45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 45:1–5

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لئے۔

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری اپنی پیدائش میں ، اور ان حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں ) پھیلا رہا ہے ، بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور شب و روز کے فرق واختلاف میں ، اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، اور ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ”۔

آیت نمبر 6 کوئی کلام ، کلام الٰہی کی طرح فصیح نہیں اور کوئی تخلیق مخلوقات الٰہیہ کی طرح بدیع نہیں ہے۔ کوئی حقیقت بھی وجود باری کی طرح ثابت نہیں ہے۔ پس ان دلائل واقیہ کے بعد وجود باری واضح اور یقینی ہے۔ لہٰذا ان دلائل کے بعد بھی اگر کوئی ایمان نہیں لاتا تو اسے دھکمی دینے اور خبردار کرنے کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 45:7–10

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے ، پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مژدہ سنا دو

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے پیچھے جہنم ہے جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔ اور سخت دھمکی دی ہے ان کے لئے سخت بربادی ہے اور ان کو شدید توہین آمیز اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ ویل لکل افاک اثیم (45 : 7) “ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے ”۔ ویل ، یعنی ہلاک ہے۔ افاک ، بہت بڑا جھوٹا جو جھوٹ باندھنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بہت زیادہ گناہ کاریاں اور بدکاریاں سمیٹنے والا۔ یہ دھمکی ہر اس شخص کے لئے ہے جس میں یہ صفات موجود ہیں۔ یہ اللہ قہار و جبار کی دھمکی ہے جو ہلاک کرنے اور برباد کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس کی دھمکی اور ڈراوا اور تہدید بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فقرے میں جو دھمکی دی گئی ، وہ بہت ہی خوفناک ہے۔ ایسے افاک جھوٹے اور بداعمال اور بدکار کی صفت و علامت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ باطل پر اصرار کرتا ہے ، سچائی کے مقابلے میں جھکنے کی بجائے اور اکڑتا ہے ، اللہ کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے منہ موڑتا ہے اور شریفانہ رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ یسمع ایت اللہ ۔۔۔۔۔ لم یسمعھا (45 : 8) “ جس کے سامنے اللہ کی آیات بڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ”۔ یہ نہایت ہی قابل نفرت تصویر ہے۔ اگرچہ یہ مشرکین مکہ کے ایک گروہ کی تصویر ہے جو اس وقت ایسا تھا ، مگر ہر نظام جاہلیت میں یہ تصویر اسی طرح دہرائی جاتی ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اس زمین پر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں اور نام نہاد مسلمانوں میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتے ہیں مگر اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور غرور میں منہ موڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے موافق اور ان کے مالوفات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ آیات باطل پر تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ اس شر کی تائید نہیں کرتیں جس پر وہ مصر ہوتے ہیں اور یہ آیات اس سمت پر نہ خود چلتی ہیں اور نہ لوگوں کو چلاتی ہیں جس سمت پر وہ جارہے ہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم (45 : 8) “ ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو ”۔ خوشخبری تو کسی اچھے کام پر ہوتی ہے۔ یہاں ان کے لئے بطور استہزاء خوشخبری کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈرانے والے اور متنبہ کرنے والے کی بات نہیں مانتا تو پھر اگر ہلاکت آتی ہے تو آنے دو ، وہ خود ہلاکت طلب کرتا ہے۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا (45 : 9) “ ہماری آیات میں سے جب کوئی چیز اس کے علم میں آتی ہے ، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے ”۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کی آیات اور ان کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ یہ رویہ اس کی جانب سے شدید جسارت ہے۔ یہ تصویر بھی جس طرح جاہلیت اولیٰ میں تھی اسی طرح آج بھی موجود ہے۔ اور بیشمار لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو آیات الٰہیہ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور وہ ان آیات اور ان پر ایمان لانے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو عوام الناس کی زندگیوں کو ان آیات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اولئک لھم عذاب مھین (45 : 9) “ ان سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ اہانت ان کے لئے موزوں سزا ہے کیونکہ یہ بھی تو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الٰہیہ ہیں۔ یہ قیامت کا توہین آمیز عذاب حاضر ہے ، اگرچہ قیامت کا برپا ہونا قدرے بعد میں ہے۔ من ورائھم جھنم (45 : 10) “ ان کے پیچھے جہنم ہے ”۔ لفظ “ ان کے پیچھے جہنم ہے ” کا ایک خاص مقصد ہے یعنی یہ اسے دیکھ نہیں سکتے کہ انہوں نے قیامت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس سے ڈرتے اور بچتے اس لیے نہیں کہ یہ غافل ہیں اور اس لیے وہ اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ ولا یغنی عنھم ۔۔۔۔۔۔ اولیاء (45 : 10) “ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ”۔ یعنی دنیا میں انہوں نے جو کام کئے یا جو ان کی ملکیت تھی ، وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کے اعمال اگرچہ اچھے ہوں وہ تو اکارت جائیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں۔ اور قیامت میں ان کی ملکیت زائل ہوجائے گی کوئی نہ ان کے پاس ہوگی اور نہ فائدہ دے گی۔ اور ان کے دوست اور یار یا معبود ، جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے تھے ، وہ وہاں ان کے لئے نہ نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ نفع۔ نہ کسی کو سفارش کی اجازت ہوگی۔ ولھم عذاب عظیم (45 : 10) “ ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔ یہ عذاب توہین آمیز بھی ہوگا جیسا کہ پہلے کہا گیا اور عظیم بھی ہوگا۔ توہین آمیز اس لیے کہ یہ آیات کا مذاق اڑاتے تھے ، اور عظیم اس لیے کہ جرم بڑا ہے۔ یہ پیراگراف یہاں ختم ہوتا ہے جس میں آیات الٰہیہ ساتھ مذاق کرنے کی مذمت وارد ہے۔ ان کے مقابلے میں استکبار کرنے کا ذکر ، ان آیات سے لوگوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ خاتمہ پر ان آیات کی حقیقت بیان کی جاتی ہے اور ان کے منکرین کی سزا کا دوبارہ ذکر کردیا جاتا ہے۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن سرا سر ہدایت ہے ، اور ان لوگوں کے لئے بلا کا دردناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا ”۔

آیت نمبر 11 اس قرآن کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک رہنمائی ہے۔ خالص ہدایت ، صاف صاف ہدایت ۔ ایسی ہدایت جس میں ضلالت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس لیے اس قسم کی آیات کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ، وہ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ ان کو دردناک عذاب سے دوچار کردیا جائے۔ الیم کے معنی میں شدت الم اور ایذا رسانی کے معنی ظاہر ہیں۔ رجز کے معنی ہیں عذاب شدید۔ اور جس عذاب کی انہیں دھمکی دی جارہی ہے ، وہ الیم بھی ہے اور شدید بھی ۔ یعنی اس کی شدت اور اس کا الم دونوں مکررو مشدد ہیں۔ تاکید بعد تاکید ہے اور جو لوگ واضح خالص اور صریح ہدایت کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے ایسا عذاب ہی ہونا چاہئے۔ ٭٭٭٭٭ اس شدید دھمکی اور سخت ڈراوے کے بعد اب پھر ان کے دلوں کو باد نسیم کی طرح نرم بات سے راہ راست لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ انعامات دوبارہ یاد دلائے جاتے ہیں جو اس کائنات میں ان کے لئے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا ، سب کچھ اپنے پاس سے۔۔۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرنے والے ہیں

آیت نمبر 12 تا 13 اللہ کی یہ چھوٹی سی مخلوق انسان پر اللہ کے بڑے کرم ہیں کہ اس نے اس کے لئے اس کائنات کی عظیم مخلوقات کو مسخر کردیا ہے۔ اور ان مخلوقات سے یہ مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سمجھایا ہے کہ اس کائنات کا قانون فطرت کیا ہے ؟ جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے اور اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے انسان کو اس قدر علمی صلاحیت نہ دی گئی ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کائناتی قوتوں کو اس طرح مسخر کر کے ان سے اس طرح استفادہ کرتا بلکہ اس کے لئے ان قوتوں کے اندر زندہ رہنا بھی مشکل ہوجاتا کیونکہ انسان ایک چھوٹا سا کیڑا ہے اور فطرت کی قوتیں نہایت ہی عظیم القوت ، عظیم الجثہ اور بڑے بڑے افلاک ہیں۔ سمندر ان بڑی قوتوں میں سے ایک ہے جسے انسان نے مسخر کرلیا ہے۔ انسان کو اللہ نے اس کی ساخت اور خصوصیات کا علم دیا اور انسان نے معلوم کیا کہ کشتی اس عظیم اور سرکش سمندر کے اوپر چل سکتی ہے اور اس کی بھپری ہوئی جبار موجوں کے ساتھ ٹکرا سکتی ہے اور اسے ان سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لتجری الفلک فیہ بامرہ (45 : 12) “ تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں ”۔ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو یہ خصوصیات دیں اور کشتی کے مواد کو تیرنے کی خصوصیات دیں۔ فضا کے دباؤ، ہواؤں کی تیزی اور زمین کی کشش کی خصوصیات پیدا کیں اور وہ دوسرے خصائص اس میں رکھے جن کی وجہ سے بحری سفر آسان ہوا اور انسان کو اس کام کا علم دیا کہ وہ سمندر مخلوق سے نفع اٹھائے اور دوسرے فوائد بھی حاصل کرے۔ ولتبتغوا من فضلہ (45 : 12) “ اور تم اس کا فضل تلاش کرو ”۔ مثلاً سمندر میں شکار ، زیب وزینت کا سامان ، تجارت ، معلوماتی سفر ، تجربات ، مشقیں ، ورزش اور تفریح وغیرہ۔ غرض وہ سارے فوائد جو یہ چھوٹا سا انسان سمندروں سے حاصل کرتا ہے۔ غرض اللہ نے انسان کے لئے کشتی اور سمندر دونوں کو مسخر کیا کہ وہ اللہ کے فضل کی تلاش کرے۔ پھر اللہ کا شکر کرے کہ اللہ نے یہ فضل و کرم ، یہ انعامات اور یہ تسخیر اور یہ علم اسے دیا۔ ولعلم تشکرون (45 : 12) “ اور تم شکر گزار بنو ”۔ اللہ تعالیٰ پھر اس قرآن کے ذریعہ انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ اس ذات باری کی وفاداری کرو ، اس سے تعلق قائم کرو ، اور یہ بات معلوم کرو کہ تمہارے اور اس کائنات کے درمیان ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ تم اس کا حصہ ہو اور ایک ناموس فطرت کے تحت چل رہے ہو اور تم دونوں کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ سمندروں کی تسخیر کے خصوصی ذکر کے ساتھ یہ پوری کائنات بھی بالعموم تمہارے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ زمین اور آسمانوں کے درمیان پائے جانے والی تمام قوتیں ، نعمتیں اور مفید چیزیں جو اس کے لئے فرائض منصب خلافت کی ادائیگی میں مفید و معاون ہیں۔ وسخر لکم ۔۔۔۔۔۔ جمیعا منہ (45 : 13) “ اس نے زمین اور آسمان کی ساری ہی چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں ، سب کچھ اپنے پاس سے ”۔ اس کائنات میں جتنی چیزیں بھی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اسی کی ہیں۔ وہی ان کا پیدا کرنے والا اور مدبر ہے۔ اس نے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ اور ان پر اس چھوٹی سی مخلوق کو مسلط کردیا ہے۔ انسان جسے اللہ نے اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین کو سمجھنے کی قوت دی اور وہ اپنی قوت اور طاقت سے کہیں بڑی قوتوں کو مسخر کرتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کا فضل و کرم ہے۔ اس انسان پر اور جو لوگ تفکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں آیات و نشانات ہیں بشرطیکہ وہ اپنی اس عقل سے یہ فائدہ بھی اٹھائیں کہ اس کائنات اور اس انسان کا ایک پیدا کرنے والا بھی ہے جس نے اسے یہ سب کچھ دیا ہے اپنے کرم خاص سے : ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (45 : 13) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرنے والے ہیں ”۔ یہ فکر اور یہ تدبر اس وقت تک صحیح ، جامع اور گہرا نہ ہو سکے گا جب تک وہ ان قوتوں ، مسخر شدہ قوتوں کے پیچھے اس بڑی قوت کی طرف جھانکنے کی کوشش نہ کرے گا ، جس نے ان تمام قوتوں کو پیدا کیا اور جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر انسان کو ان رازوں سے آگاہ کیا کہ ان کا راز یہ ہے اور ان کا قانون قدرت یہ ہے اور فطرت کائنات اور فطرت انسان ایک ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان یہ تعلق ہے۔ اس تعلق کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کو علم حاصل ہوا ، اسے قوت اور کنٹرول حاصل ہوا ، اس نے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ اگر یہ تعلق نہ ہوتا تو انسان کو ان چیزوں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوتا۔ ٭٭٭ جب بات یہاں تک پہنچی ہے اور ایک مومن اس کائنات کے قلب تک جا پہنچتا ہے۔ اسے شعور حاصل ہوجاتا ہے کہ قوت کا حقیقی سرچشمہ کیا ہے ، یہ کہ اس کائنات کے اسرار و رموز کی آگاہی دراصل قوت کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اب مومنین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شرافت ، اخلاق عالیہ ، وسعت قلبی اور رواداری اختیار کریں اور جو ضعیف ، ناتواں اور جاہل لوگ اس خزانے اور اس بھرپور خزانہ علم و معرفت سے محروم ہیں ، ان پر رحم کریں ، ان کے ساتھ ہمدردی کریں کہ یہ لوگ ان عظیم حقائق سے محروم ہیں۔ جو اللہ کے نوامیس فطرت کو نہیں دیکھتے ، جو تاریخ میں سنن الٰہیہ کو تلاش نہیں کرتے جو اس کائنات کے اسر اور موز سے واقف نہیں اور اس لیے وہ اس خالق کی عظمت سے بھی بیخبر ہیں۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے نبی ؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برن دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے ، ان کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا ، اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھرجانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے ”۔

آیت نمبر 14 تا 15 اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر قسم کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایمان چونکہ ایمان کے خزانے تک رسائی حاصل کرچکے ہیں اور اس کے ذریعہ ان کو مادی اور روحانی اطمینان حاصل ہے اور وہ ایک برتر پوزیشن ہیں اس لیے ان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس درگزر کے نتیجے میں اہل ایمان کا رویہ ہوگا کہ وہ تمام معاملات اللہ کے حوالے کردیں گے جو محسن کو اس کے احسان کی جزاء دے گا اور بدکار کو اس کی بدکاریوں پر سزا دے گا۔ عفو و درگزر کی بجائے اگر اہل ایمان ان بیچاروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اس نیکی سے محروم ہوجائیں گے بشرطیکہ اس عفو و درگزر کی پالیسی کے نتیجے میں امن وامان کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، اور لوگ حدود اللہ پر دست درازی میں جری نہیں ہوجاتے ہوں۔ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون (45 : 14) “ تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ”، اور اس کے بعد یہ بھی تصریح کردی جاتی ہے کہ جزاء و سزا میں ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضری دینے کے وقت کی فکر کرنی چاہئے۔ من عمل صالحا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجعون (45 : 15) “ جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھرجانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے ”۔ یوں ایک مومن کا سینہ فراخ ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بلند ہوتی ہے۔ وہ انفرادی مشکلات بھی برداشت کرتا ہے اور احمقوں کی حماقتیں بھی برداشت کرتا ہے اور اندھے اور محروم لوگوں کے طرز عمل کو بھی برداشت کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہوتا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا۔ یہ برداشت وہ تنگ دلی سے نہیں بلکہ وسعت قلبی سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہ مضبوط کردار اور کھلے دل کا مالک ہوتا ہے۔ اور اس نے ان محروم لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی مشعل اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ اس نے بیماروں کے لئے شفایابی کا تریاق اتھا رکھا ہوتا ہے۔ اور وہ اس پر اجر کا طالب صرف اللہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں ہوتا ہے۔ اور آخر کار تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ بھی اللہ ہی ہے۔ اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ٭٭٭٭ اب انسانیت کے لئے مومن قیادت کے کردار کے موضوع پر بات ہوتی ہے۔ یہ قیادت اب اسلامی جماعت کی شکل میں وجود میں لائی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بنی اسرائیل کے ہاتھ میں تھی۔ ان کو کتاب دی گئی۔ حکومت دی گئی ، نبوت دی گئی مگر انہوں نے اختلافات شروع کر دئیے۔ اور ان سے یہ قیادت اور منصب لے کر اے محمد ﷺ اب آپ کو دے دیا گیا ہے۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے۔ اور دعوت اسلامی نہایت ہی مشکل دور سے گزر رہی تھی لیکن آدم (علیہ السلام) سے ادھر اس کا مزاج ، اس کی نوعیت اور مقاصد اور مہم ایک ہی رہی ہے۔
Ayahs 45:16–20

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے معاملہ میں انہیں واضح ہدایات دے دیں۔ پھر جو اختلاف ان کے درمیان رونما ہوا ، وہ (ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ) علم آجانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں ، سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔
Ayahs 45:21–22

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کردیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ بہت برے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ، لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔

آیت نمبر 21 تا 22 ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا یہاں بھی بھاری ہوگا اور آخرت میں بھی بھاری ہوگا۔ اور یہ اصول اللہ کی اس کائنات کے نقشے میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق حق پر ہوتی ہے۔ شریعت کی تشکیل بھی حق پر ہوتی ہے۔ جس چیز کے ساتھ یہ کائنات قائم ہے ، وہ توازن اور اعتدال ہے اور اسی اصول پر انسانی زندگی بھی قائم ہے یعنی عدل و انصاف جس کا اظہار اچھے کام کرنے والوں اور برے کام کرنے والوں کے درمیان فرق کر کے کیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء و سزادی گئی اگر وہ نیک ہوا یا گمراہ ہوا ۔ تا کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔ وھم لا یظلمون (45 : 22) “ اور لوگوں پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا ”۔ یہ مفہوم کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں حق بنیادی چیز ہے۔ اور یہ کہ جس طرح کائنات کے اندر حق ہے ، اسی طرح شریعت کے اندر حق ہے اور یہ کہ یوم الحساب میں اسی حق پر حساب و کتاب ہوگا۔ یہ مفہوم اور مضمون قرآن میں بار بار آتا ہے کیونکہ یہ اسلامی تصور حیات کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ تمام شاخیں اس اصول پر مبنی ہیں۔ انسانی نفس ، آفاق کائنات اور اسلامی شریعت سب اس سچائی پر مبنی ہیں۔ یہی ہے “ کائنات ، حیات اور انسان اور انسان اسلام کی نظر میں ” میری الگ کتاب کا موضوع۔ یہ انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ ٭٭٭٭ اب اس عظیم اصول کے بالمقابل اور شریعت کے بالمقابل لوگوں کی خواہشات ہوتی ہیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ ان خواہشات کو لوگ اپنا لیتے ہیں ، ایسے لوگ گمراہی میں اس قدر دور چلے جاتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے ؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے ؟

آیت نمبر 23 انسان جب اسلام کا عظیم اصول اتباع شریعت ترک کرد یتا ہے تو پھر اس کی جو حالت ہوتی ہے قرآن کریم اس خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ یہ شخص اپنی بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ان کا مطیع فرمان ہے۔ اس کے تصورات ، اس کے احکام ، اس کی سوچ اور اس کی حرکات ، اس کی خواہشات کے زاویہ سے ہوتی ہیں۔ یہ ان کو اس طرح پوجتا ہے جس طرح کوئی کسی بت کو پوجتا ہے۔ یہ خواہشات کے اشارات کے پیچھے دوڑتا ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کی یہ تصویر کشی بڑی ناپسندیدگی سے کرتا ہے۔ افر ءیت من اتخذ الھہ ھوہ (45 : 23) “ پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ”۔ کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے ؟ یہ شخص ایک ایسی عجیب مخلوق ہے جو تماشا کے قابل ہے کہ اس کا تماشا دیکھا جائے۔ یہ شخص اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ضلالت کا مستحق ثابت کردیتا ہے۔ اب اللہ ایسے شخص پر ہدایت کی رحمت نازل ہی نہیں کرتا ۔ کیونکہ اس کے دل میں ہدایت کی جگہ ہی باقی نہیں رہی ہے اس لیے کہ وہ اپنی خواہش کو بروقت پوجتا رہتا ہے۔ واضلہ اللہ علی علم ( 45 : 23) “ اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا ہے ” ۔ اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ اللہ نے علم کے مطابق جانتے ہوئے اسے ضلالت میں پھینک دیا ۔ اس لیے کہ یہ ضلالت کا مستحق ہوگیا تھا۔ یا یہ کہ وہ اپنے طور پر عالم ہونے کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ اور اس کے علم و معرفت نے اس کو اس بات سے نہ روکا کہ وہ اپنی خواہشات کو الٰہ بنائے۔ یوں پھر اللہ نے اسے بھی ڈھیل دے دی اور گمراہی میں پھینک دیا۔ وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ (45 : 23) “ اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ”۔ لہٰذا وہ تمام روشن دان بند ہوگئے جن سے روشنی اندر آتی تھی اور وہ مدرکات بےکار ہوگئے جن کے ذریعہ سے ہدایت کسی شخص کے دل و دماغ میں داخل ہو سکتی تھی۔ اور انسان نے خواہشات نفسانیہ کو اس طرح قبول کرنا شروع کردیا کہ حصول ہدایت کے تمام راستے مسدود ہوگئے۔ فمن یھدیہ من بعد اللہ (45 : 23) “ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے ” ۔ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اللہ کے سوا اور تو کوئی کسی کی ہدایت اور ضلالت کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ تو اللہ کا خصوصی اختیار ہے اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کے مختار رسولوں کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے دیں۔ افلا تذکرون (45 : 23) “ کیا تم لوگ سبق نہیں لیتے ”۔ جس نے سبق لیا وہ ہوشمند رہا اور متنبہ ہوگیا۔ اور ہوائے نفس کے پھندے سے آزاد ہوگیا اور ایک واضح اور مستقل منہاج پر گامزن ہوگیا جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوئے۔
Ayahs 45:24–26

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ “ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہودرحقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دا دا کو اگر تم سچے ہو۔

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے ، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے ، پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ”۔

درس نمبر 236 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔ سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی بہت ہی بڑی ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں وہ منفرد ہے۔ کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس کی بادشاہت میں دست درازی نہیں کرسکتا اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر 236 تشریح آیات 24 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 37 آیت نمبر 24 تا 26 قیامت کے بارے میں ان کا نظریہ اس قدر کوتاہ بینی پر مبنی تھا کہ ان کے نزدیک زندگی بس یہی تھی جسے وہ اس زمین پر گزرتی دیکھ سکتے تھے۔ ایک نسل ہے جو پیدا ہوتی ہے اور گزرتی چلی جاتی ہے۔ بظاہر موت کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ وقت گزرتا ہے اور ہم مرنتے ہیں اور زمانہ لپیٹتا چلا جاتا ہے۔ گویا یہ زمانہ ہے جو تمام فیصلے کرتا ہے اور ان پر موت طاری کرتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔ یہ ایک سطحی نظریہ تھا۔ صرف ظاہری حالات کو دیکھ کر اسے اختیار کیا گیا ہے ، زندگی کے پیچھے جو اسر اور موز تھے ان کو تلاش کرنے کی اس میں کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ سوال یہ تھا کہ زندگی کہاں سے آگئی ؟ اور کون ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ موت کچھ متعین دنوں کے بعد تو نہیں آجاتی کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ موت کو وابستہ کردیا۔ بچے بھی بوڑھوں کی طرح مرتے ہیں اور صحت مند لوگ بھی تو مرتے ہیں۔ جس طرح بیمار لوگ مرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی طرح ہٹے کٹے بھی مرتے ہیں۔ لہٰذا اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو زمانے کا تعلق موت وحیات سے نہیں ہے۔ بشرطیکہ کوئی موت کی حقیقت کو جاننا چاہئے ۔ چناچہ کہا گیا : وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون ) 45 : 24) “ در حقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر باتیں کرتے ہیں ”۔ یہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبین پر چل رہے ہیں۔ ان کے خیالات بجھے ہوئے ہیں اور ان کے نفوش دھندلے ہیں۔ گہرے غوروفکر پر مبنی نہیں ہیں ، نہ کسی علم پر مبنی ہیں۔ اس کائنات کے حقائق کا ادراک ان کو نہیں ۔ موت وحیات کے جو حالات انسان پر طاری ہوتے ہیں ، یہ ان کے صرف سطحی اسباب دیکھتے ہیں۔ حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے صرف اس قدر معلوم کیا ہے کہ زیادہ دن گزر نے کے بعد انسان کمزور ہوتا ہے اور مرجاتا ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (45 : 25) “ اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ ان کی یہ بات بھی نہایت سطحی سوچ پر مبنی ہے اور اس سے پہلے انہوں نے اس کائنات کے قوانین فطرت کا مطالعہ نہیں کیا۔ اس دنیا میں اللہ نے حیات و ممات کے لئے جو نظام تحریر کیا ہے اور ان کے جو اسرار و رموز مقررہ کئے ہیں ، ان پر انہوں نے گہرے انداز میں نہیں سوچا۔ اس کے اندر گہری حکمت کارفرما ہے۔ لوگ اس جہاں میں آتے ہیں اور آتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں ان کو یہاں فرصت عمل مہیا کی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد ان کو ایک مقررہ وقت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور یہاں انہوں نے جو کچھ کیا ، اس پر ان کا حساب و کتاب دینا ہوگا۔ لہٰذا حشر و نشر سے پہلے اللہ کے نظام کے مطابق انہیں یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ قیامت کے مقررہ دن سے پہلے یہاں ان کا اٹھانا حکمت آزمائش کے خلاف ہے۔ بعض لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر پرچہ قبل از وقت آؤٹ کر دیاجائے۔ لیکن اللہ کا اپنا کام اور نظام ہے اور اس کی اپنی حکمت اور اسکیم ہے۔ جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ لہٰذا اس احمقانہ تجویز کے مطابق اللہ کی پوری اسکیم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ قرآن استدلال کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بس یہ کہتے ہیں : ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین ) 45 : 25) “ کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ سوال یہ ہے کہ اللہ وقت مقررہ سے پہلے ان کے باپ دادا کو کیوں اٹھا لائے۔ اس میعاد سے قبل جو اس نے اس پوری کائنات کے لئے مقرر کر رکھی ہے ؟ محض اس لیے کہ ان کو یہ یقین آجائے کہ اللہ مردوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اپنی سنت کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ اور ہر لحظہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا ہے۔ قل اللہ یحییکم ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ (45 : 26) “ ان سے کہو کہ اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ”۔ یہی تو وہ معجزہ ہے جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کو لے آنے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ان کی آنکھوں کے سامنے واقع نہیں ہو رہا ہے۔ بعینہ وہی معجزہ ۔ اللہ ہی تو ہے جو انسان کو پیدا کئے جا رہا ہے۔ وہی تو ہے جو مارتا ہے۔ آخر میں اس میں کیا انہونی بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن دوبارہ جمع کرے گا۔ اس میں آخر کیوں وہ شک میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس چیز سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اس کی نظیر خود ان کی زندگی ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (45 : 26) “ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ”۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو بنانے والا ہے۔ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ، اگر اس نے پہلے پیدا کی ہے اور تم مانتے ہو کہ کیا ہے۔ لیکن اللہ ان کے سامنے منطقی دلائل کی بجائے ایک منظر پیش فرماتا ہے :