Explained with ayahs 7–14
نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 18
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، 33 تا 35۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
خلاصہ تفسیر
جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی توحید کو تعلیم رسول کے مطابق قبول کیا) پھر (اس پر متقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) سو یقیناً (اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں اور نہ وہ (وہاں غمگین ہوں گے (یہ تو ان کے مضرت سے بچنے کا بیان تھا، آگے اس منفعت کا ذکر ہے جو ان کو ملنے والی ہے کہ) یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان (نیک) کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے (جن میں سے ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کا اوپر ذکر ہے) اور (جس طرح ہم نے حقوق اللہ کو واجب کیا ہے جس کا ذکر ہوچکا اسی طرح حقوق العباد کو بھی واجب کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولا ھم یخزنون، اولٓئک اصحب الجنتہ خلدین فیھا، جزآء بما کانوا یعملون (14-12)
محسنین کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ
یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ”محسنین“ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کردیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بےخوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لئے ابدی جنت کی بشارت ہے نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لئے اور یہ چیز ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔
15۔ 2 فِصَا…
Read the full tafseer →8: ثابت قدم رہنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مرتے دم تک اس ایمان پر قائم رہے، اور یہ بھی کہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔
اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔
اللہ…
Read the full tafseer →1 اس طرح کی آیت " حٰم السجدہ " میں چوبیسویں پارہ میں گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 13 { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ”بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے“
نوٹ کیجیے یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے ہم سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت 30 میں پڑھ آئے ہیں۔ وہاں بھی میں نے عرض کیا تھا اور اب پھر دہرا رہا ہوں کہ اس ”استقامت“ کو صرف ایک لفظ مت سمجھئے ‘ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اس ”استقامت“ میں ایک ”قیامت“ مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنا ‘ اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا ‘ اسی پر توکل ّکرنا ‘ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی طرف سے عائد کردہ جملہ ذمہ داریوں کو…
Read the full tafseer →18 اس آیت کی تفسیر کے لیے سورة حٰم السجدۃ کی آیت نمبر 30 کے حواشی ملاحظہ فرمایئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ جن لوگوں نے صدق دل سے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور پھر اسے چھوڑا نہیں، آخر وقت تک اسی عقیدہ پر قائم رہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں نہ کوئی خوف وہراس ہوگا اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے جنت ہی جنت ہے، چین ہی چین ہے اور یہ سب ان کے حسن عمل کا صلہ ہوگا (آیت) ” ثم استقاموا “۔ اقرار توحید کے بعد پھر اس پر قائم وثابت قدم رہنا اور ہر آزمائش میں پورے اترتے رہنا بہت بڑی چیز ہے اور مدح خاص کی مستحق، عین جس وقت ان سطروں پر نظر ثالث ہورہی ہے (1950 ء میں) ہندوستان یا بھارت میں آیت کے اس جزء کی قدر خاص طور پر ہورہی ہے۔ سورة حم السجدہ (پ 24) میں بھی یہی مضمون ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلاخوف علیھم (آلایۃ) الذین قالوا (تا) استقاموا معطوف، معطوف علیہ سے مل کر ان کا اسم ہے اور فلا خوف علیھم الخ ان کی خبر ہے اسم موصول چونکہ متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے فلا خوف الخ متمضن بمعنی جزاء ہے جس کی وجہ سے خبر پر فاء زائدہ داخل ہے ثم حرف عطف ترتیب رتبی کو بیان کرنے کے لئے ہے یعنی اول توحید کا اقرار و اعتضاد ضروری ہے اس لئے کہ توحید کے بغیر کوئی عمل معتبر و مقبول نہیں ہوتا قالوا ربنا اللہ کا مطلب ہے توحید کا اقرار کرنا اور ثم استقاموا کا مطلب ہے اس پر تامرگ قائم رہنا اور توحید کے مقتضیات پر مکمل طور پر عمل کرنا۔
استقامت علی التوحید کا مفہوم :
حضرت انس ؓ…
Read the full tafseer →ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے ‘ پھر مستقیم رہے تو ان لوگوں کو کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Read the full tafseer →جو لوگ توحید خداوندی کے قائل ہوگئے اور پھر فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے میں قائم رہے لومڑی کی طرح مکرو فریب نہیں کیا تو ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ پچھلی باتوں پر غمگین ہوں گے یا یہ مطلب کہ جس وقت دوزخی خوف زدہ ہوں گے انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا اور جس وقت دوسرے لوگ غمگین ہوں گے انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا…: ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (30، 31) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی (1) آیت عام ہے مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم زیادہ عزت والے ہیں اور ہم بہتر اور افضل ہیں اگر اس دین میں خیر اور بھلائی ہوتی تو فلاں فلاں آدمی اس دین کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ (اور کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے)
2:۔ ابن المنذر (رح) نے عون بن ابی شداد ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کی ایک باندی تھی وہ ان سے پہلے اسلام لے آئی جس کو زنیرہ کہا جاتا تھا اور عمر بن خطاب اس کو مارا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کہا ] رَبُّنَا اللّٰهُ [ ہمارا رب اللہ ہے ] ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا [ پھر وہ قائم رہے ( اس پر) ] فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ان پر ] وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ [ اور نہ ہو وہ لوگ غمگین ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
والدین کے بارے میں وصیت، نیک بندوں کی دعا اور ان کا اجر، نافرمانوں کا عناد و انکار اور ان کی سزا
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع اول اور سورة لقمان رکوع دو میں بھی گزر چکا ہے ماں باپ چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں آنے کا سبب ہیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش اور پرداخت میں جان و مال لگاتے ہیں اپنا آرام کھوتے ہیں ان کے لیے مشقت برداشت کرتے ہیں اس لیے ان کی اطاعت کا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔
انسان کی والدہ جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس کو بیان کرتے ہوئے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ،
اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →13:۔ ” ان الذین۔ الایۃ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور زندگی بھر اس پر قائم رہے اور اس کے عملی تقاضے پورے کرتے رہے قیامت کے دن وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور اندوہ و غم سے محفوظ رہیں گے، ان کا ٹھکانہ جنت میں ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ انعام و اکرام انہیں ایمان و عمل کی جزا کے طور پر حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیت :
گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ رسالت ونبوت کے متعلق شک کرین والوں کی تردید تھی اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں کہ میں کو فی انوکھا اور نیا رسول تو نہیں ہوں ، مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں اور میں تو سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں مجھے ان تفصیلی حالات کا علم نہیں جو آئندہ زندگی میں میرے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے ہیں ، میرا کام تو اتباع وحی اور تمہیں کھول کر ڈرسنانا ہے ، فرمایا یاد رکھو ! کہ اگر یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے ہو اور تم اس کے منکر ہو حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک معتبر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ 13 ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ترکیب : من جار قبلہ مجرورالجارمع مجرورھاخبر مقدم و کتاب موسیٰ مبتدء وخبر والجملۃ محل النصب علی الحال او مستانفۃ۔ اماماو رحمۃ قال الزجاج انھما حالان و قال الاخفش منتصبان علی القطع وقال ابوعبیدۃ ای جعلناہ اماما ورحمۃ۔ لسانا عرب یا حال من الضمیر فی مصدق العائدالی کتاب اللہ وبشرٰی فی محل النصب عطف علی محل لتنذرلانہ مفعول بہ کذاقال الزمحشری و قبل مرفوع ای ھو بشری و قیل معطوف علی مصدق۔
تفسیر : تو سوچو کہ اگر یہ منجانب اللہ ہو (جو ہے مگر اس طرح سے گفتگو علی سبیل الزام ہوا کرتی ہے) اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس پر گواہی دی تو بتاؤ تمہارا کیا درجہ ہوگا ؟ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : 13، 14)
(بےشک جو لوگ پکار اٹھے کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہی لوگ اہل جنت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔ )
محسنین کے کردار کی وضاحت
اوپر والی آیت کریمہ میں محسنین کا ذکر ہوا ہے اور ان کے لیے بشارت کا بھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دونوں کی وضاحت کی گئی ہے کہ محسنین وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید جن لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور تادم آخر اس پر پکے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی تیسری آیت میں اپنی توحید کی یہ دلیل دی ہے کہ جو لوگ ” اللہ “ کے سوا دوسروں کو مانتے اور پکارتے ہیں۔ اے نبی ! ان سے فرمائیں کہ یہ زمینوں اور آسمانوں میں کسی ایسی چیز کی نشاندہی کریں جو ان کے معبودوں نے پیدا کی ہو یا اللہ کی کسی تخلیق میں وہ شریک کار ہوں۔ پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی اسی کی ہدایت اور دعوت یہ تھی کہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور قرآن مجید بھی یہی دعوت دیتا ہے۔ دعوت توحید…
Read the full tafseer →آیت 13 : اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر مستقیم رہے) اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسکے نبی ﷺ کی شریعت پر۔ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ (ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں) قیامت کے دن وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اور نہ وہ غمگین ہونگے) موت کے وقت۔
Read the full tafseer →12 ۔” ومن قبلہ “ یعنی اور قرآن سے پہلے۔ ” کتاب موسیٰ “ یعنی توریت ” اماما “ اس کی اقتداء کی جائے۔ ” ورحمۃ “ اللہ کی طرف سے اس کے لئے جو ایمان لایا۔ ان دونوں کا نصب حال ہونے کی بناء پر ہے۔ کسائی (رح) کے نزدیک اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں اضمار ہے یعنی ہم نے اس ک و امام اور رحمت بنایا اور کلام میں محذوف ہے۔ اس کی تقدیر ولقدمہ کتاب موسیٰ ” اماما ولم یھتدوا بہ “ ہے جیسا کہ پہلی آیت میں فرمایا ہے ” واذا لم یھتدوا بہ “…” وھذا کتاب مصدق “ یعنی قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے ہیں۔ ” لسانا عربیا “ یہ حال کی بناء پر نصب ہے اور کہا گیا ہے کہ یلسان عربی۔ ” لینذر الذین ظلموا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں، اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور (استقامو) عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں (فلا خوف علیھم) تو آنے والے کسی شر سے ان کے لئے خوف نہیں (ولا ھم یحزنون) اور نہ انہیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ (اولئک اصح الجنۃ) یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے (خلدین فیھا جزاء بما کانو ایعملون) ” ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ…
Read the full tafseer →[ 29] ایمان و استقامت فوز و فلاح دارین کی شاہ کلید، وباللّٰہ التوفیق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر پکے ہوگئے تو ان کیلئے حقیقی کامیابی، کیونکہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا راستہ یہی اور صرف یہی ہے، سو اس سے اہل باطل کے مقابلے میں اہل حق کے حال اور مآل دونوں کو واضح فرما دیا گیا، کیونکہ اس ارشاد میں ان سعادت مندوں کی صفات کا خلاصہ دو باتوں میں پیش فرما دیا گیا۔ اول عقیدہ توحید جو کہ تمام علوم و معارف کا مرکزی نقطہ ہے۔ اور جو بنیاد ہے سعادت و سرخروئی کی۔ اور دوسرے راہ حق پر صبر و استقامت جو کہ زبدہ و نچوڑ ہے سارے معاملے اور تمام اعمال کا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے
تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار ومعارف۔
اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 1 اس آیت سے حضرت عل نے یہ استدلال کیا اور حضرت عمر حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے اس پر ان سے موافقت کی کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس آیت میں حمل اور نہ دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ اور سورة بقرہ کی آیت (233) اور سورة لقمان کی آیت (14) میں دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر) طبی تجربات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حکما کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی عورت نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنے تو وہ جائز تصور ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ صحیح سالم بچہ ہو) تو وہ حرایم ہوگا۔ اس آیت میں اس طرف بھی…
Read the full tafseer →46:13) استقاموا ماضی جمع مذکر غائب، استقامۃ (استفعال) مصدر۔ وہ قائم رہے۔ وہ ثابت قدم رہے ۔ استقامۃ کے معنی راستہ کے خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں۔ بالکل سیدھا راستہ ، تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے۔
چناچہ قرآن مجید میں ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ (1:5) ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔
فلا خوف علیہم۔ یعنی مرنے کے بعد ان کو کوئی خوف نہ ہوگا۔
ولا ہم یحزنون۔ اور نہ کسی مرغوب شے کے فوت ہونے کا ان کو غم ہوگا۔
لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ ان الذین
قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا الخ (41:30) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
جنت و دوزخ والوں کا ذکر۔
(ف 1) اس آیت میں تمام علم اور عمل کا خلاصہ۔ اور اس کا نتیجہ بیان فرماتا ہے جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کو دل سے مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا اور پھر اس اقرار کو سچا کرکے دکھانے کے لیے جن کاموں کے کرنے کا حکم تھا ان کو کرتے اور مناہی کے کاموں سے بچتے رہے، ان کو قیامت کے دن کی آفتوں کا کچھ خوف اور غم نہیں بلکہ بجائے غم کے ان کو یہ خوشی کرنی چاہیے کہ اس دن وہ اپنے نیک کاموں کے بدلہ میں جنت کے مالک بنادیے جائیں گے یہ بھی نہیں کہ پھر وہ نعمتیں لے لی جائیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ان کے مالک کردیے جائیں گے پھر وہاں جانے کے بعد کبھی تکلیفیں نہ دیکھیں گے اب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[6] یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ربنا اللہ کہنے کے معنی
خدا کو پروردگار ان لینے کے بعد بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں ۔ جن کو نبھانا ضروری ہوجاتی ہے ۔ اور جن کے ضمن میں عزیمت و استقامت کی اللہ احتیاج لاحق ہوتی ہے ۔ خدا کو اپنا رب قرار دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے سوا ہر آستانہ عظمت کا انکار کردیا جائے ۔ ہر ربوبیت کو ٹھکرادیا جائے ۔ اور ہر خوف وہراس کو دل میں سے دور کردیاجائے اس کے احکام کی تعمیل میں بڑی سے بڑی قوت سے دوچار ہونا پڑے ۔ تو دبلغ نہ ہو ۔ اور بڑی سے بڑی مصیبت کو جھیلنا پڑے تو تامل نہ ہو ۔ اور مرد مومن ہر چیز سے بالا اور مجھے نیاز ہوجائے ۔ اس کا محض نصب العین ہو کہ اپنے اعمال سے اللہ کو خوش کیا جائے اور اس…
Read the full tafseer →(13) بلا شبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر اس کہنے پر مضبوطی کے ساتھ قائم اور ثابت رہے سو نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یعنی آخرت میں ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے بشرطیکہ ربنا اللہ کا اقرار صدق دلی کے ساتھ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 2۔ یعنی توحید کو حسب تعلیم رسول کے قبول کیا۔
3۔ یعنی اس کو چھوڑا نہیں۔
Read the full tafseer →محسنین کی بشارت کی مزید وضاحت اور ان کے کردار کی طرف مزید اشارہ :
31 ؎ فرمایا وہ محسننی جن کو گزشتہ آیت میں بشارت دی گزئی ہے ان کا تعارف تم لوگ مزید حاصل کرلو کہ بات تم پر واضح ہوجائے فرمایا وہ لوگ ہیں کہ جب وہ اللہ رب ذوالجلال کرام کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو جو ان کی زبانیں کہت ہیں ان کا عمل اس کی تصدیق کرتا ہے اور وہ اس نظریہ پر سختی سے قائم رہتے ہیں خواہ ان کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیوں نہ کرنا پڑے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتاے کہ اس اقرار کا مطلب کیا ہے ؟ اور وہ جانتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے رب ہونے کی نفی کی جائے اور لاریب…
Read the full tafseer →Commentary
The first two of the above verses are a complement to the previous verses which announce punishment for the unjust, and glad tidings of success and reward for the virtuous Muslims. In the first verse إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا "Surely, those who said, 'Our Lord is Allah' then stayed firm, (46:13) " all the basic faith and virtuous deeds required by Islam have been comprehensively referred to with great eloquence. The admission that رَبُّنَا اللَّـهُ "Our Lord is Allah." is the whole of faith, and staying firm in it includes holding on to it till…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
18 For explanation, see E.N.'s 33 to 35 of Ha-Mim As-Sajdah.
Read the full tafseer →