Ayahs 44:1–3اگر تو میم کو جواب قسم بنائے تو کلام المبین پر مکمل ہوجائے گی پھر تو نئے سرے سے کلام کو شروع کرے گا۔ اگر تو اس قسم کا جواب بنائے جو قسم الکتب ہے تو منذرین پر وقف کرے گا اور سے نئی کلام شروع کرے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب انا انزلناہ ہے بعض نحویوں نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ مقسم بمہ کی صفت ہے تو مقسم بہ کی صفت جواب قسم نہ ہوگی اور قرآن کے لئے ہے جس نے کہا : باقی کتابوں کی قسم اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد میں ضمیر سے مراد غیر قرآن ہے جس کا بیان سورة احزاب کی ابتدای حصہ میں ہوچکا ہے۔ لیلۃ مبارک سے مراد لیلۃ القدر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد شعبان کے نصف کی رات ہے (3) اس کے چار نام ہیں۔ لیلۃ مبارکہ، لیلۃ البرأۃ، لیلۃ الصک اور لیلۃ القدر (4) ۔ اس کی صفت برکت سے لگائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس میں برکات، خیرات اور ثواب اپنے بندوں پر نازل فرماتا ہے۔
قتادہ نے حضرت واثلہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : صحف ابراہیم رمضان شریف کی پہلی رات میں نازل کئے گئے تورات نازل ہوئی جبکہ رمضان شریف کے چھ دن گزر چکے تھے۔ زبور اس وقت نازل ہوئی جب رمضان شریف کے بارہ دن گزر چکے تھے انجیل اس وقت نازل ہوئی جب رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے اور قرآن حکیم اس وقت نازل ہوا جب رمضان کے چوبیس دن گزر چکے تھے۔ “ پھر یہ قول کیا گیا ہے کہ پھر قرآن اور اس رات کو آسمان دنیا پر نازل ہوا پھر تھوڑا تھوڑا باقی دنوں میں اسباب کے موافق نازل ہوتا رہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہر لیلۃ القدر کو اتنا نازل ہوتا جتنا پورے سال میں نازل ہوتا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے نزول کا آغاز اس رات میں ہوا عکرمہ نے کہا : لیلۃ مبارکہ سے مراد شعبان کے نصف کی رات ہے جبکہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے (1) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القدر) ؛ قتادہ اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے پورا قرآن لیلۃ القدر میں ام الکتاب سے بیت العزہ کی طرف جو آسمان دنیا میں ہے نازل کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نبی ﷺ پر راتوں اور دنوں میں تیس سالوں میں نازل کیا یہ بحث سورة البقرہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان (185) میں گزر چکی ہے۔ انشاء اللہ ابھی یہ بحث آئے گی۔
Ayah 44:4حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ دنیا کے امور کا اگلی لیلۃ القدر تک فیصلہ فرما دیتا ہے وہ چیز زندگی سے متعلق ہو، موت سے متعلق ہو، یا رزق سے متعلق ہو (2) یہ قتادہ، مجاہد، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مگر بدبختی اور سعادت مندی، کیونکہ یہ دونوں چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں، یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔ (3) مہدوی نے کہا : اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جو کچھ اس سال میں ہوگا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ شعبان کی نصف کی رات ہے جس میں سال بھر کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مردوں سے زندوں کو لکھ لیا جاتا ہے حاجیوں کے کام لکھ لئے جاتے ہیں، اس میں نہ کسی کا اضافہ ہوتا ہے اور نہ اس میں سے کوئی فرد کم کیا جاتا ہے۔
حضرت عثمان بن مغیرہ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کے مرنے والوں کا قطعی فیصلہ کرلیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک آدمی نکاح کرتا ہے، اس کا بچہ پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کا نام مردوں میں شامل ہوچکا ہوتا ہے “ (4)
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ” جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس کی رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غروب شمس کے ساتھ آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے : کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا، میں اس کی بخشش کرو کیا کوئی مصیبت کا شکار ہے کہ میں اس کی مصیبت کو دور کروں کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے ؟ یہاں تک کہ فجر صادق طلوع ہوجاتی ہے (1) اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔
امام ترمذی نے اس کی ہم معنی روایت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے تو بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ افراد کو بخشش دیتا ہے “ (2) اس بات میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بھی روایت مروی ہے کہ ابو عیسیٰ نے کہا : حضرت عائشہ سے مروی حدیث ہم صرف حجاج بن ارطاہ سے وہ یحییٰ بن ابی کثیر سے وہ عروہ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی سند سے مرفوع جانتے ہیں، میں نے محمد کو سنا وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے کہا : یحییٰ بن ابی کثر نے عروہ سے اور حجاج بن ارطاہ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت نہیں سنی۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ کی طویل حدیث کتاب العروس نے ذکر کی ہے اور اس کو اختیار کیا ہے کہ وہ رات جس میں ہر عظیم امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے وہ شعبان کی نصف رات ہے اسے لیلۃ البراأ کہتے ہیں ہم نے اس کا قول اور اس کا رد کسی اور موقع پر کیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ وہ لیلۃ القدر ہے جس طرح ہم نے وضاحت کی ہے۔
حماد بن سلمہ، ربیعہ بن کلثوم سے روایت نقل کرتے ہیں : ایک آدمی نے حضرت حسن بصری سے پوچھا کہ جب میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا : اس نے کہا : اے ابا سعید ! بتائیے لیلۃ القدر ہر رمضان میں ہوا کرتی ہے ؟ فرمایا : ہاں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہر رمضان میں ہوتی ہے یہ وہی رات ہے جس میں ہر عظیم امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ ہر مخلوق، موت، رزق اور عمل کا اس کی مثل تک فیصلہ سنا فرماتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : لیلۃ القدر کو ام الکتاب میں سے جو کچھ لکھا جاً تا ہے جو کچھ سال میں ہوا ہوتا ہے وہ موت، زندگی ہو، رزق ہو، اور بارش ہو حتی کہ حج (3) یہ کہا جاتا ہے : فلاں حج کرے گا، فلاں حج کرے گا اور اس آیت کے بارے میں فرمایا : تو ایک آدمی کو بازاروں میں چلتا ہوا دیکھے گا جب کہ اس کا نام مردوں میں لکھا جا چکا ہوگا۔ یہ وضاحت اس طبقہ کو پختہ کرنے کے لئے ہے یہ ان فرشتوں کے لئے ہے جو اسباب خلق پر معین ہیں ہم نے اس کی وضاحت ابھی ابھی کی ہے۔
قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : جمہور علماء نے کہا اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ ان میں سے کچھ نے کہا : وہ نصف شعبان کی رات ہے (4) ہے یہ قول باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا : (البقرہ 185) اس امر پر وضاحت کی کہ نزول کا وقت رمضان ہے پھر یہاں اس کا زمانہ رات کو معین کیا اور ارشاد فرمایا جس نے یہ گمان کیا کہ ہے کہ یہ رمضان شریف کے علاوہ میں ہے اس نے اللہ تعالیٰ پر عظیم بہتان بنایا ہے نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ نہ تو اس کی فضلیت میں کوئی حدیث ہے اور نہ ہی اوقات کے منسوخ کرنے کے بارے میں کوئی حدیث ہے تم اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔
زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لیلۃ برأۃ میں لوح محفوظ سے لکھنے کا عمل شروع ہوگا اور لیلۃ القدر میں اس سے فراغت ہوگی (1) رزقوں کا نسخہ حضرت میکائیل کے حوالے کیا جائے گا حروب کا نسخہ حضرت جبریل کے حوالے کیا جائے گا اور اسی طرح زلزلوں صاعقوں اور دھنسانے کا معاملہ سپرد ہوگا اعمال کا نسخہ حضرت اسماعیل جو آسمان دنیا کے ذمہ دار ہیں ان کے سپرد ہوگا جو عظیم فرشتہ ہے۔ مصائب والا نسخہ (مسودہ) ملک الموت کے حوالے کیا جائے گا۔ بعض سے یہ مروی ہے : ہر عامل کو اس کے اعمال کی برکات عطا کی جائیں گی مخلوق کی زبانوں پر اسی کی مدح ڈال دی جائے گی اور ان کے دلوں پر ہیبت ڈال دی جائے گی اسے یفرق اور یفقرق بھی پڑھا گیا ہے ہر ایک میں صیغہ معروف ہوتا ہے اور کل کو نصب دی جائے گی جدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے زید بن علی ؓ نے نفرق پڑھا ہے۔
یہ امر حکمت والا ہے ہر عمل کرنے والا ہے حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے۔
Ayahs 44:5–6نقاش نے کہا : امر سے مراد قرآن ہے، اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی جناب سے نازل کیا ہے (2) ابن عیسیٰ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے احوال میں سے فیصلہ کیا ہوگا یہ مصدر ہے اور حال کے محل میں ہے اسی طرح اخفش کے نزدیک دونوں حال ہیں ان کی تقدیر ہے مبرو نے کہا : مصدر کے محل میں ہے تقدیر کلام ہے زجاج نے کہا : یفرق کی وجہ سے منصوب ہے۔ جس طرح تیرا قول ہے : پس امر فرق کے معنی میں ہوگا یہ مصدر ہے جس طرح تیرا قول یضرب ضربا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یومر پر دلالت کرتا ہے یہ اس کا عمل مصدر ہے جو اس سے قبل ہے۔ فراء نے کہا : مرسلین کا معفول بہ ہے رحمتہ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں زجاج نے کہا : رحمۃ مفعول بہ تقدیر کلام ہے ارسلنا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یہ امر اس سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے زمحشری نے کہا : اختصاص کے طور پر منصوب ہے ہر امر کو عظیم بنایا کہ اس کی صفت حکیم سے بنائی پھر اس کی عظمت میں اضافہ کیا اور فمخامت عطا کی کہ یہ کہا اس امر سے میری مراد یہ ہے کہ یہ ایسا امر ہے جو ہماری جناب سے حاصل ہے، یعنی ہماری جناب سے واقع ہوگا اور جس طرح ہمارے علم اور ہماری تدبیر نے تقاضا کیا زید بن علی کی قرأت میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یہ اس کے اختصاص کی بناء پر منصوب ہونے پر دال ہے حضرت حسن بصری نے رحمۃ پڑھا تقدیر کلام یہ ہوگی رحمۃ یہ اس کے معفول لہ کے طور پر منصوب ہونے کی مددگار ہے۔
Ayah 44:7کو فیوں نے رب جر کے ساتھ پڑھا ہے باقی قرأ نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : کی طرف لوٹے گا، چاہے تو اس سے کلام کو شروع کرے جز ہے یا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہو، تقدیر کلام ہو
جر یہ سے بدل ہونے کی وجہ سے ہوگی، اسی طرح دونوں میں جر کی صورت ہوگی : شیزی نے نسائی سے یہ روایت نقل کی ہے باقی قراء نے آستسائف کے طریقہ پر مرفوع پڑھا ہے پھر یہ احتمال موجود ہے کہ یہ خطاب اس معترف کو ہو جو تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے یعنی اگر تم اس کا یقین رکھتے ہو تو جان لو کہ اس کا حق ہے کہ رسولوں کو بھیجے اور کتابوں کو نازل کرے۔
یہ بھی جائز ہے کہ خطاب اس کو ہو جو اس کے خالق ہونے کا اعتراف نہیں کرتا یعنی انہیں چاہیے کہ اس کے خالق ہونے کا اعتراف کریں اور یہ اعتراف کریں کہ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں موقف سے مراد وہ ہے جو یقین کا ارادہ کرتا ہیغ اور اس کو طلب کرتا ہے جس طرح تو کہتا ہے وہ تمامہ کا ارادہ کرتا ہے۔
Ayahs 44:8–9وہ عالم کا خالق ہے اس لئے جائز نہیں کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے جو کسی چیز کے پیدا کرنے پر قادر نہیں وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور زندروں کو مارتا ہے۔ یعنی تمہارا مالک ہے اور تم سے پہلوں کا مالک ہے حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے سے بچو تاکہ تم پر عذاب نازل نہ ہو۔ یعنی جس ایمان اور اقرار کا اظہار کرتے ہیں اس میں یقین پر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے وہ یہ بات علم کے بغیر اپنے آباء کی تقلید میں کہتے ہیں پس وہ شک میں مبتلا ہیں اگر وہ یہ وہم کرتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو وہ اپنے دین میں اس چیز کے ساتھ کھیلتے ہیں جو ان کے لئے بغیر حجت کے ظاہر ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یلعبون کا معنی ہے وہ نبی کریم ﷺ کی طرف استہزاء کے طور پر جھوٹ منسوب کرتے ہیں جو آدمی مواعظ سے اعراض کرتا ہے اسے لاعب کہتے ہیں : وہ اس بچے کی مانند ہوتا ہے جو کھیلتا ہے اور وہ کرتا ہے جس کے انجام سے آگاہ نہیں ہوتا۔
Ayah 44:10ارتقب کا معنی ہے اے محمد ﷺ آپ ان کفار کے ساتھ انتظار کریں جس آسمان پر واضح دھواں ہوگا، یہ قتادہ کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کی بات یاد ررکھیے تاکہ جس روز آسمان پر واضح دھواں ہوگا اس روز آپ ان پر گواہی دیں اسی وجہ سے نگہبان کو رقیب کہتے ہیں دخان کے بارے میں تین اقوال ہیں۔
1 ۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ابھی ظاہر نہیں ہوا یہ زمین میں چالیس روز تک رہے گا جو زمین و آسمان کے درمیانی حصہ کو بھر دے گا جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو اسے اس قدر تکلیف ہوگی جس قدر زکام ہوتا ہے جہاں تک کافر اور فاجر کا تعلق ہے تو وہ دھواں ان کے ناکوں میں داخل ہوگا اور ان کے کانوں میں سوراخ کر دے گا اور ان کی سانسیں تنگ پڑجائیں گی۔ قیامت کے روز یہ جہنم کے آثار میں سے ہوگا۔ جس نے کہا : یہ دھواں ابھی ظاہر نہیں ہوا وہ حضرت علی شیر خدا، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابوہریرہ ؓ ، حضرت حسن بصری، ابن ابی ملیکہ اور دوسرے علماء ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے مرفوع روایت نقل کی ہے :” وہ ایسا دھواں ہوگا جو قیامت کے روز لوگوں پر سختی سے گردش کر رہا ہوگا (1) مومن اس سے زکام جیسی تکلیف محسوس کریں گے اور کافر پھونکیں مارے گا اور یہاں تک کہ اس کے کانوں سے وہ دھواں نکلے گا “ ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے۔
صحیح مسلم میں ابو الطفیل سے وہ حضرت حذیفہ بن اسیدغفاری ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ اچانک تشریف لائے جبکہ ہم گفتگو کر رہے تھے : پوچھا ” تم کیا باتیں کر رہے تھے ؟ (2) ہم نے عرض کی : ہم قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے : فرمایا :” قیامت ہرگز برپا نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے قبل دس نشانیاں دیکھو گے اور ان کا ذکر کیا دھواں، دجال، دابہ، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ بن مریم کا آسمان سے اترنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، تین دفعہ دھنسنا، ایک دھنسنا مشرق میں، ایک دھنسنا مغرب میں اور ایک دھنسنا جزیرہ عرب میں ہوگا ان کے آخر میں آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک کرلے جائے گی۔ “
ایک روایت میں حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ” قیامت برپا نہیں ہوگی، یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوں گی مشرق میں دھنسا، مغرب میں دھنسنا، جزیرہ عرب میں ایک دفعہ دھنسا، دھواں، دجال، دابہ الارض، یاجوج ماجوج، سورج کا مغرب سے نکلنا، عدن کے نشیبی علاقے سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک کرلے جائے گی۔ “ اسے ثعلبی نے حضرت حذیفہ ؓ سے نقل کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم کا نکلنا، عدن کے نشیبی علاقہ سے آگ کا نکلنا (3) جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک کرلے جائے گی۔ جہاں لوگ رات گزاریں گے اور وہ آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہر جائے گی اور جہاں وہ قلیولہ کریں گے یہ آگ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے یہ آگ بھی صبح کرے گی جہاں لوگ شام کریں گے یہ آگ بھی شام کرے گی “ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ دھواں کیا ہے ؟ تو آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : جو مغرب و مشرق کو بھر دے گا، یہ دھواں چالیس دن اور راتیں رہے گا جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو اسے زکام جیسی تکلیف ہوگی جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو وہ نشے والے آدمی کی حالت کی طرح ہوگا دھواں اس کے منہ اس کے نتوں اور اس کی آنکھوں اس کے کانوں اور اس کی دبر سے نکلے گا “ یہ ایک قول ہے۔
2 ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دھویں سے مراد وہ بھوک ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعا سے قریش کو پہنچی تھی یہاں تک کہ ایک آدمی آسمان اور زمین کے درمیان دھواں دیکھتا، یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے ان سے اس مصیبت کو دور کردیا اگر یہ قیامت کے دن ہوتا ان سے اس دھویں کو دور نہ کیا جاتا۔ ان سے یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم اور ترمذی میں موجود ہے امام بخاری نے کہا : یحییٰ ، اب معاویہ، وہ اعمش سے وہ مسلم سے و مسروق سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا : یہ قحط اس لئے آیا تھا کیونکہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تو نبی کریم ﷺ نے اس خشک سالی کے مسلط ہونے کی دعا کی انہیں قحط اور مشقت نے آ لیا یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں ایک آدمی آسمان کی طرف دیکھتا توہ وہ اپنے اور آسمان کے درمیان دھویں جیسی چیز کو دیکھتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نازل کیا کہا : لوگ حضرت محمد ﷺ علیہ التحیۃ و الثناء کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کی گئی : یارسول اللہ : اللہ تعالیٰ سے مضر کے لئے بارش کو طلب کیجئے کیونکہ وہ تو ہلاک ہوا جاتے ہیں (1) فرمایا : مضر کے لئے تو تو بہت جری ہے “ رسول اللہ ﷺ نے بارش کی دعا کی تو ان پر بارش ہوئی تو یہ آیت نازل ہوئی جب ان کے پاس خوشحالی آتی وہ تو وہ پھر اس حالت کی طرف لوٹ آتے۔ یہ خوشحالی کی حالت میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : کہا : اس سے مراد غزوہ بدر ہے : ابو عبیدہ نے کہا : دخان کا معنی خشک سال ہے : قتبی نے کہا : زمین کے خشک ہونے کی وجہ سے اسے دھواں کا نام دیا جب وہ زمین سے اٹھتی ہے جس طرح دھواں۔
3 ۔ اس سے مراد فتح مکہ ہے جب غبار نے آسمان کو چھپا دیا، یہ عبدالرحمن اعرج کا قول ہے۔
Ayah 44:11یہ دخان کی صفت ہے۔ اگر مراد وہ ہے جو ابھی گزرا ہے جس طرح حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا تو یہ اہل مکہ کے مشرکوں کے ساتھ خاص ہے۔ اگر یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے تو یہ عام ہے جس طرح پہلے گزرا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں یہ ارشاد فرمائے گا جس نے کہا : دخان (دھواں) گزر چکا ہے تو حال ماضیہ کی حکایت ہے جس نے اسے آنے والے واقعات میں شمار کیا ہے تو وہ آنے والے حالات کی حکایت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہذا یہ ذلک کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ اس دھویں کے بارے میں کہیں گے : یہ درد ناک عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر کے قریب آنے کی خبر ہے جس طرح تو کہتا ہے : موسم سرما ہے اس کے لئے تیاری کرو۔
Ayah 44:12وہ عرض کریں گے ہم سے عذاب کو دور کر دے ہم ایمان لانے والے ہیں اگر تو ہم سے اس عذاب کو دور کر دے گا تو ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے قریش نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : اگر اللہ تعالیٰ ہم سے اس عذاب کو دور کر دے تو ہم اسلام لے آئیں گے پھر انہوں نے وعدہ خلافی کی۔ قتادہ نے کہا : یہاں عذاب سے مراد دھواں ہے۔ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بھوک ہے : نقاش نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔
میں کہتا ہوں : کوئی تناقض نہیں کیونکہ دھواں اس بھوک کی وجہ سے تھا جو انہیں لاحق ہوئی جس طرح یہ بحث گزری ہے بعض اوقات بھوک اور قحط کو بھی دخان کہتے ہیں کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے زمین خشک ہوتی ہے اور بارشوں کے کم ہونے کی وجہ سے غبار بلند ہوتا ہے اسی وجہ سے خشک سالی کو غبرا کہتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں عذاب سے مراد برف ہے : ماوردی نے کہا : اس کی کوئی توجیہہ نہیں کیونکہ یہ آخرت میں ہوگا یا اہل مکہ کے لئے ہوگا جبکہ مکہ برف باری کا علاقہ نہیں مگر یہ بات کی گئی تو ہم نے اس کا ذکر کردیا (2)
Ayah 44:13یعنی ان کے لئے عذاب کے نازل ہونے کے وقت کہاں سے نصیحت ہوگی : یعنی ایسا رسل جو ان کے لئے حق کو واضح کرتا ہے ذکری اور ذکر ایک ہی چیز ہیں، یہ امام بخاری کا قول ہے (3)
Ayah 44:14یعنی انہوں نے اعراض کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہوں نے حضرت محمد ﷺ سے اعراض کیا اور آپ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت حاصل کرنے سے دور کردیا تو اب وہ کیسے نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عذاب کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے بعد ان کا قول : انہیں کیسے نفع دے گا جبکہ علامات علم بدیہی بن چکی ہیں یہ تعبیر اس وقت ہوگی جب تو دخان کو ایسی علامت بنائے جس کا انتظار کیا جارہا ہے یعنی اسے کسی انسان نے تعلیم دی یا اسے کاہنوں اور شیاطین نے تعلیم دی ہے اس سے بڑھ کر یہ مجنون ہے رسول نہیں ہے۔
Ayah 44:15وعدہ کیا کہ ان سے وہ عذاب تھوڑے عرصے کے لئے دور کرلیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والے ہیں کہ نہیں بلکہ اس عذاب کے دور ہونے کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ جائیں گے یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے جب نبی کریم ﷺ کی بارش کی دعا کرنے کے بعد عذاب دور ہوگیا تو وہ جھٹلانے والے طریقہ کی طرف لوٹ گئے (1) جس نے یہ کہا تھا : دھویں کا انتظار کیا جارہا ہے کہا اس کے ساتھ اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ قیامت کی نشانیوں کے درمیان کچھ نہ کچھ سہولت و رخصت ہوگی۔ پھر جس پر کفر کا فیصلہ ہوچکا ہوگا تو وہ اپنے کفر پر قائم رہے گا جس نے کہا : یہ قیامت کے روز ہوگا گر ہم تم سے عذاب کو دور کردیں تو تم کفر کی طرف لوٹ جائو گے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے تم ہماری طرف لوٹنے والے ہو، یعنی تم موت کے بعد اٹھائے جائو گے ایک قول یہ کیا گیا ہے اگر تم ایمان نہ لائے تو تم جہنم کی طرف لوٹنے والے ہو۔
Ayah 44:16یہ لفظ اسی پر محمول ہے جس پر : دلالت کرتا ہے یعنی ہم ان سے انتقام لیں گے۔ بعض نحویوں نے اسے بعید از حقیقت خیال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مابعد ماقبل کی تفسیر بیان نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس میں یہ قول بھی بعید ہے کیونکہ ان اپنے سے ماقبل میں عمل نہیں کرتا اسے عائدون کے متعلق کرنا بھی اچھا نہیں اور اسی طرح کے متعلق کرنا بھی صحیح نہیں کیونکہ معنی کا اس پر انحصار نہیں یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے مضمر ہونے کے ساتھ اسے نصب دی جائے گویا فرمایا : یہ معنی کرنا بھی جائز ہے کہ تم لوٹنے والے ہو، جب تم لوٹو گے تو تم سے اس روز انتقام لیا جائے گا جس روز ہم بڑی پکڑ سے پکڑیں گے۔ اس وجہ سے یہ فرعون کے قصہ کے ساتھ کلام ملی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان سے عذاب دور کردیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے پھر وہ ایمان نہ لائے یہاں تک کہ غرق کردیئے گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مکمل کلام ہے : نئی کلام ہے یعنی ہم تمام کفار سے انتقام لیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے دھویں کا انتظار کرو اور ان کا انتظار کرو جس سے روز ہم پکڑیں گے تو وائو عطف کو حذف کیا گیا جس طرح تو کہتا ہے :
حضرت ابن مسعود ؓ کے قول میں اس سے مراد یوم بدر ہے (1) یہ حضرت ابن عباس، حضرت ابی بن کعب، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے : ایک قول کیا گیا ہے قیامت کے روز عذاب جہنم مراد ہے۔ یہ حضرت حسن بصری، عکرمہ، اور حضرت ابن عباس کا قول ہے : اسے زجاج نے پسند کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو دنیا میں واقع ہوگا یا بھوک یا قحط جو قیامت سے پہلے واقع ہوگی ماوردی نے کہا : یہ احتمال موجود ہے اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا ہے کیونکہ دنیا میں یہ پکڑوں میں سے آخری پکڑ ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے : نقمہ اور عقبہ میں فرق ہے عقوبت، معصیت کے بعد ہوتی ہے کیونکہ یہ بھی عاقبہ میں سے ہے نقمہ بعض اوقات پہلے ہوا کرتی ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ عقوبت اسے کہتے ہیں جو انداہ سے ہو اور انتقام جو اندازہ سے نہیں ہوتا۔
Ayah 44:17یعنی ہم نے انہیں آزمایا (3) اس فتنہ اور ابتلا کا معنی ہے طاعت کا امر یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معبوث کر کے ممتحن کا سا معاملہ کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اے محمد ﷺ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ہم تیرے دشمنوں کے ساتھ اسی قوم کا معاملہ کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کو فتنہ میں ڈالنے کا مطلب ہے ہم نے انہیں غرق کرنے کے ساتھ عذاب میں ڈالا کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی آل فرعون کے پاس رسول کریم آئے تو ہم نے انہیں غرق کردیا کیونکہ فتنہ رسول کے آنے کے بعد ہی ہوتا ہے وائو ترتیب کا فائدہ نہیں دیتی۔ کریم کا معنی ہے وہ اپنی قوم میں معزز تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اخلاق میں کریم تھے یعنی درگزر سے کام لیتے تھے (4) فراء نے کہا : وہ اپنے رب کی بارگاہ میں معزز تھے کیونکہ آپ کو نبوت اور کلام سنانے کے لئے مختص کیا گیا۔
Ayah 44:18حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے وہ ان کے پاس آیا، اس نے کہا میری اتباع کرو، یہ منادی ہے مجاہد نے کہا اللہ کے بندوں کو میرے ساتھ بھیج دو اور انہیں عذاب سے آزاد کر دو ۔ اس تعبیر کی بناء پر عباد اللہ مفعول بہ ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے مجھے اپنی قوت سماعت دو یعنی میری بات سنو یہاں تک کہ میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچائوں۔
یعنی میں وحی پر امین ہوں پس میری نصیحتوں کو قبول کرو ایک قول یہ کیا گیا ہے جو میں تم سے لیتا ہوں اس میں امین ہوں میں اس میں کوئی خیانت نہیں کرتا۔
Ayah 44:19تم اس پر تکبر نہ کرو اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو بلند نہ جانو قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ پر بغاوت نہ کرو (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں سستی نہ کرو، بغی اور افتراء میں فرق ہے بغی فعل کے ساتھ ہوتی ہے اور افتراء قول کے ساتھ ہوتا ہے (2) ابن جریج نے کہا : اللہ تعالیٰ پر عظیم نہ بنو (3) یحییٰ بن سلام نے کہا : اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر نہ کرو (4) تعظیم اور استکبار میں فرق ہے تعظیم سے مراد مقتدر فرد کا بڑا جاننا اور استکبار کا معنی ہے ذلیل کم مرتبہ آدمی کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا۔ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
قتادہ نے کہا : واضح عذر، یحییٰ بن سلام نے کہا : واضح دلیل، معنی ایک ہی ہے، یعنی واضح دلیل
Ayah 44:20گویا انہوں نے آپ کو قتل کی دھمکی دی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی قتادہ نے کہا : تم پتھروں سے رجم کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم مجھے گالیاں دو تو تم کہو جادو گر جھوٹا ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر، عاصم اور یعقوب نے عذت کی ذال کو ظاہر کر کے پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے ادغام کیا ہے۔ ادغام تخفیف کو طلب کرنے کے لئے ہے اور اظہار اصل قاعدہ کے مطابق ہے پھر یہ قول کیا گیا ہے کہ زمانہ گزشتہ میں میں نے تجھ سے پناہ چاہی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا اور فرمایا : ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ انی اعوز کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے : یعنی میں قسم کھاتا ہوں۔
Ayah 44:21اگر تم میری تصدیق نہ کرو اور میری دلیل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائو میں لام احنبیہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے یہاں لام باء کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (عنکبوت 26) یہاں بھی لام باء کے معنی میں ہے۔
مجھے چھوڑ دو نہ میری طرف داری کرو اور نہ میرے خلاف کسی کی مدد کرو، یہ مقاتل کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے تم مجھ سے الگ تھلگ ہو جائو میں تم سے الگ تھلگ ہوجاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ میرا راستہ چھوڑ دو اور مجھ سے اپنی اذیت کو روک دو ۔ (5) معنی قریب قریب ہے۔
Ayah 44:22اس میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے یہاں ان کا ہمزہ مفتوح ہے کیونکہ اصل میں بان تھا۔ وہ مشرک قوم ہیں انہوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کرنے اور ایمان لانے سے انکار کردیا
Ayah 44:23اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:
ہم نے اس کی دعا کو قبول کیا اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کے وقت لے چلو یعنی بنی اسرائیل میں سے جو ایمان لائے ہیں صبح سے پہلے۔
اہل حجاز نے فاسر ہمزہ وصلی کے ساتھ پڑھا ہے ابن کثیر نے بھی اسی طرح پڑھا ہے یہ سری سے مشتق ہے باقی قراء نے اسے فاسر ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ سری سے مشتق ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ سورة بقرہ، اعراف، طہ، شعرا اور یونس میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیچھا کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات عطا فرمائی اس لئے دوبارہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 2:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رات کے وقت نکلنے کا حکم دیا تھا (1) رات کا سفر عموماً خوف کی وجہ سے ہوتا ہے خوف دو وجہ سے ہوتا ہے 1 ۔ دشمن کا خوف ہوتا ہے تو رات کو پردہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رات اللہ تعالیٰ کے پردوں میں سے ایک پردہ ہے 2 ۔ جانوروں اور جسموں پر مشقت اور تکلیف سے خوف کی وجہ سے رات کو سفر کیا جاتا ہے۔ وجہ گرمی ہو یا خشک سالی ہو تو مصلحت کی غرض سے رات کو سفر کیا جاتا ہے نبی کریم ﷺ رات کو سفر کرتے، رات کے پہلے پہر سفر کرتے کبھی آہستہ چلتے اور کبھی جلدی کرتے، جس طرح ضرورت ہوتی اور مصلحت کا تقاضا ہوتا۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : جب تم سرسبز والی شادابی کے دور میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین میں سے اس کا حصہ دو (اپنے چرنے کا موقع دو ) جب تم خشک سالی کے دور میں سفر کرو تو جلدی چلو تاکہ مقصد کو پالو جبکہ اونٹ میں قوت باقی ہو۔ سورة نحل کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 44:24حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : رھوا کا معنی راستہ ہے، یہ قول کعب اور حضرت حسن بصری کا بھی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے راستہ، ضحاک اور ربیع نے کہا : اس کا معنی ہے آسمان ہے : عکرمہ نے کہا : اس کا معنی خشک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (طٰہ 77) ایک قول یہ کیا گیا ہے جدا جدا۔ مجاہد نے کہا : کھلا، ان سے یہ قول بھی مروی ہے خشک ان سے یہ قول بھی مروی ہے ساکن لغت میں یہی معروف ہے یہ قتادہ اور ہر وی کا قول ہے دوسروں نے کہا : کھلا، ابن عرفہ نے کہا : یہ دونوں ایک معنی کے طرف لوٹتے ہیں اگرچہ ان کے الفاظ مختلف ہیں کیونکہ جس اس کا چلنا ساکن ہوجاتا ہے تو وہ کھل جاتا ہے۔ اسی طرح سمندر اس کا چلنا ساکن ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کھل گیا۔ عربوں کے نزدیک رھو سے مراد ساکن ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے جائت الخیل رھوا گھوڑے پر سکون آئے۔ شاعر نے کہا
گھوڑے تیزی سے گزرتے ہیں جبکہ ان کی لگامیں پرسکون ہیں، جس طرح پرندے ایسے بادل سے نجات پاتے ہیں جو موٹے قطرات والی بارش ہو اور سردی والا ہو۔
جوہری نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے یعنی سکون و وقار سے یہ کام کر، عیش راہ پر سکون خوشحالی زندگی، سمندر پرسکون ہوگیا، ابو عبید نے کہا : یعنی اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھلا کیا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : رھو سے مراد نرم چال ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : ابن اعرابی نے کہا : یعنی اس نے نرمی کی : قطامی نے سواری کے اونٹوں کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا :
وہ نرمی سے چلتے ہیں ان کے پچھلے حصے کمزور نہیں اور نہ ہی ان کے سینے ان کے پچھلے حصوں کا سہارا لیتے ہیں۔ رھو اور رھوۃ سے مراد بلند جگہ ہے اور پست جگہ کو کہہ دیتے ہیں جس میں پانی جمع ہوتا ہے۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے ابو عبید نے کہا : رھو سے مراد وہ گڑھا ہے جو ایک قوم کے محلہ میں ہو جس میں بارش ہو اور دوسرا پانی بہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” یہ فیصلہ ہوچکا ہے ’“
گھر کے صحن، راستہ، منقبہ (دو گھروں کے درمیان راستہ) رکحہ (پیچھے کی جانب سے کمرے کا کنارہ) اور پانی کے گڑھنے میں کوئی شفع نہیں۔ “ اس کی جمع رحاء سے آتی ہے وسیع خصلتوں والی عورت، اسے نضر بن شمیل نے بیان کیا ہے رھو سے مراد پرندے کی ایک قسم، اسے کر کی کہتے ہیں مہدوی نے کہا : یہ جائز ہے کہ رھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صفت ہو، یہ قشیری کا قول ہے یعنی اپنی حالت پر پرسکون رہو اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی صفت ہے یہ سمندر کی صفت نہیں، پہلی تعبیر کی صورت میں یہ سمندر کی صفت ہے یعنی جس طرح وہ تھا اسی طرح اسے ساکن رہنے دو جس طرح وہ جدا جدا تھا اسے ملنے کا حکم نہ دو یہاں تک کہ فرعون اور اس کی قوم داخل ہوجائے۔ قتادہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا تھا کہ جب انہوں نے اپنے عصا کے ساتھ اسے الگ الگ کیا تھا (1) تو عصا مار کر سمندر کو ملا دیا یہ بھی خوف تھا کہ فرعون ان کے پیچھے بھی نہ آجائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کہا گیا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : رھو کا معنی سکون نہیں بلکہ اس سے مراد دو چیزوں کے درمیان کشادگی ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھلا کیا۔ خوشحال زندگی، اس امر کو نرمی سے سختی کے بغیر کرو۔ ہم نے اس کا ذکر ابھی کیا ہے۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم وہ غرق ہونے والے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی خبر دی گئی تاکہ ان کا دل پرسکون رہے۔
Ayahs 44:25–27کم کثرت بیان کرنے کے لئے سورة شعراء میں اس آیت کے معنی کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ نون کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی تنعیم ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کیا تو وہ اچھی و خوشحالی زندگی گزارنے لگا نعمۃ کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی احسان ہے جو تجویز کیا جاتا ہے اسی طرح نعمی ہے اگر تو نون کو فتح دے گا تو اسے مدہ پڑھے گا تو کہے گا نعماء نعم اس کی مثل ہے اس کے پاس وسیع مال ہے یہ سب اقوال جوہری کی صحاح سے منقول ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : سے مراد دریائے نیل ہے (1) ابن لہیعہ نے کہا : فیوم ہے، ابن زیاد نے کہا : مصر کی سرزمین ہے جس میں بہت زیادہ منافع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد خوشحالی ہے۔ اسے نعمۃ اور نعمۃ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے (2) کہا : دونوں میں فرق کی دو وجوہ ہیں۔ 1 ۔ نون کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا اطلاق ملک میں ہوتا ہے اور فتحہ کیساتھ ہو تو بدن اور دین میں ہوتا ہے، یہ نضر بن شمیل نے کہا ہے :2 ۔ یہ کسرہ کے ساتھ ہے جس کا معنی فضل و احسان کرنا اور عطیہ دینا ہے فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی تنعیم ہے جس سے مراد خوشحال زادگی اور راحت ہے یہ ابن زید کا قول ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ فرق صحاح میں موجود ہے، ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں۔ ابو رجاء، حضرت حسن بصری، ابو اشہب، شرح، ابو جعفر اور شیبہ نے فکھین پڑھا ہے۔ یہ الف کے بغیر ہے اس کا معنی اترانے والے ہیں جوہری نے کہا : اس سے اہم فاعل فکہ ہے جب وہ اچھے مزاج کا مزاح کرنے والا ہو۔ فکہ کا معنی بھی اترانے والا ہے۔ اسے اس میں اترنے والے ہیں۔ لطف اندوز ہونے والے خوشحال، قشیری نے کہا : اس کا معنی ہے مزاح کرنے والے : یہ جملہ بولا جاتا ہے وہ مزاح کرنے والا ہے اس میں مزاح کی حس موجود ہے ثعلبی نے کہا یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح حاذر اور حذر، فارہ اور فرہ، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فاکہ اسے کہتے ہیں جو لذت کی باتیں سنتا ہے جس طرح کھانے والا مختلف قسم کے پھل کھاتا ہے۔ (1) فاکہ اسے کہتے ہیں جو اس خوراک سے زائد ہو جس کے بغیر چارہ کار نہیں ہوگا۔
Ayah 44:28زجاج نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے تو کذاب پر وقف کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کاف محل نصب میں ہے، معنی یہ بنے گا جس کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ہم اس کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرتے ہیں کلبی نے کہا : جو آدمی میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرتا ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معاملہ اس طرح تھا تو پس انہیں ہلاک کیا گیا۔
سے مراد بنو اسرائیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصرف کے علاقہ کا مالک بنا دیا ہے جبکہ وہ پہلے جس طرح غلام تھے تو وہ اس کے وارث بن گئے کیونکہ یہ چیزیں ان تک اس طرح پہنچیں جس طرح میراث کا مال پہنچتا ہے۔ اس کی مثل (الاعراف 137)
Ayah 44:29ان پر آسمان اور زمین میں ان کے کفر کے باعث نہ روئے، اور انہیں غرق ہونے میں مہلت نہ دی۔ عرب اپنے سردار کی موت کے وقت کہا کرتے تھے۔ اس کی مصیبت تمام اشیاء کو عام ہوگئی یہاں تک کہ آسمان اور بجلی بھی نہ روئے۔ اس کے لئے موسم سرما کی راتیں روئیں۔ شاعر نے کہا :
ہوا اپنے غم کو روتی ہے اور بجلی بادل چمکتی ہے
اور ایک اور شاعر نے کہا
سورج طلوع ہے وہ گرہن میں نہیں تجھ پر رات کے ستارے اور چاند رو رہے ہیں۔
خارجیہ نے کہا :
اے خابور کے درخت ! کیا وجہ ہے تو پتے نکالے ہوئے ہے گویا تو ابن طریف پر غمگین نہیں۔
یہ تمثیل اور تخییل کا طریقہ جزع کرنے اور رونے میں مبالغہ کے لئے ہے اس کا معنی ہے وہ ہلاک ہوئے نہ ان کی مصیبت عظیم ہوئی اور نہ ان کی گمشدگی کو محسوس کیا گیا ؎ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں اضمار ہے معنی ہے ان پر آسمان اور زمین والے یعنی فرشتے نہیں روئے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یوسف 82) بلکہ وہ اس کی ہلاکت سے خوش ہوئے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : یزیدرقاشی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کوئی مومن نہیں مگر اس کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک دروازے سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے اور ایک دروازہ ہے جس سے اس کا کلام اور عمل داخل ہوتا ہے۔ جب وہ فوت ہوجاتا ہے تو وہ اس کی کمی محسوس کرتے ہیں اور اس پر روتے ہیں “ (1) پھر اس آیت کی تلاوت کی یعنی انہوں نے زمین پر کوئی عمل صالح نہیں کیا جس کی وجہ سے ان پر رویا جائے۔ اور آسمان کی طرف بھی ان کا کوئی عمل صالح نہیں چڑھا کہ آسمان اس کے مفقود ہونے پر روئے۔ مجاہد نے کہا : آسمان اور زمین چالیس دن تک روتے ہیں۔ ابو یحییٰ نے کہا : میں ان کے قول پر متعجب ہوا۔ مجاہد نے کہا : کیا تو تعجب کا اظہار کرتا ہے زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس بندے پر نہ روئے جو اسے رکوع و سجود کے ساتھ آباد کرتا تھا اور آسمان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس بندے پر نہ روئے جس کی تسبیح اور تکبیر کی وجہ سے ایسی آواز ہوتی تھی جس طرح شہد کی مکھیوں کی بھنبھاہٹ ہوتی ہے۔
حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس پر زمین میں سے اس کے نماز پڑھنے کی جگہ اور آسمان میں سے اس کے عمل کے بلند ہونے کی جگہ روتی ہے۔ اس تعبیر کی بناء پر آیت کی تقدیر یہ ہوگی آسمان میں سے اس کے اعمال کے بلند ہونے کی جگہ اور زمین میں سے اس کی عبادات کی جگہ اس پر روئیں، یہ حضرت سعید بن جبیر کے قول کا معنی ہے۔ آسمان اور زمین کے رونے کی تین وجوہ ہیں۔ 1 ۔ وہ معروف طریقہ ہے جس طرح حیوان روتا ہے، یہ مجاہد کے قول کے مشابہ ہے۔ شریح حضرمی نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اسلام شروع ہوا تو بھی تنہا تنہا لوگ اسلام لائے اور جس طرح شروع ہوا تھا اسی حالت کی طرف یہ لوٹ جائے گا۔ قیامت کے روز ان تھوڑے سے افراد کے لئے مبارک ہے۔ “ (2) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : وہ وہ لوگ ہیں جب لوگ فساد کا شکار ہوجائیں گے تو وہ صالحیت کو اپنائیں گے “ پھر فرمایا : ” خبردار اب مومن پر کوئی تنہائی نہیں کوئی مومن تنہائی میں نہیں مرتا جب اس پر رونے والے اس سے غائب ہوتے ہیں تو آسمان اور زمین اس پر روتے ہیں ” پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا :” بیشک یہ دونوں کافر پر نہیں روتے۔ “
میں کہتا ہوں : ابو نعیم محمد بن معمر نے کہا : ابو شعیب حرانی، یحییٰ بن عبداللہ سے وہ اوزاعی سے وہ حضرت عطا خراسانی سے روایت نقل کرتے ہیں “ کوئی بندہ بھی زمین کے کسی حصہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کرتا ہے تو وہ بعقہ زمین قیامت کے روز اس کے حق میں گواہی دے گا اور جس روز وہ مرتا ہے وہ بقعہ زمین اس پر روتا ہے “ ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کے رونے سے مراد اس کے اطراف کا سرخ ہوجانا ہے یہ حضرت علی شیر خدا، عطائ، سدی، ترمذی، محمد بن کا قول ہے۔ اسے حضرت حسن بصری نے روایت کیا ہے سدی نے کہا : جب حضرت امام حسین ؓ کو شہید کیا گیا تو آپ پر آسمان رویا اور اس کا رونا اس کا سرخ ہونا تھا (1)
جرید نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے جب حضرت حسین بن علی بن ابی طالب ؓ کو شہید کیا گیا تو آسمان کے افق چار ماہ تک آپ کے لئے سرخ رہے۔ یزید نے کہا : اس کا سرخ ہونا ہی اس کا رونا ہے۔ محمد بن سیرین نے کہا : لوگوں نے ہمیں بتایا وہ سرخی جو شفق کے ساتھ ہوتی ہے وہ نہ ہوا کرتی یہاں تک کہ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کو شہید کیا گیا۔ سلیمان قاضی نے کہا : جس روز امام حسین ؓ کو شہید کیا گیا ہم پر خون کی بارش کی گئی۔
میں کہتا ہوں : دارقطنی نے امام مالک بن انس سے وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” شفق سے مراد سرخی ہے “ (2؛ ) حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شداد بن اوس دونوں نے کہا : شفق کی دو صورتیں ہیں سرخ اور سفید (3) جب سرخی غائب ہوجاتی ہے تو عشاء کی نماز حلال ہوتی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ شفق سے مراد سرخی ہے۔ یہ قول اس قول کو رد کردیتا ہے ابن سیرین نے جس کی حکایت بیان کی ہے میں قرہ بن خالد سے روایت گزر چکی ہے ” آسمان کسی پر نہیں رویا مگر حضرت یحییٰ بن زکریہ (علیہ السلام) پر اور حضرت امام حسین بن علی ؓ پر۔ اس کا سرخ ہونا ہی اس کا رونا ہے “ محمد بن ترمذی نے کہا : رونے سے مراد کسی شے کو تیزی سے حرکت دینا جب آنکھ اپنے پانی کو حرکت دے تو کہا جاتا ہے کہ آنکھ روئی ہے جب آسمان اپنی سرخی کو حرکت دے تو کہتے ہیں آسمان رویا ہے جب زمین اپنے غبار کو حرکت دے تو کہتے ہیں زمین روئی کیونکہ مومن نور ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ کا نور ہے زمین اس کے نور سے روشن ہے اگرچہ تیری آنکھوں سے غائب ہے۔ اگر وہ مومن کے نور نہیں پاتی تو وہ غبار آلود ہوتی ہیں اور اس کا غبار زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہ زمین مشرکوں کی خطائوں کی وجہ سے غبار آلود ہے یہ مومن کے نور سے روشن ہوتی ہے جب اس سے مومن کو قبض کیا جاتا ہے تو اس کا غبار زیادہ ہوجاتا ہوے حضرت انس ؓ نے کہا : جس روز نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ہر شے روشن ہوگئی جس روز حضور ﷺ نے اس جہان فانی سے پردہ فرمایا تو ہر شے تاریک ہوگئی ہم آپ ﷺ کی تدفین میں مصروف تھے ہم نے اس سے اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑا یہاں تک کہ ہم نے اپنے دلوں کو اجنبی اجنبی پایا جہاں تک آسمان کے رونے کا تعلق ہے وہ اس کا سرخ ہونا ہے جس طرح حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا :
نصر بن عاصم نے کہا : نشانیوں میں سے پہلی سرخ ہوگی جو ظاہر ہوگی یہ قیامت کے قریب ہونے کی وجہ سے ہوگی وہ شدت سے روئے گی کیونکہ وہ مومنوں کے انوار سے خالی ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا رونا ایسی نشانی ہے جو اس سے ظاہر ہوتی ہے جو افسوس اور غم پر دلالت کرتی ہے۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ مناسب و موزوں ہے کیونکہ اس میں کوئی استحالہ نہیں جب آسمان اور زمین تسبیح کرتے ہیں سنتے ہیں اور کلام کرتے ہیں جس طرح ہم نے سبحان (سورۃ اسرائ) مریم اور حم فصلت میں بیان کیا ہے اسی طرح زمین روتی ہے جبکہ اس کے بارے میں روایات بھی آئی ہیں اللہ تعالیٰ ان اقوال کے صحیح ہونے کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔
Ayah 44:30یعنی ان تمام مظالم سے جو قطبی فرعون کے حکم سے بنی اسرائیل کے ساتھ روا رکھتے تھے جس طرح انبیاء کو قتل کرنا عورتوں سے خدمت لینا، مردوں کو غلام بنا لینا اور مشکل امور ان لازم کرنا
Ayah 44:31سے بدل ہے کے متعلق نہیں ہوگا کیونکہ اس کی صفت نہیں لگائی گئی ہے وہ وصف کے بعد فعل کا ساعمل نہیں کرتا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے انہیں عذاب اور فرعون سے نجات دی۔
وہ مشرکوں میں سے جابر تھا۔ یہ مدح میں زیادتی نہیں بلکہ اسراف میں زیادتی ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (قصص 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس بلندی سے مراد اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بلندی ہے۔
Ayah 44:32ضمیر سے مراد بنی اسرائیل ہیں ہمیں ان کے بارے میں علم تھا کہ ان میں سے کثیر انبیاء ہوں گے ان کے زمانہ کے لوگوں پر اس کی دلیل پر آیت ہے (آل عمران 110) یہ قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تمام عالموں پر کیونکہ ان میں انبیاء بنائے۔ یہ ان کے لئے خاص ہے یہ غیر کے کے لئے نہیں، یہ قول، ابن عیسیٰ ، زمحشری اور دوسرے علماء نے کیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ بنی اسرائیل کے بعد کے لئے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ پسندیدگی، اس بناء پر تھی کہ انہیں غرق ہونے سے چھٹکارا دلایا جائے اور فرعون کے بعد انہیں زمین کا مالک بنا دیا۔
Ayah 44:33آیات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں : قتادہ نے کہا : آیات سے مراد انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دینا، ان کے لئے سمندر کو پھاڑنا، ان پر بادل سے سایہ کرنا اور من وسلوی کو نازل کرنا ہے (1) یہ خطاب بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عصا اور یدبیضا کا معجزہ ہے۔ یہ فراء کے قول کے مشابہ ہے اور خطاب قوم فرعون کی طرف متوجہ ہوگا۔ ایک تیسرا قول یہ ہے، اس سے مراد وہ برائی ہے جس سے آپ نے ان کو روکا او وہ بھلائی ہے جس کا آپ نے انہیں حکم دیا تھا : یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے خطاب ایک ہی ہے دونوں فریقوں کی طرف متوجہ ہوگا یعنی قوم فرعون اور بنی اسرائیل : میں چار قول ہیں 1 ۔ ظاہر نعمت، یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے : جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (انفال 17)
زہیر نے کہا :
وہ نعمت جو وہ کرتا ہے اس میں سے بہترین نعمت ان دونوں پر کی 2 ۔ شدید عذاب یہ فراء کا قول ہے 3 ۔ اس آزمائش جس کے ساتھ مومن کافر سے ممتاز ہوجاتا ہے یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے ان سے یہ بھی قول مروی ہے خوشحالی اور تنگ دستی کے ساتھ آزمایا پھر یہ آیت پڑھی (انبیائ 35)
Ayahs 44:34–36وائو ضمیر سے مراد قریش کے کفار ہیں یہ مبتدا اور خبر ہے، جس طرح یہ کلام ہے (اعراف 155) اور یہ کلام (انعام 29) ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا : اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اٹھایا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ منشورون کا معنی مبعوثون ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار قریش میں سے۔ یہ بات کرنے والا ابو جہل تھا، اس نے کہا : اے محمد ﷺ اگر تو اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارے آباء میں سے دو آدمی اٹھائو ! ان میں سے ایک قصی بن کلاب ہے کیونکہ وہ ایک سچا شخص تھا تاکہ ہم اس سے پوچھ سکیں کہ موت کے بعد کیا ہوا۔ یہ قول ابو جہل کی جانب سے کمزور ترین شبہ ہے، کیونکہ دوبارہ اٹھانا جزا کے لئے ہے احکام کا مکلف بنانے کے لئے نہیں گویا اس نے کہا : اگر آپ اس قول میں سچے ہیں کہ دوبارہ اٹھانا جزا کے لئے ہے تو انہیں دوبارہ مکلف بنانے کے لئے اٹھائیں۔ یہ قائل کے اس قول کی طرح ہے اگر وہ یہ کہتا ہے : اگر ہمارے بعد ابناء میں سے افراد کو اٹھایا جانا ہے تو آباء میں سے ج گزر چکے ہیں وہ کیوں نہیں لوٹتے۔ یہ ماوردی نے حکایت بیان کی : پھر یہ قول کیا گیا : یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے جس طرح ارشاد ہے (المومنون) یہ فراء کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو خطاب ہے۔