Explained with ayahs 17–20
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لئے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت ابن عباس بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لئے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر تو مسلمان ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة الْاَحْقَاف 22
یہاں دو طرح کے کردار آمنے سامنے رکھ کر گویا سامعین کے سامنے یہ خاموش سوال رکھ دیا گیا ہے کہ بتاؤ، ان دونوں میں سے کونسا کردار بہتر ہے۔ اس وقت یہ دونوں ہی کردار معاشرے میں عملاً موجود تھے اور لوگوں کے لیے یہ جانا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ پہلی قسم کا کردار کہاں پایا جاتا ہے اور دوسری قسم کا کہاں۔ یہ جواب ہے سرداران قریش کے اس قول کا اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ چند نوجوان اور چند غلام اس معاملہ میں ہم سے بازی نہ لے جاسکتے تھے۔ اس جواب کے آئینہ میں ہر شخص خود دیکھ سکتا تھا کہ ماننے والوں کا کردار کیا ہے اور نہ ماننے والوں کا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(آیت) وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ سابقہ آیت میں والدین کی خدمت و اطاعت کے احکام تھے اس آیت میں اس شخص کا عذاب و سزا مذکور ہے جو اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی، بدزبانی سے پیش آئے، خصوصاً جبکہ والدین اس کو اسلام اور اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتے ہوں ان کی بات نہ ماننا دوہرا گناہ ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مفہوم آیت کا عام ہے جو شخص بھی اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے وہ اس کا مصداق ہے۔
مروان نے جو اس آیت کا مصداق حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو اپنے کسی خطبے میں کہا تھا اس کی تکذیب صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے منقول ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ مفہوم آیت کا عام ہے کسی صحیح روایت…
Read the full tafseer →والذی قال لوالدیہ ان تکما اتعدننی ان اخوج وقد حکت القرون من قبلی ج وھما یستغیثن اللہ ویلک امن سے ان وعد اللہ حق ج فیقول ما ھذا الا اساطیر الاولین 17
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بالکل مادر پدر آزاد لاأبالیانہ زندگی گزارتے ہیں۔
تمثیل میں الذی کا معرفہ کے لئے ہونا ضروری نہیں ہے
ہم اس کتاب میں جگہ جگہ ذکر کرچکے ہیں کہ الذی جب تمثیل کے لئے آتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے لازماً کسی خاص شخص ہی کو مراد لیا جائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہوگا جس پر تمثیل منطبق ہو۔ سورة نحل آیت 92 میں اس کی نہایت واضح مثال گزر چکی ہے۔ یہاں بھی یہ عام ہی ہے۔ چناچہ آگے والی آیت میں اس کا ذکر جمع کے صیغوں ہی سے ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
17۔ 1 مذکورہ آیت میں سعادت مند اولاد کا تذکرہ تھا جو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی اب اس کے مقابلے میں بدبخت اور نافرمان اولاد کا ذکر کیا جارہا ہے جو ماں باپ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتی ہے اف لکما افسوس ہے تم پر اف کا کلمہ ناگواری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی نافرمان اولاد باپ کی ناصحانہ باتوں پر یا دعوت ایمان وعمل صالح پر ناگواری اور شدت غیظ کا اظہار کرتی ہے جس کی اولاد کو قظعا اجازت نہیں ہے یہ آیت عام ہے ہر نافرمان اولاد اس کی مصداق ہے۔
17۔ 2 مطلب ہے کہ وہ تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آئے۔ حالانکہ دوبارہ زندہ ہونے کا مطلب قیامت والے دن زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
12: یعنی اگر تم نے دنیا میں کچھ اچھے کام کیے بھی تھے تو ہم نے دنیا ہی میں ان کا بدلہ عیش و عشرت کی شکل میں تمہیں دے دیا، اور تم نے اس کے مزے اڑا کر اپنا حصہ دنیا ہی میں لے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔
اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں :
اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا…
Read the full tafseer →9 سعات مند اولاد کے مقابلہ میں یہ بےادب، نافرمان، اور نالائق اولاد کا ذکر فرمایا کہ ماں باپ اس کو ایمان کی بات سمجھاتے ہیں، وہ نہیں سمجھتا نہایت گستاخانہ خطاب کر کے ایذاء پہنچاتا ہے۔
10 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی دھمکیوں سے میں نہیں ڈرتا۔ بھلا کتنی قومیں اور جماعتیں مجھ سے پہلے گزر چکی ہیں۔ کوئی شخص بھی ان میں سے اب تک دوبارہ زندہ ہو کر واپس آیا ؟ لوگ ہمیشہ سے یونہی سنتے چلے آتے ہیں مگر آج تک تو اس خبر کا تحقق ہوا نہیں۔ پھر میں کیونکر اعتبار کرلوں۔
11 یعنی اس کی گستاخیوں پر ایک طرف اللہ سے فریاد کرتے اور دعا مانگتے ہیں کہ اسے قبول حق کو توفیق ملے اور دوسری طرف اس کو سمجھاتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت 17 { وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ } ”اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے ‘ کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا زندہ کر کے قبر سے ؟“
والدین مسلمان ہیں ‘ نیک سیرت ہیں ‘ لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہوچکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتا ہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ! ُ تف ہے آپ لوگوں پر ! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آگیا ہوں ! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں !…
Read the full tafseer →26 یہ کوئی مخصوص کردار نہیں ہے۔ بلکہ مکہ میں ایسی مثالیں بھی موجود تھیں۔ بعض لوگ خود مشرک تھے اور ان کی اولاد مسلمان ہوگئی تھی اور بعض بڑے بوڑھے خود مسلمان تھے مگر ان کی نوجوان اور متکبر اولاد مشرک اور عقیدہ آخرت سے منکر تھی۔ اس آیت میں گفتہ آید در حدیث دیگراں کے مصداق ایسے ہی ایک گھرانے کا مکالمہ پیش کیا جارہا ہے۔ مشرک بیٹے کی وہی پرانی اور گھسی پٹی دلیل ہے جو کہ آخرت کے منکر عموماً جواب میں کہا کرتے ہیں کہ ہزارسال سے لوگ مرتے رہے ہیں کوئی زندہ ہو کر واپس تو آیا نہیں۔ پھر تم مجھے یہ کیسی دھمکی دیتے ہو۔ اس سوال کا جواب یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اکثر مقامات پر قرآن میں اس کا جواب دیا جاچکا…
Read the full tafseer →17۔ (اور کسی کے بھی مشاہدہ و تجربہ میں یہ مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا نہ آیا) ذکر یہاں کافر اولاد کا ہے۔ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں سے یکساں غافل۔ ایسی اولاد بجائے اطاعت و خدمت والدین کے دعوت اسلام پر الٹ کر یہ جواب دے رہی ہے اور بکمال ” روشن خیالی “ کہتی ہے کہ قیامت کا بس ذکر ہی ذکر سنتے چلے آئے ہیں۔ آج تک تو کسی مردہ کو زندہ ہوتے دیکھا یا سنا نہیں ...... مادیین منکرین آخرت کے دعوے پر خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے اس کا ماحصل سوا اس کے اور ہے کیا۔ (آیت) ” اف لکما “۔ ولا تقل لھما اف۔ پر حاشیہ سورة بنی اسرائیل (پ 15) میں ملاحظہ ہو۔
18۔ (تو توحید کی طرح تو روز جزاء پر بھی اعتقاد رکھ) (آیت) ” وھما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔
مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً…
Read the full tafseer →والذی قال لوالدیہ اف لکما اتعدننی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی وھما یستغیثان اللہ ویلک امن ان وعدہ اللہ حق فیقول ما ھذا الا اساطیر الاولین اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : افسوس تم پر ‘ تم مجھ سے کہہ رہے ہو (قیامت کے دن زندہ کر کے قبر سے) نکالا جاؤں گا ‘ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گذر گئیں (اور کوئی بھی دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آیا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور بیٹے سے کہہ رہے ہیں :) تیرا ناس ہو ‘ مان لے ‘ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے : یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول ہوتی چلی آرہی ہیں (ان کی کوئی حقیقت نہیں) ۔
وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ یعنی وہ شخص جس کو ماں…
Read the full tafseer →اور جس نے یعنی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر نے اسلام لانے سے پہلے اپنے والدین سے کہا تف ہے تم پر کیا تم مجھ سے یہ بیان کرتے ہو کہ میں حشر کے لیے قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر رہی ہیں میں نے تو ابھی تک نہیں دیکھا کہ ان میں سے کوئی قبر میں سے نکلا ہو، عبدالرحمن کے دو دادا یعنی جدعان بن عمرو اور عثمان بن عمرو زمانہ جاہلیت میں مرگئے تھے عبدالرحمن کی مراد وہ تھے۔
اور اس کے والدین اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ارے تم پر دنیا تنگ ہو رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آ۔
شان نزول : وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ (الخ)
ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →(1) والذین قال لو الدیہ اف لکما :”اف“ کا لفظ اکتاہٹ اور تنگ پڑجانے کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی سعادت مند مومن اولاد کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر تھا، اس آیت میں ان کے مقابلے میں اس بدبخت اور نافرمان اولاد کا اور ان کے برے انجام کا ذکر ہے جس کے والدین مومن ہیں اور وہ اس کی کوشش میں ہیں کہ ان کی اولاد ایمان لے آئے، مگر ان کی اولاد اس دعوت پر شدید اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہئے انہیں کہتی ہے، تم دونوں کے لئے ’ اف“ ہے، تم نے مجھے تنگ کردیا۔ مکہ میں ایسے بہت سے خاندان تھے جن میں والدین ایمان لے ائٓے تھے مگر اولاد مشرک اور قیامت کی منکر تھی، یا اولاد ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اخرج یعنی مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
نافع، حفص اور دوسرے قراء نے افسکور اور منون پڑھا ہے ابن کثیر، ابن محیصن، ابن عامر اور مفضل نے عاصم سے اف تنوین کے بغیر مفتوح منقول ہے باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ یہ تمام لغتیں ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ بات گزر چکی ہے۔ عام قرأت مخففہ نونوں کے ساتھ ہے۔ اہل مدینہ اور اہل مکہ نے اس کی یاء کو فتحہ دیا ہے : باقی قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔
ابو حیوہ، مغیرہ اور ہشام نے نون مشددہ کے ساتھ پڑھا ہے اہل شام کے مصاحف میں اسی طرح ہے عام قرأت ان کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ ہے حضرت حسن بصری، نصر، ابو عالیہ، اعمش اور ابو معمر نے الف کے فتحہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1:۔ البخاری نے یوسف بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ مروان معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا اس نے خطبہ دیا اور یزید بن معاویہ کا ذکر کرنا شروع کردیا تاکہ اس کے باپ (حضرت معاویہ) کے بعد اس کی بیعت کی جائے۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ نے کچھ کہا تو مروان نے کہا اس کو پکڑ لو۔ وہ اپنی بہن حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں داخل ہوگئے تو وہ لوگ اس کے پکڑنے پر قادر نہ ہوئے مروان نے کہا اس کے بارے میں یہ (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ (اور جس نے اپنے والدین سے کہا افسوس تم پر تم مجھ سے کہہ رہے ہو) نازل ہوئی حضرت عائشہ ؓ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق کچھ نازل نہیں کیا صرف…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ قَالَ [ اور وہ جس نے کہا ] لِوَالِدَيْهِ [ اپنے والدین سے ] اُفٍّ لَّكُمَآ [تم دونوں پر افسوس ہے ] اَتَعِدٰنِنِيْٓ [ کیا تم دونوں مجھے دھمکی دیتے ہو ] اَنْ اُخْرَجَ [ کہ مجھ کو نکالا جائے گا ] وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ [ حالانکہ گزر چکی ہیں قومیں ] مِنْ قَبْلِيْ ۚ [ مجھ سے پہلے ] وَهُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ [ اور وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے ] وَيْلَكَ [ (پھر بیٹے سے کہتے ہیں ) بربادی ہے تیرے لیے ] اٰمِنْ ڰ [ تو ایمان لا ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ ښ [ سچ ہے ] فَيَقُوْلُ [ تو وہ کہتا ہے ] مَا ھٰذَآ اِلَّآ [ نہیں ہیں یہ مگر ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
پھر فرمایا ﴿ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا 1ۚ ﴾ اور ہر ایک کے لیے درجات ہیں، اہل ایمان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت عالیہ میں درجات ملیں گے اور اہل کفر کو دوزخ کے طبقات سافلہ میں جانا ہوگا۔
قال فی الجلالین فدرجات المومن فی الجنة عالیہ و درجات الکافر فی النار سافلة (تفسیر جلالین میں ہے کہ جنت میں مومن کے درجات اوپر سے اوپر کو ہوں گے اور جہنم میں کافر کے درجات نیچے سے نیچے ہوں گے) ﴿وَ لِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ﴾ (اور ان کے لیے درجات اس لیے مقدر اور مقرر کردئیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جزا پوری پوری دیدے) ﴿ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 0019﴾ (اور ان پر ذرا سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ،
اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
15:۔ ” والذی قال “ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے۔ مؤمن بیٹے کے ذکر کے بعد والدین کے اس بیٹے کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان نہیں لاتا اور شرک و کفر پر قائم رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اس شخص کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے یعنی ایک بیٹا تو وہ ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے اور ایک وہ ہے جو والدین کی مشفقانہ پند و نصیحت کے جواب میں نہایت گستاخانہ رویہ اختیار کر کے کہتا ہے تم نے مجھے کس قدر دق کر رکھا ہے، تم کہتے ہو کہ میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے قرنوں کے قرن گذر چکے ہیں، لیکن آج تک کسی مردے کو زندہ ہوتے تو ہم نے نہیں دیکھا۔ ”…
Read the full tafseer →1
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْہِ اُفٍّ لَّكُمَآ اَتَعِدٰنِـنِيْٓ اَنْ اُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ 0 ۚ وَہُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللہَ وَيْلَكَ اٰمِنْ 0 ۤ ۖ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ 0 ۚ ۖ فَيَقُوْلُ مَا ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 17
أفّ
أصل الأُفِّ : كل مستقذر من وسخ وقلامة ظفر وما يجري مجراها، ويقال ذلک لکل مستخف به استقذارا له، نحو : أُفٍّ لَكُمْ وَلِما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ الأنبیاء/ 67] ، وقد أَفَّفْت لکذا : إذا قلت ذلک استقذارا له، ومنه قيل للضجر من استقذار شيء : أفّف فلان .
( اف ) الاف ۔ اصل میں ہر گندی اور قابل نفرت چیز کو کہتے ہیں میل کچیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ترکیب : والذی مبتداً المراد بہ الجنس اولئک خبرہ تعداننی نبونین مخففتین۔ ان اخرج مفعول ثان لعتدان وھما یستغیثان حال واللہ مفعول یستغیثان لانہ فی معنی یسئالان ویلک مصدرلم یستعمل فعلہ وقیل مفعول بہ الزمک اللہ ویلک۔
اہل سعادت کے بعد اہل شقاوت کا بھی اس کے مقابلہ میں ذکر کرتا ہے کہ نیک اولاد ایسی ہوتی ہے اور نالایق بیٹے ایسے ہوتے ہیں۔ پس فرماتا ہے والذی قال لوالدیہ اف لکما الخ ایک وہ بد ہے جو اپنے ماں باپ سے سخت کلامی کرتا ہے تف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تم مجھے مر کر باردگر زندہ ہونے کا وعدہ دیتے ہو کہ مر کر زندہ ہوں گا اور اپنے کئے کا وہاں بدلہ پاؤں گا۔ وقدخلت القرون اجی بہت سے قرن مجھ سے پہلے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّـکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج وَھُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَـکَ اٰمِنْ صلے ق اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ صلے ج فَیَقُوْلُ مَا ھٰذَٓا اِلاَّ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (الاحقاف : 17)
(اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا تُف ہے تم پر، کیا تم مجھے اس سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں، ماں باپ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیرا ناس ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کے فسانے ہیں۔ )
اَلَّذِیْ سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیک والدین اور صالح اولاد کے تذکرہ کے بعد بری اولاد کے خیالات اور اس کے کردار کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں ایک بڑی نعمت اولاد کا صالح ہونا ہے۔ اولاد نیک اور باصلاحیت ہوتوبوڑھے والدین اپنے آپ میں ایک قوت اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ اولاد اعتقادی طور پر بری ہو اور عملی طور پر نافرمان ہو تو والدین کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ یہاں نیک اور بری اولاد کا موازنہ کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان لوگ بھی اولاد کی نافرمانی کا دکھ برداشت نہیں کرسکتے لیکن نیک والدین کے لیے یہ دکھ زیادہ ہی اذّیت کا باعث ہوتا ہے۔ جب ان کی اولاد اعتقادی طور پر…
Read the full tafseer →آیت 17 : وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ (اور جس نے اپنے والدین سے کہا) : یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبراولئک الذین حق علیہم القول ہے۔ اور مراد اس سے ان کی جنس ہے جنہوں نے یہ بات کہی۔ اس قول کی قائل جنس ہے اس لئے خبر جمع آئی ہے۔
قول حسن (رح) :
یہ اس کافر کے متعلق ہے جو ماں باپ کا نافرمان موت کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب کرنے والاہو۔
ایک قول یہ ہے :
کہ یہ عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ کے متعلق اتری۔ ان کے اسلام لانے سے قبل۔ مگر اس بات کے باطل ہونے کے لئے حضرت معاویہ کا خط دلیل ہے جو مروان کی طرف لکھا تھا کہ لوگوں کو یزید کی بیعت کا حکم دو ۔ تو اس پر عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ نے کہا کیا تم اس سے ہر قلیت لائو…
Read the full tafseer →16 ۔ ” اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا “ یعنی ان کے نیک اعمال جو انہوں نے دنیا میں کیے۔ یہ تمام حسن ہیں اور احسن بمعنی حسن ہے۔ پس ان کو اس پر ثواب دیں گے ” ونتجاوز عن سیئا تھم “ پس ہم ان کو اس پر کوئی عتاب نہ کریں گے۔ حمزہ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” نتقبل۔ ونتجاوز “ کو نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ” احسن “ کو نصب کے ساتھ اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کے پیش کے ساتھ اور احسن کو مرفوع ” فی اصحاب الجنۃ “ جنتیوں کے ساتھ۔ ” وعد الصدق اللذی کانوا یوعدون “ اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وعداللہ المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار ہے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی تفسیر 2 ؎ ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹے کی شان میں نازل ہوئی ہے اور تفسیر ابن جریج 3 ؎ میں بجائے عبد الرحمن کے عبد اللہ حضرت ابوبکر صدیق کے دوسرے بیٹے کا نام لیا ہے۔ لیکن اور مفسروں نے اس شان نزول کو اس سبب سے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس شان نزول کی روایت صحیح بخاری 1 ؎ اور نسائی کی صحیح روایتوں کے مخالف ہے صحیح بخاری اور نسائی وغیرہ میں جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مروان نے معاویہ کی طرف سے مدینہ میں لوگوں کو یزید کی بیعت کی رغبت دلائی اور کہا امیر المومنین معاویہ کا اپنے جیتے جی اپنے بیٹے کے نام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے۔ لہٰذا فرمایا : (والذین قال لوالدیہ) ” اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔ “ یعنی جب انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لئے صادر ہوتا ہے کہ وہ انہیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا : (اف لکما)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
بچے کی پیدائش کی مدت کم از کم چھ ماہ ہوسکتی ہے
قول باری ہے (وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑھائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے) روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے ہاں چھ ماہ میں بچے کی پیدائش ہوگئی تھی۔ اس موقع پر حضرت علی ؓ نے اس آیت کا حوالہ دیا تھا نیز اس قول باری کا (وفصالہ فی عامین۔ اور اس کی دودھ بڑھائی دو سالوں تک ہوتی ہے)
ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان ؓ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا حضرت ابن عباس ؓ نے بھی آپ کو یہی بات بتائی تھی چناچہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حمل کی مدت میں اضافہ ہوگا رضاعت کی مدت میں…
Read the full tafseer →[ 43] ممسوخ الفطرت لوگوں کے حال و مآل کا ذکر وبیان :
سو اس سے سلیم الفطرت لوگوں کے مقابلے میں ممسوخ الفطرت لوگوں کا حال اور ان کا مآل ذکر وبیان گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اپنے والدین سے کہتا ہے کہ تف ہے تم دونوں پر کیا تم مجھے اس بات کا ڈراواسناتے ہو کہ مجھے [ مرنے کے بعد زندہ کرکے قبر سے ] نکالا جائے گا، جبکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں [ مگر ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا ] حالانکہ اس کے والدین اس کو اسی کی دہائی دے کر کہتے ہیں کہ ارے کم بخت ایمان لے کر بلاشبہ اللہ وعدہ قطعی طور برحق اور کج ہے، مگر وہ پھر بھی یہی کہتا ہے کہ یہ محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کو سو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے
تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار ومعارف۔
اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 3 ان میں سے پھر کوئی بھی قبر سے اٹھ کر نہیں آیا۔ “ اس سے مقصد بعث “ دوبارہ زندگی کا انکار ہے یا یہ کہ صرف میں ہی قیامت کا منکر نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی ایسی بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو قیامت کی منکر تھیں۔ اس صورت میں یہ جملہ گویا ” انکار بعث “ پر ایک طرح سے استدلا ہوگا۔ روح )
4 یعنی خدا کی دہائی دیتے ہوئے اس سے کہتے ہیں۔
5 جن کو کوئی حقیقت نہیں ہے “ اوپر کی آیت میں ایک مومن شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں ایک کافر شخص کا جسے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں چونکہ اس سے کوئی آستین شخص مراد نہیں ہے اس لئے اگلی آیت میں اولئک واحد کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →(46:17) والذی قال لوالدیہ۔ آیات 15 ۔ 16 میں بندۂ مومن کا کردار ادا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کا اطاعت گذار اور اپنے والدین کا فرمانبردار ہوتا ہے جن گوناگوں نعمتوں سے اسے سرفراز کیا جاتا ہے ان کا شکریہ اد ا کرتا رہتا ہے۔
اب ایسے شخص کا کردار بیان کیا جا رہا ہے جسے آخرت پر ایمان نہیں اور اپنے خالق سے روگرداں ہے اپنے ماں باپ کا گستاخ ہے۔ انہیں بات بات پر جھڑکتا ہے اگر وہ اس کی اصلاح احوال کے لئے کوشش کرتے ہیں تو ان کا مذاق اڑاتا ہے ان کو احمق اور بیوقوف سمجھتا ہے (جب وہ اسے اللہ تعالیٰ کے وعدہ حق یعنی حیات بعد الممات، اعمال نیک کی جزا اور اعمال بد کی سزا۔ بہشت اور دوزخ کی بات کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(ف 1) پہلی آیت میں نیک بخت سعادت مند پاکباز مسلمان اولاد کا ذکر تھا اس آیت میں ناہنجار ناخلف بدکردار کافر اولاد کا ذکر ہے کہ بعض ایسے ناہنجار بھی ہیں کہ ماں باپ سے حشر کا ذکر سن کر بےزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم پر افسوس ہے تم نرے بیوقوف ہو کیا تم جو قیامت کا ذکر کرتے ہو ہو تو مجھ سے اس کا وعدہ کرتے ہو کہ میں مرے بعد اٹھوں گا یہ تو نہ ہوگا، یہ کیونکر ہوسکتا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے ہزاروں لاکھوں لوگوں گر وہیں گزرچکیں مر کر کوئی بھی نہ جیا تو پھر میں کیوں جیوں گا اور وہ دونوں ماں باپ اس کے حال پر افسوس کرتے ہیں خدا سے دعامانگتے ہیں فریاد کرتے ہیں اور اس کو سمجھاتے ہیں کہ اے کمبخت تجھ پر افسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
بد بخت بیٹا
1: اس سے قبل کی آیتوں میں ماں باپ کی خدمت کی اہمیت پر زور دیا تھا ۔ اور کہا تھا ۔ کہ ان کے ساتھ بیش از بیش حسن سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ اپنے جذبات شفقت وممیت میں ربوبیت کبریٰ کا مظہر ہیں ۔ ان آیتوں میں اس بدبخت اور نالائق لڑکے کا ذکر ہے ۔ جس کے والدین ایمان کی دولت سے بہرہ مندہ ہوں ۔ اور اس کو بھی دعوت دیتے ہوں ۔ کہ وہ بھی اپنے دامن کو اللہ کے ان انعامات سے بھرلے ۔ اور وہ بجائے اس نیک مشورہ کو قبول کرنے کے تمسخر کے ساتھ ان کی اس پاک خواہش کو ٹھکرادے ۔ اور کہہ دے کہ میں تو حشر ونشر کے نظام کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ میرے نزدیک تو یہ محض افسانہ ہے ۔ جس کو پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →(17) اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ اور یہ خبر دیتے ہو کہ قبر سے نکالا جائوں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں اور طبقے اور امتیں گزر چکی ہیں اور ماں باپ کا یہ حال ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں اور لڑکے سے کہتے ہیں ارے تیرابراہو تو ایمان لے اور یقین جان کر اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے مگر وہ جواب دیتا ہے کچھ نہیں یہ محض اگلے لوگوں کی بےسروپاکہانیاں ہیں۔ یعنی ماں باپ کو مسلمان ہونے کی بنا پر ڈانٹتا ہے کفر اور عقوق یعنی ماں باپ کی نافرمانی دونوں ککا ارتکاب کرتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ یہ آیت کسی شقی اور بدبخت کے حق میں نازل ہوئی ہو…
Read the full tafseer →ف 7۔ مطلب یہ کہ ایسا شقی ہے کہ کفر اور عقوق دونوں کا مرتک ہے، اور عقوق بھی اس درجہ کا کہ ماں باپ کی مخالفت کے ساتھ ان سے کلام میں بھی بد تمیزی اور درشتی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →اس سے بدبخت کون ہے جس کو والدین بھلائی کی ہدایت کریں اور وہ ان پر افسوس کرتا ہو :
17 ؎ ہمارے مفسرین نے اس آیت کے شان نزول اور بعد اس کے ایک دوسرے کعے حق میں پڑے جانے کا ذکر کیا ہے اور ناموں کی تخصیص بھی کی ہے اور پھر سب نے نہ تو اس کا ایک شان نزول لکھا اور نہ ہی ایک جیسے نام استعمال کئے ہیں۔ اور اس بات سے سب حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جو جس کے جس میں آیا اس نے کہہ دیا ہم اس کے متعلق وضاحت نہیں کرنا چاہتے اور جو احترام کے مستحق ہیں ان کا احترام کرتے ہیں اور حقیقت حال کے متعلق صرف اتنی عرض ہے کہ یہ حکم عام ہے اور ہر معاشرے میں اس طرح کے لوگ رہے ہیں اس وقت بھی موجود تھے جب قرآن کریم نازلہو رہا تھا…
Read the full tafseer →وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا (And, [ contrary to this is the case on the one who said to his parents, 'Fie upon you both!' - 46:17). The previous verse has laid down the order to serve and obey the parents; this verse announces punishment for one who maltreats his parents and is impertinent to them, especially when they are calling him towards Islam and virtuous deeds, because rejecting their call is a double sin. Ibn Kathir has said that the verse is general and applies to anyone who maltreats his parents.
Marwan's saying, in one of his addresses, that this verse holds true…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
21 That is, "Their ranks in the Hereafter will be determined by the best deeds they would have done in the world, and their lapses and weaknesses and errors will be overlooked. It is just like a generous and appreciative master who determines the worth of his loyal and obedient servant not by the petty services that he renders but by some work of merit that he might accomplish or a feat of devotion and dedication that he might perform. He will not call his servant to account for his minor shortcomings and overlook his major services."
Read the full tafseer →