Ayah 46:1حا ۔ می ۔ م حروف مقطعات میں سے ہے۔
1 ؎ { حم } سے شروع ہونے والی سورتوں میں سے یہ آخری اور ساتویں سورت ہے اور ان سورتوں کو ” حوامیم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔ یہ سورت بھی مکی ہے جیسا کہ دوسری { حم } سے شروع ہونے والی سورتیں بھی مکہ ہی میں نازل ہوئی ہیں اور ان کا زمانہ نزول بھی قریب قریب ہے اور مضمون بھی ملتے جلتے ہیں۔ { حم } حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث عزوہ الوثقیٰ کی پہلی جلد کی دوسری صورت کے شروع میں کردی گئی ہے وہیں سے ملاحظہ فرما لی جائے۔
Ayah 46:2یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو غالب آنے والا اور حکمت والا ہے۔
2 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو تشریف لائے تقریباً دس سال سے زیادہ عرصہ گزر رہا ہے اور ظاہر ہے وحی الٰہی کو اترتے ہوئے بھی اتنی مدت گزر چکی ہے۔ وحی الٰہی کیا ہے ؟ سب پر واضح ہے کہ وہ قرآن کریم ہے جس کو کتاب اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قریش مکہ کو پہلے ہی روز سے اس کا انکار تھا کہ یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھڑا ہوا ہے جو یہ الہل کی طرف منسوب کرتا ہے پھر جب وہ اعتراض کرتے ہیں اس وقت ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر یہ محمد (الرسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا ہے تو تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کرلے آئو لیکن اس بات کی کسی نے ہمت نہ کی اور نہ وہ کرسکتے تھے قرآن کریم نازل ہوتا رہا اور وہ برابر اس کو جھٹلاتے رہے اور یہ الزام بھی انہوں نے ترک نہ کیا تو پھر ان سے کہا گیا کہ { فاتو بعشرسورمثلہ } (11 : 31) چلو صرف دس سورتیں اس جیسی گھڑ کرلے آئو اس کے جواب میں پھر کوئی نہ اٹھا اور نہ کوئی اپنی اس بات کے دہرانے سے باز آیا تو قرآن کریم نے اعلان کردیا کہ { فاتو بسورۃ من مثلہ } (البقرہ 2 : 32) ” اٹھو اور ایک ہی سورت اس جیسی تم بھی گھڑ کرلے آئو “ لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ، نہ کوئی آج تک کرسکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی کرسکتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود اتنی مدت ان سے یہ مطالبہ دہرایا گیا نہ ہی انہوں نے اس کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی اپنے اس الزام سے وہ باز آئے اور قرآن کریم میں بار بار ان کی اس چڑ کا جواب دیا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے اور اللہ وہ ذات ہے جو سب پر غالب اور
عزت رکھنے والا ہے اور پھر ظاہر ہے کہ اس کا کلام بھی اسی عزت اور اسی غلبہ کی شہادت ہے اگر وہ بیک وقت آنا فاناً غالب نہیں آ رہا تو اس کا مطلب یہ نہ سمجھو کہ وہ غالب نہیں آئے گا نہیں یہ حکیم کل کی طرف سے نازل کیا جا رہا ہے اور حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ تمہارا زور بھی دیکھے اور اپنا بھی دکھائے اور انجام کار سارے زور آوروں کا زور توڑ کر غالب آجائے تاکہ پھر کوئی بھی اس کے خلاف زور نہ لگا سکے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ کچھ ہوا جو قرآن کریم نے کہا تھا۔
Ayah 46:3ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے :
3 ؎ لوگوں نے قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کردیا اور پھر انکار کرتے ہی چلے گئے جیسا کہ اوپر آپ پڑھ آئے اور اب ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے اندر اور ان کے درمیان ہے سب کا سب اسی رب ذوالجلال والاکرام ہی نے تو بنایا ہے جس نے اس قرآن کریم کو نازل کیا اگر قرآن کریم اس نے نازل نہیں کیا جیسا کہ تم ضد کرتے ہو اور بار بار کہتے ہو کہ یہ اس کی کتاب نہیں ہے تو کیا یہ ساری کائنات کا خالق بھی وہ نہیں ہے ؟ یہ استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ اگر وہ نہیں تو بتائو کہ وہ کون ہے ؟ اگر تم مانتے ہو کہ وہی ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے تو قرآن کریم نے تم سے کیا کہا ہے جس کے باعث تم اس کو جھٹلانے پر مل گئے ہو ، یہی کہا ہے کہ اس دنیا کو ایک روز فنا ہونا ہے اور تم سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے تمہارے کئے گئے اعمال سے تم کو دو چار کرنا ہے اور یہی وہ نظریہ ہیجس سے تم کو انکار ہے اور اسی کے باعث تم قرآن کریم کا انکار کرتے ہو او کہتے ہو کہ { انت بقران عیر ھذا و بدلہ } (یونس 01 : 51) ” اس قرآن کے سوا کوی اور قرآن لا جس میں یہ نظریہ موجود نہ ہو یا اس کو بدل دے “ تو ہم اس کو اللہ کی کتاب مان لیتے ہیں۔ جب یہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب بنایا گیا ہے تو کیا بنایا جانا خود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک دن اس کو ختم بھی ہونا ہے۔ یہ محض ایک عرصہ اور مدت معین کے لئے بنایا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس کو محض ایسے ہی بےکار نہیں بنایا گیا بلکہ بالحق یعنی بامقصد بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ تم انسان اس ساری کائنات سے فائدہ اٹھائو اور اس میں جو کچھ بنایا گیا ہے محض تمہاری آزمائش کے لئے ہے۔ جس طرح تم سب لوگ فانی ہو یہ نظام بھی یقیناً فنا ہونا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور جس نے اس دنیا میں نیکی کمائی ہوگی اس کو اس کی نیکی کا صلہ ملے گا اور جس نے برائی کمائی ہوگی وہ بھی یقیناً اپنی برائی کی سزا پائے گا۔ اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو بلا شبہ کائنات کا سارا نظام بےمقصد ہوجاتا۔
اس کائنات کے نظام کو ایک مدت مقرر تک کے لئے بنایا گیا ہے { اجل مسمی } بلا ریب اس دنیا کی کوئی چیز بھی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے ہرچیز کو اس کے خالق نے جس طرح نہایت حکمت و دانائی کے ساتھ پیدا کیا ہے اسی طرح اس کے لئے ایک معیاد بھی مقرر کردی ہے اور جب وہ مقررہ معیاد آجائے گی تو ہرچیز فنا ہوجائے گی۔ زمین اور آسمان کو دیکھو ، انکی مضبوطی پر نظر کر کے اس غلط فہمی میں بتلا نہ ہو جائو کہ یہ کبھی فنا نہیں ہوں گے ہرگز نہیں اس بوڑھی دنیا کی عمر خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو بہرحال فنا اس کے ہونے میں مضمر ہے اور وہ ضرور ہوگی۔ تعجب ہے تم پر کہ جس چیز کی طرف تم کو دعوت دی جاتی ہے تم اس سے منہ پھیرنے لگے ہو۔
Ayah 46:4جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے ذرا مجھے بھی دکھائو :
4 ؎ پیچھے آسمانوں ، زمین کو او جو کچھ ان میں ہے او جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا ذکر کر کے بتایا گیا تھا کہ یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہی اکیلا ہر ایک چیز کا خالق ہے اس لئے وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسی کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ اب غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں سے خواہ وہ بزعم خویش فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کر کے ان کی پر شست کرتے ہوں ، خواہ وہ اجرام فلکی کو دیوتا سمجھ کر ان کی پرستش میں مصروف ہوں اور خواہ اللہ کے نیک بندوں ، نبیوں ، رسولوں ، ولیوں ، پیروں اور مرشدوں کی پر شست کرنے والے ہوں یا اسی طرح کائنات کی کسی ایک چیز کی پرستش کرتے ہوں ، سب کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے جس نے کوئی چیز بنائی یا پیدا کی ہے ذرا وہ مجھے بھی ملاحظہ کر ائو اچھا یہ نہیں تو جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکت کی ہے وہی بتا دو یین دکھا دو اور جب یہ بات تم کو بھی معلوم ہے کہ اس کائنات کی کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں ہے جس کو انہوں نے بنایا اور پیدا کیا ہو اور نہ ہی کوئی چیز ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو شریک بنایا ہو کہ میں اکیلا نہیں بنا سکتا تم بھی میرے ساتھ شریک ہو جائو اور اگر تم ایسی کسی چیز کا نام بھی نہیں لے سکتے اور یقیناً نہیں لے سکو گے تو پھر تم کو مزید مہلت دی جاتی ہے کہ اگر تم اس کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے تو کوئی دلیل اس کی دکھا دو جو اس سے پہلے اتاری گئی کتابوں میں تحریر ہوئی ہو کہ فلاں چیز نے پیدا کی یا یہ کہ فلاں چیز اللہ نے فلاں فلاں کو شریک کار بنا کر بنائی تھی اچھا اگر کسی کتاب اللہ میں نہیں تو کسی تاریخی شہادت ہی کا نام بتا دو کہ فلاح جگہ اس کی شہادت موجود ہے۔ اچھا یہ بھی نہیں تو اس کا کوئی عقلی ثبوت ہی سہی اور اگر یہ بھی نہیں تو کم ازکم اپن غلطی کا اعتراف ہی کرلو اور اس سچائی کی دعوت کو قبول کرلو اور اللہ کی ذات کو چھوڑ کر کسی پتھر ، قبر ، بت بےروح یا ذی روح سے کو اپنا اور کسی دوسری چیز کا خالق ومالک مت کہو کیونکہ اس سے بڑی کوئی اور حماقت نہیں ہو سکتی کہ انسان کے پاس کوئی دلیل بھی موجود نہ ہو اور اپنی کہی ہوئی بات سے جو بےدلیل ہو باز بھی نہ آئے محض اس لئے کہ میں نے کہہ دیا اس لئے اب کہے ہی جانا ہے کیونکہ یہ سچائی کی نہیں بلکہ جھوٹے ہون کی دلیل ہے۔ سچائی یہ ہے کہ جس چیز کا علم نہیں جب علم آجائے گا تو اس کا اقرار کرلے اور انکار چھوڑ دے۔
قابل غور بات پر غور کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ اس میں غو کرنے کی تلقین کی گئی ہے کیا اس میں یہ مطالبہ ہے کہ انسان اللہ کی اجازت سے تو پیدا کر رہی سکتا ہے اور کرتا ہی رہا ہے اس میں بغیر اجازت پیدا کرنے کا ذکر ہے ؟ یا یہ ذکر ہے کہ جب فی نفسہ پیدا کرنا اللہ کا کام ہے تو وہ کوئی دوسرا کر ہی نہیں سکتا خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو کیونکہ پیدا کرنے نہ کرنے میں اذن کی کوئی بحث نہیں ہے ؟ کیا اللہ نے اس جگہ نہیں تو کسی دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ خود بخود تو کوئی چیز کوئی آدمی پیدا نہیں کرسکتا لیکن میرے اذن سے پیدا کرسکتا ہے ؟ لاریب خالق کل اللہ ہے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں اور کوئی شخص باذن اللہ بھی کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتا اور نہ ہی اللہ کسی کو پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس لئے ہم نے جگہ جگہ اس کی وضاحت کی ہے کہ { خلق } کا فعل جب غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے تو اس کے معنی پیدا کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ جوڑنے ، بنانے اور ایجاد کرنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں تبدیل کرنے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً درزی کپڑے کو کاٹ کر ایک خاص ترتیب سے جب اس کپڑے کو جوڑتا ہے اور اس کی قمیض یا شلوار تیار کردیتا ہے تو لاریب درزی اس قمیص و شلوار کا خالق کہا جاسکتا ہے لیکن اس کا خلق کا مفہوم پیدا کرنا نہیں بلکہ جوڑنا اور بنانا ہے۔ ایک موچی نے چمڑا لا اور اس سے جوتا تیار کردیا
اب اس کو اس جوتے کا خالق کہہ سکتے ہیں لیکن اس { خلق } کے معنی پیدا کرنے کے نہیں بلکہ ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں تبدیل کرنے ، جوڑنے اور بنانے کے ہیں۔ وفس علی ھذا۔
معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ اور دوسرے سارے لوگ جو قرآن کریم کے مخاطبین اول تھے وہ بھی تخلیق کے ان معنوں کو سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کہ جب قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ” ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہوئے انہوں نے اس زمین میں کیا پیدا کیا ؟ “ تو کسی نے عیسیٰ کے پرندوں کو پیدا کرنا نہیں بتایا کہ جب خود ہی قرآن کریم اس کی تصدیق کرتا ہے کہ غیر اللہ پیدا کرسکتے ہیں تو پھر خارجی دلیل دینے کی ضرورت کیا ہے۔ کسی نے اس کی ہمت و جرأت نہیں کی لیکن ہمارے مفسرین نے چیزوں کے نام گنوائے ہیں کہ فلاں فلاں چیز عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدا کردہ ہے مثلاً معروف ہے کہ اس چمگادڑ کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیدا کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے پاخانہ کی جگہ بھول گئے اور اب اس کے کھانے اور کھایا ہوا نکالنے کی جگہ ایک ہو لاریب اس کی دونوں جگہیں الگ الگ موجود ہیں اور مشاہدہ میں ہیں کسی نے ایسا کہہ دیا ہے اور لوگوں میں معروف ہوگیا ہے اور یہی بات خواص و عوام کہہ رہے ہیں اور ہمارے سنی بھائی سنی سنائی باتوں پر ہی ایمان رکھتے ہیں ، بس یہی اس کی دلیل ہے۔ حالانکہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (3 : 94) ” میں تمہارے لئے ہیئت طیر میں اللہ کے حکم سے پھونکلتا ہوں وہ طیر بن جاتا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جو من حیث الشکل انسان نظر آتے ہیں لیکن اعمال و افعال کے باعث وہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں جب اللہ کے حکم سے احکام الٰہی کی پھونک لگاتا ہوں تو وہ صحیح معنوں میں انسان بن جاتے ہیں جیسا کہ ان کو ہونا چاہئے تاکہ وہ کام کے انسان بن جائیں صرف نام ہی کے نہ رہیں جس طرح درزی نے کپڑے کو قمیض شلوار میں اور موچی نے چمڑے کو ” پھونک لگا کر “ جوتے میں تبدیل کردیا اور وہ کام کی چیز بن گیا اور ساتھ ہی وضاحت کردی کہ یہ کام بھی میں نے اپنے لوگوں کو اس کی تعلیم کے قبول کرنے کی توفیق دی وہ کام کے انسان بن گئے اگر یہ بات میرے اختیار میں ہوتی تو میں کسی ایک کو بھی کام کا انسان بنائے بغیر نہ چھوڑتا لیکن اس کی اجازت اللہ ہی کے پاس ہے اور میں نے جو تعلیم دی اس کو جن لوگوں نے قبول کیا اور میرے حواری بن گئے یہ محض باذ اللہ ہوا ہے۔ اس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صفحات کے صفحات کا مضمون صرف چند الفاظ میں بند کر کے رکھ دیا لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو سمجھنے کی بجائے قرآن کریم میں تضاد ثابت کردیا کہ ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ { ارونی ماذا خلقوا من الارض } اور دوسری طرف خود ہی فرما دیا { انی اخلق لکم کھینۃ الطیر } اور اس کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرنے لگے تو ایسی متضاد باتیں کہہ دیں کہ ان کو سن کر اور پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ دیکھو یہ بات تو قرآن کریم میں ہے جو اللہ کہہ رہا ہے اور اگر ان سے یہ کہہ دو کہ کیا اللہ متضاد باتیں کرتا ہے تو جھٹ کفر کا فتویٰ صادر کردیں گے کہ دیکھو یہ کافر ہے کہ اللہ کی باتوں پر اور قرآن جیسی کتاب پر تنقید کر رہا ہے اور اس طرح اپنے خیال کو قرآن کریم اور اللہ کی بات کہہ کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ مثلاً درج ذیل عبارت کو ایک بار پڑھو۔
۔ 1 ” وہ ہستیاں کیا ہیں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ “
میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں او اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا
ہے “ (3 : 94) ، (ترجمان القرآن)
۔ 2 ” کبھی تم نے غور سے دیکھا) دیکھا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا (خدا سمجھ کر ) پکارتے ہو (بھلا ) مجھے بھی تو دکھائو جو پیدا کیا ہے ، انہوں نے زمین میں۔ “
” میں بنا دیتا ہوں تمہارے لئے کیچڑ سے پرندے کی سی صورت ، پھر پھونکلتا ہوں اس (بےجان صورت) میں تو وہ فوراً ہوجاتی ہے پرندہ اللہ کے حکم سے “ (3 : 94) ، (ضیاء القرآن)
۔ 3 ” بھلا دیکھو تو جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا دکھلائو تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں ؟ “
” میں بنا دیتا ہوں تم کو گارے سے پرند کی شکل پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو ہوجاتا ہے وہ اڑتا جانو اللہ کے حکم سے ۔ “ (3 : 94) ، (معارف القرآن)
” کیا بندہ مردے زندہ کرسکتا ہے ؟ بیشک موت وحیات اللہ کے اختیار میں ہے لیکن اللہ اپنے کسی بندے کو مردے جلانے کی طاقت بخشے تو اس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو ہم مردے زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر شیطان کی باتوں میں آ کر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ عزو جل نے کسی اور کو مردے زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اس کا یہ نظریہ حکم قرآنی کے خلاف ہے۔ قرآن مسیح (علیہ السلام) کو مردے زندہ کرنے والا خود بتا رہا ہے دیکھو قرآن میں ہے کہ ” میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے “ اب امید ہے کہ شیطان کا وسوہ جڑ سے کٹ گیا ہوگا۔ “ (الحقائق فی الحدائق)
ہم کوئی نتیجہ نکالے بغیر مضمون کو چھوڑ رہے ہیں اس لئے کہ قارئین ذرا خود غور کریں کہ قرآن کریم کا منشا کیا ہے اور ہم کیا سمجھے ہیں اور جو کچھ پیچھے ہم نے عرض کیا ہے اور اس تفسیر میں عرض کرتے ہی چلے آ رہے ہیں کہاں تک صحیح ہے اور ہم سے کیا اور کہاں غلط سرزد ہوئی ہے۔ آپ جو کہنا چاہتے ہیں آزادی سے کہیں آپ کا شکریہ ادا کروں گا “ جب آپ کا کہا مجھے ملا۔
Ayah 46:5اللہ کو چھو کر جو غیر اللہ کو پکارتا ہے اس سے زیادہ گمراہ اور کون ہو سکتا ہے ؟
5 ؎ { من دون اللہ } کیا ہے ؟ مسلمانوں کی اکثریت جو ہمارے برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے ہیں ان کے ترجمان فرقہ کا یہ خیال ہے کہ صرف اور صرف ” بت “ { من دون اللہ } نہیں ہو سکتے یہی وجہ ہے کہ جہاں { من دون اللہ } کا لفظ آیا تو انہوں نے اس کا ترجمہ الاصنام اور بت کیا اور اس کے سوا کچھ ترجمہ ان کو نہیں سوجھتا اور نہ ہی وہ صحیح سمجھتے ہیں۔ ابھی گزشتہ آیت میں { ما تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض } کے الفاظ آئے تھے جن کا ترجمہ اور تفسیر آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ اسی آیت 4 کے آخر میں حاشیہ 5 دے کر ہمارے محترم پیر کرم شاہ صاحب رقم طراز ہیں کہ ” اگر تمہارے بتوں نے زمین و آسمان کی تخلیق میں کچھ حصہ لیا ہے تو اسے دلیل سے ثابت کرو “ اور سید محمد نعیم الدین مراد آبادی (رح) اس جگہ 7 حاشیہ دے کر تفسیر میں وضاحت فرماتے ہیں کہ ” یعنی بت جنہیں معبود ٹھہراتے ہو “ اور { من دون اللہ } کے الفاظ قرآن کریم میں 92 مرتبہ آئے ہیں اور ہر جگہ یہی تفسیر کی گئی ہے ایک ایک مقام نکال کر دیکھتے جائیں کہ ہر جگہ اس کی تفسیر میں بت اور صنم یا زیادہ سے زیادہ شیطان کا لفظ آئے گا اور وضاحت کرتے ہوئے بھی یہ وضاحت کی ہے کہ ” تم وہابیوں کو
خداوند کریم ہدایت دے ، خدا وند کریم اگر کسی کو قرآن پڑھنے کی توفیق عطا فرما دے تو صحیح سمجھنے کی توفیق دے ، کیا تمہاری عقل آیت کریمہ کو جب سمجھتی ہے الٹا ہی سمجھتی ہے کیا تم نے یہ ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ جو کفار اور بتوں کے حق میں رب العزت نے ذکر فرمایا ہے تم ان کو اولیاء اللہ (رح) پر چسپاں کر کے ان کی خوب بےادبی کرو ؟ یہ گستاخی نہیں تو اور کیا ہے ؟ جو آیات خداوندی نے بتوں کی حقیقت کو واضح کرنے واسطے فرمائیں تاکہ لوگ ان کی کمزوری کو مد نظر کھتے ہوئے ان کی عبادت ترک کردیں اور کفر و شرک کے جال کو توڑ کر میری توحید اور عبادت پر ہی عقیدہ رکھیں تم ان کو عمداً اور عناداً انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ علیہم پر جڑتے ہو کچھ خدا کا خوف کرو۔ “ (مپقیاس الحنفیث بحث من دون اللہ ص 09)
بہر حال اگر کوئی صاحب ان بزرگ حضرات سے پوچھ لیں کہ حضرات گستاخی معاف آپ نے جو فرمایا ہے کہ ” اگر تمہارے بتوں نے زمین و آسمان کی تخلیق میں کچھ حصہ لیا ہے تو اسے دلیل سے ثابت کرو “ لاریب بتوں نے زمین و آسمان کے بنانے میں کوئی حصہ نہیں لیا تو کیا نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور اللہ کے دوسرے سارے نیک بندوں سے یا فرشتوں اور جنوں میں سے کسی نے کوئی شرکت کی ہے یا اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان کو اس کائنات کی کسی چیز میں شریک کیا ہے ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ان بزرگوں کو آخر { من دون اللہ } میں شمار کرنے سے ان کی بےادبی اور گستاخی کیسے ہوگئی جب کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ { من دون اللہ } کا مطلب و مفہوم اور ترجمہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ” اللہ کے سوا “ اور یہ بھی سب جانتے ہیں ، مانتے ہیں ، سمجھتے ہیں کہ انبیاء کرام ، رسل عظام اور اولیاء کرام میں سے کوئی بھی ” اللہ “ نہیں بلکہ سب کے سب ” غیر اللہ “ ہیں اور جس طرح کوئی بٹ یا صاحب بت اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کی کوئی چیز بنانے میں شریک نہیں کیا گیا بالکل اسی طرح کوئی قبر اور صاحب قبر اور کوئی نبی و رسول اور ولی اللہ بھی اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کی کسی ایک چیز کے پیدا کرنے میں بھی شریک نہیں بنایا گیا بلکہ ان سب میں سے ایک ایک اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہی اکیلا ان ساری چیزوں اور ان سارے نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور فرشتوں کا خالق ہے اور یہ سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں اس میں ذرہ برابر بھی گستاخی اور بیادبی نہیں ہے۔ مدارج ان سب کے اپنے اپنے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ مومنوں اور مسلمانوں کا پیدا کرنے والا اور خالق اللہ اور اسکے ساتھ یہ بھی کہا جائیکہ ان سارے کافروں ، منافقوں ، یہودیوں ، عیسائیوں ، ہندوئوں اور سکھوں کا خالق اور مالک بھی اللہ ہے تو اس میں مومنوں اور مسلمانوں کی کوئی توہین نہیں بلکہ عین حقیقت ہے۔ مومن مسلمان اور سارے نیک لوگ اور بزرگ اللہ کے بندے ہیں اور اس طرح کافر ، مشرک ، دہریئے ، بدکار ، بدکردار اور ڈوم ڈانگری بھی اللہ کے بندے ہیں تو اس میں نیک لوگوں اور بزرگوں کی کوئی توہین نہیں ہے کیونکہ کافر ، مشرک دہریئے ، بدکار ، بدکردار مانیں نہ مانیں بہرحال بندے وہ بھی اللہ ہی کے ہیں کیونکہ اللہ ہی ان کا خالق ہے اگرچہ نیک نیک ہیں اور برے برے ہیں۔ لاریب اللہ اپنے نیک بندوں کو پسند کرتا ہے اور بروں کو پسند نہیں کرتا یہ دوسری بات مختصر یہ کہ { من دون اللہ } سے مراد ہر غیر اللہ خواہ وہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو ۔ ہاں ! عبارت کا تقاضا عبارت ہی بتائے گی کہ اس جگہ { من دون اللہ } سے مراد کون ہیں۔ سب ہی مراد ہیں یا ان میں سے کوئی مخصوص طبقہ اور یہ بحث ایک الگ بحث ہے۔ رہے بت تو ان کے متعلق قبل ازیں بہت دفعہ عرض کیا جا چکا ہے کہ فی نفسہ کسی نے آج تک فقط بت کی عبادت نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا ہے بلکہ ہمیشہ عبادت کی گئی ہے تو
صاحب بت کی او حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا گیا ہے تو صاحب بت ہی کو سمجھا گیا ہے او یہی حال قبر کا ہے اور یہی حال تصویر کا۔ بای سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے گروہ کو اپنے ساتھ مضبوط کر کے اس گروہ سے فوائد حاصل کرنا ہے اس کے سوا اس کی کچھ حقیقت نہیں۔
اب زیر نظر آیت پر غور کرو فرمایا جا رہا ہے کہ ” اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے کو پکارے جو قیامت تک اللہ کی پکار کو نہ پہنچ سکیں۔ “ ان لفاظ پر غور کرو اور ایک سے زیادہ بار پڑھو اور پھر غور کرو اور بتائو کہ { من دون اللہ } سے کون یا کون کون مراد ہو سکتے ہیں اور کون نہیں ؟ یہ بھی غور کرو کہ اس پکارنے سے مراد کیا ہے ؟ مثلاً ہمارا کوئی آدمی اپنے گدھے پر بوجھ لادے جا رہا ہے اور اتفاق سے اس کا گدھا گرتا ہے اور بوجھ اس سے اتر جاتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ اس کا گدھا اٹھ بیٹھا ہے اور صحیح سالم اور درست ہے اور جب اس کو بوجھ لادنے کا خارل آتا ہے تو وہ ارد گرد دیکھتا ہے اور کوئی آدمی اس کو نظر نہیں آتا وہ اپنے دل ہی دل میں کچھ ضرور کہے گا۔ چونکہ ہم بھی انسان ہیں اور ایسے واقعات سے دو چار بھی ہوتے رہتے ہیں اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے دل میں دو باتوں میں سے ایک ضرور آئے گی ایک یہ کہ اللہ کرے کوئی آدمی ادھر آ نکلے ، اللہ کسی آدمی کو ادھر بھیج دے۔ میرا فلاں بزرگ جس سے اس کی اس طرح کی عقیدت ہے میرے اس مشکل وقت میں میرے کام آئے گا اور ضرور کوئی آدمی بھیج دے گا۔ اسلام کی تعلیم یہ کہتی ہے کہ اگر اس کو پہلا خیال ہے تو خیال اس کا صحیح ہے ، دوسرا خیال آیا ہے تو خیال اس کا غلط ہے کیونکہ اس میں شرک کی بوباس بدستور موجود ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ادھر آ نکلتا ہے اور اس کو بوجھ لدوا دیتا ہے وہ جب گدھے کے ساتھ چلتا ہے تو اس کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ اللہ نے میری مشکل آسان کردی اور اپنی مشیت کے مطابق اس آمی کو بھیج دیا ، شکر ہے اس ذات کا جس نے میری یہ مشکل آسان فرما دی اور اگر وہ دوسرے خیال کا آدمی ہے تو اس کے دل میں فوراً یہ خیال پیدا ہوگا کہ دیکھو میرا وہ بزرگ کتنا پہنچا ہوا ہے کہ کچھ دیر نہیں لگی کہ اپنے تصرف سے ادھر ایک آدمی کا منہ پھیر دیا اور اس نے میرا بوجھ میرے گدھے پر رکھوا دیا بس میں ضرور اس کے نام کی کوئی نیاز دوں گا کہ اس نے میری مشکل آسان کردی۔ اسلام کہتا ہے کہ اگر اس کے دل میں پہلا خیال گزرا ہے تو وہ بحمد اللہ سچے عقیدے کا پکا مسلمان ہے اور اگر اس کے دل میں دوسرا خیال گزرا ہے تو اس کے مشرک ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کا عقیدہ صحیح نہیں ہے اور نہ ہی وہ پکا یا سچا مسلمان ہو سکتا ہے اگرچہ اس کا نام مسلمانوں کا اور قومیت کے خانہ میں اسلام ہی درج کیا جاتا ہو اور ظاہر ہے کہ سامان دونوں صورتوں میں اس کا لاد لیا گیا لیکن نہ تو اللہ رب کریم نے خود آکر اس کو سامان لدوایا اور نہ ہی اس کے فلاح بزرگ نے خود آ کر اس کا سامان لدوایا۔ پھر دونوں جو نظر نہ آنے کے باوجود ہر جگہ موجود اور ہر ایک کی حاجت کو پورا کرنے کا سامان کرتی ہے اور دوسرے خیال میں جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات کے ساتھ ایک بندے کا تصوراتی خیال وابستہ ہونا چاہئے تھا وہ غیر اللہ یا { من دون اللہ } کے ساتھ وابستہ ہوگیا خواہ وہ کون تھا ، کیا تھا اور کہاں تھا۔
اب زیر نظر آیت کے یہ الفاظ کہ ” وہ قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ کوئی پکارنے والا ان کو پکار رہا ہے۔ “ تو اس جواب دینے سے مسموع جواب مرد نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تو اللہ رب کریم کی طرف سے بھی ہر آدمی کو نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس سے مراد قبولیت کا جواب ہی ہو سکتا ہے کہ اس کا کام ہوجائے جس کی طرف اس نے اس کو بلایا اور وہ ظاہر ہے کہ دونوں ہی صورتوں میں ہوگیا
اور دونوں ہی صورتوں میں مشیت خداوندی کے تحت ہوا کیونکہ اللہ رب کریم اپنے قانون کے مطابق کسی شخص سے ناراض ہو کر اس کے کام اور اس کی ضروریات کو پورا کرنا چھوڑ نہیں دیتا اور یہی اس میں راز ہے جس کے باعث کسی کے موحد ہونے یا مشرک ہنے کا پتہ چلتا ہے کیونکہ شرک اور توحید دونوں کا تعلق صرف عقیدہ سے ہے اور عمل عقیدہ کے تابع ہے جس پر عذاب اور ثواب مرتب ہوتا ہے ۔ رہے کام تو وہ جس طرح موحدین کے چلتے ہیں مشرکین کے بھی چلتے رہتے ہیں اور ان کے بھی جو سرے سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کو تو مثیت خداوندی کے مطابق چلایا گیا ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ اللہ کسی انسان سے غصہ میں آ کر اپنی مثیت کے فیصلوں کو روک نہیں لیتا۔ اب پکارنے والوں کی دعا سے غافل ہونا باقی رہ گیا تو ظاہر ہے کہ یہ بطور خیرہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جا رہی ہے کہ جب تمہاری ان سے ملاقات ہوگی تو بلا ریب آپ ان سے پوچھ لیں وہ تمہاری پکار سے انکار کریں گے اس لئے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب روح جسم سے الگ ہوجاتی ہے تو جو عوارضات اس کے بعد پیدا ہوتے ہیں اس سے جسم مکمل طور پر غافل ہوتا ہے اور اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا اور روح رب ذوالجلال والاکرام کی طرف لوٹ کر چلی جاتی ہے اور اب وہی بات اس تک پہنچ سکتی ہے جس کو اللہ اپنے قانون کے مطابق پہنچائے کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ بلاواسطہ (Direct) یا بلواسطہ (Indircet) ان تک کوئی بات پہنچا سکے۔ پھر یہ بھی کہ اگر فقط ارواح تک کوئی بات پہنچ بھی جائے تو وہ جواب دینے پر قادر ہی نہیں کیونکہ اس کے لئے جسم کا ہونا لازم و ضروری ہے اور وہ اس جسم کو چھوڑ چکی ہے او دوبارہ دیئے جانے والا جسم ابھی میسر نہیں ہوا کو تنکہ وہ قیامت کے بعد ہی دیا جائے گا اس کی وضاحت کے لئے اللہ نے کسی بت قبر ، فرشتہ یا آدمی عام ولی و بزرگ کی مثال دے کر نہیں سمجھایا بلکہ اپنے جلیل القدر نبی و رسول سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لے کر اور آپ کے اس قیامت کے روز ہونے والے جواب وسوال سے ہم مسلمانوں کو سمجھا دیا ہے تاکہ کسی شخص کو کسی طرح کا کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے کیونکہ آپ کی والدہ اور آپ کو کچھ لوگوں نے نبوت اور انسانیت کے درجہ سے اٹھا کر درجہ الوہیت پر جا رکھا اس لئے ان کے اس عقیدہ کا رد خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان کے سامنے پیش کردیا جیسا کہ ہم عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 112 تا تا 118 میں وضاحت کے ساتھ بیان کرچکے ہیں اور اس کی دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 46:6جب تمام انسانوں کو جمع کیا جائے گا وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے :
2 ؎ اس آیت نے گزشتہ آیت کی خود وضاحت کردی اور اگر تم غور کرو گے تو جو ہم نے گزشتہ آیت کے تحت عرض کیا ہے آپ بھی اس کی تصدیق کریں گے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب قیامت کے روز سارے انسانوں کو جمع کیا جائے گا تو ان میں ان بتوں کو لایا جائے گا تاکہ وہ بھی اپنی کہانی بیان کریں۔ ہرگز نہیں ، انسانوں کو جب جمع کرنے کا دن آئے گا تو کوئی انسان بھی ایسا نہیں ہوگا جو وہاں سے غیر حاضر ہو اس لئے وہاں اگر پکارنے والے ہوں گے تو پکارے جانے والے بھی اور ظاہر ہے کہ وہ ان کو باور کرائیں گے یا اللہ تعالیٰ ان سے استفسار کرے گا جساپ کہ سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) سے استفسار کرنے کا ذکر کیا گیا اور وہ جو اللہ کے نیک بندے ہیں جن کو وہ فلاں فلاں اور بزرگ کہہ کر پکارتے رہے تھے سب کے سب ان کے پکارنے سے اپنی بیزاری کا اظہار کریں گے اور صاف صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے تو ان سے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرو اور نہ ہی ہم کو یہ معلوم ہے کہ یہ لوگ ہماری عبادت کرتے رہے یا ہم کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے رہے ۔ اے
ہمارے رب ! یہ لوگ خود ہی اپنی گمراہی کے ذمہ داری ہیں اور یہ بھی کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ ہم نے ان کو یہ بات بالکل نہیں کہی تھی او اگر ہم نے یہ بات ان سے کہی تھی تو تیرے سے تو پوشیدہ نہیں ہے تو ہی بتا دے کہ کیا ہم نے ان کو اپنی عبادت کئے جانے کا کہا تھا ؟ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس سوال و جواب کا ذکر جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ سورة المائدہ کی آیت 112 تا 118 میں کیا گیا ہے اور ہم نے اس جگہ دوسری تیسری بار اس کا حوالہ پیش کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس جگہ سواداعظم کے ترجمان علماء کرام میں سے ایک دو کے ارشادات اس جگہ درج ہوجائیں تاکہ کوئی نہ جانتا ہو کہ وہ ایک فکر کے بہت بڑے مناظر تھے ، اپنی کتاب مقیاس الحنفیت ص 92 سے 94 میں اپنے پاکیزہ خیالات کا اظہار اس طرح کر رہے ہیں :
” وہابی “ تم کہتے ہو کہ انبیا { من دون اللہ } نہیں میں ثابت کرتا ہوں کہ انبیاء { من دون اللہ } ہیں۔ سنو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
” اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ بن مریم کیا تو نے کہا لوگوں کو کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے یا اللہ تو پاک ہے میرے لئے یہ لاء نہیں کہ میں کہتا جو میرا حق نہیں اگر میں نے کہا ہو تو یا اللہ تو جانتا ہے اس کو۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں { من دون اللہ } ہیں۔ لہذا تمہارا کہنا کہ انبیاء { من دون اللہ } نہیں یہ غلط ہے اس آیت میں تو نبی اللہ کا { من دون اللہ } ہونا صاف ظاہر ہے اور اس میں کوئی گنجائش بھی نہیں۔
” محمد عمر “ اللہ تعالیٰ تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت دے اب تک تم انبیاء اللہ اور اولیاء اللہ اور اصحاب قبور کو { من دون اللہ } کہتے آئے ہو جب ہر طرف سے دانت کھٹے ہوئے تو تم نے اپنا عقیدہ ظاہر کیا کہ وہابیہ مرسلین اصحاب قبور کے { من دون اللہ } کے ہی قائل نہیں بلکہ زندہ مرسلین و انبیائ (علیہ السلام) کو بھی { من دون اللہ } سمجھتے ہیں کیونکہ اس آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کے حین حیات کا سوال ہو رہا ہے کہ تم نے اپنی زندگی میں بوقت تبلیغ رسالت تبلیغ کی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برئیت ظاہر فرما دیں گے میرا تو یہ خیال تھا کہ شاید وہابی لوگ بعد از وصال انبیاء (علیہ السلام) کو اولیائے کرام سے منکر ہوتے ہیں تمہارے اس اعتراض سے ثابت ہوا کہ تم لوگ زندہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی { من دون اللہ } سمجھتے ہو۔ میرے دوست اگر انبیاء (علیہم السلام) زندہ ہی بوقت تبلیغ رسالت { من دون اللہ } ہیں تو یہ صاف انبیاء کرام کا انکار ہے۔ مرزائیوں کو تم ویسے ہی کہتے ہو جب تمہارے فرقہ وہابیہ کا انبیاء کرام کے متعلق یہ ایمان ہے تو تمہاری موجودگییں مرزائی کم درجہ رکھتے ہیں۔ ارے جس کا اللہ کی طرف سے یہ اعلان قرآن شریف میں پیدائش سے ہی موجود ہو { وجعلنی نبیاً } اور اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے اور ارشاد ہو { ورسولا الی بنی اسرائیل } اور رسول ہوں بنی اسرائیل کی طرف سے اور پھر فرمایا ” میں تمہارے لئے ایک پرندے کی شکل گھڑ کر اس میں دم کرتا ہوں تو وہ اڑنے لگ جائیگا۔ یہ اذن مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہے اس کے علاوہ اور طاقتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری جگہ درج ہیں ان تمام آیات سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی اللہ ہیں اور رسول اللہ ہیں اور کئی طاقتوں کا اللہ کی طرف سے ان کو ادن بھی مل چکا ہے۔ تم کہتے ہو کہ وہ پیدائش سے قیامت تک { من دون اللہ } ہیں اور { من دون اللہ } رہیں گے۔
” وہابی “ تم بتائو کہ اس آیت کا پھر مطلب کیا ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
” محمد عمر “ بھائی اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال نہ خداوند کریم کے عدم علم پر دال ہے نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی غلط تبلیغ ہونے کا مظہر ہے اور نہ حضرت (علیہ السلام) کو { من دون اللہ } ثابت کرنا مقصود ہے بلکہ رب العزۃ کا ان کے اتخاذ اور { من دون اللہ } کو ظاہر کر کے مثلثین کو ذلیل کرنا مقصود ہے۔ عیسیٰاور حضرت مریم (علیہما السلام) { من دون اللہ } نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نبی اللہ ہیں۔ نبی اللہ { من دون اللہ } نہیں ہو سکتا اور { من دون اللہ } نبی اللہ نہیں کہلا سکتا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اللہ کی ولیہ ہیں وہ بھی { من دون اللہ } نہیں کہلا سکتیں کیونکہ ولی { من دون اللہ } نہیں ہوتا تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ تو { من دون اللہ } نہیں بلکہ کفار کا ان کو اِالٰہ سمجھنا { من دون اللہ } ہے۔ بمعنی فعل کفار { من دون اللہ } ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات جیسا کہ تم نے سمجھا ہے تم وہابیہ تو مرزائیوں سے بھی ترقی کر گئے۔ مرزائیہ نے مرزا غلام احمد قادیانی { من دون اللہ } کو نبی اللہ بنا لیا تو وہ اسلام سے گئے اور تم نے انبیاء اللہ کو { من دون اللہ } سمھ لیا تم ان سے بھی گئے گزرے۔ بھائی تمہارا عقیدہ اختیار کرتے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کو { من دون اللہ } کہتے ہیں تو پلی خرابی یہ لازم آئے گی کہ انبیاء (علیہم السلام) کا انکار دوسری یہ کہ انکار قرآن کریم ہوگا جو { لا تفرق بین احد من رسلہ } سے ظاہر ہے یہ عقیدہ تمہیں ہی مبارک ہو اور باقی مسلمانوں کو خداوند اس عقیدہ سے محفوظ رکھے کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا نبی اللہ ہوتا ہی { من دون اللہ } ہونے سے بری کر رہا ہے اور دوسرا ان کا جواب دینا { سبحٰنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق } ان کا { من دون اللہ } نہ ہونا تو مومن کی تلی کر رہا ہے لہذا اس آیت کریمہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ کفار کا ان کا اِلٰہ سمجھنا { من دون اللہ } ہے نہ کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) { من دون اللہ } ہیں جیسا کہ تم منکرین نے سمجھا ہے۔
اور ہمارے ہم عصر بزر جسٹس پیر کرم شاہ صاحب اپنی تفسیر ضیاء القرآن ج 3 ص 374 ، 474 قر رقمرطراز ہیں : بعض مہم جو لوگ جو ملت کے اتحاد کو انتشار بنانا چاہتے ہیں ، رات دن اس ڈھن میں لگے رہتے ہیں کہ ملت میں آنئی ملت تخلیق کریں وہ یہ آیت اہل سنت پر چسپاں کرتے ہیں (معاذ اللہ ) بحمدہ تعالیٰ اہل سنت میں سے کوئی ان پڑھ سے آن پڑھ بھی اللہ جل مجدہ کے سوا کسی کی خدائی اور الوہیت کا عقیدہ فاسدہ نہیں رکھتا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ، تمام نبیوں کے سردار ، تمام رسولوں کے سرتاج ، اپنے آقا و مولیٰ اور دونوں جہان کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ اور نماز میں کئی کئی بار اس شہادت کا اعادہ کرتا ہے ، تو وہ کسی اور کو کیونکر خدا یا خدا کا ہمسر اور شریک تصور کرسکتا ہے۔ یہ محض بہتان اور افتراء عظیم ہے کہ اہل سنت کسی کو خدا کا شریک بناتے ہیں۔ ھذا افک مبین و بھتان عظیم ۔
ضیاء القرآن میں مختلف مقامات پر اس کی تشریح گزر چکی ہے۔
خارجیوں (جدید اور قدیم) کے علاوہ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ کی بارگاہ بیکس پناہ میں جب کوئی غلام صلوۃ وسلام عرض کرتا ہے تو حضور ﷺ اس کو سلام کا جواب فرماتے ہیں جس کو خواص اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور لذت جواب سے سرشار ہوتے ہیں۔ مصر کے مشہور ولئی کامل حضرت سید احمد رفاعی (رح) جب روضہ اقدس پر حاضر ہوئے تو بصد ادب و نیاز عرض کی الصلوۃ والسلام علیک یا جدی اے میرے نانا پاک آپ پر صلوۃ وسلام ہو ۔ روضہ اقدس سے جواب آیا۔ وعیک السلام یا ولدی۔ اے
میرے بچے تجھ پر بھی سلام۔ یہ سن کر آپ پر وجد کی کیفیت طارق ہوگئی اور فی البدیہہ زباعی عرض کی :
جب میرا جسد خاکی یہاں سے دور تھا تو میں آستانہ بوسی کے لئے اپنی روح کو بھیجا کرتا تھا
اب تو میں خود بارگاہ اقدس میں حاضر ہوں۔ دست پاک نکالئے تاکہ میں بوسہ دے کر دل کی حسرت پوری کرسکوں۔
دست مبارک باہر آیا جس کو آپ نے بوسہ دیا ۔ ہزار ہا آدمیوں نے اس کو دیکھا۔
اس واقعہ کو دیگر علماء کے علاوہ علامہ سیوطی نے شرح الصدور میں اور مولانا تھانوی نے اپنے رسائل میں بیان کیا ہے۔
حضرت شرف الدین بوصیری (رح) کو فالج کا مرض لاحق ہوا۔ نصب جسم بےکار ہوگیا ۔ آپ نے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جناب میں فریاد کی۔ اسی رات زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ نے دست مبارک ان کے بدن پر پھیرا۔ یہ فوراً شفایاب ہوگئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نشر الطیب مطبوعہ دیوبند ص 232 پر اس واقعہ کو لکھنے کے بعد تحریر کرتے ہیں ، اسے آپ بھی پڑھیئے۔
” اور یہ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ ایک درویش سے ملاقات ہوئی اور اس نے درخواست کی کہ مجھ کو وہ قصیدہ سنا دیئے جو آپ نے مدح نبوی میں کہا ہے کہ انہوں نے پوچھا کون سا قصیدہ ؟ اس نے کہا جس کے اول میں ہے امن تذکر جیران لذی سلم ان کو تعجب ہوا کیونکہ انہوں نے کسی کو اطلاع نہیں دی تھی ۔ اس درویش نے کہا واللہ ! میں نے اس کو اس وقت سنا ہے جب یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پڑھا جا رہا تھا اور آپ خوش ہو رہے تھے۔
یہ قصیدہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے اورحضور ﷺ نے اسے پسند فرمایا ہے۔ اس کا ایک شعر آپ بھی سن لیں ان شرک سازوں کے فتوئوں کی حقیقت کھل جائے گی۔
یا اکرم الخق مالی من الوذبہ سواک عند حلول الحادث العمم
اے ساری مخلوق سے زیادہ سخی ! مصائب و آلا کے وقت حضور صلی اللہ وآلہ وسلم کے بغیر کس کے دامن میں پناہ لوں۔
ہمارے عہد کے نابغہ روز گار شاعر عبدالعزیز خالد کے یہ اشعار بھی سن لیجئے
تو خورشید سحر تو بدر کامل ، ہر ادا تیری نگاریں ، مشک آگئیں ، عنبر افشاں یا رسول اللہ
تیری رحمت کے دروازے کھلے ہیں ہر کہ ومہ پر ہے تو واحد انیس مستمنداں یا رسول اللہ
عزیز خاطر آشفتہ حالاں کون دنیا میں تیرے دیوانے پکڑیں کس کا داماں یا رسول اللہ
آخر میں شاہ اسماعیل دہلوی کی یہ عبارت بھی پیش نظر رکھیے۔ وہ اپنے پیر سید احمد بریلوی کے متعلق لکھتے ہیں کہ حضرت غوث الاعظم اور حضرت بہاء الدین نقشبندیہ (رح) نے ان کو بیک وقت قادری اور نقشبندی سلسلہ کا فیض بخشا۔ چشتی سلسلہ سے حصول فیض و نسبت کے متعلق دہلوی صاحب لکھتے ہیں۔
” روزے حضرت ایشاں بسوئے مرقد منور حضرت خواجہ خواجگاں خواجہ قطب الاقطاب بختیار کا کی قدس سرہ العزیز تشریف فرماشدندوبرمرقد مبارک ایشاں مراقب نشستند دریں اثناء روح پر فتوح ایشاں ملاقات متحقق شدہ آنجناب بر حضرت ایشاں توجہ بس قومی فرمودند کہ بسبب آں
توجہ ابتدائی حصول نسبت چشتیاں محقق شد۔ “
(صراط مستقیم ص 221 مطیع فخرالمطابع لکھنؤ )
یعنی ایک دن سید احمد صاحب حضرت خواجہ خواجگان خواجہ قطب الاقطاب بختیار کا کی (رح) کے مزار مبارک پر تشریف لے گئے اور وہاں مراقبہ میں بیٹھے۔ اسی اثناء میں حضرت کی روح پر فتوح سے ملاقات نصیب ہوئی ۔ خواجہ خواجگاں نے آپ پر بڑی زور دار توجہ فرمائی اس توجہ کی برکت سے نسبت چشتیہ کے حصول کی ابتدا ہوئی۔
یہ مضمون تو پیر صاحب نے سورة الاحقاف کی آیت 5 کے زیر تحت درج کیا ہے اور زیر نظر آیت جو سورة الاحقاف کی چھٹی آیت ہے اس کے حاشیہ میں اس طرح ہے کہ ” بتوں کے پجاریوں کو بتایا جا رہا ہے کہ روز حشر جب تمہیں پکڑ کر لایا جائے گا ، تمہارے عقائد فاسدہ اور اعمال سیئہ کی باز پرس شروع ہوگی تو تمہارے وہ جھوٹے معبود جن کی عمر بھر تم عبادت کرتے رہے تھے وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اس وقت تمہیں معلوم ہوگا کہ جن کو تم اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے وہ تمہاری تباہی و بربادی کا سبب بن گئے ہیں وہ تمہاری پوجا پاٹ کا صاف صاف انکار کردیں گے ۔ ” ایمان داری سے کہئے کہ پیر صاحب مد ظلہ نے اپنے مریدوں کو کیا تاثر دیا ہے یہی کہ بت تو جھوٹے معبود ہیں جن کی کافر عمر بھر عبادت کرتے رہے سید نا علی ، حسن ، حسین (علیہ السلام) اور عبدالقادر جیلانی ، علی ہجویری ، صابر کلیری ، عبداللطیف بھٹائی اور مجدد الف ثانی (رح) اور ان جیسے سارے بزرگ سچے معبود ہیں جن کو مسلمان نسلاً بعد نسل اپنے حاجت روا مشکل کشا اور داتا مانتے اور تسلیم کرتے چلے آ رہے ہیں۔
” وہ بت تمہارے دشمن بن جائیں گے “ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ بزرگ اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے والوں اور ان کے نام کی نذریں اور نیازیں دینے والوں سے بہت پیار کریں گے اور سینے سے لگائیں گے کہ تم نے ہمیں مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر اور ہمارے نام کی نذریں نیازی تقسیم کر کے دین اسلام کا بہت کام کیا ہے اور ہماری قبروں اور آرام گاہوں پر روضے تعمیر کر کے تم نے اپنا گھر جنت میں بنا لیا ہے کیونکہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے واضح ارشاد کی تم نے بہت قدر کی ہے اور اس کو خوب یاد رکھا ہے کہ ” قبروں کو پختہ مت بنائو ، نہ ان پر مکان تعمیر کرو اور نہ ان پر بیٹھو “ (صحیح مسلم) کیا کوئی مسلمان نبی اعظم و آخر ﷺ کے فرمان کی کھلی خلاف ورزی دیکھ کر ، سن کر خوش ہو سکتا ہے ؟ کیا اوپر درج شدہ فرمان نبوی نہیں ہے ؟ کیا اس عبارت کا اردو مفہوم اس کے سوا بھی کچھ ہو سکتا ہے ؟ اگر ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو خود ہی فیصلہ کرلیں کہ یہ سارے بزرگ جن کے نام بندہ ناچیز نے اوپر درج کئے ہیں جن میں سے پہلے تین صحابی ہوئے اور دوسروں کے ول ہونے اور بزرگ ہونے میں ذرا بھی شک نہیں کیا یہ بزرگ اپنے ماننے والوں کو ان حرکتوں پر خوش ہو سکتے ہیں ؟ ہمارے تو ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہرگز نہیں ، ہرگز نہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی کھلی مخالفت دیکھ کر ان لوگوں سے بیزار ہوں گے ، کبھی خوش نہیں ہو سکتے { کانو الھم اعدآئو و کانو بعبادتھم کفرین } وہ اپنے پکارنے والوں کے اعدادء اور ان کی عبادت سے سخت انکار کریں گے۔ محمد عمر اچھروی اور پیر کرم شاہ صاحب کا ہم احترا کرتے ہیں اور ان کی ان باتوں اور ان کے اس نظریہ سے ہرگز ہرگز اتفاق نہیں رکھتے کیونکہ ان کا یہ نظریہ کھلا شرک ہے اور وہ جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر مشرکین کی ترجمانی کر رہ ہیں اور
فرقہ بندی کی لعنت یہی کچھ کرتی آئی ہے ، کرا رہی ہے اور کراتی رہے گی۔
گزشتہ آیت میں { یدعو } ور { عن دعآئھم } کے الفاظ آئے تھے اس آیت میں لفظ { بعبادتھم } کا جو آیا ہے اس نے واضح کردیا ہے کہ اپنی حاجات و مشکلات میں ان ہستیوں کو جو نظروں کے سامنے موجود نہ ہوں اس نظریہ کے ساتھ پکارنا کہ وہ ہماری پکار سنتی ہیں اور ہماری حاجات اور مشکلات کو دو کرتی ہیں عبادت کہلاتا ہے۔ اسی لئے غیر اللہ کی پکار کو شرک کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنی حاجات و مشکلات کو حل کرنے کے لئے پکارنا عین عبادت کہا گیا ہے اور لاریب یہ بات کتاب و سنت میں اسی طرح واضح ہے جس طرح طلوع ہوا ہوا سورج۔ اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 681 میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 46:7قرآن کریم کی آیات جب پڑھی جاتی ہیں تو مخالفین اس کو سحر سے تعبیر کرتے ہیں
7 ؎ قرآن کریم کا یہ زندہ وجاوید معجزہ ہے کہ اس کی عبارت ہر انسان کو متاثر کرتی ہے وہ اہل زبان ہو یا اہل زبان نہ ہو وہ جانتا اور سمجھتا ہو کہ کیا کہا جا رہا ہے تو اثر زیادہ ہوتا ہے اور اگر اس بات کی سمجھ نہ ہو تو کم اور اگر انسان کے دل میں یہ بات جم چکی ہو کہ یہ بات رب ذوالجلال والاکرام کی ہے جو سو فیصد صحیح ہے تو مزید زیادہ اثر ہوتا ہے اگر یہ بات دل میں نہ جمی ہو تو بھی اثر ہوتا ہے اگرچہ بنسبت پہلے سے کم۔ یہ بات آج بھی دیکھی جاسکتی ہے اور خصوصاً اس کے ساتھ پڑھنے والے کی آواز بھی قرآن کریم کی عبارت کے مطابق ہوتی ہے تو اس وقت تو پرندے ، چرندے اور درندے تک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے خواہ بول کر بتا نہیں سکتے اس بات میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں ہے اور یہ بھی کہ جتنی جلدی قرآن کریم کی عبارت حفظ اور یاد ہوجاتی ہے کسی دوسری کتاب کی عبارت اتنی جلدی یاد کرنا مکن ہی نہیں خصوصاً اس حالت میں کہ جب قاری کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ یہ بات اس وقت بھی تھی جب اس کا نزول ہو رہا ہے تھا ، آج بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے ی۔ یہی وجہ ہے کہ جب قرآن کریم مخالفین و معاندین سنتے تھے تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اور وہ چار و ناچار اس کو سحر کہنے پر مجبور ہوجاتے تھے کیونکہ سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انسان کی قوت و ہمہ کو متاثر کردیتی ہے اور انسان کی قوت وہمہ کسی چیز سے بھی جب متاثر ہوجائے تو وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے اور اس کے دل کی کیفیت حیران کن طریقے سے بدل جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ (البیان سحر) بیان کرنا بھی ایک طرح کا سحر ہے اور کفار مکہ نے جو بل اپنی مشاورتی مجلس میں پاس کیا تھا کہ جب قرآن کریم کہیں پڑھا جا رہا ہو تو تم شور مچایا کرو وہ بھی محض اسی وجہ سے کہا تھا کہ قرآن کریم کی عبارت سننے سے سامعین متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے لہذا انہوں نے یہ طے کیا کہ اس طرح شاید وہ محفوظ رہیں کہ ان کے کانوں میں قرآن کریم کی آواز ہی نہ پڑے۔ یہ مخالفین کی قسمت کا رونا ہے کہ اگر وہ آیات الٰہی جو ان کے دلوں کو متاثر کرتی تھیں غور سے سنتے اور اپنی ہٹ دھرمی سے باز آ کر اس کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنا لیتے تو لاریب وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار ہوتے لیکن انہوں نے جب حق کو چھوڑا اور حق نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوئے اور آخرت کو بھی برباد کر بیٹھے اور یہ دونوں باتیں ان کے انجام سے واضح ہوگئیں۔
Ayah 46:8کفار مکہ کا یہ کہنا کہ یہ قرآن محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کا جواب :
8 ؎ کفار مکہ نے یہ بات ایک بار نہیں بار بار دہرائی ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے گھڑی ہے اور اس کے گھڑنے میں اس کی کچھ دوسرے لوگوں نے بھی مدد کی ہے (الفرقان 52 : 4) ” منکرین کہتے ہیں کہ یہ قرآن ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس کی اس کام میں مدد کی ہے۔ “ قرآھن کریم نے ان کو اس اعتراض کا دندان شکن جواب دے دیا جس کا ذکر ہم نے تفصیل سے کردیا ہے اور ان کے اس اعتراض کے جزء جزء کو پڑھا اور جھوٹوں کو ان کے گھر تک پہنچایا۔ مشہور ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے اور اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کذب گورا حافظہ نبا شد جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون ہے جو آپ کی اس سلسلہ میں مدد کرتا ہے تو انہوں نے جس شخص کا نام لیا وہ عربی نہ تھا بلکہ عجمی تھا گویا اس کی زبان ہی عربی نہ تھی اور قرآن کریم نے ان سے پوچھا کہ بدبختو ! جس آدمی کا تم نام لے رہے ہو اس کی زبان ہی عجمی ہے۔ جب کہ قرآن کریم کی زبان واضح عربی ہے چناچہ ارشاد ہے کہ (النحل 301) ” یہ لوگ آپ ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عرب زبان ہے “ ان کے دانت کھٹے کرنے کیلئے ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اچھا اگر اس کو محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑ لیا ہے تو تم بھی اسی جیسا ایک قرآن گھڑ کر تم بھی پیش کر دو ۔ جب ان کی ہمت نہ ہوئی تو ان سے کہا گیا کہ اچھا صرف ایک سورت تم بھی گھڑ کرلے آئو اور یہ مطالبہ تم میں سے کسی ایک سے نہیں ہے سارے مل کر اور سرجوڑ کر پوری محنت اور لگن سے ایک ہی سورت گھڑ کرلے آئو تم تو اہل زبان بھی ہو لیکن اس چیلنج کو کسی نے بھی قبول نہ کیا اور کوئی مرد میدان ثابت نہ ہوا اب اس جگہ قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کا جواب کہ یہ قرآن خود محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑ لیا ہے ایک نہایت ہی اچھوتے طریقے سے دیا ہے فرمایا جا رہا ہے کہ بیوقوفوجو بات کرتے ہو اس کو ذرا سوچ بھی لیا کرو کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تو تم بھی مانتے ہو اگر میں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو اللہ کوئی ایسی کمزور شے تو نہیں کہ جو براہ راست اللہ پر جھوٹ باندھے اللہ اس کو اس طرح جھوٹ بولنے ہی دیتا جائے اس کا تو ایک دن عذاب میں مبتلا ہونا یقینی ہے اور پھر یہ بات بھی تم جانتے ہو کہ اللہ کسی کو عذاب دے تو کون ہے جو اللہ کے اس عذاب سے اس کو چھڑا لے کیا اگر میں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو وہ مجھے عذاب نہیں دے گا اور پھر یہ بھی کہ اگر وہ مجھے عذاب دے تو کیا تم مجھے اس کے عذاب سے چھڑا سکتے ہو ؟ کیا تم لوگ مجھے ایسا آدمی سمجھتے ہو کہ میں اپنا نفع و نقصان اتنا بھی نہیں جانتا ۔ اللہ نے ان کو یہ جواب دے کر ان پر واضح کردیا ہے کہ اگر تم اپنی اس ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو گویا تم اللہ پر جھوٹ بول رہے ہو اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اللہ کے عذاب میں یقیناً مبتلا ہوگئے اور پھر اس عذاب سے تم کو کوئی بھی نہیں بچا سکے گا اور اس بات کو کہے ہوئے چند ہی سال گزرے تھے کہ فی الواقع وہی کچھ ہوا جس کے متعلق ان کو اشارہ دیا گیا تھا اور آپ کی ہجرت کے ساتھ ہی مکہ والوں پر عذاب کا سلسلہ اراضی و سماوی دونوں طرف سے شروع ہوگیا جس کا اختتام تح کے بعد ہوا جیسا کہ پیچھے ہم کئی ایک مقامات پر اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔