Al-Ahqaf 46:4

Al-Ahqaf · from ayah 4

46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ— اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَرُوۡنِىۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِى السَّمٰوٰتِ‌ؕ اِیْتُوۡنِىۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ یا علم (انبیاء میں) سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Have you considered that which you invoke besides Allah? Show me what they have created of the earth; or did they have partnership in [creation of] the heavens? Bring me a scripture [revealed] before this or a [remaining] trace of knowledge, if you should be truthful."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:4

اے نبیؐ، اِن سے کہو، "کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے اِس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (اِن عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ یا علم (انبیاء میں) سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم ان سے کہو کہ : کیا تم نے ان چیزوں پر کبھی غور کیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین کی کونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ میرے پاس کوئی ایسی کتاب لاؤ جو اس قرآن سے پہلے کی ہو، یا پھر کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو۔ اگر تم واقعی سچے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم اگر تم سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ مجھے بتاؤ تو کہ جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز تخلیق کی ہے یا (یہ دکھا دو کہ) آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے۔ تم میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب یا (اگلوں کے) علم کا کوئی بقیہ حصہ (جو منقول چلا آرہا ہو ثبوت کے طور پر) پیش کرو اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : بھلا دیکھو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین کی کیا چیز انہوں نے پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کچھ حصہ ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب الٰہی یا علمی روایت میرے پاس لاؤ۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ کبھی تم نے غور بھی کیا ان چیزوں پر جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ! مجھے دکھائو کہ زمین کی چیزوں میں سے انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے یا ان کا آسمانوں میں کون ساجھا ہے ! میرے سامنے اس سے پہلے کئی کوئی کتاب پیش کرو یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ کیا تم نے ان چیزوں کو کبھی آنکھیں کھول کر دیکھا بھی جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا زمین میں سے یا ان کا کیا حصہ ہے آسمانوں میں ؟ دکھاؤ مجھے (اپنی تائید میں) اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کسی علم کا کوئی بقیہ اگر تم لوگ سچے ہو (اپنے قول وقرار میں)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ جن چیزوں کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کون سے زمین پیدا کی ہے یا یہ کہ ان کا ساجھا آسمان میں ہے میرے پاس کوئی کتاب لاؤ جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی مضمون منقول (معتبر) لاؤ اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟ یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟ } لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا انبیاء کے علم میں سے کچھ لکھا ہوا موجود ہو تو وہ مجھے دکھاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them, (O Prophet): “Did you consider those whom you call upon beside Allah? Show me, which part of the earth they created? Or do they have any share in creating the heavens? Bring to me any Scripture earlier than this one, or any vestige of knowledge (in support of your belief) if you are truthful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Tell me about those whom you invoke instead of Allah, (and) show me what they have created from the earth; Or have they a share in (the creation of) the heavens? Bring to me a book (revealed) before this one, or a trace of knowledge, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Tell me about those whom you invoke instead of Allah, (and) show me what they have created from the earth; Or have they a share in (the creation of) the heavens? Bring to me a book (revealed) before this one, or a trace of knowledge, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Think you about all that you invoke besides Allah Show me what have they created of the earth Or have they a share in (the creation of) the heavens Bring me a scripture prior to this or some trace of knowledge, if you are truthful!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): Have ye thought on all that ye invoke beside Allah? Show me what they have created of the earth. Or have they any portion in the heavens? Bring me a scripture before this (Scripture), or some vestige of knowledge (in support of what ye say), if ye are truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Have you considered that which you invoke besides Allah? Show me what they have created of the earth; or did they have partnership in [creation of] the heavens? Bring me a scripture [revealed] before this or a [remaining] trace of knowledge, if you should be truthful."

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Have you thought about what you worship besides God? Show me which part of the earth they have created. Do they have a share in the creation of the heavens? Bring me a Book, revealed before this Quran, or any other proof based on knowledge to support your belief, if indeed you are truthful".

— Muhammad Sarwar

Say: Have you considered what you call upon besides Allah? Show me what they have created of the earth, or have they a share in the heavens? Bring me a book before this or traces of knowledge, if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: bethink ye: whatsoever ye call upon beside Allah- show me whatsoever they have created of the earth? Or have they any partnership in the heavens? Bring me a Book before this, Or some trace of knowledges if ye say sooth.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Do ye see what it is ye invoke besides Allah? Show me what it is they have created on earth, or have they a share in the heavens bring me a book (revealed) before this, or any remnant of knowledge (ye may have), if ye are telling the truth!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–6

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہوگی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لئے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے نہ بڑھے۔ اس رسول سے اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بد باطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 4 چونکہ مخاطب ایک مشرک قوم کے لوگ ہیں اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ احساس ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے وہ کس طرح بےسوچے سمجھے ایک نہایت غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات ماننے کے ساتھ بہت سی دوسری ہستیوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان سے دعائیں مانگتے تھے، ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے، ان کے آگے ماتھے رگڑتے اور نذر و نیاز پیش کرتے تھے، اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات انہیں حاصل ہیں۔ انہی ہستیوں کے متعلق ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ انہیں آخر کس بنیاد پر تم نے اپنا معبود مان رکھا ہے ؟ ظاہر بات ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ ان آیات میں مشرکین کے دعوے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت و دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل عمل نہیں ہوتا۔ پھر اس میں جتنی قسمیں دلائل کی ہو سکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی بھی دلیل و شہادت موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے۔ دلائل کی اس آیت میں تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا (آیت) اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل اریتم ماتدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ایتونی بکتب من قبل ھذآ او اثرۃ من علیم ان کنتم صدقین 4 شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے یہ ان لوگوں کے اغراض کے اصل سبب پر ضرب لگائی ہے کہ ان کا اعتماد چونکہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر ہے اس وجہ سے یہ قرآن کے انداز کی کوئی پروا نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اول تو قیامت محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر اس کی کچھ حقیقت ہے بھی تو ہم جن معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں وہ ہم کو ہر خطرے سے بچائیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہ کہ تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پکارتے ہو کبھی ان پر غور بھی کیا ہے کہ ان کی کچھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 ارایتم یعنی اخبرونی یا ارونی یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں یا شخصیات کی تم عبادت کرتے ہو مجھے بتلاؤ یا دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین و آسمان کی پیدائش میں کیا حصہ لیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ان سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے تو پھر تم ان غیر حق معبودوں کو اللہ کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو۔ 4۔ 2 یعنی کسی نبی پر نازل شدہ میں یا کسی منقول روایت میں یہ بات لکھی ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاری صداقت واضح ہو سکے۔ بعض نے اثارہ من علم کے معنی واضح علمی دلیل کے کئے ہیں اس صورت میں کتاب سے نقلی دلیل اور اثارہ من علم سے عقلی دلیل مراد ہوگی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: ان آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک والے عقیدوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ جن معبودوں کو یہ پوجتے ہیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے، نقلی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کوئی ایسی کتاب نازل ہوئی ہو جس میں ان معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک قرار دیا گیا ہو، مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی کوئی کتاب ہے تو لاکر دکھاؤ، نقلی دلیل کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پیغمبر نے کوئی بات کہی ہو، اور اس بات پر کوئی علمی سند موجود ہو کہ واقعی انہوں نے ایسا کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی خداوند قدوس نے تو آسمان و زمین اور کل مخلوقات بنائی کیا سچے دل سے کہہ سکتے ہو کہ زمین کا کوئی ٹکڑا یا آسمان کا کوئی حصہ کسی اور نے بھی بنایا ہے یا بنا سکتا ہے۔ پھر ان کو خدا کے ساتھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیوں پکارا جاتا ہے۔ 4 یعنی اگر اپنے دعوائے شرک میں سچے ہو تو کسی آسمانی کتاب کی سند لاؤ یا کسی ایسے علمی اصول سے ثابت کرو جو عقلاء کے نزدیک مسلم چلا آتا ہو جس چیز پر کوئی نقلی یا عقلی دلیل نہ ہو آخر اسے کیونکر تسلیم کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟“ { اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟“ { اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !“ اپنے ان معبودوں کے بارے میں مجھ سے کسی الہامی ثبوت یا علمی اور منطقی دلیل سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 مشرکین سے شرک پر عقلی دلیل کا مطالبہ : سابقہ آیات میں مشرکین مکہ کے انکار آخرت کا رد پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت اور اس سے مابعد کی آیات میں ان کے شرک پر تنقید کی جارہی ہے۔ ان سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی کوئی وجہ تو بتاؤ۔ عبادت کے لائق تو وہی ہستی ہوسکتی ہے جس کا کائنات کی پیدائش میں کچھ عمل دخل ہو۔ بتاؤ اس کائنات کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے۔ یا زمین یا آسمانوں کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا تھا ؟ اور اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو پھر وہ اس کی ملکیت کیسے بن گئی جس میں تصرف کے اختیارات انہیں حاصل ہوں۔ 5 کتاب اللہ یا آثار سے نقلی دلیل کا مطالبہ :۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ لوگ عموما اثبات توحید پر دلائل قائم کرتے رہتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سے آگے بڑھ کر الٹے مشرکوں سے اثبات شرک پر دلیل کا مطالبہ اور دہرا مطالبہ کیا ہے۔ (آیت) ” ارونی ..... السموت “۔ اے اہل شرک، ذرا بتاؤ کہ تمہارے دیوتاؤں کی شرکت خلقت زمین یا آسمان میں آخر کس حیثیت سے اور کسی حد تک بھی ہے ؟ جب تم زمین و آسمان کو بھی اللہ ہی کا مخلوق سمجھ رہے تو یہ تو تم نے تسلیم کرلیا کہ یہ مخلوق معبود نہیں ہوسکتے، بلکہ ان کی معبودیت کی عین نفی ان کی مخلوقیت سے نکل آئی، پھر آخر تم شرک پر کس عقلی دلیل کا سہارا پکڑے ہوئے ہو ؟ یہ پہلا مطالبہ عقلی دلیل کا ہوا۔ (آیت) ” ایتونی ..... من علم “۔ میری لائی وحی کو جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–5

قل ارایتم ماتدعون اے نبی ان سے کہہ دو کہ کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی اور کبھی تم نے غور کیا بھی کہ یہ ہستیاں ہیں کیا ؟ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یہ تمہارے احساس ذمہ داری کی فقدان کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے بےسوچے سمجھے ایک نہایت ہی غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہو۔ مذکورہ آیات میں مشرکین کے دعوائے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت اور دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل قبول نہیں ہوتا، دلائل کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں سب کو اس میں جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی دلیل موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ارئیتم ما تدعون من دون اللہ ارونی ما ذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ایتونی بکتب من قبل ھذا او اثرۃ من علم ان کنتم صدقین آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو بتاؤ کہ علاوہ اللہ کے جن چیزوں کو تم پوجا کرتے ہو ‘ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کونسی زمین پیدا کی ہے ‘ یا ان کا آسمان (کی تخلیق) میں کچھ ساجھا ہے ؟ میرے پاس کوئی (خدائی) کتاب جو اس سے پہلے کی ہو ‘ لاؤ۔ یا کوئی اور علم کی بات جو منقول ہو (لاؤ) اگر تم سچے ہو۔ قُلْ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے۔ اَرَءَیْتُمْ یہ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی مخاطب کو اقرار پر آمادہ کرنا مقصود ہے۔ مَا تَدْعُوْنَ یعنی جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ اس سے بت مراد ہیں۔ مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان مکہ والوں سے یہ تو پوچھیے کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو مجھے بتاؤ تو سہی کہ انہوں نے کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں اور زمینوں کے بنانے میں انہوں نے کیا مدد کی ہے۔ یا قرآن کریم سے پہلے کی اپنے دعوی کی تصدیق کے لیے کوئی کتاب لاؤ یا علماء سے اس بارے میں کوئی معتبر چیز ہو یا کہ انبیاء کرام کے علم میں کوئی اس کا پیش خیمہ ہو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قل ارء یتم ماتدعون من دون اللہ …: جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں تفصیل سیب یان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے کی اور اس کے سوا تمام معبودوں کے باطل ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل اس کا ئنات کو پیدا کرنا ہے۔ یہ عقلی دلیل ہے جسے کوئی صاحب عقل رد نہیں کرسکتا، کفار کی اس کے جواب سے بےبسی واضح کرنے کے لئے اسے مناظرانہ انداز میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ زمین کی وہ کون سی چیز ہے جو انہوں نے پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو وہ دکھاؤ ؟ ظاہر ہے وہ ایسی کوئی چیز دکھا ہی نہیں سکتے، تو پھر کسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ بتوں اور اللہ تعالیٰ کے جن شریکوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ کیا انہوں نے زمین میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے۔ کیا ان کے لئے کوئی حصہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ آسمانوں کی تخلیق میں۔ یعنی اس قرآن سے قبل مسئلہ نمبر 2: عام قرأت اواثرۃ ہے یعنی ثاء کے بعد الف ہے۔ حضرت ابن عباس نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے “ یہ وہ خط تھا جو عرب زمین میں لگاتے تھے “ (1) اسے مہدوی اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اب عربی نے کہا : یہ درست نہیں : مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ” انبیاء میں سے ایک خط لگایا کرتا تھا جس نے ان کے خط کی موافقت کی تو وہ صحیح نتیجہ تک پہنچ گیا (2) یہ بھی روایت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–8

1:۔ احمد وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی سلیمان بن عبدالرحمن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ (یا علم کی بات جو منقول ہو) سے مراد ہے تحریر۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) الخطبی نے ابی سلمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اواثرۃ من علم “ سے مراد ہے ” ھذا الخط “ یعنی یہ تحریر۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) نے صفوان بن سلیم کے طریق (رح) سے عطا بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے تحریر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے ایک نبی نے اس کی تعلیم دی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہیے ] اَرَءَيْتُمْ [ کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ان پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] اَرُوْنِيْ [ تم لوگ دکھاؤ مجھ کو ] مَاذَا [ کیا کچھ ] خَلَقُوْا [ انہوں نے پیدا کیا ] مِنَ الْاَرْضِ [ زمین سے ] اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ [ یا ان کے لیے کوئی شراکت ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ ۭ [ آسمانوں میں ] اِيْتُوْنِيْ [ تم لوگ لاؤ میرے پاس ] بِكِتٰبٍ [ کوئی کتاب ] مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ [ اس سے پہلے کی ] اَوْ اَثٰرَةٍ [ یا (لاؤ) کچھ بچے ہوئے حصہ ] مِّنْ عِلْمٍ [ کسی علم سے ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ] نوٹ۔ 2: اثارۃ اس روایت کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–7

منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات اس کے بعد منکرین قرآن کی ایک جاہلانہ بات نقل فرمائی اور وہ یہ کہ جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو قرآن کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے جب دلیل نہ دے سکے اور قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت بنانے سے عاجز رہ گئے تو اسے جادو بتادیا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرات انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے سورة الذاریات میں فرمایا ﴿كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ یہ جادو گر ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ اس آیت میں مشرکین سے دو قسم کی دلیلوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مشرکین ! تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو کیا ان کی الوہیت اور پکار کے لائق ہونے پر تمہارے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ عقلی دلیل کا مطالبہ ” ارونی ماذا خلقوا الخ “ مجھے دکھاؤ تو سہی انہوں نے زمین کا کوئی حصہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی عملی دخل ہے ؟ اگر وہ کسی ایک چیز کے بھی خالق نہیں تو پکارے جانے کے لائق بھی نہیں۔ نقلی دلیل از کتب سابقہ وانبیاء سابقین (علیہم السلام) کا مطالبہ : ” ایتونی بکتب الخ “ اگر دلیل عقلی نہیں تو کتب سابقہ میں سے کوئی ایک حوالہ ہی پیش کر دو یا اولین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ۝ 0 ۭ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 4 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔ تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّاتَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِط اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْاَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الاحقاف : 4) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کبھی تم نے غور کیا ہے کہ کیا ان چیزوں کو جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین میں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے، لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی آئی ہوئی یا علم کی کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ ) مشرکین کی کم مائیگی اسلام کے عطا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کی ایک مدت مقرر کی ہے۔ پوری مخلوق کے پیدا کرنے اور ان کی ایک مدت مقرر کرنے میں کسی کا ذرّہ برابر عمل دخل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ حقیقی خالق اور مالک کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ باربار یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک نہیں۔ چاہے تو یہ کہ لوگ اپنے خالق اور مالک کی بندگی کریں اور اس کا حکم مانیں لیکن ” اللہ “ کو خالق اور مالک ماننے کے باوجود لوگ دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے کان کھولنے کے لیے پھر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 4 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (آپ کہیے کہ یہ تو بتلائو) مجھے خبر دو ! مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جن چیزوں کی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو۔ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ (مجھے یہ دکھلائو انہوں نے کونسی زمین پیدا کی) اگر وہ معبود ہیں تو انہوں نے زمین میں جو چیزیں ہیں ان میں سے کونسی چیز پیدا کی ہے۔ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ (یا ان کا آسمانوں میں ساجھا اور حصہ داری ہے) کیا آسمانوں کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شراکت ہے ؟ اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ (میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے کی ہولائو) یعنی اس کتاب قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔ ماخلقنا السموات والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی۔ یعنی قیامت کے دن۔ اور یہ وہ مدت ہے جس تک آسمانوں وزمینوں کی انتہا ہوگی اور یہ اشارہ ہے ان دونوں کے فناء ہونے کی طرف۔ ” والذین کفروا اعما انذروا “ قرآن میں بعث و حساب کے ذریعے ڈرائے گئے ” معرضون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

(قل) یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ ان کے معبودوں کی بےبسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں، ان سے کہہ دیجئے۔ (ارونی ما ذاخلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت) ” مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے ؟ “ کیا انہوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انہوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کئے ؟ کیا انہوں نے روئے زمین پر حیوانات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–7

[ 12] منکروں کے اللہ کی آیتوں کو کھلا ہوا جادو قرار دینے کے جرم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر لوگ حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلا ہوا۔ " سو ان کی بدنصیبی اور محرومیء قسمت ملاحظہ ہو کہ کلام الٰہی قوت تاثیر کے احساس و اقرار اور اس کے اعتراف کے باوجود اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی بجائے یہ بدبخت اس کو کھلا ہوا جادو قرار دے رہے ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ابن عباس نے اس کی تفسیر علمی روایت “ سے کی ہے۔ یعنی آنحضرت سے پہلے انبیاء و صلی کی تعلیمات کا کوئی ایسا باقیماندہ حصہ جو بعد کی نسلوں تک کسی قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ شرک پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:4) قل : ای قل یا محمد۔ ﷺ ۔ ارأیتم۔ ہمزہ استفہامیہ، تنبیہ کے طور پر آیا ہے۔ رأیتم ماضی جمع مذکر حاضر رؤیۃ (باب فتح) مصدر رای مادہ۔ کیا تم نے دیکھا۔ اخبرونی : یعنی مجھے بتائو تو سہی بھلا تم نے غور سے دیکھا۔ اسی طرح الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تجھے نہیں معلوم، یا ھل تری۔ کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ :۔ ما تدعون من دون اللہ : ما موصولہ ہے تدعون جمع مذکر حاضر، دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارتے ہو۔ تم پوجا کرتے ہو۔ قل : فعل امر، کفار سے مندرجہ ذیل سوال پوچھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ (1) ان سے پوچھئے : کیا جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (خدا سمجھ کر) بھلا تم نے کبھی ان کو (غور سے ) دیکھا ہے۔ (2) ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

تشریح : آیات نمبر 1 تا 6 سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–7

بت پرستوں سے سوالات 1: جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں ۔ یا دوسرے معبودان باطل کو اپنا رب قرار دیتے ہیں ۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے ۔ کہ تم یہ بتاؤ ان معبودوں کا تخلیق کائنات کتنا حصہ ہے ۔ کیا انہوں نے زمین کے کسی گوشہ کو بنایا ہے ۔ یا آسمانوں کی تکوین میں مدد فرمائی ہے ؟ یا کسی مذہبی صحیفہ میں لکھا ہے ۔ کہ غیر اللہ کی پوجا کرو ۔ یا علمی دلائل کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رب السموات والارض کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور حقیر وبے جان چیزوں کو مقدس جان لیا جائے ! یعنی آخر جب تم اتنی کھلی ہوئی حقیقت کی مخالفت کرتے ہو ۔ تو پھر کچھ تو اس کی وجہ ہونی چاہیے ۔ وہ بتان سنگ جن کو تم الفطرت قوتوں کا مالک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اے پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے بھلا دیکھو تو سہی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو اور جن کی تم عبادت کرتے ہو ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا اور پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے یا تو کوئی کتاب لائو جو اس قرآن سے پہلے کہو یا انبیائے سابقین کی کوئی معتبر روایت جو نقل ہوتی چلی آئی ہو وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ یعنی بطور احتجاج ان سے کہو کہ تمہارے ان معبودوں نے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور پوجا کرتے ہو انہوں نے زمین کا کوئی حصہ بنایا ہو تو ان کی بنائی ہوئی زمین مجھ کو دکھائو آسمانوں کے پیدا کرنے میں کوئی شرکت اور ساجھا ہو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی ظاہر ہے کہ تم بھی ان کو خالق نہیں مانتے جو کہ دلیل ہوسکتی ہے استحقاق الوہیت کی، بلکہ مخلوق کہتے ہو استحقاق الوہیت کی منافی ہے، پس دلیل عقلی تو منفی ہوئی۔ 4۔ مطلب یہ کہ دلیل نقلی کے لئے یہ ضرور ہے کہ اصل منقول عنہ کا قابل تقلید ہونا ثابت ہو اور سند اس تک متواتر یا متصل موجود ہو، خواہ وہ منقول عنہ کسی نبی کی کتاب ہو یا ان کا زبانی قول ہو، ظاہر ہے کہ ایسی دلیل کوئی پیش نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے ذرا مجھے بھی دکھائو : 4 ؎ پیچھے آسمانوں ، زمین کو او جو کچھ ان میں ہے او جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا ذکر کر کے بتایا گیا تھا کہ یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہی اکیلا ہر ایک چیز کا خالق ہے اس لئے وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسی کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ اب غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں سے خواہ وہ بزعم خویش فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کر کے ان کی پر شست کرتے ہوں ، خواہ وہ اجرام فلکی کو دیوتا سمجھ کر ان کی پرستش میں مصروف ہوں اور خواہ اللہ کے نیک بندوں ، نبیوں ، رسولوں ، ولیوں ، پیروں اور مرشدوں کی پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary قُلْ أَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ (Say, "Tell me about those whom you invoke instead of Allah,...46:4) In these verses, the claim of the polytheists about the existence of some other gods has been refuted by demanding a proof to substantiate this claim, because no claim can be accepted, neither rationally nor according to the religious principles, unless it is proved by concrete evidences to support it. Then dealing with all possible types of arguments, it has been proved that they do not have any evidence or proof in their favor, and that their insisting on such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 As the addresses are a polytheistic people they are being told the reality of the irrational crced in which they persisted carelessly due to lack of the sense of responsibility. Along with acknowledging Allah as the Creator of the universe they had made many other beings their deities: they invoked them, regarded them as fulfillers of their needs and removers of hardships: prostrated themselves and made offerings before them, and thought they had the powers of making and unmaking of heir destinies. About the same beings, they are being asked: "On what basis have you made them your deities…

Read the full tafseer →