Al-Ahqaf 46:11

Al-Ahqaf · from ayah 11

46:11

وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ ؕ— وَاِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ ۟وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ‌ ؕ وَاِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُوۡا بِهٖ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ هٰذَاۤ اِفۡكٌ قَدِيۡمٌ

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who disbelieve say of those who believe, "If it had [truly] been good, they would not have preceded us to it." And when they are not guided by it, they will say, "This is an ancient falsehood."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:11

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ : اگر یہ (ایمان لانا) کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ اس بارے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے۔ اور جب ان کافروں نے اس سے خود ہدایت حاصل نہیں کی تو وہ تو یہی کہیں گے کہ یہ وہی پرانے زمانے کا جھوٹ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں کچھ بھلائی ہو تو یہ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کافروں نے مومنوں سے کہا: اگر یہ (دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ بڑھتے (ہم خود ہی سب سے پہلے اسے قبول کر لیتے)، اور جب ان (کفار) نے (خود) اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ (اور بہتان) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اور جب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ـضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں : اگر یہ (دین) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ (ایمان والے) اسے قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی لہذا اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کفر کرنے والوں نے ایمان لانے والوں کے باب میں کہا کہ اگر قرآن کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہ پاتے اور چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہیں حاصل کی تو اب کہیں گی کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کافر لوگ ایمان والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین سچا ہوتا تو یہ لوگ ہم سے اس معاملے میں سبقت نہ لے جاتے اور جب یہ لوگ اس سے ہدایت نہیں پا سکے تو اب انہوں نے یہی کہنا ہے کہ یہ تو ایک پرانا جھوٹ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کافر ایمان والوں کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اگر کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرجاتے اور جب ان لوگوں کو ہدایت نصیب نہ ہوئی تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ وہی پرانا جھوٹ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ } اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت نہ پا سکے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The unbelievers say to the believers: If there was any good in this Book, others would not have beaten us to its acceptance.” But since they have not been guided to it, they will certainly say: “This is an old fabrication.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The disbelievers say about the believers, :Had it (Islamic faith) been a good thing, these (weak and poor) people would not have preceded us (in proceeding) towards it. Since they did not accept guidance through it (the Qur‘an), they will say, :This is a classical lie.

— Muhammad Taqi Usmani

The disbelievers say about the believers, :Had it (Islamic faith) been a good thing, these (weak and poor) people would not have preceded us (in proceeding) towards it. Since they did not accept guidance through it (the Qur‘an), they will say, :This is a classical lie.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the poor believers) would not have preceded us to it!" And when they have not been guided by it, they say: "This is ancient falsehood!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who disbelieve say of those who believe: If it had been (any) good, they would not have been before us in attaining it. And since they will not be guided by it, they say: This is an ancient lie;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who disbelieve say of those who believe, "If it had [truly] been good, they would not have preceded us to it." And when they are not guided by it, they will say, "This is an ancient falsehood."

— Saheeh International

The disbelievers have said about the believers, "Had there been anything good in it (Quran), they could not have accepted it before us" Since they do not benefit from its guidance, they say, "It (Quran) is only a fabricated legend".

— Muhammad Sarwar

And those who disbelieve say concerning those who believe: If it had been a good, they would not have gone ahead of us therein. And as they do not seek to be rightly directed thereby, they say: It is an old lie.

— Muhammad Habib Shakir

And those who disbelieve say of those who believe: had it been good, they would not have preceded us thereto. And when they have not let themselves be guided thereby, they say: this is an ancient falsehood.

— Abdul Majid Daryabadi

The Unbelievers say of those who believe: "If (this Message) were a good thing, (such men) would not have gone to it first, before us!" And seeing that they guide not themselves thereby, they will say, "this is an (old,) falsehood!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 15 یہ ان دلائل میں سے ایک ہے جو قریش کے سردار عوام الناس کو نبی ﷺ کے خلاف بہکانے کیے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ قرآن برحق ہوتا اور محمد ﷺ ایک صحیح بات کی طرف دعوت دے رہے ہوتے تو قوم کے سردار اور شیوخ اور معززین آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے۔ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ چند ناتجربہ کار لڑکے اور چند ادنٰی درجہ کے غلام تو ایک معقول بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑے لوگ، جو دانا اور جہاندیدہ ہیں، اور جن کی عقل و تدبیر پر آج تک قوم اعتماد کرتی رہی ہے، اس کو رد کردیں۔ اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں خرابی ہے، اسی لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر ایمان والوں (کے ایمان لانے) کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن (جس پر یہ لوگ ایمان لائے ہیں) کوئی اچھی (یعنی سچی) چیز ہوتا تو یہ (کم درجہ کے) لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے (یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے اور اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔ کافروں کا یہ قول ان کے انتہائی تکبر کی دلیل ہے جس کا ذکر اوپر استکبرتم میں آیا ہے) اور جب (عناد وتکبر کے باعث) ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو (اپنے عناد اور ضد کی بنا پر) یہیں کہیں گے کہ یہ (بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقال الذین کفروا اللذین امنوا لوکان خیراً ما سبقونا الیہ دواذ الم یھتدوابہ فسیقولون ھذا افک تدیم 11 منکرین کے اشکبار کی اوپر والی آیت میں ان منکرین کے جس استکبار کا حوالہ ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ ان ظالموں کی رعونت کا حال یہ ہے کہ اس حق کے خلاف ایک دلیل وہ یہ بھی لاتے ہیں کہ اس کو سب سے پہلے غریبوں نے قبول کیا ہے چناچہ ان کے اغنیار کہتے ہیں کہ اگر اس نئے دین میں کوئی خیر ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ فتو فقیر لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کر جاتے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی اور نعمت تو ان کے حصہ میں آئی نہیں تو یہ چیز اگر فی الواقع کوئی نعمت ہوتی تو یہ اس کی طرف سبقت کرنے والے نہ بنتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب ؓ جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کرلیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

6: یہ تھا ان کافروں کا گھمنڈ کہ ہر قسم کی خوبیاں ہم میں پائی جاتی ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ ہم سے کم حیثیت ہیں، اس لئے اگر اسلام کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کمزور و ذلیل اور لونڈی غلام مسلمان ہوتے ہیں۔ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو بہتر لوگ اس کی طرف جھپٹتے۔ کیا یہ چیز اچھی ہوتی تو اس کے حاصل کرنے میں ہم جیسے عقل مند اور عزت و دولت والے ان لونڈی غلاموں سے پیچھے رہ جاتے۔ 10 یعنی ہمیشہ کچھ لوگ ایسی باتیں بناتے چلے آئے ہیں۔ شاید یہ جواب ہوگا " وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ " اور (مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ) 46 ۔ الاحقاف :9) کا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَیْہِ } ”اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ‘ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ قرآن کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔“ یہ سردارانِ قریش کے موقف کا حوالہ ہے کہ ہم بڑے ہیں ‘ دانشور ہیں اور ہر اعتبار سے معاشرے کے سرکردہ لوگ ہیں۔ جب ہم اس دین کی طرف مائل نہیں ہوئے اور ہمیں اس قرآن میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھلائی کی کوئی بات ہے ہی نہیں ‘ ورنہ یہ غریب غرباء اور گھٹیا لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت حاصل نہیں کرسکتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

15 یہود کی اپنے متعلق غلط فہمی :۔ بایں ہمہ وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کسی چیز کے حق ہونے کا معیار ہماری ذات والا صفات ہے۔ حق وہی ہوسکتا ہے جسے ہم حق قرار دے دیں۔ پھر جب ہم ہی اسے حق نہیں سمجھتے تو چند کمزور درجہ کے لوگوں کے اس کو حق سمجھنے سے وہ چیز حق کیسے بن سکتی ہے۔ اگر یہ دین کوئی اچھی چیز ہوتی تو ہم جیسے عقلمند اور معزز لوگ ان لونڈی غلاموں سے پیچھے کیسے رہ جاتے ؟ 16 جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخرالزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (اور نبوت کے جھوٹے دعوے جس طرح ہمیشہ سے لوگ کرتے آئے ہیں، اسی طرح کا ایک جھوٹا دعوی یہ بھی ہے) (آیت) ” لو ..... الیہ “۔ روئسائے یہود اور سرداران قریش دونوں فخر وپندار تفوق میں مبتلاء عوام عرب کو اسلام کی طرف بڑھتے دیکھ کر کہتے کہ یہ نیا دین قابل تصدیق ہوتا تو ہم ہی نہ سب سے پہلے اس کی طرف بڑھتے ؟ تو جب ہم اسکی جانب نہیں بڑھے، تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ یہ دین خیر سے خالی ہے، مفسرابن کثیر رحمۃ اللہ علیہنے لکھا ہے کہ اہل سنت یہ فقرہ (آیت) ” لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “۔ ذرا سا بدل کر حضرات صحابہ ؓ سے متعلق کہا کرتے ہیں کہ فلاں عمل اگر اچھا ہوتا تو حضرات صحابہ کرام ؓ نہ اس کی جانب بڑھتے ؟ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ :۔ اور کافروں نے ایمان والوں کے بارے میں کہا اگر یہ ایمان کوئی بہتر چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرین نہ پاتے اور چونکہ ان کے کہنے والوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس اب یہ کہہ دیں گے کہ یہ یعنی قرآن قدیمی جھوٹ ہے حالانکہ اس سے یعنی قرآن سے پہلے موسیٰ کی کتاب یعنی تو رات اس پر ایمان لاین والوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی (اماماً اور رحمۃً ) دونوں (کائن من کتاب موسیٰ سے) حال ہیں، یہ قرآن عربی زبان کی کتاب ہے ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے مصدقہ کی ضمیر سے حال ہے تاکہ ظالموں یعنی مشرکین مکہ کو ڈرائے اور مومنین کے لئے بشارت ہو بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیرا ما سبقونا الیہ وازلم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم اور کافر ‘ ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو اب یہ کہیں گے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے۔ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی اہل ایمان کی بابت کافروں نے کہا۔ لَوْ کَان یعنی اگر محمد ﷺ کا دین اچھا ہوتا۔ ابن جریر نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ مشرکوں نے کہا تھا : ہم بڑی عزت والے ہیں ‘ ہم (ان مسلمانوں سے) افضل ہیں۔ اگر یہ مذہب بہتر ہوتا تو فلاں فلاں شخص ہم سے سبقت نہ لے جاتا۔ اس پر یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ کافر قبیلہ یعنی اسد غطفان، حنظلہ مسلمان قبیلوں یعنی جہینہ، مزنیہ، اسلم کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ محمد جو بات کہتے ہیں اگر وہ صحیح اور بہتر ہوتی تو یہ اسلم جہنیہ اور مزنیہ والے اس کو قبول کرنے میں پہل نہ کرتے۔ اور جب یہ لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائے تو یوں کہیں گے کہ یہ قرآن بھی ایک قدیمی جھوٹ ہے۔ شان نزول : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اور فلاں عزت والے ہیں اور اگر یہ قرآن کریم حق ہوتا تو فلاں اور فلاں کے ماننے میں ہم سے پہل نہ کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن منذر نے عون بن…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیراً …:”للذین امنوا“ میں ”لام“ کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مخاطب ہو کر کہا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا۔ پچھلی آیت میں مشرکین کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کا تکبر ذکر فرمایا تھا، اب ان کے تکبر اور خود پسندی کی ایک مثال ذکر فرمائی جس کی بنا پر وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دنیا کی نعمتوں پر اس قدر مغرور ہیں کہ اس کی ہر نعمت کا مستحق صرف اپنے آپ ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلال، عمار، عبداللہ بن مسعود، سمیہ اور زنیرہ ؓ جیسے مکسی ن اور ضعیف مسلمانوں کو وہ اللہ تعالیٰ کے کسی انعام کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام کے ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے اور چھ اقوال ہیں : 1 ۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں حضرت ابو ذر غفاری کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے دعوت قبول کرلی ان کی قوم نے ان سے پناہ چاہی تو ان کا سردار آیا تو وہ بھی مسلمان ہوگیا پھر سردار نے قوم کو اسلام کی دعوت دی تو وہ بھی مسلمان ہوگئے یہ خبر قریش کو پہنچی تو انہوں نے کہا : بنو غفار تو حلیف لوگ ہیں اگر یہ دعوت خیر ہوتی تو بنو غفار ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ ابو متوکل کا قول ہے : 2 ۔ حضرت زنیرہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی نظر خراب ہوگئی لوگوں نے کہا : لات و عزی نے تیری نظر خراب کی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر لوٹا دی قریش کے سرداروں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم زیادہ عزت والے ہیں اور ہم بہتر اور افضل ہیں اگر اس دین میں خیر اور بھلائی ہوتی تو فلاں فلاں آدمی اس دین کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ (اور کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے) 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عون بن ابی شداد ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کی ایک باندی تھی وہ ان سے پہلے اسلام لے آئی جس کو زنیرہ کہا جاتا تھا اور عمر بن خطاب اس کو مارا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کے لئے جو ایمان لائے ] لَوْ كَانَ خَيْرًا [ اگر یہ ہوتا تو بہتر ] مَّا سَبَقُوْنَآ [ تو یہ لوگ آگے نہ نکلتے ہم سے ] اِلَيْهِ ۭ [ اس کی طرف ] وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ [ اور جب انھوں نے ہدایت نہیں پائی اس کے ذریعہ ] فَسَيَقُوْلُوْنَ [ تو وہ لوگ کہیں گے ] ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ [ یہ ایک بہت پرانا بہتان ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کی کٹ حجتی کی تردید، توریت شریف کا امام اور رحمت ہونا، اہل ایمان اور اہل استقامت کا انعام الٰہیہ سے سرفراز ہونا انسانوں میں چھوٹائی بڑائی کو دیکھنے کا مزاج ہے مالدار لوگ اپنے آپ کو غریبوں سے بہتر اور زیادہ سمجھدار سمجھتے ہیں اسی طرح بعض قبائل اپنے قبیلے کو دوسرے قبیلے سے برتر جانتے ہیں اسی سلسلہ کی ایک بات اللہ نے یہاں نقل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت توحید پر جب کچھ لوگ ایمان لے آئے تو جو لوگ کفر پر جمے رہے، انہوں نے کہا کہ عقل و فہم اور احوال دنیاویہ کے اعتبار سے ہم ان لوگوں سے بہتر ہیں ہم ہر خیر کے مستحق ہیں اگر یہ دین اچھا ہوتا جو محمد رسول اللہ ﷺ پیش کرتے ہیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ، اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ بھی شکوی ہے۔ للذین امنوا ای فی شانہم (روح) ۔ مشرکین اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ دین برکات، دنیوی عزت وشان اور مال و دولت کے تابع ہوتی ہیں اسلیے وہ ایمان والے غرباء کے بارے میں کہتے تھے کہ اگر قرآن پر ایمان لانا کوئی خیر و برکت کا کام ہوتا تو یہ غرباء اسے قبول کرنے میں ہم پر سبقت نہ لیجاتے، بلکہ ہم ان سے پہلے اسے قبول کرتے۔ ” و اذ لم یھتدوا بہ الخ “ اور وہ چونکہ قرآن پر ایمان لانے کی توفیق سے محروم کردیتے گئے ہیں، اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں جنہیں محمد ﷺ نے اپنا لیا ہے۔ یعنی اختلق ھذا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیت : گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ رسالت ونبوت کے متعلق شک کرین والوں کی تردید تھی اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں کہ میں کو فی انوکھا اور نیا رسول تو نہیں ہوں ، مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں اور میں تو سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں مجھے ان تفصیلی حالات کا علم نہیں جو آئندہ زندگی میں میرے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے ہیں ، میرا کام تو اتباع وحی اور تمہیں کھول کر ڈرسنانا ہے ، فرمایا یاد رکھو ! کہ اگر یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے ہو اور تم اس کے منکر ہو حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک معتبر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْہِ۝ 0 ۭ وَاِذْ لَمْ يَہْتَدُوْا بِہٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ۝ 11 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

ترکیب : من جار قبلہ مجرورالجارمع مجرورھاخبر مقدم و کتاب موسیٰ مبتدء وخبر والجملۃ محل النصب علی الحال او مستانفۃ۔ اماماو رحمۃ قال الزجاج انھما حالان و قال الاخفش منتصبان علی القطع وقال ابوعبیدۃ ای جعلناہ اماما ورحمۃ۔ لسانا عرب یا حال من الضمیر فی مصدق العائدالی کتاب اللہ وبشرٰی فی محل النصب عطف علی محل لتنذرلانہ مفعول بہ کذاقال الزمحشری و قبل مرفوع ای ھو بشری و قیل معطوف علی مصدق۔ تفسیر : تو سوچو کہ اگر یہ منجانب اللہ ہو (جو ہے مگر اس طرح سے گفتگو علی سبیل الزام ہوا کرتی ہے) اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس پر گواہی دی تو بتاؤ تمہارا کیا درجہ ہوگا ؟ کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْکَانَ خَیْرًامَّا سَبَقُوْنَـآ اِلَیْہِ ط وَاِذْ لَمْ یَھْتَدُوْا بِہٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ۔ (الاحقاف : 11) (اور جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان لانا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے، اور چونکہ انھوں نے اس سے ہدایت حاصل نہ کی، تو اب وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ ) منکرین کے تکبر کی ایک مثال آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین آپ کی دعوت برحق کے باطل ہونے پر جو دلائل دیتے تھے اور جن سے عوام الناس کو مطمئن کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی نبوت اور قرآن مجید کا انکار کرنے والے ظالموں کا ایک اور بہانہ۔ اہل مکہ کا یہ بھی پراپیگنڈہ تھا کہ اگر قرآن من جانب اللہ ہوتا اور اس دین میں خیر پائی جاتی تو ہم مسلمانوں سے سبقت لے جاتے کیونکہ ہمیں اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی اس لیے ہم حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بہانے کی بنیاد پر اہل مکہ ایمان لانے سے محروم ہوئے۔ اس محرومی کی بنا پر کہتے یہ تو بڑا قدیمی جھوٹ ہے۔ اس یا وہ گوئی کے ساتھ مکہ والے یہ بات بھی کہا کرتے تھے کہ اس نبی پر ایمان لانے والے سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہی کم درجہ کے لوگ ہیں۔ اہل مکہ غرور میں آکر یہ بھی کہتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 11 : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اور کافر لوگ ایمان والوں کو یوں کہتے ہیں) ایمان والوں کے لئے۔ یہ کفار مکہ کا کلام ہے۔ وہ کہنے لگے۔ محمد ﷺ کے عام پیرو کم درجہ لوگ ہیں۔ ان کی مراد فقراء صحابہ ؓ مثلاً عمار ٗ صہیب ٗ ابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَیْہِ (اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے) یعنی اگر محمدا جو چیز لائے ہیں خیر ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کو قبول نہ کرتے۔ وَاِذْ لَمْ یَہْتَدُوْا بِہٖ (اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی) : اذ میں عامل محذوف ہے۔ کلام اس پر دلالت کر رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 10 ۔” قل ارایتم “ اس کا معنی ہے تم مجھے خبر دو کہ تم کیا کہتے ہو “۔ ” ان کان “ یعنی قرآن۔” من عنداللہ وکفرتم بہ “ اے مشرکین !” وشھد شاھد من بنی اسرائیل علیٰ مثلہ “ مثل صلہ ہے یعنی اس پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ” فامن “ یعنی شاہد۔” واستکبرتم “ اس پر ایمان لانے سے اور اس کے قول ” ان کان من عنداللہ “ کا جواب محذوف ہے۔ ” الیس قد ظلمتم “ کی تقدیر پر۔ اس محذوف پر اس کا قول ” ان اللہ لایھدی القوم الظالمین “ دلالت کرتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا جواب ” فمن اضل منکم “ ہے۔ جیسا کہ سورة السجدہ میں فرمایا ہے اور اس شاہد میں اختلاف ہے۔ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–13

9۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں : (لو کان خیرا ما سبقونا الیہ) ” اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ “ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جاسکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے۔۔۔ کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں ؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں ؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے ؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 24] منکرین کو استکبار اور محرومی کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگ ایمان والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین سچا ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے کبھی سبقت نہ لے جاتے۔ " کہ ہم اشراف و سردار اور بڑے مال و منال والے لوگ ہیں۔ جبکہ یہ محتاج و مسکین تو پھر یہ ہم سے اس کارخیر میں سبقت کیونکر لے جاتے ؟ لہٰذا اگر یہ دین و ایمان کوئی بڑی خیر اور اچھی چیز ہوتی تو یہ سب پہلے ہمارے ہی حصے میں آتی۔ نہ کہ ہمیں چھوڑ کر ان فقراء کو ملتی، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی مال و دولت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ باعث خسارہ ہے کہ اس کی بنا پر دنیا دار لوگ اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ’ بلکہ ہم اسے پہلے اختیار کرنے والے ہوتے۔ “ یہ بات سردارن قریش مسلمانوں کے بارے میں اس لئے کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو معزز اور جہاں دیدہ اور مسلمانوں کو ذلیل و ناتجربہ کار سمجھتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں آنحضرت کی پیروی اختیار کرنے والے یا تو غریب طبقہ کے لوگ تھے یا نوجوان 9 گویا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معیار حق ہم ہیں۔ اگر ہم کسی چیز کو قبول کرلیں تو وہ حق ہے ورنہ سراسر باطل جس میں پرانے زمانے سے لوگ اپنی بیوقوفی کی بدلوت پھنستے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:11) الذین کفروا۔ میں اشارہ سرداران قریش ، رؤسا، یہود اور کفار مکہ کی طرف ہے۔ للذین۔ ای فی شأنہم ان کے متعلق۔ ان کی بابت۔ لو کان خیرا۔ ای لوکان ھذا الدین او ھذا القران خیرا۔ اگر یہ دین یا قرآن حق ہوتا، بہتر چیز ہوتا۔ خیرا خبر ہے کان کی، جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ما سبقونا الیہ : جواب شرط۔ (یہ) ہم پر اس دین کی طرف بڑھنے میں سبقت نہ لے جاتے۔ اذ : جب، اسم ظرف زمان ہے اذ کبھی مفاجات یعنی کسی بات کے اچانک واقع ہونے کے لئے بھی آتا ہے اور کبھی تعلیل یعنی کسی چیز کی علت اور سبب بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم (43:39) اور کچھ فائدہ نہیں تم کو آج کے دن جبکہ تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

تشریح آیات 7 تا 12 قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–12

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمان سے یہ کہتے کہ اگر اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم کو دنیا کی عزت دی ہے اسی طرح دین کی عزت سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو کبھی محروم نہ رکھتا، اور یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم مالدار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے، وہی کافروں کا خیال اللہ نے ان آیتوں میں ذکرفرماکر فرمایا ہے کہ کافر کچھ عزت دار نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اللہ کے نزدیک یہ لوگ کافر اور قابل سزا قرار پاچکے ہیں فقط دنیا کی عزت اور مالداری کے سبب سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت نہیں قرار پاسکتے، آگے فرمایا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–11

[5] یہاں گواہ سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا کہ میں ایک آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد محمد ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری پیغمبر ہیں لہذا '' آنے والے '' سے آپ ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کے نام کی تصریح کے ساتھ بھی آپ کی بشارت دی ہے جیسا کہ سورة صف میں مذکور ہے۔ اور یہ بشارت انجیلوں میں موجود ہے۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف، حاشیہ 10۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

پیغمبر بشر ہوتا ہے قرآن میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس نے نبوت کے مفہوم پر کوئی غبار نہیں رہنے دیا ۔ صاف صاف اس حقیقت کا اظہار کردیا ہے ۔ کہ پیغمبر باوجود جلالت قدر کے ایک انسان ہوتا ہے اور اس میں وہی بشری لوازم ہوتے ہیں جن کا ہونا انسان میں ضروری ہے ۔ مکہ والے اس بناء پر کہ پیغمبر فوق البشر ہونا چاہیے ۔ حضور ﷺ سے بعض مخصوص معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ اور یہ کہتے تھے ۔ کہ آپ ہم کو چند غیب کی باتوں سے اطلاع دیں ۔ اس آیت میں اس چیز کو واضح کیا ہے ۔ کہ حضور کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ہے ۔ آپ بھی اس قسم کے پیغمبر ہیں ۔ جس طرح کہ پہلے انبیاء گزر چکے ہیں ۔ جس طرح وہ محض وحی اور الہام کے تابع…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اور دین حق کے منکر اہل ایمان کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین یا یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس قرآن یا دین کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے اور آگے نہ بڑھتے اور جب ان منکروں کو اس قرآن سے ہدایت میسر نہ ہوئی تو اب یہی کہیں گے کہ یہ قرآن ایک پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی عناد اور تکبر کی راہ سے یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دین اسلام یا یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو ہم لوگ جو اہل عقل و دانش ہیں اور رئیس اور بڑے لوگ ہیں ہم اسکو ان سے پہلے قبول کرتے اور یہ اس کے قبول کرنے میں ہم سے آگے نہیں بڑھتے ان کا قبول کرلینا اور ہمارا قبول نہ کرنا یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین اور یہ قرآن کوئی بہتر چیز نہیں ہے ورنہ بڑھیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

ف 1۔ یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے تو اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے، جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں۔ یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافر ایمان والوں کو کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں کوئی صداقت ہوتی تو ہم ضرور قبول کرتے : 11 ؎ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب نہ ماننے والوں کے اشکبار اور غرور کا جو گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان ظالموں کے ظلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم تو نرے بیوقوف ہو اور چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے ہو حالانکہ ہم تم لوگوں سے زیادہ عقل و بصیرت رکھتے ہیں اگر اس تحریک میں کوئی صداقت موجود ہوتی تو ہم تم سے پہلے اس کو قبول کرتے۔ وہ کونسی حقیقت ہے جو ہمارے کانوں نے نہیں سنی اور تم نے اس کو ہم سے پہلے سن لیا اور اس طرح تم ایمان لے آئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary لَوْ كَانَ خَيْرً‌ا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ (Had it [ Islamic faith ] been a good thing, these [ weak and poor ] people would not have preceded us [ in proceeding ] towards it._ 46:11) Arrogance and pride pervert the human intellect also. An arrogant person considers his own opinions and deeds to be the criteria for determining right and wrong, good and bad. If he does not like anything, no matter how well it is believed to be by others, he considers all those people to be stupid, while he himself is stupid. The arrogance and pride of the infidels was of this very kind, and since…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 This is one of those arguments that the chiefs of the Quraish employed to beguile and mislead the common people against the Holy Prophet. They said: If the Qur'an were really based on the truth and Muhammad (upon whom be Allah's peace) were inviting towards a right thing, the chiefs and the elders and the noblemen of the community would have been in the forefront to accept it. How could it be that a few young boys and mean slaves only should accept a reasonable thing but the distinguished men of the nation, who are wise and experienced, and who have been held as reliable by others, would…

Read the full tafseer →