Explained with ayahs 7–14
نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 13
یہ وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے ایک دوسرے طریقہ سے سورة حٰم السجدہ، آیت 52 میں گزر چکا ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، تفسیر سورة مذکور، حاشیہ 69۔
سورة الْاَحْقَاف 14
مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے اس گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام کو لیا ہے جو مدینہ طیبہ کے مشہور یہودی عالم تھے اور ہجرت کے بعد نبی ﷺ پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ چونکہ مدینہ میں پیش آیا تھا اس لیے ان مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی تھی (بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر) ، اور اسی بنا پر ابن عباس، مجاہد،…
Read the full tafseer →(آیت) وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسْـتَكْبَرْتُمْ اس آیت کا مضمون تقریباً وہی ہے جو سورة شعراء کے آخری رکوع کی آیت کا ہے یعنی (آیت) اولم یکن لھم ایة ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ جاہل یہود و نصاری جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور قرآن کا انکار کرتے ہیں یہ خود اپنی کتابوں سے بھی ناواقف اور جاہل ہیں کیونکہ بہت سے علمائے بنی اسرائیل اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ کی علامات کا مشاہدہ کر کے آپ پر ایمان لے آئے ہیں کیا ان علماء کی شہادت بھی ان جاہل لوگوں کے لئے کافی نہیں۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ میرا دعوی…
Read the full tafseer →قل ارء یتم ان کان من عند اللہ و کفر تم بہ وشھد شاھد من بنی آسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ط ان اللہ لایھدی القوم الظلمین 10
یہاں جواب شرط محذوف ہے اور یہ حذف اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جواب شرط ایسے خوفناک نتائج پر متضمن ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کتاب کا انکار اور اس کو خدا کے اوپر میرا افتراء قرار دے رہے ہو لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہوئی تب کیا بنیگا ! ! ساتھ ہی یہ بات بھی تمہارے سوچ لینے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد اس طرح کی چیز کو گواہی دے چکا ہے، وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم استکبار کی بنا پر اس سے اعراض کئے جا رہے ہو…
Read the full tafseer →10۔ 1 اس شاہد بنی اسرائیل سے کون مراد ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ بطور جنس کے ہے۔ بنی اسرائیل میں سے ہر ایمان لانے والا اس کا مصداق ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مکہ میں رہنے والا کوئی بنی اسرائیلی مراد ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد عبد اللہ بن سلام ہیں اور وہ اس آیت کو مدنی قرار دیتے ہیں (صحیح بخاری) امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے (اس جیسی کتاب کی گواہی) کا مطلب تورات کی گواہی جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے۔ کیونکہ قرآن بھی توحید و معاد کے اثبات میں تورات ہی کی مثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی گواہی اور ان کے ایمان لانے کے بعد اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں…
Read the full tafseer →5: اس جملے کو اگلے جملے کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہیے، اور مطلب یہ ہے کہ نہ میں کوئی انوکھا پیغمبر ہوں کہ مجھ سے پہلے دوسرے پیغمبر نہ آئے ہوں، اور نہ میں کوئی ایسا غیر معمولی دعوی کررہا ہوں کہ میں عالم الغیب ہوں، کیونکہ مجھے جو کچھ علم ملا ہے، وہ وحی کے ذریعے ملا ہے، یہاں تک کہ وحی کے بغیر مجھے ذاتی طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دنیا اور آخرت میں میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔
یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ بنو اسرائیل میں سے کچھ یہودی اور عیسائی لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں، جیسا کہ بعد میں یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور عیسائیوں میں سے حضرت عدی بن حاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
آیت نمبر 4 تا 12
اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔
ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…
Read the full tafseer →8 اس زمانہ میں عرب کے جاہل مشرک بنی اسرائیل کے علم و فضل سے مرعوب تھے۔ جب حضور ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین نے اس باب میں علمائے بنی اسرائیل کا عندیہ لینا چاہا۔ غرض یہ تھی کہ وہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کردیں تو کہنے کو ایک بات ہاتھ آجائے کہ دیکھو اہل علم اہل کتاب بھی ان کی باتوں کو جھوٹا کہتے ہیں۔ مگر اس مقصد میں مشرکین ہمیشہ ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ نے ان ہی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور ﷺ کی تصدیق و تائید کرائی۔ نہ صرف اتنی بات سے کہ وہ لوگ بھی قرآن کی طرح تورات کو آسمانی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ کو پیغمبر کہتے تھے اور اس طرح حضور ﷺ کا دعوائے رسالت اور قرآن کی وحی کوئی انوکھی چیز نہیں…
Read the full tafseer →آیت 10 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ قرآن واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟“
تم لوگ مجھے الزام دیتے ہو کہ میں نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ‘ لیکن جب تمہیں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی کتاب تم بھی بنا کر دکھائو بلکہ ایک سورت ہی بنا لائو تو تم اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے ‘ اس لیے دل سے تم بھی مانتے ہو کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہے۔ بہر حال اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے تو یہ بات اچھی طرح سے سوچ لو کہ اگر واقعتا یہ اللہ ہی کا کلام ہوا تو تمہارے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
15 یہود کی اپنے متعلق غلط فہمی :۔ بایں ہمہ وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کسی چیز کے حق ہونے کا معیار ہماری ذات والا صفات ہے۔ حق وہی ہوسکتا ہے جسے ہم حق قرار دے دیں۔ پھر جب ہم ہی اسے حق نہیں سمجھتے تو چند کمزور درجہ کے لوگوں کے اس کو حق سمجھنے سے وہ چیز حق کیسے بن سکتی ہے۔ اگر یہ دین کوئی اچھی چیز ہوتی تو ہم جیسے عقلمند اور معزز لوگ ان لونڈی غلاموں سے پیچھے کیسے رہ جاتے ؟
16 جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخرالزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا…
Read the full tafseer →9۔ (تو تمہارا انجام کیا ہوگا) یعنی یقین و اعتقاد کرکے نہ سہی، بطور فرض واحتمال بھی اگر اسے مان لو کہ یہ قرآن واقعی کتاب الہی ہے اور تم اس سے خواہ مخواہ بھاگ رہے ہو، تو ذار سوچو تو کہ کیسے خسارہ میں رہوگے ؟ ، (آیت) ” وشھد ..... مثلہ “۔ قرآن مجید “۔ نے تو (آیت) ” شاھد “۔ بصیغہ واحد کہا، اور صرف ایک ہی متدین وصاحب علم اسرائیلی کی شہادت کو فرض کیا تھا۔ واقعۃ وعملا تو اس سے بڑھ کر معاملہ رہا۔ یعنی ایک نہیں متعدد متدین وصاحب علم اسرائیلی قرآن پر ایمان لا کر رہے بنی اسرائیل کا نام اس لئے لیا کہ وہی ایک ساحب کتاب قوم موجود تھی۔ اور اس قوم کا علم وفضل قریش کو بھی مسلم تھا۔ (آیت) ” شاھد “۔ کی تنوین…
Read the full tafseer →قل ارایتم ان کان من عند اللہ و کفرتم بہ (الایۃ) ان کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ رسول کی طرف راجع ہو اور کفرتم بہ اور وشھد شاھد تقدیر قد کے ساتھ حال ہیں۔
اس زمانہ میں عرب کے جاہل مشرکین بنی اسرائیل کے علم و فضل سے مرعوب تھے، جب آپ ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین نے اس باب میں علماء بنی اسرائیل کا عندیہ لینا چاہا، مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ آپ کی تکذیب کردیں تو کہنے کو ایک بات ہاتھ آجائے کہ دیکھو اہل علم اور اہل کتاب بھی ان کی باتوں کو جھوٹا کہتے ہیں، مگر اس مقصد میں مشرکین ہمیشہ ناکام رہے، اللہ تعالیٰ نے ان ہی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور کی تصدیق و تائید کرائی نہ صرف اتنی…
Read the full tafseer →قل ارئیتم ان کان من عند اللہ وکفرتم بہ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) من جانب اللہ ہو ‘ اور تم اس کے منکر ہو ‘ اور بنی اسرائیل میں کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر اس پر ایمان لے آئے ‘ اور تم تکبر ہی میں رہو۔ بیشک اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔
اَرَءَیْتُمْ مجھے بتاؤ ‘ تمہارا کیا حال ہے۔
وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءَیْلَ قتادہ اور ضحاک نے کہا : شاہد سے مراد ہیں حضرت ابو یوسف عبد اللہ بن سلام بن حارث ‘ آپ حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم کی نسل میں…
Read the full tafseer →اور آپ ان یہودیوں سے فرما دیجیے اے گروہ یہود مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے ہوا اور تم اس قرآن کریم کا انکار کرو اور جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اس قرآن کی گواہی دے کر اس پر اور رسول اللہ پر ایمان لے آئے بنیامین بنی اسرائیل میں سے گواہی دے کر ایمان لے آئیں اور تم رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر ہی میں رہو تو جان لو کہ حق تعالیٰ ایسے شخص کو جو کہ اہل نہیں ہوتا ہدایت نہیں کرتا۔
شان نزول : قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ (الخ)
امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ عوف بن مالک الاشجعی سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم چلے اور میں آپ کے ساتھ…
Read the full tafseer →(1) قل ارء یتم ان اکن من عند اللہ …:”ارء یتم“ کا لفظ معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ اہل عرب اسے ”اخیرونی“ (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ یعنی کیا تم نے دیکھا ؟ اگر دیکھا ہے تو مجھے بتاؤ۔ شھد شاھد من بنی اسرآئیل علی مثلہ“ میں ”اس جیسے کی شہادت“ سے مراد یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی ہو۔ کیونکہ بعض اوقات کسی چیز کی مثل سے مراد خود وہ چیز ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں ”مثلک لا یفعل ھذا“ (تیرے جیسا یہ کام نہیں کرتا“ یعنی توبہ یہ کام نہیں کرتا۔ اس لئے آگے ”فامن و استکبرتم“ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جیسے پر ایمان لایا، بلکہ اس کا مطلب ہے ”پھر وہ اس پر ایمان لے…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں (2) آپ نے یہودیوں کے خلاف گواہی دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر تورات میں ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی ہیں۔ ترمذی میں ان سے روایت ہے کہا : میرے بارے میں کتاب اللہ کی آیات نازل ہوئیں میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی سورة رعد کے آخر میں بھی گزر چکا ہے۔
مسروق نے کہا : اس آیت کا مصداق حضرت موسیٰ اور تورات ہے حضرت ابن سلام نہیں، کیونکہ آپ مدینہ طیبہ میں اسلام لائے جبکہ سورت مکی ہے : کہا : یہ قریش سے خطاب ہے، شعبی نے کہا : اس سے مراد : بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابویعلی وابن جریر (رح) والطبرانی (رح) نے صحیح سند کے ساتھ عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز (یہودیوں کی طرف) روانہ ہوئے میں بھی ساتھ تھا آپ یہودیوں کے عبادت خانہ میں تشریف لے گئے اور یہ یہودیوں کی عید کا دن تھا اس لئے ان کو ہمارا اندر جاپہنچنا برا معلوم ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اپنے اندر مجھے بارہ آدمی ایسے نکال کر بتاؤ جو ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں (اگر تم نے بارہ آدمی دیدیئے تو) اللہ اس آسمان کے نیچے رہنے والے ہر اس یہودی سے اس غیظ وغضب کو اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ کو اس پر ہے یہودی خاموش رہے ان میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ نے…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ [ آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ كَانَ [ اگر یہ (قرآن ) ہوا ] مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] وَكَفَرْتُمْ بِهٖ [ اور انکار کیا تم نے اس کا ] وَ [حالانکہ ] شَهِدَ [ گواہی دی ] شَاهِدٌ [ ایک گواہی دینے والے نے ] مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل میں سے ] عَلٰي مِثْلِهٖ [ اس کے جیسی (کتاب ) پر ] فَاٰمَنَ [ پھر وہ ایمان لایا ] وَاسْـتَكْبَرْتُمْ ۭ [ اور تم نے (پھر بھی ) اکڑ دکھائی ] اِنَّ اللّٰهَ [ (تو) یقینا اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْــقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والی قوم کو ]
نوٹ۔ 2: مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے آیت ۔ 10 میں گواہ سے…
Read the full tafseer →﴿قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب کے صدق پر گواہی دے کر ایمان لے آئے اور تم تکبر ہی میں رہو بلاشبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ ) اس آیت میں مشرکین مکہ سے ایک سوال فرمایا اگر وہ اس میں غور کرتے اور جواب کے فکر مند ہوتے تو انہیں ایمان لانے کا راستہ مل جاتا اور کفر پر نہ جمے رہتے اس آیت سے پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین یوں کہتے تھے کہ یہ قرآن انہوں نے خود بنالیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت کردی ہے اس آیت میں ان کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔
(ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب…
Read the full tafseer →ٖ 10:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ۔ یہ زجر ہے اور ایک عالم بنی اسرائیل سے پہلی دلیل نقلی تفصیلی کا بیان ہے۔ ان کان، شرط کی جزاء محذوف ہے۔ ” فمن اض (رح) منکم “ (روح) اور شاہد بنی اسرائیل سے عبداللہ بن سلام مراد نہیں کیونکہ وہ مدینہ میں اسلام لائے تھے اور یہ سورت مکیہ ہے، بلکہ اس سے مراد تو بادشاہ حبشہ ہے جو اپنے ملک ہی میں مسلمان ہوگیا تھا یا وہ یہودی مراد ہے جو مکہ میں کسی کام کو آیا اور آپ پر ایمان لے آیا تھا۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک شاہد سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں اور یہ آیت مدنیہ ہے اگرچہ باقی تمام سورت مکیہ ہے (روح۔ قرطبی۔ ابن کثیر۔ مدارک وغیرہ) ۔ یعنی یہ بتاؤ اگر یہ قرآن فی الواقع اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
کلام الٰہی میں انتباہ
آج کے درس کی پہلی آیت گزشتہ درس کی آخری آیت سے مربوط ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ ان کے اثر کے اعتبار سے کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اب اللہ نے فرمایا ہے کہ ان بدبختوں نے اس سے بھی بری بات کی ہے اور وہ یہ کہ ام یقولون افترئہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کلام کو گھڑ لیا ہے گویا قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کا خود ساختہ ہے نعوذ باللہ مگر اللہ نے اس کی تردید فرمائی اور اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا ۔ قل آپ کہہ دیجیے ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً کہ اگر میں نے اس کو غصہ لیا…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللہِ وَكَفَرْتُمْ بِہٖ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي مِثْلِہٖ فَاٰمَنَ وَاسْـتَكْبَرْتُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْــقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ 10 ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
تفسیر : پہلی بات کا پھر اعادہ کرتا ہے یعنی مسئلہ نبوت کا۔ کس لیے کہ عرب میں سینکڑوں برس سے کوئی نبی نہیں آیا تھا بلکہ اس سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے۔ ہاں اہل کتاب سے کبھی کچھ انبیاء کا ذکر سنا کرتے تھے اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں بڑا شک و تردد تھا اور ہم کہہ چکے ہیں کہ باقی باتوں کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے طبائعِ عامہ کے نزدیک۔ پس اس کے قوی کرنے کو پھر اس میں کلام کرتا ہے فقال و اذاتتلی علیہم الخ کہ ان جہال کا عجب حال ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو صاف جاود ہے۔ عرب میں اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر چیز کو سحر کہتے…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ وَشَھِدَ شَاہِدٌ مِّنْ م بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ فَاٰ مَنَ وَاسْتَـکْبَرْتُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْـقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 10)
(اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ اس وقت کیا ہوگا اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا، اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسے کلام پر گواہی بھی دی ہے سو وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
نفع و ضرر کے حوالے سے سوال اور ایک حوالے سے تاکید
جو شخص دلائلِ آفاق وانفس کو سمجھنے سے انکار…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام :” نبی آخر الزّماں ﷺ پہلے اور انوکھے رسول نہیں تھے۔ “ آپ ﷺ کا تذکرہ پہلی کتابوں میں پایا جاتا ہے جس کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔
اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ اپنے اپنے انداز میں یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ محمد ﷺ اللہ کا رسول نہیں۔ یہ اپنی طرف سے قرآن مجید بنا کر نبوت کا دعویٰ کیے جارہا ہے اس موقع پر ان کے پراپیگنڈہ کے دو جواب دیئے گئے۔ ایک کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوا اور دوسرے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اے نبی ﷺ ! انہیں فرمائیں کہ اگر قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تم اس کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →آیت 10 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (آپ کہہ دیجئے) تم مجھ کو یہ بتلائو۔ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْ
اِسْرَآئِ یْلَ (کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ گواہی دے کر ایمان لے آئے)
شاہد سے مراد :
یہ شاہد ِبنی اسرائیل عبداللہ بن سلام ہیں جمہور کا یہی مسلک ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے۔ کہ یہ آیت مدنی ہے۔ کیونکہ عبداللہ بن سلام کا زمانہ اسلام مدینہ منورہ کا ہے۔
روایت ِبخاری :
روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ تو آپ کے چہرے کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔ کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ پھر عرض کیا…
Read the full tafseer →9 ۔” قل ماکنت بدعا من الرسل “ یعنی بدیع نصف اور نصیف کی مثل اور بدع کی جمع ابداع ہے۔ میں پہلا رسول نہیں ہوں۔ تحقیق مجھ سے پہلے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے ہیں۔ پس تم میری نبوت کا کیسے انکار کرتے ہو۔ ” وماادری مایعفل بی ولا بکم “
وماادری ما یفعل بی کی تفسیر
علماء حمہم اللہ نے اس آیت کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان میں سے بعض سے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے میں نہیں جانتا کہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین خوش ہوگئے۔ پس وہ کہنے لگے ” لات وعزی “ کی قسم ہمارا اور محمد ﷺ کا معاملہ اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے اور اس کو ہم پر خصوصیت اور فضیلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(واذا حشر الناس کانوالھم اعداء) ” اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ “ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے (وکانوا بعبادتھم کفرین) ” اور وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “
اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں (ایتنا بینت) ” ہماری واضح آیات “ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، یہ آیات انہیں کوئی فاہدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔
وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں (للحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین) ” حق کے بارے میں جب حق ان کے…
Read the full tafseer →[ 21] شاہد بنی اسرائیل سے مقصود و مراد ؟
اس میں حضرت اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ منصف اہل کتاب مراد ہیں جو وحی کے اسرارورموز کے واقف ہونے کے باعث قرآن پاک کی حقانیت پر ایمان لائے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔ اور بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ اس لئے جمہور مفسرین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اسکا مصداق حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ہی کو قرار دیا ہے جبکہ کچھ اہل علم نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ اسلئے بعض نے اس کا مصداق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے۔ مگر آگے { فامن واستکبرتم } کا ارشاد اس سے جوڑ نہیں کھاتا اس لئے صحیح بات وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
تخلیق کائنات بےمقصد نہیں
تشریح : اللہ کی وحدانیت بیشمار ذریعوں سے ثابت ہوچکی ہے کائنات کا نظام ایک مستحکم اور کامل مرکزی نظام ہے۔ جس کو ایک اکیلے اللہ نے پیدا کیا وہی چلا رہا ہے اور وہی اس کو اپنی مرضی اور مقرر کردہ وقت پر ختم بھی کر دے گا۔ یہ اختتام دراصل دوسری تخلیق کا آغاز ہوگا اور اس طرح ہم اس کو تخلیقی امر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اس دنیا میں آنے کیلئے پیدائش کا عمل ہوا اسی طرح دوسری دنیا میں جانے کیلئے موت کا عمل منتقل ہونے کا تخلیقی عمل ہے۔ اس پر یقین کرنا عام انسان کیلئے یوں مشکل ہے کہ یہ غیب کی بات ہے۔ آنکھوں دیکھی بات نہیں۔ انسان اس کے کھوج میں لگا رہتا ہے۔ لہٰذا تاریخی لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اللہ کی طرف سے یہ عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر اس کی حکمت ہے کہ لوگوں کو مہلت عطا فرمائی اور ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول برحق بنی آدم کو پہنچایا۔ اور جس نے دلائل مہیافرمادیے کہ ہم نے ارض وسماء کو اور ان میں جو کچھ ہے سب کو ٹھیک ٹھیک اور انصاف پر پیدا فرمایا اور اس کا نتیجہ یقینی ہے یعنی سب کچھ خود تقاضا کرتا ہے کہ آخر کو ایک روز نتیجے پر پہنچے ورنہ حق کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ جب آخرت کے ہولناک عذابوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 7 یہاں بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ “ سے مراد علمائے یہود ہیں جن سے مشرکین عرب آنحضرت کے بارے میں دریافتک رتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی بنی اسرائیل (اہل کتاب) آنحضرت کی تصدیق کرچکے ہیں تو تم کیوں ایمان نہیں لاتے۔ واضح رہے کہ علمائے یہود صراحت کے ساتھ اس بات کا اقرار کرچکے تھے کہ بیشک تو رات میں عرب (بنو اسماعیل) میں سے نبی آخر الزمان اور کتاب آنے کی خبر دی گئی ہے اور یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے۔ علمائے یہود کی یہ شہادتیں ان پیشنگوئیوں پر مبنی تھیں جو بائبل میں موجود چلی آرہی تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا گواہ (یعنی حضرت موسیٰ ) خود ہی گواہی دے چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے بنو…
Read the full tafseer →(46:10) ارأیتم : کیا تم نے دیکھا۔ کیا تم نے غور کیا۔ اخبرونی بھلا مجھے بتائو تو مجھے بتائو تو سہی۔
ارأیتم ان کان من عند اللہ وکفرتم بہ وشھدنا شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ان اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔
اس میں عبارت مقدرہ ہے اصل عبارت کچھ یوں ہوگی !
ارأیتم ما ذا تکون حالکم ان کان القران من عند اللہ کفرتم بہ وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ ای علیہ انہ من عند اللہ فامن واستکبرتم انتم ولم تؤمنوا الستم ظلمین ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ (خطوط زدہ عبارت مقدرہ ہے) ۔
ماذا تکون حالکم (جواب شرط محذوف) ان کان القران من عند اللہ کفرتم بہ جملہ شرط۔ وائو عاطفہ ہے اور جملہ کفرتم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
تشریح آیات 7 تا 12
قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…
Read the full tafseer →(ف 2) اے محبوب ﷺ ان یہود سے کہہ دو کہ اگر یہ قرآن خدا ہی کے پاس سے ہے اور پھر تم نے اس کو نہ مانا کفر اختیار کیا حالانکہ بنی اسرائیل سے ایک گواہی دینے والے یعنی عبداللہ بن سلام ؓ نے اس کی تصدیق کی اور اس کی کتاب آسمانی ہونے کی گواہی دی اور آپ کی نبوت کی شہادت دی اور خوب غوروتامل کے بعد ایمان لائے ہیں اب کیا انکار ہے کہ اپنے جیسے ایک گواہی کی تصدیق وتائید کرچکے ہیں اور گمراہیوں پر گواہیاں گزرتی ہیں اور اس حالت پر بھی تم نے نہ مانا، اور ایمان لانے سے غرور اور تکبر کیا تو پھر تم سے بڑھ کرنا انصاف ونافہم کون ہوگا، جب ان دلائل کے قائم ہوئے بعد تم کفر کرتے ہو تو جب عذاب آئے گا تو کیا تم کرو گے خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[5] یہاں گواہ سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا کہ میں ایک آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد محمد ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری پیغمبر ہیں لہذا '' آنے والے '' سے آپ ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کے نام کی تصریح کے ساتھ بھی آپ کی بشارت دی ہے جیسا کہ سورة صف میں مذکور ہے۔ اور یہ بشارت انجیلوں میں موجود ہے۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف، حاشیہ 10۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
پیغمبر بشر ہوتا ہے
قرآن میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس نے نبوت کے مفہوم پر کوئی غبار نہیں رہنے دیا ۔ صاف صاف اس حقیقت کا اظہار کردیا ہے ۔ کہ پیغمبر باوجود جلالت قدر کے ایک انسان ہوتا ہے اور اس میں وہی بشری لوازم ہوتے ہیں جن کا ہونا انسان میں ضروری ہے ۔ مکہ والے اس بناء پر کہ پیغمبر فوق البشر ہونا چاہیے ۔ حضور ﷺ سے بعض مخصوص معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ اور یہ کہتے تھے ۔ کہ آپ ہم کو چند غیب کی باتوں سے اطلاع دیں ۔ اس آیت میں اس چیز کو واضح کیا ہے ۔ کہ حضور کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ہے ۔ آپ بھی اس قسم کے پیغمبر ہیں ۔ جس طرح کہ پہلے انبیاء گزر چکے ہیں ۔ جس طرح وہ محض وحی اور الہام کے تابع…
Read the full tafseer →(10) آپ ان سے کہئے کہ بھلا یہ توبتائو اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہو اور تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی معتبر اور مقتدر گواہ اس جیسی کتاب کے منجاب اللہ ہونے پر گواہی دے اور پھر اس قرآن پر ایمان بھی لے آئے اور تم تکبر اور غرور ونخوت ہی کرتے رہو تو تم سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں فرماتا جو ظالم ہوں۔
قرآن میں کئی جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اگر تم کو اس قرآن کی منجانب اللہ ہونے میں شک ہے تو علماء بنی اسرائیل سے دریافت کرو کہ اس قرآن کی صفت توریت میں مذکور ہے یا نہیں اور سورة زخف میں ابھی گزرا ہے کہ پہلے رسولوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1۔ یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے تو اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے، جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں۔ یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو تم انکار کر کے کیا کر رہے ہو خود ہی سمجھ لو :
01 ؎ { قل آراء یتم ان کان من عنداللہ } یہ بات کسی شک و شبہ کی بنا پر نہیں کہی گئی بلکہ بطور حکایت فرمایا جارہا ہے کہ تم اس کلام کو اللہ کا کلام ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ کہتے ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے لیکن کل کو تم کو جب یہ معلوم ہوجائے گا اور تم پر یہ بات واضح کردی جائے گی کہ یہ فی والواقع اللہ کا کلام ہے تو تم آخر کیا کرو گے جب کہ تم اس کا مسلسل انکار کئے چلے جا رہے ہو اگر تم غو کرو کہ اس کا انجام کتنا ہولناک ہے تو تم اتنی جلدی اس کا انکار نہ کر دو بلکہ اس کو سمجھنے اور…
Read the full tafseer →وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ (and a witness from the children of Isra'il testifies about something similar to it and comes to believe in it while you persist in your arrogance, [ then, how unjust you are!]....- 46:10) The subject of this verse is almost the same as of the verse of the last chapter of Surah As-Shu'ara'
أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
Is it not a proof for them that the knowledgeable of the children of Isra it recognize him (the Prophet)? (26: 197)
The gist is that these ignorant…
Read the full tafseer →13 This same theme has been expressed in another way in Surah Ha-Mim As-Sajdah: 62 above. For explanation, see E.N. 69 of the said Surah.
14 A large number of the commentators have taken this "witness" to imply Hadrat 'Abdullah bin Salam, who was a famous Jewish scholar of Madinah, and who believed in the Holy Prophet after the migration. As this thing happened in Madinah, these commentators say that this verse was revealed at Madinah. This commentary is based on a statement of Hadrat Sa`d bin Abi Waqqas according to which this verse was sent down in respect of Hadrat `Abdullah bin Salam…
Read the full tafseer →