46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

، اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق ، اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا کلام ہے۔ اس لیے یہ کتاب مظہر قدرت الٰہیہ ہے اور مشتمل پر حکمت الٰہیہ ہے۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق بھی اسی حق پر ہے۔ ما خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ واجل مسمی (46 : 3) “ ہم نے زمین و آسمان کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے ”۔ اس عرصے میں وہ مقصد پورا ہوگا جو اس مخلوق کے پیدا کرنے سے مطلوب ہے۔ اور اللہ نے اس کائنات اور اس کے اندر پائی جانے والی مخلوقات کے بارے میں جو اندازے رکھے تھے وہ ظاہر ہوں گے۔ یہ دونوں کتابیں کھلی ہیں۔ تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ، اللہ کی قدرتوں کی کہانیاں بتا رہی ہیں۔ اللہ کی حکمتوں پر گواہ ہیں ، اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر ان سے عیاں ہے اور یہ کائناتی کتاب اس پڑھی جانے والی وحی کی کتاب کی تائید کرتی ہے اور اس میں جو ڈراوا اور جو خوشخبری ہے اس کی بھی تائید یہ کائنات کرتی ہے لیکن۔ والذین کفروا عما انذروا معرضون (46 : 3) “ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں جس سے ان کو خبردار رکھا گیا ہے ”۔ اور ان کا یہ رویہ قابل تعجب ہے کیونکہ منزل کتاب اور نظارہ دکھانے والی کتاب دونوں کتابیں پکار پکار کر ان کو دعوت دے رہی ہیں۔ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے یہ بتاتی ہے کہ اللہ ایک ہے ، وہ ہر چیز کا رب ہے کیونکہ وہی خالق ہے ، ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے ، ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کرنے والا ہے اور یہ کتاب کائنات ان سب چیزوں کی تصدیق کررہی ہے۔ اس کائنات کے نظام کا پوری طرح ہم آہنگ ہونا اور اس کی حرکات کا نہایت ہی منضبط ہونا اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا ایک ہی بنانے والا ہے ، چلانے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔ جس نے ہر چیز کو بنایا اور بڑی مہارت سے ہر چیز کو بنایا۔ چناچہ ہر پیدا کردہ چیز اور اس کی ماہیت اور وجود اور اس کی رفتار کی ایک ہی ساخت اور طرز ہے۔ لوگ پھر کس بنیاد پر متعدد الہوں کے قائل ہیں ؟ یہ بات حیرت انگیز ہے۔ آخر ان لوگوں کے الہوں نے کیا بنایا ہے اور وہ کیا کرتے ہیں ؟ یہ کائنات جو اللہ کی بنائی ہوئی ہے یہ تو تمہارے سامنے کھلی کتاب ہے۔ اس میں تمہارے خود ساختہ معبودوں کا کیا حصہ ہے ؟ اس مخلوقات میں سے اگر کوئی ایک قسم کی مخلوق بھی انہوں نے بنائی ہے تو دعویٰ کرو اور بتاؤ !
Ayahs 46:4–12

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، “ کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا۔ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (ان عقائد کے ثبوت میں ) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، پھر اس پر جم گئے ، ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

“۔ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے ان اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں

آیت نمبر 13 تا 14 یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہر سرگرمی ، ہر سوچ اور ہر تقدیر اسی کی طرف ہے ، اور ہر چیز میں اسی کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا فیصلے بھی وہی کرے گا ، شریعت اور قانون بھی اسی کا ہوگا اور ہدایت اور رہنمائی بھی اسی کی ہوگی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا اس کائنات میں جو لوگ ہیں جو اشیاء ہیں وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ کیونکہ ان کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے تو نظام زندگی بھی اسی سے اخذ کریں گے۔ یہ محض الفاظ ہی نہ ہوں گے محض عقیدہ ہی نہ ہوگا ، بلکہ ایک ربانی نظام ہوگا۔ ثم استقاموا (46 : 13) “ اور پھر اس پر جم گئے ”۔ یہ دوسری شرط ہے۔ یہ اس طرح کہ وہ اسلامی نظام کو قبول کرنے کے بعد اس پر جم گئے۔ ان کا دل اور ان کا نفس اس پر مطمئن ہوگیا ، ان کے خیالات اور تصورات اس پر جم گئے ، ہر قسم کا اضطراب اور شک ختم ہوگیا ، تمام دوسری دلچسپیاں اور تمام ۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگئیں ، تمام میلانات اور رحجانات ختم ہوگئے۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کی دلچسپیاں متنوع اور جاذب ہوتی ہے اور کسی نظام اور طریق کار پر جم جانا بڑا ہی مشکل کام ہے ، جگہ جگہ انسانوں کے لئے پھسلنے کے مقامات ہوتے ہیں اور رکاوٹیں ہوتی ہیں اور ہر طرف سے اپنی طرف کھینچنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔ ربنا اللہ (46 : 13) “ اللہ ہی ہمارا رب ہے ” کہنے کے بعد پورا نظام زندگی اپنانا ہوتا ہے اور اس پر جم جانا جاتا ہے اور جن لوگوں کو اللہ نے معرفت حق اور استقامت علی الحق عطا کردی وہ بہت ہی بڑے اور مختار لوگ ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے حق یہ فیصلہ صادر ہوا۔ فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (46 : 13) “ ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ”۔ وہ کیوں ڈریں اور کیوں پریشان ہوں۔ جس نظام کو انہوں نے اپنایا ہے وہ اللہ تک پہنچانے والا ہے اور پر جم جانا اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ اولئک اصحب ۔۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (46 : 14) “ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ” ۔ اپنے ان اعمال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے رہے ”۔ یہاں یعملون کا لفظ ربنا اللہ کی توضیح کرتا ہے۔ اور ۔۔۔۔۔ منہاج پر استقامت کے معنی متعین کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا تمہارے اعمال اور تمہاری استقامت کی وجہ سے ہے۔ یعنی “ اللہ ہی ہمارا ہے ” کے منہاج اور اس پر استقامت سے عمل اور مسلسل عمل سامنے آئے اور وہ اس پر جم جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین میں اعتقادات اور تصورات محض الفاظ ہی نہیں ہوتے کہ کوئی صرف کلمہ طیبہ کے الفاظ کہہ دے ، بلکہ کلمہ طیبہ ایک طریق زندگی ہے۔ اگر کلمہ محض الفاظ ہی ہوں ایک طرز زندگی نہ بنے تو وہ ارکان اسلام والا کلمہ نہ ہوگا۔ آج لاکھوں لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت محض زبانی تو دیتے ہیں مگر یہ کلمہ ان کے ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھتا اور یہ کلمہ ان کی زندگی کے اوپر کوئی اثر نہیں ڈالتا ، نہ اس کے اندر کوئی تغیر پیدا کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسی طرح جاہلانہ زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح دوست بت برست کرتے ہیں ، جبکہ اپنے ہونٹوں سے وہ دن رات یہ کلمہ پڑھتے رہتے ہیں ، یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں ، ان کی زندگیوں میں اس کا مفہوم نہیں ہوتا۔ لا الٰہ الا اللہ ، یا ربنا اللہ ، اللہ ہی ہمارا رب ہے ، یا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یہ تو دراصل زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اور منہاج ہے۔ یہ مفہوم ہر مسلمان کو اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینا چاہئے تا کہ وہ پھر اس نظام کو تلاش کرے جس کی طرف ان کلمات میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اس نظام پر غور کرے اور اسے قائم کرنے کی فکر کرے۔
Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے ۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

“۔ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے در گزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے

درس نمبر 238 ایک نظر میں یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا ہے ؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام احترام والدین کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام اور قرآن یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان جو قوی تعلق ہے۔ یہ سب سے مضبوط تعلق ہے لیکن اسلامی تعلق اور اخوت خونی رشتوں سے بھی برتر ہے۔ اس سبق میں دو نمونے دئیے گئے ہیں ، ایک نمونہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان خونی رشتہ بھی ہے اور اس کے بعد نظریاتی رشتہ بھی ہے تو دونوں کے درمیان یہ تعلق ہدایت یافتہ تعلق ہوگا اور دونوں اللہ تک پہنچ کر جنت کے مستحق ہوں گے۔ دوسرے نمونے میں نسب کا رشتہ ایمان کے رشتے سے جدا ہوجاتا ہے۔ یہ آپس میں نہیں ملتے۔ اس صورت میں خون کے رشتے کے باوجود اولاد جہنم کی مستحق ہوتی ہے اور پھر قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں فسق اور استکبار کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ درس نمبر 238 تشریح آیات 15 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 20 آیت نمبر 15 تا 16 یہ وصیت جنس انسان کے لئے ہے۔ اور یہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس وصیت کے لئے انسان کے علاوہ کسی اور صفت کی ضرورت کو نہیں لایا گیا۔ اور احسان کے ساتھ بھی کوئی قید اور شرط نہیں لگائی۔ والد کا محض والد ہونا ہی یہ فرض کردیتا ہے کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے۔ والد ہونے کے ساتھ کوئی اور صفت ضروری نہیں ہے۔ اور یہ وصیت اس اللہ نے فرمائی جو انسان کا خالق ہے اور یہ وصیت شاید صرف انسان ہی کو کی گئی ہے۔ مخلوقات کی دوسری اصناف کو شاید یہ حکم نہیں دیا گیا۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ دوسرے حیوانات ، پرندوں اور حشرات الارض کو اس قسم کی کوئی ہدایت ہو۔ ہاں یہ بات حیوانات کی فطرت میں بھی دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ وصیت صرف انسان کو ہے اور یہ ہے بھی خاصہ انسان۔ قرآن کریم میں بھی اس حکم کا تکرار ہے جو بطور وصیت کیا گیا اور احادیث میں بھی اس کی سخت تاکید آتی ہے۔ البتہ والدین کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت ہی کم وصیت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ہدایت ہے تو بعض حالات کے بارے میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی پرورش ، والدین کی فطرت کے اندر ہی رکھ دی گئی ہے۔ والدین خود بچے کی پرورش کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو اس کام کے لئے ابھارنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ والدین بچوں کے لئے اس قدر قربانیاں دیتے ہیں کہ بعض اوقات والدین بچوں پر اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ رنج و الم تو معمولی بات ہے اور اسی سلسلے میں وہ ان سے کوئی عوض طلب نہیں کرتے۔ نہ ان سے طالب شکر ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوان نسل پیچھے کو کم ہی دیکھتی ہے۔ کیونکہ ان سے اس قسم کی قربانی کا ، مطالبہ خود ان کی اولاد کرتی ہے اور یونہی زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے۔ لیکن اسلام نے اپنی فطری تعلیمات کی رو سے سوسائٹی کی پہلی اکائی خاندان کو مقرر کیا ہے۔ خاندان ہی وہ گہوارہ ہے جس میں ناتواں بچے پرورش پاتے ہیں اور بڑے ہوتے ہیں۔ اس گہوارے سے بچے محبت ، تعاون ، باہم کفالت اور خاندان کی تعمیر و تربیت حاصل کرتے ہیں۔ جس بچے کو کسی خاندان کی تربیت نہیں ملتی وہ اپنی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو سے ناقص ہوتا ہے ۔ اگرچہ خاندان کے دائرہ سے باہر اس کو ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہوں۔ اور اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام کیا گیا ہو۔ ایسے بچے میں سب سے بڑی جو کمی ہے وہ محبت کے شعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات علمائے نفسیات کے ہاں ثابت ہوچکی ہے کہ ہر بچہ زندگی کے پہلے دو سال صرف اپنی ماں کی گود میں رہنا چاہتا ہے۔ اور وہ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں قبول کرنا۔ دنیا میں بچوں کی پرورش کے جو مصنوعی ادارے بنائے گئے ہیں ان میں سب سے پہلے تو ماں مفقود ہوتی ہے۔ کیونکہ وہاں کام کرنے والی عورت یعنی نرس کو تو کئی بچے سنبھالنے پڑتے ہیں۔ ان بچوں کا پھر ایک دوسرے کے ساتھ حسد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ مصنوعی مشترکہ ماں پر باہم مقابل ہوتے ہیں ، یوں بغض وعناد ان کی ابتدائی زندگی سے ان میں پروان چڑھتا ہے اور جس ننھے دل میں نفرت پیدا ہوجائے۔ اسی میں پھر محبت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر بچے کے اوپر ایک عرصے تک ایک ہی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں ثبات پیدا ہوجائے۔ اور یہ بات صرف ایک خاندان ہی میں پیدا ہو سکتی ہے۔ رہے بچوں کی پرورش کے مصنوعی ادارے تو ان میں بچہ ایک ہی مضبوط نگراں سے محروم ہوتا ہے کیونکہ مصنوعی ماؤں کی ڈیوٹیاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شخصیت کے اندر بھی انتشار ہوتا ہے۔ اور وہ مضبوط شخصیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے اداروں کے جو تجربات سامنے آرہے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کی پرورش کے لئے خاندان کی نرسری کو جو ضروری قرار دیا ہے اس کے اندر بڑی گہری حکمت ہے اور بچوں کی تربیت کا فطری طریقہ وہی ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے ، جو ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔ اور قرآن یہاں اس ماں کے کردار کو قلمبند کرتا ہے۔ ماں کی مشقتیں ، ماں کی محبتیں اور ماں کی جدو جہد اور نہایت ہی کریمانہ انداز اور شریفانہ برتاؤ۔ اللہ نے اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی جو وصیت کی ہے ، اس کی تعمیل میں اولاد اگر رات دن لگی رہے تو بھی وہ ماں کے احسان کو پورا نہیں کرسکتی۔ حملتہ امہ کرھا ۔۔۔۔۔۔ ثلون شھرا (46 : 15) “ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ”۔ اللہ نے ماں کی مشقتوں کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے ان کا تلفظ ہی مشقت کا اظہار کردیتا ہے۔ الفاظ کی آواز اور ترنم ہی سے جہدو مشقت اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (46 : 15) “ ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا ہی اسے جنا ”۔ جس طرح تھکا ماندہ آدمی لمبی لمبی سانس بھرتا ہے۔ مشکل سے سانس لیتا ہے ، تھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہی ہوتی ہے حمل کی تصویر خصوصاً آخری دنوں میں اور وضع حمل اور اس کی مشکلات اور اس کے آلام تو ہر کسی کو معلوم ہیں۔ آج کل علم جنین بہت آگے بڑھ گیا ہے اور حمل کے تمام مراحل اور اس کے اندر ہونے والی عملیات سے انسان واقف ہوچکا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں ان تمام عملیات میں کس قدر مشقت اٹھاتی ہے اور قربانی دیتی ہے۔۔۔۔ عورت کے انڈے کے ساتھ جب مادہ منویہ کا جرثومہ ملتا ہے تو یہ رحم مادر کی دیواروں سے چپکنے کی سعی کرتا ہے اور رحم کی دیوار سے چپکتے ہی اس کی دیوار کو کھانا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کے اندر کھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ چناچہ یہ رحم کی دیواروں کو دیمک کی طرح چاٹنا شرو کردیتا ہے۔ جس جگہ کو یہ کھانا شروع کرتا ہے ، وہاں ماں کا خون جمع ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا حوض بن جاتا ہے اور یہ انڈا جس کے اندر جرثومہ ہوتا ہے اور یہ جرثومہ دونوں خون کے اس حوض میں ہوتے ہیں اور خون کے اندر ماں کے جسم کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس خون کو یہ چوستا ہے اور بڑھتا رہتا ہے اور رحم کی دیواروں کو یہ چاٹتا رہتا ہے اور خون پیتا رہتا ہے۔ اور مادۂ حیات حاصل کرتا ہے۔ یہ ماں کھانا کھاتی ہے ، پانی پیتی ہے اور خوراک ہضم کر کے اس انڈے اور اس جرثومے کے لئے تازہ خون تیار کرتی ہے اور اس خونخوار جرثومے کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ ایک ایسا وقت آتا ہے کہ بچہ کی ہڈیاں بننا شروع ہوتی ہیں اور اس وقت پھر وہ زیادہ خون چوسنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض اوقات والدہ کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں عورت ہڈیوں کا گودا اس بچے کو فراہم کرتی ہے تا کہ اس بچے کا جسمانی ڈھانچہ تیار ہو ، اس عظیم جدو جہد کا یہ ایک قلیل حصہ ہے۔ پھر وضع حمل کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ نہایت ہی پر مشقت اور کربناک عمل ہے۔ لیکن ماں کے اندر جو بےپناہ محبت ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے ، اس کی وجہ سے یہ سب کچھ وہ برداشت کرتی ہے کیونکہ یہ تقاضائے فطرت ہے۔ یوں ماں اس چھوٹے بچے کو زندگی دیتی ہے اور خود پگھلتی جاتی ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے اور پھر پالنے پوسنے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے گوشت اور خون کا نچوڑ دودھ کی شکل میں اسے دیتی ہے۔ اور اپنے دل ، دماغ اور اعصاب کی پوری قوت صرف کر کے اسے پالتی ہے۔ لیکن ان تمام مشقتوں کو وہ خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ نہایت محبت اور رحیمانہ انداز میں۔ کبھی نہیں تھکتی ، کبھی بچے سے نفرت نہیں کرتی ، ان تمام مشقتوں کا صلہ یہ ماں صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ صحیح وسالم ہو اور بڑھتا ہی چلا جائے ۔ پس یہی صلہ ہے جو وہ چاہتی ہے۔ اس طویل جدو جہد اور مشقت اور قربانی کا صلہ کوئی ماں کو دے سکتا ہے۔ کوئی خواہ کتنی ہی جدو جہد کرے ، ماں کی خدمت میں ، اس کا صلہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی کثیر جدو جہد بھی کرے وہ بھی قلیل ہوگی۔ ایک شخص طواف کرتے ہوئے اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تو کہہ دیا کہ حضور ﷺ میں نے اس کا حق ادا کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا “ نہیں صرف ایک بار سانس لینے کے برابر بھی نہیں ”۔ (البزار) اب قرآن مجید اس انسان کو والدین کے ساتھ احسان کی وصیت اور ماں کی بےمثال مشقتوں اور قربانیوں کے مرحلے سے گزارکر اسے سن رشد میں لے جاتا ہے۔ اب یہ مضبوط ، توانا اور دانشمند ہے۔ اور اس کی فطرت درست ہے اور اس کا دل ہدایت یافتہ ہے ، اور یہ ہے قرآن کا انسان مطلوب ۔ حتی اذا بلغ ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (46 : 15) “ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں ”۔ انسان سن رشد کو 20 اور 40 کے درمیان پہنچ جاتا ہے ۔ چالیس سال رشدو ہدایت کی انتہا ہوتے ہیں اس میں انسان کی تمام قوتیں مکمل ہوجاتی ہیں اور انسان تدبر اور تفکر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اب یہ تکمیل کے مراحل طے کرجاتا ہے۔ اور اس کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سن میں پھر وہ مستقیم الفطرت ہو ، وہ اس زندگی سے ذرا بلند ہو کر سوچتا ہے۔ اور پھر وہ پوری انسانیت کے انجام پر بھی غور کرتا ہے۔ قرآن مجید ایک ایسی شخصیت کی ذہنی واردات کو یہاں قلم بند کرتا ہے ، جو فطرت سلیمہ کی مالک ہو ، اس مرحلے میں جہاں انسان عمر کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اگلی عمر میں پھر وہ متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اگر مستقیم الفطرت ہو۔ رب اوزعنی ۔۔۔۔۔ وعلیٰ والدی (46 : 15) “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ”۔ یہ ایک ایسے دل کی دعا ہے جو اپنے رب کی نعمتوں کا شعور رکھتا ہے کہ یہ انعامات جو تو نے مجھ پر کئے اور مجھ سے پہلے میرے والدین پر کئے اور مسلسل اگلے وقتوں سے یہ انعامات ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری قوت شکر بہت کم ہے۔ اے اللہ آپ ہی ہمیں توفیق دیں اور ضبط دیں کہ ہم یہ شکر بجا لا سکیں۔ یہ نہ ہو کہ میں ادھر ادھر ہو کر انتشار میں اپنی قوتیں ہی ضائع کردوں اور اصل کام یعنی شکر الٰہی بجا لانے کو ایک طرف چھوڑ دوں۔ وان اعمل صالحا ترضہ (46 : 15) “ اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ”۔ یہ دوسری دعا ہے یہ شخص اللہ کی مدد طلب کرتا ہے کہ وہ عمل صالح کرسکے۔ وہ اپنے کمال اور احسان کو رضائے ربی کے کام میں استعمال کرے کیونکہ رضائے الٰہی اس کا بڑا مقصد ہے۔ رضا ئے الٰہی کے حصول ہی کے لئے تو اس کی پوری جدو جہد ہے۔ واصلح لی فی ذریتی (46 : 15) “ اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ” ۔ یہ تیسری دعاء ہے ۔ ہر صالح آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی صالحیت اس کی اولاد میں بھی منتقل ہو اور اس کا دل مطمئن ہو کہ اس کی اولاد میں ایسے لوگ ہیں جو اس کے بعد اللہ کی بندگی اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں گے۔ نیک اولاد بندۂ صالح کی پہلی تمنا ہوتی ہے اور خزانوں اور دولت کے مقابلے میں وہ نیک اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ زندگی کی ہر آرائش وزیبائش سے زیادہ اسے نیک اولاد پسند ہوتی ہے اور یہ دعا والدین سے اولاد کی طرف جارہی ہے کہ آنے والی نسلوں میں بھی اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ اور یہ جو دعائیں اور درخواستیں وہ کر رہا ہے ان کی منظوری کے لئے اس کے پاس سفارش یہ ہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ انی تبت الیک ولی من المسلمین (46 : 15) “ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں تابع فرمان بندوں میں سے ہوں ” یہ ہیں ایک معیاری بندۂ صالح کی صفات اپنے رب کے حوالے سے جس کی فطرت سیدھی اور سلیم ہو۔ ایسے بندوں کے ساتھ اللہ کا تعلق پھر کیسا ہوتا ہے اس کی وضاحت بھی قرآن نے کردی ہے۔ ٭٭٭٭ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اللہ کے ہاں جزاء اعمال حسنہ پر ہے اور گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے اور جنت کے اصل مستحقین کے ساتھ ایسے لوگ جاملیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ دنیا میں کیا گیا تھا اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ٭٭٭ اور اس اچھے نمونے کے بالمقابل فسق ، فجور اور گمراہی کا ملال بھی ملاحظہ ہو۔