Explained with ayahs 33–35
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الْاَحْقَاف 37
یعنی جس طرح تمہارے پیش رو انبیاء اپنی قوم کی بےرخی، مخالفت، مزاحمت اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ سالہا سال تک مسلسل صبر اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ کرتے رہے اسی طرح تم بھی کرو، اور یہ خیال دل میں نہ لاؤ کہ یا تو یہ لوگ جلدی سے ایمان لے آئے یا پھر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کر دے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ اس میں من الرسل کا حرف من محققین کے نزدیک بیانیہ ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ معنی یہ ہیں کہ تمام رسول جو صاحب عزم و ہمت ہی ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ صاحب عزم و ہمت ہونا سبھی انبیاء کی صفت ہے۔ البتہ رسولوں کے درمیان صفات کے درجات میں تفاضل اور کمی بیشی خود قرآن کے ارشاد سے ثابت ہے (آیت) تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض اس لئے جو انبیاء (علیہم السلام) صفت عزم و ہمت میں دوسروں سے زیادہ امتیاز رکھتے ہیں خاص ان رسولوں کے لئے یہ لقب کے طور پر مشہور ہوگیا اور ان کی تعیین میں بھی اختلاف ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ لقب اولو العزم جن کو دیا گیا ہے یہ وہ حضرات ہیں…
Read the full tafseer →فاصبرکما صبراولوا العزم من الرسل ولاتستعجل لھم ط کا نھم یوم یرون مایوعدون لالم یلبثوا لا ساعۃ من نھار ط بلغ فھل یھلک الا القوم القسقون 35
نبی ضلعم کو استقامت کی تلقین
یہ آخر میں نبی ﷺ کو صبر وا ستقامت کی تلقین ہے کہ جس طرح تم سے پہلے ہمارے اولوالعزم رسولوں نے عزم و جزم کے ساتھ تمام مخالفتوں کا مقابلہ کیا اور اپنے موقف حق پر جمے رہے اسی طرح دشمنوں کی تمام سازشوں اور ایذا رسانیوں کے علی الرغم تم بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہو
من الرسل میں من میرے نزدیک تبعیض کے لئے نہیں بلکہ بیان کے لئے ہے۔ امتحان اللہ کے تمام رسولوں کو پیش آئے ہیں، ایک سے ایک بڑھ کر اور تمام رسولوں نے بلا استثناء ان امتحانوں میں سو…
Read the full tafseer →35۔ 1 یہ کفار مکہ کے رویے کے مقابلے میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
35۔ 2 قیامت کا ہولناک عذاب دیکھنے کے بعد انہیں دنیا کی زندگی ایسے ہی معلوم ہوگی جیسے دن کی صرف ایک گھڑی یہاں گزار کر گئے ہیں۔
35۔ 3 یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ہذا الذی وعظتھم بہ بلاغ یہ وہ نصحیت یا پیغام ہے جس کا پہچانا تیرا کام ہے۔
35۔ 4 اس آیت میں بھی اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور حوصلہ افزائی ہے کہ ہلاکت اخروی صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ کے نافرمان اور اس کی حدود پامال کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے کفر کیا ، ان کے فیصلے ، دوٹوک فیصلے کے اس منظر اور اہل ایمان ، جنات کے منظر کے بعد ، اور اس سورت کے آخر میں جس کافروں نے نبی ﷺ کے بارے بہت کچھ کہا ، اور قرآن کریم کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ، اب حضور اکرم ﷺ کو آخری ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں ، جلد بازی نہ کریں۔ آپ نے تو اس سورت کے مناظر میں دیکھ لیا کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے اور یہ بہت ہی قریب ہے۔
فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔۔ القوم الفسقون (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو انہیں…
Read the full tafseer →12 یعنی جب معلوم ہوچکا کہ منکرین کو سزا ضرور ملتی ہے۔ آخرت میں ملے یا دنیا میں بھی تو آپ ان کے معاملہ میں جلدی نہ کریں۔ بلکہ ایک معیاد معین تک صبر کرتے رہیں جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا۔ (تنبیہ) بعض سلف نے کہا کہ سب رسول اولوالعزم (ہمت والے) ہیں اور عرف میں پانچ پیغمبر خصوصی طور پر اولوالعزم کہلاتے ہیں۔ حضرت نوح علیہا لسلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ۔
13 " ڈھیل نہ پائی تھی " دنیا میں یعنی اب تو دیر سمجھتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نہیں آتا۔ اس دن جانیں گے کہ بہت شتاب آیا۔ دنیا میں ہم ایک ہی گھڑی رہے۔ یا عالم قبر کا…
Read the full tafseer →آیت 35 { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } ”تو اے محمد ﷺ ! آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول علیہ السلام صبر کرتے رہے ہیں“
”اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ“ کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ پانچ پیغمبر ہیں جن کا ذکر قبل ازیں سورة الشوریٰ کی اس آیت میں ہوا ہے : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَـیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی } آیت 13 ”اے مسلمانو ! تمہارے لیے دین میں اس نے وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے اے محمد ﷺ ! آپ کی…
Read the full tafseer →48 اولوا العزم انبیاء کون کون سے ہیں :۔ ویسے تو سب انبیاء ہی اولوالعزم ہوتے ہیں تاہم عرف عام میں پانچ ہیں، سیدنا نوح سیدنا ابراہیم سیدنا موسیٰ سیدنا عیسیٰ اور محمد مصطفیٰ آپ یہ چاہتے تھے کہ یا تو کفار مکہ ایمان لے آئیں یا پھر اللہ ان پر عذاب نازل کر دے۔ جس کا یہ ہر وقت مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ دیکھ لو اولوالعزم انبیاء نے کتنی مدت اپنے مخالفوں کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا تھا۔ لہذا آپ کو بھی اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا چاہئے اور صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے۔
49 یعنی آج تو عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں کہ آتا کیوں نہیں، جب قیامت کو عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو…
Read the full tafseer →38۔ (انتقام الہی کی) امت اسلامیہ کی نصرت کے خیال سے آپ کے دل میں تقاضا طبعا پیدا ہوتا تھا کہ مخالفین معاندین پر گرفت اگر جلد ہوجاتی تو اچھا تھا۔ (آیت) ” فاصبر ...... الرسل “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ صبر بدرجہ کمال انبیاء کرام کی خصوصیات میں سے ہے۔ انبیاء کی سی عالی ہمتی نہ کسی غیر نبی کی قدرت میں ہے اور نہ وہ اس پر مامور ہے۔ (آیت) ” اولوالعزم من الرسل “۔ من تبعیضیہ بھی وسکتا ہے۔ اس صورت میں مراد منتخب مشاہیر رسل سے ہوگی، اور اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ مفسرین کی ایک بڑی جماعت اسی ترکیب کی طرف گئی ہے۔ وعن عطاء الخراسانی والحسن بن الفضل والکلبی ومقاتل وقتادہ وابی العالیہ وابن جریج والیہ ذھب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…
Read the full tafseer →فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل پس آپ صبر کیجئے ‘ جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔
اُولُوالْعَزْمِ صبر و ثبات والے اور کوشش کرنے والے پیغمبر جو آپ سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ انکی طرح آپ بھی صبر کیجئے۔ اولوالعزم کون سے پیغمبر تھے ‘ علماء کے اقوال اس مسئلہ میں مختلف ہیں۔
ابن زید نے کہا : ہر پیغمبر صاحب عزم تھا۔ کوئی نبی ‘ اللہ نے ایسا پیدا نہیں کیا جو عز م و دانش اور عقل کامل نہ رکھتا ہو۔ اس صورت میں مِن الرسل میں مِن بیانیہ ہوگا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ سوائے حضرت یونس کے ‘ تمام پیغمبر صاحب عزم تھے۔ حضرت یونس بن متی (وحی کا انتظار کئے بغیر) عجلت کر بیٹھے تھے ‘ اسی وجہ سے اللہ نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →آپ ان کفار کی تکالیف پر ویسا ہی صبر کیجیے جیسا ہمت اور یقین والے پیغمبروں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) نے صبر کیا تھا یا یہ کہ جیسا کہ صبر اور برداشت والے پیغمبر یعنی نوح، ایوب، زکریا اور یحییٰ (علیہم السلام) نے صبر کیا تھا۔
اور ان کی ہلاکت کے لیے جلدی نہ کیجیے جس روز یہ عذاب کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا یہ لوگ دنیا میں دن بھر میں ایک گھڑی رہے ہیں، یہ چیز ان کو پہنچا دینی ہے۔ کہ جب عذاب کا وقت آئے گا تو اس سے صرف کافر ہی ہلاک ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود بھی کفر کیا اور دوسروں کو بھی راہ حق سے روکا۔
Read the full tafseer →(1) فاصبر کما صبراولوا العزم من الرسل : توحید و رسالت اور قیامت کو دلائل سے ثابت کرنے اور کفار کے شہادت کا جواب دینے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو صبر و استقامت کی نصیحت فرمائی، کیونکہ آپ کو دعوت الی اللہ کے جواب میں کفار کی بد زبانی، استہزاء اور اذیت رسانی سے شدید قلق اور سخت تکلیف ہوتی تھی، اس لئے فرمایا کہ اے نبی ! جس طرح پختہ ارادے اور مضبوط عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کای، آپ بھی صبر کریں۔ رہی یہ بات کہ ان اولو العزم رسولوں، سے مراد کون ہیں ؟ تو عموماً پانچ رسولوں کو اولوالعزم کہا اجتا ہے جن میں نوح ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ کیساتھ پانچویں خود رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ ان کا اکٹھا ذکر قرآن مجید…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حزم و صبر والے : مجاہد نے کہا : وہ پانچ ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام۔ یہ سب شریعتوں والے ہیں۔ ابو العالیہ نے کہا : اولو العزم رسول یہ ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، (1) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا کہ وہ چوتھے ہوجائیں۔ سدی نے کہا وہ چھ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) والدیلمی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دن بھر روزے سے رہے پھر آپ نے کچھ نہ کھایا پھر آپ نے روزہ رکھ لیا پھر افطار کے وقت کچھ نہی کھایا پھر آپ نے روزہ رکھ لیا اور فرمایا اے عائشہ ؓ کہ دنیا محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے لائق نہیں اے عائشہ ؓ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اولا العزم رسولوں سے مگر یہ کہ مشکلات اور تکلیفوں پر صبر کریں اور مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کے چھوڑنے پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں یہی پسند کیا کہ مجھے بھی ان چیزوں کا پابند بنائے جن کا ان کو مکلف بنایا اور فرمایا (آیت ) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “ (پس آپ صبر کیجئے جیسے ہمت والے…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ [ پس آپ صبر کریں ] كَمَا صَبَرَ [ اس کے جیسا جو صبر کیا ] اُولُوا الْعَزْمِ [ عزم والوں نے ] مِنَ الرُّسُلِ [ رسولوں میں سے ] وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ۭ [ اور آپ جلدی نہ کریں ان کیلئے ] كَاَنَّهُمْ [ جیسے کہ وہ لوگ (سمجھیں گے ) ] يَوْمَ يَرَوْنَ [ جس دن دیکھیں گے ] مَا يُوْعَدُوْنَ ۙ [ اس کو جوان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] لَمْ يَلْبَثُوْٓا [ (کہ ) وہ نہیں ٹھہرے (دنیا میں ) ] اِلَّا سَاعَةً [ مگر ایک گھڑی بھر ] مِّنْ نَّهَارٍ ۭ [ ایک دن میں سے ] بَلٰــغٌ ۚ [(یہ ) پہنچا دینا ہے ] فَهَلْ يُهْلَكُ [ پھر کیا (کون ) ہلاک کیا جائے گا ] اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ [ سوائے نافرمانی کرنے…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور صبر کی تلقین
رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور محنت اور جدوجہد برابر جاری رہی آپ کے مخاطبین انکار وعناد پر تلے ہوئے تھے اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دینے اور صبر کی تلقین کرنے کے لیے فرمایا ﴿ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ﴾ (سو آپ صبر کیجیے جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا) ﴿ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ 1ؕ﴾ (ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کیجیے) یعنی ان پر جلدی عذاب آجائے اس فکر میں نہ پڑئیے ﴿ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ 1ۙ لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ 1ؕ﴾ جس دن یہ لوگ وعدہ کی چیز کو دیکھیں گے گویا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…
Read the full tafseer →28:۔ ” فاصبر۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اولوالعزم انبیاء سے حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) مراد ہیں (ابن کثیر) آنحضرت ﷺ مشرکین کی مسلسل مخالفت اور ان کے معاندانہ رویہ سے سخت آزردہ خاطر تھے اور آپ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان پر عذاب نازل ہو تو آپ کو تسلی دی گئی کہ آپ حوصلہ کریں اور اولو العزم پیغمبروں کی طرح صبر و تحمل سے کام لیں اور ان معاندین کے لیے فوری عذاب کی دعا نہ فرمائیں۔ ان پر عذاب ضرور آئیگا لیکن اپنے وقت پر آئیگا۔ ای لاتدع علی کفار قریش بنزول العذاب علیہم فانا بہم فی وقتہ لا محالۃ، کانہ ضجر و ضاق قلبہ بکثرۃ مخالفات قومہ فاحب ان ینزل العذاب بمن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے رد میں جنات کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے قرآن پاک سنا تو ایمان قبول کرلیا اور وہ اپنی قوم کی طرف مندر بن کر لوٹے ، اس کے بر خلاف مشرکین مکہ وعرب کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) کے ہم قوم ، ہم زبان اور ہم جنس ہونے کے باوجود غرور وتکبر اور ضد وعناد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے قاصر ہیں ۔
جناب بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ، اگر چہ وہ انسانوں سے کم درجہ رکھتے ہیں ان کی تخلیق کے متعلق سورة الحجر میں موجود ہے والجا ن خلقنا من قبل من نارا لسموم (آیت ۔ 7 2 ) انسانوں سے پہلے ہم نے جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا ، شاہ ولی اللہ محدث…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ كَـمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ 0 ۭ كَاَنَّہُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ 0 ۙ لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍ 0 ۭ بَلٰغٌ 0 ۚ فَہَلْ يُہْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ 35 ۧ
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر : تفسیر اول سورة میں وہ دلائل بیان فرمائے تھے جو قادر حکیم مختار کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔ اس پر دو باتیں متفرع کی تھیں اول بت پرستوں کے قول کا ابطال۔ دوم اثبات توحید خالص۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت میں کلام کیا مخالفین کے جو شبہات تھے ان کے جواب دیے۔ اہل مکہ جو حضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے میں تامل کرتے تھے اس کا باعث دنیا پر غرور اور اس کے لذات و شہوات میں غرق ہونا تھا۔ اس لیے قوم عاد کا حال بیان کر کے دنیا کی بےثباتی اور تمرد کا بدنتیجہ سامنے کھڑا کردیا۔ پھر آپ کی نبوت کی تعمیم شروع کی انس کے لیے تو تھے ہی جن کے لیے بھی ثابت کی۔ اس کے بعد پھر مسئلہ معاد میں کلام کرتا ہے فقال اولم یروان…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ ط کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَایُوْعَدُوْنَ لا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ سَاعَۃً مِّنْ نَّھَارٍ ط بَلٰـغٌ ج فَھَلْ یُھْلَـکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (الاحقاف : 35)
(پس اے نبی صبر کیجیے ! (ثابت قدم رہیے) جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے، جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے تو انھیں یوں معلوم ہوگا کہ گویا دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، بس پہنچا دینا ہے، پس ہلاک نہیں کیے جائیں گے مگر نافرمان لوگ۔ )
آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین
سورة کی آخری…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار نے بالآخر اپنے کفر کی وجہ سے جہنم میں جانا ہے اور وہاں انہیں ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی اس لیے اے نبی ﷺ کو اپنا کام اولوالعزم رسولوں کی طرح مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کی صبح وشام کوشش تھی کہ لوگ جہنم کی ہولناکیوں سے بچ جائیں لیکن مخالفینِاسلام کی حالت یہ تھی کہ وہ گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے اس صورتحال پر آپ کا رنجیدہ خاطر ہونا فطری امر تھا جس بناء پر آپ ﷺ پریشان ہوجاتے۔ اس پر آپ کو موقعہ بموقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں یہ بات سمجھائی گئی کہ اے نبی ﷺ ! آپ کا کام حق بات پہچانا اور سمجھانا ہے منوانا نہیں۔
(لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ )…
Read the full tafseer →صبر و ثبات کا حکم جلد بازی کی ممانعت :
آیت 35 : فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ (تو آپ صبر کریں جیسا اور ہمت والے) مِنَ الرُّسُلِ (رسولوں نے صبر کیا تھا) اولوا العزم کا معنی کوشش ٗ صبر و ثبات والے۔ : نمبر 1۔ من الرسل کا من تبعیضیہ ہے۔ اس سے مراد اولوالعزم ہیں۔ جن کا تذکرہ احزاب کی اس آیت میں ہے۔ و اذا اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوحٍ و ابراہیم وموسٰی و عیسیٰ ابن مریم۔ ] الاحزاب : 7[
اور یونس (علیہ السلام) ان میں سے نہیں کیونکہ ان کے لئے فرمایا۔ لا تکن کصاحب الحوت۔ ] القلم۔ 48[ اسی آدم علیہ
السلام بھی اس لئے کہ ارشاد الٰہی ہے ولم نجد لہ عزمًا ] طہ۔ 115[
نمبر 2۔ یا مِن بیانیہ ہو…
Read the full tafseer →تفسیر :
آیات 34-35
34 ۔” فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں احتیاط والے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کوشش وصبر والے اور ان کت تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ تمام رسول اولوالعزم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو پختہ ارادہ و احتیاط والا اور کامل رائے اور کامل عقل والا نہ ہو اور من کو جنس کے لئے داخل کیا گیا ہے نہ کہ تبعیض کے لئے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اشتریت اکسیۃ من الخزوا ردیۃ من البز “ میں نے ریشم اور اون کے بنے ہوئے کپڑے خریدے اور روئی کے کپڑے کی چادریں خریدیں اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ سارے انبیاء (علیہم السلام) اولوالعزم تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33۔ 35۔ حشر کے منکر لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل تو تھی نہیں صرف عقلی باتوں سے وہ لوگ حشر کا انکار کرتے تھے۔ چناچہ مستدرک 1 ؎ حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے سورة یٰس میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سے گزر چکا ہے کہ ایک شخص عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑات جاتا تھا اور بڑے تعجب سے آنحضرت ﷺ سے کہتا تھا کہ کیا اس ہوا میں اڑی ہوئی حاک سے خدا انسان کا پھر پتلا بنا دے گا وہاں سورة یٰس میں بھی اور یہاں اس آیت میں اور سورة مومن میں اور جگہ جگہ ان عقلی اعتراض کرنے والے لوگوں کی عقل میں آنے کے موافق اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ہے حاصل اس جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جو حالت ہوگئی اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجرو توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا : (الیس ھذا بالحق) ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ جبکہ تم اس جہنم میں پہنچ چکے ہو اور اس کا واضح مشاہدہ بھی کرچکے ہو (قالو ابلی و ربنا) ” تو وہ کہیں گے : کیوں نہیں ہمارے رب ! “ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہوجائے گا۔ (قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) ” اللہ فرمائے گا : اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو “ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمہاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 76] اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کرنے کی تلقین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بھی اسی طرح صبر سے کام لیں جس طرح اولوالعزم رسولوں نے کام لیا "۔ قول مشہور کے مطابق وہ پانچ رسول ہیں سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ ، سیدنا عیسیٰ اور حضرت محمد صلواۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ اس قول کی بنا پر جن اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کرنے کا حکم آنحضرت ﷺ کو دیا گیا وہ چار ہیں۔ جبکہ اس بارے میں دوسرا قول کچھ حضرات اہل علم کا یہ ہے سب ہی رسول اولوالعزم تھے۔ کیونکہ عزم کے معنیٰ صبر و ثبات اور راہ حق پر پختگی واستقامت اور مضبوطی کے ہیں۔ اور یہ وصف سب ہی رسولوں میں پایا جاتا تھا۔ پس یہاں پر [ من الرسل ] میں " من "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبر ہی اولو العزم (ہمت والے) تھے لیکن علمائے سلف نے پانچ پیغمبروں حضرت نوح ابراہیم موسیٰ عیسیٰ اور محمد ﷺ کو خاص طور پر اولالعزم قرار دیا ہے۔
2 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر انہیں دنیا میں اپنے عیش و آرام کا زمانہ بہت ہی مختصر معلوم ہوگا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں دستور ہے کہ گزاری مدت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔
3 یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہوگئی اب بھی جو شخص نافرمانی میں پڑا رہے گا وہ اپنی شامت خود بلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جاتا۔
Read the full tafseer →(46:35) فاصبر۔ جناب رسول کریم ﷺ سے خطاب ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیجئے۔ ان سے انتقام کا ارادہ نہ کیجئے کیونکہ انہیں اپنے کئے پر دوزخ کے عذاب کا تو مزہ چکھنا ہی ہوگا ۔
کما : ک حرف تشبیہ ما موصولہ۔ جیسا کہ (ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا) ۔
اولوا العزم من الرسل : اولوا العزم مضاف مضاف الیہ عزم والے صاحب عزم۔ من تبعیضیہ۔ پیغمبروں میں سے بعض جو اولوالعزم تھے۔ اولوالعزم کون سے پیغمبر تھے علماء کے اس مسئلہ میں مختلف اقوال ہیں اور تفصیلات کسی مستند تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
ولا تستعجل وائو عاطفہ لا تستعجل فعل نہیں واحد مذکر حاضر، استعجال استفعال مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تشریح ـ: آیت نمبر 34 تا 35
جو شخص بھی حق و صداقت کی بات کرتا اور لوگوں کو اس طرف دعوت دیتا ہے اس کو ہمیشہ قوم کی بےرخی ، مخالفت ، دشمنی ، مزاحمت اور طرح طرح کی اذیتوں سے عزم و حوصلہ اور صبر برداشت کے ساتھ گذرنا پڑتا ہے۔
جب سورت الاحقاف کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت مسلمانوں پر کفار کا ظلم و ستم ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا تھا ۔ بنی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی ان مسلسل اذیتوں اور تکلیفوں سے پریشان ہو کر رہ گئے تھے جن کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہ لینا تھا۔ یہ ایک بڑا نازک لمحہ تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جس طرح آپ سے پہلے عزم و ہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
قیامت ضرور آئے گی۔
(ف 1) حاصل ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کردیا تو اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اسی اگر انسان سمجھے کہ بغیر کسی مصالح کے جس اللہ نے خلاف عقل اتنا بڑا آسمان بلاستون کے کھڑا کردیا اور اتنی بڑی زمین بنادی اور بغیر مادہ مسالہ کے پہلی دفعہ انسان کا مادہ اور مسالہ بھی پیدا کیا اور انسان کی خاک کا مادہ اور مسالہ موجود ہوتے ہوئے انسان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے ۔ کیا ان کو عقل اتنے کام کی نہیں کہ اس عقل سے یہ لوگ اتنا سمجھ لیویں کہ جس کی قدرت کے آگے مشکل کام آسان ہے اس کو آسان کام کیا مشکل ہے آگے فرمایا کہ اب تو یہ سزا جزا کے منکر لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔
نبوت وعزیمت
منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(35) پس اے پیغمبر جس طرح اور دوسرے ہمت والے اور اولوالعزم رسولوں نے صبر کا شیوہ اختیار کیا آپ ﷺ بھی صبر کرتے رہیے اور شیوہ صبر پر قائم رہیے اور ان منکروں کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے کیونکہ جس دن یہ لوگ اس چیز یعنی عذاب کو دیکھیں گے جس عذاب کا ان کا وعدہ دیا جارہا ہے اور جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو یوں سمجھیں گے گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر پورے دن میں سے کوئی گھڑی بھر رہے ہوں گے۔
یہ قرآن یا یہ پیام اتمام حجت کی غرض سے پہنچا دینا ہے پس اب وہی لوگ تباہ کئے جائیں گے جو نافرمان اور دین حق کا انکار کرنے والے ہیں۔ یوں تو سب ہی رسول الوالعزم ہیں لیکن ان میں جو مخصوص طور پر صفت صبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ف 4۔ اولو العزم سے محققین نے سب پیغمبر مراد لئے ہیں، کیونکہ سب کا اہل عزم اور اہل ہمت ہونا ظاہر ہے اور من الرسل میں کلمہ من بیانیہ ہے اور چونکہ حسب ارشاد فضلنا بعضھم علی بعض اس صفت میں بعض رسل علیہ الصلوة والسلام اوروں سے بڑھے ہوئے ہیں، اس بناء پر یہ لقب بعض رسل کا بھی مشہور ہوگیا ہے جیسا کہ اعلام غالبہ میں ہوتا ہے۔
1۔ یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصہ معلوم ہوگی اور یہی معلوم ہو کہ استعجالا عذاب آگیا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلامٖ ! آپ ﷺ بھی ثابت قدم رہیں جیسے اولوالعزم رسل ثابت قدم رہے
53 ؎ یہ خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے آپ ﷺ کی امت کے ہر اس فرد کے لئے جو دعوت اسلام کا کام کرے کہ اس راستے میں مشکلات آئیں گی اور یہ بھی کہ ان مشکلات کا آنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہر داعی اسلام کے راستہ میں حائل رہی ہیں لیکن جس طرح اے پیغمبر اسلام ! آپ سے پہلے انبیاء و رسل ثابت قدم رہے اور اس راہ میں ان کے قائوں کو ذالغزش نہیں نہ آئی اسی طرح آپ ﷺ بھی صرب ثبات سے اس دعوت کو جاری رکھیں اور مخالفین و معاندین اور مکذبین کی تکذیب و مخالفت کی ذرا پروا نہ کریں جب وقت آئے گا تو یہ اس طرح ختم ہو کر رہ جائیں گے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
Commentary
أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (...as the resolute messengers observed patience - 46:35). The word 'resolute' has been used here as a qualification for all the messengers, and not only for some of them, because the word 'min' used with 'rusul' is not, according to the authentic exegetes, in the sense of 'some'. It is rather for 'Bayan' (description), to use the grammatical term. The sense is that all messengers are resolute people. Of course, variation in the grades of qualities between messengers is proved from the Holy Qur'an itself:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ…
Read the full tafseer →37 That is, "Just as the Prophets before you went on enduring with patience and ceaseless struggle the indifference, opposition, resistance and persecutions of their people for years on end, so should you also do the same, and do not entertain the idea that either the people should believe in you immediately or. if they do not believe, Allah should visit them with His torment "
Read the full tafseer →