Al-Ahqaf 46:16

Al-Ahqaf · from ayah 16

46:16

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ ؕ— وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ نَـتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَنَـتَجَاوَزُ عَنۡ سَيِّاٰتِهِمۡ فِىۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّةِ‌ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِىۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے)۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones from whom We will accept the best of what they did and overlook their misdeeds, [their being] among the companions of Paradise. [That is] the promise of truth which they had been promised.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:16

اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے)۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے، اور ان کی خطاؤں سے درگزر کریں گے (جس کے نتیجے میں) وہ جنت والوں میں شامل ہوں گے، اس سچے وعدے کی بدولت جو ان سے کیا جاتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی وہ لوگ ہیں ہم جن کے نیک اعمال قبول کرتے ہیں اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں، (یہی) اہلِ جنت ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے اور ان کی برائیوں سے در گزر کر جاتے ہیں۔ یہ اہل جنت میں شامل ہیں۔ (اللہ کا) وعدہ سچا ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے جنت والوں کے ساتھ یہ سوچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ لوگ ہیں جن کے نیک کاموں کو ہم قبول کرلیں گے اور ان کی برائیوں سے ہم درگزر کردیں گے یہ جنتی لوگوں میں سے ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے (دنیا میں) کیا جاتا رہا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے اچھے اچھے عمل کو قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے (یہ) اصحاب جنت میں سے (ہوں گے) اس سچے وعدہ (کی بناء) پر جس کا ان سے وعدہ کیا جاچکا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے (اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور یہی اہل جنت میں سے ہوں گے۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such are those from whom We accept their best deeds and whose evil deeds We overlook. They will be among the people of Paradise in consonance with the true promise made to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Such are the people from whom We accept the best of what they did, and overlook their evil deeds, (so as they will be) among the people of Paradise according to the true promise that was made to them.

— Muhammad Taqi Usmani

Such are the people from whom We accept the best of what they did, and overlook their evil deeds, (so as they will be) among the people of Paradise according to the true promise that was made to them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those from whom We shall accept the best of their deeds and overlook their evil deeds. (They shall be) among the dwellers of Paradise. That is a promise of truth that they had been promised.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are they from whom We accept the best of what they do, and overlook their evil deeds. (They are) among the owners of the Garden. This is the true promise which they were promised (in the world).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones from whom We will accept the best of what they did and overlook their misdeeds, [their being] among the companions of Paradise. [That is] the promise of truth which they had been promised.

— Saheeh International

These are the ones from whom We accept righteous deeds and ignore their bad deeds. They will be among the dwellers of Paradise. It is the true promise which was given to them.

— Muhammad Sarwar

These are they from whom We accept the best of what they have done and pass over their evil deeds, among the dwellers of the garden; the promise of truth which they were promised.

— Muhammad Habib Shakir

Those are they from whom We shall accept the best of that which they have worked, and their misdeeds We shall pass by: among the fellows of the Garden: a true promise this, which they have been promised.

— Abdul Majid Daryabadi

Such are they from whom We shall accept the best of their deeds and pass by their ill deeds: (They shall be) among the Companions of the Garden: a promise! of truth, which was made to them (in this life).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

والدین سے بہترین سلوک کرو اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لئے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں جیسے فرمایا آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 21 یعنی دنیا میں انہوں نے جو بہتر سے بہتر عمل کیا ہے آخرت میں اسی کے لحاظ سے مقرر کیا جائے گا۔ اور ان کی لغزشوں، کمزوریوں اور خطاؤں پر گرفت نہیں کی جائے گی یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک کریم النفس اور قدر شناس آقا اپنے خدمت گذار اور وفادار ملازم کی قدر اس کی چھوٹی چھوٹی خدمات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی کسی ایسی خدمت کے لحاظ سے کرتا ہے جس میں اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو، یا جانثاری یا وفا شعاری کا کمال کر دکھایا ہو۔ اور ایسے خادم کے ساتھ وہ یہ معاملہ نہیں کیا کرتا کہ اس کی ذرا ذرا سی کوتاہیوں پر گرفت کر کے اس کی ساری خدمت پر پانی پھیر دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ یعنی ایسے مومن مسلمان جن کے یہ حالات ہوں جو اوپر گزرے ہیں ان کی حسنات قبول کرلی جاتی ہیں اور گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں یہ حکم بھی عام ہے، اگر اس کے سبب نزول صدیق اکبر ہوں تو وہ اس کے پہلے مصداق ہوں گے۔ حضرت علی کے ا رشاد ذیل سے بھی آیت کے مفہوم کا عام ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سند کے ساتھ محمد ابن حاطب کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ کی خدمت میں حاضر تھا، اس وقت ان کے پاس کچھ دوسرے حضرات بھی موجود تھے جنہوں نے حضرت عثمان پر کچھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا و نتجاوزعن سیاتھم فی اصحب الجنۃ ط وعد الصدق الذی کانوا یوعدون 16 فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ فی اصحب الجنۃ حال کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو جنت کے مستحقین کے ساتھ ہوگا۔ یہ انہی کے زمرے میں شمار ہوں گے۔ وعد الصدق مصدر مئوکد ہے یعنی ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ سچا اور پکا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ چالیس اسل کی عمر کو پہنچنے والوں کو تنبیہ یہ آیت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، جوانوں، خاص طور پر چالیس سال کی عمر کو پہنچے ہوئے لوگوں کو تشویش و ترغیب بلکہ ایک قسم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17۔ 1 مذکورہ آیت میں سعادت مند اولاد کا تذکرہ تھا جو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی اب اس کے مقابلے میں بدبخت اور نافرمان اولاد کا ذکر کیا جارہا ہے جو ماں باپ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتی ہے اف لکما افسوس ہے تم پر اف کا کلمہ ناگواری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی نافرمان اولاد باپ کی ناصحانہ باتوں پر یا دعوت ایمان وعمل صالح پر ناگواری اور شدت غیظ کا اظہار کرتی ہے جس کی اولاد کو قظعا اجازت نہیں ہے یہ آیت عام ہے ہر نافرمان اولاد اس کی مصداق ہے۔ 17۔ 2 مطلب ہے کہ وہ تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آئے۔ حالانکہ دوبارہ زندہ ہونے کا مطلب قیامت والے دن زندہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–20

12: یعنی اگر تم نے دنیا میں کچھ اچھے کام کیے بھی تھے تو ہم نے دنیا ہی میں ان کا بدلہ عیش و عشرت کی شکل میں تمہیں دے دیا، اور تم نے اس کے مزے اڑا کر اپنا حصہ دنیا ہی میں لے لیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

درس نمبر 238 ایک نظر میں یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ایسے بندوں کی نیکیاں قبول اور کو تاہیاں معاف ہوتی ہیں۔ اور ان کا مقام اللہ کے سچے وعدہ کے موافق جنت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے ‘ اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے ‘ اور وہ ہوں گے جنت والوں میں سے۔“ { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ } ”یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔“ ان آیات میں ایک ایسے شخص کے کردار کی تصویر دکھائی گئی ہے جو اپنے والدین کا نیک اور صالح بیٹا ہے۔ شعور کی پختگی کو پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں خیالات و نظریات کا جو ہیولا تیار ہوا ہے اس کا خوبصورت عکس اوپر آیت 15 کے دعائیہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 یعنی ان کے اچھے اعمال میں سے جو بہترین ہوں گے، ان کی مناسبت سے ہی ہم ان کے سارے اچھے اعمال کا بدلہ دے دیں گے۔ اگرچہ وہ بہترین اعمال کے پایہ کے نہ ہوں گے۔ اور ان کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو بالکل ہی نظر انداز کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (دنیا میں) (آیت) ” وعدالصدق “۔ وہ سچا وعدہ یہی کہ حسن عمل کے اجر بہت بڑے بڑے ہیں۔ (آیت) ” ونتجاوز عن سیاتھم “۔ یہ حقیقت قرآن مجید میں بیسیوں بار آچکی ہے۔ اور یہاں ایک بار پھر اسی کا اعادہ ہے کہ بڑے بڑے کاملین اور مقبولین بھی گناہوں سے خالی نہیں ہوتے ان کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ان کی خطاؤں سے درگزر کردی جاتی ہے۔ اگر سیئات کا وجود ہی سرے سے نہیں ہوتا تو درگزر یا معافی ہی کس چیز سے ملتی ہے ؟ آیت کی زد فرقہ خوارج پر بھی پڑتی ہے۔ جن کے نزدیک ہر مومن کو عملا معصوم ہی ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–20

ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔ مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔ مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا ونتجاوز عن سیاتھم فی اصحب الجنۃ وعد الصدق الذی کانوا یوعدون یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے اچھے اعمال کو قبول کرلیں گے اور ان کے برے اعمال سے درگذر کریں گے ‘ یہ لوگ اہل جنت میں سے ہوں گے ‘ اس سچے وعدہ کی وجہ سے جو ان سے (دنیا میں) کیا جاتا تھا۔ اُولٰٓءِکَ اگر الانسان سے عام انسان مراد ہوں تو اولٰٓءِکَ سے اشارہ ان تمام انسانوں کی طرف ہوگا جو صفات مذکورہ کے حامل ہوں اور اگر حضرت ابوبکر یا حضرت سعد مراد ہوں تو اشارہ ان لوگوں کی طرف عموماً ہوگا جو حضرت ابوبکر یا حضرت سد جیسی صفات رکھتے ہوں۔ اس عموم میں حضرت ابوبکر اور حضرت سعد بطور کنایہ آجائیں گے اور کلام نہایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کی نیکیوں کو ہم قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں پر پکڑ نہیں کریں گے اس لیے کہ یہ جنت والوں کے ساتھ جنت میں ہوں گے اس جنت کے وعدہ کی وجہ سے جس کا ان سے دنیا میں وعدہ کیا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا…: آیت کے ضمن میں یہ مفہوم موجود ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان ، ان کے لئے دعا، اللہ تعالیٰ سے شکر اور عمل صالح کی توفیق مانگنا اور اولاد کے لئے اصلاح کی دعا انسان کے سب سے اچھے اعمال میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ یہ عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس بہترین عمل کو قبول فرمائے گا اور ان کی برائیوں سے درگزر فرمائے گا۔ (2) فی اصحب الجنۃ : یہ ”اولئک“ سے حالی کی جگہ میں ہے :”ای کائنین فی اصحاب الجنۃ ‘ بہترین اعمال کی قبولیت اور گناہوں سے درگزر کے ساتھ یہ تیسرا انعام ہے کہ انہیں اصحاب الجنہ میں شامل کیا جائے گا جو بہترین ساتھی ہیں۔ کیونکہ ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

عام قراء کی قرأت ہے اسے زیاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے، دونوں میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے حفص، حمزہ او کسائی نے دونوں میں نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہم انہیں بخش دیتے اور درگزر سے کام لیتے ہیں تجاوز کا اصل معنی ہے اس وقت کہتے ہیں جب تو اس چیز پر نہ رکے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اس سے پہلے آیت آخر تک کسی کے ساتھ مقید نہیں بلکہ عموم کے لئے نازل ہوئی ہے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : معنی ہے ہم ان کی نیکیاں قبول کرتے ہیں اور ان کی سینات سے درگزر کرتے ہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : وہ اسے مرفوع نقل کرتے ہیں جب وہ اسلام لائیں گے تو ان کی نیکیاں قبول ہوں گی اور برائیاں بخش دی جائیں گی (1) ۔ ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1:۔ ابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) (آیت) ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسنا “ (اور ہم نے انساں کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے) سے لیکر (آیت ) ” وعد الصدق الذی کانوا یوعدون “ تک (اس سچے وعدے کی وجہ سے جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حملتہ امہ کرھا “ (اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا یعنی اس پر مشقت اٹھاتے ہوئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ [ ہم قبول کرتے ہیں جن سے ] اَحْسَنَ مَا [ اس کے بہترین کو جو ] عَمِلُوْا [ ان لوگوں نے عمل کیا ] وَنَتَجَاوَزُ [ اور ہم درگزر کرتے ہیں ] عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں سے ] فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ [ (وہ لوگ ) جنت والوں میں ہیں ] وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ [ اس سچائی کا وعدہ ہوتے ہوئے جو ] كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ [ ان سے وعدہ کیا جاتا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–19

پھر فرمایا ﴿ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا 1ۚ ﴾ اور ہر ایک کے لیے درجات ہیں، اہل ایمان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت عالیہ میں درجات ملیں گے اور اہل کفر کو دوزخ کے طبقات سافلہ میں جانا ہوگا۔ قال فی الجلالین فدرجات المومن فی الجنة عالیہ و درجات الکافر فی النار سافلة (تفسیر جلالین میں ہے کہ جنت میں مومن کے درجات اوپر سے اوپر کو ہوں گے اور جہنم میں کافر کے درجات نیچے سے نیچے ہوں گے) ﴿وَ لِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ﴾ (اور ان کے لیے درجات اس لیے مقدر اور مقرر کردئیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جزا پوری پوری دیدے) ﴿ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 0019﴾ (اور ان پر ذرا سا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ، اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

15:۔ ” والذی قال “ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے۔ مؤمن بیٹے کے ذکر کے بعد والدین کے اس بیٹے کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان نہیں لاتا اور شرک و کفر پر قائم رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اس شخص کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے یعنی ایک بیٹا تو وہ ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے اور ایک وہ ہے جو والدین کی مشفقانہ پند و نصیحت کے جواب میں نہایت گستاخانہ رویہ اختیار کر کے کہتا ہے تم نے مجھے کس قدر دق کر رکھا ہے، تم کہتے ہو کہ میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے قرنوں کے قرن گذر چکے ہیں، لیکن آج تک کسی مردے کو زندہ ہوتے تو ہم نے نہیں دیکھا۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–16

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا وحی الٰہی اور برحق ہونا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا اور اللہ نے منکرین قرآن اور منکرین رسالت کا رد فرمایا ، اس طرح اللہ نے دین کے بنیادی اصول بیان فرمائے ، گزشتہ آیات میں رسالت کے ضمن میں گزر چکا ہے قل ماکنت بدعا من الرسل (آیت ، 9) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ہوں ، بلکہ اللہ کے رسول پہلے بھی آتے رہے ہیں ، اور وہ بھی اللہ کا پیغام سناتے رہے ہیں ، میں بھی اسی سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہوں ، توحید کے سلسلے میں اللہ نے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر نہ صرف اس سورة مبارکہ میں کیا ہے بلکہ تمام جو اسم سبعہ میں اس مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِہِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّۃِ۝ 0 ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ۝ 16 قبل ( تقبل) قَبُولُ الشیء علی وجه يقتضي ثوابا کا لهديّة ونحوها . قال تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ ما عَمِلُوا[ الأحقاف/ 16] ، وقوله : إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [ المائدة/ 27] ، تنبيه أن ليس كل عبادة مُتَقَبَّلَةً ، بل إنّما يتقبّل إذا کان علی وجه مخصوص . قال تعالی: إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ ما فِي بَطْنِي مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّي [ آل عمران/ 35] . وقیل للکفالة :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–16

ترکیب : احسانا انتصابہ علی المصدریۃ ای ان یحسن احسانا حتٰی غایۃ لعاش اشد جمع شدۃ عندسیبویہ وقیل لاواحد لہ قال رب الخ جواب لاذابلغ فی اصحاب الجنۃ الجاروالمجرور فی محل النصب علی الحال ای کائناً فی جملتھم وعدالصدق انتصابہ علی المصدریہ ای وعدھم اللہ وعدالصدق۔ تفسیر : اس کے جواب میں فرماتا ہے واذلم یہتدوابہ الخ یعنی جب ان کی سمجھ میں نہ آیا تو اس کو قدیمی 1 ؎ جھوٹ بتا دیا۔ اور قدیم کا جھوٹ بتانا بھی ان کا غلط ہے کس لیے کہ قدیم سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب یعنی توریت جو رہنما و رحمت تھی اور تمہارے نزدیک بھی افک یعنی جھوٹ نہ تھی وھذا کتاب مصدق اور یہ کتاب یعنی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے توحید و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰ تِہِمْ فِیْ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ ط وَعْدَالصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ (الاحقاف : 16) (یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کرجاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا رہا ہے۔ ) یعنی جو لوگ ایک فطری ترتیب کے مطابق ماں باپ کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی، پھر اللہ تعالیٰ ہی سے حُسنِ عمل اور حُسنِ انجام کی دعا کرتے ہیں اور اپنی اولاد کی بھلائی اسی سے چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نیک اولاد اور صالح اعمال کرنے والے لوگوں کی جزا۔ جو ایماندار لوگ ” اللہ “ کے شکر گزار، اپنے والدین کے تابع فرمان ہوں گے اور صالح اعمال اختیار کریں گے۔ ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم ان لوگوں کے نیک اعمال منظور فرمائیں گے اور ان کی بشری کوتاہیوں سے صرف نظر کریں گے اور انہیں اہل 3 میں شامل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ سچا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ اور فرمان سچا اور اٹل ہوتا ہے۔ والدین کی تابعدار اور شکرگزار اولاد کے لیے بالخصوص ” وَعْدَ الصِّدْقِ “ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ پیغام دیا ہے کہ لوگو ! اپنے والدین کا تابع فرمان رہنا اور میرا شکر گزار بننا۔ میرا شکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 16 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک کاموں کو قبول کریں گے اور انکے گناہوں سے درگزر کردیں گے) قراءت : حمزہ ٗ علی اور حفص کی قراءت میں نتقبل ونتجاوز ہے اور دیگر قراء نے یُتقَبل اور یتجاوز ٗ احسنُ پڑھا ہے۔ فِیْ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ (یہ اہل جنت میں سے ہونگے) یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں اکرمنی الامیر فی ناس من اصحابہٖ ۔ مراد یہ ہے اس نے ان میں سے جن لوگوں کا اکرام کیا مجھے ان لوگوں میں سے شمار کیا۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ معنی یہ ہوگا وہ جنت والوں میں ہونگے۔ اور ان میں ان کا شمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔ ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا “ اور اہل کوفہ رحمہم اللہ نے ” احسانا “ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وبالوالدین احسانا “ کی طرح۔ ” حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا “ سخت مشقت مراد ہے۔ اہل حجاز اور ابو عمر و (رح) نے ” کرھا “ کاف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے دونوں میں اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” وحملہ وفضالہ “ اس کا دودھ چھڑانا اور یعقوب (رح) نے ” وفصلہ “ بغیر الف کے پڑھا۔ ” ثلاثون شھرا “ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ اور رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت چوبیش مہینے ہیں۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عورت کا حمل نو ماہ ہو تو اکیس مہینے دودھ پلائے اور جب حمل چھ ماہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے۔ صحیح مسلم 4 ؎ میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے۔ معتبر سند سے نسائی ابن 5 ؎ ماجہ مستدرک حاکم اور طبرانی میں معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اولاد کے لئے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدرو توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم وملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے بیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران میں تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے، پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سے مدت، گھڑی دو گھڑی کے لئے نہیں بلکہ وہ طویل مدت ہے جس کا عرصہ (ثلثون شھرا) ” تیس مہینے ہے۔ “ جن میں سے غالب طور پر نو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–19

بچے کی پیدائش کی مدت کم از کم چھ ماہ ہوسکتی ہے قول باری ہے (وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑھائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے) روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے ہاں چھ ماہ میں بچے کی پیدائش ہوگئی تھی۔ اس موقع پر حضرت علی ؓ نے اس آیت کا حوالہ دیا تھا نیز اس قول باری کا (وفصالہ فی عامین۔ اور اس کی دودھ بڑھائی دو سالوں تک ہوتی ہے) ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان ؓ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا حضرت ابن عباس ؓ نے بھی آپ کو یہی بات بتائی تھی چناچہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حمل کی مدت میں اضافہ ہوگا رضاعت کی مدت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 41] حق تعالیٰ کے معاملہئِ کرم و انعام کے ایک مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے حق تعالیٰ کے معاملہئِ کرم و احسان کے ایک نمونہ و مظہر کا ذکر بیان فرمایا گیا ہے اور سلیم الفطرت لوگوں کے ساتھ نہایت کریمانہ برتاؤ کی خوش خبری دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کی یہ اور یہ صفات ہوبگی ان کے ساتھ ہم نہایت ہی کرم اور فیاضی کا معاملہ کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں جو بہتر سے بہتر معاملہ کیا ہوگا اسی کے لحاظ و اعتبار سے ان کے لیے آخرت میں درجہ و مرتبہ مقرر کیا جائے گا۔ اور جو کمزوریاں اور لغزشیں ان سے دنیا میں صادر ہوگئی ہونگی ان سے ہم درگزر کریں گے۔ سو ان سے نہایت ہی کرم و احسان کا معاملہ ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار ومعارف۔ اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 3 ان میں سے پھر کوئی بھی قبر سے اٹھ کر نہیں آیا۔ “ اس سے مقصد بعث “ دوبارہ زندگی کا انکار ہے یا یہ کہ صرف میں ہی قیامت کا منکر نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی ایسی بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو قیامت کی منکر تھیں۔ اس صورت میں یہ جملہ گویا ” انکار بعث “ پر ایک طرح سے استدلا ہوگا۔ روح ) 4 یعنی خدا کی دہائی دیتے ہوئے اس سے کہتے ہیں۔ 5 جن کو کوئی حقیقت نہیں ہے “ اوپر کی آیت میں ایک مومن شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں ایک کافر شخص کا جسے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں چونکہ اس سے کوئی آستین شخص مراد نہیں ہے اس لئے اگلی آیت میں اولئک واحد کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:16) اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ اس میں الانسان کی طرف اشارہ ہے اور جمع کا صیغہ اس لئے لایا گیا ہے کہ الانسان سے مراد جنس انسان ہے جو اوصاف بالا سے متصف ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں۔ نتقبل : مضارع جمع متکلم تقبل (تفعل) مصدر۔ ہم قبول کرلیں گے۔ احسن ما عملوا۔ صاحب تفسیر مظہری اس جملہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ احسن : فعل مباح حسن (اچھا) تو ضرور ہوتا ہے لیکن اس سے ثواب نہیں ملتا اور آیت میں وہ اعمال مراد ہیں جن کا ثواب دیا جائے گا۔ اس لئے ان اعمال کو احسن (بہت اچھے) فرمایا۔ یا دوسروں کے اعمال سے ان کے اعمال کو بہتر قرار دے کر قبول کرنے کا وعدہ فرمایا۔ اس وقت صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہوگی ، یعنی ہم ان کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–20

تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20 قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

ماں باپ کی تعظیم دین اور اسلام کا امتیازی پہلو۔ (ف 2) جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے معتبر سند سے نسائی، ابن ماجہ اور مستدرک ، حاکم اور طبرانی میں ہے جس میں نبی نے فرمایا اولاد کے لیے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–20

[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–16

ف 1: وحملہ وفضالہ ثلثون شھرا کے معنے یہ ہیں کہ عمل کی اقل مدت چھ مہینے ہیں ۔ اور باقی دو سال دودھ پلانے کے لئے ہیں چناچہ ایک دفعہ جب حضرت عمر ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا ۔ جب کہ اس نے چھ مہینے کے بعدوضع حمل سے فراغت پائی ۔ تو حضرت علی ؓ نے ان کو روک دیا ۔ اور ثبوت میں یہ آیت پیش فرمائی ۔ پوری عمر وبلغ اربعین سنتہ قال رب اوزعنی (الآیہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے مطابق عمر کا وہ حصہ جس میں انسان صحیح معنوں میں تشکرواستنان کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ چالیس سال کا ہے یہی وجہ ہے ۔ انبیاء بھی اسی عمر میں پہنچ کر عہدہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں ۔ اور اصل کام کرنے کا وقت اس منزل سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) یہ لوگ وہ ہیں کہ ان کے نیک اور بہتر سے بہتر اعمال جو انہوں نے کئے ہیں ہم قبول کرلیں گے اور ان کی برائیوں سے ہم درگزر کردیں گے درآنحالیکہ یہ لوگ بہشت میں ہوں گے اور ان کا شمار اہل جنت میں سے ہوگا ان سے یہ سلوک اس سچے وعدہ کی بنا پر ہوگا جوان سے کہا جاتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کے متعلق فرمایا ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے بعض نے فرمایا سعد بن ابی وقاص سے مراد ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سعادت مند لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ بہرحال ہوسکتا ہے شان نزول کسی مقتدر صحابی کے متعلق ہو حضرت صدیق ؓ صحابہ میں بہت ممتاز درجہ رکھتے تھے ان کے بارے میں نازل ہوئی ہو یا کسی اور صحابی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ بدون توبہ کے گناہ معاف نہیں ہوتے، کیونکہ گناہ فضیل محض سے بھی معاف ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہی وہ لوگ ہیں جن کے اچھے کاموں کی قدر اور برائیوں سے در گزر کی جاتی ہے 12 ؎ انسان اور بھولو نسیان لازم و ملزوم ہیں جب انسان مجموعی طور پر اچھے عقائد اور نیک اعمال کا حامل ہوجاتا ہے تو وہ یقیناً اپنی عمر کے تقاضوں کا بھی خیال رکھتا ہے اور اپنے کاموں کی بھی تکمیل چاہتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کرنے میں بھی اس سے بھولو نسیان کا شکار ہوجانا ممکن ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ عقائد و اعمال میں اپنی ساری کوششوں کے باوجود پھسل جاتا ہے تو فوراً سنبھلتا ہے اور اپنے پھسلنے کو تسلیم کرتے ہوئے جب رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پھسل جانے سے درگزر فرما دیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ (Such are the people from whom we accept the best of what they did and overlook their evils.... - 46:16) This, too, is a general rule, and if the verse was revealed with reference to Sayyidna Abu Bakr ؓ ، then he would be the first to be included in its generality. A quotation from Sayyidna ‘Ali ؓ which is given below also indicates that sense of the verse is general. Ibn Kathir has reported the narration of Muhammad Ibn Hatib (رح) that once he was with Sayyidna ‘Ali ؓ along with some other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

21 That is, "Their ranks in the Hereafter will be determined by the best deeds they would have done in the world, and their lapses and weaknesses and errors will be overlooked. It is just like a generous and appreciative master who determines the worth of his loyal and obedient servant not by the petty services that he renders but by some work of merit that he might accomplish or a feat of devotion and dedication that he might perform. He will not call his servant to account for his minor shortcomings and overlook his major services."

Read the full tafseer →