Explained with ayahs 7–14
نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 9
اس سوالیہ طرز بیان میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اتنے بےحیا ہیں کہ محمد ﷺ پر قرآن خود گھڑ لانے کا الزام رکھتے ہیں ؟ حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ یہ ان کا تصنیف کردہ کلام نہیں ہو سکتا، اور ان کا اسے سحر کہنا خود اس امر کا صریح اعتراف ہے کہ یہ غیر معمولی کلام ہے جس کا کسی انسان کی تصنیف ہونا ان کے اپنے نزدیک بھی ممکن نہیں ہے۔
سورة الْاَحْقَاف 10
چونکہ ان کے الزام کا محض بےاصل اور سراسر ہٹ دھرمی پر مبنی ہونا بالکل ظاہر تھا اس لیے اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ پس یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ اگر واقعی میں نے خود ایک کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خلاصہ تفسیر
اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں (جو کہ معجزہ ہونے کے باعث رسالت کی دلیل ہیں) ان (منکر رسالت) لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کی نسبت جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے یوں کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے (حالانکہ جادو کی نظیر کا ممکن ہونا اور اس کی نظیر کا ممکن نہ ہونا اس قول کے بطلان کی صریح دلیل ہے اور اس سے بڑھ کر اور سنو) کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے (یعنی آپ نے نعوذ باللہ) اس (قرآن) کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (اور خدا کی طرف منسوب کردیا۔ آگے اس قول کا جواب ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہوگا (اور خدا کے ذمہ لگا دیا ہوگا) تو (خدا تعالیٰ…
Read the full tafseer →ام یقولون افترابہ قل ان افتریتہ فلاتملکون لی من اللہ شیئاً ط ھواعلم بما تقیضون فیہ ط کفی بہ شھیداً بینی وبینکم ط وھو الغفور الرحیم 8
یہ قرآن کے مخالفین کے ایک اور پر اپیگنڈے کا حوالہ ہے چونکہ یہ نایت ہی لغو پروپیگنڈہ تھا جس کا لغو ہونا خود ان لوگوں پر بھی واضح تھا جو اس کے مرتکب ہو رہے تھے اس وجہ سے اس کا ذکر نہایت استعجاب و حیرت کے انداز میں فرمایا ہے کہ اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے معاملہ اللہ کے حوالہ کردیا ہے کہ اگر تم لوگ میری مخالفت کے جنون میں اس حد تک اتر آئے ہو کہ اپنے ضمیر کے بالکل خلاف مجھے ایک مفتری قرار دینے میں بھی کوئی باک نہیں رہا تو اب تم سے کوئی بحث بےسود ہے۔ اس معاملہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8۔ 1 اس حق سے مراد جو ان کے پاس آیا قرآن کریم ہے اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے پھر اس سے بھی انحراف کر کے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے۔
8۔ 2 یعنی اگر تماری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے پھر تو یقینا میں بڑا مجرم ہوں اللہ تعالیٰ اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرتا بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا اسی مضمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی من گھڑت کلام منسوب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں رسوا فرما دیتے ہیں، اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ کہنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر میں نے یہ کلام (معاذاللہ) خود گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں میری پکڑ کرلے گا اور مجھے کوئی بچا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
آیت نمبر 4 تا 12
اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔
ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…
Read the full tafseer →2 یعنی جادو کہنے سے زیادہ قبیح و شنیع ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید آپ خود بنا لائے ہیں اور جھوٹ طوفان خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
3 یعنی خدا پر جھوٹ لگانا انتہائی جرم ہے اگر بفرض محال میں ایسی جسارت کروں تو گویا جان بوجھ کر خود کو اللہ کے غضب اور اس کی سخت ترین سزا کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ بھلا خیال کرو جو شخص ساری عمر بندوں پر جھوٹ نہ لگائے اور ذرا ذرا سے معاملہ میں اللہ کے خوف سے کانپتا ہو، کیا وہ ایک دم بیٹھے بٹھائے اللہ پر جھوٹ طوفان باندھ کر اپنے کو ایسی عظیم ترین آفت و مصیبت میں پھنسائے گا۔ جس سے بچانے والی اور پناہ دینے والی کوئی طاقت دنیا میں موجود نہیں۔ اگر میں جھوٹ سچ…
Read the full tafseer →آیت 8 { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ } ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟“
کیا ان کا خیال ہے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو خود تصنیف کیا ہے ؟
{ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَلَا تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔“
سورة الحاقۃ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : { وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔ } کہ اگر بالفرض محمد ﷺ کوئی چیز گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑیں گے اور پھر ان کی رگ…
Read the full tafseer →9 خود ساختہ کلام یا جادو ؟ یعنی اپنے سابقہ بیان کی خود ہی تردید کردیتے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ اگر یہ قرآن جادو ہے تو آپ کا کلام نہیں اور آپ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے تو پھر وہ جادو نہیں ہوسکتا۔
10 یعنی اگر میں نے خود ہی کلام تالیف کرکے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ تو یقیناً اللہ مجھے اس افتراء کی سزا دے گا۔ تم مجھے اس سے چھڑا تو نہیں لو گے۔ نہ ہی تم میں یہ قدرت ہے۔ البتہ جن کاموں میں تم لگے ہوئے ہو وہ ضرور اس قابل ہیں کہ اللہ تمہیں ان کاموں کی سزا دے اور وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ بھی رہا ہے۔ لہذا تم اپنے کاموں اور ان کے انجام کی فکر کرو۔
11 یہاں اس…
Read the full tafseer →6۔ (وہ مجھے ایسی شدید جسارت پر یقیناً عتاب میں مبتلا کرے گا) (آیت) ” ام یقولون افترہ “۔ یعنی یہ کلام میں نے اپنی طرف سے گڑھا۔ اور پھر اسے منسوب حق تعالیٰ کی جانب کردیا۔ ابھی ایک تشخیص ” سحر “ بیان ہوئی تھی، اب یہ دوسری تشخیص ” افترا “ بیان ہورہی ہے ..... اور افتراء (ارادی واختیاری) کا سحر (اضطراری وغیرارادی) سے بدتر وقبیح ترہونا ظاہر ہی ہے۔
7۔ (اپنے عام بندوں کے حق میں) (آیت) ” ھو ...... فیہ “۔ اس پر خوب روشن ہے کہ تم روز روشن سے انکار کئے چلے جا رہے ہو .... اس طرح کے اقوال رسول کی زبان سے بار بار اسی لئے ادا کردئیے گئے ہیں کہ مخاطبین کا احساس ذمہ داری بیدار ہو، اور انکار قرآن زبان پر خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
واذا تتلیٰ علیھم ایتنا (الآیۃ) اور جب ان کو واضح اور صاف صاف قرآنی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ منکرین حق سنتے ہی بغیر غور و فکر کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے، مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات کفار کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدر جہا بلند ہے، ان کے شاعر، کسی خطیب، کسی ادیب کے کلام کو بھی قرآن کی بےمثال فصاحت و بلاغت اس کی وجد آفرینی، اس کے بلند اور پاکیزہ مضامین اور دلوں کو نرما دینے اور گرما دینے والے انداز بیان سے کوئی مناسبت نہ تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود آنحضرت ﷺ کے اپنے کلام کی شان بھی وہ نہ تھی جو خدا کے کلام میں نظر…
Read the full tafseer →ام یقولون افتراہ قل اللہ افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا ھو اعلم بما تفیضون فیہ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم وھو الغفور الرحیم کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی طرف سے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اس کو میں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہوگا تو پھر تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔ وہ خوب جانتا ہے ‘ قرآن میں تم جو جو باتیں بنا رہے ہو۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ کافی گواہ ہے۔ اور وہی بڑی مغفرت والا (اور) رحمت والا ہے۔
لِلْحَقِّ یعنی حق کی بابت ‘ حق کو۔ حق سے مراد ہیں : آیات۔ کَفَرُوْا کے ساتھ صراحۃً لَلْحَقِّ کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ آیات حق اور سچی ہیں اور یہ لوگ…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں بقول تمہارے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنا لیتا تو تم لوگ مجھے عذاب خداوندی سے ذرا بھی نہ بچا سکتے وہ خوب جانتا ہے جو تم قرآن کریم میں جھوٹی باتیں بنا رہے ہو۔
میرے اور تمہارے درمیان وہ اس دیز پر کافی گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور قرآن کریم اس کا کلام ہے وہ توبہ کرنے والے کی مغفرت کرنے والا ہے اور توبہ کی حالت میں مرنے والے پر بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ام یقولون افتربہ : یہ ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ہے۔ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کے بجائے حرف قرآن خود تصنیف کیا ہے اور جھوٹ باندھتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ حالانکہ اس میں وہ اپنی ہی بات کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ جادو ہے تو آپ ﷺ کا اپنا کلام نہیں اور اگر آپ ﷺ کا کلام ہے تو جادو نہیں۔
(2) قل ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً :”ان افتریتہ“ کا جواب محذوف ہے جو ”فلاتملکون لی“ سے سمجھ میں آرہا ہے :”ای ان افتریتہ عاقبنی اللہ علی الا فتراء فلا تملکون لی من اللہ شیئاً“ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ گھڑنے کا جرم کیا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ گھڑنے کی سزا دے…
Read the full tafseer →میں میم زائد سے تقدیر کلام یہ ہے، یعنی حضرت محمد ﷺ نے اپنی جانب سے بات کی ہے وہ آیات کو جو جادو کا نام دیتے تھے اس سے اضراب کیا گیا ہے م میں ہمزہ انکار اور تعجب کے لئے ہے گویا فرمایا : اسے چھوڑ ان کا عجیب و غریب قول سنو جس سے تعجب عیاں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس پر قادر نہیں کہ یہاں تک کہ وہ یہ کہیں اور اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھیں اگر آپ اس پر قادر ہوں عرب قوم اس پر قادر نہ ہو تو عادت کے خلاف ہونے کی وجہ سے آپ کی قدرت معجزہ ہوگی، جب معجزہ ہوگی تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کی تصدیق ہوگی حکیم جھوٹے کی تو تصدیق نہیں کرتا تو آپ مفتری تو نہ ہوئے اور ضمیر حق کے لئے ہے اور مراد آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔
3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا (پھر) وہ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا اس کو ] قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ [ آپ کہیے اگر میں گھڑا اس کو ] فَلَا تَمْلِكُوْنَ [ تو تم لوگ اختیار نہیں رکھتے ہو ] لِيْ [ میرے بارے میں ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] شَيْـــــًٔا ۭ [ کسی چیز کا ] هُوَ اَعْلَمُ [ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس (بات ) کو ] تُفِيْضُوْنَ [ تم لوگ چرچا کرتے ہو ] فِيْهِ ۭ [ جس کا ] كَفٰى بِهٖ [ وہ کافی ہے ] شَهِيْدًۢا [ بطور گواہ کے ] بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ [ میرے درمیان اور تمہارے درمیان ] وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ [ اور وہ ہی بےانتہا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →قریش مکہ کی اس بات کا جواب کہ آپ نے قرآن اپنے پاس سے بنالیا ہے
قریش مکہ کے سامنے جب قرآن مجید پڑھا جاتا تھا تو طرح طرح کی باتیں بناتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ یہ قرآن مجید محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنالیا ہے اور اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی ہے یہ اللہ پر افتراء ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ نازل نہیں کیا (العیاذ من ذالک) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر میں نے اپنی طرف سے بنالیا ہے تو اللہ تعالیٰ میرا مواخذہ فرمائے گا اور مجھے اس کی سزا دے گا جیسا کہ سورة الحاقہ میں فرمایا ﴿وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔
(ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…
Read the full tafseer →7:۔ ” ام یقو ون افتراہ “ یہ بھی شکوی ہے اور اس میں مشرکین کا پہلے سے بھی شنیع قول ذکر کیا گیا ہے یعنی یہ جادو بھی نہیں، بلکہ یہ خدا کی ذات پر افتراء ہے۔ اس میں محمد ﷺ نے خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کردی ہیں جو اس نے نہیں فرمائیں۔ العیاذ باللہ۔ ” قل ان افتریتہ الخ “ یہ اس شکوے کا جواب ہے اور ضمناً دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی میں جو کچھ کہتا ہوں اپنے پاس سے نہیں کہتا ہوں بلکہ وحی سے کہتا ہوں۔ اگر بالفرض میں نے اللہ پر افتراء کیا ہے تو وہ جلد ہی مجھے اس کی سزا دے گا۔ لیکن تم میں سے کوئی بھی مجھے اس کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔ تو کیا میں جان بوجھ کر خدا پر افترا کرکے اس کے عذاب کو دعوت دے رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
کلام الٰہی میں انتباہ
آج کے درس کی پہلی آیت گزشتہ درس کی آخری آیت سے مربوط ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ ان کے اثر کے اعتبار سے کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اب اللہ نے فرمایا ہے کہ ان بدبختوں نے اس سے بھی بری بات کی ہے اور وہ یہ کہ ام یقولون افترئہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کلام کو گھڑ لیا ہے گویا قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کا خود ساختہ ہے نعوذ باللہ مگر اللہ نے اس کی تردید فرمائی اور اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا ۔ قل آپ کہہ دیجیے ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً کہ اگر میں نے اس کو غصہ لیا…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ 0 ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُہٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللہِ شَيْـــــًٔا 0 ۭ ہُوَاَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْہِ 0 ۭ كَفٰى بِہٖ شَہِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ 0 ۭ وَہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 8
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
تفسیر : پہلی بات کا پھر اعادہ کرتا ہے یعنی مسئلہ نبوت کا۔ کس لیے کہ عرب میں سینکڑوں برس سے کوئی نبی نہیں آیا تھا بلکہ اس سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے۔ ہاں اہل کتاب سے کبھی کچھ انبیاء کا ذکر سنا کرتے تھے اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں بڑا شک و تردد تھا اور ہم کہہ چکے ہیں کہ باقی باتوں کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے طبائعِ عامہ کے نزدیک۔ پس اس کے قوی کرنے کو پھر اس میں کلام کرتا ہے فقال و اذاتتلی علیہم الخ کہ ان جہال کا عجب حال ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو صاف جاود ہے۔ عرب میں اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر چیز کو سحر کہتے…
Read the full tafseer →اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ط قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَلاَ تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط کَفٰی بِہٖ شَھِیْدًا م بَیْنِیْ وَبَیْنَـکُمْ ط وَھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔ (الاحقاف : 8)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں اسے محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دیجیے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے، وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم بناتے ہو اور وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور مہربان ہے۔ )
مخالفین کے اتہامات کا جواب
مخالفین کے اعتراضات میں سے سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی گمراہی کی ایک اور انتہا۔
مشرکین مکہ ” اللہ “ کو خالق، مالک اور رازق ماننے کے باوجود توحید پر مبنی آیات سنتے تو کہتے کہ یہ تو واضح طور پر جادو دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی پراپیگنڈہ تھا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا۔ بلکہ محمد ﷺ اپنی طرف سے بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان دونوں الزامات کے کئی جواب دیئے ہیں مگر اہل مکہ اپنی یا وہ گوئی پر اصرار کرتے رہے۔ آج بھی کچھ لوگ بلا دلیل نزول قرآن کا انکار کرتے ہیں۔ یہاں ان کے انکار اور الزام کا یہ جواب دیا گیا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے فرمائیں کہ اگر میں نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنا…
Read the full tafseer →آیت 8 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے) آیات کو کفار سحر کہتے تھے۔ اس کے تذکرے سے اعراض کرتے ہوئے۔ ان کی اس بات کو ذکر کیا کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ موٹ نسبت کردی ہے۔ ضمیر حق کی طرف راجع ہے اس لئے مذکر ہے اور مراد آیات ہیں۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَـلَا تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا (کہہ دیجئے اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو پھر تم مجھے اللہ تعالیٰ سے ذرا بھر بچا نہیں سکتے) یعنی بالفرض اگر میں نے افتراء کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ جلد افتراء کی سزا دیں گے۔ تم مجھ پر اس جلد آنے والی سزا کو روک نہ…
Read the full tafseer →7 ۔” واذاتتلیٰ علیھم آیاتنا بینات قال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ھذا سحر مبین “ وہ قرآن کو جادو کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(واذا حشر الناس کانوالھم اعداء) ” اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ “ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے (وکانوا بعبادتھم کفرین) ” اور وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “
اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں (ایتنا بینت) ” ہماری واضح آیات “ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، یہ آیات انہیں کوئی فاہدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔
وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں (للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین) ” حق کے بارے میں جب حق ان کے…
Read the full tafseer →[ 13] منکرین کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا جواب :
سو منکرین و مخالفین کے قرآن کے خلاف پروپیگنڈے کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے اس الزام کا جواب اللہ کے حوالے۔ سو اگر بالفرض میں نے ایسے کیا جیسا کہ تم لوگ کہتے ہو تو میں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکوں گا۔ کیونکہ اگر دنیا کا کوئی بادشاہ بھی اپنے اوپر جھوٹ باندھنے کو برداشت نہیں کرتا تو اللہ رب العزت جو کہ مالک حقیقی اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اور ایسا بادشاہ و شہنشاہ جو کہ ہر طرح کے نقص و عیب اور اس کے ہر شائبہ سے پاک و بری ہے وہ کس طرح ایسے افتراء اور جھوٹ کو یونہی چھوڑ سکتا ہے ؟ تو پھر اس پر جھوٹ باندھنے والا اس کی گرفت اور پکڑ سے کیونکر بچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
تخلیق کائنات بےمقصد نہیں
تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 8 اس لئے میں یہ جرأت کیسے کرسکتا تھا کہ قرآن اپنے دل سے گھڑ لیتا۔
9 یعنی قرآن کے بارے میں جو بکواس کر رہے ہیں اللہ کو اس کا خوب علم ہے۔
1 لہٰذا وہ میرے حق میں ضرور یہ گواہی دیگا کہ اس نے مجھ پر قرآن نازل کر کے اسے دوسروں تک پہنچانے کا حکم دیا تھا اور یہ کہ تم نے قرآن کی تکذیب کر کے سخت جرم کا ارتکاب کیا تھا۔
2 یعنی اس کے لئے جو تائب ہو کر قرآن پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔
Read the full tafseer →(46:8) ام یقولون افتراہ۔ ام بطور حرف اضراب استعمال ہوا ہے۔ انتقال من حکایت شناعتہم السابقۃ الی حکایۃ ما ھو اشنع منھا۔
ان کے ایک قبیح امر سے دوسرے کی طرف انتقال جو پہلے قبیح امر سے بھی قبیح تر ہے، یہ بل (حرف اضراب) کی وہ صورت ہے کہ بل سے ماقبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے ما بعد کو اس حکم اور زیادہ کردیا جائے۔ مثلاً اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔
بل قالوا اضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر (21:5) بلکہ انہوں نے کہا کہ یہ خیالات پریشان ہیں بلکہ اس نے (نبی کریم ﷺ نے ) گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔
مطلب یہ کہ ایک تو قرآن کو خیالات پریشاں کہتے ہیں پھر مزید اسے افترا بتاتے ہیں۔ پھر اس پر اکتفاء نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
تشریح آیات 7 تا 12
قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔
اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[4] یعنی محمد ﷺ نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
میں جھوٹا نہیں ہوں
مکے والے آخر تک یہ فیصلہ نہیں کرپاتے ۔ کہ قرآن کو کتب وصحائف میں کسی درجہ پر رکھا جائے کبھی وہ اس کی آیتوں کو سنتے ۔ تو بوجہ اسکی موثریت کے اس کو جادو سے تعبیر کرتے ، کبھی یہ کہتے کہ حضور ﷺ کے دماغی اخترع کا نتیجہ ہے ۔ کبھی یہ کہتے ۔ پہلی کتابوں میں سے قصوں اور کہانیوں کو لے کر جمع کردیا گیا ہے ۔ اور کبھی کہتے ۔ کہ دراصل دوسرے شخص کی دماغی کاوشوں کا ثمرہ ہے ۔ اور حضور ﷺ نے اس سے سیکھ لیا ہے ۔ اور اپنے ہم سے منسوب کرلیا ہے ۔ غرضیکہ انہوں نے اس بات کا پورا ثبوت دیا ۔ کہ ان میں کتاب اللہ کی اہمیت کو محسوس کرنے کی زرہ برابر بھی صلاحیت نہیں ۔ وہ کتاب جو انسانی عقول سے بالا ہے ۔…
Read the full tafseer →(8) کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کو اس شخص نے ازخود بنایا اور گھڑ لیا ہے آپ فرمادیجئے اگر اس قرآن کو میں نے خود گھڑ لیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے مجھ کو ذرا بھی نہیں بچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے تم جو گفتگو قرآن کے بارے میں کررہے ہو اور جو باتیں بنا رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے اور میرے اور تمہارے مابین گواہی دینے کو وہی کافی ہے اور زروئے گواہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی ہے اور وہ بہت بخشش کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔
یعنی پیغمبر پر اور الزامات کے علاوہ یہ بھی الزامات لگاتے ہیں کہ قرآن کو یہ شخص خود ہی بناتا ہے اور پھر خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 6۔ مطلب یہ کہ عقاب کا ترتب دعوائے کا ذبہ نبوت پر ایسا لازم ہے کہ کوئی میرا حامی مددگار بھی اس کے تخلف پر قادر نہیں۔
7۔ یعنی اس پر مطلع ہے۔
Read the full tafseer →کفار مکہ کا یہ کہنا کہ یہ قرآن محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کا جواب :
8 ؎ کفار مکہ نے یہ بات ایک بار نہیں بار بار دہرائی ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے گھڑی ہے اور اس کے گھڑنے میں اس کی کچھ دوسرے لوگوں نے بھی مدد کی ہے (الفرقان 52 : 4) ” منکرین کہتے ہیں کہ یہ قرآن ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس کی اس کام میں مدد کی ہے۔ “ قرآھن کریم نے ان کو اس اعتراض کا دندان شکن جواب دے دیا جس کا ذکر ہم نے تفصیل سے کردیا ہے اور ان کے اس اعتراض کے جزء جزء کو پڑھا اور جھوٹوں کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
Commentary
وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, "I do not follow anything but what is revealed to me," has been used here as an 'exception' to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet ﷺ only through…
Read the full tafseer →9 This interrogative tone expresses great surprise and amazement. It means to say: "Are these people so shameless that they accuse Muhammad (upon whom be Allah's peace) of fabricating the Qur'an himself? Whereas they know that it cannot be his word; and their calling it magic is by itself an express proof that they regard it as an extraordinary word, which cannot be of human composition even according to themselves."
10 As it was quite evident that their accusation was baseless and motivated by stubbornness, there was no need to present arguments to refute it. Therefore, only this much was…
Read the full tafseer →