Al-Ahqaf 46:2

Al-Ahqaf · from ayah 2

46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ۟تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The revelation of the Book is from Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:2

اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ کتاب اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کتاب اللہ غالب، حکمت والے کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ کتاب نہایت اہتمام کے ساتھ خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سراسر اتاری گئی کتاب ہے اللہ کی طرف سے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

) یہ) کتاب نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ کتاب اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The revelation of this Book is from Allah, the Most Mighty, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is revelation of the book from Allah, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

This is revelation of the book from Allah, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The revelation of the Scripture is from Allah the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The revelation of the Book is from Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

This Book is revealed from God the Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

The revelation of the Book is from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

The revelation of the Book is from Allah, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

The Revelation of the Book is from Allah the Exalted in Power, Full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–6

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہوگی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لئے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے نہ بڑھے۔ اس رسول سے اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بد باطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْاَحْقَاف 1 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، سورة الزمر، حاشیہ 1، اور سورة الجاثیہ، حاشیہ 1، اس کے ساتھ سورة السجدہ، ایک بھی نگاہ میں رہے تو اس تمہید کی روح سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر حمہ (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے بھیجی گئی ہے، (اس لئے اس کے مضامین قابل غور ہیں، آگے توحید اور معاد کا بیان ہے کہ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں حکمت کے ساتھ اور ایک میعاد معین (تک) کے لئے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہیں، ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (مثلاً یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا) وہ اس سے بےرخی (اور بےالتفاتی) کرتے ہیں (اور توحید کو قبول نہیں کرتے) آپ (ان سے توحید کے بارہ میں) کہئے کہ یہ تو بتلاؤ جن چیزوں کی تم خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (ان کے مستحق عبادت ہونے کی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1 یہ دونوں آیتیں پچھلی سورة کی تمہیں میں بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ بعینیہ اسی نام اور اسی تمہید سے اس سورة کا آغاز نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ دونوں میں نہایت واضح قدر مشترک موجود ہے۔ چناچہ آگے کے کے مباحث سے ان کے اشتراک کا پہلو بھی سامنے آجائے گا اور جملہ حوامیم کا جو پیچھے گزر چکی ہیں، خلاصہ بھی معلوم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 یہ فواتح سورة ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے ان کے معانی و مطالب میں پڑنے کی ضرورت نہیں تاہم ان کے دو فائدے بعض مفسرین نے بیان کیے ہیں جنہیں ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: ان آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک والے عقیدوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ جن معبودوں کو یہ پوجتے ہیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے، نقلی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کوئی ایسی کتاب نازل ہوئی ہو جس میں ان معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک قرار دیا گیا ہو، مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی کوئی کتاب ہے تو لاکر دکھاؤ، نقلی دلیل کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پیغمبر نے کوئی بات کہی ہو، اور اس بات پر کوئی علمی سند موجود ہو کہ واقعی انہوں نے ایسا کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

1 یعنی آسمان و زمین، اور یہ سب کارخانہ اللہ تعالیٰ نے بیکار نہیں بنایا۔ بلکہ کسی خاص غرض و مقصد کے لیے پیدا کیا ہے جو ایک معین میعاد اور ٹھہرے ہوئے وعدہ تک یوں ہی چلتا رہے گا تاآنکہ اس کا نتیجہ ظاہر ہو اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ 2 یعنی برے انجام سے ڈرتے نہیں، اور آخرت کی تیاری نہیں کرتے۔ جب آخرت کی بات سنی ایک کان سنی دوسرے کان نکال دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ قبل ازیں سورة الجاثیہ کی آیت 2 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورة الجاثیہ اور سورة الاحقاف کے آغاز کی آیات مشترک ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 تمہیدی کلمات ہیں جن میں قرآن کا تعارف کرایا گیا ہے کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ اور اس آیت کی تفسیر پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة الزمر۔ المومن وحم السجدۃ۔ حاشیہ نمبر 1

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ پس جب متکلم ایسا ہے جو سب پر غالب و قادر بھی ہے اور سب سے بڑا حکیم بھی تو اس کا کلام بھی بہت اہم اور نہایت درجہ قابل غور ہے۔ (آیت) ” حم “۔ اور اس پوری آیت پر حاشیے قریب ہی کی سورتوں میں کئی بار گذر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حم اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، کتاب یعنی قرآن کا نازل کرنا اپنی ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے (خدا) کی طرف سے ہے (الکتاب) مبتداء اور من اللہ اس کی خبر ہے، ہم نے آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت (تک) کے لئے پیدا کیا ہے یعنی قیامت کے دن ان کے فنا ہونے تک کے لئے تاکہ ہمار قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرے اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں (یعنی) جس عذاب سے خوف دلائے جاتے ہیں اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، آپ کہئے، بھلا دیکھو تو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے جو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) حم، یعنی جو ہونے والا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے یا یہ بطور تاکید کے قسم کھائی گئی یہ کتاب اس اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ کفار کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس چیز کا اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تنزیل الکتب من اللہ…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة زمر، سورة مومن اور سورة جاثیہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

اجل مسمی سے مراد قیامت ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے یہ وہ موت ہے جس پر آسمان اور زمین ختم ہوجائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ وقت ہے (2) جو ہر مخلوق کے لئے مقدر ہے۔ عما انذرو جس سے انہیں ڈرایا گیا۔ معرضون وہ اس سے اعراض کرنے والے ہیں۔ غفلت کا اظہار کرنے والے ہیں وہ اس کے لئے تیاری کرنے والے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ م مصدریہ ہو معنی ہوگا انہیں اس دن کے ڈرانے سے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حم الاحقاف مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ اسی طرح روایت کیا ہے : 3: احمد نے جید سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے سورة حم پڑھائی اور یہ سورة احقاف ہے پھر فرمایا کہ جب کوئی سورة تیس آیات سے زیادہ ہو تو اس کو ثلاثین (یعنی تیس آیتوں والی) کہتے ہیں۔ 4:۔ ابن الغریس والحاکم (رح) (وصححہ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے سورة احقاف پڑھائی (پھر) دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی لیکن اس کی قرأت مختلف تھی میں نے کہا تجھے کس نے یہ سورة پڑھائی اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے میں نے کہا اللہ کی قسم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ [ جو بالا دست ہے حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

مشرکین کے باطل معبودوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا وہ جن کو پکارتے ہیں قیامت تک بھی جواب نہ دیں گے ! یہاں سے سورة احقاف شروع ہو رہی ہے اس سورت کے تیسرے رکوع میں احقاف کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موصوف اور مشہور ہوئی اوپر جن آیات کا ترجمہ کیا گیا اس میں تنزیل قرآن اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان سب کی تخلیق حکمت کے ساتھ ہے اور اجل مسمیٰ یعنی مقررہ وقت تک کے لیے ہے جب مقررہ معیاد پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں فنا ہوجائیں گی قال فی معالم التنزیل : یعنی یوم القیامة وھو الاجل الذی تنتھی الیہ السمٰوٰت والارض، وھو اشارة الی فنائھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” تنزیل الکتاب۔ الایۃ “ تمہید مع ترغیب ہے۔ تنزیل الکتاب مبتدا اور من اللہ العزیز الحکیم خبر ہے۔ یہ عظیم الشان کتاب عزت و عظمت کے مالک شہنشاہ کی طرف سے ہے جس کا کوئی حکم اور کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں، اس لیے اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝ 2 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔ تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الاحقاف : 1، 2) (حٰ ۔ مٓ۔ یہ کتاب نہایت اہتمام کے ساتھ اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ ) مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف چونکہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت اور آپ پر نازل کی جانے والی کتاب تھی۔ اس لیے سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا۔ اور اس شان کے ساتھ ذکر کیا کہ کتاب کی عظمت بھی نمایاں ہوگئی اور نازل کرنے والی ذات کی شان بھی کھل کر سامنے آگئی۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : سورة الجاثیہ کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ جس رب نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں وہی رب العالمین ہے اور زمین و آسمانوں میں صرف وہی ایک کبریا ہے۔ الاحقاف کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ اس کی کبریائی کا عالم یہ ہے کہ زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کسی چیز کی تخلیق میں اس کی شریک ہو یا اسے اس کی خدائی میں کوئی اختیار حاصل ہو۔ حمٓ سورتوں میں سے ساتویں سورت ہے۔ حمٓ کا لفظ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ اس کا معنٰی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا اللہ کے رسول ﷺ جانتے تھے۔ الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غلبہ رکھنے والا اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 : حٰمٓ (2) تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (3) مَا خَلْقَنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ (حٰمٓ۔ یہ کتاب ہے اتاری ہوئی اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے حکیم ہے ‘ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو مگر حق کے ساتھ اور ایک میعاد معین کے لئے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ڈرائے گئے) حکمت کے ساتھ ملا ہوا۔ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقرر مدت) جس پر منتہی ہونگے وہ قیامت کا دن ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا (اس دن کی ہولناکی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے) ۔ جس تک ہر مخلوق کی انتہاء ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرو نہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا، اس نے خلق و امر کو جمع کردیا۔ (الا لہ الخلق والامر) (اعراف : 8/54) ” یاد رکھو ! اسی نے تخلیق کیا ہے تو حکم بھی اسی کا ہے۔ “ جیسا کہ فرمایا : (اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینھن) (الطلاق : 65/12) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

[ 1] قرآن حکیم خالص کلام خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتارہوئی کتاب ہے۔ " یعنی یہاں پر " نازل " یا " منزل " نہیں " تنزل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے اور جس کا اطلاق مبالغے کیلئے ہوتا ہے۔ جیسے " زید عدل " وغیرہ۔ سو اس کے مفہوم کو ظاہر اور واضح کرنے کیلئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ مطلب یہ کہ اس کتاب میں کسی انسانی فکر و عمل اور کدوکاوش کا کوئی عمل دخل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے، اس کی شان اس سے کہیں اعلیٰ وارفع اور بلند وبالا ہے، پس منکرین و مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ اسے محمد ﷺ خود بنا کر لاتے ہیں سراسر باطل اور مردود ہے، سو ایسا نہیں۔ بلکہ یہ ازاول یا آخر سراسر اللہ پاک کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

تخلیق کائنات بےمقصد نہیں تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 2 یعنی زمین و آسمانا کا یہ نظام کھلونا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے اور نہ یہ دائمی اور ابدی چیز ہی ہے بلکہ اس کی ایک عمر مقرر ہے جب وہ پوری ہوجائیگی تو یہ لازماً درہم برہم ہوجائیگا اور قیامت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

تشریح : آیات نمبر 1 تا 6 سورۃ الاحقاف کی بھی ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ہیں ۔ اس کی تفصیل کئی سورتوں کی ابتداء میں بتادی گئی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ دوسرے یہ کہ ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتوں میں سے یہ آخری سورت ہے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان سات سورتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور حم سے شروع کی جانے والی یہ سات سورتیں ہیں جو لوگ ان سورتوں کو پڑھنے کا اہتمام کریں گے تو ساتوں سوتیں جہنم کے پر دروازے پر موجود ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گہ کہ الہٰی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) یہ قرآن خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے جو سب پر غالب اور حکمت والا ہے ، اس نے اپنی حکمت مقتضی کے موافق اس کو اتارا اور اس میں وہ احکام نازل کیے جن پر عمل کرنے میں بندوں کے لیے بڑی فلاحیت اور اس سے منہ پھیرنے میں ان کے لیے سخت شقاوت ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اس کتاب کا بھیجنا اور اتارنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کمال طاقت اور قوت کی وجہ سے کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں اور کمال حکمت کی بنا پر اس کتاب کے مضامین اور احکام حکمت سے لبریز ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ وہ حکمت دلالت علی التوحید والمجازاة ہے اور وہ میعاد قیامت ہے۔ 2۔ مثلا یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو غالب آنے والا اور حکمت والا ہے۔ 2 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو تشریف لائے تقریباً دس سال سے زیادہ عرصہ گزر رہا ہے اور ظاہر ہے وحی الٰہی کو اترتے ہوئے بھی اتنی مدت گزر چکی ہے۔ وحی الٰہی کیا ہے ؟ سب پر واضح ہے کہ وہ قرآن کریم ہے جس کو کتاب اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قریش مکہ کو پہلے ہی روز سے اس کا انکار تھا کہ یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھڑا ہوا ہے جو یہ الہل کی طرف منسوب کرتا ہے پھر جب وہ اعتراض کرتے ہیں اس وقت ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر یہ محمد (الرسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا ہے تو تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کرلے آئو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary قُلْ أَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ (Say, "Tell me about those whom you invoke instead of Allah,...46:4) In these verses, the claim of the polytheists about the existence of some other gods has been refuted by demanding a proof to substantiate this claim, because no claim can be accepted, neither rationally nor according to the religious principles, unless it is proved by concrete evidences to support it. Then dealing with all possible types of arguments, it has been proved that they do not have any evidence or proof in their favor, and that their insisting on such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 For explanation, sec E. N. 1 of Surah Az-Zumar, E. N. 1 of AI-Jathiyah and also E. N. 1 of As-Sajdah for understanding the true spirit of this introduction.

Read the full tafseer →