Explained with ayahs 1–3
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہوگئیں، جیسے فرمان ہے ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الہٰی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر ﷺ پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے نبی ہو چکنے کے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 1
1۔ یعنی اس تعلیم و ہدایت کو ماننے سے انکار کردیا جسے محمد ﷺ پیش فرما رہے تھے۔
سورة مُحَمَّد 2
2۔ اصل میں " صَدُّوْا عَنْ سَبِیل اللہِ " کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ صَدّ عربی زبان میں لازم اور متعدی، دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ان الفاظ کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خود اللہ کے راستے پر آنے سے باز رہے، اور یہ بھی کہ انہوں نے دوسروں کو اس راہ پر آنے سے روکا۔
دوسروں کو خدا کی راہ سے روکنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی زبردستی کسی کو ایمان لانے سے روک دے۔ دوسری صورت یہ کہ وہ ایمان لانے والوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھائے کہ ان کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور دوسروں کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو لوگ (خود بھی) کافر ہوئے اور (دوسروں کو بھی) اللہ کے راستہ سے روکا (جیسا رؤسائے کفار کی عادت تھی کہ جان و مال سے ہر طرح کی کوشش اسلام کا راستہ روکنے میں کرتے تھے سو) خدا نے ان کے عمل کالعدم کردیئے (یعنی جن کاموں کو وہ نیک سمجھ رہے ہیں بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں بلکہ ان میں سے بعضے کام اور الٹے موجب عتاب ہیں جیسے اللہ کے راستے پر چلنے سے روکنے میں خرچ کرنا، کما قال تعالیٰ (آیت) فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرة الخ) اور (برخلاف ان کے) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور (ان کے ایمان کی کیفیت تفصیلی یہ ہے کہ) وہ اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →1 الفاظ کی تحقیق و آیات کی وضاحت
الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم 1
کفار قریش کو وعید
سورة احقاف کفار کے لئے جس تہدید ووعید پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے یہ سورة بلا کسی تمہید کے، اس طرح شروع ہوگئی ہے گویا اسی تہدیدو وعید کا یہ عملی ظہور ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا اللہ نے ان کی تمام کوششیں رائیگاں کردیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ اس کتفصیل سوروہ فتح کی آیت 25 کے تحت آئے گی۔ اعمال سے مرادان کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انہوں نے اللہ کے بندوق کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لئے صرف کیں۔ لفظ اضلال یہاں اسی مفہو میں ہے جس مفہوم…
Read the full tafseer →1۔ 1 بعض نے اس سے مراد کفار قریش اور بعض نے اہل کتاب لئے ہیں۔ لیکن یہ عام ہے ان کے ساتھ سارے ہی کفار اس میں داخل ہیں۔
1۔ 2 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلاف جو سازشیں کیں اللہ نے انہیں ناکام بنادیا اور انہی پر ان کو الٹ دیا دوسرا مطلب ہے کہ ان میں جو بعض مکارم اخلاق پائے جاتے تھے مثلا صلہ رحمی قیدیوں کو آزاد کرنا مہمان نوازی وغیرہ یا خانہ کعبہ اور حجاج کی خدمت ان کا کوئی صلہ انہیں آخرت میں نہیں ملے گا۔ کیونکہ ایمان کے بغیر اعمال پر اجر وثواب مرتب نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: کافر لوگ جو کوئی اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں، جیسے غریبوں کی امداد وغیرہ، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، لیکن آخرت میں ثواب حاصل کرنے کے لئے ایمان شرط ہے، اس لئے آخرت کے لحاظ سے وہ اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →سورت کا افتتاح یوں ہے جس طرح کوئی فوج حملہ آور ہوجاتی ہے ، کوئی مقدمہ نہیں ، کوئی تمہیں نہیں۔ اعلان ہوجاتا ہے کہ کافر بظاہر جو اچھے کام کر رہے ہیں وہ کالعدم ہیں جنہوں نے کفر کیا ہے ، اللہ کی راہ پر چلنے سے رکے ہیں اور دوسروں کو روکا ہے۔ اعلان ہوتا ہے کہ ان کے یہ اعمال کالعدم (void) ہیں ۔ لیکن یہ اعلان نہایت ہی موثر ، عام فہم اور مشخص انداز میں ہے۔ ان کے اعمال راستہ گم کر گئے ہیں اور اس وجہ سے ہلاک اور ضائع ہوگئے ، یوں کہ گویا یہ زندہ انسان یا حیوان ہیں اور انہوں نے راستہ گم کردیا ہے ، بہت دور نکل گئے ہیں اور ہلاک ہوگئے ہیں ، یہ مفہوم اور یہ نقشہ بتاتا ہے کہ گویا یہ اعمال لوگوں سے یا مویشیوں…
Read the full tafseer →2 جیسا کہ رؤسائے کفار کی عادت تھی کہ جان، مال اور ہر طرح سے اس میں کوشش کرتے تھے۔
3 یعنی جن اعمال کو وہ نیک سمجھ رہے ہیں بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض کام اور الٹے موجب عتاب ہوتے ہیں۔ جیسے لوگوں کو اسلام سے روکنے میں پیسہ خرچ کرنا۔
Read the full tafseer →آیت 1 { اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ } ”جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور خود بھی رکے اللہ نے ان کی ساری جدوجہد کو رائیگاں کردیا۔“
صَدَّ یَـصُدُّ کے بارے میں قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ یعنی اس کے معنی خود رکنے اور باز رہنے کے بھی ہیں اور دوسرے کو روکنے کے بھی۔ یہ آیت اپنے مفہوم میں اہل ِایمان کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اب تک مخالفین حق نے جو جدوجہد بھی کی ہے وہ سب اکارت ہوچکی ہے اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود انقلابِ نبوی ﷺ کا قافلہ عنقریب اپنی…
Read the full tafseer →2 صدّ کا لغوی مفہوم :۔ صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی اعراض کرنا اور خودرک جانا بھی ہے۔ اور دوسروں کو روکنا بھی۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا۔ پھر کفر کی حمایت میں دوسروں کو اسلام لانے سے روکتے رہے۔ مسلمانوں کو ایذائیں اور دکھ پہنچانے اور اسلام کی اشاعت کو روکنے کے لیے خفیہ تدبیریں اور سازشیں تیار کرتے رہے اور معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ ان کی یہ سرگرمیاں یہاں بےنتیجہ اور بےاثر ثابت ہوں گی۔ اور وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہیں گے۔ اللہ ان کی کوششوں کو برباد کر دے گا اور کبھی بار آور نہ ہونے دے گا۔
Read the full tafseer →1۔ یعنی جن اعمال کو یہ غیر مسلم اپنے خیال میں نیک اور صالحانہ سمجھ رہے تھے، وہ آخرت میں انکشاف حقیقت کے وقت بےوزن اور ناکارے نکلے اور اس لئے غیر مقبول ٹھہرے۔ (آیت) ” الذین ..... اللہ “۔ منکرین کے سرداروں کی یہ عادت ہر زمانہ میں رہی اور اب بھی ہے۔ (آیت) ” وصدوا عن سبیل اللہ “۔ محققین نے تصریح کردی ہے کہ حبط اعمال کے لئے، اعمال کے نامقبول ٹھہر جانے لئے، محض کفر کافی ہے۔ دوسروں کی ایمان سے روکنا یہ اس کی شرط نہیں ہے۔ یہ تو ان سرداران کفر کی محض واقعی حالت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کے راستہ یعنی ایمان سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے، مثلاً کھانا کھلانا اور صلہ رحمی کرنا، تو ان اعمال کا آخرت میں کچھ اجر نہ پائیں گے، البتہ دنیا میں ان کو اللہ کی مہربانی سے ان اعمال کا صلہ دیا جائے گا، اور وہ لوگ یعنی انصار وغیرہ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن اس پر بھی ایمان لائے اور وہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کے گناہ معاف کردیئے اور ان کے حال کی اصلاح کردی تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے، یہ یعنی اعمال…
Read the full tafseer →الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے (دوسروں
کو) روکا ‘ اللہ نے ان کے عمل کالعدم کر دئیے۔
وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکا جس کی وجہ سے لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے اور راہ اسلام پر چلنے سے باز رہے۔
اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ یعنی اللہ نے ان کے اعمال کو اکارت اور نابود کردیا۔ اعمال سے مراد ہیں ‘ وہ اعمال جو بظاہر بہت اچھے دکھائی دیتے ہیں جیسے غریبوں کو کھانا کھلانا ‘ قرابت داروں کے رشتۂ قرابت کو جوڑے رکھنا اور ان سے حسن سلوک کرنا اور قیدیوں کو رہا کرانا اور ہمسایہ کے حقوق کی نگہداشت کرنا۔ چونکہ کافروں کے اچھے اعمال کا…
Read the full tafseer →جن لوگوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کا خود بھی انکار کیا یعنی عتبہ، شیبہ، بنیہ بن حجاج، ابو البختری بن ہشام اور ابو جہل وغیرہ اور دوسروں کو بھی حق تعالیٰ کے دین اور اس کی پیروی سے روکا ان کے تمام اعمال اور خرچے بدر کے دن ضائع کردیے گئے۔
Read the full tafseer →(1) الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: چونکہ اس سورت کا اکثر حصہ مشرکین کے خلاف جنگ کے لئے ابھارنے پر مشتمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورت کا آغاز کفار پر اپنے غصب اور ایمان والوں پر اپنی رحمت کے اظہار کے ساتھ کیا ہے، تاکہ ان کے کفر اور اللہ کی راہ سے روکنے کے جرم کی بنا پر مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ترغیب دی جاسکے۔ چناچہ اس تمہید کے بعد فرمایا :(فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب) (محمد : 3)”تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنہوں نے کفر کیا تو خوب گردنیں مارنا ہے۔“
(2) صدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم :”صدوا“ ”صد یصد“ (ن) لازم بھی آتا ہے ”اعراض کرنا“ اس کی بات تو ”الذین کفروا“ میں آگئی، بلکہ کفر اعراض سے…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد اہل مکہ ہیں (2) جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے روکا وہ دین اسلام ہے وہ مومنوں کو اس دین میں داخل ہونے سے روکا کرتے تھے (3) یہ سدی کا قول ہے : ضحاک نے کہا : سے مراد عن بیت اللہ جو بیت اللہ شریف کا قصد کرتے وہ انہیں روکتے۔ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی ان مکروفریب کو باطل کردیا (4) جو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کا وبال ان پر ڈال دیا : یہ ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں وں نے حالت کفر میں جو اعمال کئے جنہیں وہ مکارم کا نام دیتے تھے جیسے صلہ رحمی،…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ جن لوگوں نے انکار کیا ] وَصَدُّوْا [ اور وہ لوگ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] اَضَلَّ [ تو وہ (اللہ) ضائع کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
ترکیب : جس طرح لفظ ” من “ اصلا موصولہ ہے لیکن کبھی یہ شرطیہ ہوتا ہے اسی طرح الذی اور الذین میں بھی کبھی شرط کا مفہوم ہوتا ہے جیسے آیات ایک اور دو میں ہے کہ جو لوگ یہ کام کریں گے (شرط) تو ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا (جواب شرط) اس لیے ان میں ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل میں کرنے کی گنجائش ہے۔ آیت ۔ 3 ۔ میں آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ اس لیے ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (دیکھیں آیت 2:49، نوٹ ۔ 2)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والوں کی بربادی اور اہل حق پر انعام کا اعلان
آیات مذکورہ بالا میں اہل کفر اور اہل ایمان کے درمیان فرق واضح فرمایا ہے اور اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے کفر و شرک پر تو کسی خیر کی امید رکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں اہل کفر جو بعض مرتبہ صلہ رحمی یا خدمت خلق کے کام کرتے ہیں آخرت میں ان چیزوں کا بھی کچھ نہیں ملے گا اعمال ضائع کرنے کا سبب کفر ہی بہت ہے۔ پھر اوپر سے جنہوں نے اللہ کے راستے روکنے کا جو کام کیا یہ ان کے اعمال ضائع ہونے کا ایک مزید سبب بن گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…
Read the full tafseer →2:۔ حصہ اول تقابل احوال مومنین و کفار و حکم قتال :۔ ” الذین کفروا۔ الایۃ بیان حال مشرکین۔ ” صدوا “ لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ خود اللہ کی راہ سے رک گئے اور اس پر نہ چلے یا دوسروں کو اللہ کی راہ پر چلنے سے روک دیا۔ اللہ کی راہ سے مراد اسلام ہے۔ ای اعرضوا عن الاسلام و سلوک طریقۃ او منعوا غیرھم عن ذلک علی ان صد لازم او متعد (روح ج 26 ص 36) ۔ جن لوگوں نے توحید کا انکار کیا، قبول اسلام سے اعراض کیا یا اور دل کو توحید اور اسلام سے روکا ان کے اعمال رائیگاں ہیں۔ ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ قال ابن عباس و مجاھد، ھم اھل مکۃ کفروا بتوحید اللہ، و صدوا انفسہم والموؤمنین عن دین اللہ وھو الالاسلام بنھیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اسی سورة کے نام سورة محمد ﷺ ہے ۔ سورة کی دوسری آیت میں لفظ محمد ﷺ مذکور ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ اس سورة کا دوسرا نام قتال بھی آتا ہے ، کیونکہ اس میں جنگ کا ذکر بھی ہے ۔ قرآن کی بعض دوسری سورتیں بھی مختلف انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اسمائے گرامی کے ساتھ منسوب ہیں جیسے سورة ہود (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اسی طرح یہ سورة حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نام نامی سے منسوب ہے۔ یہ سورة مدنی دور میں نازل ہوئی اور اگلی مزید دوسورتیں یعنی سورة الفتح اور سورة الحجرات بھی مدنی سورتی ہیں ۔ آگے پھر سورة ق سے لے کر سورة…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ 1
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : الذین کفروامبتدء اضل اعمالہم خبرہ والذین مبتدء وھوالحق الجملۃ معترضۃ بین المبتدء وخبرہ وھو کفر الخ ذلک مبتدء بان الذین خبرہ فضرب الرقاب قال الزجاج اصلہ فاضربوا الرقاب ضرباً ۔ فحذف الفعل واقیم المصدر مقامہ مضافاً الی الفعول۔ وقیل ھو منصوب علی الاغراء حتی اذا غایۃ للامر بضرب الرقاب لالبیان غایۃ القتل۔ فامامنا الخ ای فاماتمون منااوتفدون فداء حتی متعلقۃ بشدوالوثاق۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں اور بیشتر مدینہ میں نازل ہوئی سورتوں میں احکام و جہاد یا منافقین کی بدکرداری اور اس کے برے نتائج بیان ہوئے ہیں یا مکارم اخلاق…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 1)
(جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔ )
کفارِقریش کو تہدید
حق و باطل میں کشمکش برپا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حق کی شمع جلا رکھی ہے اور آپ اس کی روشنی ممکن حد تک نوع انسانی کے افراد تک پہنچانے کی کوشش فرما رہے ہیں اور کفار کے مختلف گروہ ایک بات پر پوری طرح متفق اور متحد ہیں کہ ہم اس شمع کی روشنی کو پھیلنے نہیں دیں گے۔ اور اس قافلہ حق کو کسی قیمت پر آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیں گے۔
اصحابِ ایمان کی تعداد اس سورة کے نزول تک بھی بہت تھوڑی ہے اور ان کے پاس وسائل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : الاحقاف کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اے رسول ﷺ ! پہلے رسولوں کی طرح صبر کریں، وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو اس قدر بد حواس ہوں گے کہ یہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیوں سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے سورة محمد ﷺ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ دنیا میں بھی ہلاکت کے گھڑے میں گرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل کرے گا اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اس سورت میں کفار، منافقین اور مسلمانوں کے اعمال اور ان کے ا نجام کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ہوا یہ کہ اعلان نبوت کے بعد کفار اور مشرکین نبی کریم ﷺ کی ذات کو انتہائی اختلاف کا باعث سمجھتے…
Read the full tafseer →آیت 1 : اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی انہوں نے اعراض کیا اور دخول اسلام سے باز رہے۔ نمبر 2۔ دوسروں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا۔
قول الجوہری :
صد عنہ یصد صدودًا۔ کا معنی اعراض کرنا۔ اور صدہ عن الامر صدًا کا معنی منع کرنا اور اس سے پھیر دینا آتا ہے۔ کفار قریش بدر کے دن کھانا کھلانے والے تھے۔ یا کفروا سے اہل کتاب مراد ہیں۔ نمبر 3۔ ہر کافر مراد ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والا ہو۔ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل و حبط کردیا اور اس کی حقیقت اس طرح ہے۔ کہ ان کے اعمال کو گم شدہ اور ضائع قرار دے دیا۔ ان میں قبولیت وثواب نہیں۔ جیسا کہ گم…
Read the full tafseer →سورة محمد
مدنی ہے اور اس کی ارتیس (38) آیتیں ہیں
خواص سورة محمد
1، جو شخص اس سورة کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ ضرورا سے جنت کی نہروں سے سیراب کرے گا۔
2، جو شخص اس سورة کو لکھے اور زمزم کے پانی سے دھوکرپی لے تو وہ لوگوں کا محبوب بن جائے گا۔ اس کا حافظہ قوی ہوجائے گاجوبات سنے گا وہ یاد رہے گی۔
3، اس سورة کو لکھ کر اور دھوکر اس کے پانی سے بیمار کونہلایاجائے تو تندرست ہوجائے گا۔
ان الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ ولن یترکم اعمالکم
اس آیت کو ڈھال پر کندہ کر ا کے اگر دشمن کا سامنا کرے تو دشمن کو شکست ہوگی۔
ان الذین کفروافتعسالھم۔۔۔۔۔۔۔ فاحبط اعمالھم
اگر دوران جنگ میدان جنگ سے مٹی کی ایک مٹھی لے کر اس پر یہ آیت پڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ کی وحدانیت کے راستہ سے روکتے ہیں وہ مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ سلوک یا حاجیوں کو پانی پلانا یا اور بعض ایسے نیک کام جو دنیا کی رسم کے طور پر کرتے ہیں عقبیٰ کے اجر کے لحاظ سے ایسے لوگوں کے وہ سب نیک عمل رائیگاں ہیں کیونکہ قیامت اور عقبیٰ کے اجر کے یہ لوگ قائل نہیں ہیں اس لئے ان کے جو نیک عمل ہیں وہ فقط دنیا کی رسم کے طور پر ہیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے اور عقبیٰ کے اجر کے قائل نہیں ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں حضرت عمر ؓ کی مشہور حدیث ہے۔ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر سورة محمد
یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عربت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں، چناچہ فرمایا : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ) یہ رؤسائے کفر اور ائمہ ضلالت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ (اضل اعمالھم) یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کردیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کردیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لئے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب…
Read the full tafseer →[ 1] منکروں کے جرم بالائے جرم کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا۔ سو ایسے بدبخت لوگ خود بھی نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر کفر و باطل کی راہ پر چلتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ دوسروں کو جو بھی راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں۔ اور اس طرح یہ جرم بالائے جرم کا ارتکاب کرتے اور پکے مجرم بنتے ہیں، اپنی بدنیتی اور اپنے خبث باطل کی بنا پر۔ سو بدنیتی اور خبث باطل محرومی کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ان بدبختوں نے صرف اپنی محرومی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے روکا اور محروم کیا۔ اور اس طرح یہ خود کافر ہونے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
منکر و مومن کا مقابلہ
تشریح : یہ آیات مومن اور کافر کا فرق بڑی وضاحت سے کرتی ہیں۔ کیونکہ صرف قرآن کو پڑھ لینا اور پھر لپیٹ کر رکھ دینا ہی اسلام لے آنا نہیں کہلاتا بلکہ نیکی، ایمان، تقوی اور اللہ رسول اور قرآن پر پورا پورا یقین رکھنا اور اس میں بتائے گئے تمام احکامات پر خلوص نیت سے عمل کرنا دوسروں کو عمل کرنے کی تاکید کرنا اور یہ سب کچھ دل و جان سے کرنا۔ مومن کی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے خاص رحمتیں، برکتیں اور مدد نازل ہوتی رہتی ہے۔ اس تمام عمل کے دوران اگر کوئی غلطی ان سے ہوجاتی ہے تو اللہ غفور الرّحیم ان کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اللہ پوری خبر رکھنے والا ہے وہ نیتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی کافر رہتے ہوئے ان لوگوں نے جو بظاہر اچھے کام کئے ہیں جیسے صدقہ و خیرات، خانہ کعبہ کی مرمت وغیرہ ان پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کو کوئی اجر نہیں ملے گا کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ کافروں کے کام اکارت کردینے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام مکروہ فریب ناکام کردیئے جو وہ اسلام کو سچا دکھانے کے لئے کام میں لاتے تھے۔
Read the full tafseer →(47:1) الذین : اسم موصول جمع مذکر : کفروا وصدوا عن سبیل اللہ صلہ۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔
وصدوا وائو عاطفہ ہے صدوا ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر ) مصدر بمعنی روکنا۔ اور صد کا مفعول محذوف ہے ای غیرہم اور دوسروں کو (خدا کے راستہ سے ) روکا۔
اضل اعمالہم۔ ای اضل اللہ اعمالہم اضل ماضی واحد مذکر غائب اس نے برباد کردیا۔ اس نے گمراہ کردیا۔ اس نے بہکایا۔ اعمالہم مضاف مضاف الیہ مل کر اضل کا مفعول ۔ اس (اللہ ) نے ان کے اعمال کو برباد کردیا۔ الذین کفروا ۔۔ مبتدا۔ اضل اعمالہم خبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح آیت نمبر 1 تا 6
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
بہکانے والوں کا انجام اور کفر کی وجہ سے اعمال صالحہ کی بربادی۔
(ف 1) شان نزول : بروز بدر بارہ آدمی تھے جو سب کافروں کا خرچ اپنے ذمہ اٹھائے ہوئے تھے اور کافروں کو لڑائی پر برانگیختہ کرتے تھے اور اس خرچ کو بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے عتبہ شیبہ پسران ربیعہ پسران حجاج ابوالبختری بن ہشام ، ابوجہل بن ہشام وغیرہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا جو لوگ خود اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا تو اللہ نے ان کے نیک اعمال بےکار بےفائدہ باطل کردیے جو کچھ بھی انہوں نے کیے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا اور اسیروں کو چھڑایا یاغریبوں کی مدد کی ہو سب برباد ہوئی آخرت میں اس کا کچھ ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة محمد
1: اس سورة کا آغاز کو سورة احقاف کے آخری مضمون کے ساتھ ایک باریک تعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اختتام سورت کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ جو لوگ فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے قوانین رشدوہدیات کو نہیں مانتے ۔ وہ ہلاک ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ اس حقیقت کے اظہار کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا ۔ کہ آخر یہ لوگ کچھ نیک کام بھی تو کرتے ہوں گے ۔ پھر کیونکر قرین عدل و انصاف ہے کہ ان کو ایک دم ہلاکت وموت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ بحیثیت نظام کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے اور اس طرح خیروبرکت کی اشاعت میں زبردست رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کے اعمال مقبول نہیں ہیں ۔ کیونکہ اعمال…
Read the full tafseer →(1) وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا ان کے اعمال خدا تعالیٰ نے نیست ونابود اور ضائع کردیئے۔ یعنی خود بھی دین حق کے منکر ہوئے اور دوسروں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکا اور ان کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیدا کیں تو ایسے لوگوں کے تمام وہ اعمال جن کو وہ اچھا سمجھ کر کیا کرتے ہیں ان کے وہ تمام اعمال کھودیئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کالعدم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ یعنی جن کاموں کو وہ نیک سمجھ رہے تھے بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں بلکہ ان میں سے بعضے کام اور الٹے موجب عقاب ہیں۔
Read the full tafseer →کافر خود بھی اسلام سے رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے ہیں :
1 ؎ یہ بات بطور اصول یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جب بھی کسی نبی و رسول نے اپنی نبوت و رسالت کا اللہ کے حکم سے قوم کے سامنے ذکر کیا تو تو قوم کے کھاتے پیتے لوگوں نے جو خوش حال تھے اس کی دعوت کا انکار کیا اور ان بڑے لوگوں کے انکار کی وجہ سے بہت سے وہ لوگ بھی ایمان نہ لائے جو دل میں اس نبی و رسول کی تحریک کے حق ہونے کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن اس کا اظہار نہ کرسکتے تھے کیونکہ قوم کے وڈیروں سے وہ خوف کھاتے تھے اس لئے گویا وہ و ڈیرے خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے اور بہت سے ایمان لے آنے والوں کو بھی باز رکھتے تھے۔ زیر نظر آیت میں…
Read the full tafseer →Commentary
Another name of Surah Muhammad is Surah Al-Qital [ Surah of war ] because this Surah lays down the rules of Jihad and Qital [ i.e. armed struggle in the cause of Allah ]. This Surah was revealed immediately after migration to Madinah. Ibn ` Abbas ؓ is reported to have said regarding Verse 13 كَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ “ And how many a city ... have We destroyed!,..." that it was revealed in Makkah, because it was revealed at a time when the Holy Prophet ﷺ left Makkah with the intention of migration, and looked at the sacred city of Makkah and the Holy Ka'bah and said: "You are the…
Read the full tafseer →1. Those who disbelieved: Those who refused to accept the teachings and guidance presented by Muhammad (peace be upon him).
2. The verb sadd (from which saddu of the original is derived) is used both as a transitive and as an intransitive verb in Arabic.
Therefore, the sentence would mean“they themselves refrained from adopting Allah’s Way”as well as“they prevented others from adopting this way.”There are several ways of preventing others from adopting Allah’s Way:
(1) That one should forcibly prevent another from believing.
(2) That one should so persecute the believers that it should become…
Read the full tafseer →