Explained with ayahs 2–6
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہوگی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لئے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے نہ بڑھے۔ اس رسول سے اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بد باطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کس قدر…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 5
جواب دینے سے مراد جوابی کاروائی کرنا ہے نہ کہ الفاظ میں بآواز جواب دینا یا تحریر کی شکل میں لکھ کر بھیج دینا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر ان معبودوں سے فریاد یا استغاثہ کرے، یا ان سے کوئی دعا مانگے، تو چونکہ ان کے ہاتھ میں کوئی طاقت اور کوئی اختیار نہیں ہے، اس لیے وہ اس کی درخواست پر کوئی کارروائی نفی یا اثبات کی شکل میں نہیں کرسکتے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، الزمر، 33)
قیامت تک جواب نہ دے سکنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ دنیا باقی ہے اس وقت تک تو معاملہ صرف اسی حد پر رہے گا کہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب ان کی طرف سے نہ ملے گا، لیکن جب قیامت آجائے گی تو اس سے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
معارف و مسائل
(آیت) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ ان آیات میں مشرکین کے دعوے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت و دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل عمل نہیں ہوتا۔ پھر اس میں جتنی قسمیں دلائل کی ہو سکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی بھی دلیل و شہادت موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے۔ دلائل کی اس آیت میں تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا (آیت) اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستعجیب لہ الی یوم القمیۃ وھم عن دعآئھم غفلون، واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین (6-5)
مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقتی اور بیخبر ی
یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انہیں خبر نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے ! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔
مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر۔ ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بالکل بیخبر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: یعنی جن جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، آخرت میں وہ سب ان مشرکین سے براءۃ ظاہر کرکے یہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، یہ بات سورة قصص (63: 28) میں بھی گزری ہے، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مشرکین کئی قسم کے ہوتے ہیں، بعض مشرکین نے کچھ دنیا سے گزرے ہوئے انسانوں کو معبود بنا رکھا ہے، ان انسانوں کو بسا اوقات یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی عبادت کی جارہی ہے، اس لئے وہ انکار کردیں گے، اور جن کو پتہ ہے وہ یہ کہیں گے کہ درحقیقت یہ ہماری نہیں، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت کرتے تھے، دوسرے بعض مشرکین وہ ہیں جو فرشتوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان کے بارے میں سورة سبا (41، 40: 34) میں گزرا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
آیت نمبر 4 تا 12
اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔
ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…
Read the full tafseer →5 یعنی اس سے بڑی حماقت اور گمراہی کیا ہوگی کہ خدا کو چھوڑ کر ایک ایسی بےجان یا بےاختیار مخلوق کو اپنی حاجت برآری کے لیے پکارا جائے جو اپنے مستقل اختیار سے کسی کو پکار کر نہیں پہنچ سکتی۔ بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو پکارنے کی خبر بھی ہو۔ پتھر کی مورتیوں کا تو کہنا ہی کیا، فرشتے اور پیغمبر بھی وہی بات سن سکتے اور وہی کام کرسکتے ہیں جس کی اجازت اور قدرت حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو۔
Read the full tafseer →آیت 5 { وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک“
وہ نہ تو ان کی دعائوں کو سن سکتے ہیں اور نہ قبول کرسکتے ہیں۔
{ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ } ”اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔“
وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ انہیں تو پتا ہی نہیں کہ کوئی ان سے دعا مانگ رہا ہے۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان میں کچھ تو بےجان اور بےعقل مخلوقات ہیں۔ ان کا تو اپنے پکارنے والوں کی دعائوں سے بیخبر ہونا ظاہر ہی ہے۔…
Read the full tafseer →6 استجاب کے دو معنی اور مشرکوں کا رد :۔ یہاں استجاب کا لفظ دو قسم کے معنی دے رہا ہے اور دونوں ہی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جو سن ہی نہیں سکتا وہ جواب کیا دے گا ؟ جیسے کسی پتھر یا درخت سے یہ پوچھا جائے کہ مثلاً لاہور کس طرف ہے ؟ تو جب وہ سنتا ہی نہیں تو جواب کیا دے سکتا ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی کسی کی دعا یا پکار کو سن کر اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثلاً میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس بیماری سے شفا دے اور اللہ تعالیٰ واقعی میری پکار کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور میری بیماری دور کردیتا ہے تو میں کہوں گا میری دعا مستجاب ہوگئی۔ اس سے واضح طور پر معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4۔ حاصل یہ کہ جن معبودوں سے تم لگائے بیٹھے ہو، ان کی معبودیت کا مقتضا تو کوئی ایک بھی نہیں۔ البتہ ان کی عدم معبودیت کے متقضا ایک چھوڑ کئی کئی موجود ہیں۔ پھر بھی انہیں معبود چلے جانا کتنی بڑی حماقت اور کیسی شدید گمراہی ہے ! (آیت) ” کفرین “۔ کفر۔ یہاں مطلق انکار وتکذیب کے معنی میں ہے۔ اے مکذبین (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
قل ارایتم ماتدعون اے نبی ان سے کہہ دو کہ کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی اور کبھی تم نے غور کیا بھی کہ یہ ہستیاں ہیں کیا ؟ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یہ تمہارے احساس ذمہ داری کی فقدان کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے بےسوچے سمجھے ایک نہایت ہی غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہو۔
مذکورہ آیات میں مشرکین کے دعوائے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت اور دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل قبول نہیں ہوتا، دلائل کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں سب کو اس میں جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی دلیل موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل…
Read the full tafseer →ومن اضل ممن یدعو من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعاءھم غفلون۔ اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ کرے اور ان کو اپنے پکارے جانے کی خبر بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) اور اس کافر سے زیادہ کون حق و ہدایت سے گمراہ ہوگا جو ایسے معبودوں کو پوجے کہ جو اس کی پکار تک نہ سنیں۔ اور ان بتوں کو تو ان پجاریوں کے پکارنے تک کی بھی خبر نہیں اور قیامت کے دن یہ بت اپنے پجاریوں کے دشمن اور بلکہ ان کی عبادت ہی کے منکر ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ …: یہ استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لئے جاتے ہیں، مگر لفظ ”من“ ذوی العقول کے لئے آتا ہے، اس لئے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنہیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انہیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو…
Read the full tafseer →یعنی اس سے بڑھ کر نہ کوئی گمراہ ہے اور نہ ہی جاہل ہے سے مراد بت ہیں۔ یعنی نہ وہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں یہ بت جامد چیزیں ہیں انہیں انسانوں سے مذکر افراد کے قائم مقام رکھ کر ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے عبادت کرنے والے بتوں کو بادشاہوں اور امراء کے ساتھ تشبیہ دیتے تھے جن کی خدمت کی جاتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔
3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَضَلُّ [ اور کون زیادہ گمراہ ہے ] مِمَّنْ [ اس سے جو ] يَّدْعُوْا [ پکارتا ہے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] مَنْ [ اس کو جو ] لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ [ جواب نہیں دیتا اس کو ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن تک ] وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ [ اور وہ ان کی دعا سے ] غٰفِلُوْنَ [ غافل ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات
اس کے بعد منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات نقل فرمائی اور وہ یہ کہ جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو قرآن کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے جب دلیل نہ دے سکے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت بنانے سے عاجز رہ گئے تو اسے جادو بتادیا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرات انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے سورة الذاریات میں فرمایا ﴿كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ یہ جادو گر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔
(ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…
Read the full tafseer →5:۔ ” ومن اضل “ یہ سابقہ آیت میں مذکور مطالبہ پورا کرنے میں ناکامی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جب کسی عقلی یا نقلی دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ جن کو مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ پکاریں سنتے اور حاجات برابری کرسکتے ہیں۔ تو اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ وہ شخص سب سے بڑٓ گمراہ ہے جو ایسوں کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی حاجت برآری نہ کرسکیں، بلکہ اسکی دعا اور پکار سے سراسر ہوں ہی ببے خبر۔ ” واذا خشر الناس۔ الایۃ “ پکارنے والوں کی پکار سے مزعومہ معبودوں کی بیخبر ی اور اس فعل پر ان کی ناراضی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں جب سب لوگ جمع ہوں گے تو جن مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کو دنیا میں پکارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ 5
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔
تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَن لاَّیَسْتَجِیْبُ لَـہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ وَھُمْ عَنْ دُعَـآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ ۔ وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآئً وَّ کَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 5، 6)
(اور کون گمراہ ہوسکتا ہے ان لوگوں سے بڑھ کر جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، اور وہ ان کی دعائوں سے غافل ہیں۔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔ )
مشرکین کی تردید میں مسلمہ بات
مشرکین کے خیالات کی تردید کے لیے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی جارہی ہے جس کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کے پاس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں مگر پھر بھی ” اللہ “ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے ہیں یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔
قرآن مجید نے مِن دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں لیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی پکارا جائے اور جس کی بھی عبادت کی جائے گی وہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ میں شامل ہوگا۔ یہاں تفسیر بالقرآن میں ان آیات کے حوالے پیش کیے گئے ہیں جن میں بتوں کے علاوہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ افسوس ! اتنی واضح آیات ہونے کے باوجود شرک کی حمایت کرنے والے ایک مفسر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فہم…
Read the full tafseer →سب سے بڑ اگمراہ بت پرست :
آیت 5 : وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُونَ (اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ مانے اور ان کو ان کے پکارنے کی بھی خبر نہ ہو) الی یوم القیامۃ سے ہمیشہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔ ” قل اراء یتم ما تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموات ایتونی بکتاب من قبل ھذا “ یعنی ایسی کتاب کے ساتھ جو تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن سے پہلے آئی ہو اس میں تمہاری باتوں کا بیان ہو۔ ” اواثارۃ من علم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی باقی علم جو پہلوں کی طرف منسوب ہو۔ مجاہد، عکرمہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) سے روایت ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں خاص علم اور اس کلمہ کی اصل اثر سے ہے بمعنی روایت۔ کہا جاتا ہے ” اثرات الحدیث اثراً واثارۃ “ او اسی سے مشتق کرکے خبر کو اثر کہا جاتا ہے۔ ” ان کنتم صادقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(قل) یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ ان کے معبودوں کی بےبسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں، ان سے کہہ دیجئے۔ (ارونی ما ذاخلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت) ” مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ “ کیا انہوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انہوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کئے ؟ کیا انہوں نے روئے زمین پر حیوانات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
[ 12] منکروں کے اللہ کی آیتوں کو کھلا ہوا جادو قرار دینے کے جرم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر لوگ حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ " سو ان کی بدنصیبی اور محرومیء قسمت ملاحظہ ہو کہ کلام الٰہی قوت تاثیر کے احساس و اقرار اور اس کے اعتراف کے باوجود اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی بجائے یہ بدبخت اس کو کھلا ہوا جادو قرار دے رہے ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
تخلیق کائنات بےمقصد نہیں
تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 4 کیونکہ وہ محض بےجان ہیں۔ مراد بت ہیں اور اگر ان سے مراد انسان ہوں جو مرچکے ہیں اور مشرکین نہیں پکارتے ہیں۔ تو ان کا مشرکین کی پکارے غافل ہونا بھی بظاہر ہے۔
Read the full tafseer →(46:5) من : استفہامیہ ہے کون ؟ اضل افعل التفصیل کا صیغہ ہے : زیادہ بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ من استفہام انکاری ہے یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں ہے۔
ممن :۔ من حرف جار اور من موصولہ سے مرکب ہے۔ یدعو مضارع واحد مذکر غائب : دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پکارتا ہے۔ وہ پوجا کرتا ہے۔ یدعو من دون اللہ صلہ ہے اپنے موصول کا اور ضمیر فاعل عائد ہے من موصولہ کی طرف۔ اور یدعوا کا مفعول محذوف ہے ای یدعو معبودا من دون اللہ ترجمہ ہوگا۔ اور کون زیادہ گمراہ ہوسکتا ہے اس (بدبخت) سے جو اللہ کو چھوڑ کر (دوسروں) کی پوجا کرتا ہے۔
من لا یستجیب لہ : من موصولہ ۔ لا یستجیب لہ اس کا صلہ۔ اور اس میں ضمیر فاعل من اسم موصول کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح : آیات نمبر 1 تا 6
سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔
اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
[1] یعنی روز قیامت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
بت پرستوں سے سوالات
1: جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں ۔ یا دوسرے معبودان باطل کو اپنا رب قرار دیتے ہیں ۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے ۔ کہ تم یہ بتاؤ ان معبودوں کا تخلیق کائنات کتنا حصہ ہے ۔ کیا انہوں نے زمین کے کسی گوشہ کو بنایا ہے ۔ یا آسمانوں کی تکوین میں مدد فرمائی ہے ؟ یا کسی مذہبی صحیفہ میں لکھا ہے ۔ کہ غیر اللہ کی پوجا کرو ۔ یا علمی دلائل کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رب السموات والارض کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور حقیر وبے جان چیزوں کو مقدس جان لیا جائے ! یعنی آخر جب تم اتنی کھلی ہوئی حقیقت کی مخالفت کرتے ہو ۔ تو پھر کچھ تو اس کی وجہ ہونی چاہیے ۔ وہ بتان سنگ جن کو تم الفطرت قوتوں کا مالک…
Read the full tafseer →(5) اور اس سے بڑھ کر کون شخص گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ای سے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی پکار کو قبول نہ کرسکے اور اس کی پکار کو نہ پہنچ سکے اور ان معبودوں کو ان مشرکوں کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو۔ یعنی اول تو ان کو خبر ہی نہیں کہ ہم کو کون پکار رہا ہے اور اگر بالفرض محال کسی طرح خبر بھی ہوجائے تو پکارنے والی کی مدد کرنے یا اس تک پہنچنے کی صلاحیت اور قابلیت نہیں۔ ایسے اپاہج اور غافل معبود کو جو پکارے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے معبود حقیقی کو چھوڑ کر تو ایسے بدبخت سے زیادہ اور کون گمراہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 5۔ پس ایسے معبود ین کی عبادت کرنے سے بڑھ کر کیا غلطی ہے کہ عبادت کا مقتضی ایک بھی نہیں اور عدم عبادت کے مقتضی بکثرت متحقق ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کو چھو کر جو غیر اللہ کو پکارتا ہے اس سے زیادہ گمراہ اور کون ہو سکتا ہے ؟
5 ؎ { من دون اللہ } کیا ہے ؟ مسلمانوں کی اکثریت جو ہمارے برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے ہیں ان کے ترجمان فرقہ کا یہ خیال ہے کہ صرف اور صرف ” بت “ { من دون اللہ } نہیں ہو سکتے یہی وجہ ہے کہ جہاں { من دون اللہ } کا لفظ آیا تو انہوں نے اس کا ترجمہ الاصنام اور بت کیا اور اس کے سوا کچھ ترجمہ ان کو نہیں سوجھتا اور نہ ہی وہ صحیح سمجھتے ہیں۔ ابھی گزشتہ آیت میں { ما تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض } کے الفاظ آئے تھے جن کا ترجمہ اور تفسیر آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ اسی آیت 4 کے آخر میں حاشیہ 5 دے کر ہمارے محترم پیر کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
Commentary
وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ (and I do not know what will be done to me or to you. I do not follow anything but what is revealed to me - 46:9) The sentence, "I do not follow anything but what is revealed to me," has been used here as an 'exception' to the previous sentence, meaning thereby that I do not know anything except what is revealed to me through wahy. The gist of the explanation given to this verse by Imam Dahhak (رح) is that the knowledge of some unseen things can be obtained by the Holy Prophet ﷺ only through…
Read the full tafseer →5 "Cannot answer him": Cannot answer the supplications of any one. That is, these gods do not possess the powers by virtue of which they could give decisions on the prayers and petitions of their devotees. (For further explanation, see E.N. 33 of Az-Zumar). "Till the Day of Resurrection" means that as long as the world lasts they will get no answer to their supplications and prayers from their deities, but when Resurrection will have taken place, the deities will turn hostile to their worshippers themselves, as becomes explicit from the next verse.
6 That is, "they do not even hear the…
Read the full tafseer →