Al-Ahqaf 46:3

Al-Ahqaf · from ayah 3

46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ— وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ ۟مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We did not create the heavens and earth and what is between them except in truth and [for] a specified term. But those who disbelieve, from that of which they are warned, are turning away.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:3

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کسی برحق مقصد کے بغیر اور کسی متعین میعاد کے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس چیز سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر میعاد پر اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے منہ پھیرے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقررہ میعاد ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب چیزوں کو حقیقی مصلحت کی بنا پر اور ایک مقررہ مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے اعراض کرجاتے ہیں جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نہیں پیدا کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لئے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی کائنات کو مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر وقت کے لئے مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر وہ اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حکمت ہی کے ساتھ اور ایک میعاد مقرر کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے بےرخی کئے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک اجل معین کے لیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ دونوں میں ہے حکمت پر اور مقررہ وقت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور کفار کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

We have created the heavens and the earth and all that is between them in Truth and for an appointed term. But those who disbelieve have turned away from what they were warned against.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not create the heavens and the earth but with true purpose and for a specified term. But those who disbelieve are averse to what they are warned of.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not create the heavens and the earth but with true purpose and for a specified term. But those who disbelieve are averse to what they are warned of.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We created not the heavens and the earth and all that is between them except with truth, and for a specified term. But those who disbelieve, turn away from that whereof they are warned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We created not the heavens and the earth and all that is between them save with truth, and for a term appointed. But those who disbelieve turn away from that whereof they are warned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We did not create the heavens and earth and what is between them except in truth and [for] a specified term. But those who disbelieve, from that of which they are warned, are turning away.

— Saheeh International

We have created the heavens and the earth and all that is between them ONLY for a genuine purpose and an appointed time. The unbelievers ignore that of which they have been warned.

— Muhammad Sarwar

We did not create the heavens and the earth and what is between them two save with truth and (for) an appointed term; and those who disbelieve turn aside from what they are warned of.

— Muhammad Habib Shakir

We created not the heavens and the earth and whatsoever is in-between the twain save with truth, and for a term stated. And those who disbelieve are from that whereof they are warned backsliders.

— Abdul Majid Daryabadi

We created not the heavens and the earth and all between them but for just ends, and for a Term Appointed: But those who reject Faith turn away from that whereof they are warned.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–6

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہوگی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لئے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے نہ بڑھے۔ اس رسول سے اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بد باطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 2 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 46، جل دوم، یونس، حاشیہ 11، ابراہیم، حاشیہ 23، الحجر، حاشیہ 47، النحل، حاشہ 6، جلد سوم، الانبیاء، حواشی 15 تا 17، المومنون، حواشی 102، العنکبوت، حواشی 75۔ 76 جلد چہارم، تفسیر سورة لقمان، حاشیہ 51۔ الدخان، حاشیہ 34۔ الجاثیہ، حاشیہ 28۔ سورة الْاَحْقَاف 3 یعنی واقعی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام کائنات ایک بےمقصد کھلونا نہیں بلکہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں لازماً نیک و بد اور ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا ہے، اور کائنات کا موجودہ نظام دائمی و ابدی نہیں ہے بلکہ اسکی ایک خاص عمر مقرر ہے جس کے خاتمے پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر حمہ (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے بھیجی گئی ہے، (اس لئے اس کے مضامین قابل غور ہیں، آگے توحید اور معاد کا بیان ہے کہ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں حکمت کے ساتھ اور ایک میعاد معین (تک) کے لئے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہیں، ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (مثلاً یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا) وہ اس سے بےرخی (اور بےالتفاتی) کرتے ہیں (اور توحید کو قبول نہیں کرتے) آپ (ان سے توحید کے بارہ میں) کہئے کہ یہ تو بتلاؤ جن چیزوں کی تم خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (ان کے مستحق عبادت ہونے کی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ماخلقنا السموت والارض وما بینھا الابالحق واجل مسمی والذین کفروا عمآ انذرما معضرون 3 یہ ان لوگوں کے مال پر اظہار افسوس ہے جو خدائے عزیز و حکیم کے اتارے ہوئے اس صحیفہ گرامی کی تکذیب پر مصر اور اس چیز سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے تھے جس سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ نے اس کو نازل کیا تھا۔ اس دنیا کے بامقصد ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے بعد ردز جزا ہو عما انذروا سے اشارہ ظاہر ہے کہ قیامت کی طرف ہے اور قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نہ ماننے سے یہ سارا کارخانہ عالم ایک بالکل عبث اور بےمقصد و بےغایت کھیل بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عالم بالحق یعنی ایک غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو آسمان اور زمین کا موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہوگا نہ زمین، یہ زمین ہوگی۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات " سورة ابراھیم۔ 3۔ 2 یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے وہ اس کی پرواہی نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: ان آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک والے عقیدوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ جن معبودوں کو یہ پوجتے ہیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے، نقلی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کوئی ایسی کتاب نازل ہوئی ہو جس میں ان معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک قرار دیا گیا ہو، مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی کوئی کتاب ہے تو لاکر دکھاؤ، نقلی دلیل کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پیغمبر نے کوئی بات کہی ہو، اور اس بات پر کوئی علمی سند موجود ہو کہ واقعی انہوں نے ایسا کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

1 یعنی آسمان و زمین، اور یہ سب کارخانہ اللہ تعالیٰ نے بیکار نہیں بنایا۔ بلکہ کسی خاص غرض و مقصد کے لیے پیدا کیا ہے جو ایک معین میعاد اور ٹھہرے ہوئے وعدہ تک یوں ہی چلتا رہے گا تاآنکہ اس کا نتیجہ ظاہر ہو اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ 2 یعنی برے انجام سے ڈرتے نہیں، اور آخرت کی تیاری نہیں کرتے۔ جب آخرت کی بات سنی ایک کان سنی دوسرے کان نکال دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ } ”اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ“ یہ ایک مستحکم نظام اور ایک با مقصد تخلیق ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ سورة الدخان میں اس بارے میں یوں فرمایا گیا ہے : { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ۔ } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔“ { وَاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”اور ایک اجل معین کے لیے“ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ } ”اور جن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اللہ کی حکمت سے معاد پر دلیل :۔ اس کارخانہ کائنات کے نتیجہ کے طور پر قیامت کے قائم ہونے پر عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اور اس کی تفسیر بھی پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ 3 اللہ کی صفت عدل سے معاد پر دلیل :۔ قیامت کے قیام پر دوسری عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ یعنی انسان کو اس دنیا میں ایسے نہیں پیدا کیا گیا کہ جو کچھ وہ چاہے کرتا رہے اور اس سے کچھ بھی محاسبہ نہ ہو۔ اور جب انہیں یہ بات سمجھائی جاتی ہے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور منہ موڑ کر چل دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض ان کا تکبر ہے۔ وہ اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیاں گوارا نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ کافروں اور منکروں کی اصلی بدبختی یہ ہے کہ وہ حقائق کی طرف توجہ والتفات ہی نہیں کرتے۔ آیت سے تین عقیدوں کی تعلیم نکلی، اور تین زبردست گمراہیوں کی تردید۔ (آیت) ” وما خلقنا “۔ الخ سارے موجودات عالم کا خالق حق تعالیٰ ہی ہے۔ کوئی شے خود بخود وجود میں نہیں آگئی ہے ..... عقیدۂ دہریت وقدامت مادہ وروح وغیرہ کی تردید۔ (آیت) ” الا بالحق “۔ ہر شے کسی نہ کسی خاص حکمت یا مقصود کے ساتھ ہی پیدا کی گئی ہے جو خالق کائنات ہے وہ حکیم کل بھی ہے۔ عقیدۂ آفرینش بےمقصد اور بعض اقسام شرک کی تردید۔ (آیت) ” واجل مسمی “۔ ہر شے فناء پذیر ہے، اور ایک مدت ومیعاد مخصوص ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ ... عقیدہ معاد کا اثبات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حم اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، کتاب یعنی قرآن کا نازل کرنا اپنی ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے (خدا) کی طرف سے ہے (الکتاب) مبتداء اور من اللہ اس کی خبر ہے، ہم نے آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت (تک) کے لئے پیدا کیا ہے یعنی قیامت کے دن ان کے فنا ہونے تک کے لئے تاکہ ہمار قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرے اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں (یعنی) جس عذاب سے خوف دلائے جاتے ہیں اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، آپ کہئے، بھلا دیکھو تو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی والذین کفروا عما انذروا معرضون ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور دونوں کی درمیانی کائنات کو حکمت کے ساتھ (ہی) ایک میعاد معین کیلئے پیدا کیا ہے۔ اور جو لوگ کافر ہیں ‘ وہ اسی چیز سے لاپرواہی کرتے ہیں جس سے ان کو ڈرایا گیا ہے۔ تَنْزِیْلُ اس کی تفسیر سورة جاثیہ میں گذر چکی ہے۔ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلاَّ بالْحَقِّ یعنی ہم نے آسمان و زمین اور اسکی درمیانی موجودات کو برحق پیدا کیا (بےحقیقت اور بلاحکمت نہیں پیدا کیا ‘ مترجم) یہ ساری کائنات بتارہی ہے کہ ان کا ایک بنانے والا ہے جو قدیم ہے اور حکمت والا ہے۔ یہ سارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس نے تمام مخلوقات اور عجائبات قدرت کو اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے اور ایک مقررہ مدت تک کے لیے پیدا کیا ہے اس کے بعد فنا ہوجائیں گے اور کفار مکہ رسول اکرم اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ڈرایا گیا مگر یہ ان کو جھٹلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ماخلقنا السموت والارض وما بینھمآ الا بالحق، قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سب سے اہم مضمون توحید اور آخرت ہیں۔ ان دونوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے ”تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم“ کو بطور تمہید ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ایک متفق علیہ بات کا ذکر فرمایا کہ یہ سب مانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تسلیم کرلینے کے بعد اس کا ئنات کے متعلق کوئی بھی بات اسی کی معتبر ہوگی جس نے اسے بنایا ہے۔ چناچہ اس کا فرمان ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز باطل نہیں کہ اس میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

اجل مسمی سے مراد قیامت ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے یہ وہ موت ہے جس پر آسمان اور زمین ختم ہوجائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ وقت ہے (2) جو ہر مخلوق کے لئے مقدر ہے۔ عما انذرو جس سے انہیں ڈرایا گیا۔ معرضون وہ اس سے اعراض کرنے والے ہیں۔ غفلت کا اظہار کرنے والے ہیں وہ اس کے لئے تیاری کرنے والے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ م مصدریہ ہو معنی ہوگا انہیں اس دن کے ڈرانے سے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حم الاحقاف مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ اسی طرح روایت کیا ہے : 3: احمد نے جید سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے سورة حم پڑھائی اور یہ سورة احقاف ہے پھر فرمایا کہ جب کوئی سورة تیس آیات سے زیادہ ہو تو اس کو ثلاثین (یعنی تیس آیتوں والی) کہتے ہیں۔ 4:۔ ابن الغریس والحاکم (رح) (وصححہ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے سورة احقاف پڑھائی (پھر) دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی لیکن اس کی قرأت مختلف تھی میں نے کہا تجھے کس نے یہ سورة پڑھائی اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے میں نے کہا اللہ کی قسم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ ہم نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَآ [ اور جو ان کے درمیان ہے ] اِلَّا بِالْحَـقِّ [ مگر حق (مقصد) کے ساتھ ] وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَمَّآ [ اس سے جس سے ] اُنْذِرُوْا [ ان کو خبردار کیا گیا ] مُعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

مشرکین کے باطل معبودوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا وہ جن کو پکارتے ہیں قیامت تک بھی جواب نہ دیں گے ! یہاں سے سورة احقاف شروع ہو رہی ہے اس سورت کے تیسرے رکوع میں احقاف کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موصوف اور مشہور ہوئی اوپر جن آیات کا ترجمہ کیا گیا اس میں تنزیل قرآن اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان سب کی تخلیق حکمت کے ساتھ ہے اور اجل مسمیٰ یعنی مقررہ وقت تک کے لیے ہے جب مقررہ معیاد پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں فنا ہوجائیں گی قال فی معالم التنزیل : یعنی یوم القیامة وھو الاجل الذی تنتھی الیہ السمٰوٰت والارض، وھو اشارة الی فنائھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” ما خلقنا السموات۔ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق کو ہم نے یونہی بیکار پیدا نہیں کیا ہر چیز کو اظہار حق (توحید) کیلئے پیدا کیا ہے، کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور اس کی صفت کارسازی پر دلالت کرتا ہے۔ وفیہ من الدلالۃ علی وجود الصانع وصفات کمالہ وابتناء افعالہ علی حکم بالغۃ (روح ج 26 ص 4) ۔ اس کائنات کی ہر چیز کی ایک انتہاء ہے۔ یہ کائنات اظہار حق کے لیے سمجھانے اور عبرت دلانے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس کے لیے آخر فنا ہے اسے ہمیش قائم رکھنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اس میں یہود کے قول لولا عزیر لما خلقت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَـقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى۝ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ۝ 3 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔ تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَاخَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا اِلاَّ بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّیط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّـآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ ۔ (الاحقاف : 3) (ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لیے، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ) قرآن کریم کے دعوتی نکات میں سے سب سے اہم نکتہ کی وضاحت پیشِ نظر آیت کریمہ میں قرآن کریم کے دعوتی نکات میں سے سب سے اہم نکتہ کو سب سے پہلے اٹھایا گیا۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق کو اس پر بطوردلیل پیش فرمایا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا سب سے اہم نکتہ دو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلْحَکِیْمِ “ کی حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے جو کچھ زمین و آسمانوں میں پیدا کیا ہے اس کا ایک مقصد ہے لیکن کافر اس مقصد کا انکار کرتے ہیں۔ ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرنے والوں میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کائنات کا نظام خود بخود معرض وجود میں آیا ہے اور یہ اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر کفار کی اس سوچ کی تردید کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں کوئی ایک چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی ہر چیز کو پیدا کرنے کے مجموعی طور پر دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اپنے رب کو یاد کرے اور اس کے حکم کے مطابق کام کرے،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 : حٰمٓ (2) تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (3) مَا خَلْقَنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ (حٰمٓ۔ یہ کتاب ہے اتاری ہوئی اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے حکیم ہے ‘ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو مگر حق کے ساتھ اور ایک میعاد معین کے لئے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ڈرائے گئے) حکمت کے ساتھ ملا ہوا۔ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقرر مدت) جس پر منتہی ہونگے وہ قیامت کا دن ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا (اس دن کی ہولناکی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے) ۔ جس تک ہر مخلوق کی انتہاء ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرو نہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا، اس نے خلق و امر کو جمع کردیا۔ (الا لہ الخلق والامر) (اعراف : 8/54) ” یاد رکھو ! اسی نے تخلیق کیا ہے تو حکم بھی اسی کا ہے۔ “ جیسا کہ فرمایا : (اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینھن) (الطلاق : 65/12) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " زمین و آسمان کی اس کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ ہی ہوئی ہے۔ " سو ان سب کی پیدائش بڑی بامقصد اور نہایت پر حکمت ہے۔ تاکہ انسان ایک طرف تو ان میں غور و فکر سے کام لے کر اپنا خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور دوسری طرف ان سے طرح طرح سے فائدہ اٹھا کر اس کا شکر بجالائے اور دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور اس طرح وہ اپنے لئے ابدی سعادت، حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح کا سامان کرے۔ اور حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کا تقاضا اور مخلوق بالحق ہونے کا لازمی نتیجہ اور طبی تقاضا یہ ہے کہ قیامت قائم ہو اور ہر کسی کو اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 2 یعنی زمین و آسمانا کا یہ نظام کھلونا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے اور نہ یہ دائمی اور ابدی چیز ہی ہے بلکہ اس کی ایک عمر مقرر ہے جب وہ پوری ہوجائیگی تو یہ لازماً درہم برہم ہوجائیگا اور قیامت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:3) ماخلقنا : میں ما نافیہ ہے۔ الا بالحق۔ استثناء مفرغ۔ بالحق۔ حق کے ساتھ۔ حق پر ۔ مبنی پر حقیقت و حکمت ۔ واجل مسمی۔ موصوف وصفت ۔ معین وقت ۔ موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ مضاف محذوف کا۔ ای بتقدیر اجل مسمی یعنی ایک معین وقت پر قرار پانا۔ اجل وقت مقررہ۔ مسمی اسم مفعول۔ واحد مذکر۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مقرر کردہ۔ نامزدہ۔ نام لیا ہوا۔ (نام رکھنے سے چیز متعین ہوجاتی ہے اجل مسمی ایسا وقت جو مقرر ہوچکا۔ جس کی مدت متعین کی جا چکی ہو۔ اور احل مسمی معطوف ہے جس کا عطف الحق پر ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو مبنی برحق و حکمت اور ایک معین مدت کے لئے پیدا کیا ہے۔ والذین۔ الآیۃ جملہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

تشریح : آیات نمبر 1 تا 6 سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) یہ قرآن خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے جو سب پر غالب اور حکمت والا ہے ، اس نے اپنی حکمت مقتضی کے موافق اس کو اتارا اور اس میں وہ احکام نازل کیے جن پر عمل کرنے میں بندوں کے لیے بڑی فلاحیت اور اس سے منہ پھیرنے میں ان کے لیے سخت شقاوت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

عالم بےمقصد نہیں 1: قرآن حکیم بار بار اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے ۔ کہ یہ کائنات جو آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے تعبیر ہے ۔ یونہی بلا مقصد اور بغیر غرض کے نہیں پیدا کی گئی ہے ۔ یہ مادہ کے اندھے تصورات کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اس کو محض فطرت کے مجازفہ کے نام سے نہیں موسوم کیا جاسکتا ۔ یہ دینی ساخت کے اعتبار سے اس درجہ کامل اور معقول ہے ۔ کہ دیکھنے والا بادنیٰ تامل پکار اٹھتا ہے ۔ کہ یہ کس مستاق اور صاحب حکمت و عظمت کی کارفرمائیاں ہیں ۔ اس تصویر میں ایسی ہنرمندی اور تخیل کا اظہار ہے کہ بجز خلاق اکبر پر ایمان لے آنے کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ۔ آپ غور فرمائیے ۔ کہ دنیا میں یہ جو حسن و جمال ہے ۔ کہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کو نہیں بنایا مگر خاص مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور ایک میعاد مقررہ تک کے لئے بنایا ہے اور وہ لوگ جو دین حق کے منکر ہیں ان کو جس چیز میں ڈرایا جاتا ہے اور اس سے اعراض کرتے اور بےرخی اور بےالتفائی برتتے ہیں۔ یعنی عالم علوی ہو یا عالم سفلی جو کچھ بنایا ہے وہ سب مبنی برحکمت اور مبنی برحکمت اور مبنی بر مصلحت ہے نیز یہ کہ یہ سارا نظام شمسی ایک خاص وقت اور خاص میعاد تک کے لئے ہے معیاد آنے پر اور وقت پورا ہونے پر یہ تمام نظام درہم برہم کردیا جائے گا۔ منکروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے یعنی قیامت کے واقعات سنا کر یا قرآن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ وہ حکمت دلالت علی التوحید والمجازاة ہے اور وہ میعاد قیامت ہے۔ 2۔ مثلا یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے : 3 ؎ لوگوں نے قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کردیا اور پھر انکار کرتے ہی چلے گئے جیسا کہ اوپر آپ پڑھ آئے اور اب ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے اندر اور ان کے درمیان ہے سب کا سب اسی رب ذوالجلال والاکرام ہی نے تو بنایا ہے جس نے اس قرآن کریم کو نازل کیا اگر قرآن کریم اس نے نازل نہیں کیا جیسا کہ تم ضد کرتے ہو اور بار بار کہتے ہو کہ یہ اس کی کتاب نہیں ہے تو کیا یہ ساری کائنات کا خالق بھی وہ نہیں ہے ؟ یہ استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ اگر وہ نہیں تو بتائو کہ وہ کون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary قُلْ أَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ (Say, "Tell me about those whom you invoke instead of Allah,...46:4) In these verses, the claim of the polytheists about the existence of some other gods has been refuted by demanding a proof to substantiate this claim, because no claim can be accepted, neither rationally nor according to the religious principles, unless it is proved by concrete evidences to support it. Then dealing with all possible types of arguments, it has been proved that they do not have any evidence or proof in their favor, and that their insisting on such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 For explanation, ace Al-An'am: 73, Yunus: 5-6, Ibrahim: 19, Al-Hijr: 85, An-Nahl: 3, AI-Anbiya,: 16-18. Al-Mu'minun: 115, AI-`Ankabut: 44, ArRum: 8 and the corresponding E.N.'s. 3 That is, "The actual fact is that this universe is not a purposeless plaything but a purposeful, wise system in which the decisions regarding the good and the bad, the oppressor and the oppressed, will necessarily be based on justice; and the present system of the universe is not permanent and eternal, but it has a fixed term appointed for it on the expiry of which it will inevitably come to an end. For the Court…

Read the full tafseer →