Explained with ayahs 17–20
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لئے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت ابن عباس بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لئے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر تو مسلمان ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة الْاَحْقَاف 22
یہاں دو طرح کے کردار آمنے سامنے رکھ کر گویا سامعین کے سامنے یہ خاموش سوال رکھ دیا گیا ہے کہ بتاؤ، ان دونوں میں سے کونسا کردار بہتر ہے۔ اس وقت یہ دونوں ہی کردار معاشرے میں عملاً موجود تھے اور لوگوں کے لیے یہ جانا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ پہلی قسم کا کردار کہاں پایا جاتا ہے اور دوسری قسم کا کہاں۔ یہ جواب ہے سرداران قریش کے اس قول کا اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ چند نوجوان اور چند غلام اس معاملہ میں ہم سے بازی نہ لے جاسکتے تھے۔ اس جواب کے آئینہ میں ہر شخص خود دیکھ سکتا تھا کہ ماننے والوں کا کردار کیا ہے اور نہ ماننے والوں کا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(آیت) وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ سابقہ آیت میں والدین کی خدمت و اطاعت کے احکام تھے اس آیت میں اس شخص کا عذاب و سزا مذکور ہے جو اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی، بدزبانی سے پیش آئے، خصوصاً جبکہ والدین اس کو اسلام اور اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتے ہوں ان کی بات نہ ماننا دوہرا گناہ ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مفہوم آیت کا عام ہے جو شخص بھی اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے وہ اس کا مصداق ہے۔
مروان نے جو اس آیت کا مصداق حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو اپنے کسی خطبے میں کہا تھا اس کی تکذیب صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے منقول ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ مفہوم آیت کا عام ہے کسی صحیح روایت…
Read the full tafseer →اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن ولانس ط انھم کانوا خسرین 18
لا ابالیوں کا انجام
یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ یہاں اشارے، ضمیریں اور افعال سب جمع استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ الذی یہاں الذین ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اوپر والی آیت میں ذکر کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ ایک خاص قماش کے لوگوں کا تھا۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہوگئی۔ اللہ کی بات، سے مراد وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ ”فی امم، بالکل اسی موقع و محل میں…
Read the full tafseer →18۔ 1 جو پہلے اللہ کے علم میں تھا، یا شیطان کے جواب میں جو اللہ نے فرمایا تھا (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) 38۔ ص :85)۔
18۔ 2 یعنی یہ بھی ان کافروں میں شامل ہوگئے جو انسانوں اور جنوں میں سے قیامت والے دن نقصان اٹھانے والے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
12: یعنی اگر تم نے دنیا میں کچھ اچھے کام کیے بھی تھے تو ہم نے دنیا ہی میں ان کا بدلہ عیش و عشرت کی شکل میں تمہیں دے دیا، اور تم نے اس کے مزے اڑا کر اپنا حصہ دنیا ہی میں لے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔
اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں :
اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا…
Read the full tafseer →1 " عذاب کی بات " وہ ہی ہے۔ ( لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 32 ۔ السجدہ :13) یعنی جس طرح بہت سی جماعتیں جنوں اور آدمیوں کی ان سے پہلے جہنم کی مستحق ہوچکی ہیں، یہ بدبخت بھی ان ہی میں شامل ہیں۔
2 اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہر آدمی کے دل میں فطری طور پر جو بیج ایمان وسعادت کا بکھیرا تھا وہ بھی ان بدبختوں نے ضائع کردیا۔ اس سے زیادہ ٹوٹا اور خسارہ کیا ہوگا کہ کوئی شخص تجارت میں بجائے منافع حاصل کرنے کے راس المال کو بھی اپنی غفلت اور حماقت سے ضائع کر بیٹھے۔
Read the full tafseer →آیت 18 { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی“
یعنی ایسے لوگ اللہ کے کلمہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔
{ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ } ”یہ بھی شامل کردیے جائیں گے ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں میں سے۔“
{ اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ”یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے۔“
Read the full tafseer →28 یعنی ایسے ضدی لوگ جو نہ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ عقلی دلائل کو تسلیم کرتے ہیں ان پر اللہ کا یہ قول فٹ آتا ہے کہ میں جنوں اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد سے جہنم کو بھردوں گا۔ اور یہ قول بھی دراصل ابلیس کی اس بات کے جواب میں ہے۔ جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہی تھی کہ میں تیری ساری مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ کوئی چند تیرے مخلص بندے میرے داؤ سے بچ جائیں تو الگ بات ہے۔ یہ آخرت کا منکر بیٹا بھی انہی جہنم میں داخل ہونے والوں یا بالفاظ دیگر ابلیس کے ہتھے چڑھنے والوں میں سے ہے۔
29 آخرت کے منکر دنیا اور آخرت دونوں جگہ خسارے میں :۔ آخرت کے منکر کو دنیا میں تو یہ خسارہ ہوتا ہے کہ وہ گناہوں پر…
Read the full tafseer →20۔ (جس کا پورا نکشاف جاکر آخرت میں ہوا) (آیت) ” القول “۔ سے مراد یہی وعدۂ گرفت و عذاب ہے۔ (آیت) ” من الجن “۔ جنات پر حاشیے پہلے گذر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔
مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً…
Read the full tafseer →اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانس انھم
کانوا خسرین یہ وہی لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی وہی قول پورا ہو رہا ہے ‘ جو گذشتہ اقوام جن و انس کے بارے میں تھا۔ بیشک یہ خسارہ پانے والے ہیں۔
حَقَّ واجب ہوگیا ‘ ثا بت ہو کر رہا۔
فِیْٓ اُمَمٍ گذشتہ کافر امتوں کے بارے میں۔
مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ یہ امم کا بیان ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا جن کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے ‘ اللہ نے دوزخی ہونا ظاہر فرمایا اور ظاہر ہے کہ حضرت عبدالرحمن اکابر اسلام میں سے تھے ‘ اسلئے آپ کے متعلق آیت کا نزول نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →یہ حضرت عبدالرحمن کے مشرک اجداد یعنی جدعان اور عثمان وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب اور ناراضگی کا وعدہ پورا ہو کر رہا ایسی امتوں کے ساتھ جو ان سے پہلے جن و انس کافر ہو کر دوزخ میں داخل ہو کر رہے ہیں۔ بیشک یہ لوگ سخت خسارے میں رہے اب ان کو قیامت تک بھی دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا۔
اس کے بعد حضرت عبدالرحمن مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام بھی خوب اچھا ہوا۔
Read the full tafseer →(1) اولئک الذین حق علیھم القول : یعنی والدین کے گستاخ اور آخرت کے منکر ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہوچکی، جو اس نے پہلے فرما دی تھی :(لا ملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (ھود : 119) ”کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضروری ہی بھروں گا۔“ مزید دیکھیے سورة اعراف (18)
(2) فی ام قدخلت من قبلھم من الجن والانس : یعنی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں شامل ہو کر جو اہل جہنم میں سے ان سے پہلے گزرے۔ ان بدترین لوگوں کا ساتھ خود بدترین سزا ہے۔
(3) انھم کانوا خسرین :”ان“ تعلیل کے لئے ہے، یعنی ان کا یہ انجام اس لئے ہوا کہ انھیں جو سرمایہ حیات دنیا میں آخرت کی تیاری کے لئے دیا گیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اخرج یعنی مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
نافع، حفص اور دوسرے قراء نے افسکور اور منون پڑھا ہے ابن کثیر، ابن محیصن، ابن عامر اور مفضل نے عاصم سے اف تنوین کے بغیر مفتوح منقول ہے باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ یہ تمام لغتیں ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ بات گزر چکی ہے۔ عام قرأت مخففہ نونوں کے ساتھ ہے۔ اہل مدینہ اور اہل مکہ نے اس کی یاء کو فتحہ دیا ہے : باقی قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔
ابو حیوہ، مغیرہ اور ہشام نے نون مشددہ کے ساتھ پڑھا ہے اہل شام کے مصاحف میں اسی طرح ہے عام قرأت ان کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ ہے حضرت حسن بصری، نصر، ابو عالیہ، اعمش اور ابو معمر نے الف کے فتحہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1:۔ البخاری نے یوسف بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ مروان معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا اس نے خطبہ دیا اور یزید بن معاویہ کا ذکر کرنا شروع کردیا تاکہ اس کے باپ (حضرت معاویہ) کے بعد اس کی بیعت کی جائے۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ نے کچھ کہا تو مروان نے کہا اس کو پکڑ لو۔ وہ اپنی بہن حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں داخل ہوگئے تو وہ لوگ اس کے پکڑنے پر قادر نہ ہوئے مروان نے کہا اس کے بارے میں یہ (آیت ) ” والذی قال لوالدیہ اف لکما “ (اور جس نے اپنے والدین سے کہا افسوس تم پر تم مجھ سے کہہ رہے ہو) نازل ہوئی حضرت عائشہ ؓ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق کچھ نازل نہیں کیا صرف…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] حَقَّ عَلَيْهِمُ [ ثابت ہوئی جن پر ] الْقَوْلُ [ وہ (عذاب کی ) بات ] فِيْٓ اُمَمٍ [ (وہ ) ایسی قوموں میں ہیں جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزرچکی ہیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۭ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ] خٰسِرِيْنَ [خسارہ پانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
پھر فرمایا ﴿ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا 1ۚ ﴾ اور ہر ایک کے لیے درجات ہیں، اہل ایمان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جنت عالیہ میں درجات ملیں گے اور اہل کفر کو دوزخ کے طبقات سافلہ میں جانا ہوگا۔
قال فی الجلالین فدرجات المومن فی الجنة عالیہ و درجات الکافر فی النار سافلة (تفسیر جلالین میں ہے کہ جنت میں مومن کے درجات اوپر سے اوپر کو ہوں گے اور جہنم میں کافر کے درجات نیچے سے نیچے ہوں گے) ﴿وَ لِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ﴾ (اور ان کے لیے درجات اس لیے مقدر اور مقرر کردئیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جزا پوری پوری دیدے) ﴿ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 0019﴾ (اور ان پر ذرا سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ،
اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →16:۔ ” الئک الذین۔ الایۃ “ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا جن و انس کی ان سرکش اور معاند امتوں کے ساتھ جو پہلے گذر چکی ہیں۔ یہ لوگ بہت بڑے خسارے میں ہیں۔ فی امم ای مع امم (قرطبی) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ظرف کا متعلق یدخلون مقدر ہے۔ اللہ کے فیصلے سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جو ابلیس سے خطاب کر کے فرمایا۔ ” لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منہم اجمعین “ (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے والدین سے متعلق دیئے گئے تاکیدی حکم کا ذکر کیا ، اس اعتبار سے انسانوں کو دو قسمیں بن جاتی ہیں ، یعنی سعادت مند اور بدبخت ، گزشتہ درس میں سعادت مند لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور سا تھ ساتھ انسانوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتے ہیں ، حقوق العباد میں اولین حق والدین کا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ، وہ لوگ والدین کی خدمت کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عر ض کرتے ہیں کہ وہ اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر یہ ادا کرنے کی توفیق بخشے اور یہ کہ وہ نیک اعمال انجام دے سکیں ۔ وہ…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ 18
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ترکیب : والذی مبتداً المراد بہ الجنس اولئک خبرہ تعداننی نبونین مخففتین۔ ان اخرج مفعول ثان لعتدان وھما یستغیثان حال واللہ مفعول یستغیثان لانہ فی معنی یسئالان ویلک مصدرلم یستعمل فعلہ وقیل مفعول بہ الزمک اللہ ویلک۔
اہل سعادت کے بعد اہل شقاوت کا بھی اس کے مقابلہ میں ذکر کرتا ہے کہ نیک اولاد ایسی ہوتی ہے اور نالایق بیٹے ایسے ہوتے ہیں۔ پس فرماتا ہے والذی قال لوالدیہ اف لکما الخ ایک وہ بد ہے جو اپنے ماں باپ سے سخت کلامی کرتا ہے تف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تم مجھے مر کر باردگر زندہ ہونے کا وعدہ دیتے ہو کہ مر کر زندہ ہوں گا اور اپنے کئے کا وہاں بدلہ پاؤں گا۔ وقدخلت القرون اجی بہت سے قرن مجھ سے پہلے…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِط اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 18)
(یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزرے ہیں جنوں اور انسانوں میں سے، بیشک یہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں۔ )
لا ابالیوں کا انجام
گزشتہ دو آیتوں میں ہمارے سامنے قرآن کریم نے دو کردار رکھے ہیں جن میں سے ایک کردار اہل جنت کا ہے اور دوسرا اہل جہنم کا۔ اس آیت کریمہ میں دوسرے کردار کے حاملین کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ماں باپ کی ساری کوششوں اور ہمدردانہ جھڑکیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ کی توحید کا انکار اور اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔
جو لوگ ” اللہ “ کی توحید اور اپنے والدین کی نافرمانی کریں گے وہ لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا فرمان اسی طرح سچ ثابت ہوگا جس طرح اس کا فرمان ان سے پہلے نافرمان جنوں اور انسانوں پر سچ ثابت ہوا جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں اپنے رب کے غضب کا شکار ہوئے اور آخرت میں ہمیشہ ہمیش نقصان میں رہیں گے۔ نقصان سے مراد جنت سے محرومی ہے اور جہنم میں داخل کیا جانا ہے۔ اس کا اصول ہے کہ ” کوئی جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ “…
Read the full tafseer →آیت 18 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ (اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قول پورا ہو کر رہا) وہ قول لاملاَن جہنم ہے۔ ] اعراف۔ 18[ فِیْ اُمَمٍ (ان لوگوں کے ساتھ) یعنی من جملہ ان جماعتوں میں قَدْ خَلَتْ (جو ہو گزریں) مِّنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ (ان سے پہلے جن وانس میں سے کہ وہ نقصان اٹھانے والے تھے)
Read the full tafseer →17 ۔ ” والذی قال لوالدیہ “ جب ان دونوں نے اس کو اللہ پر ایمان لانے اور بعث کا اقرار کرنے کی دعوت دی۔ ” اف لکما “ یہ ناپسندیدگی کا کلمہ ہے۔ ” اتعداننی ان اخرج “ اپنی قبر سے زندہ ” وقد خلت القرون من قبلی “ پس ان میں سے کوئی نہیں اٹھایا گیا۔ ” وھما یستغیثان اللہ “ وہ دونوں اس پر اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے تھے اور اس کو کہتے تھے ” ویلک امن ان وعد اللہ حق فیقول ما ھذا “ نہیں ہے وہ جس کی طرف تم دونوں مجھے بلاتے ہو۔ ” الا اساطیر الاولین “ ابن عباس ؓ اور سدی ، مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں :
یہ عبداللہ کے بارے میں نازل ہوئی اور کہا گیا ہے کہ عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی تفسیر 2 ؎ ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹے کی شان میں نازل ہوئی ہے اور تفسیر ابن جریج 3 ؎ میں بجائے عبد الرحمن کے عبد اللہ حضرت ابوبکر صدیق کے دوسرے بیٹے کا نام لیا ہے۔ لیکن اور مفسروں نے اس شان نزول کو اس سبب سے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس شان نزول کی روایت صحیح بخاری 1 ؎ اور نسائی کی صحیح روایتوں کے مخالف ہے صحیح بخاری اور نسائی وغیرہ میں جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مروان نے معاویہ کی طرف سے مدینہ میں لوگوں کو یزید کی بیعت کی رغبت دلائی اور کہا امیر المومنین معاویہ کا اپنے جیتے جی اپنے بیٹے کے نام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے۔ لہٰذا فرمایا : (والذین قال لوالدیہ) ” اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔ “ یعنی جب انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لئے صادر ہوتا ہے کہ وہ انہیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا : (اف لکما)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
بچے کی پیدائش کی مدت کم از کم چھ ماہ ہوسکتی ہے
قول باری ہے (وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑھائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے) روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے ہاں چھ ماہ میں بچے کی پیدائش ہوگئی تھی۔ اس موقع پر حضرت علی ؓ نے اس آیت کا حوالہ دیا تھا نیز اس قول باری کا (وفصالہ فی عامین۔ اور اس کی دودھ بڑھائی دو سالوں تک ہوتی ہے)
ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان ؓ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا حضرت ابن عباس ؓ نے بھی آپ کو یہی بات بتائی تھی چناچہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حمل کی مدت میں اضافہ ہوگا رضاعت کی مدت میں…
Read the full tafseer →[ 44] ممسوخ الفطرت بدبختوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
سو اس سے ایسے ممسوخ الفطرت بدبختوں کی نشاندہی اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر فرما دیا گیا۔ چناچہ اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ایسے ممسوخ الفطرت اور بدبخت و ہٹ دھرم لوگوں کیلئے محرومی اور عذاب کی بات پکی ہوگئی۔ کہ انہوں نے اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بنا پر خود کو اسی کے قابل بنادیا ہے۔ تو اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بدولت یہ بھی اس عذاب سے دو چار ہو کر رہیں گے جس کے یہ مستحق ہوچکے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے بارے میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر اللہ کے عذاب کی بات پکی اور پوری ہوگئی کہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے
تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار ومعارف۔
اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…
Read the full tafseer →ف 6 یہ ” امم ‘ کا بیان ہے۔ یہ مضمون سودا اعراف :18 اسوہ ہود :119 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(46:18) اولئک۔ اسم اشارہ جمع مذکر ۔ مشار الیہم وہ لوگ ہیں جو نافرمان اور بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔ جن کا ذکر والذی قال لوالدیہ اف لکما۔۔ الآیۃ میں اوپر مذکور ہوا ہے۔
حق ماضی واحد مذکر غائب حق باب ضرب ، نصر، مصدر کسی چیز کا ثابت ہونا۔ یقینی ہونا۔ یہاں بمعنی حق ہوا۔ ثابت ہوا۔ ثابت ہو کر رہا۔
القول۔ وھو قولہ تعالیٰ لابلیس۔ قال فالحق والحق اقول لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (38:84:85) حق یہ ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں۔ کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔
فی امم۔ فی بمعنی متعلق۔ امم جمع امۃ کی۔ گذشتہ کافر امتوں کے بارے میں القول فی امم وعدہ عذاب جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(ف 1) پہلی آیت میں نیک بخت سعادت مند پاکباز مسلمان اولاد کا ذکر تھا اس آیت میں ناہنجار ناخلف بدکردار کافر اولاد کا ذکر ہے کہ بعض ایسے ناہنجار بھی ہیں کہ ماں باپ سے حشر کا ذکر سن کر بےزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم پر افسوس ہے تم نرے بیوقوف ہو کیا تم جو قیامت کا ذکر کرتے ہو ہو تو مجھ سے اس کا وعدہ کرتے ہو کہ میں مرے بعد اٹھوں گا یہ تو نہ ہوگا، یہ کیونکر ہوسکتا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے ہزاروں لاکھوں لوگوں گر وہیں گزرچکیں مر کر کوئی بھی نہ جیا تو پھر میں کیوں جیوں گا اور وہ دونوں ماں باپ اس کے حال پر افسوس کرتے ہیں خدا سے دعامانگتے ہیں فریاد کرتے ہیں اور اس کو سمجھاتے ہیں کہ اے کمبخت تجھ پر افسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
بد بخت بیٹا
1: اس سے قبل کی آیتوں میں ماں باپ کی خدمت کی اہمیت پر زور دیا تھا ۔ اور کہا تھا ۔ کہ ان کے ساتھ بیش از بیش حسن سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ اپنے جذبات شفقت وممیت میں ربوبیت کبریٰ کا مظہر ہیں ۔ ان آیتوں میں اس بدبخت اور نالائق لڑکے کا ذکر ہے ۔ جس کے والدین ایمان کی دولت سے بہرہ مندہ ہوں ۔ اور اس کو بھی دعوت دیتے ہوں ۔ کہ وہ بھی اپنے دامن کو اللہ کے ان انعامات سے بھرلے ۔ اور وہ بجائے اس نیک مشورہ کو قبول کرنے کے تمسخر کے ساتھ ان کی اس پاک خواہش کو ٹھکرادے ۔ اور کہہ دے کہ میں تو حشر ونشر کے نظام کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ میرے نزدیک تو یہ محض افسانہ ہے ۔ جس کو پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →(18) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان امتوں کے ساتھ جوان سے پہلے جنات اور انسانوں کی ہوگزری ہیں اللہ تعالیٰ کی وہ بات پوری ہوکررہی کیونکہ یہ سب زیاں کار تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے جو امتیں جنات اور انسانوں کی گزری ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات یعنی وعدہ عذاب پورا ہوکر رہا اسی طرح ان کے ساتھ ان پر بھی وہ وعدہ عذاب پورا ہوگا۔ حق علیھم القول سے وہی کلمہ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ مراد ہے بہرحال جو امتیں کافروں کی ان سے پہلے گزری ہیں خواہ وہ جنات کی ہوں یا انسان کی جو انجام ان کا ہو وہی حال ایسی اولاد کا ہونے والا ہے جو ماں کی نافرمان اور کافر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ فی الارض کی قید اس اشارہ کے لئے کہ ارض پر رہ کر تکبر کرنا اور بھی زیادہ مذموم ہے، اور بغیر الحق قید واقعی ہے کیونکہ مخلوق سے صدور تکبر کا ہمیشہ بغیر الحق ہی ہوگا، اور استکبار سے مراد استکبار عن الایمان ہے کہ عذاب خلود اسی کے خواص سے ہے۔
2۔ اس میں تمام کفریات و فسقیات و وجوہ ظلم داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →اس کردار کے لوگ ہیں جن کے لئے عذاب الٰہی تیار کیا گیا ہے۔
18 ؎ گزشتہ آیت میں { الذی } کہہ کر اس کردار کے لوگوں کو ایک شخص کی صورت پیش کیا گیا تھا اور اس کیلئے دعوت دینے والے اور حق کی طرف بلانے والے والدین بتائے گئے تھے کہ اولاد اور والدین کے رشتہ سے نازک تر رشتہ اور کوئی نہیں ہوتا اور زیر نظر آیت میں اس { الذی } کو { الذین } سے تعبیر کیا تاکہ اس کردار کے سارے لوگوں پر بات وضاح ہوجائے کہ اس کردار کے لوگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے عذاب دوزخ تیار کر رکھا ہے اور اس کردار کے لوگ گزشتہ امتوں اور جماعتوں میں بھی موجود تھے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی امت سے قبل گزر چکی ہیں اور اس کردار کے وہ لوگ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا ("You have consumed your good things in your worldly life - 46:20), It means that the infidels will be told that they had already been awarded delights, luxuries and enjoyment in the worldly life for whatever good deeds they had done there; now there is nothing left for them in the Hereafter. It is known from this verse that the good deeds of disbelievers do not have any worth in the Hereafter due to lack of belief or faith, but Allah Ta’ ala compensates them in this world. The riches and wealth, honour and dignity, etc., which are…
Read the full tafseer →22 Here, two types of the character have been placed side by side and the listeners asked the silent question as to which of them is better. At that time both these types of character practically existed in the society, and it was not at aII difficult for the people to know where they could find the first type of the character and where the second. This is the answer to this saying of the chiefs of the Quraish: "If it had been any good to believe in this Book, these few youngsters and slaves would not have believed in it before they did." In the light of this answer everyone could see for…
Read the full tafseer →