46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsانوار البیان

Ayah 46:1
(46:1) حم۔ حروف مقطعات ہیں۔
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

(46:2) ملاحظہ ہو آیت 45:2) متذکرۃ الصدر۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

(46:3) ماخلقنا : میں ما نافیہ ہے۔ الا بالحق۔ استثناء مفرغ۔ بالحق۔ حق کے ساتھ۔ حق پر ۔ مبنی پر حقیقت و حکمت ۔ واجل مسمی۔ موصوف وصفت ۔ معین وقت ۔ موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ مضاف محذوف کا۔ ای بتقدیر اجل مسمی یعنی ایک معین وقت پر قرار پانا۔ اجل وقت مقررہ۔ مسمی اسم مفعول۔ واحد مذکر۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مقرر کردہ۔ نامزدہ۔ نام لیا ہوا۔ (نام رکھنے سے چیز متعین ہوجاتی ہے اجل مسمی ایسا وقت جو مقرر ہوچکا۔ جس کی مدت متعین کی جا چکی ہو۔ اور احل مسمی معطوف ہے جس کا عطف الحق پر ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو مبنی برحق و حکمت اور ایک معین مدت کے لئے پیدا کیا ہے۔ والذین۔ الآیۃ جملہ حالیہ ہے۔ عما۔ مرکب ہے۔ عن حرف جار۔ اور ما موصولہ سے انذروا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ انذار (افعال) مصدر۔ وہ ڈرائے گئے۔ ان کو ڈر سنایا گیا۔ (جس چیز سے یا جس عذاب سے ان کو ڈرایا جاتا ہے وہ اسی سے اعراض کرتے ہیں۔ روگردانی کرتے ہیں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای والذین کفروا معرضون عن الانذار۔ وہ جو کافر ہیں وہ عذاب کے ڈرا وے سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض (افعال) مصدر سے :
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

(46:4) قل : ای قل یا محمد۔ ﷺ ۔ ارأیتم۔ ہمزہ استفہامیہ، تنبیہ کے طور پر آیا ہے۔ رأیتم ماضی جمع مذکر حاضر رؤیۃ (باب فتح) مصدر رای مادہ۔ کیا تم نے دیکھا۔ اخبرونی : یعنی مجھے بتائو تو سہی بھلا تم نے غور سے دیکھا۔ اسی طرح الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تجھے نہیں معلوم، یا ھل تری۔ کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ :۔ ما تدعون من دون اللہ : ما موصولہ ہے تدعون جمع مذکر حاضر، دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارتے ہو۔ تم پوجا کرتے ہو۔ قل : فعل امر، کفار سے مندرجہ ذیل سوال پوچھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ (1) ان سے پوچھئے : کیا جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (خدا سمجھ کر) بھلا تم نے کبھی ان کو (غور سے ) دیکھا ہے۔ (2) ان سے پوچھئے : جو انہوں نے زمین سے پیدا کیا ہے بھلا مجھے بھی تو دکھائو۔ ارونی اراء ۃ (افعال) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، ن وقایہ ۔ ی ضمیر متکلم۔ تم مجھے دکھائو۔ ما ذا۔ ما استفہامیہ ہے اور ذا موصول ۔ یا اگر کلمہ ما ذا واحد لیا جاوے تو ماذا استفہامیہ بمعنی جو ہوگا۔ (3) ان سے پوچھئے :۔ ام لہم شرک فی السموت کیا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا کچھ حصہ ہے۔ (4) ان سے پوچھئے :۔ ایتونی بکتب من قبل ھذا۔ لائو میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے (یعنی قرآن مجید سے قبل) اتری ہو (جس میں من دون اللہ کی پوجا کرنے یا اس کو خالق و معبود ٹھہرانے کی سند ہو) ۔ ایتونی تم میرے پاس لائو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتیان مصدر (باب ضرب) بصلہ ب۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ (5) ان سے پوچھئے ۔ او اثرۃ من علم۔ ای او ایتونی باثرۃ من علم یا لائو میرے پاس کوئی (دوسرا) علمی ثبوت۔ اثرۃ وہ روایت یا تحریر جس کا اثر باقی رہ گیا ہو ۔ ان کنتم صدقین : اگر تم سچے ہو۔ اوپر متذکرۃ الصدر عبارت جواب شرط اور جملہ ہذا شرط۔ شرط کو مؤخر اور جواب شرط کو مقدم لایا گیا ہے۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

(46:5) من : استفہامیہ ہے کون ؟ اضل افعل التفصیل کا صیغہ ہے : زیادہ بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ من استفہام انکاری ہے یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں ہے۔ ممن :۔ من حرف جار اور من موصولہ سے مرکب ہے۔ یدعو مضارع واحد مذکر غائب : دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پکارتا ہے۔ وہ پوجا کرتا ہے۔ یدعو من دون اللہ صلہ ہے اپنے موصول کا اور ضمیر فاعل عائد ہے من موصولہ کی طرف۔ اور یدعوا کا مفعول محذوف ہے ای یدعو معبودا من دون اللہ ترجمہ ہوگا۔ اور کون زیادہ گمراہ ہوسکتا ہے اس (بدبخت) سے جو اللہ کو چھوڑ کر (دوسروں) کی پوجا کرتا ہے۔ من لا یستجیب لہ : من موصولہ ۔ لا یستجیب لہ اس کا صلہ۔ اور اس میں ضمیر فاعل من اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ لا یستجیب۔ مضارع منفی واحد مذکرغائب استجابۃ مصدر (باب استفعال) وہ جواب نہ دے سکے گا۔ الی یوم القیامۃ۔ ای ما داست الدنیا جب تک دنیا باقی ہے۔ قیامت تک ۔ وہم عن دعائہم میں ہم معبود ان باطل کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب معبودان باطل کی پوجا کرنے والوں کی طرف راجع ہے۔ وہم عن دعائہم غفلون جملہ حالیہ ہے : اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :۔ ای اضل ممن یدعوا من دون اللہ اصناما ویطلب منھا مالا تستیعہ الی یوم القیمۃ وھی غافلۃ عما یقول لا تسمع ولا تبصرو لا تبطش لانھا جماد حجارۃ صم۔ یعنی اس آدمی سے زیادہ گمراہ اور کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا ہے اور ان سے ایسی چیز مانگتا ہے جو وہ قیامت تک نہیں دے سکتے۔ اور جو وہ کہہ رہا ہے اس سے وہ غافل ہیں۔ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ پکڑتے ہیں کیونکہ وہ بےجان پتھر ہیں جو بالکل بہرے ہیں ۔ معبودان باطل میں جمادات، نباتات، جانور، ستارے یا سیارے بھی ہوسکتے ہیں جو اپنے پوجنے والوں کی پکار نہ سن سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اور اس میں وہ انسان اور فرشتے بھی شامل ہیں جو کہ اپنے اپنے فرائض منصبی میں مشغول و مصروف ہیں اور ان کو ان باطل پرستوں کی پوجا اور پکار کی خبر ہی نہیں۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

(46:6) واذا حشر الناس۔ وائو عاطفہ ہے اذا ظرف زمان ہے حشر ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب، اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے۔ یعنی قیامت کے روز۔ کانوا لہم اعدائ۔ کانوا میں ضمیر فاعل معبودان باطل کی طرف راجع ہے : اور لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب معبودان باطل کی پوجا کرنے والوں کی طرف راجع ہے ۔ اعداء کانوا کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مطلب یہ کہ جب حشر کے روز لوگ اکٹھے جئے جائیں گے تو یہی معبودان اپنے پجاریوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ضرر پہنچانے کا باعث بنیں گے : وکانوا بعبادتہم کفرین۔ اور معبودان باطل اپنے پجاریوں کی پوجا سے انکار کردیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کانوا کی ضمیر فاعل پجاریوں کے لئے ہو اور ہم معبودان باطل کے لئے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور معبودان باطل کے پجاری قیامت کے دن اپنے باطل معبودون کی پوجا کرنے سے انکار کردیں گے کہ ہم تو ان کی پوجا نہیں کیا کرتے تھے۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

(46:7) واذا۔ اوپر 46:6 ملاحظہ ہو۔ تتلی : مضارع واحد مؤنث غائب تلاوۃ باب نصر، مصدر۔ وہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ایتنا بینت : ایتنا مضاف، مضاف الیہ۔ ہماری آیات، بینت جمع ہے بینۃ کی۔ بمعنی روشن ۔ واضح۔ کھلی، آیات کی صفت ہے۔ ہماری روشن اور واضح آیات۔ للحق۔ سچی بات کو۔ حق کی بابت۔ حق سے مراد آیات ہیں۔ کفروا کے ساتھ صراحۃ للحق کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ آیات حق اور سچ ہیں۔ اور یہ لوگ بلا شبہ کافر، گمراہ اور حق کے منکر ہیں۔ لما جاء ہم میں مبادرت اور عدم تدبر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ حق کی بات یعنی آیات بینات جوں ہی ان کو پہنچیں تو انہوں نے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر غور کئے فورا کہہ دیا کہ یہ (آیات بینات یعنی قرآن) صریح جادو ہے۔ جاء میں ضمیر فاعل حق کی طرف راجع ہے۔ ھذا۔ ای القران (الخازن) الحق۔ سحر مبین۔ موصوف وصفت، کھلا جادو۔ صریح جادو۔ صاف و عیاں جادو۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

(46:8) ام یقولون افتراہ۔ ام بطور حرف اضراب استعمال ہوا ہے۔ انتقال من حکایت شناعتہم السابقۃ الی حکایۃ ما ھو اشنع منھا۔ ان کے ایک قبیح امر سے دوسرے کی طرف انتقال جو پہلے قبیح امر سے بھی قبیح تر ہے، یہ بل (حرف اضراب) کی وہ صورت ہے کہ بل سے ماقبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے ما بعد کو اس حکم اور زیادہ کردیا جائے۔ مثلاً اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ بل قالوا اضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر (21:5) بلکہ انہوں نے کہا کہ یہ خیالات پریشان ہیں بلکہ اس نے (نبی کریم ﷺ نے ) گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔ مطلب یہ کہ ایک تو قرآن کو خیالات پریشاں کہتے ہیں پھر مزید اسے افترا بتاتے ہیں۔ پھر اس پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ (نعوذ باللہ) آپ کو شاعر سمجھتے ہیں۔ ان افتریتہ میں ان شرطیہ ہے افتریت ماضی واحد متکلم افتراء (افتعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ معنی یہ کہ :۔ اگر اس کو میں نے از خود گھڑ لیا ہے (اور اللہ کی طرف اس کو منسوب کردیا ہے ) ۔ القری (باب نصر) کے معنی چمڑے کے سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں۔ اور افراء (افعال) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ افتراء (باب افتعال) کا لفظ اصلاح و فساد دونوں کے لئے آتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد کے لئے ہی ہوتا ہے ، اسی قرآن مجید میں جھوٹ، شرک، ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ لا تملکون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر ملک (باب ضرب) تم اختیار نہیں رکھتے ہو، مطلب یہ کہ :۔ اگر میں نے اس قرآن مجید کو از خود گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام منسوب کردیا ہے تو اس افتراء پر اللہ کی طرف سے مجھ پر جو عذاب آئے گا اس کو تم میرے اوپر سے دفع کرنے کی بالکل قدرت نہیں رکھتے ۔ پھر میں کیوں ایسا کر کے اللہ کا عذاب اپنے اوپر لوں۔ ھو۔ ای اللہ۔ اعلم ۔ علم سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے ۔ وہ خوب جاننے والا ہے۔ بما تفیضون فیہ : ب بمعنی کو، ما موصولہ۔ تفیضون فیہ اس کا صلہ، فیہ کی ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو۔ (ضیاء القرآن) ۔ ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں فیہ کی ضمیر الحق یا القرآن کی طرف راجع ہے اور ترجمہ ہوگا : وہ خوب جانتا ہے جو جو باتیں تم قرآن کے باب میں بنا رہے ہو (ماجدی) وہ باتیں کیا تھیں ؟ کافروں کی وحی من اللہ کے متعلق بدگوئی۔ آیات اللہ کی بابت طعن، ان کو کبھی جادو کہنا اور کبھی من گھڑت قرار دینا۔ تفیضون مضارع جمع مذکر حاضر افاضۃ (افعال) مصدر۔ جس کا استعمال جب باتوں کے متعلق ہوتا ہے تو باتوں میں خوض کرنے اور مشغول ہونے کے معنی ہوتے ہیں۔ تفیضون قرآن مجید میں دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ دوسرا استعمال : اذ تفیضون فیہ (10:61) جب تم کسی (عمل ) میں مصروف ہوتے ہو۔ (ف ی ض) مادہ۔ فاض الماء کے معنی کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا کے ہیں۔ آنسوں کے بہنے کے لئے بھی آیا ہے مثلاً تری اعینہم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔ پانی کے اوپر سے نیچے گرانے کے معنی میں بھی آیا ہے مثلاً ان افیضوا علینا من المائ۔ کہ کسی قدر ہم پر پانی بہائو۔ اور عرفات سے واپسی کے متعلق ارشاد ہے :۔ فاذا افضتم من عرفات (2:198) جب تم عرفات سے واپس ہونے لگو۔ کفی بہ۔ کفی ماضی واحد مذکر غائب کفایۃ (باب ضرب ) مصدر کافی ہونا کفی بہ۔ وہی کافی ہے۔ کفی باللہ شھیدا بطور گواہ اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ یعنی اس کی گواہی دوسروں سے بےنیاز کردیتی ہے۔ کفی بہ یہ فاعل کا قائم مقام ہے۔ یعنی اللہ کافی ہے۔ شھیدا حال ہے، بینی وبینکم :۔ متعلق بہ یا متعلق کفی ہے :۔ فائدہ : اللہ کی شہادت نبی کریم اور منکرین کے متعلق یہ ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے صدق وبلاغ اور مخالفین کے کذب و انکار کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ وھو الغفور الرحیم۔ جملہ حالیہ ہے اور حال یہ ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں اور ایمان لانے والوں کے لئے غفور اور رحیم ہے۔ وہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے :
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

(46:9) قل۔ ای قل یا محمد ( ﷺ ) ۔ ما کنت بدعا۔ بدعا کنت کی خبر ہے اس لئے منصوب ہے۔ بدعا نیا ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اسم فاعل اور اسم مفعول کے معنی میں آتا ہے ۔ چناچہ بعض نے اول معنی بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نئی باتیں کہنے والا اور بعض نے دوسرے معنی میں بمعنی مبدع لیا ہے یعنی نیا بھیجا ہوا۔ کہ جس سے پہلے کوئی پیغمبر نہ آیا ہو۔ قل ما کنت بدعا من الرسل۔ ای قل لہم یا نبی اللہ : ما کنت اول رسول ارسل الی البشر بل قد ارسل اللہ قبلی جمیع الرسل الی البشر فلاوجہ لاستبعادکم رسالتی واستنکارکم ایاھا لان اللہ ارسل قبلی رسلا کثیرۃ۔ وما ادری۔ مضارع منفی واحد متکلم درایۃ (باب ضرب ) مصدر، میں نہیں جانتا ۔ ما یفعل بی۔ میں ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے جو میرے ساتھ کیا جائے گا۔ اور ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ یفعل مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ آیت وما ادری ما یفعل بی ولا بکم : اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ ابن جریر اور متعدد محققین کے مطابق یہ دنیا کے احوال کے متعلق ہے اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ آخرت کے متعلق ہے۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے اتبع مضارع صیغہ واحد متکلم ہے اتباع (افتعال) مصدر۔ میں پیروی نہیں کرتا ہوں۔ میں اتباع نہیں کرتا ہوں۔ ما یوحی۔ ما موصولہ ۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ (سوائے اس کے کہ ) جو (میری طرف) وحی کی جاتی ہے یعنی سوائے اس کے کہ جو پیغام بذریعہ وحی مجھے دیا جاتا ہے۔ نذیر مبین۔ موصوف وصفت۔ نذیر صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر، مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر ابانۃ۔ ظاہر ۔ ظاہر کرنے والا۔ صاف صاف،
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟ ) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(46:10) ارأیتم : کیا تم نے دیکھا۔ کیا تم نے غور کیا۔ اخبرونی بھلا مجھے بتائو تو مجھے بتائو تو سہی۔ ارأیتم ان کان من عند اللہ وکفرتم بہ وشھدنا شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ان اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اس میں عبارت مقدرہ ہے اصل عبارت کچھ یوں ہوگی ! ارأیتم ما ذا تکون حالکم ان کان القران من عند اللہ کفرتم بہ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ ای علیہ انہ من عند اللہ فامن واستکبرتم انتم ولم تؤمنوا الستم ظلمین ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ (خطوط زدہ عبارت مقدرہ ہے) ۔ ماذا تکون حالکم (جواب شرط محذوف) ان کان القران من عند اللہ کفرتم بہ جملہ شرط۔ وائو عاطفہ ہے اور جملہ کفرتم کا عطف جملہ سابقہ پر ہے وشھد شاھد میں وائو حالیہ ہے فامن میںتعقیب کا ہے واستکبرتم میں وائو حالیہ ہے۔ انتم ولم تؤمنوا جملہ حالیہ ہے ولم تؤمنوا کا عطف استکبرتم پر ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ بھلا مجھے بتائو تو، تمہارا کیا حال ہوگا۔ اگر یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہوا اور تم اس سے انکار ہی کرتے رہے۔ حالانکہ گواہی دے چکا ہے بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس پر کہ یہ منزل من اللہ ہے اور پھر وہ ایمان بھی لے آیا۔ اور تم تکبر اور غرور میں رہے اور ایمان نہ لائے کیا تم ظالم نہ ہوئے ؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ ان کان میں ان شرطیہ کان حرف مشبہ بالفعل کان کا اسم (القرآن ) محذوف “ فائدہ : (1) شھد شاھد میں شاہد کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ بعض کے نزدیک یہ آیت عبداللہ بن سلام کے متعلق نازل ہوئی ہے لیکن اس دوسرے گراہ کا اعتراض ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام مدینہ اسلام لائے تھے ۔ اس کے جواب میں اول الذکر کا موقف ہے کہ یہ آیت مدنی ہے بعد میں مکی سورة میں شامل کی گئی بعض کہتے ہیں کہ آیت کا نزول اس مباحثہ کے سلسلہ میں ہوا جو رسول اللہ ﷺ نے قریش سے کیا تھا۔ اس صورت میں شاہد سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں گے اور مثلہ سے مراد ہوگی توریت : اور شہادت سے مراد ہوگی توریت کی وہ صراحت جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے متعلق اللہ نے کردی تھی۔ توریت کے اندر وہ مضامین ہیں جو قرآن کی تصدیق کر رہے ہیں۔ مثلہ میں لفظ مثل زائد ہے اور مثلہ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف راجع ہے۔ یا اگر لفظ مثل زائد نہیں ہے تو عربی کے اسلوب بیان میں مثل کا اطلاق بنفسہ اسی ذات پر جائز ہے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ مثلک لا یفعل ھذا (تیرے جیسا شخص یہ فعل نہیں کرتا ) ای لا ینبغی لک انت ان تفعلہ مطلب یہ کہ تیری شان کے لائق نہیں کہ تو یہ فعل کرے۔ تو یہ فعل نہیں کرتا۔ لہٰذا یہاں مثلہ سے مراد علی ھذا القران ہے۔ معنی ہوئے۔ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی ان ھذا القران وحی منزل حقا من عند اللہ۔ حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ یہ گواہی دے چکا ہے کہ یہ قرآن سچ مچ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لا یھدی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر وہ ہدایت نہیں کرتا۔ القوم الظلمین۔ موصوف وصفت مل کر مفعول فعل لا یھدی کا۔ ظالم لوگوں کو۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

(46:11) الذین کفروا۔ میں اشارہ سرداران قریش ، رؤسا، یہود اور کفار مکہ کی طرف ہے۔ للذین۔ ای فی شأنہم ان کے متعلق۔ ان کی بابت۔ لو کان خیرا۔ ای لوکان ھذا الدین او ھذا القران خیرا۔ اگر یہ دین یا قرآن حق ہوتا، بہتر چیز ہوتا۔ خیرا خبر ہے کان کی، جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ما سبقونا الیہ : جواب شرط۔ (یہ) ہم پر اس دین کی طرف بڑھنے میں سبقت نہ لے جاتے۔ اذ : جب، اسم ظرف زمان ہے اذ کبھی مفاجات یعنی کسی بات کے اچانک واقع ہونے کے لئے بھی آتا ہے اور کبھی تعلیل یعنی کسی چیز کی علت اور سبب بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم (43:39) اور کچھ فائدہ نہیں تم کو آج کے دن جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے۔ یعنی تمہارے ظلم کے سبب آج تم کو نفع کچھ بھی نہیں ہوسکتا : آیت ہذا میں اذ تعلیل کے لئے آیا ہے اذ لم یھتدوا بہ : کیونکہ قرآن سے ان کو ہدایت نصیب ہوئی (تو اب یہ کہیں گے) ۔ لم یھتدوا بہ۔ لم یھتدوا مضارع منفی حجد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ہدایت نہ پائی۔ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع دین یا قرآن ہے۔ فسیقولون۔سببیہ ہے ۔ تو یہ اب کہیں گے (یعنی پہلا کلام اس کلام کا سبب ہے اور یہ کلام ہدایت یاب نہ ہونے کا نتیجہ ہے ) ظہور عناد اور گمراہی اسی بات کے کہنے کا سبب ہے ۔ ھذا۔ ای القران۔ افک قدیم۔ موصوف صفت : پرانا جھوٹ۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

(46:12) ومن قبلہ کتب موسی۔ وائو حالیہ ہے من قبلہ خبر مقدم کتب موسی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا مؤخر۔ حالانکہ اس سے قبل کتاب موسیٰ (توراۃ) آچکی تھی۔ (امام اور رحمت بن کر) من قبلہ میں ضمیر ہ کا مرجع القرآن ہے، اماما درحمۃ حال۔ بصورت امام ورحمت ، امام بن کر اور رحمت بن کر۔ امام ا م م مادہ) وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے۔ خواہ وہ انسان ہو کہ اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے۔ یا کتاب وغیرہ ہو۔ اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو۔ اس کی جمع ائمۃ (افعلۃ) ہے۔ رحمۃ۔ رحمت بن کر۔ یعنی اس شخص کے لئے رحمت بن کر جو اس پر ایمان لایا اور اس کے احکام پر عمل کیا۔ ھذا۔ ای قران۔ کتب مصدق : موصوف وصفت، مصدق اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ تصدیق (تفعیل) مصدر سے۔ تصدیق کرنے والی۔ سچا بتانے والی، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت کی تصدیق کرتی ہے یا جمیع کتب سماوی جو اس سے قبل اللہ کی طرف سے اس کے رستادہ رسولوں پر نازل ہوئیں ان کی تصدیق کرتی ہے “۔ لسانا عربیا۔ کتب مصدق میں کتب کی ضمیر سے حال ہے ای حال کونہ بلسان عربی درآں حالیکہ وہ زبان عربی میں ہے جو دیگر زبانوں سے افضل ترین زبان ہے۔ بمصداق ارشاد ربانی : لتکون من المنذرین بلسان عربی مبین (26:194: 195) تاکہ تم (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو فصیح عربی زبان میں۔ اور قرانا عربیا غیر ذی عوج (39:28) یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ لینذر۔ لام تعلیل کا ہے ینذر مضارع معروف (منصوب بوجہ عمل لام ) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ انذار (افعال) مصدر۔ تاکہ وہ ڈرائے (نافرمانی کے نتیجہ بد سے) ضمیر فاعل کتاب یا اللہ یا رسول کسی کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ الذین ظلموا۔ موصول وصلہ مل کر مفعول فعل ینذر کا۔ وبشری۔ وائو عاطفہ، بشری فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے ای و لیبشر بشری تاکہ خوشخبری دیوے (محسنین کو) ۔ المحسنین۔ احسان سے اسم فاعل جمع مذکر ، نیکی کرنے والے۔ یہاں محسنین بمقابلہ الذین ظلموا آیا ہے۔ اول الذکر سے مراد کفار اور ثانی سے مراد مومنین ہیں۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

46:13) استقاموا ماضی جمع مذکر غائب، استقامۃ (استفعال) مصدر۔ وہ قائم رہے۔ وہ ثابت قدم رہے ۔ استقامۃ کے معنی راستہ کے خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں۔ بالکل سیدھا راستہ ، تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ (1:5) ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔ فلا خوف علیہم۔ یعنی مرنے کے بعد ان کو کوئی خوف نہ ہوگا۔ ولا ہم یحزنون۔ اور نہ کسی مرغوب شے کے فوت ہونے کا ان کو غم ہوگا۔ لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا الخ (41:30) ۔
Ayah 46:14

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

(46:14) اولئک : اسم اشارہ ۔ جمع مذکر ۔ مشار الیہم وہ اصحاب ہیں جن میں مندرجہ بالا اوصاف ہوں گے۔ (1) قالوا ربنا اللہ۔ (2) ثم استقاموا۔ جزاء : مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا۔ ای یجزون جزاء ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ بما کانوا یعملون۔ ب سببیہ ۔ کانوا یعملون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب ۔ بہ سبب ان اعمال کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اسکو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں انکا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (و تقوٰی) دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

(46:15) وصینا : ماضی جمع متکلم۔ توصیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم نے حکم دیا (وصیت کا فاعل جب اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا معنی فرض کرنا اور حکم دینا ہوتا ہے، و ص ی مادہ۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنے کے ہیں وصیت کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جیسے ووصی بھا ابراہیم بنیہ و یعقوب (2:132) اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اس بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی۔ نصیحت، حق بات کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے مثلاً وتواصوا بالحق وتواصو بالصبر (103:3) اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔ الانسان کے متعلق دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ال عہد کا ہے اور اس سے مرا ایک خاص انسان یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں ہی ہوا ہو۔ بوالدیہ۔ اپنے والدین کے ساتھ۔ یعنی ماں باپ ہر دو کے ساتھ۔ احسانا۔ یہ وصینا کا مفعول ثانی ہے۔ (الانسان) مفعول اول ہے لہٰذا منصوب ہے احسان نیکی کرنا۔ بروزن (افعال) مصدر ہے۔ احسان دو معنوں میں آتا ہے ایک غیر کے ساتھ بھلائی کرنے کے لئے جیسا کہ اس آیت میں ہے : دوسرے کسی اچھی بات کے معلوم کرنے اور نیک کام کے انجام دینے کے لئے جیسے الذی احسن کل شیء خلقہ (32:7) جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح انجام دیا۔ (پیدا کیا) ۔ حملتہ۔ حملت ماضی واحد مؤنث غائب : ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس (عورت) نے اس (انسان) کو اٹھایا ۔ یعنی پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ حمل بوجھ، پیٹ کا بچہ، حمال بوجھ اٹھانے والا۔ حاملۃ بوجھ اٹھانے والی۔ پیٹ میں بچہ رکھنے والی۔ کرھا۔ تکلیف سے، ناگواری کے ساتھ برداشت کر کے۔ بحالت ناگواری ، حال ہے۔ وضعتہ : وضعت ماضی واحد مؤنث غائب وضع (باب فتح) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس (عورت) نے اس (الانسان ) کو جنا۔ حملہ۔ اس کا حمل میں رہنا۔ مضاف مضاف الیہ (حمل کی مدت) ۔ فصلہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا دودھ چھڑانا۔ (پیدائش سے دودھ چھڑانے تک کی مدت) ۔ ثلثون شھرا۔ تیس مہینے۔ حتی۔ حرف جر ہے اور انتہاء غایت کے لئے آتا ہے ۔ جب تک، یہاں تک اس سے قبل فعل محذوف ہے ای استمرت حیاتہ وہ زندہ رہا (حتی کہ ادھیڑ عمر کو پہنچا اور اس کی قوت وعقل پختہ ہوگئی) ۔ اذا جب۔ بلغ۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ پہنچا۔ بلوغ اور بلاغ (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی انتہائی مقصد اور انتہا تک پہنچنے کے ہیں خواہ وہ مقصد ومنتہیٰ کوئی مقام ہو یا وقت یا کوئی اور شے۔ اشدہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول بلغ کا۔ اشد قوت وتمیز اور عقل کا پختگی کو پہنچنا۔ مکمل ہوجانا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جیتا رہا یہاں تک کہ جب وہ عقل وقوت کی پختگی کو پہنچ گیا۔ اور چالیس برس کا ہوگیا۔ رب۔ ای یا ربی۔ اے میرے رب، اے میرے پروردگار۔ اوزعنی۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر، ایزاع (افعال) مصدر، جس کے معنی کسی چیز پر جما دینے اور الہام کرنے کے ہیں۔ ن وقایہ، اور ی ضمیر واحد متکلم کے لئے۔ تو مجھے توفیق عطا فرما۔ تو میری قسمت میں کر دے۔ الوزع کے معنی روکنے اور منع کرنے کے ہیں۔ المفردات میں ہے :۔ وزعتہ عن کذا۔ کے معنی کسی آدمی کو کسی کام سے روک دینا کے ہیں۔۔ رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی۔ اے پروردگار مجھے توفیق عنایت کر کہ جو احسان تو نے مجھ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں۔ بعض نے اوزعنی کے معنی الھمنی کئے ہیں۔ یعنی مجھے شکر گذاری کا الہام کر۔ مگر اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مجھے شکر گذاری کا اس قدر شیفتہ بنا دے کہ میں اپنے نفس کو تیری ناشکری سے روک لوں۔ اور یوم یحشر اعداء اللہ الی النار فہم یوزعون (41:19) جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو سب ترتیب وار کر لئے جائیں گے۔ اس میں یوزعون سے مراد انہیں عقوبت کے طور پر روک لینا ہے۔ ان۔ مصدریہ ہے اشکر مضارع کا صیغہ واحد متکلم ہے مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ کہ میں تیرا شکر ادا کروں۔ ترضہ۔ ترضی۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ رضی (باب سمع) مصدر سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تو اس سے راضی ہو۔ تو اس کو پسند کرے۔ اصلح لی۔ اصلح۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اصلاح (افعال) مصدر (میرے لئے) صلاحیت پیدا کر دے (میری اولاد میں) یعنی میری اولاد کو بھی توفیق خیر دے اور محل صالحیت بنا دے۔ وانی من المسلمین۔ اور بیشک میں تیرے فرمانبرداروں میں سے ہوں اس جملہ میں وانی مسلم سے زیادہ انکساری ہے
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم نے قبول کرینگے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

(46:16) اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ اس میں الانسان کی طرف اشارہ ہے اور جمع کا صیغہ اس لئے لایا گیا ہے کہ الانسان سے مراد جنس انسان ہے جو اوصاف بالا سے متصف ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں۔ نتقبل : مضارع جمع متکلم تقبل (تفعل) مصدر۔ ہم قبول کرلیں گے۔ احسن ما عملوا۔ صاحب تفسیر مظہری اس جملہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ احسن : فعل مباح حسن (اچھا) تو ضرور ہوتا ہے لیکن اس سے ثواب نہیں ملتا اور آیت میں وہ اعمال مراد ہیں جن کا ثواب دیا جائے گا۔ اس لئے ان اعمال کو احسن (بہت اچھے) فرمایا۔ یا دوسروں کے اعمال سے ان کے اعمال کو بہتر قرار دے کر قبول کرنے کا وعدہ فرمایا۔ اس وقت صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہوگی ، یعنی ہم ان کے وہ اعمال قبول کرتے ہیں جو دوسروں سے بہتر ہوتے ہیں۔ تفسیر روح البیان میں ہے :۔ ولا یلزم منہ ان لا یتقبل منہم الاعمال الحسنۃ بل یکون فیہ اشارۃ الی ان کل اعمالہم احسن عند اللہ (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے اعمال حسنہ قبول نہیں کئے جائیں گے بلکہ اس میں اشارہ ہے کہ ان کے سارے اعمال اللہ کے نزدیک احسن ہیں۔ تفسیر جلالین میں ہے :۔ احسن بمعنی حسن اور یہی راجح ہے، مطلب یہ کہ جو فعل ان کا اچھا ہے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور جو سیۂ (برا) ہے۔ اس سے درگذر کیا جائے گا۔ و تجاوز عن سیئاتہم۔ نتجاوز : مضارع جمع متکلم تجاوز (تفاعل) مصدر۔ بمعنی درگذر کرنا۔ (تجاوز کرنا) اور ہم ان کی برائیوں سے درگذر کریں گے۔ فی اصحاب الجنۃ۔ ای ہم فی جملۃ اصحاب الجنۃ واعدادہم یعنی وہ جملہ اہل جنت میں سے ہوں گے ان کا شمار جنتیوں میں ہوگا۔ وعد الصدق : وعد مصدر منصوب بوجہ مفعول۔ الصدق سچ، صداقت مضاف مضاف الیہ۔ سچ کا وعدہ، سچا وعدہ۔ (سچی بات، یعنی نیکیوں کی جزا اور برائیوں سے درگذر) ۔ وعد الصدق سے قبل عبارت محذوف ہے ای تجزلہم وعد الصدق ہم نے پورا کردیا ان کے ساتھ سچا وعدہ۔ یعنی مومنوں کے نیک کام کی جز ادیں گے اور ان کی برائیوں سے درگذر کریں گے۔ الذی کانوا یوعدون جو ان سے کیا جاتا تھا۔ (دنیا میں) یہ وعد الصدق کی تعریف ہے۔ کانوا یوعدون ماضی استمراری مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب “۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اف اف ! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤنگا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کمبخت ایمان لا خدا کا وعدہ تو سچا ہے تو کہنے لگے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

(46:17) والذی قال لوالدیہ۔ آیات 15 ۔ 16 میں بندۂ مومن کا کردار ادا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کا اطاعت گذار اور اپنے والدین کا فرمانبردار ہوتا ہے جن گوناگوں نعمتوں سے اسے سرفراز کیا جاتا ہے ان کا شکریہ اد ا کرتا رہتا ہے۔ اب ایسے شخص کا کردار بیان کیا جا رہا ہے جسے آخرت پر ایمان نہیں اور اپنے خالق سے روگرداں ہے اپنے ماں باپ کا گستاخ ہے۔ انہیں بات بات پر جھڑکتا ہے اگر وہ اس کی اصلاح احوال کے لئے کوشش کرتے ہیں تو ان کا مذاق اڑاتا ہے ان کو احمق اور بیوقوف سمجھتا ہے (جب وہ اسے اللہ تعالیٰ کے وعدہ حق یعنی حیات بعد الممات، اعمال نیک کی جزا اور اعمال بد کی سزا۔ بہشت اور دوزخ کی بات کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ کچھ نہیں محض پہلے لوگوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں) تفسیر حقانی۔ والذی قال لوالدیہ اف لکما اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی۔ الذی بمعنی الذین ہے اور اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان اور کج بحث ہے۔ الذی بمعنی الذین کی مثالیں کلام عرب اور قرآن مجید میں متعدد ملتی ہیں جیسے کہ سورة البقرہ میں ہے مثلہم کمثل الذی اس تو قد نارا فلما اضاءت ما حولہ ذھب اللہ بنورہم وترکہم فی ظلمت الا یبصرون (2:17) بنورہم اور ترکہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب اور یبصرون میں ضمیر جمع مذکر غائب سے صریحا ثابت ہے کہ الذی سے مراد الذین ہے۔ ایسی اور کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اف۔ ہوں۔ اصل میں اف ہر قسم کے میل کچیل (جیسے ناخن کا تراشہ وغیرہ) کو کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے کسی چیز کے متعلق گرانی اور نفرت کے اظہار کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اصمعی کا بیان ہے کہ اف کان کا میل ہے اور ثف ناخن کا۔ کسی چیز سے گھن ظاہر کرتے وقت اف کہا جاتا ہے چناچہ اس معنی میں یہ کثرت سے بولا گیا کہ ہر اذیت رساں چیز کے بارے میں اہل عرب اس کا استعمال کرنے لگے۔ یہ یا تو اسم فعل ہے یا اسم صوت جو تنگ دلی اور گرانی کو بتاتا ہے۔ افسوس ہے تم دونوں پر۔ اتعدنی۔ تم دونوں مجھے وعدہ دیتے ہو۔ ڈراتے ہو یا دھمکی دیتے ہو۔ تعدان مضارع کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر۔ ن اول تثنیہ کا اور دوسران وقایہ کا ہے اور ی ضمیر واحد متکلم۔ کیا تم دونوں مجھے (اس بات پر) ڈراتے ہو کہ قبر سے دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائوں گا۔ اس میں استفہام سوالیہ نہیں بلکہ انکاریہ توبیخیہ ہے۔ اف کہنے کی وجہ کو ظاہر کر رہا ہے۔ وقد خلت القرون من قبلی۔ وائو حالیہ ہے جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اس کے بعد عبارت محذوف ہے ای ولم یرجع بعد ان مات۔ مرنے کے بعد کوئی واپس نہیں آئی۔ قد خلت ماضی کے ساتھ قد تحقیق کا معنی دیتا ہے۔ خلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب خلو (باب نصر) مصدر۔ وہ گذر گئی۔ یہاں جمع کے لئے آیا ہے۔ گذر گئیں۔ القرون : قرن کی جمع۔ زمانے، صدیاں ، جماعتیں۔ قومیں ۔ یہاں قومیں مراد ہیں ۔ ترجمہ :۔ اور حال یہ ہے کہ مجھ سے پہلے گئی قومیں مٹ گئیں اور موت کے بعد کوئی بھی واپس نہیں آئی۔ وھما یستغیثن اللہ۔ جملہ حالیہ ہے اللہ مفعول ہے یستغیثن کا۔ یستغیثن فعل مضارع تثنیہ مذکر غائب “ استغاثۃ (استفعال) مصدر۔ فریاد کرنا۔ درآں حالیکہ وہ دونوں اللہ سے (نالائق اولاد کے کفر والحاد) سے گھبرا کر) فریاد کر رہے ہوتے ہیں (کہ اللہ کرے ان کا لڑکا راہ حق اختیار کرے اور بعث بعد الموت پر ایمان لے آئے) ۔ ویلک مضاف مضاف الیہ۔ تیری کم بختی، ارے اے کمبخت، امن ، امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، ایمان (باب نصر) مصدر سے۔ تو ایمان لے آ۔ ای امن باللہ والبعث بعد الموت۔ یعنی اللہ پر اور بعث بعد الموت پر ایمان لے آ۔ ویلک امن سے قبل ویقولان لولدھما (اور کہتے ہیں اپنے لڑکے سے ) محذوف ہے۔ ان وعد اللہ حق۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ وعدہ سے مراد وعدہ بعث بعد الموت ہے۔ فیقول۔ ای فیقول ذلک الولد العاق المنکر للبعث وہ نافرمان منکر بعث بعد الموت لڑکا جواب دیتا ہے۔ ما ھذا۔ ما نافیہ ہے ھذا کا اشارہ اسی بعث بعد الموت اور عذاب آخرت کی طرف ہے۔ ای ان الذی تعدننی ایاہ من البعث بعد الموت۔ جس بعث بعد الموت کا تم مجھ کو ڈراوا دے رہے ہو وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ الا اساطیر الاولین۔ الا حرف استثناء مگر “۔ سوائے اس کے کہ اساطیر الاولین۔ مضاف مضاف الیہ۔ اساطیر اسطورۃ کی جمع۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے اسطورہ کہلاتی ہے۔ یہ وعدہ آخرت و عذاب آخرت کچھ بھی نہیں سوائے پہلے لوگوں کی من گھڑت باتوں کے۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) امتوں میں سے جو ان کے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ تحقیق ہوگیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

(46:18) اولئک۔ اسم اشارہ جمع مذکر ۔ مشار الیہم وہ لوگ ہیں جو نافرمان اور بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔ جن کا ذکر والذی قال لوالدیہ اف لکما۔۔ الآیۃ میں اوپر مذکور ہوا ہے۔ حق ماضی واحد مذکر غائب حق باب ضرب ، نصر، مصدر کسی چیز کا ثابت ہونا۔ یقینی ہونا۔ یہاں بمعنی حق ہوا۔ ثابت ہوا۔ ثابت ہو کر رہا۔ القول۔ وھو قولہ تعالیٰ لابلیس۔ قال فالحق والحق اقول لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (38:84:85) حق یہ ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں۔ کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ فی امم۔ فی بمعنی متعلق۔ امم جمع امۃ کی۔ گذشتہ کافر امتوں کے بارے میں القول فی امم وعدہ عذاب جن وانس کی ان امتوں کی بابت جو ان سے قبل گزر چکیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر وہ وعدہ عذاب پورا ہوکر رہا۔ جو ان سے قبل جنوں اور انسانوں کی امتوں کی بابت تھا۔ قد خلت۔ جو گذر چکیں۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 17 متذکرہ بالا۔ من الجن والانس۔ یہ امم کا بیان ہے۔ انہم کانوا خسرین۔ بیشک یہ خسارہ پانے والے ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہی لوگ ہیں جن کی طرف اولئک میں اشارہ ہے۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہونگے انکے مطابق سب کے درجے ہوں گے غرض یہ ہے کہ ان کو انکے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

(46:19) ولکل۔ ای لکل واحد من الفریقین المذکورین، مذکورہ بالا ہر دو فریقین میں سے ہر ایک کے لئے۔ وہ دونوں فریقین کون سے ہیں :۔ (1) فریق اول : مذکورہ فی آیت : اولئک الذین نتقبل عنہم۔ فریق دوم : اولئک الذین حق علیہم القول۔ یا (2) فریق اول :۔ الذین قالوا ربنا اللہ۔۔ فریق دوم :۔ الذی قال لوالدیہ اف۔۔ مما۔ مرکب من بیانیہ اور ما موصولہ سے۔ ای من الذی عملوہ من الخیر والشر۔ ترجمہ :۔ اور جو (اچھے یا برے) اعمال انہوں نے کئے اس کے مطابق ان میں سے ہر ایک کے لئے درجات (مرتبے) ہوں گے ولیوفیہم وائو عاطفہ ہے لام تعلیل کا۔ یوفی مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب : ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے توفیۃ (تفعیل) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کل کے لئے ہے (یہ درجہ بندی اس لئے کہ ) وہ ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا بدلہ دے۔ اعمالہم مفعول ثانی ہے یوفی کا۔ لہٰذا منصوب ہے ۔ وہم لا یظلمون۔ جملہ حالیہ ہے درآں حالیکہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی نہ کسی کے ساتھ نیک کام کا ثواب میں کمی کی جائے گی۔ اور نہ برے کام کی سزا میں زیادتی برتی جائے گی۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اسکی کہ بدکرداری کرتے تھے

(46:20) ویوم : وائو عاطفہ ہے یوم مفعول فعل محذوف کا۔ ای اذکر الیوم اور یاد کرو اس دن کو جس دن کہ :۔ یا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعرض الذین کفروا علی النار۔ یعرض مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ عرض (باب ضرب) مصدر (جمع کے معنی میں) پیش کئے جائیں گے۔ اذھبتم طیبتکم : اس سے قبل جملہ قیل لہم محذوف ہے۔ (ان سے کہا جائے گا۔ طیبتکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری لذت کی چیزیں) تمہاری نعمتیں تم لے چکے ہو اپنی نعمتوں کا لطف، اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلا تعضلوہن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن (4:19) تم ان کو اپنے گھروں میں نہ روک رکھو کہ اس طرح مہر وغیرہ کی کچھ رقم ان سے واپس لے لو۔ استمتعتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر استمتاع (استفعال) مصدر۔ تم کام میں لائے۔ تم نے فائدہ اٹھایا۔ بھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب طیبت کی طرف راجع ہے تم ان (نعمتوں) سے اپنی دنیا کی زندگی میں لطف لے چکے ہو۔ فالیوم۔ پس آج کے دن، پس آج۔ تجزون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر، جزاء (باب ضرب) مصدر۔ تم جزاء دئیے جائوگے۔ تم بدلہ دئیے جائو گے۔ عذاب الھون۔ اسم۔ ذلت، رسوائی۔ خواری، رسوائی وذلت کا عذاب یعنی وہ عذاب جس میں تمہاری ذلت و تحقیر ہے۔ بما۔ میں باء سببیہ ہے اور ما مصدریہ یعنی باطل طور پر بڑا بننے اور اللہ کی اطاعت سے خارج ہونے کی وجہ سے۔ کنتم تستکبرون ماضی استمراری۔ جمع مذکر حاضر، استکبار (استفعال) مصدر۔ تم گھمنڈ کیا کرتے تھے ۔ تم تکبر کیا کرتے تھے وبما کنتم تفسقون اور بوجہ اس کے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔ تفسقون مضارع جمع مذکر حاضر فسوق (باب نصر) مصدر۔ بمعنی خدا کے فرمان سے باہر ہونا۔ نافرمانی کرنا۔ فسق کرنا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

(46:21) واذکر۔ وائو عاطفہ اذکر امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ ذکر باب نصر ۔ مصدر۔ تو یاد کر ۔ تو ذکر کر۔ تو ذکر سنا۔ اخا عاد۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اذکر کا۔ تو یاد کر، قوم عاد کے بھائی (ہود) کو۔ یا تو ذکر سنا (ان کو یعنی کفار مکہ کو :۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے قوم عاد کے بھائی ہود کا۔ اذ انذر قومہ۔ اذ۔ جب ۔ ظرف زمان، انذر ماضی واحد مذکر، غائب انذار (افعال) مصدر۔ اس نے ڈرایا۔ قومہ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول انذر کا، جب اس نے اپنی قوم (والوں) کو ڈرایا۔ بالاحقاف۔ ای فی الاحقاف “ احقاف میں۔ یعنی جو احقاف میں رہتی تھی۔ الاحقاف حقف کی جمع ہے۔ حقف ریت کے اس ٹیلے کو کہتے ہیں جو مستطیل ہو اور مرتفع ہو لیکن قدرے منحنی ہو۔ قوم عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے یہ حضر موت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے شرق میں عمان اور شمال میں ” ربع خالی “ ہے جسے صحرائے اعظم الدھنا بھی کہتے ہیں گو ” ربع خالی “ آبادی کے لائق نہیں تاہم اس کے اطراف میں کہیں کہیں آبادی کے قابل کچھ کچھ زمین ہے خصوصاً اس حصہ میں جو حضر موت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے اگر چہ اس وقت وہ بھی آباد نہیں ہے اور بجز ریت کے ٹیلوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ تاہم قدیم زمانے میں اسی حضر موت اور نجران کے درمیانی حصہ میں ” عاد ارم “ کا مشہور قبیلہ آباد تھا۔ جس کو خدا نے آس کی نافرمانی کی پاداش میں آندھی کا عذاب بھیج کر نیست ونابود کردیا تھا۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ جملہ معترضہ ہے۔ خلت ملاحظہ ہو آیت 17 ۔ متذکرہ بالا۔ النذر جمع ہے نذیر کی۔ ڈرانے والے یعنی پیغمبر۔ بین بمعنی بیچ، درمیان اسم ظرف مکان ہے من بین یدیہ۔ یدیہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ہوا اپنے مضاف بین کا۔ پھر یہ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوئے من حرف جار کے۔ لفظی معنی ہوں گے اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان سے۔ یہاں بمعنی من قبلہ آیا ہے۔ بمعنی اس سے پہلے۔ یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) سے پہلے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) وغیرہ۔ من خلفہ۔ خلفہ مضاف مضاف الیہ۔ من حرف جار۔ اس کے پیچھے۔ اس کے بعد حضرت ہود کے بعد جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت لوط (علیہ السلام) وغیرہم۔ مطلب یہ کہ حضرت ہود (علیہ السلام) سے پہلے بھی (اپنی اپنی امتوں کو) ڈرانے والے گذر چکے تھے ۔ اور ان کے بعد بھی گذرے۔ ان لا تعبدوا الا اللہ۔ الا ان مفسرہ اور لام نہی سے مرکب ہے : ان مفسرہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں ، لفظی طور پر یا معنوی طور پر۔ یہاں پر عبارت یوں ہے۔ اذ انذر قومہ بالاحقاف الا تعبدوا الا اللہ۔ انذار میں قول کے معنی معنوی طور پر موجود ہیں۔ جب اس نے اپنی قوم کو جو ارض احقاف میں تھی یہ کہتے ہوئے ڈرایا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم۔ میں تمہارے متعلق ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یوم عظیم موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ عذاب مضاف، مضاف مضاف الیہ مل کر۔ مفعول فعل اخاف کا۔ یعنی اگر اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو گے۔ تو مجھے تمہارے متعلق یوم عظیم کے عذاب کا ڈر ہے کہ تم اس دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائو جس کی مصبیت بہت بڑی ہوگی۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ

(46:22) اجئتنا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے جئت ماضی واحد مذکر حاضر۔ مجیی (باب ضرب) مصدر نا ضمیر جمع متکلم کیا تو ہمارے پاس (اس ارادہ سے ) اجئتنا میں استفہام (سوالیہ نہیں ) تقریری ہے لتأفکنا۔ لام تعلیل کا ہے تأفک مضارع منصوب بوجہ عمل لام واحد حاضر افک (باب ضرب ) مصدر سے۔ قاموس میں ہے کہ افک باب ضرب، سمع، دونوں سے آتا ہے اور مصدر افک الف کے کسرہ اور فتحہ اور فاء کے سکون اور حرکت سے جھوٹ بولنے کے معنی میں آتا ہے اور افک عنہ۔ یعنی جب عن کے صلہ کے ساتھ آئے تو معنی ہوں گے پھیرنے بدلنے، اور مراد سے محروم کرنے کے۔ امام راغب کہتے ہیں کہ افک کا استعمال ہر اس شے کے متعلق ہوتا ہے جو اپنے اصلی رخ سے پھیر دی گئی ہو اسی بناء پر ہوائوں کو جو اپنے اصلی رک چلنے کا چھوڑ دیں مؤتفکات کہتے ہیں۔ اور اعتقاد حق سے باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے اعمال سے برے اعمال کی طرف پلٹنے کے لئے انی یؤفکون بولا گیا ہے آیۃ شریفہ ہذا (آیت 22) (کافروں نے کہا کہ کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہم کو ہمارے معبودون سے پھیردے ) میں افک کا استعمال ان کے اعتقاد کے اعتبار سے ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے اعتقاد باطل میں دعوت توحید کو حق سے برگشتگی سمجھتے تھے۔ بما تعدنا : میں ما موصولہ ہے : تعد واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ وعد باب ضرب، مصدر، جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے یا جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے۔ یہاں وعید کے معنی مراد ہیں۔ پس لے آئو ہم پر عذاب کو جس کا تم ہمیں ڈراوا دیتے ہو۔ ان کنت من الصدقین۔ اگر تم سچے ہو ۔ جملہ شرط ہے۔ جواب شرط مقدم ، ای فاتنا بما تعدنا۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو جو (احکام) دیکر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

(46:23) قال۔ ای قال ھود۔ العلم۔ یعنی عذاب کے وقت کا علم۔ وابلغکم ما ارسلت بہ۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ ابلغکم۔ ابلغ مضارع واحد متکلم تبلیغ (تفعیل ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر میں تم کو پہنچاتا ہوں ما موصولہ ارسلت مضارع مجہول واحد متکلم ارسال (افعال ) مصدر میں بھیجا گیا ہوں بہ ب کے صلہ کے ساتھ بمعنی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما کی طرف راجع ہے ارکم۔ اری مضارع واحد متکلم رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ میں دیکھتا ہوں ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہیں دیکھتا ہوں۔ میں تمہیں پاتا ہوں۔ قوما۔ لوگ، جاعت۔ تجھلون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر جھل (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی نادان ہونے، نہ جاننے اور جہالت کرنے کے ہیں۔ جھل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) نفس انسانی کا علم سے خالی ہونا۔ یہ اس کے اصل معنی ہیں۔ (2) کسی چیز کے متعلق اس بات کا اعتقاد رکھنا جو اس میں نہ ہو۔ (3) کسی چیز کا اس طرح پر کرنا جس طرح کرنے کا حق نہ ہو۔ خواہ اس چیز کے متعلق صحیح اعتقاد رکھے یا غلط۔ جیسے قصدا نماز چھوڑ دینا۔ جاہل کا اکثر ذکر تو بر سبیل مذمت ہی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی بغیر مذمت کے بھی ہوتا ہے جیسے یحسبہم الجاھل اغنیاء من التعفف : (2:273) نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون لیکن میں تم کو ایسے لوگ پاتا ہوں کہ تم نری جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ (کہ ایک تو توحید کو قبول نہیں کرتے۔ پھر اپنے منہ سے بلا مانگتے ہو پھر مجھ پر اس کی فرمائش کرتے ہو۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) انکے میدان کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی اندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے

(46:24) فلما راوہ۔ فلما۔ پھر جب : راد ماضی جمع مذکر غائب، راوماضی جمع مذکر غائب، رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ رأو اصل میں رایوا تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح یاء کو الف سے بدلا۔ اب الف اور وائو دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا۔ راوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب بما تعدنا میں ما کی طرف راجع ہے۔ عارضا۔ ابر، بادل۔ عرض سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عارض وہ بادل جو فضا کے عرض میں پھیلتا اور نمایاں ہوتا ہے۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے یا بوجہ تمیز ہونے کے۔ مستقبل اودیتہم : مستقبل اسم فاعل واحد مذکر استقبال (استفعال) مصدر۔ سامنے آنے والا۔ مضاف۔ اودیتہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ مستقبل کا۔ اودیۃ جمع ہے وادی کی۔ نالے۔ وادیاں۔ ان کی وادیوں کی طرف بڑھتا ہوا ۔ ان کی وادیوں کے مقابل آتا ہوا۔ دیکھا۔ ممطرنا۔ ممطر اسم فاعل واحد مذکر۔ امطار (افعال) مصدر۔ مطر مادہ۔ بارش کرنے والا۔ مینہ برسانے والا۔ مضاف ۔ نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ ہمارا مینہ برسانے والا۔ ہمارے لئے مینہ برسانے والا۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا۔ کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ مستقبل اودیتہم : اور ممطرنا ہر دو میں اضافت لفظیہ ہے (روح المعافی، بیضاوی) اضافت مجازیہ غیر معترفہ ہے (کشاف) بل ھو سے قبل کلام مقدرہ ہے ای قال ھود بل ھو : قال اللہ ردا علیہم (الخازن) بل حرف اضراب ہے ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی سرکش قوم کے اس قول پر کہ یہ افق سے امنڈتا ہوا جو بادل ہماری وادیوں کی جانب بڑھتا آرہا ہے ہمارے لئے مینہ لایا ہے۔ فرمایا (نہیں نہیں ۔ ایسا نہیں بارش لانے والا بادل تو کہاں) بلکہ یہ تو وہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔ ما استعجلتم بہ۔ ما موصولہ استعجلتم ماضی جمع مذکر حاضر ۔ استعجال (استفعال) مصدر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما کی طرف راجع ہے۔ جس کے جلدی آنے کے لئے تم مصر تھے۔ عجلت چاہتے تھے۔ ریح۔ یہ ما یا ھو سے بدل ہے فیھا عذاب الیم صفت ہے ریح کی یہ وہ آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ یا یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ ایھی او ھو ریح۔۔ الخ۔
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ انکے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں

(46:25) تدمر۔ مضارع واحد مؤنث غائب ۔ تدمیر (تفعیل) مصدر وہ ہلاک کر دے گی وہ تباہ کر دے گی۔ وہ اکھاڑ کر رکھ دے گی۔ تدمر کل شیء بامر ربھا۔ (یہ دوسری صفت ہے ریح کی) وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دے گی۔ فاصبحوا۔ ای فجاء تہم الریح فدمرتہم فاصبحوا۔ یعنی پس آندھی آئی اور اس نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا اور وہ ایسے ہوگئے۔۔ کہ تعقیب کا ہے اصبحوا ماضی جمع مذکر غائب، وہ ہوگئے۔ انہوں نے صبح کی۔ افعال ناقصہ میں سے۔ اصباح (افعال) مصدر سے۔ لا یری۔ مضارع منفی مجہول ۔ واحد مذکر غائب نہیں دکھائی دیتا تھا۔ یہ حکایت حال ماضی ہے۔ فعل مضارع جو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے۔ الا مسکنہم۔ سوائے ان کے گھرون (کچھ دکھائی نہ دیتا تھا) ۔ کذلک۔ ای مثل ذلک الجزاء الفضیح اس سخت قبیح اور ذلت آمیز سزا کی طرح۔ نجزی۔ مضارع جمع متکلم جزاء (باب ضرب) مصدر واسم۔ ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں اچھا ہو یا برا۔ القوم المجرمین۔ موصوف صفت مل کر مفعول ہے نجزی کا، مجرم لوگ، گنہگار لوگ۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دئیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دئیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو انکے کان ہی انکے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز سے استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

(46:26) ولقد، وائو عاطفہ لام تاکید کا ۔ قد ماضی پر آئے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ اور بیشک : مکنہم : ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (قوم عاد) ہم نے ان کو جمائو عطا کیا۔ ہم نے ان کو اقتدار دیا۔ مکنۃ بمعنی آشیانہ۔ مکنات جمع مکن مکانۃ (باب کرم) اس نے حاکم کے پاس عزت پائی۔ مرتبہ حاصل کیا۔ امکان (افعال) با اقتدار ہونا۔ قابو پانا۔ کسی جگہ قدرت حاصل کرنا۔ تمکین (تفعیل) جمائو عطا کرنا۔ توانا وبا اقتدار بنادینا۔ فیما۔ میں ما موصولہ ہے اور فیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اس اسم موصول کی طرف راجع ہے ان نافیہ ہے اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دے رکھی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں۔ ما اغنی عنہم۔۔ من شیء وہ ان کے ذرا کام نہ آسکے۔ اذ : ظرف زمان ہے یہاں تعلیل کے لئے استعمال ہوا ہے بمعنی کیونکہ۔ کانوا یجحدون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب جحد وجحود باب فتح، مصدر، بمعنی انکار کرنا۔ (کیونکہ وہ انکار کیا کرتے تھے) ۔ حاق۔ ماضی واحد مذکر غائب (حیق (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی گھیر لینا۔ نازل ہونا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، حاق بہم اس (عذاب) نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔ ما۔ ما موصولہ ہے : کانوا یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب بہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب ما کی طرف راجع ہے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

(46:27) ولقد اوپر آیت 26 ملاحظہ ہو۔ ما حولکم : ما موصولہ ہے حولکم مضاف مضاف الیہ، تمہارے اردگرد : تمہارے آس پاس۔ خطاب اہل مکہ سے ہے یعنی اے اہل مکہ تمہارے آس پاس کی کئی بستیاں ہم نے تباہ کردیں۔ مثلاً قوم ثمود کی بستی حجر۔ قوم لوم کی بستی سدوم وغیرہ۔ بستیوں کو ہلاک کرنے سے مراد ہے بستی کے بسنے والے۔ من القری میں من تبعیضیہ ہے تمہارے آس پاس کی بعض بستیاں۔ صرفنا الایت۔ صرفنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم تصریف (تفعیل ) مصدر، پھیر پھیر کر سمجھانا۔ تصریف الکلام۔ بات کو پھیر پھیر کر بیان کرنا۔ طرح طرح سے گفتگو کا بیان کرنا۔ الایت۔ نشانیاں۔ باتیں۔ ہم نے پھیر پھیر کر باتیں سمجھائیں۔ یعنی بار بار دلائل دے کر اسی تصریف الریاح ہے۔ ہوائوں کا ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹانا۔ اور اسی معنی میں کلام باری تعالیٰ ہے وصرفنا فیہ من الوعید (20:113) اور اس میں (قرآن مجید میں) ہم نے طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں۔ لعلہم یرجعون۔ تاکہ وہ باز آجائیں۔ لعل تعلیل کے لئے۔ یعنی اس لئے کہ ۔۔ ای لکی یرجعوا عما ہم فیہ من الکفر والمعاصی الی الایمان والطاعۃ یعنی کفرو معاصی سے ہٹ کر ایمان و اطاعت کی طرف آجاویں۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب ان لوگوں کے لئے ہے جن کی بستیوں کو کفرو معاصی سے باز نہ آنے پر تباہ کردیا گیا تھا۔