Al-Ahqaf 46:6

Al-Ahqaf · from ayah 6

46:6

وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ ۟وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءً وَّ كَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the people are gathered [that Day], they [who were invoked] will be enemies to them, and they will be deniers of their worship.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:6

اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب لوگوں کو محشر میں جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت ہی سے منکر ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان سے منکر ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب لوگ (قیامت کے دن) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہوں گے اور (اپنی برات کی خاطر) ان کی عبادت سے ہی منکر ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب اکٹھا کیا جائے گا سب لوگوں کو (قیامت کے اس ہولناک دن میں) تو یہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کے بھی منکر ہوجائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب سب لوگ اکٹھے کئے جائیں تو وہ ان کے دشمن نکلیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کربیٹھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پوجا سے انکار کریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

When all human beings will be gathered together those who had been called upon will become the enemies to their votaries and will disown their worship.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when people will be assembled (on the Day of Judgment), they will be enemies to them, and will refuse even their having worshipped them.

— Muhammad Taqi Usmani

and when people will be assembled (on the Day of Judgment), they will be enemies to them, and will refuse even their having worshipped them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when mankind are gathered, they (false deities) will become their enemies and will deny their worship.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when mankind are gathered (to the Judgment) will become enemies for them, and will become deniers of having been worshipped.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when the people are gathered [that Day], they [who were invoked] will be enemies to them, and they will be deniers of their worship.

— Saheeh International

When people will be resurrected, such gods will become their enemies and will reject their worship.

— Muhammad Sarwar

And when men are gathered together they shall be their enemies, and shall be deniers of their worshipping (them).

— Muhammad Habib Shakir

And when mankind will be gathered they will become Unto them enemies and of their worship they will become deniers.

— Abdul Majid Daryabadi

And when mankind are gathered together (at the Resurrection), they will be hostile to them and reject their worship (altogether)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–6

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہوگی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لئے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے نہ بڑھے۔ اس رسول سے اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بد باطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 7 یعنی وہ صاف صاف کہہ دیں گے کہ نہ ہم نے ان سے کبھی یہ کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرنا، اور نہ ہمیں یہ خبر کہ یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے۔ اپنی اس گمراہی کے یہ خود ذمہ دار ہیں۔ اس کا خمیازہ ان ہی کو بھگتنا چاہیے۔ ہمارا اس گناہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ ان آیات میں مشرکین کے دعوے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت و دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل عمل نہیں ہوتا۔ پھر اس میں جتنی قسمیں دلائل کی ہو سکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی بھی دلیل و شہادت موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے۔ دلائل کی اس آیت میں تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا (آیت) اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستعجیب لہ الی یوم القمیۃ وھم عن دعآئھم غفلون، واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین (6-5) مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقتی اور بیخبر ی یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انہیں خبر نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے ! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6 ۔ 1 یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا سورة یونس سورة مریم سورة عنکبوت وغیر ھا من الایات دنیا میں ان معبودوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو غیر ذی روح جمادات و نباتات اور مظاہر قدرت (سورج آگ) ہیں اللہ تعالیٰ ان کو زندگی اور قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بول کر بتلائیں گی کہ ہمیں قطعا اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ ہماری عبادت کرتے اور ہمیں تیری خدائی میں شریک گردانتے تھے بعض کہتے ہیں کہ زبان قال سے نہیں ہے زبان حال سے وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں گی واللہ اعلم معبودوں کی دوسری قسم وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین میں سے ہیں جیسے عیسی، حضرت عزیر (علیہما…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: یعنی جن جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، آخرت میں وہ سب ان مشرکین سے براءۃ ظاہر کرکے یہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، یہ بات سورة قصص (63: 28) میں بھی گزری ہے، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مشرکین کئی قسم کے ہوتے ہیں، بعض مشرکین نے کچھ دنیا سے گزرے ہوئے انسانوں کو معبود بنا رکھا ہے، ان انسانوں کو بسا اوقات یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی عبادت کی جارہی ہے، اس لئے وہ انکار کردیں گے، اور جن کو پتہ ہے وہ یہ کہیں گے کہ درحقیقت یہ ہماری نہیں، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت کرتے تھے، دوسرے بعض مشرکین وہ ہیں جو فرشتوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان کے بارے میں سورة سبا (41، 40: 34) میں گزرا ہے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی محشر میں جبکہ امداد و اعانت کی زیادہ حاجت ہوگی۔ یہ بیچارے معبود اپنے عابدین کی مدد تو کیا کرسکتے۔ ہاں دشمن بن کر ان کے مقابل کھڑے ہوں گے اور سخت بیزاری کا اظہار کریں گے بلکہ یہاں تک کہہ دیں گے کہ (مَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ ) 28 ۔ القصص :63) یہ لوگ ہماری پرستش کرتے ہی نہ تھے اس وقت سوچو کیسی حسرت و ندامت کا سامنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیْنَ } ”اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔“ قیامت کے دن وہ پیغمبر ‘ وہ فرشتے اور وہ اولیاء اللہ جن کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں اور ان سے دعا کرتے ہیں ‘ وہ اپنے ان ”عقیدت مندوں“ سے ناراضگی اور دشمنی کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے سامنے انہیں شرمسار کیا کہ انہیں اللہ کا مدمقابل ٹھہرایا۔ اس معاملے کی ”حساسیت“ ّکا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی رض نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے الفاظ ادا کیے : مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ یعنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 من دون اللہ سے مراد یہاں بت نہیں بلکہ فوت شدہ بزرگ ہیں :۔ آیت نمبر 5 اور 6 سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بےجان قسم کے معبود مراد نہیں ہیں۔ کیونکہ بےجان معبود ہی ایسے ہوسکتے ہیں جن کا دشمنی اور دوستی سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی وہ عبادت سے انکار کرسکتے ہیں۔ لامحالہ یہاں جاندار معبود ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ پھر جانداروں میں سے بھی فرشتے خارج از بحث ہیں۔ کیونکہ ان کا حشر نہیں ہوگا۔ باقی صرف جن، نبی، پیر، اولیاء وغیرہ ہی رہ جاتے ہیں۔ جن پر حسد، دشمنی اور عبادت سے انکار سب باتیں چسپاں ہوسکتی ہیں۔ پھر ایسے معبودوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک پیغمبر اور صحیح العقیدہ اولیاء کرام یہ اپنے عابدوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

4۔ حاصل یہ کہ جن معبودوں سے تم لگائے بیٹھے ہو، ان کی معبودیت کا مقتضا تو کوئی ایک بھی نہیں۔ البتہ ان کی عدم معبودیت کے متقضا ایک چھوڑ کئی کئی موجود ہیں۔ پھر بھی انہیں معبود چلے جانا کتنی بڑی حماقت اور کیسی شدید گمراہی ہے ! (آیت) ” کفرین “۔ کفر۔ یہاں مطلق انکار وتکذیب کے معنی میں ہے۔ اے مکذبین (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اصنام، عابدین اصنام کے دشمن ہوجائیں گے اور بعض حضرات نے کانوا کی ضمیر کو عابدین کی طرف لوٹایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول واللہ ربنا مکنا مشرکین میں ہے، مگر اول راجح ہے، غرضیکہ روز قیامت عابدین و معبودین ایک دوسرے پر لعنت ملامت کریں گے، یہ لعنت ملامت اور اظہار بیزاری یا تو حقیقتاً ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اصنام حجرہیہ وغیرہ میں حیات پیدا فرما دیں گے اور بعض حضرات نے لسان حال سے لعنت ملامت اور اظہار برأت مراد لا ہے، رہے ملائکہ اور مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) تو لسان مقال سے اظہار بیزاری کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین اور جب سب آدمی جمع کئے جائیں تو وہ ان (پوجنے والوں) کے دشمن ہوجائیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں۔ وَمَنْ اَضَلُّ (سوال انکاری ہے) یعنی اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں ... جو مِمَّنْ یَّدْعُوْ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتا اور ان سے مرادیں مانگتا ہے .... مِنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗ جو بالفرض اگر پکارنے والوں کی پکار سن بھی لیں تو انکا مطلب نہ سمجھیں اور نہ مرادیں پوری کرنے کا طریقہ ان کو معلوم ہو۔ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ روز قیامت تک ‘ یعنی جب تک دنیا قائم ہے۔ وَھُمْ عَنْ دُعَآءِھُمْ غٰفِلُوْنَ اور ان کو ان پکارنے والوں کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) اور اس کافر سے زیادہ کون حق و ہدایت سے گمراہ ہوگا جو ایسے معبودوں کو پوجے کہ جو اس کی پکار تک نہ سنیں۔ اور ان بتوں کو تو ان پجاریوں کے پکارنے تک کی بھی خبر نہیں اور قیامت کے دن یہ بت اپنے پجاریوں کے دشمن اور بلکہ ان کی عبادت ہی کے منکر ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واذا حشر الناس کانوا لہم اعدآئ…: یعنی قیامت کے دن جب انہیں بتایا جائے گا کہ یہ لوگ تمہیں پکارتے رہے اور تم سے فریاد کرتے رہے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ یہ ہمیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمہارے شری کبھی ، پھر ہم ان کے دریمان علیحدگی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ سو اللہ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بیشک ہم تمہاری عبادت سے یقینا بیخبر تھے۔“ اور دیکھیے سورة قصص (63) اور سورة نحل (86) مسیح ؑ بھی اپنی عبادت کرنے والوں سے اپنے بیخبر ہونے کی صراحت فرما دیں گے۔ (دیکھیے مائدہ : 116 ، 117) اور فرشتے بھی۔ (دیکھیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس سے مراد یوم قیامت ہے یعنی یہ معبود قیامت کے روز کفار کے دشمن ہوں گے، ملائکہ کفار کے دشمن ہوں گے جن اور شیاطین قیامت کے روز اپنی عبادت گزاروں سے برأت کا اظہار کریں گے وہ ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کفار کے بت جن کی یہ لوگ عبادت کرتے رہے وہ دشمن ہوں اس تقدیر کی بناء پر کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے زندگی پیدا فرما دے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (القصص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اپنے معبودوں سے دشمنی کا اظہار کیا کیونکہ یہ معبود ان کی کفار کی ہلاکت کا سبب بنے اور معبودوں نے ان کی عبادت کا انکار کردیا اسی پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے :

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–8

1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ [ اور جب اکٹھا کیا جائے گا لوگوں کو ] كَانُوْا [ تو وہ لوگ ہوں گے ] لَهُمْ اَعْدَاۗءً [ ان کے دشمن ] وَّكَانُوْا [ اور وہ ہوں گے ] بِعِبَادَتِهِمْ [ ان کی عبادت کا ] كٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–7

منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات اس کے بعد منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات نقل فرمائی اور وہ یہ کہ جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو قرآن کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے جب دلیل نہ دے سکے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت بنانے سے عاجز رہ گئے تو اسے جادو بتادیا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرات انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے سورة الذاریات میں فرمایا ﴿كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ یہ جادو گر ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6:۔ ” واذا تتلی۔ الایۃ “ یہ شکوی ہے جب مشرکین کو قرآن کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جو سراپا حق و صداق ہیں اور جن کا مثل پیش کرنا قوت بشر سے باہر ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے یعنی وہ آیتوں میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ سنتے ہی بلا تامل محض ضد وعناد سے ان کو جادو کا نام دے دیتے ہیں۔ انھم لم یتاملوا ما یتلی علیہہم، بل بادروا اول سماعہ الی نسبتہ الی السحر عنادا وظلما (بحر ج 8 ص 56) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَہُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ كٰفِرِيْنَ۝ 6 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔ تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَن لاَّیَسْتَجِیْبُ لَـہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ وَھُمْ عَنْ دُعَـآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ ۔ وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآئً وَّ کَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 5، 6) (اور کون گمراہ ہوسکتا ہے ان لوگوں سے بڑھ کر جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، اور وہ ان کی دعائوں سے غافل ہیں۔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔ ) مشرکین کی تردید میں مسلمہ بات مشرکین کے خیالات کی تردید کے لیے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی جارہی ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ ” اللہ تعالیٰ “ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ ان کے حق میں واضح دلیل نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود اپنے باطل عقیدہ پر قائم رہتے اور جھگڑتے ہیں۔ یہ انداز اللہ تعالیٰ کے ہاں کفر کرنے کے مترادف ہے۔ ہر دور کے کفار اور مشرک اس بات کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں نہ کوئی شریک تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اور کافر۔ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو پکارتے اور ان سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی ایک بھی قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے پکارنے سے بھی بیخبر ہیں۔ (فاطر : 14) جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 6 : وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً (جب سب آدمی جمع کیے جائیں تو وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے) بت اپنے عابدوں کے وَّکَانُوْا (اور وہ) یعنی بتبِعِبَادَتِہِمْ (اپنے عابدوں کی عبادت سے) کٰفِرِیْنَ (انکار کردیں گے) وہ کہیں گے ہم نے ان کو اپنی عبادت کی طرف نہیں بلایا۔ نحو : من اضل میں استفہام کا معنی یہ ہے۔ اس بات سے انکار ہے کہ بت کی عبادت کرنے والوں سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے سمیع ٗ مجیب ٗ قادر مطلق ہستی کو چھوڑ کر ان کو پکارا جو خود جماد لا یعقل ہیں اور کسی کی بات کو قبول کرنے کی قدرت بھی ان میں پائی نہیں جاتی۔ خواہ پوری دنیا کی عمر سے قیامت تک پکارتے رہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستجیب لہ “ یعنی بت کہ ان کے عبادت کرنے والے جو بھی مانگیں وہ کسی چیز کا جواب نہیں دیتے۔ ” الی یوم القیامۃ “ یعنی ہمیشہ جب تک دنیا ہوگی۔ ” وھم عن دعائھم غافلون “ اس لئے کہ وہ جمادات ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

(قل) یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ ان کے معبودوں کی بےبسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں، ان سے کہہ دیجئے۔ (ارونی ما ذاخلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت) ” مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ “ کیا انہوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انہوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کئے ؟ کیا انہوں نے روئے زمین پر حیوانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–7

[ 12] منکروں کے اللہ کی آیتوں کو کھلا ہوا جادو قرار دینے کے جرم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر لوگ حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ " سو ان کی بدنصیبی اور محرومیء قسمت ملاحظہ ہو کہ کلام الٰہی قوت تاثیر کے احساس و اقرار اور اس کے اعتراف کے باوجود اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی بجائے یہ بدبخت اس کو کھلا ہوا جادو قرار دے رہے ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 بلکہ پن خواہش کے پوجتے رہے۔ وہ فرشتے ہوں یا اللہ کے مقرب بندے یا شیاطین الغرض سب قیامت کے دن ان سے برأت کا اعلان کرینگے اور کہیں گے : تبرء نا الیک ما کانوا ایا نایعبدون (قصص :63) ہم تیرے سامنے ان سے الگ ہوئے وہ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ 6 یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ تم نے ہماری پوجا کی یا ہم نے تمہیں اپنی پوجا کرنے کا حکم نہیں دیا لہٰذا تم جو ہماری پوجا کرتے رہے دراصل اپنی خواہش کی پوجا کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:6) واذا حشر الناس۔ وائو عاطفہ ہے اذا ظرف زمان ہے حشر ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب، اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے۔ یعنی قیامت کے روز۔ کانوا لہم اعدائ۔ کانوا میں ضمیر فاعل معبودان باطل کی طرف راجع ہے : اور لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب معبودان باطل کی پوجا کرنے والوں کی طرف راجع ہے ۔ اعداء کانوا کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مطلب یہ کہ جب حشر کے روز لوگ اکٹھے جئے جائیں گے تو یہی معبودان اپنے پجاریوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ضرر پہنچانے کا باعث بنیں گے : وکانوا بعبادتہم کفرین۔ اور معبودان باطل اپنے پجاریوں کی پوجا سے انکار کردیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کانوا کی ضمیر فاعل پجاریوں کے لئے ہو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

تشریح : آیات نمبر 1 تا 6 سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بنی اسرائیل حاشیہ 43 صفحہ 667 اور سورة فاطرحاشیہ 10 صفحہ 1044۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–7

بت پرستوں سے سوالات 1: جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں ۔ یا دوسرے معبودان باطل کو اپنا رب قرار دیتے ہیں ۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے ۔ کہ تم یہ بتاؤ ان معبودوں کا تخلیق کائنات کتنا حصہ ہے ۔ کیا انہوں نے زمین کے کسی گوشہ کو بنایا ہے ۔ یا آسمانوں کی تکوین میں مدد فرمائی ہے ؟ یا کسی مذہبی صحیفہ میں لکھا ہے ۔ کہ غیر اللہ کی پوجا کرو ۔ یا علمی دلائل کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رب السموات والارض کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور حقیر وبے جان چیزوں کو مقدس جان لیا جائے ! یعنی آخر جب تم اتنی کھلی ہوئی حقیقت کی مخالفت کرتے ہو ۔ تو پھر کچھ تو اس کی وجہ ہونی چاہیے ۔ وہ بتان سنگ جن کو تم الفطرت قوتوں کا مالک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو یہ معبود ان باطلہ اپنے پوجنے اور پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کے بھی منکر ہوں گے۔ یعنی یہاں تو ان اپاہج معبودوں کا یہ حال ہے کہ کسی کام کے نہیں اور جب قیامت میں ایک میدان میں سب اکٹھے کئے جائیں اور آمنا سامنا ہو تو اپنے پوجنے والوں کے دشمن ہوجائیں اور ان کی عبادت اور ان کی پکار کے منکر ہوجائیں اور اپنی لاعلمی کا اظہار کردیں۔ جیسا کہ سورة یونس کی تفسیر میں گزر چکا ہے ۔ ماکنتم ایانا تعبدون۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

ف 5۔ پس ایسے معبود ین کی عبادت کرنے سے بڑھ کر کیا غلطی ہے کہ عبادت کا مقتضی ایک بھی نہیں اور عدم عبادت کے مقتضی بکثرت متحقق ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب تمام انسانوں کو جمع کیا جائے گا وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے : 2 ؎ اس آیت نے گزشتہ آیت کی خود وضاحت کردی اور اگر تم غور کرو گے تو جو ہم نے گزشتہ آیت کے تحت عرض کیا ہے آپ بھی اس کی تصدیق کریں گے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب قیامت کے روز سارے انسانوں کو جمع کیا جائے گا تو ان میں ان بتوں کو لایا جائے گا تاکہ وہ بھی اپنی کہانی بیان کریں۔ ہرگز نہیں ، انسانوں کو جب جمع کرنے کا دن آئے گا تو کوئی انسان بھی ایسا نہیں ہوگا جو وہاں سے غیر حاضر ہو اس لئے وہاں اگر پکارنے والے ہوں گے تو پکارے جانے والے بھی اور ظاہر ہے کہ وہ ان کو باور کرائیں گے یا اللہ تعالیٰ ان سے استفسار کرے گا جساپ کہ سید نا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–9

Commentary وَمَا أَدْرِ‌ي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, "I do not follow anything but what is revealed to me," has been used here as an 'exception' to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet ﷺ only through…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, they will say: 'We had neither told the people to invoke us for help, nor arc we aware that they used to invoke us. They themselves had preumed that we could fulfil their needs and so had started invoking us."

Read the full tafseer →