Al-Ahqaf 46:7

Al-Ahqaf · from ayah 7

46:7

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۙ— هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۟ؕوَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَـمَّا جَآءَهُمۡۙ هٰذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌؕ

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is obvious magic."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:7

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحت کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو یہ کافر لوگ حق بات کے ان تک پہنچ جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) جو لوگ کفر کر رہے ہیں حق (یعنی قرآن) کے بارے میں، جبکہ وہ ان کے پاس آچکا، کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کافر اس حق کے بارے میں جو ان کے پاس آچکا ہے، کہتے ہیں کہ : یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ حق کی بابت، جب کہ وہ ان کے پاس آگیا، کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان لوگوں کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری کھلی کھلی (اور صاف و واضح) آیتیں تو کافر لوگ (پوری ڈھٹائی سے) حق کے بارے میں کہتے ہیں جب کہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان لوگوں کے روبرو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ کافر ہیں وہ اس سچائی کی بابت جب وہ ان تک پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جو ان کے پاس آچکا تھا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When Our Clear Messages are rehearsed to them, the unbelievers exclaim about the Truth when it came to them: “This is plain sorcery.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our verses are recited to them in all their clarity, the disbelievers say about the truth when it comes to them, :This is an open magic.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our verses are recited to them in all their clarity, the disbelievers say about the truth when it comes to them, :This is an open magic.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our Clear Ayat are recited to them, the disbelievers say of the truth when it reaches them: "This is plain magic!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our clear revelations are recited unto them, those who disbelieve say of the Truth when it reacheth them: This is mere magic.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is obvious magic."

— Saheeh International

When Our enlightening revelations are recited to them, the disbelievers, of the truth which has come to them, say, "This is plain magic".

— Muhammad Sarwar

And when Our clear communications are recited to them, those who disbelieve say with regard to the truth when it comes to them: This is clear magic.

— Muhammad Habib Shakir

And when Our manifest revelations are rehearsed Unto them those who disbelieve say of the truth when it hath come to them: this is magic manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

When Our Clear Signs are rehearsed to them, the Unbelievers say, of the Truth when it comes to them: "This is evident sorcery!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 8 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات کفار مکہ کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف یہ محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدرجہا بلند ہے۔ ان کے کسی شاعر، کسی خطیب، اور کسی بڑے سے بڑے ادیب کے کلام کو بھی قرآن کی بےمثل فصاحت و بلاغت، اس کی وجد آفرین خطابت، اس کے بلند مضامین اور دلوں کو برما دینے والے انداز بیان سے کوئی مناسبت نہ تھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود نبی ﷺ کے اپنے کلام کی شان بھی وہ نہ تھی جو خدا کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والے کلام میں نظر آتی تھی۔ جو لوگ بچپن سے آپ کو دیکھتے چلے آ رہے تھے وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی زبان اور قرآن کی زبان میں کتنا عظیم فرق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں (جو کہ معجزہ ہونے کے باعث رسالت کی دلیل ہیں) ان (منکر رسالت) لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کی نسبت جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے یوں کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے (حالانکہ جادو کی نظیر کا ممکن ہونا اور اس کی نظیر کا ممکن نہ ہونا اس قول کے بطلان کی صریح دلیل ہے اور اس سے بڑھ کر اور سنو) کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے (یعنی آپ نے نعوذ باللہ) اس (قرآن) کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (اور خدا کی طرف منسوب کردیا۔ آگے اس قول کا جواب ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہوگا (اور خدا کے ذمہ لگا دیا ہوگا) تو (خدا تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واذا تتلی علیھم ایتنا بنت قال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ھذا سحرمبین 7 قرآن سے فرار کے بہانے اب یہ ان بہانوں کا ذکر ہو رہا ہے جو قرآن سے فرار کے لئے وہ ایجاد کرتے تھے۔ فرمایا کہ جب ہماری نہایت واضح آیتیں درباب توحید و قیامت ان کو سنائی جاتی ہیں اور ان سے ان کا کوئی جواب نہیں بن آتا تو وہ اس قرآن کے باب میں کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کی وجہ کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ قریش کے لیڈروں کے لئے جب اس کی تاثیر و تسخیر کا لوہا مانے بغیر چارہ نہیں رہا تو انہوں نے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم تو یہ کلام نہایت پر زور اور پر تاثیر لیکن یہ زور و تاثیر اس کے خدائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–8

8۔ 1 اس حق سے مراد جو ان کے پاس آیا قرآن کریم ہے اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے پھر اس سے بھی انحراف کر کے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے۔ 8۔ 2 یعنی اگر تماری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے پھر تو یقینا میں بڑا مجرم ہوں اللہ تعالیٰ اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرتا بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا اسی مضمون…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

3: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی من گھڑت کلام منسوب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں رسوا فرما دیتے ہیں، اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ کہنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر میں نے یہ کلام (معاذاللہ) خود گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں میری پکڑ کرلے گا اور مجھے کوئی بچا نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ان لوگوں کو فی الحال انجام کی کچھ فکر نہیں کسی نصیحت و فہمائش پر کان نہیں دھرتے بلکہ جب قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اسے جادو کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ‘ ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں ‘ جبکہ وہ ان کے پاس آگیا ‘ کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 کافر قرآن کو جادو کیوں کہتے تھے ؟:۔ کفار مکہ کے قرآن کو صریح جادو کہنے کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ اس کلام میں بلا کی تاثیر تھی جو بھی یہ کلام سنتا اس کے دل میں اتر جاتا تھا۔ کافر خود بھی قرآن کی اس تاثیر کے معترف اور اس سے متاثر ہوجاتے تھے۔ مگر چونکہ وہ خود اس کو نہ ماننے کا تہیہ کرچکے تھے اس لیے قرآن کی اس خوبی کو بھی برے انداز میں پیش کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ صریح جادو یا جادو کا کرشمہ یا جادو کا سا اثر رکھتا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جادوگروں کا عموماً یہ کام ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان پھوٹ ڈال دیں یا رشتہ داروں کو آپس میں لڑا دیں۔ ادھر صورت حال یہ تھی کہ جو شخص اسلام لے آتا تھا۔ وہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (جو ہم پر مؤثر ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت وحقانیت سے معری ہے) قرآن مجید کے متعلق ماضی کے ” روشن خیال “ کی تشخیص یہی تھی، اور حال کے ” روشن خیال “ کی ” تحقیق “ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، جب وہ یہ کہتا ہے کہ ”’ موافق ماحول اور مناسب فضانے محمد ﷺ کے کلام وپیام کو اس درجہ مؤثر وکامیاب بنادیا۔ “ (آیت) ” ایتنا بینت۔ بینت “۔ میں صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ قرآن مجید کا معارضہ ممکن نہیں۔ حالانکہ سحر جو اور جیسا بھی ہو اس کا معارضہ برابر ممکن رہتا ہے۔ قرآن مجید کی نفس تاثیر شدید سے انکار مشرکین عرب کے لئے بھی ممکن نہ تھا، فقط وہ اس کی توجیہ وتاویل دوسری کرلیا کرتے تھے اور ٹھیک وہی کج نظری آج تک یورپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–8

واذا تتلیٰ علیھم ایتنا (الآیۃ) اور جب ان کو واضح اور صاف صاف قرآنی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ منکرین حق سنتے ہی بغیر غور و فکر کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے، مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات کفار کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدر جہا بلند ہے، ان کے شاعر، کسی خطیب، کسی ادیب کے کلام کو بھی قرآن کی بےمثال فصاحت و بلاغت اس کی وجد آفرینی، اس کے بلند اور پاکیزہ مضامین اور دلوں کو نرما دینے اور گرما دینے والے انداز بیان سے کوئی مناسبت نہ تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود آنحضرت ﷺ کے اپنے کلام کی شان بھی وہ نہ تھی جو خدا کے کلام میں نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین کفروا للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین۔ اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کو جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے ‘ کہتے ہیں : یہ صریح جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جب مکہ کے کافروں کے سامنے قرآن کریم پڑھ کر سنایا جاتا ہے جو کہ اوامرو نواہی کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تو یہ کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں جب رسول اکرم قرآن کو ان کے پاس لے کر آتے ہیں کہہ دیتے ہیں کہ معاذ اللہ یہ تو صاف جھوٹ ہے اور مزید برآں کہتے ہیں کہ محمد نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واذا تتلی علیھم ایتنا بینت …: قرآن پر ایمان نہ لانے کے لئے وہ جو بہانے کرتے تھے ان کا ذکر ہو سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین کفروا اللحق لما جآء ھم ھذا سخرمبین)”اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اختصار کے بجائے تین باتوں ”قال الذین کفوا“ ، ”للحق“ اور ”لما جآء ھم“ کی صراحت فرمائی۔ (قال الذین کفروا“ کا مقصد یہ ہے کہ ان کے جھٹلانے کا اصل باعث ان کا فکر و انکار ہے، جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–8

1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ اور جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] لِلْحَقِّ [ اس حق (قرآن ) کے لئے ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۙ [ جب وہ آیا ان کے پاس ] ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ یہ ایک کھلا جادو ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–7

منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات اس کے بعد منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات نقل فرمائی اور وہ یہ کہ جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو قرآن کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے جب دلیل نہ دے سکے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت بنانے سے عاجز رہ گئے تو اسے جادو بتادیا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرات انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے سورة الذاریات میں فرمایا ﴿كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ یہ جادو گر ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6:۔ ” واذا تتلی۔ الایۃ “ یہ شکوی ہے جب مشرکین کو قرآن کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جو سراپا حق و صداق ہیں اور جن کا مثل پیش کرنا قوت بشر سے باہر ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے یعنی وہ آیتوں میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ سنتے ہی بلا تامل محض ضد وعناد سے ان کو جادو کا نام دے دیتے ہیں۔ انھم لم یتاملوا ما یتلی علیہہم، بل بادروا اول سماعہ الی نسبتہ الی السحر عنادا وظلما (بحر ج 8 ص 56) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہُمْ۝ 0ۙ ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 7ۭ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

تفسیر : پہلی بات کا پھر اعادہ کرتا ہے یعنی مسئلہ نبوت کا۔ کس لیے کہ عرب میں سینکڑوں برس سے کوئی نبی نہیں آیا تھا بلکہ اس سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے۔ ہاں اہل کتاب سے کبھی کچھ انبیاء کا ذکر سنا کرتے تھے اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں بڑا شک و تردد تھا اور ہم کہہ چکے ہیں کہ باقی باتوں کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے طبائعِ عامہ کے نزدیک۔ پس اس کے قوی کرنے کو پھر اس میں کلام کرتا ہے فقال و اذاتتلی علیہم الخ کہ ان جہال کا عجب حال ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو صاف جاود ہے۔ عرب میں اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر چیز کو سحر کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ لا ھٰذَا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الاحقاف : 7) (جب ان لوگوں کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے توہ وہ حق کی بابت جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ ) قیامت کے دن ان مشرکین اور معاندین کے ساتھ جو گزرنے والی ہے اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا حال یہ ہے کہ آج جب قرآن کریم ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں جس کی ایک ایک بات سورج کی طرح روشن ہے۔ اور جس کی خوبیوں کا عالم یہ ہے کہ اس جیسا کلام آج تک انسان کے کانوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ ” اللہ تعالیٰ “ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ ان کے حق میں واضح دلیل نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود اپنے باطل عقیدہ پر قائم رہتے اور جھگڑتے ہیں۔ یہ انداز اللہ تعالیٰ کے ہاں کفر کرنے کے مترادف ہے۔ ہر دور کے کفار اور مشرک اس بات کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں نہ کوئی شریک تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اور کافر۔ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو پکارتے اور ان سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی ایک بھی قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے پکارنے سے بھی بیخبر ہیں۔ (فاطر : 14) جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں) بینات جمع بینۃ کی ہے اور وہ دلیل و شاہد دونوں کے لئے بولتے ہیں۔ یا واضح وکھلی آیات۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ (تو منکرلوگ اس سچی بات کی نسبت کہتے ہیں) حق سے مراد آیات اور الذین کفروا سے وہ مخاطبین جن پر پڑھا جا رہا تھا۔ نکتہ : دونوں ضمیروں کی جگہ اسم ظاہر لانے کا فائدہ یہ ہے۔ کہ ان کا کفر پختہ اور ظاہر ہوجائے اور آیات کا حق ہونا ثابت ہو۔ لَمَّا جَآئَ ہُمْ (جبکہ وہ اس کے پاس پہنچتی ہیں) آنے کے وقت ہی فی البدیہ انکار کردیا۔ اور فکر کو دوڑانے کے پہلے ہی مرحلے میں انکاری ہوگئے۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” واذا حشر الناس کانوالھم اعداء وکانوا بعبادتھم کافرین “ انکار کرنے والے۔ اس کا بیان اس قول ” تبرانا الیک ماکانوا ایانا یعبدون “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

(واذا حشر الناس کانوالھم اعداء) ” اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ “ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے (وکانوا بعبادتھم کفرین) ” اور وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “ اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں (ایتنا بینت) ” ہماری واضح آیات “ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، یہ آیات انہیں کوئی فاہدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں (للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین) ” حق کے بارے میں جب حق ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–7

[ 12] منکروں کے اللہ کی آیتوں کو کھلا ہوا جادو قرار دینے کے جرم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر لوگ حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ " سو ان کی بدنصیبی اور محرومیء قسمت ملاحظہ ہو کہ کلام الٰہی قوت تاثیر کے احساس و اقرار اور اس کے اعتراف کے باوجود اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی بجائے یہ بدبخت اس کو کھلا ہوا جادو قرار دے رہے ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 سچی بات سے مراد قرآن ہے۔ کفار مکہ قرآن کو صریح جادو اس لئے کہتے تھے ایک طرف تو وہ اسے خدائی کلام ماننے کیلئے تیار نہ تھے اور دوسری طرف ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ کوئی انسان اسجیسا کلام تصنیف کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے وہ لوگوں کو قرآن سے بدظن کرنے کیلئے یہ مشہور کرتے کہ یہ صریح جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:7) واذا۔ اوپر 46:6 ملاحظہ ہو۔ تتلی : مضارع واحد مؤنث غائب تلاوۃ باب نصر، مصدر۔ وہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ایتنا بینت : ایتنا مضاف، مضاف الیہ۔ ہماری آیات، بینت جمع ہے بینۃ کی۔ بمعنی روشن ۔ واضح۔ کھلی، آیات کی صفت ہے۔ ہماری روشن اور واضح آیات۔ للحق۔ سچی بات کو۔ حق کی بابت۔ حق سے مراد آیات ہیں۔ کفروا کے ساتھ صراحۃ للحق کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ آیات حق اور سچ ہیں۔ اور یہ لوگ بلا شبہ کافر، گمراہ اور حق کے منکر ہیں۔ لما جاء ہم میں مبادرت اور عدم تدبر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ حق کی بات یعنی آیات بینات جوں ہی ان کو پہنچیں تو انہوں نے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر غور کئے فورا کہہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

تشریح آیات 7 تا 12 قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] سرداران قریش کے لئے جب قرآن کی تاثیر کا لوہا مانے بغیر چارہ نہ رہا تو انہوں نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہے تو یہ کلام نہایت پرزور اور پر تاثیر، لیکن یہ زور و تاثیر اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–7

بت پرستوں سے سوالات 1: جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں ۔ یا دوسرے معبودان باطل کو اپنا رب قرار دیتے ہیں ۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے ۔ کہ تم یہ بتاؤ ان معبودوں کا تخلیق کائنات کتنا حصہ ہے ۔ کیا انہوں نے زمین کے کسی گوشہ کو بنایا ہے ۔ یا آسمانوں کی تکوین میں مدد فرمائی ہے ؟ یا کسی مذہبی صحیفہ میں لکھا ہے ۔ کہ غیر اللہ کی پوجا کرو ۔ یا علمی دلائل کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رب السموات والارض کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور حقیر وبے جان چیزوں کو مقدس جان لیا جائے ! یعنی آخر جب تم اتنی کھلی ہوئی حقیقت کی مخالفت کرتے ہو ۔ تو پھر کچھ تو اس کی وجہ ہونی چاہیے ۔ وہ بتان سنگ جن کو تم الفطرت قوتوں کا مالک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور جب ہماری واضح آیتیں اور کھلے کھلے دلائل ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو یہ منکر اس امر حق یعنی قرآن کے متعلق جب وہ ان تک پہنچتا ہے یوں کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی ان منکرین رسالت کی یہ حالت ہے کہ جب ان پر قرآن کی واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور قرآن ان تک پہنچتا ہے تو اس کو کھلا جادو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 6۔ مطلب یہ کہ عقاب کا ترتب دعوائے کا ذبہ نبوت پر ایسا لازم ہے کہ کوئی میرا حامی مددگار بھی اس کے تخلف پر قادر نہیں۔ 7۔ یعنی اس پر مطلع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کی آیات جب پڑھی جاتی ہیں تو مخالفین اس کو سحر سے تعبیر کرتے ہیں 7 ؎ قرآن کریم کا یہ زندہ وجاوید معجزہ ہے کہ اس کی عبارت ہر انسان کو متاثر کرتی ہے وہ اہل زبان ہو یا اہل زبان نہ ہو وہ جانتا اور سمجھتا ہو کہ کیا کہا جا رہا ہے تو اثر زیادہ ہوتا ہے اور اگر اس بات کی سمجھ نہ ہو تو کم اور اگر انسان کے دل میں یہ بات جم چکی ہو کہ یہ بات رب ذوالجلال والاکرام کی ہے جو سو فیصد صحیح ہے تو مزید زیادہ اثر ہوتا ہے اگر یہ بات دل میں نہ جمی ہو تو بھی اثر ہوتا ہے اگرچہ بنسبت پہلے سے کم۔ یہ بات آج بھی دیکھی جاسکتی ہے اور خصوصاً اس کے ساتھ پڑھنے والے کی آواز بھی قرآن کریم کی عبارت کے مطابق ہوتی ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–9

Commentary وَمَا أَدْرِ‌ي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, "I do not follow anything but what is revealed to me," has been used here as an 'exception' to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet ﷺ only through…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 It means: When the Revelations of the Qur'an were recited before the disbelievers of Makkah, they realized that the Qur'an was far superior to human speech. The compositions of their greatest poets, orators and literary men were no match with the un-paralleled eloquence, enchanting oratory, sublime themes and heart-moving style of the Qur'an. Above all, even the Holy Prophet's own words and speech were not comparable with the discourses that were being sent down to him by God. Those who had known him since childhood knew full well the vast difference that was there between his language and…

Read the full tafseer →