Al-Ahqaf 46:14

Al-Ahqaf · from ayah 14

46:14

اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ۚ— جَزَآءً بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّةِ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the companions of Paradise, abiding eternally therein as reward for what they used to do.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:14

ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جنت والے لوگ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ اہلِ جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہ ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ اہل جنت ہیں، اس میں ہمیشہ رہنے والے یہ صلہ ہوگا ان کا موں کا جو وہ کرتے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسے لوگ جنتی ہیں وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہی لوگ تو اہل جنت میں ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو وہ کرتے رہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They are the people of Paradise. They shall remain in it forever as a reward for their deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the people of Paradise, who will live there for ever as a reward for what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the people of Paradise, who will live there for ever as a reward for what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such shall be the dwellers of Paradise, abiding therein (forever) -- a reward for what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such are rightful owners of the Garden, immortal therein, as a reward for what they used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the companions of Paradise, abiding eternally therein as reward for what they used to do.

— Saheeh International

They will be the dwellers of Paradise wherein they will live forever as a reward for what they have done.

— Muhammad Sarwar

These are the dwellers of the garden, abiding therein: a reward for what they did.

— Muhammad Habib Shakir

Those are the fellows of the Carden: abiders therein: a recompense for that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Such shall be Companions of the Gardens, dwelling therein (for aye): a recompense for their (good) deeds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

نبی اکرم ﷺ کا اظہار بےبسی مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنِّىْ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سورة الْاَحْقَاف 19 یہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے، لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بنا پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لیے زیادہ تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، اور امام بخاری کی ادب المفرد میں وارد ہوئی ہے کہ ایک صاحب نے حضور ﷺ سے پوچھا کس کا حق خدمت مجھ پر زیادہ ہے ؟ فرمایا تیری ماں۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تیرا باپ۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ٹھیک ٹھیک اس آیت کی ترجمانی ہے، کیونکہ اس میں بھی ماں کے تہرے حق کی طرف اشارہ کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی توحید کو تعلیم رسول کے مطابق قبول کیا) پھر (اس پر متقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) سو یقیناً (اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں اور نہ وہ (وہاں غمگین ہوں گے (یہ تو ان کے مضرت سے بچنے کا بیان تھا، آگے اس منفعت کا ذکر ہے جو ان کو ملنے والی ہے کہ) یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان (نیک) کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے (جن میں سے ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کا اوپر ذکر ہے) اور (جس طرح ہم نے حقوق اللہ کو واجب کیا ہے جس کا ذکر ہوچکا اسی طرح حقوق العباد کو بھی واجب کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولا ھم یخزنون، اولٓئک اصحب الجنتہ خلدین فیھا، جزآء بما کانوا یعملون (14-12) محسنین کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ”محسنین“ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کردیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بےخوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لئے ابدی جنت کی بشارت ہے نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لئے اور یہ چیز ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–15

15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔ 15۔ 2 فِصَا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

9: ایمان پر ثابت قدم رہنے کا جو ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے، اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین سے اچھا سلوک کرے، نیز جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، بعض مرتبہ کچھ لوگ مسلمان ہوجاتے تھے، اور ان کے والدین ایمان نہیں لاتے تھے، ایسے میں ان کے سامنے یہ سوال آتا تھا کہ ان کافر والدین کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ اس آیت نے یہ تعلیم دی کہ والدین کا انسان پر بہت بڑا احسان ہے، اس لیے جہاں تک ان کے ساتھ عام برتاؤ کا تعلق ہے، اس میں اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے، لیکن نہ عقیدے میں ان کا ساتھ دیا جائے، اور نہ کسی گناہ کے کام میں ان کی بات مانی جائے، جیسا کہ سورة عنکبوت : 8 میں یہ بات پوری وضاحت…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت نمبر 13 تا 14 یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”یہی لوگ جنت والے ہیں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔“ جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قدر افزائی کے لیے جنت میں داخلے اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیتا ہے ‘ جبکہ اللہ کے یہ نیک بندے جنت میں پہنچ کر اللہ کا شکر کرتے ہوئے اعتراف کریں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل کے سبب ہی ممکن ہوا ‘ اور یہ کہ وہ اپنے اعمال کے َبل بوتے پر یہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

19 والدین سے بہتر سلوک کے سلسلہ میں سورة ئبنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔ 20 والدہ حسن سلوک کی والد سے زیادہ حقدار ہے :۔ اس آیت میں پہلے ایک دفعہ ماں اور باپ دونوں سے بہتر سلوک کا حکم دیا۔ پھر تین بار صرف ماں کی خصوصی خدمات کا ذکر فرمایا۔ اور اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے پوچھا : میرے بہتر سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے۔ آپ نے فرمایا : تیری ماں، اس نے دوبارہ پوچھا، پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : تیری ماں تیسری بار آپ نے یہی جواب دیا۔ پھر چوتھی بار آپ نے جواب دیا تیرا باپ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

13۔ جن لوگوں نے صدق دل سے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور پھر اسے چھوڑا نہیں، آخر وقت تک اسی عقیدہ پر قائم رہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں نہ کوئی خوف وہراس ہوگا اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے جنت ہی جنت ہے، چین ہی چین ہے اور یہ سب ان کے حسن عمل کا صلہ ہوگا (آیت) ” ثم استقاموا “۔ اقرار توحید کے بعد پھر اس پر قائم وثابت قدم رہنا اور ہر آزمائش میں پورے اترتے رہنا بہت بڑی چیز ہے اور مدح خاص کی مستحق، عین جس وقت ان سطروں پر نظر ثالث ہورہی ہے (1950 ء ؁ میں) ہندوستان یا بھارت میں آیت کے اس جزء کی قدر خاص طور پر ہورہی ہے۔ سورة حم السجدہ (پ 24) میں بھی یہی مضمون ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–14

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلاخوف علیھم (آلایۃ) الذین قالوا (تا) استقاموا معطوف، معطوف علیہ سے مل کر ان کا اسم ہے اور فلا خوف علیھم الخ ان کی خبر ہے اسم موصول چونکہ متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے فلا خوف الخ متمضن بمعنی جزاء ہے جس کی وجہ سے خبر پر فاء زائدہ داخل ہے ثم حرف عطف ترتیب رتبی کو بیان کرنے کے لئے ہے یعنی اول توحید کا اقرار و اعتضاد ضروری ہے اس لئے کہ توحید کے بغیر کوئی عمل معتبر و مقبول نہیں ہوتا قالوا ربنا اللہ کا مطلب ہے توحید کا اقرار کرنا اور ثم استقاموا کا مطلب ہے اس پر تامرگ قائم رہنا اور توحید کے مقتضیات پر مکمل طور پر عمل کرنا۔ استقامت علی التوحید کا مفہوم : حضرت انس ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک اصحب الجنۃ خلدین فیھا جزاء بما کانوا یعملون یہ لوگ جنتی ہیں ‘ ہمیشہ جنت میں رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا استقامت کی تشریح حٰمٓ السجدۃ کی تفسیر میں کردی گئی ہے۔ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ یعنی مرنے کے بعد ان کو کوئی خوف نہیں ہوگا۔ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ اور نہ کسی مرغوب چیز کے فوت ہونے کا ان کو غم ہوگا۔ جَزَآءً یعنی ان کو یہ بدلہ دیا جائے گا ‘ ان علمی اور عملی فضائل کا جن کو انہوں نے حاصل کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ ان کے نیک اعمال اوراقوال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا…: ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (30، 31) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی (1) آیت عام ہے مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم زیادہ عزت والے ہیں اور ہم بہتر اور افضل ہیں اگر اس دین میں خیر اور بھلائی ہوتی تو فلاں فلاں آدمی اس دین کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے تو (یہ آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا لوکان خیرا ماسبقونا الیہ “ (اور کافر ایمان والوں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے) 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عون بن ابی شداد ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کی ایک باندی تھی وہ ان سے پہلے اسلام لے آئی جس کو زنیرہ کہا جاتا تھا اور عمر بن خطاب اس کو مارا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ [ یہ لوگ جنت والے ہیں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [ اس کا جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

والدین کے بارے میں وصیت، نیک بندوں کی دعا اور ان کا اجر، نافرمانوں کا عناد و انکار اور ان کی سزا یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع اول اور سورة لقمان رکوع دو میں بھی گزر چکا ہے ماں باپ چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں آنے کا سبب ہیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش اور پرداخت میں جان و مال لگاتے ہیں اپنا آرام کھوتے ہیں ان کے لیے مشقت برداشت کرتے ہیں اس لیے ان کی اطاعت کا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ انسان کی والدہ جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس کو بیان کرتے ہوئے ارشاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ، اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–15

14:۔ ” ووصینا الانسان “ یہ بھی بشارت اخرویہ میں داخل ہے۔ انسان پر اپنے ماں باپ کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی شخص والدین کے کہنے پر جوانی میں بلکہ چالیس برس کی عمر میں بھی شرک سے توبہ کر کے توحید کو قبول کرلے تو بھی اس کی توبہ قبول ہوگی اور وہ اہل جنت میں شامل ہوجائے گا انسان کو ہم نے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا اور پھر والدہ کا تو بہت ہی زیادہ حق ہے۔ کیونکہ وہ ایام حمل میں بچے کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھاتی ہے، پھر پیدائش کے وقت بھی مشقت برداشت کرتی ہے اور پھر اس کے بعد اڑھائی سال تک اسے دودھ پلاتی اور اسے ہاتھوں میں اٹھا کر کھلاتی ہے۔ وقال ابو حنیفۃ ؓ المراد بہ الحمل بالاکف (مدارک ج 4 ص 108) ۔ امام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیت : گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ رسالت ونبوت کے متعلق شک کرین والوں کی تردید تھی اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں کہ میں کو فی انوکھا اور نیا رسول تو نہیں ہوں ، مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں اور میں تو سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں مجھے ان تفصیلی حالات کا علم نہیں جو آئندہ زندگی میں میرے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے ہیں ، میرا کام تو اتباع وحی اور تمہیں کھول کر ڈرسنانا ہے ، فرمایا یاد رکھو ! کہ اگر یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے ہو اور تم اس کے منکر ہو حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک معتبر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 14 صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

ترکیب : من جار قبلہ مجرورالجارمع مجرورھاخبر مقدم و کتاب موسیٰ مبتدء وخبر والجملۃ محل النصب علی الحال او مستانفۃ۔ اماماو رحمۃ قال الزجاج انھما حالان و قال الاخفش منتصبان علی القطع وقال ابوعبیدۃ ای جعلناہ اماما ورحمۃ۔ لسانا عرب یا حال من الضمیر فی مصدق العائدالی کتاب اللہ وبشرٰی فی محل النصب عطف علی محل لتنذرلانہ مفعول بہ کذاقال الزمحشری و قبل مرفوع ای ھو بشری و قیل معطوف علی مصدق۔ تفسیر : تو سوچو کہ اگر یہ منجانب اللہ ہو (جو ہے مگر اس طرح سے گفتگو علی سبیل الزام ہوا کرتی ہے) اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس پر گواہی دی تو بتاؤ تمہارا کیا درجہ ہوگا ؟ کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : 13، 14) (بےشک جو لوگ پکار اٹھے کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہی لوگ اہل جنت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔ ) محسنین کے کردار کی وضاحت اوپر والی آیت کریمہ میں محسنین کا ذکر ہوا ہے اور ان کے لیے بشارت کا بھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دونوں کی وضاحت کی گئی ہے کہ محسنین وہ لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید جن لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور تادم آخر اس پر پکے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی تیسری آیت میں اپنی توحید کی یہ دلیل دی ہے کہ جو لوگ ” اللہ “ کے سوا دوسروں کو مانتے اور پکارتے ہیں۔ اے نبی ! ان سے فرمائیں کہ یہ زمینوں اور آسمانوں میں کسی ایسی چیز کی نشاندہی کریں جو ان کے معبودوں نے پیدا کی ہو یا اللہ کی کسی تخلیق میں وہ شریک کار ہوں۔ پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی اسی کی ہدایت اور دعوت یہ تھی کہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور قرآن مجید بھی یہی دعوت دیتا ہے۔ دعوت توحید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 14 : اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا (یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے) : یہ اصحاب جنت سے حال ہے۔ اور اس میں اشارہ کا معنی عامل ہے۔ جس پر اولئک دلالت کر رہا ہے۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کاموں کے بدلے جو وہ کرتے تھے) : جزاء یہ مصدر ہے۔ اس فعل کا جس پر کلام دلالت کر رہا ہے۔ ای جو زوا جزائً

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

14۔ اوپر غریب مسلمانوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان مسلمانوں کی تسلی کے لئے فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کو دل سے مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا اور پھر اس اقرار کو سچا کرکے دکھانے کے لئے جن کاموں کے کرنے کا حکم تھا ان کو کرتے اور مناہی کے کاموں سے بچتے رہے ان کو قیامت کے دن کی آفتوں کا کچھ خوف اور غم نہیں بلکہ بجائے غم کے ان کو یہ خوشی کرنی چاہئے کہ اس دن ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں ان کو وہ نعمتیں دی جائیں گی جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان نعمتوں کا خیال گزر سکتا ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں، اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور (استقامو) عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں (فلا خوف علیھم) تو آنے والے کسی شر سے ان کے لئے خوف نہیں (ولا ھم یحزنون) اور نہ انہیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ (اولئک اصح الجنۃ) یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے (خلدین فیھا جزاء بما کانو ایعملون) ” ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 31] اہل ایمان کیلئے نعیم جنت سے ابدی سرفرازی کا مثردہ جانفرا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے خوش نصیب لوگ جنتی ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سو خلودودوام جنت کی ایسی خاص صفت اور ایک عظیم الشان امتیازی نعمت ہوگی جو اس دنیا میں کسی کو نصیب ہوسکتی ہی نہیں، کہ اس دنیائے فانی کی کسی بھی نعمت کے لئے خلودودوام ممکن نہیں۔ دنیا اور اس کے اندر پائی جانے والی ہر چیز فانی ہے۔ کسی بھی چیز کیلئے یہاں خلودودوام ممکن نہیں۔ یہاں کے ہر موجود نے بہر حال فنا کے گھاٹ اترنا ہے۔ جبکہ جنت کی ہر نعمت دائمی ہوگی۔ سو اس ارشاد سے اس بشارت کی وضاحت فرمائی گئی جس کا ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں [ محسنین ] یعنی "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–15

ف 1 اس آیت سے حضرت عل نے یہ استدلال کیا اور حضرت عمر حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے اس پر ان سے موافقت کی کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس آیت میں حمل اور نہ دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ اور سورة بقرہ کی آیت (233) اور سورة لقمان کی آیت (14) میں دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر) طبی تجربات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حکما کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی عورت نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنے تو وہ جائز تصور ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ صحیح سالم بچہ ہو) تو وہ حرایم ہوگا۔ اس آیت میں اس طرف بھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:14) اولئک : اسم اشارہ ۔ جمع مذکر ۔ مشار الیہم وہ اصحاب ہیں جن میں مندرجہ بالا اوصاف ہوں گے۔ (1) قالوا ربنا اللہ۔ (2) ثم استقاموا۔ جزاء : مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا۔ ای یجزون جزاء ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ بما کانوا یعملون۔ ب سببیہ ۔ کانوا یعملون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب ۔ بہ سبب ان اعمال کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–20

تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20 قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

جنت و دوزخ والوں کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت میں تمام علم اور عمل کا خلاصہ۔ اور اس کا نتیجہ بیان فرماتا ہے جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کو دل سے مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا اور پھر اس اقرار کو سچا کرکے دکھانے کے لیے جن کاموں کے کرنے کا حکم تھا ان کو کرتے اور مناہی کے کاموں سے بچتے رہے، ان کو قیامت کے دن کی آفتوں کا کچھ خوف اور غم نہیں بلکہ بجائے غم کے ان کو یہ خوشی کرنی چاہیے کہ اس دن وہ اپنے نیک کاموں کے بدلہ میں جنت کے مالک بنادیے جائیں گے یہ بھی نہیں کہ پھر وہ نعمتیں لے لی جائیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ان کے مالک کردیے جائیں گے پھر وہاں جانے کے بعد کبھی تکلیفیں نہ دیکھیں گے اب ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–14

[6] یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–14

ربنا اللہ کہنے کے معنی خدا کو پروردگار ان لینے کے بعد بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں ۔ جن کو نبھانا ضروری ہوجاتی ہے ۔ اور جن کے ضمن میں عزیمت و استقامت کی اللہ احتیاج لاحق ہوتی ہے ۔ خدا کو اپنا رب قرار دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے سوا ہر آستانہ عظمت کا انکار کردیا جائے ۔ ہر ربوبیت کو ٹھکرادیا جائے ۔ اور ہر خوف وہراس کو دل میں سے دور کردیاجائے اس کے احکام کی تعمیل میں بڑی سے بڑی قوت سے دوچار ہونا پڑے ۔ تو دبلغ نہ ہو ۔ اور بڑی سے بڑی مصیبت کو جھیلنا پڑے تو تامل نہ ہو ۔ اور مرد مومن ہر چیز سے بالا اور مجھے نیاز ہوجائے ۔ اس کا محض نصب العین ہو کہ اپنے اعمال سے اللہ کو خوش کیا جائے اور اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) ایسے لوگ یعنی سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرنے اور اس پر مستقیم رہنے والے اہل جنت ہیں جو اس بہشت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ صلہ ان کو ان اعمال کے بدلے میں دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ اوپر کافروں کا ذکر تھا پھر مومنوں کا ذکر فرمایا اب نیک اعمال میں سے بعض کا ذکر فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

ف 4۔ یعنی بلوغ کو۔ 5۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جو شخص سعید ہوتا ہے وہ اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور حقوق والدین کے بھی جو کہ حقوق العباد میں سے ہیں ادا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لاریب یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہنے کے مستحق قرار قائیں گے : 41 ؎ غور کرو کہ اہل جنت کی نشانیاں کس طرح واضح الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ کیا اتنی واضح نشانیاں بھی کسی کی پہچان کے لئے ناکافی ہو سکتی ہیں اور پھر قرآن کریم کا جو انداز بیان ہے وہ کتنا واضح ہے ” کہ یہی لوگ ہیں جو جتنی ہیں اور لاریب وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بھی کہ جنت ان کے اعمال کے صلہ میں ان کو دی جائے گی گویا یہ ان کا حق ہوگا اور بلا شبہ احسان خداوندی سے ان کے درجات کو مزید بلند سے بلند تر کردیا جائے گا۔ ایک بار پھر غور کرو کہ اہل جنت کو جو خوشخبری دی گئی ہے وہ ان کی آخرت کی زندگی کے متعلق دی گئی ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

In any case, the real subject of these four verses is to instruct man to behave beautifully with one's parents, and in that context there are other instructions also. Although some narrations of hadith indicate that these verses were revealed about Sayyidna Abu Bakr ؓ ، it is obvious that even if any verse of the Qur'an is revealed about any particular person or about any particular incident, the rule laid down thereby remains generally applicable to all. Therefore, even if the verse was revealed about Sayyidna Abu Bakr ؓ ، its application is general, regardless of some specifications of age…

Read the full tafseer →