45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 45:27–28

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اس دن باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے۔

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ان سے کہا جائے گا : “ آج تم لوگوں کو ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے

آیت نمبر 27 تا 28 آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ سخت حساب و کتاب ہونے والا ہوگا۔ اور پھر یہ اس لیے بھی خوفناک ہوگا کہ اللہ جبار وقہار کا دربار ہوگا۔ جو حقیقی منعم اور فضل و کرم کرنے والا ہے۔ جس کے فضل وکرم کا شکر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اس کے فضل وکرم کو لوگوں نے پہچانا ہے۔ اس کے بعد اس بدحال گروہ مجرمین سے کہا جائے گا جن کا منہ خشک ہوگا اور سانس اکھڑ رہی ہوگی :
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اسے ہم لکھواتے جا رہے تھے ”۔

آیت نمبر 29 اب ان کو معلوم ہوگا کہ اس اعمال نامے سے کوئی چھوٹی بڑی شے رہ نہیں گئی۔ اس لیے کہ ہر چیز اللہ کے علم کے مطابق لکھی گئی ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد ان اقوام و ملل کی تقسیم ہوگی ، مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو صرف دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ تمام اقوام و ملل کے لوگ اب دو طبقے ہوں گے۔ ایک گروہ اور طبقہ اہل ایمان کا ہوگا اور ایک اہل کفر کا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک صرف دو پارٹیاں ہیں اور دو جھنڈے ہیں۔ حزب اللہ اور حز الشیطان۔ اس کے علاوہ تمام ملتیں ، تمام فرقے اور مذاہب ختم ہوں گے۔ تمام آبادی دو گروہ ہوجائے گی۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

“ پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے ، انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے ”۔

آیت نمبر 30 اب یہ گروہ اس طویل انتظار سے نجات پائے گا۔ قلق اور اضطراب دور ہوگا۔ آیت میں ان کے انجام کو جلدی سے نہایت سادہ انداز میں بیان کردیا ۔ اور یہ لوگ گئے اپنے اصل مقام کی طرف۔ لیکن ہماری نظریں اچانک کیا دیکھتی ہیں کہ ایک دوسرا گروہ ہمارے سامنے ہے اور ان کو طویل الفاظ میں سرزنش کی جاتی ہے۔ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور ان کے برے اعمال ان کو یاد دلائے جاتے ہیں۔
Ayahs 45:31–32

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

“ اور جن لوگوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) “ کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے ”۔

آیت نمبر 31 تا 32 اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اس وقت ان پر ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور وہ اسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ”۔

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

“ اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ “ آج ہم بھی اسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔

آیت نمبر 33 اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تمہارا انجام اس لئے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرو

آیت نمبر 35 (1) اب ان کے آخری انجام کے اعلان پر پردہ گرتا ہے ، جہنم میں ان کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ، نہ ان سے کوئی عذر طلب کیا جاتا ہے اور نہ معافی کی درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ آیت نمبر 35 (2) گویا ان الفاظ کے ساتھ ہی ہم کرخت آوازیں سنتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اب یہ منظر یہاں ختم ہوتا ہے اور اس حالت میں کوئی تغیر اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس مقام پر اللہ کی حمد و ثنا کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ اس تمہید اور منظر کے بعد سورت کے آخری کلمات نہایت ہی موثر ہیں۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں بڑائی اسی کے لئے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے

آیت نمبر 36 تا 37 اللہ کی بڑائی اور اللہ کی عظمت کا اعلان ہوتا ہے۔ آسمانوں میں بھی وہ بڑا ہے اور زمین میں بھی وہی بڑا ہے۔ انسانوں کا بھی وہ حاکم ہے اور جنوں کا بھی وہ حاکم ہے۔ وحوش و طیور کا بھی وہی خالق ہے ، غرض جو کچھ اس کائنات میں ہے وہ اللہ کا ہے سب کے سب ایک ہی رب کی نگرانی میں ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور رب کائنات ہے۔ اللہ کی ثنا اور کبریائی کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر بڑا چھوٹا ہوجاتا ہے اور ۔۔۔۔ یہاں گھٹنوں کے بل جھکا ہوا ہے۔ ہر سرکش یہاں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ رب مطلق اور اکبر مطلق کے سامنے۔ اس کبریائی ، اس ربوبیت ، اس قدرت اور اس حکمت اور اس تدبیر کے ساتھ غالب قرار پاتا ہے۔ وھو العزیز الحکیم (45 : 37) “ وہ زبردست اور دانا ہے ”۔ الحمد للہ رب العلمین ! ٭٭٭٭