Ayah 44:37یہ استفہام انکاری ہے۔ وہ ایسی بات کر کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں کیونکہ وہ قو تبع اور ہلاک ہونے والی قوموں سے بہتر نہیں جب ہم نے ان کو ہلاک کردیا ہے تو اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا یہ زیادہ نعمتوں والے ہیں اور زیادہ اموال والے ہیں یا تبع کی قوم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا یہ زیادہ عزت والے، طاقت ور اور محفوظ ہیں یا تبع کی قوم۔ تبع سے مراد ایک فرد نہیں بلکہ اس سے مراد یمن کے بادشاہ ہیں۔ یمن والے اپنے بادشاہوں کو تبابع کہتے تھے۔ تبع بادشاہ کا لقب تھا جس طرح مسلمانوں کے لئے خلیفہ ہوتا ہے۔ کسری ایرانیوں کا حاکم ہوتا ہے او قیصر رومیوں کے بادشاہ کو کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : ان میں سے ہر ایک کو تبع کہتے کیونکہ وہ اپنے ساتھی کی اتباع کرتا ہے۔ جوہری نے کہا : تبابع یمن کے بادشاہوں کو کہتے ہیں۔ ان کا واحد تبع ہے تبع کا معنی سنا یہ بھی ہے۔ شاعر نے کہا :
” وہ چشموں پر حضیرہ، نفیضۃ (جماعتوں کی صورت) میں وارد ہوتے ہیں جس طرح کو نج وارد ہوتی ہے جب سایہ چھوٹا ہوجائے “ تبع پرندوں کی ایک قسم کو بھی کہتے ہیں۔ سہیلی نے کہا : تبع اس بادشاہ کو کہتے ہیں جو یمن، شجر احضر موت کا مالک ہوتا ہو وہ صرف یمن کا مالک ہوتا تو اسے تبع نہ کہتے : یہ مسعودی کا قول ہے۔ تابع میں سے حارث رائش تھا جو ابن ہمال ذی سدو تھا ،۔ ابرہبہ و منار عمرو ذوالا ذعار، شمر بن مالک جس کی طرف سمر قند منسوب ہے، افریقیس بن قیس، جس نے بربروں کو کنعان کے علاقہ سے افریقہ کی طرف نکالا اسی وجہ سے انہیں افریقی کہتے ہیں۔
آیات سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کا ارادہ کیا ہے عرب اسے اس نام سے زیادہ جانتے تھے منبت کسی دوسرے آدمی کے، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں نہیں جانتا کیا تبع لعین ہے یا نہیں ہے “ (1) پھر نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے ” تبع کو گالیاں نہ دیا کرو کیونکہ وہ مومن تھا “ (2) یہ تیری رہنمائی کرتا ہے کہ وہ ایک معین فرد تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وہ ابو کرب تھا جس نے بیت اللہ شریف پر لحاف چڑھایا تھا بعد میں اس کے کہ اس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ پر حملہ کا ارادہ کیا تھا اور اس کو برباد کرنے کا ارادہ کیا تھا، پھر جب اسے یہ بتایا گیا کہ یہ ایک نبی کی ہجرت کی جگہ ہے جس کا نام احمد ہوگا تو وہ واپس چلا گیا تھا۔ اس نے ایک شعر کہا جسے وہ اس کے مکینوں کے پاس چھوڑ گیا تھا اور وہ یکے بعد دیگرے اس کے وارث بنتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف ہجرت کی تو انہوں نے وہ اشعار حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں پیش کئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مکتوب اور شعر حضرت ابو ایوب خالد بن زید کے پاس تھے۔ ان اشعار میں ہے۔
میں حضرت احمد پر گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ جو خالق کائنات ہے کے رسول ہیں۔ اگر میری عمر ان کی عمر تک طویل ہوئی تو میں ان کا وزیر اور ان کا چچا زاد ہوں گا یعنی مدد گار، اور دست وبازو۔
زجاج، ابن ابی دنیا، زمحشری اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے دور اسلام میں اس کی صنعاء میں ایک قول کے مطابق حمیر کی اطراف میں قبر کھودی گئی اس میں دو عورتوں کے وجود پائے گئے ان کے سروں کے پاس چاندی کی تختی پائی گئی جس پر سونے سے لکھا تھا : یہ حبی اور لمیس کی قبر ہے، یہ روایت بھی کی جاتی ہے، یہ حبی اور تماضر کی قبر ہے، یہ روایت بھی کی جاتی ہے، یہ رضوی کی قبر ہے (3) اور حبر کی قبر ہے جو دونوں تبع کی بیٹیاں تھیں، وہ دونوں فوت ہوئیں جبکہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتی تھیں وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی تھیں اسی پر اس سے قبل صالح لوگ فوت ہوئے۔
میں کہتا ہوں : ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے روایت کی ہے جو مکتوب اس نے لکھا تھا اس میں تھا اما بعد میں تجھ پر اور تجھ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لایا، میں تیرے دین اور تیری سنت پر ہوں، میں تیرے رب اور ہر شے کے رب پر ایمان لایا اور میں اس پر ایمان لایا جو تیرے رب کی جانب سے احکام آئے اگر میں نے تجھے پا لیا تو بہت بہتر، اگر میں نے تجھے نہ پایا تو میری شفاعت کرنا اور قیامت کے روز مجھے نہ بھولنا۔ میں تیری اس امت میں سے ہوں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور میں نے تیرے آنے سے قبل تیرے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے میں تیری ملت اور تیرے جدا علی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر ہوں۔ پھر مکتوب پر مہر لگائی اور اس پر یہ نقش بنایا (الروم 4) اور اس کے سر نامے پر لکھا۔
ہم نے اس کے باقی ماندہ حالات اور اس کا ابتدائی حصہ جو فارابی کی کتاب ہے میں ذکر کیا ہے وہ دن جس میں تبع فوت ہوا اس دن سے لے کر اس دن تک جس میں نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی ایک ہزار سال کا عرصہ تھا نہ زائد اور نہ کم۔
اس امر میں اختلاف کیا گیا ہے کیا وہ نبی تھا یا بادشاہ ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تبع نبی تھا (1) ۔ کعب نے کہا : تبع بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا اس کی قوم کاہنوں میں سے تھی اور ان کے ساتھ ایک اہل کتاب کی ایک قوم تھی اس نے دونوں فریقوں کو حکم دیا کہ ہر فریق قربانی پیش کرے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل کتاب کی قربانی قبول ہوئی تو وہ مسلمان ہوگیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : تبع کو گالیاں نہ دیا کرو وہ ایک صالح آدمی تھا۔ قتادہ نے بیان کیا ہے : تبع حمیر قبیلہ کا ایک فرد تھا۔ وہ لشکر لے کر چلا یہاں تک کہ اس نے حیرہ کو عبور کرلیا اور سمر قند آیا اس نے اس شہر کو گرا دیا، یہ ماوردی نے بیان کیا ہے (2) ۔ ثعلبی نے قتادہ سے روایت کیا ہے : وہ لشکر لے کر چلا یہاں تک کہ حیرہ کو عبور کیا اور اس نے سمر قند شہر بنایا اور اس نے لوگوں کو قتل کیا اور شہروں کو برباد کیا۔ کلبی نے کہا : تبع ابو کرب اسعد بن ملکیکرب ہے، اس کو تبع اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس نے پہلوں کی پیروی کی۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہی وہ شخص ہے جس نے بیت اللہ شریف پر یمن کی دھاری دار چادروں کا غلاف چڑھایا تھا۔ کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت کی اس کی مذمت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کے لئے اس کی مثال بیان فرمائی کیونکہ قریش ان کے قریب رہتے تھے اور ان کی عظمت دلوں میں رکھتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان سے قبل کے لوگوں کو ہلاک کردیا کیونکہ وہ لوگ مجرم تھے تو وہ آدمی جو مجرم ہو جبکہ اس کی طاقت تھوڑی اور تعداد بہت کم ہو تو وہ ہلاک ہونے کے زیادہ لائق ہے۔ اہل یمن اس آیت پر فخر کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو قریش سے بہتر قرار دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے پہلے حاکم کو تبع اس لئے کہتے کیونکہ اس نے سورج کی ٹکبا کی پیروی کی اور مشرق کی جانب لشکروں کے ساتھ سفر کیا۔ محل رفع میں ہے اس کا عطف تبع پر ہے اس کا صلہ اس کے متعلق یہ بھی جائز ہے کہ الذین کا صلہ ہو ظرف میں ضمیر ہوگی جو اسم موصول کی طرف لوٹے گی۔
جب معاملہ اس طرح ہے تو دو وجوہ کی وجہ سے ایک وجہ سے ہوگا یا تو اس کے ساتھ قد کو ضمر مانا جائے گا تو یہ حال کے محل میں ہوگا یا موصوف کے حذف کو مقدر کیا جائے گا : گویا کہا : قوم تقدیر کلام یہ ہوگی کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے جب ہم ان مذکورہ افراد کو ہلاک کرنے پر قادر ہیں تو ہم مشرکوں کے ہلاک کرنے پر قادر ہیں یہ بھی جائز ہے کہ وہ مبتدا ہے اور خبر اھلکنا ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ الدین محل جر میں ہو اس کا عطف تبع پر ہو گویا فرمایا تبع کی قوم جو ان سے قبل ہلاک کی گئی یہ بھی جائز ہے کہ الدین محل نصب میں ہو اس کا فعل مضمر ہو جس پر دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 44:38–39ہی مقاتل کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے، لاھین یہ کلبی قول ہے الحق سے پہلے الامر مخذوف ہے، یہ مقاتل کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ باء لام کے معنی میں ہے، یہ کلبی اور حضرت حسن بصری کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے حق قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس کی اطاعت کو لازم پکڑنے کے لئے۔ سورة الانبیاء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
لوگوں میں سے اکثر اسے نہیں جانتے۔
Ayah 44:40یوما الفصل سے مراد یوم قیامت ہے، اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن میں لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الممتحنہ 3) اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الروم) یوم الفصل سب کے لئے میقات ہے جس طرح ارشاد فرمایا (النبیائ) یعنی وہ وقت جسے گناہ گار اور نیکو کار کے درمیان تمیز دینے اور فیصلہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی۔ یہ حد درجہ کی تخدیر اور وعید ہے۔ قراء کے درمیان میقاتھم کو رفع دینے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ ان کی خبر ہے اور اس کا اسم یوم الفصل ہے۔ نسائی اور فراء نے میقاتھم کو ان کی وجہ سے نصب کو جائز قرار دیا ہے اور یوم الفصل ظرف ہے جو ان کی خبر کی جگہ واقع ہے تقدیر کلام یہ ہو گی
Ayah 44:41پہلے یوم سے بدل ہے مولی سے مراد ولی ہے جس سے مراد چچا زاد بھائی اور مددگار ہے یعنی چچا زاد بھائی چچازاد بھائی کا دفاع نہیں کرے گا۔ کوئی قریبی کسی قریبی کا اور کوئی دوست کسی دوست کا دفاع نہیں کرے گا۔ یعنی مومن کافر کا قربت کی وجہ سے دفاع نہیں کرے گا۔ اس آیت کی مثل یہ آیت ہے : (بقرۃ 48)
Ayah 44:42من محل رفع میں ہے یہ ینصرون کی خبر سے بدل ہے گویا تو نے کہا : یا یہ مبتدا ہے اور خبر مضمر ہے گویا فرمایا : یا اس کو فائدہ دے او شفاعت کرے اور مدد کرے یا پھر پہلے مولیٰ سے بدل ہے گویا کہا : کوئی فائدہ نہیں دے گا مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ نسائی اور فراء کے نزدیک یہ مستثنیٰ منقطع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، لیکن جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے جس چیز کے وہ محتاج ہوں گے وہ اس دن انہیں ملے گی یہاں تک کہ وہ مخلوق کو فائدہ پہنچائیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ مستثنیٰ متصل ہو یعنی کوئی قریبی کسی قریبی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا مگر مومن فائدہ پہنچائیں گے کیونکہ انہیں اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں۔
یعنی وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے اور اپنے دوستوں پر رحم فرمانے والا ہے، جس طرح ارشاد فرمایا : (غافر 3) وعدے کو وعید کے ساتھ ملایا ہے۔
Ayahs 44:43–46کتاب اللہ میں جہاں بھی شجرہ کا ذکر آیا ہے تو اس میں ھاء پر وقف ہوا ہے مگر سورة دخان میں ایک حرف ہے : یہ ابن انباری نے کہا : یعنی فاجر : حضرت ابو ذر نے کہا : حضرت ابو درداء اور حضرت ابن مسعود نے اسے اسی طرح پڑھا ہے۔ ہمام بن حارث نے کہا : حضرت ابو درداء ایک آدمی کو پڑھاتے : جبکہ وہ آدھی پڑھتا جب اس نے اس کو نہ سمجھا تو حضرت ابودرداء نے کہا :
ابو بکر انباری نے کہا : مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ ہمیں نصر نے وہ ابو عبید سے وہ نعیم بن حماد سے، وہ عبدالعزیز بن محمد سے وہ ابن عجلان سے وہ عون بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو پڑھایا تو اس آدمی نے پڑھا طعام الیتیم حضرت عبداللہ نے اسے صحیح دہرایا اور اس آدمی نے غلط دہرایا۔ جب حضرت عبداللہ نے دیکھا کہ اس آدمی کی زبان صحیح الفاظ کو ادا نہیں کرسکتی تو اسے کہا : کیا تو طعام الفاجر اچھی طرح نہیں کہہ سکتا : عرض کی : کیوں نہیں ؟ فرمایا تو اسی طرح کر۔ بےدین لوگوں میں سے جاہلوں کے لئے اس میں کوئی حجت نہیں کہ قرآن کا کوئی حرف کسی دوسرے حرف سے بدلنا جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی جانب سے یہ طرز عمل متعلم کو قریب کرنے اور اسے اس قابل بنانے کے لئے تھا کہ وہ صحیح نقطہ نظر کی طرف لوٹ آئے وہ حق کو استعمال کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے جیسے نازل کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جیسے حکایت بیان کی ہے اسی طرح وہ تعلم کرے۔
زمحشری نے کہا : اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ استعمال کرنا جائز ہے جبکہ وہ کلمہ دوسرے کلمہ کا معنی دیتا ہو (1) اسی وجہ سے امام اعظم، ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فارسی زبان میں قرأت کو جائز قرار دیا ہے شرط یہ ہے کہ قاری پورے کے پورے معانی ادا کرے جبکہ ان میں سے کسی چیز کی قطع و برید نہ کرے۔
علماء نے کہا : یہ شرط گواہی دیتی ہے کہ یہ اجازت ایسے ہے جیسے کوئی اجازت نہیں کیونکہ کلام عرب خصوصاً قرآن جو اپنی وضاحت، غرابت نظم اور اسالیب میں معجز ہے اس میں معانی اور اغراض کے لئے لطائف ہیں جن کی فارسی وغیرہ زبان ادائیگی میں مستقل نہیں۔ امام ابوحنیفہ فارسی زبان کو اچھی طرح نہیں جانتے تھے یہ قول آپ سے تحقیق و تبصر کی بناء پر ثابت نہیں۔
علی بن جعد، ابو یوسف سے وہ امام ابوحنیفہ ررحمتہ اللہ تعالیٰ عنہ سے صاحبین کے قول کے موافق روایت کرتے ہیں کہ فارسی زبان میں قرأت جائز نہیں۔
وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جن ہم میں پیدا کیا ہے اور اسے شجرہ ملعونہ کا نام دیا گیا ہے جب جنہمیوں کو بھوک لگے گی تو اس کی پناہ لیں گی اور اس سے کھائیں گے تو وہ انے پیٹوں میں یوں جوش مارنے لگے گا جس طرح گرم پانی جوش مارتا ہے ان کے پیٹوں میں زقوم سے جو چیز بنے گی اسے مہل سے تشبیہ دی وہ پگھلا ہوا تانبا ہے عام قرء کی قرأت تغل تاء کے ساتھ ہے، اسے شجرہ پر محمول کیا۔
ابن کثر، حفص، ابن محیص اور رویس نے یعقوب سے پڑھا ہے یہ کھانے پر محمول ہوگا۔ وہ شجرہ کے معنی میں ہے۔ اسے مہل پر محمول نہ کیا جائے گا کیونکہ اس کا ذکر تشبیہ کے لئے ہے الاثیم سے مراد اثم ہے یہ اثم یا اثم اثما سے مشتق ہے۔ یہ قشیری اور ابن عیسیٰ کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایسا شرک ہے جو گناہ کرنے والا ہو (2) یہ یحییٰ بن سلام نے کہا : صحاح میں ہے : یعنی وہ گناہ میں پڑگیا اس کے لئے اسم فاعل کا صیغہ اثم، اثما اور اثومہ استعمال ہوتا ہے۔ کا معنی ہوگا یہ گناہ گار فاجر کا کھانا ہے وہ ابوجہل ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے کہا تھا : (حضرت) محمد ﷺ ہمیں دھمکی دیتے ہیں کہ جہنم میں زقوم ہے اس سے مراد وہ ثرید ہے جس میں مکھن اور کھجور ہو اس نے جو کہا اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف وضاحت کی، نقاش نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ شجرہ زقوم سے مراد ابو جہل ہے۔ (3) ۔
میں کہتا ہوں : مجاہد سے اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہم نے سورة صافات اور سبحان (سورۃ اسرائ) میں جو ذکر کیا ہے اس کے ساتھ رد ہوجاتا ہے۔
Ayahs 44:47–48زبانیہ سے کہا جائے گا، اسے پکڑ لو یعنی گناہ کو پکڑ لو، اسے کھینچو اور اسے ہانکو، عقل سے مراد ہے کہ آدمی کا گریبان پکڑے اور اسے اپنی طرف کھینچے تاکہ تو اسے قید خانہ اور یا کسی اور امتحان کی طرف لے جائے۔ جب تو اسے سختی کے ساتھ کھینچے رجل معتل ہے۔ شاعر نے گھوڑے کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا :
ہم اس گھوڑے کی لگام کھینچ کر روک لیتے ہیں ہم اسے گھسیٹتے ہیں۔ اس میں دو لغتیں ہیں۔ عتلہ عتنہ۔ یہ ابن سکیت نے کہا : کو فیوں اور ابو عمرو نے کہا : یعنی تاء کے نیچے کسرہ پڑھا اور باقی قراء نے اسے ضمہ دیا ہے۔ یعنی جحیم کے وسط میں مقاتل نے کہا : مالک فرشتہ جو جہنم کا خازن ہے وہ ابو جہل کے سر پر لوہے کا ہنڑ مارے گا تو ابو جہل کا سر دماغ والی جگہ سے لپٹ جائے گا تو اس کا دماغ اس کے جسم پر بہہ جائے گا۔ پھر مالک فرشتہ اس میں کھولتا ہوا پانی انڈیلے گا جس کی گرمی انتہا کو پہنچی ہوگی تو وہ پانی اس کے پیٹ میں جا پہنچے گا تو فرشتہ کہے گا : عذاب کا مزا چکھو، اس کی مثل ہے۔ (الحج)
Ayahs 44:49–50ابن انباری نے کہا، عوام نے ان کے کسرہ پر اتفاق کیا ہے حضرت حسن بصری نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے نسائی نے اسی طرح پڑھا ہے جس نے ہمزہ کو کسرہ س یدیا ہے اس نے ذق پر وقف کیا ہے جس نے ہمزہ ک فتحہ دیا ہے اس نے ذق پر وقف نہیں کیا کیونکہ معنی ہے تم چکھو کیونکہ تو عزیز و کریم ہے قتادہ نے کہا : یہ ابو جہل کے حق میں آیت نازل ہوئی (1) اس نے کہا تھا : اس وادی میں مجھ سے بڑھ کر قوت والا اور معزز نہیں اسی وجہ سے اسے کہا گیا، عکرمہ نے کہا : نبی کریم ﷺ اور ابو جہل کی ملاقات ہوئی، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے کہوں ابو جہل نے کہا : تو کس چیز کے ساتھ مجھے دھمکی دیتا ہے ہے، اللہ کی قسم ! تو اور تیرا رب طاقت نہیں رکھتے کہ تم میرے ساتھ کچھ معاملہ کرو، میں اس وادی کا غالب ترین شخص ہوں اور اپنی قوم کا معزز ترین فرد ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بدر کے دن قتل کردیا اور اسے ذلیل و رسوا کردیا اور یہ آیت نازل ہوئی عنی اسے فرشتہ کہے گا : چکھو تم اپنے گمان کے مطابق معزز و مکرم ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ استخفاف، توبیغ، استہزاء، اہانت اور تنقیص کے معنی میں ہے : یعنی اسے کہا : تو ذلیل و رسوا ہے، یہ اسی طرح ہے جس طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت شعیب کو کہا تھا : (ہود) ایک تاویل کے مطابق وہ اس سے سفیہ و جاہل مراد لیتے، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ یعنی فرشتے انہیں کہیں گے : یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق تم دنیا میں شک کیا کرتے تھے۔
Ayahs 44:51–53جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مستقر اور عذاب کا ذکر کیا تو مومنوں کی مہمانی اور نعمتوں کا ذکر کیا۔ نافع اور ابن عامر نے فی مقام پڑھا ہے باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نسائی نے کہا : مقام سے مراد مکان ہے اور مقام سے مرا اقامت بھی ہے جس طرح شاعر نے کہا :
گھر یعنی اترنے کی جگہیں اور اقامت کی جگہیں ناپید ہوگئے۔
جوہری نے کہا : مقام اور مقام دونوں میں سے ہر ایک اقامت کے معنی میں ہوتے ہیں، بعض اوقات یہ قیام کی جگہ کے لئے بھی لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ جب تو اسے قام یقوم سے مشتق مانے تو یہ مقامہ ہوگا اور اگر تو اسے اقام یقیم سے مشتق مانے تو مقام ہوگا کیوند کہ جب فعل غیر ثلاثی ہو تو اس ظرف کے صیغہ میں میم مضموم ہوگا، کیونکہ ایسا فعل رباعی کے مشابہ ہوتا ہے جس طرح دحرج سے مدحرج ایک قول یہ کیا گیا ہے : مقام کا معنی حاضر ہونے کی جگہ اور مجلس ہے اور مقام اس سے مکان مراد لینا ممکن ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مصدر ہو اس میں مضاف مقدر ہو یعنی ٹھہرنے کی جگہ۔
اس میں آفات سے امن ہوتا ہے …… سے بدل ہے۔
وہ ایک دوسرے کی گدی نہیں دیکھیں گے وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کئے ہوں گے ان کی مجلس گردش کرے گی جہاں وہ گردش کریں گے۔ سندس سے مراد وہ ریشم ہے جو باریک ہو، استبرق سے مراد وہ ریشم ہے جو موٹا ہو۔ سورة کہف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 44:54امراسی طرح ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔ اس پر وقف ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جس طرح ہم نے انہیں جنت میں داخل کیا اور ان کے ساتھ معاملہ کیا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اسی طرح ہم نے انہیں عزت دی کہ ان کی شادی حورعین سے کردی۔ عین کے بارے میں گفتگو سورة صافات میں گزر چکی ہے۔ حور کا معنی سفید ہے (1) یہ قتادہ اور عام علماء کا قول ہے۔ یہ حوراء کی جمع ہے۔ حوراء کا معنی سفید ہے، جس کی پنڈلی اس کے کپڑے کے باہر سے دکھائی دے گی اور دیکھنے والا اپنا چہرہ اس کے پستان سے دیکھ لے گا جس طرح آئینہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کی جلد بڑی باریک چمڑہ ترو تازہ اور رنگ صاف ہوگا اس تاویل کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں بعیس عین ہے ابوبکر انباری نے احمد بن حسین سے وہ حسین سے وہ عمار بن محمد سے روایت کرتے ہیں : کہا : میں نے منصور بن معتمر کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے حم الدخان میں پڑھا۔ عیس کا معنی سفید ہے اسی وجہ سے سفید اونٹوں کو عیس کہتے ہیں اس کا واحد بعیر اعیس ہے اور ناقۃ عیسا ہے۔ امرئوالقیس نے کہا :
وہ میری آواز کی طرف لوٹ آتی ہیں جب وہ اسے سنتی ہیں جس طرح جوان اونٹی اونٹ کی آواز کی طرف لوٹ آتی ہے یہاں حور کا معنی ہے خوبصورت، روشن، سفید۔ ابن مبارزک نے ذکر کیا معمر ابو اسحاق سے وہ عمرو بن میمون اودی سے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہا : حورعین میں سے عورت ایسی ہوگی جس کی پنڈلی کا گودا گوشت اور ہڈی اور ستر حلوں کے نیچے سے دکھائی دے گا جس طرح سرخ شراب سفید شیشے میں دکھائی دیتا ہے مجاہد نے کہا : حور کو حور اس لئے کہتے ہیں کیونکہ آنکھ ان کی حسن، سفیدی اور رنگ کی صفائی میں حیران ہوجائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، انہیں حور اس لئے کہتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھوں میں حور ہوگا۔ حور سے مراد آنکھوں میں شدید سیاہی میں انتہائی سفیدی ہے۔ امراۃ حوراء اسے کہتے ہیں جس کی حور واضح ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے، یعنی وہ شے سفید ہوگئی۔ اصمعی نے کہا : میں نہیں جانتا آنکھوں میں حور کیا ہوتی ہے ؟ ابو عمرو نے کہا : حور یہ ہے کہ ساری آنکھ سیاہ ہوجائے جس طرح ہر نوں اور گائیوں کی آنکھیں ہوتی ہیں کہا : انسانوں میں حور نہیں ہوتا عورتوں کو حورالعین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر نوں اور گائیوں کی مشابہ ہوتی ہیں، عجاج نے کہا :
یعنی ایسی آنکھیں جو صاف سفید ہوں جس کی دھیری سخت سیاہ ہو، عین، عیناء کی جمع ہے اس سے مراد کھلی بڑی آنکھوں والی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حورعین کا مہر کھجور کی مٹھ اور روئی کا ٹکڑا ہوگا۔ “ (1)
حضرت ابو قر صافہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” مسجدوں سے کوڑا کرکٹ کا نکالنا حورعین کا مہر ہے “ (2) حضرت انس ؓ سے مروی ہے : فرمایا :” مساجد میں جھاوڑ دینا یہ حورعین کا مہر ہے “ (3) اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے ہم نے کتاب التذکرہ میں اس بارے میں ایک الگ باب باندھا ہے۔ الحمد اللہ
اس میں اختلاف ہے کہ جنت میں افضل کون ہے انسانوں میں سے عورتیں یا حوریں ؟ ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے : رشدین، ابن انعم سے وہ حبان ابن ابی جبلہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے عورتیں جو جنت میں داخل ہوں گی انہیں دنیا میں اعمال کی وجہ سے حورعین پر فضلیت دی جائے گی۔
مرفوع روایت ہے کہ ” انسانوں میں سے عورتیں حورعین میں سے ستر ہزار گنا فضلیت والی ہوں گی “ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ” حورعین افضل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں کہا : ( 1) اسے بیوی عطا فرما جو اس کی اس بیوی سے بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے عکرمہ نے کہا : یہ مضاف، مضاف الیہ ہے۔ میں اضافت اور تنوین برابر ہیں۔
Ayah 44:55قتادہ نے کہا : وہ موت سے، بیماری سے اور شیطان سے محفوظ ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں جو نعمتیں ہیں ان کے انقطاع سے امن میں ہوں گے یا اس چیز سے امن میں ہوں گے کہ ان چیزوں کے کھانے سے انہیں کوئی تکلیف یا ناپسندیدہ چیز لاحق ہوسکتی ہے۔
Ayahs 44:56–57یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ لیکن پہلی موت کا ذائقہ انہوں نے دنیا میں چکھ لیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ الابعد کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے اس میں کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا الاسوی کے معنی میں ہے یعنی سوائے اس موت کے جس کا ذائقہ دنیا میں انہوں نے چکھ لیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (النسائ 22) یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : امس میں نے آج کوئی کھانا نہیں کھایا سوائے اس کے جو میں نے کل کھایا تھا۔
قتبی نے کہا : اس کا معنی ہے مومن جب موت کے قریب جاتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور وہ روح و ریحان سے ملاقات کرتا ہے جنت میں اس کی موت اس کے اسباب کے متصف ہونے کی بناء پر ہوگی۔ استثنا صحیح ہے موت ایک عرٗ ہے اس کو چکھا نہیں جاتا لیکن اسے کھانے کی طرح بنا دیا گیا ہے جس کا چکھنا ناپسند کیا جاتا ہے۔ تو ذوق کا لفظ بطور مجاز ذکر کیا جاتا ہے۔
ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر فضل و احسان ہے فضلاً یہ مصدر ہے جس کا یدعون عامل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل ووقیم ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ فعل مضمر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے عامل اس کلام کا معنی ہے جو اس سے قبل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر فضل و احسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انہیں ایسے اعمال کی توفیق دی جن کے باعث وہ جنت میں داخل ہوتے۔
یعنی سعادت، عظیم نفع اور عظیم نجات، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے فازبکذا یعنی اسے پایا اور اس کے ساتھ کامیاب ہوا۔
Ayahs 44:58–59یعنی قرآن ہم نے اسے آپ کی زبان پر نازل کر کے آپ پر اور جو بھی اسے پڑھے اس پر آسان کردیا ہے ممکن ہے وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنے برے اعمال سے رک جائیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القمر) اس سورت کا اختتام قرآن کی اتباع پر برانگختیہ کرنے پر کیا ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں ہوا جس طرح سورت کے آغاز میں ہوا (القدر) جس طرح پہلے گزر چکا۔ میں نے آپ سے ان کے خلاف جو وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجئے جس طرح وہ آپ کی موت کا انتظار کررہے ہیں نقاش نے اسے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے رب کی جانب سے فتح کا انتظار کیجئے جس طرح وہ اپنے گمان کے مطابق تجھ پر غلبہ پانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا جس طرح وہ تیرے بارے میں حادثات کا انتظار کررہے ہیں ۔ ، معنی قریب قریب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں تجھ سے ثواب کا جو وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کرو اس طرح ہیں گویا میں نے ان سے جو عقاب کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کررہے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : یوم قیامت کا انتظار کرو کیونکہ وہ فیصلہ کا دن ہے اگرچہ وہ اس کے وقوع کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ انہیں انتظار کرنے والا بنا دیا گیا ہے کیونکہ ان کا انجام یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔