Al-Ahqaf 46:12

Al-Ahqaf · from ayah 12

46:12

وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤی اِمَامًا وَّرَحْمَةً ؕ— وَهٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ۖۗ— وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ ۟ۚوَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً  ‌ ؕ وَهٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ وَبُشۡرٰى لِلۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ‏

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And before it was the scripture of Moses to lead and as a mercy. And this is a confirming Book in an Arabic tongue to warn those who have wronged and as good tidings to the doers of good.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:12

حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ﻇالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جو عربی زبان میں ہوتے ہوئے اس کو سچا بتارہی ہے تاکہ ان ظالموں کو خبردار کرے، اور نیک کام کرنے والوں کے لیے خوشخبری بن جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس سے پہلے موسٰی ؑ کی کتاب (تورات) پیشوا اور رحمت تھی، اور یہ کتاب (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے، عربی زبان میں ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (تورات) جو رہنما اور رحمت تھی، موجود تھی۔ اور یہ کتاب (قرآن) اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جو عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کرے اور نیک عمل کرنے والوں کو بشارت دے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسکے پہلے سے موسیٰ کی کاتب موجود ہے، رہنما اور رحمت ! اور یہ کتاب اس کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہے، عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو آگاہ کرے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور یہ بشارت ہے خوب کاروں کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی آچکی ہے ایک عظیم الشان امام (و پیشوا) کے طور پر سراسر رحمت بن کر اور یہ کتاب بھی جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ یہ خبردار کرے ان لوگوں کو جو کمر بستہ ہیں ظلم پر اور خوشخبری سنائے (دارین کی فوز و فلاح کی) ان لوگوں کو جو نیکوکار ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ اس کے قبل موسیٰ ؑ کی کتاب بھی رہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیک لوگوں کے حق میں بشارت ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ ٰ کی کتاب موجود ہے راہنمائی کرنے والی اور رحمت اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی لوگوں کیلئے رہنما اور رحمت، یہ کتاب عربی زبان میں ہے اس کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet before this the Book was revealed to Moses as a guide and a mercy. This Book, which confirms it, is in the Arabic tongue to warn the wrong-doers and to give good tidings to those who do good.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And before this there was the Book of Musa, a guide and a mercy. And this is a Book confirming (it) in Arabic tongue, so that it may warn the wrongdoers and give good news to those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

And before this there was the Book of Musa, a guide and a mercy. And this is a Book confirming (it) in Arabic tongue, so that it may warn the wrongdoers and give good news to those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And before this was the Scripture of Musa as a guide and a mercy. And this is a Book confirming in the Arabic tongue, to warn those who do wrong, and as glad tidings for the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When before it there was the Scripture of Moses, an example and a mercy; and this is a confirming Scripture in the Arabic language, that it may warn those who do wrong and bring good tidings for the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And before it was the scripture of Moses to lead and as a mercy. And this is a confirming Book in an Arabic tongue to warn those who have wronged and as good tidings to the doers of good.

— Saheeh International

Before this (Quran), the Book of Moses was a guide and a blessing. This Book confirms the Torah. It is in the Arabic language so that it may warn the unjust people, and give glad news to the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

And before it the Book of Musa was a guide and a mercy: and this is a Book verifying (it) in the Arabic language that it may warn those who are unjust and as good news for the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

And before it there hath been the Book of Musa, a guide and a mercy. And this a Book confirming it, in Arabic speech, that it may warn those who have done wrong and as glad tidings Unto the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

And before this, was the Book of Moses as a guide and a mercy: And this Book confirms (it) in the Arabic tongue; to admonish the unjust, and as Glad Tidings to those who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 17 یعنی ان لوگوں کو انجام بد سے خبردار کر دے جو اللہ سے کفر اور غیر اللہ کی بندگی کر کے اپنے اوپر اور حق و صداقت پر ظلم کر رہے ہیں، اور اپنی اس گمراہی کی وجہ سے اخلاق اور اعمال کی ان برائیوں میں مبتلا ہیں جن سے انسانی معاشرہ طرح طرح کے مظالم اور بےانصافیوں سے بھر گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً اس کلام سے ایک تو (آیت) ما کنت بدعا من الرسل، کا ثبوت ملا کہ آپ کوئی انوکھے رسول اور قرآن کوئی انوکھی کتاب نہیں کہ ان پر ایمان لانے میں لوگوں کو اشکال ہو بلکہ آپ سے پہلے موسیٰ ؑ رسول ہو کر آ چکے ہیں اور ان پر تورات نازل ہوچکی ہے جس کو یہ کفار یہود و نصاری سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرے اوپر جو شھد شاھد آیا ہے اس کی بھی تقویت ہوگئی کیونکہ موسیٰ ؑ اور تورات خود قرآن اور رسول کریم ﷺ کی حقانیت کے شاہد ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً ورحمۃ و ھذا کتب مصدق بساناً عوبیا ینذر الذین ظلموا وبشریٰ للمحسنین 12 قرآن کے حق میں تورات کی شہادت کا حوالہ یہ قرآن کے حق میں توریت کی شہادت کا حوالہ ہے۔ اگرچہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے اس کا ذکر مقدم ہونا تھا لیکن ان خاص وجوہ سے جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، حضرت مسیح کی شہادت کا ذکر پہلے آیا۔ اب یہ تورات کا حوالہ دے کر اس شہادت کے تسلسل کو ظاہر فرما دیا کہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی امام اور رحمت بن کر آچکی ہے امام کے معنی رہنما کے ہیں۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو قرآن کے باب میں ھدی و رحمۃ کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ دنیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–15

15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔ 15۔ 2 فِصَا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: عربی زبان میں ہونے کا خاص طور پر ذکر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ پچھلی کوئی آسمانی کتاب عربی زبان میں نہیں آئی، اور حضور اکرم ﷺ عربی کے سوا کسی اور زبان سے واقف نہیں ہیں، اس کے باوجود وہ عربی زبان میں ان پچھلی کتابوں کی باتیں بتا رہے ہیں جن کا علم حاصل ہونے کا آپ کے پاس وحی کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی یہ پرانا جھوٹ نہیں، بلکہ بہت پرانا سچ ہے۔ نزول قرآن سے سینکڑوں برس پہلے تورات نے بھی اصولی تعلیم یہ ہی دی تھی جس کی انبیاء و اولیاء اقتداء کرتے رہے۔ اور اس نے پیچھے آنے والی نسلوں کے لیے اپنی تعلیمات و بشارات سے راستہ و ہدایت کی راہ ڈال دی اور رحمت کے دروازے کھول دیے اب قرآن اترا تو اس کو سچا ثابت کرتا ہوا۔ غرض دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور یہ ہی حال دوسری کتب سماویہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 { وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً } ”حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام ٰ کی کتاب موجود ہے ‘ راہنمائی کرنے والی اور رحمت !“ { وَہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا } ”اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے ‘ عربی زبان میں“ یعنی قرآن مصدق ہے تورات اور انجیل کا ‘ اور قرآن کی یہ تصدیق دو پہلو سے ہے۔ ایک طرف تو قرآن ان کتابوں کی اس لحاظ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ یہ تصدیق ہمیں قرآن میں جابجا ملتی ہے۔ مثلاً سورة المائدۃ آیت 44 میں فرمایا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌج } کہ ہم نے تورات نازل کی تھی اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 نبی آخرالزمان کی بعثت سے ہزاروں برس پہلے تورات نے جو اصولی تعلیم دی تھی۔ انبیاء و اولیاء کی ایک کثیر تعداد اسی تعلیم سے رہنمائی حاصل کرتی رہی۔ اس کتاب نے بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے راستی اور ہدایت کی راہ ڈال دی اور یہ لوگوں پر اللہ کی بہت بڑی رحمت تھی۔ اور یہ موجودہ کتاب قرآن بھی تورات کو سچا ثابت کرتا ہے۔ گویا یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اور ان دونوں کتابوں میں مجرموں کے لیے وعید اور نیک لوگوں کے لیے جنت کی بشارت موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ تو یہ بہت قدیم جھوٹ نہیں، بہت قدیم سچ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت جو اپنے وقت میں اپنی قوم کے لئے رہنما اور باعث رحمت تھی، یہ نئی کتاب عین اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ ظلم یہاں بھی کفر کے معنی میں ہے۔ اے کفروا (مدارک) (آیت) ” ومن قبلہ “۔ ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ اے ومن قبل القرآن (معالم) (آیت) ” للمحسنین “۔ محسنین سے مراد صاحب عمل مسلمان ہیں۔ ال مومنین المطیعین (مدارک) (آیت) ” لسانا عرب یا “۔ اس میں اشارہ کلام مجید کی فصاحت ووضاحت بیان کی طرف بھی آگیا۔ کلام عربی کے معنی کلام فصیح کے ہی ہیں۔ اے فصیحا بیناواضحا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماماً و رحمۃ اس جملہ کا مقصد ایک تو ماکنت بدعاً من الرسل کا ثبوت فراہم کرنا ہے کہ آپ کوئی انوکھے اور نرالے رسول نہیں اور قرآن کوئی انوکھی کتاب نہیں کہ ان پر ایمان لانے میں لوگوں کو اشکال ہو بلکہ آپ سے پہلے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسالم رسول ہو کر آچکے ہیں اور ان پر تورات نازل ہوچکی ہے جس کو یہ کفار، یہود، نصاریٰ سب تسلیم کرتے ہیں، دوسرے سابق میں جو شھد شاھد آیا ہے اس کی بھی تقویت ہوگئی، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات خود قرآن اور رسول کریم ﷺ کی حقانیت کے شاہد ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن قبلہ کتب موسیٰ اما ما ورحمۃ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے جو راہنما اور رحمت تھی۔ اور یہ ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے عربی زبان میں ‘ ظالموں کو ڈرانے کیلئے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کیلئے۔ وَمِنْ قَبْلِہٖ اور قرآن سے پہلے۔ کِتٰبُ مُوْسٰی یعنی توریت۔ اِمَامًا راہنما ‘ پیشوا۔ وَّرَحْمَۃً اور اللہ کی طرف سے لوگوں پر رحمت تاکہ لوگ دونوں جہانوں میں فلاح حاصل کرلیں۔ وَھٰذَا کِتٰبٌ اور یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک کتاب ہے۔ مُصَدِّقٌ یعنی موسیٰ کی کتاب کو سچا بتاتی ہے ‘ یا معجزہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو ثابت کر رہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور قرآن کریم سے پہلے توریت نازل ہوچکی ہے جو ماننے والوں کے لیے رہنما اور اہل ایمان کے لیے عذاب سے رحمت تھی۔ مگر پھر بھی یہ لوگ نہ اس پر ایمان لائے اور نہ اس کی پیروی کی اور یہ قرآن کریم ایسی کتاب ہے جو توحید اور رسول اکرم کی نعت و صفت کے بارے میں توریت کی تصدیق کرنے و الی ہے اور عربی زبان میں ہے مشرکین کو ڈرانے کے لیے اور ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری دینے کے لیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً و رحمۃ :”کتب موسیٰ“ کا عطف ”شاھد“ پر ہے اور ”قبلہ“ کی ضمیر اس ”شاھد“ کی طرف جا رہی ہے :”ای شھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ و شھد من قبلہ تکاب موسیٰ علیہ مثلہ“ یعنی بنی اسرائیل کے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی اور اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب نے بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دی جو لوگوں کی پیشوائی کرنے والی تھی۔ لوگ اس کی پیروی اور اس کے احکام پر عمل کرتے تھے (دیکھیے مائدہ : 44) اور وہ لوگوں کے لئے سراسر رحمت تھی۔ (2) اکثر مفسرین نے ”قبلہ“ کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے، یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، لیکن مجھے وہ ترکیب بہتر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یعنی قرآن سے پہلے تعنی تورات اس میں جو کچھ ہے اس کی اقتدا کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رحمت ہے کلام میں حذف ہے یعنی تم اس سے ہدایت نہ پائو گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تورات میں نبی کریم ﷺ کی نعت اور آپ پر ایمان لانے کا ذکر ہے تو انہوں نے اسے ترک کیا۔ حال کی حیثیت سے منصوب ہوگا، کیونکہ معنی ہے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بطور امام گزر چکی ہے۔ پر معطوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اخفش نے کہا : ماقبل سے الگ ہونے کی بناء پر منصوب ہے کیونکہ کتاب موسیٰ اضافت کی وجہ سے معرفہ ہے، کیونکہ نکرہ کو جب دوبارہ ذکر کیا جائے یا اسے مضاف کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم زیادہ عزت والے ہیں اور ہم بہتر اور افضل ہیں اگر اس دین میں خیر اور بھلائی ہوتی تو فلاں فلاں آدمی اس دین کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ (اور کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے) 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عون بن ابی شداد ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کی ایک باندی تھی وہ ان سے پہلے اسلام لے آئی جس کو زنیرہ کہا جاتا تھا اور عمر بن خطاب اس کو مارا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ قَبْلِهٖ [ اور اس (کتاب ) سے پہلے ] كِتٰبُ مُوْسٰٓى [ موسیٰ کی کتاب تھی ] اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ [ امام اور رحمت ہوتے ہوئے ] وَھٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ [ اور یہ ایک (اس کی ) تصدیق کرنے والی کتاب ہے ] لِّسَانًا عَرَبِيًّا [ عربی زبان میں ہوتے ہوئے ] لِّيُنْذِرَ [ تاکہ یہ ( کتاب ) خبردار کرے ] الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ڰ [ ان کو جنھوں نے ظلم کیا ] وَبُشْرٰى [ اور بشارت ہوتے ہوئے ] لِلْمُحْسِـنِيْنَ [خوب کاروں کیلئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

والدین کے بارے میں وصیت، نیک بندوں کی دعا اور ان کا اجر، نافرمانوں کا عناد و انکار اور ان کی سزا یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع اول اور سورة لقمان رکوع دو میں بھی گزر چکا ہے ماں باپ چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں آنے کا سبب ہیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش اور پرداخت میں جان و مال لگاتے ہیں اپنا آرام کھوتے ہیں ان کے لیے مشقت برداشت کرتے ہیں اس لیے ان کی اطاعت کا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ انسان کی والدہ جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس کو بیان کرتے ہوئے ارشاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ، اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” ومن قبلہ۔ الایۃ “ یہ دوسری تفصیلی نقلی دلیل ہے از تورات۔ یہ مسئلہ توحید کوئی نیا مشئلہ نہیں جسے قرآن نے بیان کیا ہو بلکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات میں بھی یہی مسئلہ ذکر کیا گیا تھا جو اپنے زمانے میں دین کی رہنما تھی اور اللہ کی رحمت کا باعث تھی جیسا کہ ارشاد ہے ” واتینا موسیٰ الکتاب وجعلناہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا (بنی اسرائیل رکوع 1) ۔ اور یہ کتاب یعنی قرآن بھی مسئلہ توحید اور دیگر اصول دین میں تورات کی تصدیق کر رہا ہے اور فصیح وبلیغ عربی زبان میں مشرکین کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا اور ایمان والوں کو جنت کی خوش خبری دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیت : گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ رسالت ونبوت کے متعلق شک کرین والوں کی تردید تھی اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں کہ میں کو فی انوکھا اور نیا رسول تو نہیں ہوں ، مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں اور میں تو سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں مجھے ان تفصیلی حالات کا علم نہیں جو آئندہ زندگی میں میرے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے ہیں ، میرا کام تو اتباع وحی اور تمہیں کھول کر ڈرسنانا ہے ، فرمایا یاد رکھو ! کہ اگر یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے ہو اور تم اس کے منکر ہو حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک معتبر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ قَبْلِہٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَۃً۝ 0 ۭ وَھٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۝ 0 ۤۖ وَبُشْرٰى لِلْمُحْسِـنِيْنَ۝ 12 ۚ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

ترکیب : من جار قبلہ مجرورالجارمع مجرورھاخبر مقدم و کتاب موسیٰ مبتدء وخبر والجملۃ محل النصب علی الحال او مستانفۃ۔ اماماو رحمۃ قال الزجاج انھما حالان و قال الاخفش منتصبان علی القطع وقال ابوعبیدۃ ای جعلناہ اماما ورحمۃ۔ لسانا عرب یا حال من الضمیر فی مصدق العائدالی کتاب اللہ وبشرٰی فی محل النصب عطف علی محل لتنذرلانہ مفعول بہ کذاقال الزمحشری و قبل مرفوع ای ھو بشری و قیل معطوف علی مصدق۔ تفسیر : تو سوچو کہ اگر یہ منجانب اللہ ہو (جو ہے مگر اس طرح سے گفتگو علی سبیل الزام ہوا کرتی ہے) اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس پر گواہی دی تو بتاؤ تمہارا کیا درجہ ہوگا ؟ کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًاوَّرَحْمَۃً ط وَھٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا صلے ق وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الاحقاف : 12) (اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر موجود ہے، اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور بشارت ہے خوبکاروں کے لیے۔ ) منکرین کے جواب میں تورات سے استشہاد آنحضرت ﷺ کی دعوت میں پیش کیے جانے والے اہم نکات کو اشرارِقریش نے اوپر والی آیت کریمہ میں پرانا جھوٹ قرار دیا ہے، اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں کفار سے مراد اہل مکہ اور یہودی ہیں اس لیے یہودیوں کے سامنے تورات اور قرآن مجید کی حیثیت بیان کی گئی ہے۔ یہودی مالی، سیاسی اور علمی اعتبار سے عرب پر بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے اور یہی لوگ مکہ والوں کو اوٹ پٹانگ باتیں بتلاتے تھے۔ یہودیوں کے علمی غرور اور سیاسی تسلط کو توڑنے اور لوگوں کو ان کی حقیقت بتلانے کے لیے قرآن مجید نے موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور تورات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ نزول قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت فرمائی جو اپنے دور میں لوگوں کے لیے راہنما اور رحمت کا باعث تھی۔ اس دور میں تورات پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 12 : وَمِنْ قَبْلِہٖ (اور اس سے پہلے) یعنی قرآن مجید سے کِتٰبُ مُوْسٰی (موسیٰ کی کتاب ہے) تورات۔ : یہ مبتدأ اور من قبلہ ظرف مقدم خبر ہے اور اس کی وجہ سے امامامنصوب بوجہ حال ہے جیسا کہتے ہیں فی الدار زیدٌ قائمًا۔ اِمَامًا (نمونہ) دین و شریعت میں جس کی اقتداء کی جائے جیسا امام کی کی جاتی ہے۔ وَّرَحْمَۃً (اور رحمت ہے) ان کے لئے جو اس پر ایمان لائے اور اس پر عمل کیا۔ وَہٰذَا (یہ) یعنی قرآن کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ (ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے) یعنی کتاب ِموسیٰ کو یا ان تمام کتابوں کو جو اس سے پہلے گزریں۔ لِّسَانًا عَرَبِیًّا (عربی زبان میں) مصدق میں کتاب کی طرف جو ضمیر ہے اس سے یہ حال ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” وقال الذین کفروا “ یہود میں سے ۔ ” للذین امنوا لو کان “ محمد ﷺ کا دین۔ ” خیر اً ما سبقونا الیہ “ یعنی عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا جس چیز کی طرف محمد (ﷺ ) ہمیں بلاتے ہیں اگر وہ خیر ہوتی تو فلاں اور فلاں ہم سے اس کی طرف سبقت نہ کرتے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ” الذین کفروا “ اسد اور غطفان مراد ہیں۔ ” قالوا للذین امنوا “ یعنی جھینہ اور مزینہ مراد ہیں جو دین محمد ﷺ لائے ہیں اگر وہ خیر ہوتا تو ہم سے چروا ہے اس کی طرف سبقت نہ کرتے۔ ” واذلم یھتدوا بہ “ یعنی قرآن کے ذریعے جیسا کہ اہل ایمان نے اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–13

9۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں : (لو کان خیرا ما سبقونا الیہ) ” اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ “ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جاسکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے۔۔۔ کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں ؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں ؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے ؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 26] کتاب الٰہی منبع رشد و ہدایت، والحمدللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی پیشوا اور رحمت کے طور پر آچکی ہے۔ " یعنی اپنے دور کے لوگوں کے لئے کہ اس وقت کتاب ہدایت یہی تھی۔ اور اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کی بشارت دی گئی تھی۔ اور تورات کو تم لوگ آسمانی کتاب مانتے ہو اور اس پر ایمان کا دعویٰ بھی کرتے ہو تو پھر تم قرآن کا انکار کس طرح کرتے ہو ؟ جبکہ یہ تورات کی بشارت و پیشینگوئی کے عین مطابق ہے۔ اور اس پر ایمان لانا خود تورات پر ایمان لانے کا مقتضیٰ ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح قرآن حکیم کے بارے میں " ھدی و رحمۃ " کے الفاظ ارشاد فرمائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–15

ف 1 اس آیت سے حضرت عل نے یہ استدلال کیا اور حضرت عمر حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے اس پر ان سے موافقت کی کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس آیت میں حمل اور نہ دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ اور سورة بقرہ کی آیت (233) اور سورة لقمان کی آیت (14) میں دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر) طبی تجربات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حکما کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی عورت نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنے تو وہ جائز تصور ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ صحیح سالم بچہ ہو) تو وہ حرایم ہوگا۔ اس آیت میں اس طرف بھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:12) ومن قبلہ کتب موسی۔ وائو حالیہ ہے من قبلہ خبر مقدم کتب موسی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا مؤخر۔ حالانکہ اس سے قبل کتاب موسیٰ (توراۃ) آچکی تھی۔ (امام اور رحمت بن کر) من قبلہ میں ضمیر ہ کا مرجع القرآن ہے، اماما درحمۃ حال۔ بصورت امام ورحمت ، امام بن کر اور رحمت بن کر۔ امام ا م م مادہ) وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے۔ خواہ وہ انسان ہو کہ اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے۔ یا کتاب وغیرہ ہو۔ اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو۔ اس کی جمع ائمۃ (افعلۃ) ہے۔ رحمۃ۔ رحمت بن کر۔ یعنی اس شخص کے لئے رحمت بن کر جو اس پر ایمان لایا اور اس کے احکام پر عمل کیا۔ ھذا۔ ای قران۔ کتب مصدق :…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

تشریح آیات 7 تا 12 قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن مجید نازل کیا اور اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ ہر شخص زندگی کے صحیح راستے پر چل کر آخرت کی حقیقی زندگی تک کامیابی کے ساتھ پہنچ سکے۔ قرآن کریم سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے وہ عرب تھے جنہیں اپنی عربی زبان پر اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کے علاوہ ساری دنیا کے پاس زبان اور بیان کی وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دلی جذبات کا پوری طرح اظہارکر سکیں۔ لیکن جب قرآن کریم نازل کیا گیا تو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–12

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمان سے یہ کہتے کہ اگر اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم کو دنیا کی عزت دی ہے اسی طرح دین کی عزت سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو کبھی محروم نہ رکھتا، اور یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم مالدار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے، وہی کافروں کا خیال اللہ نے ان آیتوں میں ذکرفرماکر فرمایا ہے کہ کافر کچھ عزت دار نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اللہ کے نزدیک یہ لوگ کافر اور قابل سزا قرار پاچکے ہیں فقط دنیا کی عزت اور مالداری کے سبب سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت نہیں قرار پاسکتے، آگے فرمایا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–14

[6] یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

پیغمبر بشر ہوتا ہے قرآن میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس نے نبوت کے مفہوم پر کوئی غبار نہیں رہنے دیا ۔ صاف صاف اس حقیقت کا اظہار کردیا ہے ۔ کہ پیغمبر باوجود جلالت قدر کے ایک انسان ہوتا ہے اور اس میں وہی بشری لوازم ہوتے ہیں جن کا ہونا انسان میں ضروری ہے ۔ مکہ والے اس بناء پر کہ پیغمبر فوق البشر ہونا چاہیے ۔ حضور ﷺ سے بعض مخصوص معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ اور یہ کہتے تھے ۔ کہ آپ ہم کو چند غیب کی باتوں سے اطلاع دیں ۔ اس آیت میں اس چیز کو واضح کیا ہے ۔ کہ حضور کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ہے ۔ آپ بھی اس قسم کے پیغمبر ہیں ۔ جس طرح کہ پہلے انبیاء گزر چکے ہیں ۔ جس طرح وہ محض وحی اور الہام کے تابع…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اور اس قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے جو مقدم ہونے کے اعتبار سے امام اور پیشوا تھی اور ہدایت کے اعتبار سے رحمت ہے اور قرآن بھی عربی زبان کی ایک کتاب ہے جو اس توریت کی پیشین گوئی کو سچا کرنے والی ہے تاکہ جو لوگ ظلم اور ناانصافی کا شیوہ اختیار کرچکے ہیں ان کو ڈرائے اور ان لوگوں کو خوشخبری اور بشارت دے جو نکوکار ہیں۔ یعنی اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت نازل ہوچکی ہے جو امام اور رحمت تھی اس کتاب میں اس قرآن کی پیشین گوئی موجود ہے اس قرآن نے جو عربی زبان کی کتاب ہے اس توریت کی تصدیق کی ہے اور اس پیشین گوئی کو سچا کردیا ہے یہ اس لئے نازل ہوئی کہ ظالموں کو ڈرائے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

ف 2۔ یعنی توحید کو حسب تعلیم رسول کے قبول کیا۔ 3۔ یعنی اس کو چھوڑا نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب میں بھی اس کے اللہ کی کتاب ہونے کا ذکر موجود ہے : 21 ؎ کو رباطن سمجھیں یا نہ سمجھیں قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کے کتاب الٰہی ہونے کی شہادت تورات میں بھی موجود ہے ور جو کچھ تورات میں بطور پیش گوئی کہا گیا ہے وہ اس پر بالکل صادق آتا ہے اور جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے حق میں کہا گیا ہے وہ بلا ریب آپ ﷺ یں بھی صادق آیا ہے تورات کی شہادتیں آج بھی موجود ہیں اور باوجود اس کے کہ کتنی بار اس میں تحریف کی جا چکی ہے اور یہ بھی کہ تورات کے کوئی سے مختلف طباعت کے چار نسخے اکٹھے کر لئے جائیں تو آج بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ فی الواقع یہ بات حق ہے ، قابل غور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَ‌حْمَةً (And before this, there was the Book of Musa, a guide and a mercy. - 46:12) This verse, for one thing, gives proof of the statement mentioned in verse 9 that the Holy Prophet ﷺ is not an unprecedented messenger and Qur'an is not a singular divine Book which may create doubts in the minds. Sayyidna Musa (علیہ السلام) came before him as a messenger, and Torah was revealed to him which is accepted by all these Jews and Christians. Secondly, it supports the verse 10 above, because Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Torah themselves are witnesses to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 "To warn the wrongdoers :" To warn of the evil end those who are being unjust to themselves and to the truth itself by disbelieving in Allah and serving others than Allah, and are involved because of this deviation of theirs in the evils of morals and deeds, which have filled human society with every kind of wickedness and injustice.

Read the full tafseer →