Ayahs 43:1–3آیات نمبر ا، 2، 3
حم۔ والکتب المبین۔ اس کے بارے میں گفتگو گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حم قسم ہے والکتب المبین دوسری قسم ہے، اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس کی چاہے قسم اٹھائے اس کا جواب قسم انا جعلنہ ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے والکتب کا جواب حم کو نبایا جس طرح تو کہتا ہے نزل واللہ، وجب واللہ تو اس نے الکتب المبین پر وقف کیا ہے، جس نے جواب قسم انا جعلنہ کو نبایا ہے اس نے والکتب المبین پر وقف نہیں کیا۔ جعلنہ کا معنی ہے ہم نے اس کا نام رکھا اور ہم نے اس کی صفت بیان کی۔ اسی وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے ماجعل اللہ من بحیرۃ (المائدہ : 103) سدی نے کہا : ہم نے اسے نازل کیا ہے جو قرآن ہے (1) ۔ مجاہد نے کہا : ہم نے یہ کہا۔ زجاج اور سفیان ثوری نے کہا : ہم نے اسے بیان کیا۔
عربیا ہم نے اسے عربوں کی زبان میں نازل کیا کیونکہ ہر نبی کی کتاب اس کی قوم کی زبان میں بازل کی گئی (2) ؛ یہ سفیان ثوری اور دوسرے علماء نے کہا : مقاتل نے کہا : آسمان والوں کی زبان عربی ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کتاب سے مراد وہ تمام کتابیں ہیں جو انبیاء پر نازل کی گئیں کیونکہ کتاب اسم جنس ہے گویا جتنی بھی کتابیں نازل کی گئیں ان کی قسم اٹھائی کہ اس نے قرآن کو عربی بنایا جعلنہ میں ضمیر قرآن کے لیے ہے اگرچہ اس سورت میں اس کا پہلے ذکر نہیں ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انا انزلنہ فی لیلتہ القدر۔ لعلکم تعقلون۔ تاکہ تم اس کے احکام اور اس کے معافی کو سمجھو۔ اس تعبیر کی بنا پر یہ عربوں کے لیے خاص ہوگا عجمیوں کے لیے نہیں ہوگا (4) ؛ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : معنی ہے تاکہ تم سوچ وبچار کرو۔ اس تعبیر کی بنا پر عربیوں اور عجمیوں سب کے لیے عام ہوگا۔ کتاب کی صفت مبین سے لگائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنے احکام اور فرائض کو بیان فرمایا ہے جس طرح کئی مواقع پر یہ بحث گذر چکی ہے۔
Ayah 43:4وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم۔ ” اور بیشک یہ قرآن ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت ہے اونچی شان والا حکمت سے لبریز “۔
وانہ فی ام الکتب ضمیر سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن لوح محفوظ میں ہے لدینا یعنی ہمارے پاس لعلی حکیم۔ یعنی بلند اور محکم۔ اس میں اختلاف اور تناقض نہیں پایا جاتا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انہ لقران کریم۔ فی کتب مکنون۔ (الواقعہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بل ھو قران مجید۔ فی لوح محفوظ۔ (البروج) ابن جریج نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان و انہ سے مراد مخلوق کے اعمال یعنی ایمان، کفر، اطاعت اور معصیت لعلی وہ اس سے بلند ہے کہ اسے پایا جاسکے اور اس میں تبدیلی کی سکے حکیم وہ نقص اور تغیر سے پاک ہے (1) ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اسے حکم دیا کہ جس کو پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے لکھے کتاب اس کے پاس ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی (2) ۔ حمزہ اور کسائی نے ام الکتب کے ہمزہ کو کسرہ دیا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے ضمہ دیا ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
Ayah 43:5افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین۔ ” کیا ہم روک لیں گے تم سے اس ذکر کو ناراض ہو کر اس وجہ سے کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو “۔
افنضرب عنکم الذکر ذکر سے مراد قرآن ہے ؛ یہ ضحاک اور دیگر سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر سے مراد عذاب ہو یعنی کیا ہم تم سے عذاب کو روک لیں گے اور تمہارے اسراف اور کفر پر تمہیں سزا نہ دیں گے ؛ یہ مجاہد، ابو صالح اور سدی کا قول ہے (3) ۔ عوفی نے یہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ؛ معنی ہے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے عذاب کو روک لیں گے جبکہ تم نے وہ کچھ نہیں کیا جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے کیا تم قرآن کو جھٹلاتے ہو اور تمہیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ سدی نے یہ بھی کہا : معنی ہے کیا ہم تمہیں فضول چھوڑ دیں گے اور یم تمہیں حکم نہیں دیں گے اور ہم تمہیں نہیں روکیں گے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے کیا ہم تمہیں ہلاک کردیں گے اور تمہیں حکم نہیں دیں گے اور تمہیں نہیں روکیں گے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ کیا ہم قرآن نازل کرنے سے رک جائیں گے قبل اس کے کہ تم اس پر ایمان نہیں لائے ہو گے اور تم پر اسے نازل کریں گے ؛ یہ ابن زید کا قول ہے۔
قتادہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر اس قرآن کو اٹھالیا جاتا جب اس امت کے لوگوں نے اس کا رد کیا تھا تو وہ ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ اسے لوٹا یا اور بار بار نازل کیا۔ کسائی نے کہا : ہم تم سے ذکر کو لپیٹ دیں گے نہ تمہیں نصیحت کی جائے گی اور نہ ہی تمہیں حکم دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں ذکر سے مراد تذکیر ہے گویا فرمایا : کیا تمہیں نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ تم فضول خرچ قوم ہو۔ یہ تعبیر اس کے نزدیک ہے جس نے ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے، جس نے اسے کسرہ دیا ہے اس نے اسے شرط کے لیے بنایا ہے اور اس کا ماقبل اس کا جواب ہے کیونکہ یہ لفظوں میں عمل نہیں کرتا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وذرواما بقی من الزبوا ان کنتم مومنین۔ (البقرۃ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب مخدوف ہے اس پر ما قبل کلام دلالت کرتی ہے جس طرح تو کہتا ہے : انت ظالم ان فعلت زجاج کے نزدیک ہمزہ کے کسرہ کی صورت میں حال کا معنی ہوگا کیونکہ کلام میں تقریر اور تو بیخ کا معنی پایا جارہا ہے صفحا کا معنی اعراض کرنا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے صفحت عن فلان جب تو نے اس کے گناہ سے درگذر کیا قد ضربت عنہ صفحا جب تو نے اس سے اعراض کیا اور اس کو ترک کردیا۔ اس کا اصل معنی گردن کا پہلو ہے یہ کہا جاتا ہے : اعرضت عنہ یعنی میں نے اس سے اپنی گردن کا پہلو پھیرلیا۔ شاعر نے کہا :
صفوحا فما تلقاک الا بخیلتہ فمن مل منھاذلک الوصل ملت (1)
وہ گردن کا پہلو پھیر نے والی ہے وہ تجھے بخیل کی حیثیت سے ہی ملے گی جو اس وصل سے اس سے اکتا جائے وہ اکتا جاتی ہے۔ صفحا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے کیونکہ افنضرب کا معنی ہے افنصفح ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یوں ہے افنضرب عنکم الذکر صافحین جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے : جاء فلان مشیاً ۔
مسرفین کا معنی ہے مشرکین۔ ابو عبیدہ نے ان میں ہمزہ کے فتحہ کو اختیار کیا ہے ؛ یہ ابن کثیر، ابو عمرو، عاصم اور ابن عامر کی قراءت ہے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امر پر عتاب کیا جو ان سے واقع ہوا اور ان کے عمل سے پہلے اسے جان لیا۔
Ayah 43:6وکم ارسلنا من بنی فی الاولین۔ وما یاتیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزء ون۔ فاھلکنا اشد منھم بطشاو مضی مثل الاولین۔ ” اور ہم نے بکثرت بھیجے ہیں بنی پہلے لوگوں میں اور نہیں آیا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ (کفار) اس کا مذاق اٹایا کرتے پس ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور گزر چکا ہے حال پہلے لوگوں کا “۔
وکم ارسلنا من نبی فی الاولین۔ یہاں کم خبر یہ ہے، یہاں کثرت معنی پایا جاتا ہے معنی ہے ہم نے جو انبیاء بھیجے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہے جس طرح فرمایا : کم تر کو امن جنت و عیون۔ (الدخان) انہوں نے کتنے ہی زیادہ باغات اور چشمے چھوڑے۔
Ayahs 43:7–8ومایا تیھم من نبی یعنی ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ لوگ اس کے ساتھ مذاق اڑایا کرتے تھے جس طرح آپ کی قوم آپ کا مذاق اڑاتی ہے نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔ فاھلکنا اشد منھم بطشا یعنی ایسی قوم کو ہلاک کیا جو قوت میں ان سے گڑھ کر تھی منھم میں ضمیر مشرکین کر طرف لوٹ رہی ہے جو افنضرب عنکم الذکر صفحا کے مخاطب ہے پہلے خطاب کیا اس کے بعد ضمیر ذکر کی اشدیہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے ؛ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مفعول ہے یعنی وہ لوگ جو بدن اور پیروکاروں کے اعتبار سے ان سے قوی تھے انہیں ہلاک کردیا و مضی مثل الاولین۔ یہاں مثل سے مراد عقوبت ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صفحتہ الاولین سے مراد ہے ان کی خبر کہ انہیں ان کے کفر کے باعث ہلاک کردیا گیا ؛ یہ نقاش اور مہدوی نے ذکر کیا ہے (1) ۔ مثل کا معنی وصف اور خبر ہے۔
Ayah 43:9ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقو لن خلقھن العزیز العلیم۔ ” اور آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے : پیدا کیا ہے انہیں بڑے زبردست سب کچھ جاننے والے نے “۔
ولئن سالتھم ضمیر سے مراد مشفکین ہیں من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم۔ خلق اور ایجاد کا اس کے لیے اقرار کیا پھر اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی یہ ان کی طرف سے جہالت ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔
Ayah 43:10الذی جعل لکم الارض مھداو جعل لکم فیھا سبلا لعلکم تھتدون۔ ” جس نے بنا دیا ہے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ اور بنا دیے ہیں تمہارے لیے اس میں راستے تاکہ تم منزل مقصور تک پہنچ سکو “۔
الذی جعل لکم الارض مھدا اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت کے ساتھ اپنی صفت بیان کی یہ کلام نئی شروع ہو رہی ہے اپنے بارے میں خبر دی اگر یہ کفار کے قول کی خبر ہوتی تو کلام یوں ہوتی الذی جعل لنا الارض۔
مھدا یعنی بستر اور بچھونا۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ کو فیوں نے اسے مھدا پڑھا ہے وجعل لکم فیھا سملا یعنی زندگی کو اسباب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سبلا کا معنی ہے راستے تاکہ جہاں تم جانا چاہتے ہو ان میں چلو۔
لعلکم تھتدون تاکہ تم اس کی مقدورات سے اس کی قدرت پر استدلال کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ تاکہ تم اپنے سفروں میں ہدایت پائو، یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر نعمتوں کو پہچانوں ؛ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ تم اپنی زندگی کے اسباب کی طرف راہنمائی پائو۔
Ayah 43:11والذی نزل من السماء ماء بقدر فانشر نابہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون۔ ” اور جس نے اتارا آمان سے پانی اندازہ کے مطابق پس ہم نے زندہ کردیا اس سے ایک مردہ شہر کو یونہی تمہیں بھی قبروں سے بکالا جائے گا “۔
والذی نزل من السما ماء بقدر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس طرح نہیں جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر بغیر اندازہ کے نازل کیا گیا یہاں تک کہ انہیں غرق کردیا بلکہ وہ اندازے سے نازل کیا گیا غرق کرنے والے طوفان کی صورت میں نہیں اور نہ ہی ضرورت سے کم یہاں تک کہ وہ تمہارے لیے اور تمہارے چوپائوں کے لیے زندگی کا سبب بن گیا (4) ۔
فانشر نابہ بلدۃ میتا یعنی ہم نے پانی کے ذریعے چنیل بستی کو زندہ کردیا۔
کذلک تحر جون۔ اسی طرح تمہیں قبور سے اٹھایا جائیگا کیونکہ جو ذات بےآباد بستی کو آباد کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ سورة اعراف میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔ یحییٰ بن وثاب، اعمش، حمزہ، کسائی اور ابن ذکوان نے ابن عامر سے یخرجون قراءت نقل کیا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مجہول نقل کیا ہے۔
Ayahs 43:12–15والذی خلق الا زواج کلھا و جعل لکم من الفلک والا نعام ماترکبون۔ لتستواعلی ظھورہ ثم تذکروا نعمتہ ربکم اذا اس تو یتم علیہ و تقولو اسنحن الذی مخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلیبون۔ ” اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنادیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دلوں میں) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب کم کر بیٹھ جائو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو : پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں “۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ والذی خلق الازواج یعنی اللہ تعالیٰ نے جوڑے پیدا کیے۔ سعید بن جبیر نے کہا : تمام قسم کی اصناف پیدا کیں (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جس نے موسم سرما، موسم گرما، رات، دن، آسمان، زمین، سورج، چاند، جنت اور جہنم کو پیدا کیا (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : حیوانوں میں سے مذکر اور مئونث پیدا کیے (3) ؛ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : نباتات کے جوڑے مراد ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واثبتنا فیھا من کل زوج بھیج۔ (ق) من کل زوج کریم۔ (لقمان : 10) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایمان و کفر، نفع و نقصان، فقرو غنا اور صحت و بیماری ہیں جو انسان میں گردش کرتے رہتے ہیں۔
میں کہتا ہوں : یہ قول تمام اقوال کو عام ہے اپنے عموم کی وجہ سے تمام کو جمع ہے۔
وجعل لکم من الفلک فلک سے مراد کشتیاں ہیں والانعام سے ماد اونٹ ہیں ماتر کبون۔ جن پر خشکی اور گرمی میں سورای کرتے ہو۔ لتستو اعلی ظھورہ یہاں ضمیر ذکر کی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ماترکبون کی طرف لوٹ رہا ہے ؛ یہ ابو عبید کا قول ہے۔ فراء نے کہا : ظھورہ کو واحد ضمیر کی طرف مضاف کیا ہے (4) ، کیونکہ اس سے مراد جنس ہے ایک جمع کے معنی میں ہوگا جس طرح جیش اور جندواحد ہونے کے باوجود جمع کے معنی میں ہوتے ہیں اسی وجہ سے ضمیر مذکر ذکر کی اور ظہور کو جمع ذکر کیا تقدیر کلام یہ ہوگی علی ظھور ھذا الجنس۔
مسئلہ نمبر 2۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہاں انعام سے مراد اونٹ اور گائے ہے (5) ۔ ابو معاذ نے کہا : صرف اونٹ ہیں (1) ؛ یہی صحیح ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” اسی اثنا میں کہ ایک آدمی گائے پر سوار تھا کہ گائے نے اس سے کہا : مجھے اس مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا گیا مجھے تو ہل چلانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے (2) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں، ابو بکر، اور عمر اس پر ایمان لائے “ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ اس وقت حاضر نہ تھے۔ سورة النحل کے آغاز میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔
مسئلہ نمبر 3۔ لتستو اعلی ظھورہ اس سے مراد خاص طور پر اونٹ ہیں اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کی ہے اور کشتیوں کے اندر بیٹھا جاتا ہے ان کشتیوں پر سوار نہیں ہوا جاتا لیکن سورت کے آغاز میں ان دونوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک کو دوسرے پر عطف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ کشتی کے ظاہر کو اس کا باطن بنا دیا جائے کیونکہ پانی کشتی کو ڈھانپے اور چھپائے ہوئے ہوتا ہے اس کا بطن ہی ظاہر بنا دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ باطن لوگوں کے لیے منکشف ہوتا ہے اور دیکھنے والوں کے لیے یہی پست ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ ثم تذکروانعمتہ ربکم اذاستویتم علیہ یعنی جس پر سواری کرتے ہو۔ نعمت کے ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے کہ اس نے اس چیز کو ہمارے لیے خشکی اور تری میں مسخر کردیا ہے وتقو لو اسبحن الذی سخر لنا ھذا یعنی اس نے ہمارے لیے سواری کو مسخر کیا۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کع قراءت میں ہے سنحان من مخرلنا ھذا۔ وما کنا لہ مقرنین۔ یعنی ہم اس کی طاقت نہ رکھتے تھے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور کلبی کا قول ہے (3) ۔ اخفش اور ابو عبیدہ کا نقطہ نظر ہے کہ مقرنین کا معنی ہے ضابطین ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے قوت میں مماثل۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : قرن فلان جب وہ قوت میں اس کی مماثل ہو، یہ جملہ کہا جاتا ہے : فلان مقرن لفلان یعنی فلاں، فلاں کو قابو کرنے وال ہے، اسی معنی میں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں ارانت کذا۔ اقرن لہ وہ اس پر قوی ہوگیا گویا وہ اس کا ہم مقابل ہوگیا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما کنا لہ مقرنین یعنی ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ قطرب نے عمرو بن معد یکرب کا شعت پڑھا :
لقد علم القبائل ما عقیل لنا فی النائبات بمقرنینا
قبائل جان گئے ہیں عقیل حادثات زمانہ میں ہمارے ہم پلہ نہیں ہیں۔
ایک اور شاعرنے کہا :
رکبتم صعبتی اشرا و حینفا التم للضعاب بمعرنینا
نیز مقرن اسے کہتے ہیں جس پر ضیاع غالب آجائے اس کے اونٹ ہوں یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور ان پر اس کا کوئی معاون نہ ہو یا وہ اونٹوں کو پانی پلائے اور انہیں کوئی ہنکانے والا نہ ہو۔ سکیت نے کہا : اس کی اصل میں وہ قول ہیں : (1) یہ اقران سے ماخوذ ہے یہ باب چلایا جاتا ہے اقرن یقرن اقرا نا جب طاقت رکھے اقرنت کذاجب تو اسے محکم بنائے گویا اسے پہاڑ میں بنایا، قرن سے مرا پہاڑ ہے اسے پختہ بنایا اور مضبوط کیا (2) یہ مقارنہ سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چال میں ایل دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے : قرنت کذابکذاجب تو اسے اس کے ساتھ باندھ دے اور تو اسے اس کا ساتھی بنا دے۔
مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جب ہم سواریوں پر سورا ہوں تو ہم کیا کہیں اور جب ہم کشتی پر سوار ہوں تو حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے ایل اور آیت میں اس کو بھی پہچان لیا ہے وہ یہ ارشاد ہے : وقال ارکبوافیھا بسم اللہ مجرھا و مرسھا ان ربی لغفور رحیم۔ (ہود) کتنے ہی جانروں پر سوار لوگ ہیں کہ سواری سوار کے ساتھ لڑکھڑا گئی یا سرگرداں ہوگئی یا اس نے سوار کو نیچے گرا دیا یا سوار اس کی پشت سے نیچے گرگیا اور ہلاک ہوگیا، کتنے ہی کشتی میں سوار ہونے والے ہیں کشتی ان کے ساتھ ٹوٹ گئی تو سب غرق ہوگئے۔ جب سوار ہو یا ایک ممنوع امر کے ساتھ ملا ہوا ہے اور تلف کے اسباب میں سے چند اسباب کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہے وہ اس کی قضا سے بچنے والا نہیں وہ اپنے دل اور زبان سے اس کے ذکر کو نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ملاقات کے لیے اس طرح تیار ہوجائے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح کرنے والا ہو اور اس احتیاط کو بھی پیش نظر رکھے کہ اس کی یہ سواری اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کے موت کے اسباب میں سے ہو اور وہ خود اس سے غافل ہو۔
سلیمان بن یسار نے یہ حکایت بیان کی ہے کہ لوگ سفر میں تھے جب وہ سوار ہوئے تہ کہتے : سبحن الذی سخرلنا ھذاوما کنا لہ مقرنین۔ ان میں سے ایک آدمی تھا جو انتہائی کزور سواری پر سوار تھا اونٹ میں سے رازم اسے کہتے ہیں جو زمین پر کھڑا رہتا ہے اور کمزوری کی وجہ سے حرکت نہیں کرتا یا یوں جملہ بولا جاتا ہے قدر زمت الناقتہ ترزم وترزم رزامورزاما وہ ٹھکاوٹ اور کمزوری کی وجہ سے کھڑی ہوگئی وہ حرکت نہیں کرتی۔ صحاح میں جو ہری نے یہ بات کہی ہے۔ اس آدمی نے کہا : جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو اس پر غالب ہوں اس اونٹنی نے اسے گرادیا اور اسکی گردن ٹوٹ گئی۔
روایت بیان کی جاتی ہے : ایک بدو اپنے قعود اونٹ (چرواہا ہر ضرورت کے لیے جس اونٹ کو استعمال کرتا ہو) پر سوار ہوا اس نے کہا : اسے قابو کرنے والا ہوں، وہ قعود اونٹ اسے لے کر دوڑ پڑا یہاں تک کہ اسے گرادیا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی ! پہلا واقعہ مادردی اور دوسرا ابن علی نے ذکر کیا ہے۔ کہا : کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس دعا کو چھوڑے زبان سے اس کا ذکر واجب نہیں جب وہ سوار ہو تو یہ کہے اور سفر میں جب اسے یاد آجائے سنحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنالمنقلبون۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اہل اور مال میں تو ہی خلیفہ ہے، اے اللہ ! میں سفر کی مشقت سے واپس پلٹنے کے غم، کور کے بعد جاو اور اہل و مال میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ الجور بعد الکور سے فراد ہے امور کے مجتمع ہونے کے بعد ان کا بکھر جانا۔
عمر بن دینار نے کہا : میں ابو جعفر کے ساتھ ان کی زمین کی طرف نکلا جو باغ کی مثل تھی جسے مدر کہ کہتے وہ ایک تندخواونٹ پر سوار ہوئے میں نے ان سے عرض کی : اے ابو جعفر ! کیا تجھے ڈر نہیں کہ یہ تجھے گرا دے گا تو فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہر اونٹ کی کہ ان پر ایک شیطان ہوتا ہے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کا نم یاد کیا کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے پھر اس سے خدمت لو “ (1) ۔ حضرت علی بن ربیعہ نے کہا : میں نے حضرت علی شیر خدا رضی وللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک روز سوار ہوئے جب آپ نے اپنا قدم رکاب میں رکھا تو کہا : بسم اللہ جب سواری پر بیٹھ گئے تو کہا : الحمد للہ پھر کہا : سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پھر تین بار کہا : الحمدللہ واللہ اکبر اللھم لا الہ الا انت ظلمت نفسی فاغفر لی انہ لا یغفر الذنوب الا انت پھر آپ ہنسے۔ میں نے ان سے پوچھا کس چیز نے تجھے ہنسایا ہے ؟ کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اسی طرح کہا جس طرح میں نے کہا ہے پھر آپ ہنسے میں نے پوچھا : یارسول اللہ ﷺ ! کس چیز نے آپ کو ہنسایا ہے فرمایا : اس بندے کے قول پر تعجب کی وجہ سے جع کہتا ہے : اللھم لا الہ الا نت ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا مغفر الذنوب الا انت (2) وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔ ابودائود طیالسی نے اسے اپنی مسند میں اور ابو عبداللہ محمد بن خویز منداد نے احکام میں ذکر کیا ہے۔ ثعلبی نے اسی کی مثل حضرت علی شیر خدا ؓ سے مختصر نقل کیا ہے، الفاظ یہ ہیں نبی کریم ﷺ جب اپنا قدم رکاب میں رکھتے تو فرماتے بسم اللہ جب اوپر بیٹھ جاتے تو فرماتے (3): الحمد للہ علہ کل حال سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلبون۔ جب تم کشتی اور چوپائے سے نیچے اترو تو کہو اللھم انزلنا منز لا مباد کا وانت خیر المنزلین۔
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ جو آدمی سوار ہوا اور سبحن الذی سخرلنا ھذا و ما کنا لہ مقرنین۔ نہ کہا شیطان اسے کہتا ہے : تو اسکے لیے نغمہ گا (4) ۔ اگر وہ اچھی طرح نہ گا سکتا ہو تو اسے کہتا ہے : اپنی طرف سے بنالے : یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔
جو آدمی اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے : آج ہم گھوڑوں پر سیر کریں یا کشتی میں سیر کریں وہ سوار ہوتے ہیں جبکہ وہ اپنے ساتھ شراب کے برتن اور آلات لہو و لعب اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں وہ لگا تار اسے پیتے رہتے ہیں یہاں تک شراب سے اکتاہٹ ہوجاتی ہے جبکہ وہ جانوروں کی پشتوں پر ہوتے ہیں یا کشتیوں کے اندر ہوتے ہیں جبکہ کشتیاں انہیں لے کر کل رہی ہوتی ہیں وہ صرف شیطان کا ذکر کرتے ہیں، وہ صرف اس کے حکم کو ہی مانتے ہیں، وہ ایسے لوگوں کے پاس کھڑا ہونے سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
زمحشری نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک حاکم سوار ہوا جبکہ وہ شراب پیتا تھا ایل شہر سے دوسرے شہر کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تھی اسے ہوش نہ آیا مگر جب وہ اپنے گھر پہنچ چکا تھا اسے سفر کا احساس تک نہ ہوا ایسے سواروں کے عمل اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو حکم دیا ہے ان کے درمیان کتنا بعد ہے (5) ۔ وجعلو الہ من عبادہ جزئا ان الا نسان لکفو رمبین۔ ” اور بنا دی ہے مشرکوں نے اس کے لیے اس کے بندوں سے اولاد، بیشک انسان کھلا ہونا شکر گزار ہے “۔
وجعلو الہ من عبادہ جزئ ! یہاں جزئ، عدل کے معنی میں ہے یعنی مثل (1) ۔ قتادہ سے مروی ہے : اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ زجاج اور مبرد نے کہا : یہاں جزء سے فراد بیٹیاں ہیں۔ مومن ان کی جہالت پر متعجب ہوئے جب انہوں نے یہ اقرار کیا کہ آسمانوں اور زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک اور بچہ بنایا انہیں علم نہیں تھا کہ جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر قادر ہے وہ کیس شے کا محتاج نہیں ہو سکتا جس کے ساتھ قوت حاصل کرے یا اس سے انس حاصل کرے کیونکہ یہ نقص کی صفات میں سے ہے۔
ماوروی نے کہا : عربوں کے نزدیک جزء سے مراد بیٹیاں ہیں (2) ۔ جب عورت بیٹیاں جنے تو عرب کہتے ہیں اجزات المراءۃ شاعر نے کہا :
ان اجزات خرۃ ہو ما فلا عجب وقد تجزی الحرۃ المذکار احیانا (3)
اگر شریف عورت نے کسی روز بچی جنی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کئی مواقع پر وہ بچے بھی جن دیتی ہے۔
زمحشری نے کہا : عجیب و غریب تفاسیر میں سے یہ ہے کہ جزء کی تفسیر عورتوں سے کی جائے اور یہ دعوی کیا جائے کہ جزء کا لفظ لغت عرب میں عورتوں کے لیے آتا ہے (4) یہ عربوں پر جھوٹ ہے اور نئی وضع ہے انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی یہاں تک کہ انہوں نے اس سے یہ فعل مشتق کرلیا اجزات المراۃ پھر شعر بنادیے :
ان اجزات حرۃ یوما فلا عجب زوجتھامن بنات الاوس مجزئتہ (5)
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وجعلو الہ من عبادہ جزء اللہ تعالیٰ کے فرمان ولین سالتھم کے ساتھ متصل ہے اگر تو ان سے آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں پوچھے تو وہ اس کا اعتراف کریں گے اس اعتراف کے باوجود انہوں نے اس کے بندوں میں سے اسکا جز بنا دیا ہے اور مخلوقات کی صفات سے اس کا وصف بیان کیا ہے من عبادہ جزءا کا معنی ہے انہوں نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا جز بنا دیا جس طرح اولاد والد کا جز ہوا کرتی ہے۔ اسے جزء ! دو ضموں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
ان الانسان لکفور مبین۔ انسان سے مراد کافر ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ مصائب کو شمار کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے مبین کا معنی ہے وہ کفر کو ظاہر کرتا ہے (6)
Ayah 43:16ام اتخذ مما یخلق بنت و اصفکم بالبنین۔ ” کیا اللہ تعالیٰ نے پسند کرلی ہیں اپنے لیے اپنی مخلوق سے بیٹیاں اور مخصوص کردیا ہے تمہیں بیٹوں کے ساتھ “۔
ام اتخذ مما یخلق بنت ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے کیا اس نے جو پیدا کیا ہے اس کو بیٹیاں بنا لیا ہے جس طرح تمہارا گمان ہے فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں لفظ استفہام کا ہے معنی تو بیخ ہے واصغکم بالبنین۔ تمہیں بیٹوں کے لیے خاص کیا، یہ جملہ کہا جاتا ہے : اصفیتہ بکذا یعنی میں نے اس کو اس کے پیچھے لگایا۔ اصفیتہ الود میں نے اس کے لیے محبت کو خالص کیا۔ صافیتہ و تمافینا ہم نے خالص کیا۔ اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس امر کو منسوب کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کو منتخب کیا جبکہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو پسند کیا جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو اگرچہ جاہل یہ وہم کرے کہ اس نے اپنے لیے بیٹا منتخب کیا ہے۔ اس کافر نے اللہ تعالیٰ کی طرف دو جنسوں میں ارفع جنس کو کیوں منسوب نہیں کیا انہوں نے اپنے لیے معزز جنس کو کیوں بنایا اور اللہ تعالیٰ کے لیے ادنی درجے کی جنس کو منتخب کیا یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الکم الذکرو لہ الانثی۔ تلک اذاقسمتہ ضیزی۔ (النجم)
Ayah 43:17واذابشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل و ضھہ مسود اوھو کظیم۔ ” اور جب اطلاع دی جاتی ہے ان میں سے کسی کو اس کی جس کی نسبت اس نے رحمن کی طرف کی ہے تو اس کا چہرہ (فرط رنج سے) سیاہ ہوجاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے “۔
واذابشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا یعنی اس کی بیٹی پیدا ہوئی تو اسکا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی یہ صورت حال اس لیے ہوتی ہے کہ اس نے جو مثال بیان کی تھی وہ باطل ہوچکی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے بچی کی جو بشارت دی گئی ہے اس کی یہ حالت ہوگئی ہے اس کی دلیل سورة نحل میں موجود ہے واذابشر احدہم بالانثی ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں سے ایک کو یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی بچی پیدا ہوئی ہے تو وہ غمگین ہوجاتا ہے اور اس کا چہرہ غصے اور افسوس سے سیاہ ہوجاتا ہے جبکہ وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔ ایک عرب کے بارے میں یہ مروی ہے کہ اس کی عورت نے بچی جنی تو اس نے اس گھر کو چھوڑ دیا جس میں اس کی بیوی تھی تو اس عورت نے کہا :
ما لابی حمزہ لایاتینا یظل فی البیت الذی یلینا غضبان الاتلد البنینا وانما نخذ ما اعینا (1)
ابو حمزہ کو کیا ہوگیا ہے وہ ہمارے پاس نہیں آتا اور اس گھر میں رہتا ہے جو ہمارے پڑوس میں ہے۔ وہ ناراض ہے کہ ہم بیٹوں کو کیوں نہیں جنتیں ہم تو وہی کچھ لیتی ہیں جو کچھ ہمیں عطا کیا گیا ہے۔
اسے مسود ” اور مسواد “ بھی پڑھا گیا ہے۔ جماعت کی قراءت کے مطابق وجھہ یہ ظل کا اہم ہے اور مسودا اس کی خبر ہے () ۔ یہ بھی جائز ہے کہ وجھہ ‘ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو اور مسودا کو رفع اس لیے دیا جائے کہ یہ اس کی خبر ہو۔ ظل میں اس کا اہم ہو اور جملہ اس کی خبر ہو کظیم کا معنی ہے غمگن (2): یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس معنی مکروب ہے : یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خاموش ہے : یہ ابن ابی حاتم کا قول ہے (1) ، یہ سب کچھ اس کی مثل کے باطل ہونے اور دلیل کے باطل ہونے کی وجہ سے ہے۔ جس نے اس افر کو جائز قرار دیا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو اس نے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کا مشابہ قرار دیا ہے کیونکہ بچہ اپنے والد کی جنس اور اسکے مشابہ ہوا کرتا ہے جس آدمی کا چہرہ اس لیے سیاہ ہوتا ہے کہ اس کی طرف اسے منسوب کیا جائے جو اس سے بھی جلیل الشان ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرنا کیسا ہوگا ؟ اس آیت کی وضاحت میں سورة نحل میں ایسی بحث گذر چکی ہے جو کافی وشافی ہے۔
Ayah 43:18اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اومن ینشوا جس کی تربیت کی جاتی ہے اور وہ جو ان ہوتی ہے۔ نشوء کا معنی تربیت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : نشات فی بنی فلاں نشا و نشوا۔ جب تو ان میں جوان ہو۔ نشی اور انشی ‘ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، ضحاک، ابن و ثاب، حفص، حمزہ، کسئی اور خلف نے ینشا پڑھا ہے جس کی تربیت کی جاتی ہے اور وہ بڑی ہوتی ہے زیورات میں ؛ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اس صورت میں اسناد اعلیٰ ہے باقی قراء نے اسے ینشایاء کے فتحہ اور نون کو ساکن کرنے کے ساتھ پڑھا ہے ؛ اسے ابو حاتم نے پسند کیا ہے وہ راسخ ہوتا ہے اور بڑھتا ہے۔ نشا میں اصل معنی بلند ہوتا ہے، یہ ہر وی نے کہا ہے ینشا متعدی ہے اور ینشالازم ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ فی العلیتہ یعنی زینت میں، حضرت ابن عباس ؓ وعنہما اور دوسرے علماء نے کہا : وہ بچیاں ہیں ان کا لباس مردوں کے لباس سے مختلف ہے (2) ۔ مجاہد نے کہا : عورتوں کو سونے اور ریشم کے استعمال کی اجازت دی گئی اور اس اور اس آیت کو پڑھا (3) ۔ ال کیا نے کہا : اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ عورتوں کے لیے زیورات استعمال کرنا جائز ہے اس پر اجماع منعقد ہے اس میں احادیث شمار سے باہر ہیں۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو کہا کرتے تھے : اے بیٹی ! سونے کو زیورات پہننے سے بچو کیونکہ مجھے تیرے بارے میں آگ کا خوف آتا ہے۔
وھو فی الخصام غیر مبین۔ جھگڑا میں اور حجت و دلیل پیش کرنے میں واضح کلام نہیں کرسکتی۔ قتادہ نے کہا : کسی عورت نے گفتگو کی جبکہ اس کے پاس دلیل بھی موجود ہو تو وہ اسے اپنے خلاف ہی استعمال کرلیتی ہے (4) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں ہے وھوفی الکلام غیر مبین آیت کا معنی ہے کیا اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے جس کا یہ وصف ہو ؟ یعنی ایسا کرنا جائز نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : زیورات میں آراستہ ان کے وہ بت ہیں جن کو انہوں نے سونے اور چاندی سے ڈھالا اور انہیں زیور پہنائے (1) ، یہ ابن زید اور ضحاک کا قول ہے۔ اس قول کی بنا پر اس کا معنی ہوگا وہ جواب سے خاموش ہیں من محل نصب میں ہے یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اس چیز کو بنایا جو زیوارت میں پروان چڑھتی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مبتدا کی حیثیت میں مرفوع ہو اور خبر مضمر ہو ؛ یہ فراء کا قول ہے تقدیر کا کلام یہ ہوگی کیا وہ چیز جو اس حالت پر ہو عبادت کی مستحق ہو سکتی ہے۔ اگر تو چاہے تو یہ کہہ لے کہ من محل جر میں ہے اسے کلام کے ابتدائی حصہ کی طرف پھیرا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بما ضرب یا ما ہے جو اس آیت میں ہے مما یخلق بنت ان دونوں مواقع پر بدل بنانا ضعیف ہے کیونکہ ہمزہ استفہام بدل اور مبدل منہ کے درمیان حائل ہے۔
Ayah 43:19وجعلوا الملئکتہ الذین ھم عبدالرحمن اناثا کو فیوں نے عباد کو جمع پڑھا ہے، ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اس میں اسناد اعلی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول میں انہیں جھٹلایا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں وہ اس کی بیٹیاں نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے عبادالرحمن پڑھا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : میرے مصحف میں عبدالرحمن تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسے مٹادے اور اسے عبادالرحمن لکھ اس قراءت کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکرمون۔ (الانبیائ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم (الاعراف : 194) باقی قراء نے اسے عندالرحمن نون ساکنہ کے ستاھ پڑھا ہے ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے اس قراءت کہ تصدیق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان الذین عندربل (الاعراف : 206) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولہ من فی السموت والارض ومن عندہ (الانبیائ : 19) مقصور ان کے جھوٹ کو واضح کرنا اور ان کی جہالت کو بیان کرنا ہے کہ وہ اولاد کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہ حکم لگاتے ہیں کہ فرشتے مئونث ہیں اور وہ اللی تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ عباد کے لفظ کا ذکر کر کے ان کی مدح ہے یعنی انہوں نے اس کی کیسے عبادت کی جو عبادت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے پھر انہوں نے کیسے حکم لگا دیا کہ وہ مونث ہیں جبکہ اس پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ یہاں جعل قول اور حکم کے معنی میں ہے تو کہتا ہے : جعلت زیدا اعلم الناس یعنی میں نے اس پر سب سے بڑا عالم ہونے کا حکم لگا دیا۔
اشھدواخلقھم وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان پر مئونث ہونے کا حکم لگا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے ان سے سوال کیا اور کہا : تجھے کیسے علم ہوا کہ وہ مئونث ہیں (2) ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم نے اپنے آباء سے سنا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اس قول میں جھوٹ نہیں بولا کہ وہ عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ستکتب شھادتھم و یسئلون۔ یعنی آخرت میں ان سے سوال کیا جائے گا۔ نافع نے اسے ارشھدوا پڑھا ہے یعنی ہمزہ استفہام ہمزہ مضموم پر داخل ہو اس کو مد کے ساتھ نہیں پڑھا جاتا مگر مسیبی سے ایک روایت مروی ہے کہ وہ اسے مد کے ساتھ پڑھتے تھے مفضل نے عاصم سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے اور مونوں ہمزوں کے محقق ہونے کی روایت کی ہے باقی قراء نے اسے ہمزہ کے ساتھ جو استفہامیہ ہے قراءت کی ہے اشھدوازہری نے اشھدواخلقھم قراءت نقل کی ہے یعنی یہ جملہ خبر یہ ہے ستکتب عام قراءت ہے فعل مجہول ہے اور تاء مضموم ہے اور شھادتھم مرفوع ہے۔ سلمی، ابن سمیقع اور ہبیرہ نے حفص سے سنکتب اور شھادتھم کو منصوب نقل کیا ہے کیونکہ گعل معروف ہے۔ ابورجاء سے ستکتب شھاداتھم جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 43:20وقالو الوشاء الرحمن ماعبدنھم مالھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون۔ ” اور کفار کہتے ہیں کہ اگر چاہتا خداوند رحمن تو ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں وہ محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں “۔
وقالو الوشاء الرحمن مشر کوں نے مذاق کے انداز میں کہا : تمہارے گمان کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم ان کی پوجا نہ کرتے۔ یہ ان کی طرف سے قول تع صحیح تھا مگر باطل تھا ہر شے اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوا کرتی ہے اس کا ارادہ ثابت ہے اسی طرح اس کا علم بھی ثابت ہے اس کے ارادہ کے ساتھ استدلال کرنا ممکن نہیں اسی طرح معلوم کے خلاف بھی ممکن نہیں۔ مراد تحت القدرت ہے اگرچہ واقع نہ ہوا اگر وہ بتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تو ہم جان جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اسی چیز کا ارادہ کیا جو ان سے حاصل ہوا۔ سورة انعام میں یہ بحث گذر چکی ہے سیقول الذین اشر کو الوشاء اللہ ما اشرکنا (انعام : 148) سورة یس میں انطعم من لویشاء اللہ اطعمہ (47 )
مالھم بذلک من علم یہ کلام وجعلوا الملئکتہ الذین ھم عبدالرحمن اناثا کی طرف لوٹائی جائے گی یعنی وہ یہ جو کہتے ہیں الملائکتہ بنات اللہ کا نہیں کچھ علم نہیں (1) ؛ یہ قتادہ، مقاتل اور کلبی کا قول ہے۔ مجاہد اور ابن جریح نے کہا : اس سے مرادبت ہیں یعنی بتوں کی جو عبادت کرتے ہیں اس کا انہیں کچھ علم نہیں (2) ۔ من زائدہ ہے
ان ھم الا یخر صون۔ وہ اندازہ لگاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں غیر اللہ کی عبادت کرنے میں ان کے پاس کوئی عذر نہیں ان کے کلام کا بین السطوریہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا، ہم سے اس بات پر راضی ہوا، ہمیں اس چیز سے منع نہ کیا اور ہمیں جلدی سزا نہ دی۔
Ayah 43:21ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون۔ ” کیا ہم نے دی انہیں کوئی کتاب اس سے پہلے پس وہ اسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں “۔
یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : اشھدواخلقھم کا معادل ہے معنی ہے کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے یا ہم نے قرآن سے پہلے کوئی کتاب انہیں عطا کی تھی جس نے انہیں اس امر کی دعوت دی تھی وہ اس کو پکڑے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل پیرا ہیں۔
Ayahs 43:22–23اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر ا۔ علی امتہ مراد طریقہ اور مذہب ہے ؛ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے (1) ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز، مجاہد اور قتادہ اسے امتہ پڑھا کرتے تھے اور امتہ کا معنی طریقہ ہے۔ جو ہری نے کہا : امتہ کا معنی نعمت ہے اور امتہ، امتہ کی بھی ایک لغت ہے اس سے فراد طریقہ اور دین ہے ؛ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ عدی بن زید نے نعمتہ کا معنی لیتے ہوئے کہا :
ثم بعد الفلاح و الملک والامتہ وارتھم ھناک القبور کامیابی، بادشاہت اور نعمت کے بعد وہاں قبروں نے انہیں چھپا لیا۔
یہ جوہری کے علاوہ سے مروی ہے۔ قتادہ اور عطیہ نے کہا : علی امتہ کا معنی ہے دین پر (2) ۔ قیس بن خطیم کا قول اسی معنی میں مروی ہے :
کنا علی امتہ آبائنا ویقتدی الاخر بالاول
ہم اپنے آباء کے دین پر ہیں اور بعد والا پہلے کی اقتداء کر رہا ہے۔
جوہری نے کہا : امتہ کا معنی طریقہ اور دین ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : فلاں لا امتہ لہ فلاں کا کوئی دین نہیں، شاعر نے کہا :
وھل یستوی ذوامتہ و کفور
کیا دین والا اور کافر برابر ہو سکتے ہیں۔
مجاہد اور قطرب نے کہا علی دین، علی ملتہ (3) ۔ دین اور ملت پر۔ بعض مصاحف میں ہے قالوا اناوجدنا آباء نا علی ملتہ یہ تمام اقوال قریب قریب ہیں (4) ۔ فراء سے مروی ہے : ملت پر، قبلہ پر۔ اخضش نے کہا : استقامت پر۔ اور نابغہ کا شعت پڑھا :
حلفت فلم اترک لنفک ریبتہ وھل تاثمن ْذوامتہ وھو طائع
میں نے قسم اٹھادی ہے اور میں نے تیرے نفس کے لیے کوئی شک نہیں چھوڑا کیا استقامت پر کار بند گناہگار ہو سکتا ہے جبکہ خوشی سے کام کر رہا ہو۔
مسئلہ نمبر 2۔ وانا علی اثرھم مھتدون۔ یعنی ہم ان سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ ایک اور آیت میں مقتدون کے الفاظ ہیں۔ یعنی ہم ان کی اقتدا کرتے ہیں معنی ایک ہی ہے۔ قتادہ نے کہا : ہم اقتدا کرتے ہیں (1) ، ہم پیروی کرتے ہیں۔ اس میں تقلید کے ابطال پر دلیل ہے کہون کہ ان کی اپنے آباء کی تقلید پر مذمت کی گئی ہے اور اس پر مذمت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جس امر کی دعوت دی اس میں غور و فکر کو انہوں نے ترک کردیا تھا۔ اس بارے میں گفتگو سورة بقرۃ میں گذر چکی ہے۔
مقاتل نے بیان کیا کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ، ابو سفیان، ابوجہل، عتبہ، شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے وہی بات کی جوان سے قبل لوگوں نے بات کی تھی۔ مقصور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک (حم السجدہ : 43) مترف سے مراد خوشحال آدمی ہے یہاں اس سے مراد بادشاہ اور جابر لوگ ہیں۔
قل او لو نئتکم باھدی مما وجدتم علیہ اباء کم قالوا انا مبا ارسلتم بہ کفرون۔ ” اس نبی نے فرمایا کہ اگر میں لے آئوں تمہارے پاس زیادہ درست چیز اس سے جس پر پایا ہے تم نے اپنے باپ دادا کو تب بھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم جو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے اس کو نہیں مانتے “۔
Ayah 43:24قل اولو جئتکم باھدی اے محمد ! اپنی قوم سے کہا دیجئے : کیا میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس لایا ہوں وہ زیادہ درست اور ہدایت والی نہیں۔
مما وجدتم علیہ اباء کم قالوا انا بما ارملتم بہ کفرون۔ یعنی جس چیز کے ساتھ رسولوں کو مبعوث کیا گیا خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لفظ جمع کا ہے کیونکہ ایک رسول کو جھٹلانا باقی رسولوں کو جھٹلانا ہے اسے قل و جئتکم اور قال وجئناکم پڑھا گیا ہے یعنی کیا تم اپنے آباء کی پیروی کرتے ہو اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لایا ہوں جو تمہارے آباء کے دین سے زیادہ درست ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم اپنے آباء کے دین پر ثابت قدم ہیں ہم اس سے جدا نہ ہو نگے اگرچہ تم ہمارے پاس وہ لاتے جو زیادہ صحیح ہو۔ تقلید کے بارے میں بحث سورة بقرہ میں گذر چکی ہے یہاں اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 43:25فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عاقبتالمکذبین۔ ” پس ہم نے ان سے انتقام لیا ذرا دیکھو کیسا المناک انجام ہوا جھٹلانے والوں گا “۔
فانتقمنا منھم ہم نے قحط، قتل اور قیدی بنانے کے ساتھ ان سے انتقام لیا قل اولوجئتکم ہے ابن عامر اور حفص نے قال اولو پڑھا ہے یہ نذیر کی طرف سے خبر ہوگی یعنی اس نے ان لوگوں سے کہا تھا۔ ابو جعفر نے اسے قل اولو جئناکم نون اور الف کے ساتھ پڑھا ہے تو خطاب رسول اللہ ﷺ نے تمام رسولوں کی جانب سے کیا۔
Ayahs 43:26–27واذ قال ابرھیم لا بیہ و قومہ اننی برآء مما تعبدون۔ الا الذی فطرنی نانہ سیھدین۔ ” اور یاد کیجئے جب کہا ابرہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ میں بےزارہوں ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس کے جس نے مجھے پیدا فرمایا بیشک وہی میری راہنمائی کرے گا “۔
واذ قال انہیں یاد دلا یئے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا : جن کی تمام عبادت کرتے ہو میں ان سے بری ہوں۔ براء کا لفظ واحد اور اس سے اوپر کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کا نہ تثنیہ بنایا جاسکتا ہے نہ جمع اور نہ ہی اس کا مونث بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے اور صفت کی جگہ اسے رکھا گیا ہے یہ نہیں کہا جاتا : البراء ان، البراء ون، کیونکہ معنی ذوالبراء اور ذو والبراء ہے۔ جوہری نے کہا : تبرات من کذا، انامنہ براء وخلاء منہ اس کا تثنیہ اور جمع نہیں بنائی جاتی کیونکہ یہ اصل میں مصدر ہے جس طرح سمع سما عا جب تو کہے : انا بری منہ دخلی۔ اس کا تثنیہ، جمع اور مونث بنائی جائیگی اور تو جمع میں کہے گا : نحن منہ برآئ، جس طرح فقیہ کی جمع فقہاء آتی ہے اور براء بھی آتی ہے جس طرح کریم کی جمع کرام آتی ہے ابراء بھی جمع آتی ہے جس طرح شریف کی جمع اشراف آتی ہے اس کی جمع ابریاء بھی آتی ہے جس طرح نصیب کی جمع انصباء اور برئیون آتی ہے یوں کہا جاتا ہے : امراۃ برئیتہ، ھمابرئیتاں، ھن برئیات، برایا ای طرح یہ استعمال ہوتا ہے رجل بری وبرائ۔ جس طرح عجیب اور عجاب ہے البراء جب فتحہ کے ساتھ استعمال ہو تو یہ مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے اسے یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کیونکہ چاند سورج سے بری ہوتا ہے الا الذی فطرنی یہ متثنیٰ متصل ہے کیونکہ انہوں نے اپنے معبودوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی۔ قتادہ نے کہا : وہ کہا کرتے تھے اللہ ربنا اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مستثنی منقطع ہو یعنی لیکن جس نے مجھے پیدا کیا وہ مجھے ہدایت دے گا۔ یہ اس لیے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد اور اپنی قوم کو تنبیہ کرنے کی غرض سے تھا کہ ہدایت اسکے رب کی جانب سے ہوتی ہے۔