Explained with ayahs 15–16
والدین سے بہترین سلوک کرو
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لئے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں جیسے فرمایا آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا 23) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة الْاَحْقَاف 19
یہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے، لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بنا پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لیے زیادہ تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، اور امام بخاری کی ادب المفرد میں وارد ہوئی ہے کہ ایک صاحب نے حضور ﷺ سے پوچھا کس کا حق خدمت مجھ پر زیادہ ہے ؟ فرمایا تیری ماں۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تیرا باپ۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ٹھیک ٹھیک اس آیت کی ترجمانی ہے، کیونکہ اس میں بھی ماں کے تہرے حق کی طرف اشارہ کیا…
Read the full tafseer →بہرحال ان چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے اور ضمناً دوسری تعلیمات آئی ہیں۔ اگرچہ بعض روایات حدیث سے ان آیات کا حضرت صدیق اکبر کی شان میں نازل ہونا معلوم ہوتا ہے اور اسی بنا پر تفسیر مظہری نے ووصینا الانسان میں الانسان کے الف لام کو عہد کا قرار دے کر اس سے مراد صدیق اکبر کو قرار دیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر کسی آیت قرآن کا سبب نزول کوئی خاص فرد یا خاص واقعہ ہو تو پھر بھی حکم سب کے لئے عام ہی ہوتا ہے۔ شان نزول خاص صدیق اکبر ہوں اور تخصیصات مندرجہ آیات انہیں کی صفات ہوں جبھی مقصود آیات کا تعلیم عام ہی ہے۔ اور اگر اصل آیات کو عام تعلیم قرار دیا…
Read the full tafseer →-2 آگے آیات 20-15 کا مضمون
آگے نبی ﷺ کی تسلی کے لئے اس بات کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو یہ کتاب اپیل کرے گی اور کس طرح کے لوگ ہیں جو اس سے ہمیشہ بیزار ہی رہیں گے۔ اوپر الذین ظلموا اور محسنین کے الفاظ سے جن دو قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ گویا انہی کے تفصیل ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جو لوگ سلیم الفطرت ہیں، جو ہوش گوش رکھنے والے ہیں، جو اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے اور اپنے ماں باپ کے حقوق پہچاننے والے ہیں وہ اپنے رب کے حقوق ادا کرنے والے بھی بنیں گے۔ قرآن کی دعوت ان کو اپیل کرے گی۔ رہے وہ لوگ جو بالکل مادر پدر آزاد زندگی گزارنے والے، اپنی ذمہ داریوں اور حقوق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔
15۔ 2 فِصَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9: ایمان پر ثابت قدم رہنے کا جو ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے، اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین سے اچھا سلوک کرے، نیز جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، بعض مرتبہ کچھ لوگ مسلمان ہوجاتے تھے، اور ان کے والدین ایمان نہیں لاتے تھے، ایسے میں ان کے سامنے یہ سوال آتا تھا کہ ان کافر والدین کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ اس آیت نے یہ تعلیم دی کہ والدین کا انسان پر بہت بڑا احسان ہے، اس لیے جہاں تک ان کے ساتھ عام برتاؤ کا تعلق ہے، اس میں اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے، لیکن نہ عقیدے میں ان کا ساتھ دیا جائے، اور نہ کسی گناہ کے کام میں ان کی بات مانی جائے، جیسا کہ سورة عنکبوت : 8 میں یہ بات پوری وضاحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
درس نمبر 238 ایک نظر میں
یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا…
Read the full tafseer →3 قرآن میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کا حق بیان فرمایا ہے۔ کیونکہ موجد حقیقی تو اللہ ہے لیکن عالم اسباب میں والدین اولاد کے وجود کا سبب ظاہری اور حق تعالیٰ کی شان ربوبیت کا مظہر خاص بنتے ہیں۔ یہاں بھی پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :13) میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کا ذکر تھا۔ اب والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، ان کی تعظیم و محبت اور خدمت گزاری کو اپنی سعادت سمجھے۔ دوسری جگہ بتلایا ہے کہ اگر والدین مشرک ہوں تب بھی ان کے ساتھ دنیا میں معاملہ اچھا رکھنا چاہیے۔ خصوصاً ماں کی خدمت…
Read the full tafseer →آیت 15 { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا } ”اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔“
والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کے اس حکم میں اس حوالے سے خصوصی تاکید پائی جاتی ہے :
{ وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلآَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْکِلٰہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا }
”اور فیصلہ کردیا ہے آپ ﷺ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
19 والدین سے بہتر سلوک کے سلسلہ میں سورة ئبنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
20 والدہ حسن سلوک کی والد سے زیادہ حقدار ہے :۔ اس آیت میں پہلے ایک دفعہ ماں اور باپ دونوں سے بہتر سلوک کا حکم دیا۔ پھر تین بار صرف ماں کی خصوصی خدمات کا ذکر فرمایا۔ اور اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے پوچھا : میرے بہتر سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے۔ آپ نے فرمایا : تیری ماں، اس نے دوبارہ پوچھا، پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : تیری ماں تیسری بار آپ نے یہی جواب دیا۔ پھر چوتھی بار آپ نے جواب دیا تیرا باپ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب…
Read the full tafseer →14۔ (علی العموم اور اکثر) مدت حمل، 6 ماہ کم سے کم ہے۔ اور مدت رضاعت 2 سال زیادہ سے زیادہ ہے۔ یہ ملا کر کل 30 مہینہ ہوگئے ..... یا یہ حساب رکھا جائے کہ طبیعی مدت حمل 9 مہینہ اور طبیعی مدت رضاعت 21 مہینہ کل اڑھائی برس یوں بھی ہوگئے۔ سورة لقمان (پ 21) میں بھی ایک آیت اسی مضمون کی آچکی ہے۔ (آیت) ” ووصینا ...... احسنا “۔ سورة بنی اسرائیل (پ 15) میں ایک آیت اسی قسم کی گزر چکی ہے۔ (آیت) ” حملتہ ...... وضعتہ کرھا “۔ ماں کی خدمت کی اہمیت خصوصی اس کی ان مصیبتوں سے واضح ہے جو اسے حمل ووضع حمل کے سلسلہ میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ ان حقائق کی طبی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
15۔ حاصل یہ نکلا کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔
مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً…
Read the full tafseer →ووصینا الانسان بوالویہ احسنا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا۔ اور اس کو پیٹ میں رکھنا دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں پورا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس (کی عمر) کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے : اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر…
Read the full tafseer →ہم نے بذریعہ قرآن کریم حضرت عبدالرحمن کو ان کے والدین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کی بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کی ماں نے بڑی مشقت کے ساتھ اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر بڑی مشقت کے ساتھ اسے پیدا کیا اور اس بچے کو پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا اکثر تیس مہینوں میں پورا ہوتا ہے۔
یہاں تک کہ جب وہ اٹھارہ سال سے تیس سال تک پہنچ جاتا ہے اور پھر چالیس سال کی عمر ہوتی ہے تو حضرت ابوبکر دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار مجھے اس چیز پر ثبات عطا فرمایئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو بذریعہ توحید عطا فرمائی ہیں ان کے والدین اس سے پہلے اسلام قبول…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰـنًا : سورت کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید اس کی نازل کردہ کتاب کے حق ہونے اور اس کی عبادت پر استقامت کا بیان فرمایا، اب ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حق توحید اور اخلاص عبادت کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اس جملے کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (83) بنی اسرائیل (23، 24) ، عنکبوت (8) اور سورة لقمان (14، 15)۔
(2) حملتہ امہ کرھاً و و ضعتہ کرھا :”کرہ یکرہ کرھا و کرھا و کراھۃ و کراھیۃ“ (ع)”الشی ،“ یہ ”احب الشیئ“ کی ضد ہے، ناپسند کرنا۔ ”الکرہ“ اور ”الکرہ“ کا معنی انکار اور…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1:۔ انسان کی اپنے والدین کے ساتھ حالت کے اختلاف کو بیان کیا کبھی وہ ان دونوں کی اطاعت کرتا ہے اور کبھی ان کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کی مثل نبی کریم ﷺ اور آپ کی قوم میں بعید نہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض آپ کی دعوت قبول کیں اور بعض انکار کریں یہ کلام کے بعض سے اتصال کی صورت ہے، یہ قشیری کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 2: حسنا عام قرأت حسنا ہے اہل حرمین اہل بصرہ اور اہل شام کے مصاحف میں بھی اسی طرح ہے حضرت ابن عباس اور کو فیوں نے اسے احسنا پڑھا ہے ان کی حجت سورة الانعام اور بنی اسرائیل میں ہے (بقرہ 83) کوفہ کے مصاحف میں اسی طرح ہے (1) پہلی قرأت کی حجت اللہ تعالیٰ کا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ ابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) (آیت) ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسنا “ (اور ہم نے انساں کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے) سے لیکر (آیت ) ” وعد الصدق الذی کانوا یوعدون “ تک (اس سچے وعدے کی وجہ سے جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا)
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حملتہ امہ کرھا “ (اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا یعنی اس پر مشقت اٹھاتے ہوئے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ [ اور ہم نے تاکید کی انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ [ اپنے والدین سے ] اِحْسٰـنًا ۭ [ حسن سلوک کرنے کی ] حَمَلَتْهُ [ اس کا (حمل ) اٹھایا ] اُمُّهٗ [اس کی ماں نے ] كُرْهًا [تکلیف دہ ہوتے ہوئے ] وَّوَضَعَتْهُ [ اور اس نے جنا اس کو ] كُرْهًا ۭ [ تکلیف دہ ہوتے ہوئے ] وَحَمْلُهٗ [اور اس کا (حمل) اٹھانا ] وَفِصٰلُهٗ [ اور اس کا (دودھ ) چھڑانا ] ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا ۭ[ تیس مہینے ہیں ] حَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ [ یہاں تک کہ وہ پہنچے ] اَشُدَّهٗ [اپنی پختگی کو ] وَبَلَـغَ [ اور وہ پہنچے ] اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۙ [ چالیس سال کو ] قَالَ [ (تو) وہ کہے ] رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ [ اے میرے رب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
والدین کے بارے میں وصیت، نیک بندوں کی دعا اور ان کا اجر، نافرمانوں کا عناد و انکار اور ان کی سزا
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع اول اور سورة لقمان رکوع دو میں بھی گزر چکا ہے ماں باپ چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں آنے کا سبب ہیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش اور پرداخت میں جان و مال لگاتے ہیں اپنا آرام کھوتے ہیں ان کے لیے مشقت برداشت کرتے ہیں اس لیے ان کی اطاعت کا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔
انسان کی والدہ جو تکلیف اٹھاتی ہیں اس کو بیان کرتے ہوئے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ،
اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14:۔ ” ووصینا الانسان “ یہ بھی بشارت اخرویہ میں داخل ہے۔ انسان پر اپنے ماں باپ کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی شخص والدین کے کہنے پر جوانی میں بلکہ چالیس برس کی عمر میں بھی شرک سے توبہ کر کے توحید کو قبول کرلے تو بھی اس کی توبہ قبول ہوگی اور وہ اہل جنت میں شامل ہوجائے گا انسان کو ہم نے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا اور پھر والدہ کا تو بہت ہی زیادہ حق ہے۔ کیونکہ وہ ایام حمل میں بچے کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھاتی ہے، پھر پیدائش کے وقت بھی مشقت برداشت کرتی ہے اور پھر اس کے بعد اڑھائی سال تک اسے دودھ پلاتی اور اسے ہاتھوں میں اٹھا کر کھلاتی ہے۔ وقال ابو حنیفۃ ؓ المراد بہ الحمل بالاکف (مدارک ج 4 ص 108) ۔ امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا وحی الٰہی اور برحق ہونا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا اور اللہ نے منکرین قرآن اور منکرین رسالت کا رد فرمایا ، اس طرح اللہ نے دین کے بنیادی اصول بیان فرمائے ، گزشتہ آیات میں رسالت کے ضمن میں گزر چکا ہے قل ماکنت بدعا من الرسل (آیت ، 9) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ہوں ، بلکہ اللہ کے رسول پہلے بھی آتے رہے ہیں ، اور وہ بھی اللہ کا پیغام سناتے رہے ہیں ، میں بھی اسی سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہوں ، توحید کے سلسلے میں اللہ نے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر نہ صرف اس سورة مبارکہ میں کیا ہے بلکہ تمام جو اسم سبعہ میں اس مسئلہ…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ اِحْسٰـنًا 0 ۭ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ كُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ كُرْہًا 0 ۭ وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَۃً 0 ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ ۚ ۭ اِنِّىْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ 15
وصی
الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى الغیر بما يعمل به مقترنا بوعظ من قولهم : أرض وَاصِيَةٌ: متّصلة النّبات، ويقال : أَوْصَاهُ ووَصَّاهُ. قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ترکیب : احسانا انتصابہ علی المصدریۃ ای ان یحسن احسانا حتٰی غایۃ لعاش اشد جمع شدۃ عندسیبویہ وقیل لاواحد لہ قال رب الخ جواب لاذابلغ فی اصحاب الجنۃ الجاروالمجرور فی محل النصب علی الحال ای کائناً فی جملتھم وعدالصدق انتصابہ علی المصدریہ ای وعدھم اللہ وعدالصدق۔
تفسیر : اس کے جواب میں فرماتا ہے واذلم یہتدوابہ الخ یعنی جب ان کی سمجھ میں نہ آیا تو اس کو قدیمی 1 ؎ جھوٹ بتا دیا۔ اور قدیم کا جھوٹ بتانا بھی ان کا غلط ہے کس لیے کہ قدیم سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب یعنی توریت جو رہنما و رحمت تھی اور تمہارے نزدیک بھی افک یعنی جھوٹ نہ تھی وھذا کتاب مصدق اور یہ کتاب یعنی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے توحید و…
Read the full tafseer →وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا ط حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْھًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْھًا ط وَحَمْلُـہٗ وَفِصٰلُـہٗ ثَلٰـثـُوْنَ شَھْرًا ط حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً لا قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَـکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ج ط اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 15)
(اور ہم نے انسان کو ان کے ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کی ہدایت کی، اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا، اور دکھ کے ساتھ اس کو جنا، اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حقوق اللہ کے ذکر کے بعد حقوق العباد کا تذکرہ حقوق میں سب سے پہلے والدین کا حق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات پر اپنی توحید کا تذکرہ کرنے کے فوراً بعد انسان کو یہ وصیت فرمائی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھے اور ان کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرے۔ البقرہ آیت 83 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا کہ ” اللہ “ کی عبادت کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنا۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ ارشاد ہوا کہ اے انسان ! تیرے رب کا قطعی فیصلہ ہے کہ صرف اپنے رب کی عبادت کرنا اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ سورة لقمان…
Read the full tafseer →والدین کے ساتھ احسان کا حکم :
آیت 15 : وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا (اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا) قراءت : کوفی نے اسی طرح پڑھا۔ مطلب یہ ہے ہم نے اس کو حکم دیا کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرے احسان کرنا۔ دیگر قراء نے حُسنًاپڑھا یعنی ہم نے اس کو والدین کے ساتھ حسن والی بات کا حکم دیا۔ یا بامرٍ ذی حسن۔ یہ بوالدیہ سے بدل کی جگہ میں ہے اور وہ بدل اشتمال ہے۔
حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا (اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ جنا) قراءت : حجازی اور ابوعمرو نے کَرہًا پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جو مشقت…
Read the full tafseer →14 ۔ ” اولئک اصحاب الجنۃ خالدین فیھا جزاء بما کانوا یعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 16۔ جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے۔ صحیح مسلم 4 ؎ میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے۔ معتبر سند سے نسائی ابن 5 ؎ ماجہ مستدرک حاکم اور طبرانی میں معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اولاد کے لئے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدرو توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم وملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے بیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران میں تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے، پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سے مدت، گھڑی دو گھڑی کے لئے نہیں بلکہ وہ طویل مدت ہے جس کا عرصہ (ثلثون شھرا) ” تیس مہینے ہے۔ “ جن میں سے غالب طور پر نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
بچے کی پیدائش کی مدت کم از کم چھ ماہ ہوسکتی ہے
قول باری ہے (وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑھائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے) روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے ہاں چھ ماہ میں بچے کی پیدائش ہوگئی تھی۔ اس موقع پر حضرت علی ؓ نے اس آیت کا حوالہ دیا تھا نیز اس قول باری کا (وفصالہ فی عامین۔ اور اس کی دودھ بڑھائی دو سالوں تک ہوتی ہے)
ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان ؓ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا حضرت ابن عباس ؓ نے بھی آپ کو یہی بات بتائی تھی چناچہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حمل کی مدت میں اضافہ ہوگا رضاعت کی مدت میں…
Read the full tafseer →[ 33] والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تاکید کردی انسان کو کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک ہی کا معاملہ کرے، سو اس سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی عظمت و اہمیت کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ توحید خداوندی کی تعلیم و تلقین کے متصل بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ { وقضٰی ربک الا تعبدوآ الا ایاہ وبالوالدین احسانا ط } [ بنی اسرائیل : 23 پ 15] وغیرہ دوسری کئی آیات کریمہ میں بھی فرمایا گیا ہے سو اس سے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت خالق جل مجدہ۔ نے پہلے اپنے حق یعنی توحید و بندگی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے
تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار ومعارف۔
اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 1 اس آیت سے حضرت عل نے یہ استدلال کیا اور حضرت عمر حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے اس پر ان سے موافقت کی کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس آیت میں حمل اور نہ دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ اور سورة بقرہ کی آیت (233) اور سورة لقمان کی آیت (14) میں دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر) طبی تجربات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حکما کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی عورت نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنے تو وہ جائز تصور ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ صحیح سالم بچہ ہو) تو وہ حرایم ہوگا۔ اس آیت میں اس طرف بھی…
Read the full tafseer →(46:15) وصینا : ماضی جمع متکلم۔ توصیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم نے حکم دیا (وصیت کا فاعل جب اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا معنی فرض کرنا اور حکم دینا ہوتا ہے، و ص ی مادہ۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنے کے ہیں وصیت کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جیسے ووصی بھا ابراہیم بنیہ و یعقوب (2:132) اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اس بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی۔ نصیحت، حق بات کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے مثلاً وتواصوا بالحق وتواصو بالصبر (103:3) اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔
الانسان کے متعلق دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ال عہد کا ہے اور اس سے مرا ایک خاص انسان یعنی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ماں باپ کی تعظیم دین اور اسلام کا امتیازی پہلو۔
(ف 2) جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے معتبر سند سے نسائی، ابن ماجہ اور مستدرک ، حاکم اور طبرانی میں ہے جس میں نبی نے فرمایا اولاد کے لیے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 1: وحملہ وفضالہ ثلثون شھرا کے معنے یہ ہیں کہ عمل کی اقل مدت چھ مہینے ہیں ۔ اور باقی دو سال دودھ پلانے کے لئے ہیں چناچہ ایک دفعہ جب حضرت عمر ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا ۔ جب کہ اس نے چھ مہینے کے بعدوضع حمل سے فراغت پائی ۔ تو حضرت علی ؓ نے ان کو روک دیا ۔ اور ثبوت میں یہ آیت پیش فرمائی ۔
پوری عمر وبلغ اربعین سنتہ قال رب اوزعنی (الآیہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے مطابق عمر کا وہ حصہ جس میں انسان صحیح معنوں میں تشکرواستنان کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ چالیس سال کا ہے یہی وجہ ہے ۔ انبیاء بھی اسی عمر میں پہنچ کر عہدہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں ۔ اور اصل کام کرنے کا وقت اس منزل سے…
Read the full tafseer →(15) اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں بڑی مشقت اور تکلیف کے ساتھ رکھا اور بڑی دشواری سے اس کو جنا اور اس کے پیٹ میں رکھنے اور اس کا دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بچہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیرے ان احسانات کا شکر بجا لائوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن سے تو راضی اور خوش ہو اور میرے لئے میری اولاد میں صلاحیت پیدا کردے اور میرے نفع کے لئے میری اولاد کو نیک کردے میں تیری جناب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 4۔ یعنی بلوغ کو۔
5۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جو شخص سعید ہوتا ہے وہ اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور حقوق والدین کے بھی جو کہ حقوق العباد میں سے ہیں ادا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرے
51 ؎ والدین یعنی ماں باپ کی عزت و احترام ، خدمت اور اطاعت و فرمانبراری کا ذکر سید نا موسیٰ (علیہ السلام) ، سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سید نا محمد الرسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں یکساں ضروری قرار دیا گیا ہے اور تینوں ہی میں ان کا درجہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بعد انسانی رشتوں میں بڑا اور اہم بنایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی تاکید کی گئی ہے اور صرف ایک بات سے روکا گیا ہے کہ اگر والدین اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے منع کریں تو یہ بات ان کی مانی نہیں جاسکتی اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
In any case, the real subject of these four verses is to instruct man to behave beautifully with one's parents, and in that context there are other instructions also. Although some narrations of hadith indicate that these verses were revealed about Sayyidna Abu Bakr ؓ ، it is obvious that even if any verse of the Qur'an is revealed about any particular person or about any particular incident, the rule laid down thereby remains generally applicable to all. Therefore, even if the verse was revealed about Sayyidna Abu Bakr ؓ ، its application is general, regardless of some specifications of age…
Read the full tafseer →19 This verse tells that although the children should serve both the mother and the father, the mother's right is greater in importance, on the ground that she undergoes greater hardships for the sake of the children. The same is borne out by a Hadith, which has been related with a little variation in wording in Bukhari, Muslim, Abu Da'ud, Tirmidhi, Ibn Majah, Musnad Ahmad, and in Adab al-Mufrad of Imam Bukhari, to the effect that a person asked the Holy Prophet: "Who has got a greater right to my service? The Holy Prophet replied: Your mother. He asked: Who after her? He replied: Your…
Read the full tafseer →