اور زیب وزینت سے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا تو تم نے یہ گمان کیا کہ اس کے سوا کوئی چیز نہیں اور دوبارہ اٹھانا بھی نہیں ھا ضمیر سے مراد آگ ہے اور نہ انہیں توبہ کر کے راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حمزہ اور کسائی نے یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الحج 22) باقی قراء نے یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، (مومنون 107) اس کی مثل دوسری آیات ہیں۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

مجاہد حمید اور ابن محیصن نے سب میں رفع کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ اصل میں ھو رب ہے یاء کبریا سے مراد عظمت، جلال، بقائ، حکومت، قدرت اور کمال ہے۔